رتیش مشرا سیتا پور کے ایک اسپتال میں بستر پر لیٹے ہوئے تھے، آکسیجن کی نلی ان کی ناک میں لگی ہوئی تھی اور وہ زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے تھے، پھر بھی ان کے فون کی گھنٹی لگاتار بج رہی تھی۔ فون پر ریاستی الیکشن کمیشن اور سرکاری حکام کی طرف سے اس بیمار اسکول ٹیچر سے یہ تصدیق کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ وہ ۲ مئی کو اپنی ڈیوٹی پر موجود رہیں گے – جو کہ اتر پردیش کے پنچایت انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کا دن تھا۔

’’فون کی گھنٹی بند ہی نہیں ہو رہی تھی،‘‘ ان کی بیوی اپرنا کہتی ہیں۔ ’’میں نے جب فون اٹھایا اور اس شخص سے کہا کہ رتیش اسپتال میں بھرتی ہیں اور ڈیوٹی پر نہیں جا سکتے – تو انہوں نے بطور ثبوت، مجھ سے ان کی اسپتال والی تصویر بھیجنے کے لیے کہا۔ میں نے وہی کیا۔ میں آپ کو وہ تصویر بھیج دوں گی،‘‘ انہوں نے پاری سے کہا۔ اور تصویر بھیجی۔

بات چیت کے دوران ۳۴ سالہ اپرنا مشرا نے بار بار یہی کہا کہ انہوں نے اپنے شوہر سے پرزور طریقے سے التجا کی تھی کہ وہ الیکشن کے کام پر نہ جائیں۔ ’’میں اُن سے یہ بات اسی دن سے کہہ رہی تھی جس دن ان کی ڈیوٹی کا نظام الاوقات آیا تھا،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ ’’لیکن وہ بار بار یہی کہتے رہے کہ الیکشن کے کام کو منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔ اور یہ کہ اگر وہ ڈیوٹی پر نہیں گئے، تو حکام کی طرف سے ان کے خلاف ایف آئی آر بھی کی جا سکتی ہے۔‘‘

کووڈ۔۱۹ کے سبب ۲۹ اپریل کو رتیش کی موت ہو گئی۔ وہ یوپی کے ۷۰۰ سے زیادہ اسکول ٹیچروں میں سے ایک تھے جن کی موت پنچایت انتخابات میں ڈیوٹی کرنے کی وجہ سے اسی طرح ہوئی۔ پاری کے پاس پوری فہرست ہے جس کی کل تعداد اب ۷۱۳ ہو چکی ہے – ۵۴۰ مرد اور ۱۷۳ خواتین ٹیچرس – جب کہ ہلاکتوں کی تعداد اب بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ اس ریاست کے اندر سرکاری پرائمری اسکولوں میں تقریباً ۸ لاکھ ٹیچرز ہیں – جن میں سے ہزاروں کو انتخاب کی ڈیوٹی پر بھیج دیا گیا تھا۔

رِتیش، ایک سہایک ادھیاپک (اسسٹنٹ ٹیچر) جو سیتاپور ہیڈکوارٹرس میں اپنی فیملی کے ساتھ رہتے تھے، لیکن لکھنؤ کے گوسائیں گنج بلاک کے پرائمری اسکول میں پڑھاتے تھے۔ انہیں ۱۵، ۱۹، ۲۶ اور ۲۹ اپریل کو چار مراحل میں ہونے والے پنچایت انتخابات میں پاس کے گاؤں کے ایک اسکول میں انتخابی اہلکار کے طور پر کام کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

'When I said Ritesh is hospitalised and could not accept the duty – they demanded I send them a photograph of him on his hospital bed – as proof. I did so. I will send you that photograph', says his wife Aparna. Right: Ritesh had received this letter asking him to join for election duty.
PHOTO • Aparna Mishra
'When I said Ritesh is hospitalised and could not accept the duty – they demanded I send them a photograph of him on his hospital bed – as proof. I did so. I will send you that photograph', says his wife Aparna. Right: Ritesh had received this letter asking him to join for election duty.
PHOTO • Aparna Mishra

