’ہمارے لیے لاک ڈاؤن – اور کام ہمیشہ رہتا ہے‘

وبائی مرض کے دوران نرسوں کو رسوائی، کم تنخواہ، جانبداری، زندگی بچانے کے لیے گھنٹوں تک محنت کش کام کرنے جیسی چنوتیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پاری نے چنئی میں صف اول کی ایسی ہی چند جانباز نرسوں سے بات کی

۴ مارچ، ۲۰۲۱ | کویتا مرلی دھرن

پیروویمبا: اپنی لے کو برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد

کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن میں سامان فروخت نہیں ہونے، اور اپنے ڈھول کے لیے کچا چمڑا خریدنے میں مشکلات کے سبب، کیرالہ کے پیروویمبا گاؤں میں آلات موسیقی بنانے والے کڑچی کولّن کاریگروں کو مستقل آمدنی حاصل نہیں ہو پا رہی ہے

۱۹ جنوری، ۲۰۲۱| کے اے شاجی

’میں صرف زندہ رہ سکتا ہوں، اپنی زندگی نہیں جی سکتا‘

ممبئی میں رہنے والے بہار کے ایک ۲۷ سالہ مہاجر مزدور بتا رہے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے دوران گھر تک کا سفر کرنا کتنا مشکل تھا، اور ان کے حال اور مستقبل پر اس شہر کی پکڑ کتنی مضبوط ہے

۷ جنوری، ۲۰۲۱ | چیترا یادوَر

’ایسا لگ رہا تھا گویا پورا ملک چل رہا ہو‘

اپریل سے جون تک کے لاک ڈاؤن کے دوران مہاراشٹر کے گونڈیا کے رہنے والے مہاجر مزدوروں کو قابل رحم حالت میں تلنگانہ سے ۸۰۰ کلومیٹر پیدل چل کر گھر پہنچنے کا سفر مہینوں بعد بھی یاد ہے

۵ جنوری، ۲۰۲۱ | جے دیپ ہرڈیکر

بیدر کے کھیتوں میں کام کر رہے ڈگری ہولڈر

محنت کی کمائی اور قرض کے پیسے سے بی ٹیک، بی ایڈ، ایم بی اے، ایل ایل بی وغیرہ کی ڈگریاں حاصل کرنے والے، جنہوں نے لاک ڈاؤن سے پہلے کی اپنی نوکریاں کھو دیں، اب شمال مشرقی کرناٹک کے بیدر ضلع میں منریگا کا کام کر رہے ہیں

۲۴ نومبر، ۲۰۲۰ | تمنا نصیر

اسکول ۲۰۲۰: لاک ڈاؤن میں مستقبل کی پیمائش

اوڈیشہ اور جھارکھنڈ کے کچھ حصوں میں، وبائی امراض کے دوران تعلیم ہر ایک کے لیے حیران کن سبق ہے

۱۴ نومبر، ۲۰۲۰ | پاری ایجوکیشن ٹیم

’ہر کوئی جانتا ہے کہ یہاں لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے‘

سونی کو گھر لوٹنے پر پتا چلا کہ اس کی پانچ سال کی بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی تھی، حالانکہ ممبئی کے کماٹھی پورہ میں انہوں نے اور دیگر سیکس ورکرز نے لاک ڈاؤن سے متاثر ہونے والی آمدنی کا سامنا کرتے ہوئے اپنے بچوں کو بحفاظت رکھنے کی پوری کوشش کی ہے

۸ نومبر، ۲۰۲۰ | آکانکشا

کشمیر میں دھان کاٹنے کے لیے کوئی مہاجر مزدور نہیں

وسطی کشمیر میں دھان کی کٹائی کا یہ مشکل وقت ہے۔ ماہر مہاجر مزدور، جو مقامی مزدوروں کے مقابلے کم اجرت لیتے ہیں، لاک ڈاؤن کے سبب یہاں سے چلے گئے تھے، اور اب یہاں کے کسان فصل کو چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں

۲۹ اکتوبر، ۲۰۲۰ | مزمل بھٹ

دُرگا پوجا سے ڈھاکی ابھی غائب نہیں ہوئے

دیہی بنگال کے روایتی ڈھول بجانے والوں کو اس موسم میں کولکاتا میں مشکلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

۲۶ اکتوبر، ۲۰۲۰ | رتائن مکھرجی

مہاجر مزدور کی شکل میں مارچ کرتی ماں دُرگا

کولکاتا کے بیہلا میں دُرگا پوجا کے ایک پنڈال میں دیوی کا ایک انوکھا اوتار دیکھنے کو ملا

۲۶ اکتوبر، ۲۰۲۰ | رتائن مکھرجی

گیارہ سو لاشوں کی تدفین اور بے شمار بدگمانیاں

کووڈ- ۱۹ کے سبب مرنے والوں کی تدفین کو لیکر بدگمانی اور دشمنی کے درمیان، تمل ناڈو کے ایک رضاکار گروپ نے مذہب اور ذات کی پرواہ کیے بغیر آخری رسومات ادا کرنے میں سینکڑوں کنبوں کی مدد کی ہے

۲۲ اکتوبر، ۲۰۲۰ | کویتا مرلی دھرن

ایک ملک، کوئی راشن کارڈ نہیں

دہلی میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی رخسانہ خاتون نے، بہار میں اپنے شوہر کے گاؤں سے راشن کارڈ بنوانے کی کئی سال تک کوشش کی – اور اب انہیں اس کی ضرورت شدت سے محسوس ہو رہی ہے کیوں کہ لاک ڈاؤن کے سبب ان کی فیملی کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

۲۰ اکتوبر، ۲۰۲۰ | سنسکرتی تلوار

لاک ڈاؤن سے کالو داس کا کباڑ کا کام متاثر

کالو داس – جو ری سائیکلنگ کے لیے سامان اکٹھا کرنے اپنے گاؤں سے کولکاتا جاتے ہیں – نے کچھ ہفتہ قبل پھر سے چکّر لگانا شروع کیا۔ لیکن کاروبار مایوس کن ہے، منافع کم ہے، ان کی بیوی نے اپنی نوکری کھو دی ہے، اور فیملی جدوجہد کر رہی ہے

