وہ بچپن سے ہی لمبی قطاروں میں انتظار کرنے کی عادی تھی – پانی کے نل پر، اسکول میں، مندروں میں، راشن کی دکانوں پر، بس اسٹاپ پر، سرکاری دفاتر کے باہر۔ اکثر اسے بنیادی قطار سے تھوڑی دور ایک علیحدہ قطار میں کھڑے ہونے پر مجبور کیا جاتا، کیوں کہ پہلی قطار کو ترجیح دی جاتی تھی۔ وہ اُن نا امیدیوں کی بھی عادی تھی جو اُسے اکثر اپنی باری آنے پر جھیلنی پڑتی تھی۔ لیکن آج شمشان کے باہر وہ اسے مزید برداشت نہیں کر سکتی۔ وہ اس کی لاش کو اپنے پڑوسی نظام بھائی کے آٹو میں چھوڑ کر اپنے گھر واپس بھاگ جانا چاہتی تھی۔

چند دن قبل جب بھیکھو اپنی بوڑھی ماں کی لاش کے ساتھ یہاں آیا تھا، تو وہ اتنی لمبی قطار کو دیکھ کر پریشان ہو گئی تھی۔ لیکن یہ صدمہ اسے صرف اپنی ماں کی موت سے نہیں لگا تھا؛ بلکہ اس نے اس کی روح کو بہت پہلے لرزتے ہوئے دیکھا تھا، اپنے لوگوں کو پیسے کے بغیر، کھانا کے بغیر، نوکریوں کے بغیر پریشان ہوتے دیکھ کر، جو کئی مہینوں سے اپنی بقیہ مزدوری مالک سے حاصل کرنے کے لیے بلا مقصد احتجاج کر رہے تھے، جو ایسا کوئی کام تلاش کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے جس سے انہیں مناسب پیسے مل جائیں، جو انہیں بیماری کے منہ میں جانے سے پہلے قرض تلے روندے جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ یہ بے رحم بیماری شاید اس کے لوگوں کے لیے ایک نعمت ہو، ایسا وہ سوچا کرتی تھی۔ جب تک کہ...

کیا اس خاص انجیکشن نے اس کی جان بچا لی ہوتی؟ اگر وہ اس کا انتظام کر لیتے، تو کالونی کے قریب واقع پرائیویٹ کلینک کا ڈاکٹر اسے لگانے کو تیار تھا۔ وہ جانتی تھی کہ وہ مزید کوشش کر سکتی تھی۔ تو کیا ہوا اگر قطاریں بہت لمبی تھیں اور آخر میں کوئی قسمت ساتھ دینے والی نہیں تھی؟ اسپتال میں کٹ (سازوسامان) ختم ہو گئے تھے۔ اگلے دن آنا، انہوں نے کہا تھا۔ بالکل وہ ایسا کر سکتی تھی؟ ’’میں اُس جگہ کو جانتا ہوں جہاں سے تم اسے ۵۰ ہزار نقد دیکر حاصل کر سکتی ہو،‘‘ نظام بھائی نے ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے کہا تھا۔ لیکن اس پیسہ کا تھوڑا سا حصہ بھی وہ کہاں سے لاتی؟ ایڈوانس کی بات چھوڑ دیجئے، میم صاحب نے تو اس دن کے بھی پیسے نہیں دیے جس دن وہ کسی وجہ سے کام پر نہیں آ سکی تھی۔