’میں نے جب کہا کہ رتیش اسپتال میں بھرتی ہیں اور ڈیوٹی قبول نہیں کر سکتے – تو انہوں نے مجھ سے ثبوت کے طور پر ان کی اسپتال والی تصویر بھیجنے کی مانگ کی۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ میں آپ کو وہ تصویر بھیج دوں گی‘، ان کی بیوی اپرنا کہتی ہیں۔ دائیں: رتیش کو یہ خط ملا تھا جس میں ان سے الیکشن کی ڈیوٹی میں شامل ہونے کے لیے کہا گیا تھا۔

یوپی میں پنچایت انتخاب ایک بہت بڑی ورزش ہے اور اس بار تقریباً ۱۳ لاکھ امیدوار ۸ لاکھ سے زیادہ سیٹوں کے لیے میدان میں تھے۔ چار الگ الگ عہدوں پر براہ راست امیدواروں کو منتخب کرنے کے لیے اہل ۱۳۰ ملین ووٹروں کے لیے ۵۲۰ ملین بیلیٹ پیپرز پرنٹ کرنا پڑا۔ اس پوری کارروائی میں ظاہر ہے انتخابی اہلکاروں کے لیے بڑا خطرہ تھا۔

کورونا وائرس وبائی مرض کے اس سنگین دور میں، اس قسم کی ڈیوٹی کے خلاف ٹیچروں اور ان کی یونینوں کے مظاہروں کو نظر انداز کر دیا گیا تھا۔ جیسا کہ یوپی شکشک مہاسنگھ (اساتذہ کی تنظیم) نے ۱۲ اپریل کو ریاستی الیکشن کمشنر کو تحریر کردہ ایک مکتوب میں کہا تھا، اساتذہ کو وائرس سے بچانے کے لیے کوئی حقیقی تحفظ، دوری بنائے رکھنے کے لیے پروٹوکولس یا سہولیات نہیں تھیں۔ اس مکتوب میں آگاہ کیا گیا تھا کہ ٹریننگ، بیلیٹ باکس کو سنبھالنے، اور ٹیچروں کو ہزاروں لوگوں سے رابطہ کرنے کی وجہ سے کافی خطرہ لاحق ہوگا۔ اسی لیے، ان کی تنظیم نے انتخابات کو ملتوی کرنے کے لیے کہا تھا۔ اس کے علاوہ، ۲۸ اور ۲۹ اپریل کو لکھے گئے مکتوب میں ووٹوں کی گنتی کی تاریخ کو آگے بڑھانے کے لیے کہا گیا تھا۔

’’ہم نے ریاستی الیکشن کمشنر کو یہ مکتوب میل کے ساتھ ساتھ ہاتھ سے بھی بھیجے تھے۔ لیکن ہمیں ان کی طرف سے کوئی جواب یا موصول ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی،‘‘ یوپی شکشک مہا سنگھ کے صدر، دنیش چندر شرما نے پاری کو بتایا۔ ’’ہمارے مکتوب وزیر اعلیٰ کے پاس بھی گئے تھے، لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔‘‘

ٹیچر سب سے پہلے ایک دن کی ٹریننگ پر گئے، پھر دو دن کی پولنگ ڈیوٹی پر – ایک دن تیاری کے لیے اور دوسرے دن حقیقی ووٹنگ کے دن کے لیے۔ بعد ازاں، ہزاروں ٹیچروں کو ایک بار پھر ووٹوں کی گنتی کے لیے موجود رہنا پڑا۔ ان کاموں کو پورا کرنا لازمی ہے۔ اپنی ٹریننگ پہلے ہی مکمل کر چکے رتیش ۱۸ اپریل کو پولنگ ڈیوٹی پر گئے تھے۔ ’’انہوں نے مختلف محکموں کے دیگر سرکاری عملہ کے ساتھ کام کیا، لیکن ان میں سے کسی کو بھی پہلے سے نہیں جانتے تھے،‘‘ اپرنا بتاتی ہیں۔

’’میں آپ کو وہ سیلفی دکھاؤں گی جو انہوں نے ڈیوٹی کے سنٹر پر جاتے وقت مجھے بھیجی تھی۔ وہ دو دیگر مردوں کے ساتھ سومو یا بولیرو (گاڑی) میں بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے ایسی ہی ایک اور گاڑی کی تصویر مجھے بھیجی تھی جس میں تقریباً ۱۰ آدمیوں کو الیکشن ڈیوٹی کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔ میں کافی ڈر گئی تھی،‘‘ اپرنا کہتی ہیں۔ ’’اور اس کے بعد پولنگ بوتھ پر اس قسم کے مزید جسمانی رابطے ہو رہے تھے۔