۷ اکتوبر، ۲۰۲۰ | پوجا بھٹا چارجی

سرینگر کی ڈل جھیل میں کشتی کی رفتار

ڈل جھیل کی اقتصادیات کے لیے، سیاحوں کی آمد کے سیزن کے دوران کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن پچھلے سال کی دفعہ ۳۷۰ کی تالا بندی کے فوراً بعد آیا، اور اس کی وجہ سے شکارے والوں، ہاؤس بوٹ مالکان اور دکانداروں کا کافی نقصان ہوا ہے اور ان کے پاس کوئی کام نہیں ہے

۳ اکتوبر، ۲۰۲۰ | عادل رشید

بنگلورو کے درزیوں کے لیے وقت پر کوئی سلائی نہیں

لاک ڈاؤن میں کوئی آمدنی نہیں ہونے کے سبب، عبدالستار اور بنگلور میں کڑھائی کا کام کرنے والے دیگر لوگ مغربی بنگال کے اپنے گاؤں لوٹنے کے لیے بیتاب تھے۔ اب، چونکہ گاؤں میں بھی کوئی کام نہیں ہے، اس لیے ستار شہر واپس آنے کے لیے بیتاب ہیں

۳۰ ستمبر، ۲۰۲۰ | اسمیتا تومولورو

اشوک تارے: چھٹی نہیں ملی، دنیا کو کہا الوداع

کووڈ- ۱۹ کی علامات کے باوجود، ممبئی کے ایک صفائی ملازم اشوک تارے کو بغیر کسی تحفظاتی آلات کے کام کرنے پر مجبور کیا گیا اور چھٹی دینے سے منع کر دیا گیا۔ ان کی فیملی مدد کے لیے ادھر ادھر بھاگتی رہی، اور ۳۰ مئی کو ان کی موت کے مہینوں بعد معاوضہ کا انتظار کر رہی ہے

۲۹ ستمبر، ۲۰۲۰ | جیوتی شنولی

’گھڑی کی مرمت وقت کو ٹھیک کرنے جیسا ہے‘

وشاکھاپٹنم کے جگدمبا جنکشن کے گھڑی سازوں نے، ڈیجیٹل ٹائم پیس اور استعمال کے بعد پرزوں کو پھینک دینے کے سبب کام میں کمی ہوتے دیکھی ہے۔ اور اب، لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں رعایت کے بعد، وہ اپنے نقصان کی تلافی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

۲۴ ستمبر، ۲۰۲۰ | امرتا کوسورو

یوپی: کووڈ- ۱۹ کو شکست دینے والے معاشرہ میں بدنام

اتر پردیش میں واپس لوٹنے والے مہاجرین سمیت، کووڈ- ۱۹ کو شکست دینے والے لوگ مہنگے علاج، گندے کوارنٹائن مراکز، معاشرتی بدنامی، اور یہاں تک کہ مذہبی تفریق کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ بہت سے لوگ ابھی تک اپنے گاؤں/شہر نہیں لوٹ پائے ہیں

۱ ستمبر، ۲۰۲۰ | جگیاسا مشرا

’ہمارے پاس گھر پر رہنے کے لیے گھر نہیں ہے‘

مہاراشٹر کے خانہ بدوش چرواہا دھنگر کنبوں کے اس گروپ کے لیے، لاک ڈاؤن کئی مسائل لیکر آیا – بھیڑوں کی فروخت کم ہو گئی، گاؤں کے کھیتوں پر جانا محدود کر دیا گیا، اور ان کے راشن کم ہونے لگے – لیکن وہ اپنا گزارہ چلانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں

۲۸ اگست، ۲۰۲۰ | شردھا اگروال

وزاگ کے کمہار: مٹی کی مورتیاں، قرض میں غرقاب

آندھرا پردیش کے اس شہر کے کاریگر تہوار کے موسم – اس ہفتہ گنیش چترتھی سے شروع ہو رہے -  میں سب سے زیادہ کماتے ہیں۔ لیکن انہیں اس سال اب تک گنیش کی مورتیوں اور دیگر مصنوعات کے لیے ایک بھی تھوک آرڈر نہیں ملا ہے

۲۲ اگست، ۲۰۲۰ | امرتا کوسورو

’ہمارے ماسک بہہ گئے‘: ممبئی کے بے گھر

فٹ پاتھ پر رہنے والی مینا اور ان کی فیملی، شہر کے کئی بے گھر لوگوں میں سے ہیں، جن کی کوئی آمدنی نہیں ہے اور طبی خدمات یا ریاست کی اسکیموں تک ان کی رسائی بہت کم ہے – اور اب وہ مانسون اور وبائی مرض کا سامنا کر رہے ہیں

۲۱ اگست، ۲۰۲۰ | آکانکشا

کولکاتا کے بچوں کے اسپتال پر لاک ڈاؤن کی مار

لاک ڈاؤن میں بے بسی، سماجی بدنامی سے طبی اہلکاروں کے متاثر ہونے کے سبب صرف ۴۰ فیصد اسٹاف کی حاضری، اور مالی مسائل کے باوجود، انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کے سپاہی اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں

۱۸ اگست، ۲۰۲۰ | رتائن مکھرجی
لاک ڈاؤن میں کمہاروں کا خسارہ
• West Delhi, National Capital Territory of Delhi

لاک ڈاؤن میں کمہاروں کا خسارہ

اس ہفتہ شروع ہونے والا گن پتی تہوار، پھر دُرگا پوجا اور دیوالی، دہلی کے اتّم نگر کے کمہاروں کے لیے سب سے زیادہ کمائی والے موسم تھے۔ لیکن اب، وہ کچھّ اور مغربی بنگال کے کمہاروں کی طرح ہی فروخت کا سب سے خراب وقت دیکھ رہے ہیں

۱۷ اگست، ۲۰۲۰ | شرشٹی ورما

آشا کارکنوں کی لاک ڈاؤن میں کڑی محنت

مہاراشٹر کے عثمان آباد ضلع میں آشا کارکن، پہلی قطار کی صحت کارکنوں کے طور پر اپنے پہلے کے کام کے بوجھ کے ساتھ ساتھ، خراب حفاظتی آلات اور محنتانہ ملنے میں دیری کے باوجود، کووڈ- ۱۹ وبا کے پھیلنے کی نگرانی کے لیے اوورٹائم کر رہی ہیں

۱۳ اگست، ۲۰۲۰ | ایرا دیول گاؤنکر

یوپی میں: ’آدھا کرناٹک اور آدھا آندھرا‘

آندھرا پردیش میں پانی پوری کی دکان چلانے والے بیریندر سنگھ اور رامدے کلی لاک ڈاؤن کے دوران اتر پردیش لوٹ آئے۔ وہ اب قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں، اپنے بچوں کی تعلیم کو لیکر فکرمند ہیں اور انہیں سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ آگے کیسے گزارہ ہوگا