آدھی رات میں جب اس نے آخرکار اسے نظام بھائی کے آٹو میں سوار کیا، اس وقت اس کا جسم تندور کی طرح جھلس رہا تھا اور سانس لینے میں اسے دقت پیش آ رہی تھی۔ اس نے جب ۱۰۸ پر کال کیا، تو انہوں نے کہا کہ دوسے تین گھنٹے لگ جائیں گے اور ویسے بھی کسی اسپتال میں کوئی بستر نہیں بچا ہے۔ سرکاری اسپتال کے باہر قطار اور بھی لمبی تھی۔ اسے مزید انتظار کرنا پڑے گا کیوں کہ وہ ایک پرائیویٹ آٹو میں ہے، اسے بتایا گیا۔ تب اس نے اپنی آنکھیں مشکل سے کھولیں۔ وہ اس کے ہاتھ کو پکڑے ہوئے تھی، اس کی پیٹھ اور سینہ کو سہلا رہی تھی، اسے ایک گھونٹ پانی پینے کے لیے مجبور کر رہی تھی، وہ اس کی ہمت بندھا رہی تھی، جب وہ تینوں بغیر سوئے، بغیر کھائے پیے، لا منتاہی طور پر انتظار کر رہے تھے – جب تک کہ ابتدائی صبح میں آخرکار اس نے دم توڑ دیا، اپنی باری آنے سے دو مریض دور۔

اس کے بعد شمشان میں ایک اور قطار تھی...

سدھنوا دیش پانڈے کی آواز میں نظم سنیں

موکش

اپنی اُدھار سانس لو
اور اس میں ڈبو دو اپنی زندگی کی ہوس
جاؤ، جاکروادیوں میں گم ہو جاؤ
اپنی بند آنکھوں کے پیچھے، انتہائی تاریک،
روشنی کی ضد نہ کرو۔
زندگی کی اس خواہش کو
جو اب بھی پھنسی ہے، سسکیوں کی طرح، تمہارے گلے میں
بے چین آوازوں کی طرح
ایمبولینسوں کی، رات کی ہوا میں
ہمارے آس پاس کے ماتم میں پگھلی ہوئی
گونج رہی ہے مقدس منتروں کی طرح۔

بند کرلو اپنے کان زور سے
اس بھاری، ویران
جھلسی ہوئی تنہائی سے
جو خود سے پھیل رہی ہے گلیوں میں۔
تلسی سوکھ چکی ہے۔
رکھو اس نارائنی نام کو
اپنی محبت کے، بجائے اس کے
اپنی زبان کی نوک پر
اور اس کے ساتھ نگل لو
چمکدار گنگاجل یادوں کا۔

دھو لو اپنے جسم کو آنسوؤں سے
ڈھانپ لو صندل کی لکڑی کے خوابوں سے
اپنی بند ہتھیلیوں کو رکھ لو اپنے سینے پر
اور خود کو ڈھانپ لو کفن سے
موٹی سفید بدحالی کے
پیار کی چھوٹی سے ٹمٹماہٹ رہنے دو
اُن آنکھوں میں سوتے وقت
اور اپنی آخری دہکتی ہوئی آہوں کو
جلانے دو اس کھوکھلے جسم کے نیچے کی زندگی کو
سبھی اب گھاس کے ایک ڈھیر کی شکل میں
ہمیشہ کے لیے چنگاری کا انتظار کرتے ہوئے
آؤ، جلانے اپنی چتا کو آج اور کرو انتظار
بھڑکتے ہوئے شعلوں کا جو تمہیں اپنی آغوش میں لے لے۔

آڈیو: سدھنوا دیش پانڈے جن ناٹیہ منچ کے اداکار و ہدایت کار، اور لیفٹ ورڈ بُکس کے ایڈیٹر ہیں۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Mohd. Qamar Tabrez is PARI’s Urdu/Hindi translator since 2015. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi. You can contact the translator here:

Illustration : Labani Jangi

Labani Jangi is a 2020 PARI Fellow, and a self-taught painter based in West Bengal's Nadia district. She is working towards a PhD on labour migrations at the Centre for Studies in Social Sciences, Kolkata.

Other stories by Labani Jangi
Pratishtha Pandya

Pratishtha Pandya is a poet and a translator who works across Gujarati and English. She also writes and translates for PARI.

Other stories by Pratishtha Pandya