خاکہ: جگیاسا مشرا

ٹیچر سب سے پہلے ایک دن کی ٹریننگ پر گئے، پھر دو دن کی پولنگ ڈیوٹی پر – ایک دن تیاری کے لیے اور دوسرے دن حقیقی ووٹنگ کے دن کے لیے۔ بعد ازاں، ہزاروں ٹیچروں کو ایک بار پھر ووٹوں کی گنتی کے لیے موجود رہنا پڑا۔ ان کاموں کو پورا کرنا لازمی ہے

’’ووٹنگ کے بعد، وہ ۱۹ اپریل کو گھر لوٹے، جب انہیں ۱۰۳ ڈگری بخار تھا۔ گھر کے لیے روانہ ہونے سے قبل انہوں نے مجھے فون کرکے کہا تھا کہ ان کی طبیعت ناساز ہے، لہٰذا میں نے ان سے جلدی لوٹ آنے کے لیے کہا۔ کچھ دنوں تک تو ہم یہ سمجھتے رہے کہ یہ عام بخار ہے جو تھکان کی وجہ سے ہو گیا ہے۔ لیکن جب تیسرے دن (۲۲ اپریل) بھی بخار نہیں اترا، تو ہم نے ایک ڈاکٹر سے صلاح لی جنہوں نے ان کو فوراً کووڈ ٹیسٹ اور سی ٹی- اسکین کرانے کے لیے کہا۔

’’ہم نے وہ کرایا – رزلٹ پازیٹو آیا – اور ہم اسپتال کے بستر کی تلاش میں بھاگے۔ ہم نے لکھنؤ کے کم از کم ۱۰ اسپتالوں میں چیک کیا۔ دن بھر چکر لگانے کے بعد، آخرکار ہم نے انہیں رات میں، سیتاپور کے ایک پرائیویٹ کلینک میں داخل کرایا۔ تب تک انہیں سانس لینے میں کافی دقت ہونے لگی تھی۔

’’ڈاکٹر روزانہ صرف ایک بار آتا تھا، زیادہ تر رات میں ۱۲ بجے، اور ہم جب بھی فون کرتے تھے تو اسپتال کا کوئی بھی اسٹاف جواب نہیں دیتا تھا۔ وہ ۲۹ اپریل کی شام کو ۵ بج کر ۱۵ منٹ پر کووڈ کے خلاف جنگ ہار گئے۔ انہوں نے پوری کوشش کی – ہم سب نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی – لیکن وہ ہماری آنکھوں کے بالکل سامنے ہم سے جدا ہو گئے۔‘‘

رتیش اپنی پانچ رکنی فیملی – وہ خود، اپرنا، ان کی ایک سال کی بیٹی، اور ان کے والدین – میں کمانے والے واحد شخص تھے۔ اپرنا کے ساتھ ان کی شادی ۲۰۱۳ میں ہوئی تھی، اور اپریل ۲۰۲۰ میں پہلے بچے کی پیدائش ہوئی تھی۔ ’’۱۲ مئی کو ہم اپنی شادی کی آٹھویں سالگرہ مناتے،‘‘ اپرنا سسکتے ہوئے کہتی ہیں، ’’لیکن وہ پہلے ہی مجھے چھوڑ کر چلے گئے...‘‘ وہ اپنا جملہ مکمل نہیں کر پاتی ہیں۔

*****

۲۶ اپریل کو، مدراس ہائی کورٹ نے کووڈ۔۱۹ وبائی مرض کے دوران سیاسی ریلیوں کی اجازت دینے کے لیے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کو کھری کھوٹی سنائی تھی۔ مدراس ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سنجیب بنرجی نے ای سی آئی کے وکیل سے کہا تھا: ’’آپ کا ادارہ کووڈ۔۱۹ کی دوسری لہر کے لیے اکیلے ذمہ دار ہے۔‘‘ چیف جسٹس نے تو زبانی طور پر یہاں تک کہا تھا کہ ’’شاید آپ کے افسروں پر قتل کے جرم میں مقدمہ درج کیا جانا چاہیے ۔‘‘

مدراس ہائی کورٹ نے عدالت کے حکم کے باوجود، چناؤ پرچار کے دوران فیس ماسک پہننے، سینٹائزر کا استعمال کرنے اور سماجی دوری برقرار رکھنے کی تعمیل کروانے میں کمیشن کی ناکامی پر بھی اپنے غصے کا اظہار کیا تھا۔