۱۲ اگست، ۲۰۲۰ | ریا بہل

’ہم نے اس کا خون زیادہ نہیں بہایا‘

کووڈ کے اس بحران میں بڑا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ہم کتنی جلدی نارمل ہو سکتے ہیں۔ کروڑوں غریب ہندوستانیوں کے لیے، ’نارمل‘ ہی مسئلہ تھا۔ اور نیا نارمل اکثر اسٹیرائڈ پر پرانا نارمل ہے

۱۰ اگست، ۲۰۲۰ | پی سائی ناتھ

مہلک – اور سماجی – وائرس سے نمٹنا

مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے کووڈ- ۱۹ کے مریضوں کے لیے گھر-اسپتال-کوارنٹائن-گھر کا سفر ہمیشہ ایک جیسا نہیں ہوتا ہے۔ پاری نے مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ علاقے میں ایسے دو کنبوں کا پتہ لگایا

۸ اگست، ۲۰۲۰ | پارتھ ایم این

’ہم کام نہیں کریں گے، تو فصل کون اُگائے گا؟‘

خریف کا موسم ہے اور دھان کی روپائی شروع ہو چکی ہے، اس لیے چھتیس گڑھ میں دھمتری کے کھیتوں پر مزدور لوٹ آئے ہیں۔ وہ کووڈ- ۱۹ کے احتیاطوں کے بارے میں جانتے ہیں، لیکن کہتے ہیں کہ کام کیے بغیر ان کا گزارہ نہیں چل سکتا

۸ اگست، ۲۰۲۰ | پرشوتم ٹھاکر

مہاجرت اور تکلیفوں سے بھری مزدوروں کی زندگی

تو وہ مہاجر کون ہے، جسے میڈیا نے ۲۵ مارچ کو ڈھونڈا تھا؟ ممبئی میں گزرا بچپن اور زندگی کے تجربات کے ذریعے اس سوال پر ایک تصوراتی نظر

۲۷ جولائی، ۲۰۲۰ | جیوتی شنولی

’میری فیملی کیا کرے؟‘

بورانڈا گاؤں کے آدیواسی محلہ میں، ونیتا بھوئیر اور ان کی فیملی، جو مہاراشٹر کے اینٹ بھٹوں پر کام کرنے کے لیے مہاجرت کرتے ہیں، لاک ڈاؤن کے سبب ان کا کام، کھانا اور پیسہ سب کچھ ختم ہو چکا ہے – اور اب وہ امید بھی کھوتے جا رہے ہیں

۲۱ جولائی، ۲۰۲۰ | ممتا پارید

پالگھر میں: ’بھرنے کے لیے دو پیٹ کم‘

لاک ڈاؤن کے دوران مہاراشٹر کے پالگھر ضلع میں خاص طور سے کمزور قبائلی برادری، کاتکریوں کو کام ملنا بند ہو گیا۔ شاید اسی وجہ سے منگل واگھ نے خود کا اور اپنی بیٹی کا قتل کر دیا ہو

۲۰ جولائی، ۲۰۲۰ | پارتھ ایم این

وبائی مرض کے دوران ’چھونے کے ذریعہ دنیا‘ کو دیکھنا

ومل اور نریش ٹھاکرے، دونوں نا بینا، ممبئی کی لوکل ٹرین میں رومال فروخت کرتے تھے۔ لاک ڈاؤن نے ان کی، اور کئی دیگر لوگوں کی آمدنی چھین لی۔ انہیں حکومت سے معمولی مدد مل رہی ہے اور مستقبل غیر یقینی ہے

۱۰ جولائی، ۲۰۲۰ | جیوتی شنولی

مہاجرین کے لیے رَیپ گیت – معنی اور دلیل کے ساتھ

کالا ہانڈی ضلع میں، دولیشور ٹانڈی – ’رَیپَر دُلے راکر‘ – جو ٹیوشن پڑھاتے ہیں، تعمیراتی جگہوں پر کام کرتے ہیں اور کبھی کبھی مہاجرت کرتے ہیں، لاک ڈاؤن میں مہاجرین کی زبوں حالی پر اس گانے کے ذریعے اپنے غصے کا اظہار کر رہے ہیں

۴ جولائی، ۲۰۲۰ | پرشوتم ٹھاکر

لاک ڈاؤن سے پریشان آندھرا پردیش کے کسان

اس سال ربیع کے موسم میں کیلے کی فصل اچھی ہونے کے بعد اننت پور ضلع کے کسانوں کو بہتر قیمت ملنے کی امید تھی۔ لیکن، کچھ خراب موسم اور پھر لاک ڈاؤن کی وجہ سے انہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور وہ قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں

۱ جولائی، ۲۰۲۰ | جی رام موہن

اسکولی بچے: ڈیجیٹل غیر برابری سے ڈیجیٹل تقسیم تک

’آن لائن تعلیم‘ کی دوڑ زمینی سطح پر مہاراشٹر کے پالگھر ضلع کے تلاسری جیسے غریب آدیواسی علاقے میں کیسی نظر آتی ہے؟ پاری نے پڑتال کی کہ یہ پہلے سے ہی سنگین غیربرابری کو کیسے آگے بڑھا رہی ہے

۲۹ جون، ۲۰۲۰ | پارتھ ایم این

گھر سے دور گئے مہاجر کے لیے پیار کے گیت

پونہ کے ملشی تعلقہ میں واقع کھڈک واڈی بستی کی مکتا بائی اوبھے، نو او وی گا رہی ہیں، جو ایک بیوی کے ذریعے کام کی تلاش میں گھر سے دور گئے اپنے شوہر کے پیار اور بے قراری کے بارے میں ہے

۲۶ جون، ۲۰۲۰ | نمیتا وائکر اور پاری جی ایس پی ٹیم

تمل ناڈو میں چیچک، طاعون اور وبائی امراض کی یادیں

تمل مصنف چو دھرمن، گاؤوں کے ذریعے صدیوں سے مختلف قسم کے وائرس، طاعون اور وبائی امراض کا سامنا کرنے کی بیش قیمتی زبانی تاریخ، اور دورِ حاضر میں کووڈ-۱۹ وبا اور لاک ڈاؤن کے تحت آج کی زندگی سے اس کا کیا تعلق ہے، اس بارے میں بتا رہے ہیں

۲۵ جون، ۲۰۲۰ | اپرنا کارتِکیئن

لاک ڈاؤن میں شدید ظلم کی شکار یوپی کی عورتیں

ملک میں گھریلو تشدد ویسے تو ایک عام بات ہے، لیکن لاک ڈاؤن کے دوران اس میں کچھ زیادہ ہی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اترپردیش کے مہوبا، لکھنؤ اور چترکوٹ ضلعے کی عورتوں نے پاری کو اپنی دکھ بھری کہانی سنائی

۲۳ جون، ۲۰۲۰ | جگیاسا مشرا

لاک ڈاؤن میں تاڑ پر دوبارہ چڑھنے کو مجبور ایشور

لاک ڈاؤن کے سبب گرمیوں کے پسندیدہ پھل، تارکون کے گاہکوں میں کمی اور صرف ۱۰-۱۵ دنوں تک تاڑ کا پھل فروخت ہونے کی وجہ سے وشاکھا پٹّنم میں اس کے کاروباریوں کو کافی نقصان ہو رہا ہے

۲۲ جون، ۲۰۲۰ | امرتا کوسورو

کرناٹک کی شاہراہِ ریشم: بحران میں کوکون کے کسان

کرناٹک کا رام نگر ایشیا میں کوکون کا سب سے بڑا بازار ہے، لیکن لاک ڈاؤن کے دوران قیمتوں میں بھاری گراوٹ اور ڈیمانڈ-سپلائی سلسلہ ٹوٹنے کے سبب بُنائی، کتائی کرنے والے اور خاص طور سے ریشم کے کیڑے پالنے والے کسان بری طرح متاثر ہوئے ہیں

۲۱ جون، ۲۰۲۰ | تمنا نصیر

سمندری طوفان اور کورونا کے وقت ہاتھ خالی

لاک ڈاؤن کے سبب آمدنی ختم ہونے اور کووڈ کے خوف سے سبیتا سردار نے، امفن طوفان کے باوجود، پولس اور راحت کیمپ کی خراب حالت سے بچنا پسند کیا، اور کولکاتا کے گریا ہاٹ فلائی اوور کے نیچے اپنے مقام پر لوٹ آئیں

۱۸ جون، ۲۰۲۰ | پوجا بھٹا چارجی

ساز کو ٹھیک کرنے والے زندگی سے پریشان

ہارمونیم کی مرمت کرنے والے جبل پور، مدھیہ پردیش کے کئی کاریگر لاک ڈاؤن کے سبب دو مہینے سے مہاراشٹر کے ریناپور میں پھنسے ہوئے تھے۔ انہوں نے پاری کو اپنی پریشانیوں کے بارے میں بتایا

۱۵ جون، ۲۰۲۰ | ایرا دیول گاؤنکر

لاک ڈاؤن سے بدحال – چھتیس گڑھ کے کمہار

دھمتری شہر میں، کمہاروں نے گرمیوں میں سب سے زیادہ فروخت کے اپنے سیزن کو کھو دیا، کیوں کہ لاک ڈاؤن کے سبب برتن بنانا اور بیچنا مشکل ہو گیا تھا۔ چھتیس گڑھ میں بازار اب کھلنے لگے ہیں، لیکن اگلے سال کو لیکر ان کی تشویش برقرار ہے

۱۵ جون، ۲۰۲۰ | پرشوتم ٹھاکر

مزدور ہوں میں، مجبور نہیں

۲۵ مارچ کے لاک ڈاؤن کے بعد لاکھوں مہاجر مزدوروں کی اجتماعی مہاجرت شاعروں اور فنکاروں کے تصورات کو جلا بخشتی ہے۔ یہ نظم مزدوروں سے نمٹنے میں ہماری منافقت کو اجاگر کرتی ہے۔

۱۵ جون، ۲۰۲۰ | انجم اسماعیل

لاک ڈاؤن کے سبب آندھرا پردیش میں پھنسے نیپالی مہاجر

لاک ڈاؤن کے دوران کوئی آمدنی نہ ہونے کے سبب آندھرا پردیش کے بھیماورم میں پھنسے سکیورٹی گارڈ، سریش بہادر راشن کی کمی، بیماری اور سرحد پار نیپال میں واقع اپنے گھر لوٹنے کی بے یقینی سے جدوجہد کرتے رہے

۱۱ جون، ۲۰۲۰ | ریا بہل

تلنگانہ کے ایک اور اینٹ بھٹے میں بند مزدور

تلنگانہ کے سنگا ریڈی ضلع میں کُنی تاملیا اور اینٹ بھٹّوں پر کام کرنے والے دیگر مزدوروں نے لاک ڈاؤن کے دوران اپنے کام کو جاری رکھا۔ لیکن بچوں کی دیکھ بھال اور کووڈ کے خوف سے، وہ شرمک اسپیشل ٹرین پکڑ کر اوڈیشہ جانے کے لیے بے قرار تھے

۱۱ جون، ۲۰۲۰ | ورشا بھارگوی

مہاجر، اور شرفاء کی اخلاقی اقتصادیات

لاک ڈاؤن نے طویل عرصے سے ہوتی آ رہی مہاجر مزدوروں کے حقوق کی اندیکھی کو اجاگر کیا ہے – ان لاکھوں لوگوں کو ہماری مصنوعی فکرمندی کی نہیں، بلکہ مکمل انصاف کی ضرورت ہے، یہی بتا رہا ہے انڈیا ٹوڈے میں شائع ہو چکا یہ مضمون

۸ جون، ۲۰۲۰ | پی سائی ناتھ

’یہیں رکیں اور کچھ نہ کریں یا وہاں جاکر خالی بیٹھیں؟‘

تعمیراتی مقامات پر کام کرنے والے مہاجر مزدور، امودا اور راجیش جیسے ہی بنگلورو میں اپنے نئے کام کی جگہ پر پہنچے لاک ڈاؤن شروع ہو گیا، جس کی وجہ سے نہ تو انہیں کوئی کام مل سکا اور نہ ہی رہنے کے لیے کوئی جگہ۔ ہائی اسکول کے طالب علموں کے ذریعے پاری کی ایک رپورٹ