At Lucknow’s Sarojini Nagar, May 2, counting day: Panchayat polls in UP are gigantic and this one saw nearly 1.3 million candidates contesting over 8 lakh seats
PHOTO • Jigyasa Mishra
At Lucknow’s Sarojini Nagar, May 2, counting day: Panchayat polls in UP are gigantic and this one saw nearly 1.3 million candidates contesting over 8 lakh seats
PHOTO • Jigyasa Mishra

لکھنؤ کے سروجنی نگر میں ۲ مئی، ووٹوں کی گنتی کے دن: یوپی میں پنچایت انتخاب ایک بہت بڑی ورزش ہے اور اس بار تقریباً ۱۳ لاکھ امیدوار ۸ لاکھ سے زیادہ سیٹوں کے لیے میدان میں تھے

اگلے دن، ۲۷ اپریل کو، ناراض الہ آباد ہائی کورٹ کی بنچ نے یوپی کے ریاستی الیکشن کمیشن (ایس ای سی) کو ایک نوٹس جاری کیا اور یہ بتانے کے لیے کہا کہ ’’وہ حال ہی میں منعقد ہونے والے پنچایت انتخابات کے متعدد مراحل کے دوران کووڈ گائیڈ لائنس کی حکم عدولی کو چیک کرنے میں ناکام کیوں رہا اور اس کے اور اس کے عہدیداروں اور ان خلاف ورزیوں کے لیے ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کیوں نہ کی جائے۔‘‘

جب ووٹنگ کا ایک مرحلہ اور گنتی باقی تھی، تو عدالت نے ایس ای سی کو حکم دیا تھا کہ وہ ’’پنچایت انتخابات کے آئندہ مراحل میں فوری طور پر ایسے اقدام کرے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ سماجی دوری اور فیس ماسک... کے کووڈ گائیڈ لائنس کی ایمانداری سے تعمیل کی جا رہی ہے، ورنہ انتخابی عمل میں شامل عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘‘

اُس وقت اموات کی تعداد ۱۳۵ تھی اور ہندی روزنامہ ’امر اُجالا‘ میں اس پر ایک رپورٹ آنے کے بعد یہ معاملہ عدالت میں اٹھایا گیا تھا۔

لیکن حقیقت میں کچھ نہیں بدلا۔

یکم مئی، یعنی ووٹوں کی گنتی سے بمشکل ۲۴ گھنٹے قبل، اتنی ہی ناراضگی کے ساتھ سپریم کورٹ نے حکومت سے پوچھا : ’’اس الیکشن میں تقریباً ۷۰۰ ٹیچروں کی موت ہو چکی ہے، آپ اس کے بارے میں کیا کر رہے ہیں؟‘‘ (اترپردیش میں گزشتہ ۲۴ گھنٹے میں کووڈ۔۱۹ کے ۳۴ ہزار ۳۷۲ معاملے درج کیے گئے تھے)۔

ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کا جواب تھا: ’’جن ریاستوں میں الیکشن نہیں ہے، وہاں بھی یہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ دہلی میں کوئی الیکشن نہیں ہے لیکن وہاں بھی یہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ جب پولنگ شروع ہوئی تھی تو ہم دوسری لہر کی چپیٹ میں نہیں تھے۔‘‘

دوسرے لفظوں میں، انتخابات اور پولنگ کا اموات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

'The arrangements for safety of the government staff arriving for poll duty were negligible', says Santosh Kumar
PHOTO • Jigyasa Mishra
'The arrangements for safety of the government staff arriving for poll duty were negligible', says Santosh Kumar
PHOTO • Jigyasa Mishra

’انتخابی ڈیوٹی کے لیے آ رہے سرکاری عملہ کی حفاظت کے انتظامات نہ کے برابر تھے‘، سنتوش کمار کہتے ہیں

’’ہمارے پاس کوئی ایسا مستند ڈیٹا نہیں ہے جو یہ بتا سکے کہ کون کووڈ پازیٹو تھا اور کون نہیں تھا،‘‘ یوپی کے وزیر مملکت برائے ابتدائی تعلیم، ستیش چندر دویدی نے پاری کو بتایا۔ ’’ہمارے یہاں کوئی آڈٹ نہیں ہوا ہے۔ مزید برآں، صرف ٹیچر ہی نہیں تھے جو ڈیوٹی پر گئے اور پازیٹو ہو گئے۔ اس کے علاوہ، آپ کو کیسے پتا کہ وہ اپنی ڈیوٹی پر جانے سے پہلے کورونا پازیٹو نہیں تھے؟‘‘ وہ سوال کرتے ہیں۔