۸ جون، ۲۰۲۰ | اسباع زینب شریف اور سدھ کویڈیا

نقدی فصلیں، کووڈ اور نہ فروخت ہونے والی کپاس کی قیمت

ملک بھر میں نقدی فصلیں فروخت نہیں ہو رہی ہیں، جس سے وہ بھاری مقدار میں بیکار پڑی ہوئی ہیں – جیسے کہ مہاراشٹر میں کپاس۔ بھکمری کا خطرہ بڑھنے لگا ہے، پھر بھی ودربھ کے کسان خریف کے اس موسم میں غذائی فصلوں کی بجائے ایک بار پھر کپاس کی بوائی کرنے جا رہے ہیں

۵ جون، ۲۰۲۰ | جے دیپ ہرڈیکر

پٹاخے سے نہیں، شراب سے بڑھتا وائرس

تمل ناڈو کے وِرودھو نگر میں کئی ارونتھتھیار عورتوں کی طرح، دیوی کنک راج بھی شیو کاشی کی پٹاخہ فیکٹری میں کام کرتی ہیں۔ لاک ڈاؤن کے سبب ان کی آمدنی چھن گئی، راشن کم ہونے لگا، قرض بڑھتا جا رہا ہے اور گھر میں صرف شرابی شوہر ہے

۴ جون، ۲۰۲۰ | ایس سینتھالر

جب پانی نے پاگل سانڈھ کی طرح لوگوں کا پیچھا کیا

امفن طوفان، مغربی بنگال کے سندر بن میں کووڈ-۱۹ لاک ڈاؤن کے دوران آیا۔ پاری نے اس علاقے کا دورہ کیا اور پایا کہ درختوں، گھروں اور دیگر اشیاء کا کافی نقصان ہوا ہے – جس میں لوگوں کا پہلے سے ہی کمزور ہو چکا معاش بھی شامل ہے

۳ جون، ۲۰۲۰ | رتائن مکھرجی

مہاجرین کا فولادی جگر

مہاراشٹر کے اورنگ آباد ضلع کے قریب، ۸ مئی کو ایک ٹرین کے ذریعے کُچل کر مار دیے گئے ۱۶ مہاجر مزدوروں کا المیہ ہمیں آج بھی پریشان کرتا ہے۔ یہ دردناک نظم اور دلکش پینٹنگ ہمیں اس خطرناک حادثہ کی یاد دلاتی ہے

۳۱ مئی، ۲۰۲۰ | گوکل جی کے

اڑتا غبار، جلد میں کھجلی، پسینے سے بھیگا ماسک

سماجی دوری کے ضابطہ پر آپ عمل کیسے کر سکتے ہیں اگر آپ کسی اناج خرید مرکز میں مزدوری کرتے ہیں – جیسے کہ تلنگانہ کے نلگونڈہ ضلع کے یہ مرد – جنہیں ایک منٹ میں ۲۱۴ کلوگرام دھان سنبھالنے کے لیے ٹیم کے ساتھ مل کر کرنے کی ضرورت پڑتی ہے؟

۳۰ مئی، ۲۰۲۰ | ہری ناتھ راؤ ناگل ونچا

’یہ عورتیں کسی کو بھی بھوکا نہیں جانے دیں گی‘

کیرالہ کے ۴۰۰ سے بھی زیادہ ’کُڈمب شری ہوٹل‘ لاک ڈاؤن کے دوران کم آمدنی والے لوگوں – طلبہ، طبی معاون، سیکورٹی گارڈ، ایمبولینس ڈرائیور وغیرہ – کو سستا لیکن مقوی کھانا فراہم کر رہے ہیں

۲۸ مئی، ۲۰۲۰ | گوکل جی کے

وسط ہندوستان سے گزرتے ہوئے گھر کی جانب روانہ

لاک ڈاؤن کے دوران شاہراہ پر نکلے لاکھوں لوگ شمالی اور مشرقی ریاستوں میں واقع ہزاروں گاؤوں میں واپس جا رہے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ ہندوستان کے وسط میں واقع ناگپور شہر سے گزر رہے ہیں

۲۷ مئی، ۲۰۲۰ | سدرشن سکھرکر

اب امیروں کی پالکی کون اٹھائے گا؟

کئی ریاستی حکومتوں نے مزدوروں کے قوانین کو منسوخ کر دیا ہے اور کام کے گھنٹے بڑھا دیے ہیں، اور مہاجر مزدوروں کی حالت اور بھی خراب ہو گئی ہے۔ پاری کے بانی ایڈیٹر پی سائی ناتھ کے ساتھ ایک انٹرویو، فرسٹ پوسٹ کے حوالے سے

۲۷ مئی، ۲۰۲۰ | پارتھ ایم این

’ہم پہلے ہی تنگی میں تھے، اب کچھ بھی نہیں بچا‘

چھتیس گڑھ سے آئی چندرا فیملی کی طرح ہی جموں میں رہنے والے دیگر مہاجر مزدوروں کے پاس بھی لاک ڈاؤن میں کوئی کام نہیں بچا تھا۔ یہ لوگ آس پاس کی عمارتوں سے آ رہے راشن کی مدد سے اپنا گھر چلا رہے تھے، اور اب انہیں دھیرے دھیرے پھر سے کام ملنے لگا ہے

۲۶ مئی، ۲۰۲۰ | رونق بھٹ

پریشان حال کولکاتا میں لاک ڈاؤن کے وقت امفن

۲۰ مئی کو مغربی بنگال میں آئے تباہ کن سمندری طوفان کے سبب کولکاتا دوبارہ معمول پر آنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے – کیوں کہ جن مزدوروں کویہ کام کرنا تھا وہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بہت پہلے ہی شہر چھوڑ کر اپنے گاؤں جا چکے تھے

۲۵ مئی، ۲۰۲۰ | پاری ٹیم

کینسر، کووڈ- ۱۹ سے متاثر اور پناہ کے بغیر

گیتا اور ستیندر سنگھ مہاراشٹر کے کولہاپور ضلع سے گیتا کے کینسر کا علاج کرانے ممبئی آئے تھے۔ ٹاٹا میموریل اسپتال کے پاس فٹ پاتھ پر رہتے ہوئے پتہ چلا کہ دونوں کووڈ-۱۹ پازیٹو ہیں

۲۵ مئی، ۲۰۲۰ | آکانکشا

فوٹوگرافر لکھتا ہے – بہتری کے لیے یا شاعری کے لیے

اس فوٹوگرافر کا کہنا ہے کہ جب لاک ڈاؤن انسانوں کی تکلیفیں بڑھا رہا ہے، جسے دہائیوں سے جانتے ہوئے اور اس کی پرواہ کرتے ہوئے آپ بڑے ہوئے ہیں، تو یہ آپ کو لینس سے دور جاکر، اپنا اظہار شاعری کی شکل میں کرنے پر مجبور کرتا ہے

۲۴ مئی، ۲۰۲۰ | پرشوتم ٹھاکر

پنویل سے ایم پی: اسکوٹر پر چار دن اور چار راتیں

چند سال قبل ایک حادثہ میں اپنا ایک پیر گنوا چکے بملیش جیسوال نے لاک ڈاؤن کے دوران اپنی بیوی اور تین سال کی بیٹی کے ساتھ، مہاراشٹر کے پنویل سے مدھیہ پردیش کے ریوا تک، ۱۲۰۰ کلومیٹر کا سفر بنا گیئر والے اسکوٹر سے پورا کیا

۲۳ مئی، ۲۰۲۰ | پارتھ ایم این

لاک ڈاؤن کے سبب تیہٹہ میں عارضی بازار

’ہاٹ اسپاٹ‘ میں رہنے والے لوگ جن بازاروں پر منحصر رہا کرتے تھے، اب لاک ڈاؤن کے سبب ان بازاروں کو بند کیے جانے کی انہیں عادت پڑ گئی ہے۔ مغربی بنگال کے ندیا ضلع میں، سبزی فروشوں نے سبزیاں اور دیگر سامان بیچنے کے لیے ایک عارضی بازار بنا لیا ہے

۲۲ مئی، ۲۰۲۰ | سومیا برت رائے

’اب ہم کورونا وائرس یا گرمی سے نہیں ڈرتے‘

ان کی مزدوری جب بند ہو گئی اور پھر کھانا ختم ہو گیا، تو وارانسی کے ریستراں میں کام کرنے والے گیا، بہار کے مزدوروں نے دھیرے دھیرے اپنے گھروں کی طرف چلنا شروع کر دیا – جب کہ ضلع کے دیگر لوگ دور، تمل ناڈو میں پھنسے ہوئے ہیں

۲۲ مئی، ۲۰۲۰ | ریتو پرنا پلیت

’اس راشن کارڈ کا کیا فائدہ ہے؟‘

پونہ کی گیا بائی چوہان اور دیگر کے لیے اپریل کا مہینہ سب سے مشکل گزرا، جب کووڈ-۱۹ لاک ڈاؤن کے سبب ان کی معمولی آمدنی بند ہو گئی، اور پی ڈی ایس کی دکانوں پر ان کے بی پی ایل راشن کارڈ کو بھی خارج کر دیا گیا

۱۹ مئی، ۲۰۲۰ | جیتندر میڈ

آپ اس ہنس مکھ ماں کو تالابند نہیں کر سکتے

مہاراشٹر میں ممبئی – ناسک شاہراہ پر پورے اعتماد کے ساتھ چل رہے مہاجر مزدوروں کی اس لمبی قطار میں، اِس غیر معمولی ماں کی تصویر نے فنکار کے تصور کو بیدار کر دیا

۱۸ مئی، ۲۰۲۰ | لبنی جنگی

لاک ڈاؤن میں مہاجرین کا لمبا مارچ

حیدرآباد کے موسیقار، نغمہ نگار اور گلوکار آدیش روی کا یہ گیت، یقینی طور پر لاک ڈاؤن کے سبب پورے ہندوستان میں ہونے والی مہاجرت پر لکھے جانے والے سب سے طاقتور گیتوں میں سے ایک ہے

۱۶ مئی، ۲۰۲۰ | آدیش روی

واڈا میں لاک ڈاؤن نے چھینی آئرن کرنے والوں کی آمدنی

پالگھر ضلع کے واڈا شہر میں جو لوگ کپڑے آئرن کرکے گزر بسر کرتے ہیں، کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن نے ان کی یومیہ آمدنی کم کر دی ہے۔ کئی لوگ راشن خریدنے اور دیگر کام کی تلاش میں جدوجہد کر رہے ہیں

۱۵ مئی، ۲۰۲۰ | شردھا اگروال

لاک ڈاؤن سڑک پر جملو کا آخری سفر

تلنگانہ کے مرچ کے کھیتوں میں کام کرنے والی چھتیس گڑھ کی ایک ۱۲ سالہ آدیواسی لڑکی کی ۱۸ اپریل کو، دیگر مزدوروں کے ساتھ گھر لوٹنے کی کوشش کے دوران تین دنوں تک پیدل چلنے کے بعد موت ہو گئی۔ پاری نے اس کے گاؤں کا دورہ کیا

۱۴ مئی، ۲۰۲۰ | پرشوتم ٹھاکر اور کملیش پینکرا

تلنگانہ کے ٹوکری بنانے والے – لاک ڈاؤن میں قید

کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن نے تلنگانہ کے کانگل گاؤں میں ٹوکریوں کی تجارت کو بند کر دیا ہے۔ ٹوکری بنانے والے ییروکُلا ایس ٹی برادری کے لوگ، فی الحال زرعی کاموں اور پی ڈی ایس سے ملنے والے چاول اور راحت پیکیجوں پر منحصر ہیں

۱۳ مئی، ۲۰۲۰ | ہری ناتھ راؤ ناگل ونچا

گھروں میں بند طالبات: کوئی بنیادی ضرورت، پیریڈ نہیں

اترپردیش کے چترکوٹ ضلع میں اسکول بند ہو جانے کے سبب غریب کنبوں کی لڑکیوں کو مفت سینیٹری نیپکن نہیں مل پا رہا ہے، اس لیے اب وہ جوکھم بھرا متبادل اپنانے لگی ہیں۔ اکیلے یوپی میں ایسی لڑکیوں کی تعداد لاکھوں میں ہے

۱۲ مئی، ۲۰۲۰ | جگیاسا مشرا

لاک ڈاؤن شاہراہ پر بزرگ خاتون اور اس کا بھتیجہ

کام کے مقام سے سینکڑوں کلومیٹر دور واقع اپنے گھروں تک پہنچنے کے لیے پیدل چل رہے مہاجر مزدوروں کے نظارے ہمیں آج بھی پریشان کر رہے ہیں۔ ایک تصویر میں، حالانکہ، ایک فنکار کو امید اور انسانیت کا جذبہ ضرور دکھائی دیا