تاہم، انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے سرکاری اعداد و شمار کے حوالے سے کہا ہے کہ ’’۳۰ جنوری ۲۰۲۰ سے ۴ اپریل ۲۰۲۱ کے درمیان – ۱۵ مہینے میں – یوپی میں کووڈ۔۱۹ کے کل ۶ لاکھ ۳۰ ہزار معاملے درج کیے گئے تھے۔ ۴ اپریل سے، ۳۰ دنوں میں ۸ لاکھ سے زیادہ نئے معاملے سامنے آئے، جس کو ملاکر یوپی میں ایسے معاملوں کی کل تعداد ۱۴ لاکھ ہو گئی۔ اسی مدت کے دوران وہاں دیہی انتخابات ہو رہے تھے۔‘‘ دوسرے لفظوں میں، انتخابی عمل کے واحد مہینہ میں کووڈ۔۱۹ کے معاملے ریاست میں اس سے کہیں زیادہ دیکھنے کوملے، جو اس سے پہلے اس وبائی مرض کی پوری مدت کے دوران سامنے آئے تھے۔

کووڈ کے سبب مرنے والے ۷۰۶ ٹیچروں کی لسٹ ۲۹ اپریل کو بنائی گئی تھی، جس میں سب سے متاثرہ ضلع اعظم گڑھ تھا، جہاں ۳۴ ٹیچر ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ضلعوں میں ۲۸ اموات کے ساتھ گورکھپور، ۲۳ اموات کے ساتھ جونپور، اور ۲۷ ٹیچروں کی موت کے ساتھ لکھنؤ بھی شامل تھے۔ یوپی شکشک مہا سنگھ کے لکھنؤ ضلع کے صدر، سدانشو موہن کہتے ہیں کہ ہلاکتوں کا سلسلہ رکا نہیں ہے۔ انہوں نے ۴ مئی کو ہمیں بتایا کہ ’’گزشتہ پانچ دنوں میں انتخابی ڈیوٹی سے واپس لوٹ رہے مزید سات ٹیچروں کی موت درج کی گئی ہے۔‘‘ (یہ نام پاری کی لائبریری پر اپ لوڈ کی گئی فہرست میں شامل کر لیے گئے ہیں)۔

تاہم، رتیش کمار کا المیہ بھلے ہی ہمیں اس بات کا اشارہ دے رہا ہے کہ کم از کم ۷۱۳ کنبوں پر کیا گزر رہی ہے، لیکن پوری کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ دیگر لوگ بھی ہیں جو اس وقت کووڈ۔۱۹ سے لڑ رہے ہیں؛ جن کا ٹیسٹ کیا جانا ہے؛ اور جن کا ٹیسٹ ہو چکا ہے اور وہ نتائج کے آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں واپسی پر جن کے اندر ابھی تک کوئی علامات دکھائی نہیں دی ہیں لیکن انہوں نے خود کو دوسروں سے علیحدہ کر لیا ہے۔ ان تمام کی کہانیاں تلخ حقائق کی ترجمانی کرتی ہیں جو مدراس اور الہ آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے غصہ اور تشویش کا سبب بنے۔

’’انتخابی ڈیوٹی کے لیے آ رہے سرکاری عملہ کی حفاظت کے انتظامات نہ کے برابر تھے،‘‘ ۴۳ سالہ سنتوش کمار کہتے ہیں۔ وہ لکھنؤ کے گوسائیں گنج بلاک کے ایک پرائمری اسکول میں ہیڈ ماسٹر ہیں۔ انہوں نے پولنگ کے دنوں کے ساتھ ساتھ ووٹوں کی گنتی کے دن بھی کام کیا تھا۔ ’’ہم سبھی کو سماجی دوری کا خیال رکھے بنا بسوں اور دیگر گاڑیوں کو استعمال کرنا پڑتا تھا۔ اس کے بعد، محل وقوع پر، ہمیں احتیاطی اقدام کے طور پر دستانے یا سینٹائزر نہیں ملتے تھے۔ ہم اپنے ساتھ جو لے جاتے تھے، بس وہی ہمارے پاس ہوتا تھا۔ دراصل، ہم اپنے ساتھ جو اضافی ماسک لیکر جاتے تھے، اسے ان ووٹروں کو دے دیتے تھے جو وہاں اپنا چہرہ ڈھانپے بغیر آتے تھے۔

خاکہ: انترا رمن

’مجھے ہر دوسرے دن میری رسوئیا کا فون آتا ہے جو مجھے بتاتی ہے کہ اس کے گاؤں کی حالت بگڑتی جا رہی ہے۔ وہاں کے لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ ان کی موت کیوں ہو رہی ہے‘

’’یہ صحیح ہے کہ ہمارے پاس ڈیوٹی منسوخ کرانے کا کوئی اختیار نہیں تھا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’ایک بار آپ کا نام نظام الاوقات میں آ گیا، تو آپ کو ڈیوٹی پر جانا ہی ہے۔ یہاں تک کہ حاملہ خواتین کو بھی انتخابی ڈیوٹی پر جانا پڑا، چھٹی کی ان کی درخواستوں کو مسترد کر دیا گیا تھا۔‘‘ کمار کے اندر ابھی تک کوئی علامت نہیں دیکھی گئی ہے – اور وہ ۲ مئی کو ووٹوں کی گنتی میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔

لکھیم پور ضلع میں ایک پرائمری اسکول کی ہیڈ، میتو اوستھی اتنی خوش قسمت نہیں تھیں۔ انہوں نے پاری کو بتایا کہ جس دن وہ ٹریننگ کے لیے گئی تھیں، انہوں نے ’’کمرے میں ۶۰ دیگر کو پایا۔ تمام لکھیم پور بلاک کے مختلف اسکولوں سے تھے۔ وہ تمام ایک بھیڑ بھاڑ والے کمرے میں، ایک دوسرے کی کہنی سے کہنی سٹائے بیٹھے ہوئے تھے اور وہاں موجود صرف ایک بیلیٹ باکس پر مشق کر رہے تھے۔ آپ تصور نہیں کر سکتیں کہ پوری صورتحال کتنی خوفناک تھی۔‘‘

اس کے بعد، ۳۸ سالہ اوستھی کا رزلٹ پازیٹو آیا۔ انہوں نے اپنی ٹریننگ مکمل کر لی تھی – جسے وہ اس کے لیے ذمہ دار مانتی ہیں – لیکن ووٹنگ یا گنتی کی ڈیوٹی پر نہیں گئیں۔ تاہم، ان کے اسکول کے دیگر اسٹاف کو یہ کام سونپا گیا تھا۔

’’ہمارے ایک اسسٹنٹ ٹیچر، اندر کانت یادو کو ماضی میں الیکشن کا کوئی کام نہیں دیا گیا تھا۔ لیکن اس بار انہیں دیا گیا،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ ’’وہ جسمانی طور پر معذور تھے۔ ان کا صرف ایک ہاتھ تھا پھر بھی انہیں ڈیوٹی پر بھیجا گیا۔ واپس لوٹنے کے کچھ ہی دنوں کے اندر وہ بیمار پڑے اور آخرکار ان کا انتقال ہو گیا۔‘‘

’’مجھے ہر دوسرے دن میری رسوئیا [اسکول میں کھانا بنانے والی] کا فون آتا ہے جو مجھے بتاتی ہے کہ اس کے گاؤں کی حالت بگڑتی جا رہی ہے۔ وہاں کے لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ ان کی موت کیوں ہو رہی ہے۔ انہیں نہیں معلوم کہ وہ جس کھانسی اور بخار کی شکایت کر رہے ہیں – وہ کووڈ۔۱۹ ہو سکتا ہے،‘‘ اوستھی کہتی ہیں۔

چترکوٹ کے مئو بلاک کے پرائمری اسکول کے ٹیچر، ۲۷ سالہ شو کے کو کام کرتے ہوئے ابھی مشکل سے ایک سال ہوا ہے۔ ڈیوٹی پر جانے سے پہلے انہوں نے اپنا ٹیسٹ کروایا تھا: ’’محفوظ رہنے کے لیے، میں نے انتخابی ڈیوٹی پر جانے سے قبل آر ٹی- پی سی آر ٹیسٹ کروایا تھا اور سب کچھ ٹھیک تھا۔‘‘ اس کے بعد وہ ۱۸ اور ۱۹ اپریل کو اسی بلاک کے بیاول گاؤں میں ڈیوٹی کرنے گئے۔ ’’لیکن ڈیوٹی سے لوٹنے کے بعد جب میں نے دوسری بار ٹیسٹ کرایا، تو پتا چلا کہ میں کووڈ پازیٹو ہوں،‘‘ انہوں نے پاری کو بتایا۔

Bareilly (left) and Firozabad (right): Candidates and supporters gathered at the counting booths on May 2; no distancing or Covid protocols were in place
PHOTO • Courtesy: UP Shikshak Mahasangh
Bareilly (left) and Firozabad (right): Candidates and supporters gathered at the counting booths on May 2; no distancing or Covid protocols were in place
PHOTO • Courtesy: UP Shikshak Mahasangh

بریلی (بائیں) اور فیروزآباد (دائیں): امیدوار اور ان کے حامی ۲ مئی کو ووٹوں کی گنتی کے دن جمع ہو گئے؛ سماجی دوری یا کووڈ پروٹوکول پر کوئی عمل نہیں ہو رہا تھا

’’میرے خیال سے مجھے اُس بس میں انفیکشن ہو گیا جو ہمیں چترکوٹ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرس سے مت دان کیندر [ووٹنگ سنٹر] لے گئی تھی۔ اُس بس میں پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم ۳۰ لوگ تھے۔‘‘ ان کا ابھی علاج چل رہا ہے اور وہ کوارنٹائن میں ہیں۔

اس بڑھتی ہوئی تباہی کا ایک انوکھا پہلو یہ تھا کہ سنٹر پہنچنے والے ایجنٹوں کے لیے نگیٹو آر ٹی- پی سی آر سرٹیفکیٹ لانا لازمی تھا، لیکن اسے کوئی چیک نہیں کرتا تھا۔ سنتوش کمار، جو گنتی والی ڈیوٹی بھی کر چکے ہیں، کہتے ہیں کہ مراکز پر اس اور دیگر گائیڈ لائنس کی کبھی تعمیل نہیں ہوئی۔

*****

’’ہم نے یوپی کے ریاستی الیکشن کمیشن اور وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو بھی ۲۸ اپریل کو ایک خط لکھ کر ان سے ۲ مئی کی گنتی کو ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی،‘‘ شکشک مہا سنگھ کے صدر دنیش چندر شرما کہتے ہیں۔ ’’اگلے دن ہم نے ۷۰۰ سے زیادہ لوگوں کی موت کی وہ لسٹ ایس ای سی اور سی ایم کو دی، جسے ہم نے اپنی یونین کی بلاک سطح کی شاخوں کے توسط سے جمع کیا تھا۔‘‘

شرما مدراس ہائی کورٹ کے ذریعے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی تنفید سے واقف ہیں، لیکن اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے منع کرتے ہیں۔ تاہم، وہ انتہائی افسوس کے ساتھ کہتے ہیں کہ ’’ہماری زندگی کوئی معنی نہیں رکھتی کیوں کہ ہم عام لوگ ہیں، امیر لوگ نہیں۔ حکومت انتخابات کو ملتوی کرکے طاقتور لوگوں کو ناراض نہیں کرنا چاہتی – کیوں کہ وہ لوگ انتخابات پر پہلے ہی کافی پیسے خرچ کر چکے ہیں۔ بجائے اس کے، ہم نے جو تعداد مہیا کرائی ہے اسے لیکر ہمیں بلا وجہ الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

’’یہاں دیکھئے، ہماری تنظیم ۱۰۰ سال پرانی ہے جو پرائمری اور اپر پرائمری اسکولوں کے ۳ لاکھ سے زیادہ سرکاری ٹیچروں کی نمائندگی کرتی ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ کوئی یونین جھوٹ اور دھوکہ دہی کی بنیاد پر اتنے دنوں تک زندہ رہ سکتی ہے؟

’’انہوں نے نہ صرف ہمارے ذریعے جمع کردہ اعداد پر غور کرنے اور اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا، بلکہ وہ اس پر انکوائری بھی کروا رہے ہیں۔ ہم اپنی طرف سے یہ محسوس کرتے ہیں کہ ۷۰۶ لوگوں کی اس لسٹ میں کئی نام شامل ہونے سے رہ گئے ہیں۔ اس لیے ہمیں اس پر نظرثانی کرنی پڑے گی۔‘‘

خاکہ: جگیاسا مشرا

وہ انتہائی افسوس کے ساتھ کہتے ہیں کہ ’ہماری زندگی کوئی معنی نہیں رکھتی کیوں کہ ہم عام لوگ ہیں، امیر لوگ نہیں۔ حکومت انتخابات کو ملتوی کرکے طاقتور لوگوں کو ناراض نہیں کرنا چاہتی – کیوں کہ وہ لوگ انتخابات پر پہلے ہی کافی پیسے خرچ کر چکے ہیں‘

مہاسنگھ کے لکھنؤ ضلع کے صدر، سدانشو موہن نے پاری کو بتایا کہ ’’ہم لسٹ کو اپ ڈیٹ کرنے پر بھی کام کر رہے ہیں اور اس میں ان ٹیچروں کے نام شامل کر رہے ہیں جو ووٹوں کی گنتی والی ڈیوٹی سے واپس لوٹنے کے بعد جانچ میں کووڈ پازیٹو آئے ہیں۔ کئی ٹیچر ایسے ہیں جنہوں نے علامتوں کے ظاہر ہونے کے بعد احتیاطی طور پر خود کو ۱۴ دنوں کے لیے کوارنٹائن کر لیا ہے، لیکن جنہوں نے شاید ابھی تک اپنا ٹیسٹ نہیں کرایا ہے۔‘‘

دنیش شرما بتاتے ہیں کہ یونین کے پہلے خط میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ’’انتخابی عمل میں شامل تمام عہدیداروں کو کووڈ۔۱۹ سے خود کی حفاظت کرنے کے لیے مناسب مقدار میں آلات مہیا کرائے جائیں۔‘‘ لیکن اس مانگ کو پورا نہیں کیا گیا۔

’’اگر مجھے معلوم ہوتا کہ میں اپنے شوہر کو اس طرح سے کھو دوں گی، تو میں انہیں کبھی جانے نہیں دیتی۔ زیادہ سے زیادہ ان کی نوکری چلی جاتی، جان نہیں،‘‘ اپرنا مشرا کہتی ہیں۔

شکشک مہا سنگھ کے پہلے خط میں حکام سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ ’’اگر کوئی شخص کووڈ۔۱۹ سے متاثر ہوتا ہے، تو علاج کے لیے اسے کم از کم ۲۰ لاکھ روپے ملنے چاہئیں۔ حادثہ یا موت کی حالت میں، مہلوک کے اہل خانہ کو ۵۰ لاکھ روپے دیے جانے چاہئیں۔‘‘

اگر ایسا ہوتا ہے، تو اپرنا اور دیگر لوگوں کو کچھ راحت مل سکتی ہے، جن کے شریک حیات یا فیملی ممبر کی نوکری چلی گئی اور ساتھ ہی ان کی موت بھی ہو گئی۔

نوٹ: ابھی ابھی خبر ملی ہے کہ حکومت اتر پردیش نے الہ آباد ہائی کورٹ سے کہا ہے کہ اس نے ’’مرنے والے پولنگ افسران کے اہل خانہ کو ۳۰ لاکھ روپے کا معاوضہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ تاہم، ریاستی الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ حکومت کو اب تک ۲۸ ضلعوں سے صرف ۷۷ لوگوں کے ہلاک ہونے کی خبر ملی ہے۔

جگیاسا مشرا ٹھاکر فیملی فاؤنڈیشن سے آزادانہ صحافت کے لیے گرانٹ کے توسط سے صحت عامہ اور شہریوں کی آزادی پر رپورٹ کرتی ہیں۔ ٹھاکر فیملی فاؤنڈیشن نے اس رپورٹ کے مواد پر کوئی ایڈیٹوریل کنٹرول نہیں کیا ہے۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi. You can contact the translator here:

Jigyasa Mishra

Jigyasa Mishra is an independent journalist based in Chitrakoot, Uttar Pradesh.

Other stories by Jigyasa Mishra
Lead Illustration : Antara Raman

Antara Raman is an illustrator and website designer with an interest in social processes and mythological imagery. A graduate of the Srishti Institute of Art, Design and Technology, Bengaluru, she believes that the world of storytelling and illustration are symbiotic.

Other stories by Antara Raman