۱۱ مئی، ۲۰۲۰ | لبنی جنگی

لاک ڈاؤن میں خون سے سرابور ریل پٹریاں

مہاراشٹر میں اورنگ آباد ضلع کے پاس ۸ مئی کو جن ۱۶ مزدوروں – ان میں سے ۸ گونڈ آدیواسی تھے – کو مال گاڑی کے ذریعے کچل دیا گیا تھا ان سبھی کی عمر ۲۰ یا ۳۰ سال کے آس پاس تھی، اور وہ مدھیہ پردیش کے اُمریا اور شہڈول ضلع کے رہنے والے تھے

۱۰ مئی، ۲۰۲۰ | پرتشٹھا پانڈے

رچینا ہلّی میں لاک ڈاؤن کے دوران راحت کی تلاش

شمالی بنگلورو کی ایک جھگی بستی میں رہنے والے مہاجر یومیہ مزدوروں کا کام بند ہے، بچت کے پیسے ختم ہو گئے ہیں، کھانے کی کمی ہے – لیکن انہیں مکان کا کرایہ چکانے، بچوں کا پیٹ پالنے اور بھوک سے لڑنے کا کام ابھی بھی کرنا پڑ رہا ہے

۹ مئی، ۲۰۲۰ | شویتا ڈاگا

چندیری دھاگے سے لٹکے مدھیہ پردیش کے بُنکر

کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن نے مدھیہ پردیش کے چندیری شہر کی صدیوں پرانی چندیری کپڑے کی تجارت پر بریک لگا دی ہے۔ سریش کولی جیسے کئی بنکر مانگ نہ ہونے، پچھلی بقایہ رقم کی ادائیگی نہ کیے جانے اور گھٹتے وسائل کے سبب پریشان ہیں

۷ مئی، ۲۰۲۰ | موہت ایم راؤ

لاک ڈاؤن میں مہاجر چیونٹیوں کی ہجرت

جس شخص کے گھر پر چینی-تھائی ڈنر تیار ہو رہا ہو، وہ کب تک اپنے گاؤوں لوٹ رہے بھوکے مہاجر مزدوروں کو آدھے راستے میں پھنسا ہوا دیکھ سکتا ہے؟ امتیاز اور نابرابری کے ایشو پر دل کو چھو لینے والی ایک نظم

۶ مئی، ۲۰۲۰ | پرتشٹھا پانڈے

ایم ایف آئی قرض: لاک ڈاؤن کے وقت خوف اور بےعزتی

کووڈ- ۱۹ اور لاک ڈاؤن کے سبب غریبوں نے کمائی میں تیزی سے گراوٹ دیکھی ہے۔ لیکن بحران چاہے جتنا بھی بڑا ہو، مراٹھواڑہ میں چھوٹے مالیاتی ادارے قرض کی قسطوں کے لیے اپنے بے سہارا صارفین کو پریشان کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں

۴ مئی، ۲۰۲۰ | پارتھ ایم این

لاک ڈاؤن میں، بزرگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں

کرناٹک کے بیلگاوی اور مہاراشٹر کے کولہاپور میں مشینوں کی مرمت کرنے والے ایک مسلم، ایک آدیواسی بُنکر اور رسّی بنانے والے ایک دلت – سبھی بزرگ اور انتہائی ہنرمند دستکار ہیں، لیکن لاک ڈاؤن میں ان کے پاس کوئی کام نہیں ہے

۴ مئی، ۲۰۲۰ | سنکیت جین

یومِ مزدور پر گھروں میں بند: کام نہیں، تو تنخواہ نہیں

ایک نئی دستاویزی فلم، جس میں بنگلورو کے میٹرو ریل پروجیکٹ پر کام کرنے والے زیادہ تر مہاجر مزدور کووِڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن کے دور میں اپنی حالت کے بارے میں بتا رہے ہیں

۱ مئی، ۲۰۲۰ | یششوِنی اور ایکتا

ڈولا رام کے لیے گھر تک کی لمبی اور تالابند سڑک

تعمیراتی مقام پر کام کرنے والے ڈولا رام جیسے ہی راجستھان میں اپنے گاؤں پہنچے، اس کے کچھ دنوں بعد ہی ان کے بیٹے کی موت ہو گئی – کیوں کہ لاک ڈاؤن کی اس مدت میں اس کا ٹھیک سے علاج نہیں ہو پایا تھا۔ اب، دیگر مہاجر مزدوروں کی طرح وہ بھی قرض اور غیر یقینی صورتحال میں پھنسے ہوئے ہیں

۳۰ اپریل، ۲۰۲۰ | درشٹی اگروال اور پریما دھُروے

کچھّ کے اونٹ چرواہوں کا آخری سہارا؟

اگر آپ خانہ بدوش مویشی پرور ہیں اور جانوروں کے ایک بڑے ریوڑ کے ساتھ اپنے گھر سے کافی دور ہیں، تبھی کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن کا اعلان ہو جاتا ہے، تب کیا ہوگا؟ گجرات کے کچھّ ضلع میں رہنے والے فقیرانی جاٹ اپنی کہانی بیان کر رہے ہیں

۲۸ اپریل، ۲۰۲۰ | رتائن مکھرجی

بھٹوں میں بند، اینٹ در اینٹ

اوڈیشہ کے ہزاروں مہاجر مزدور تلنگانہ کے اینٹ بھٹوں میں پھنسے ہوئے ہیں – لاک ڈاؤن نے کام کرنے کی ظالم جگہوں کو مزید مشکل بنا دیا – اور ان کے راشن ختم ہو رہے ہیں اور وہ اپنے گھر لوٹنے کے لیے بے تاب ہیں

۲۷ اپریل، ۲۰۲۰ | ورشا بھارگوی

لاک ڈاؤن اور گہرے سمندر کے درمیان پھنسے آندھرا کے ماہی گیر

وشاکھاپٹنم کے ماہی گیر سالانہ ۱۵ اپریل سے ۱۴ جون تک کی مدت، جب مچھلیوں کے انڈے دینے کے موسم میں انہیں پکڑنے پر پابندی ہوتی ہے، سے دو ہفتے قبل سب سے زیادہ منافع کماتے ہیں۔ لیکن یہ مدت اس سال لاک ڈاؤن کی شکار ہو گئی

۲۶ اپریل، ۲۰۲۰ | امرتا کوسورو

وَانَوِل: لاک ڈاؤن کی بحران زدہ زندگی میں قوس قزح

ناگ پٹّینم کا ایک چھوٹا سا اسکول تمل ناڈو کے اس ضلع کی آدیواسی بستیوں کے ایک ہزار سے زیادہ غریب گھروں کے بچوں کے لیے غذائیت کا مرکز بن چکا ہے۔ اور اس کی کوششیں صرف طلبہ تک ہی محدود نہیں ہیں

۲۳ اپریل، ۲۰۲۰ | کویتا مرلی دھرن

وبائی مرض کی قیمت چکا رہے وِدربھ کے مویشی پرور

مشرقی مہاراشٹر میں نند گولی اور دودھ کا کاروبار کرنے والے دیگر کسانوں کو صحت سے متعلق مسائل اور چارے کی کمی کا سامنا کرنے کے علاوہ دودھ کی مانگ میں گراوٹ اور سپلائی کی کڑی کے ٹوٹ جانے کے سبب کافی نقصان ہو رہا ہے

۲۲ اپریل، ۲۰۲۰ | جے دیپ ہرڈیکر اور چیتنا بورکر

’کشتیوں کو بھی اپنے ملاحوں کی یاد آ رہی ہوگی‘

کووِڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن کے سبب مدھیہ پردیش کے چترکوٹ میں رہنے والے نشاد کشتی بانوں کا معاش بھی متاثر ہوا ہے۔ اس برادری کے بہت سے لوگوں کے پاس راشن کارڈ تک نہیں ہے۔ سشما دیوی، ایک حاملہ ماں اور بیوہ، بھی انہیں میں سے ایک ہیں

۲۰ اپریل، ۲۰۲۰ | جگیاسا مشرا

مہاماری سے بلا تحفظ لڑنے کو مجبور – آشا کارکن

ہریانہ کے سونی پت ضلع میں آشا کارکنوں کو، مہاماری پر قابو پانے کی آخری کوشش کے طور پر، کووڈ- ۱۹ کے خلاف لڑائی میں سب سے آگے دھکیل دیا گیا ہے – وہ بھی بغیر کسی تحفظاتی آلہ اور معمولی تربیت کے ساتھ

۱۸ اپریل، ۲۰۲۰ | پلّوی پرساد

بغیر رکے ۱۰۴ کلومیٹر کا پیدل سفر

پالگھر اور تھانے میں اینٹ کی بھٹیوں پر کام کرنے والے مزدور، جن میں سے زیادہ تر آدیواسی زرعی مزدور ہیں، کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بنا کسی کمائی کے مانسون تک اپنے اپنے گھر لوٹنے کو مجبور ہیں

۱۷ اپریل، ۲۰۲۰ | جیوتی شنولی

سٹیزن نگر کے لوگ امید سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں

کووِڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن، احمد آباد کے سٹیزن نگر کی پہلے سے ہی متاثرہ برادری کے لیے آخری چوٹ جیسا ثابت ہو رہا ہے، بھوک میں اضافہ کرتا ہوا اور پہلے سے ہی موجود طبی نظام کو مزید خستہ حال بناتا ہوا

۱۶ اپریل، ۲۰۲۰ | پرتشٹھا پانڈے

سر پر تھیلے، دلوں میں خوف

کووِڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن بحران کے سبب ہونے والی مہاجرت نے شاعروں اور فنکاروں کو یکساں طور پر متاثر کیا ہے۔ ایک ایسا ہی ردِ عمل یہاں پیش کیا جا رہا ہے

۱۶ اپریل، ۲۰۲۰ | گوکل جی کے

مرجھاتے ہوئے مہوا، برباد ہوتی ٹوکریاں اور خاموش ہاٹ

کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن نے چھتیس گڑھ میں رہنے والی کمار برادری، خاص طور سے کمزور آدیواسی جماعت، جو ٹوکریاں بن کر اور مہوا کے پھل بیچ کر چند روپے کماتی ہے، کی نازک اقتصادیات کو تار تار کر دیا ہے

۱۵ اپریل، ۲۰۲۰ | پرشوتم ٹھاکر

لاتور میں معصوم کاندھوں پر لاک ڈاؤن کا بوجھ

والدین کو چونکہ کوئی کام نہیں مل رہا ہے یا ان کی مزدوری کافی کم ہو گئی ہے، اس لیے مراٹھواڑہ کے لاتور میں ایسے کنبوں کے اسکولی طالب علم کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن کے خطرناک پس منظر کے باوجود گلیوں میں سبزیاں فروخت کر رہے ہیں

۱۲ اپریل، ۲۰۲۰ | ایرا دیول گاؤنکر

’اب تربوز بھی سڑنے والے ہیں‘

کووِڈ- ۱۹ کے سبب لاک ڈاؤن نے تمل ناڈو کے چینگل پٹّو ضلع میں تربوز کے کسانوں کو پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ خریداروں اور ٹرانسپورٹروں کی تعداد میں زبردست کے سبب، کئی کسان یا تو اپنے پھلوں کو بہت ہی کم قیمتوں پر بیچنے کے لیے مجبور ہیں یا پھر انہیں یونہی سڑنے کے لیے چھوڑنے پر

۱۱ اپریل، ۲۰۲۰ | سیبی اراسو

’کچھ لوگ تو اب دن میں صرف ایک بار ہی کھا رہے ہیں‘

کووِڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن نے بنگلورو کے کئی یومیہ مزدوروں کی آمدنی چھین لی ہے یا انہیں بیکار کر دیا ہے

۱۰ اپریل، ۲۰۲۰ | شویتا ڈاگا

لاک ڈاؤن میں حجاموں کا حال

مراٹھواڑہ کے لاتور ضلع میں، حجاموں کو لاک ڈاؤن نے بری طرح متاثر کیا ہے – وہ پوری طرح سے یومیہ آمدنی پر منحصر ہوتے ہیں، اور ان کے لیے اپنے گاہکوں سے جسمانی دوری بنانے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا

۸ اپریل، ۲۰۲۰ | ایرا دیول گاؤنکر

سندربن: موسونی میں لاک ڈاؤن سے کھانے کی کوئی کمی نہیں

مغربی بنگال کے سندربن کا ایک چھوٹا، دور دراز کا جزیرہ، جس نے کئی آفات کا مقابلہ کیا ہے، اب کووِڈ- ۱۹ کے بحران اور لاک ڈاؤن کا سامنا خود کے اپنے وسائل سے کر رہا ہے

۵ اپریل، ۲۰۲۰ | ابھجیت چکربورتی

مترجم: محمد قمر تبریز

Mohd. Qamar Tabrez is PARI’s Urdu/Hindi translator since 2015. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi. You can contact the translator here: