’’آپ یہاں بہت جلدی آ گئی ہیں۔ اتوار کے روز، وہ (گاہک) شام ۴ بجے سے پہلے نہیں آتے ہیں۔ میں اس وقت یہاں اس لیے موجود ہوں، کیوں کہ میں ہارمونیم بجانا سیکھ رہی ہوں،‘‘ بیوٹی کہتی ہیں۔

اس جگہ کا نام چتربھُج استھان ہے، اور اس کی پہچان بہار کے مظفر پور ضلع کے مُسہری بلاک کے ایک بہت پرانے قحبہ خانے کے طور پر کی جاتی ہے۔ صبح میں ٹھیک ۱۰ بجے کے بعد، میں اور وہ ملے ہیں۔ ان کے گاہک شام کو ان سے ملنے آتے ہیں۔ اس کام کے دوران وہ ’بیوٹی‘ نام کا استعمال کرتی ہیں۔ بیوٹی ۱۹ سال کی سیکس ورکر (جسم فروش) ہیں، اور پچھلے پانچ سال سے یہ کام کر رہی ہیں۔ وہ تین مہینے کی حاملہ بھی ہیں۔

وہ اس حالت میں بھی کام کر رہی ہیں۔ وہ ہارمونیم بجانا بھی سیکھ رہی ہیں، کیوں کہ ’’امّی [ان کی ماں] کہتی ہے کہ موسیقی کا میرے بچے پر اچھا اثر پڑے گا۔‘‘

انگلیاں ہارمونیم پر راگ چھیڑ رہی ہیں۔ بیوٹی آگے کہتی ہیں، ’’یہ میرا دوسرا بچہ ہوگا۔ پہلے سے میرا دو سال کا ایک بیٹا ہے۔‘‘

جس کمرے میں ہم مل رہے ہیں اس کا تقریباً آدھا حصہ، زمین پر رکھے ایک بہت بڑے گدّے نے گھیر لیا ہے؛ جس کے پیچھے کی دیوار پر اوپر ۶ بائی ۴ فٹ کا شیشہ لگا ہوا ہے۔ اسی کمرے کو بیوٹی اپنے کام کے لیے بھی استعمال کرتی ہیں۔ کمرے کا سائز شاید ۱۵ بائی ۲۵ فٹ ہے۔ گدّے کو کُشن اور تکیہ سے سجایا گیا ہے، تاکہ گاہک آرام سے بیٹھ کر یا لیٹ کر لڑکیوں کو مجرا کرتے ہوئے دیکھ سکیں۔ مجرا رقص کی ایک شکل ہے، اور مانا جاتا ہے کہ ہندوستان میں نوآبادیاتی دور سے قبل شروع ہوا تھا۔ کہا یہ بھی جاتا ہے کہ چتُربھُج استھان بھی مغلیہ دور سے ہی موجود ہے۔ یہاں موجود سبھی لڑکیوں اور عورتوں کے لیے مجرا جاننا اور پرفارم کرنا ضروری ہے۔ بیوٹی کو بھی آتا ہے۔

All the sex workers in the brothel are required to know and perform mujra; Beauty is also learning to play the harmonium
PHOTO • Jigyasa Mishra

چتربھج استھان میں سبھی سیک ورکرز کے لیے مجرا جاننا اور پرفارم کرنا ضروری ہے؛ بیوٹی بھی ہارمونیم بجانا سیکھ رہی ہیں

یہاں کا راستہ مظفرپور کے عام بازار سے ہوکر گزرتا ہے۔ دکاندار اور رکشہ چلانے والے راستہ بتانے میں مدد کرتے ہیں، ہر کوئی جانتا ہے کہ ’قحبہ خانہ‘ کہاں پر ہے۔ چتربھج استھان کمپلیکس میں سڑک کے دونوں کناروں پر ۲ سے ۳ منزل کے ایک جیسے دکھائی دینے والے کئی گھر ہیں۔ ان گھروں کے باہر الگ الگ عمر کی عورتیں کھڑی ہیں، ان میں سے کچھ کرسیوں پر بیٹھی گاہکوں کا انتظار کر رہی ہیں۔ چمکدار اور بہت ہی چُست کپڑے پہنے ہوئے، ڈھیر سارے میک اَپ اور انتہائی مصنوعی خود اعتمادی کے ساتھ، وہ راستے سے گزرنے والے ہر ایک انسان پر گہری نظر ڈالتی ہیں۔

حالانکہ، بیوٹی بتاتی ہیں کہ ہم اُس دن یہاں جتنی عورتوں کو دیکھ رہے ہیں، وہ ’قحبہ خانہ‘ میں سیکس ورکرز کی کل تعداد کا صرف ۵ فیصد ہوں گی۔ بیوٹی کہتی ہیں، ’’دیکھئے، ہر کسی کی طرح، ہم بھی ہفتے میں ایک دن کی چھٹی لیتے ہیں۔ حالانکہ، ہمارے لیے یہ صرف آدھے دن کی چھٹی ہوتی ہے۔ ہم شام ۴-۵ بجے تک کام پر آ جاتے ہیں اور رات کو ۹ بجے تک رکتے ہیں۔ بقیہ دنوں میں صبح کے ۹ بجے سے رات کے ۹ بجے تک کام کرتے ہیں۔‘‘

*****

کوئی آفیشیل اعداد و شمار موجود نہیں ہے، لیکن ایک کلومیٹر کی لمبائی میں پھیلے پورے چتربھج استھان میں سیکس ورکرز کی کل تعداد ۲۵۰۰ سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ بیوٹی اور دوسری عورتیں، جن سے میں یہاں بات کرتی ہوں، کہتی ہیں کہ ہم جس گلی میں ہیں اس حصہ میں رہنے والی تقریباً ۲۰۰ عورتیں اس کام سے جڑی ہوئی ہیں۔ اسی حصہ میں کام کرنے والی تقریباً ۵۰ عورتیں باہر سے آتی ہیں۔ بیوٹی اسی ’باہری‘ گروپ سے ہیں جو مظفرپور شہر میں کہیں اور رہتا ہے۔

بیوٹی اور دوسری عورتیں ہمیں بتاتی ہیں کہ چتربھج استھان میں زیادہ تر گھر ان عورتوں کے ہیں، جو تین نسلوں یا اس سے زیادہ وقت سے سیکس ورکر ہیں۔ مثلاً امیرہ، جن کی ماں، چچی اور دادی سے انہیں یہ کام ملا تھا۔ ۳۱ سالہ امیرہ کہتی ہیں، ’’یہاں چیزیں اسی طرح کام کرتی ہیں۔ ہمارے برعکس بقیہ (سیکس ورکر) نے پرانی ورکرز سے کرایے پر گھر لیا ہے اور صرف کام کے لیے یہاں آتی ہیں۔ ہمارے لیے تو یہی ہمارا گھر ہے۔ باہر سے آنے والی عورتیں جھگی جھونپڑیوں سے یا رکشہ چلانے والوں یا گھریلو ملازمین کے کنبوں سے بھی آتی ہیں۔ کچھ کو تو یہاں [اسمگلنگ یا اغوا کرکے] لایا گیا ہے۔‘‘

یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے ذریعے شائع کردہ ایک تحقیقی مقالہ کے مطابق، اغوا، غریبی، اور پہلے سے ہی جسم فروشی میں شامل فیملی میں پیدا ہونا کچھ ایسے اسباب ہیں جن کی وجہ سے عورتیں اس پیشہ میں آتی ہیں۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مردوں کے ذریعے عورتوں کو سماجی اور اقتصادی طور پر اپنے ماتحت رکھنا بھی ضروری وجوہات میں سے ایک ہے۔

Most of the houses in Chaturbhuj Sthan are owned by women who have been in the business for generations; some of the sex workers reside in the locality, others, like Beauty, come in from elsewhere in the city
PHOTO • Jigyasa Mishra
Most of the houses in Chaturbhuj Sthan are owned by women who have been in the business for generations; some of the sex workers reside in the locality, others, like Beauty, come in from elsewhere in the city
PHOTO • Jigyasa Mishra

چتربھج استھان میں زیادہ تر گھر ان عورتوں کے ہیں جو کئی نسلوں سے اس پیشہ میں ہیں؛ کچھ سیکس ورکر اسی علاقے میں رہتی ہیں، اور بیوٹی جیسی بقیہ ورکرز شہر کے دوسرے حصوں سے کام کرنے آتی ہیں

کیا بیوٹی کے والدین کو ان کے کام کے بارے میں معلوم ہے؟

اس سوال کے جواب میں وہ کہتی ہیں، ’’ہاں، بالکل، ہر کوئی جانتا ہے۔ میں اپنی ماں کی وجہ سے ہی اس بچے (حمل) کو رکھ رہی ہوں۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ مجھے اسقاط حمل کروانے دیں۔ بنا والد کے ایک بچے کی پرورش کرنا ہی بہت ہے، لیکن انہوں نے (ماں) کہا کہ ہمارے مذہب میں ایسا کرنا [اسقاط حمل] گناہ ہے۔‘‘

یہاں کئی لڑکیاں عمر میں بیوٹی سے بھی چھوٹی ہیں اور حاملہ بھی ہیں یا ان کے بچے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ کم عمر کی لڑکیوں میں حمل کو کم کرنا، اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف میں پنہاں جنسی اور تولیدی صحت سے متعلق مقاصد کا ایک اہم حصہ ہے۔ خاص طور پر ایس ڈی جی ۳ اور ۵ ’اچھی صحت اور تندرستی‘ اور ’صنفی برابری‘ کی بات کرتے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ یہ اہداف سال ۲۰۲۵ تک حاصل کر لیے جائیں گے، جس میں صرف ۴۰ مہینے باقی ہیں۔ لیکن، زمینی حقیقت خوفناک ہے۔

ایچ آئی وی/ایڈز پر توجہ مرکوز کرنے والے اقوام متحدہ کے پروگرام (UNAIDS) نے اپنے کلیدی آبادی کے ایٹلس میں اندازہ لگایا ہے کہ سال ۲۰۱۶ میں ہندوستان میں تقریباً ۶ لاکھ ۵۷ ہزار ۸۰۰ عورتیں جسم فروشی کے کاروبار سے جڑی ہوئی تھیں۔ حالانکہ، نیشنل نیٹ ورک آف سیکس ورکرز (MNSW) کے ذریعے اگست ۲۰۲۰ میں قومی حقوق انسانی کمیشن کو سونپی گئی حالیہ رپورٹ میں موٹے طور پر اندازہ لگایا گیا ہے کہ ملک میں خواتین سیکس ورکرز کی تعداد تقریباً ۱۲ لاکھ ہے۔ ان میں سے ۶ لاکھ ۸۰ ہزار (UNAIDS کے ذریعے بتائی گئی تعداد) خواتین سیکس ورکرز رجسٹر کی گئی ہیں، جو صحت اور خاندانی فلاح و بہبود کی وزارت سے خدمات حاصل کر رہی ہیں۔ سال ۱۹۹۷ میں شروع ہوا این این ایس ڈبلیو، ہندوستان میں خواتین، ٹرانس جینڈر، اور مرد سیکس ورکرز کے حقوق کا مطالبہ کرنے والے سیکس ورکرز کی قیادت والی تنظیموں کا ایک قومی نیٹ ورک ہے۔

Each house has an outer room with a big mattress for clients to sit and watch the mujra; there is another room (right) for performing intimate dances
PHOTO • Jigyasa Mishra
Each house has an outer room with a big mattress for clients to sit and watch the mujra; there is another room (right) for performing intimate dances
PHOTO • Jigyasa Mishra

ہر گھر میں ایک باہری کمرہ ہے، جہاں گاہکوں کے بیٹھنے اور مجرا دیکھنے کے لیے ایک بڑا گدّا رکھا ہوتا ہے؛ دائیں طرف پرائیویٹ رقص کرنے کے لیے ایک اور کمرہ ہے

بیوٹی کی عمر کا ایک لڑکا ہمارے کمرے میں داخل ہوتا ہے، ہماری باتیں سنتا ہے، پھر اس میں شامل ہو جاتا ہے۔ وہ بتاتا ہے، ’’میں راہل ہوں۔ میں یہاں بہت چھوٹی عمر سے کام کر رہا ہوں۔ میں بیوٹی اور کچھ دوسری لڑکیوں کو گاہک لاکر دینے میں ان کی مدد کرتا ہوں۔‘‘ اس کے بعد وہ خاموش ہو جاتا ہے، اپنے بارے میں کوئی اور جانکاری نہیں دیتا ہے، اور مجھے اور بیوٹی کو اپنی گفتگو جاری رکھنے دیتا ہے۔

بیوٹی کہتی ہیں، ’’میں اپنے بیٹے، ماں، دو بڑے بھائیوں، اور والد کے ساتھ رہتی ہوں۔ میں پانچویں کلاس تک اسکول گئی، لیکن پھر اسکول چھوٹ گیا۔ مجھے اسکول کبھی پسند نہیں آیا۔ میرے والد کے پاس شہر میں ایک ڈبہ [سگریٹ، ماچس، چائے، پان، اور دیگر سامان بیچنے کے لیے ایک چھوٹی سی دکان] ہے اور کچھ نہیں۔ میری شادی نہیں ہوئی ہے۔‘‘

بیوٹی قہقہہ لگاتے ہوئے کہتی ہیں، ’’میرے پہلے بچے کا باپ وہ آدمی ہے جس سے میں پیار کرتی ہوں۔ وہ بھی مجھ سے پیار کرتا ہے۔ کم از کم کہتا تو وہ یہی ہے۔ وہ میرے پرماننٹ گاہکوں [کلائنٹس] میں سے ایک ہے۔‘‘ یہاں کئی عورتیں باقاعدہ اور لمبے وقت سے آنے والے گاہکوں کے لیے انگریزی لفظ ’پرماننٹ‘ کا استعمال کرتی ہیں۔ کبھی کبھی، وہ انہیں ’پارٹنر‘ کہتی ہیں۔ بیوٹی اپنی آواز میں کچھ طمانیت کے ساتھ کہتی ہیں، ’’دیکھئے، میں نے میرے پہلے بچے کی پلاننگ نہیں کی تھی۔ نہ ہی اس بار کی تھی، ظاہر ہے۔ لیکن، اس نے مجھ سے کہا تھا، اس لیے میں نے دونوں بار بچہ نہیں گرایا۔ اس نے کہا تھا کہ وہ بچے کا سارا خرچ اٹھائے گا، اور اس نے اپنا وعدہ نبھایا بھی۔ اس بار بھی، میرے اسپتال کے اخراجات کا خیال وہی رکھ رہا ہے۔‘‘

نیشنل فیملی ہیلتھ سروے ۔ ۴ کے مطابق، ہندوستان میں بیوٹی جیسی، ۱۵-۱۹ سال کی ۸ فیصد عورتیں حاملہ ہیں۔ اسی عمر کی تقریباً ۵ فیصد عورتیں کم از کم ایک بچے کو جنم دے چکی ہیں اور ۳ فیصد عورتیں پہلی بار حاملہ ہوئی ہیں۔

راہل بتاتے ہیں کہ یہاں کی کافی سیکس ورکرز اپنے ’پرماننٹ‘ گاہکوں کے ساتھ مانع حمل کا کسی بھی شکل میں استعمال کرنے سے بچتی ہیں۔ حاملہ ہونے پر، وہ بچہ گرا دیتی ہیں یا بیوٹی کی طرح بچے پیدا کرتی ہیں۔ یہ سب کچھ ان تمام مردوں کو خوش کرنے کے لیے ہوتا ہے، جن کے ساتھ وہ شامل ہیں، تاکہ ان کے ساتھ لمبے وقت تک تعلقات بنائے رکھا جا سکے۔

Beauty talks to her 'permanent' client: 'My first child was not planned. Nor was this pregnancy... But I continued because he asked me to'
PHOTO • Jigyasa Mishra

بیوٹی اپنے ’پرماننٹ‘ گاہک سے بات کرتی ہیں: ’میں نے پہلے بچے کی پلاننگ نہیں کی تھی، نہ ہی اس حمل کی تیاری تھی... لیکن، میں نے بچہ نہیں گرایا، کیوں کہ انہوں نے (گاہک) مجھ سے ایسا کرنے کو کہا تھا

راہل بتاتے ہیں، ’’زیادہ تر گاہک یہاں کنڈوم لیکر نہیں آتے ہیں۔ پھر ہمیں [دلالوں کو] بھاگنا پڑتا ہے اور انہیں دکان سے لاکر دینا پڑتا ہے۔ لیکن، کئی بار یہ لڑکیاں اپنے پرماننٹ پارٹنر کے ساتھ بغیر حفاظت کے آگے بڑھنے کو راضی ہو جاتی ہیں۔ اُس معاملے میں، ہم دخل نہیں دیتے ہیں۔‘‘

آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے ذریعے شائع کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں مردوں کے ذریعے مانع حمل طریقوں کا استعمال بہت محدود ہے۔ سال ۲۰۱۵-۱۶ میں مردوں کی نس بندی اور کنڈوم کا استعمال مجموعی طور پر صرف ۶ فیصد تھا اور یہ ۱۹۹۰ کی دہائی کے وسط سے رکا ہوا ہے۔ سال ۲۰۱۵-۱۶ میں مانع حمل کی کسی بھی شکل کا استعمال کرنے والی عورتوں کا فیصد بہار میں ۲۳ فیصد تھا، تو آندھرا پردیش میں ۷۰ فیصد تک تھا۔

بیوٹی اپنے پارٹنر کے بارے میں بتاتی ہیں، ’’ہم تقریباً چار سال سے ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہیں۔ لیکن، اس نے حال ہی میں اپنی فیملی کے دباؤ میں شادی کر لی۔ اس نے میری اجازت سے ایسا کیا۔ میں راضی تھی۔ میں کیوں نہ ہوتی؟ میں شادی کے لائق نہیں ہوں اور اس نے کبھی نہیں کہا تھا کہ وہ مجھ سے شادی کرے گا۔ جب تک میرے بچے اچھی زندگی گزاریں، میں یونہی ٹھیک ہوں۔‘‘

بیوٹی کہتی ہیں، ’’لیکن میں ہر تین مہینے میں چیک اپ کرواتی ہوں۔ میں سرکاری اسپتال جانے سے بچتی ہوں اور ایک پرائیویٹ کلینک میں جاتی ہوں۔ حال ہی میں، میں نے دوسری بار حاملہ ہونے کے بعد سارے ضروری ٹیسٹ (ایچ آئی وی سمیت) کروائے اور اب سب کچھ ٹھیک ہے۔ سرکاری اسپتال میں وہ ہم سے الگ طریقے سے پیش آتے ہیں۔ وہ بدتمیزی سے بات کرتے ہیں اور ہمیں دوسرے درجے کا انسان سمجھتے ہیں۔‘‘

*****

راہل ایک آدمی سے بات کرنے کے لیے دروازے پر جاتے ہیں۔ وہ (راہل) لوٹنے پر کہتے ہیں، ’’مجھے اس مہینے کا کرایہ دینے کے لیے مکان مالک سے ایک ہفتے کی مہلت چاہیے تھی۔ وہ کرایہ مانگ رہا تھا۔ ہم نے ۱۵ ہزار روپے مہینہ کے کرایے پر ان کی جگہ لی ہے۔‘‘ جیسا کہ راہل نے پھر سے بتایا، چتربھج استھان میں زیادہ تر گھر خواتین سیکس ورکرز کے ہیں، جو کافی وقت سے یہاں ہیں یا جنہیں پچھلی نسل سے گھر ملے ہیں۔

The younger women here learn the mujra from the older generation; a smaller inside room (right) serves as the bedroom
PHOTO • Jigyasa Mishra
The younger women here learn the mujra from the older generation; a smaller inside room (right) serves as the bedroom
PHOTO • Jigyasa Mishra

یہاں کی جوان عورتیں اپنی عمردراز ساتھیوں سے مجرا سیکھتی ہیں؛ اندر کا ایک چھوٹا کمرہ (دائیں) بیڈ روم کی طرح استعمال ہوتا ہے

ان میں (پرانی نسل) سے زیادہ تر اب خود اس کام میں نہیں ہیں اور انہوں نے دلالوں، جوان سیکس ورکرز کو اپنی جگہ کرایے پر دے دی ہے۔ کبھی کبھی، ان کے پورے گروپ کو جگہ دے دی جاتی ہے۔ وہ گراؤنڈ فلور کو کرایے پر دے دیتی ہیں اور پہلی یا دوسری منزل پر خود رہتی ہیں۔ راہل کہتے ہیں، ’’حالانکہ، ان میں سے کچھ نے اپنی اگلی نسل کو، اپنی بیٹیوں، بھتیجیوں یا پوتیوں کو یہ کام سونپ دیا ہے اور ابھی بھی اسی گھر میں رہتی ہیں۔‘‘

این این ایس ڈبلیو کے مطابق، سیکس ورکرز (مرد، خواتین اور ٹرانس جینڈرز) کا ایک بڑا حصہ گھر سے کام کرتا ہے اور گاہکوں کو موبائل فون کے ذریعے، آزادانہ طور پر یا کسی ایجنٹ کے ذریعے سنبھالتا ہے۔ چتربھج استھان کے کئی لوگ ’ورک فرام ہوم‘ (گھر سے کام) کے زمرے میں آتے ہیں۔

یہاں کے سبھی گھر ایک جیسے نظر آتے ہیں۔ مین گیٹ پر لکڑی کے نیم پلیٹ (نام کی تختی) کے ساتھ لوہے کی گرِل لگی ہوئی ہے۔ ان پر اُس گھر کے مالک یا وہاں رہنے والی اہم خاتون کا نام درج ہوتا ہے۔ ناموں کے ساتھ عہدے لکھے ملتے ہیں – جیسے کہ رقاصہ اور گلوکارہ۔ اور اس کے نیچے ان کے فنی مظاہرہ کا وقت لکھا ہوتا ہے – عام طور پر صبح ۹ بجے سے رات ۹ بجے تک۔ کچھ بورڈ پر ’صبح ۱۱ بجے سے رات ۱۱ بجے تک‘ لکھا ملتا ہے۔ وہیں، کچھ پر بس اتنا لکھا ہوتا ہے کہ ’رات کے ۱۱ بجے تک‘۔

زیادہ تر ایک جیسے نظر آنے والے ان گھروں میں ایک منزل پر ۲-۳ کمرے ہیں۔ جیسا بیوٹی کے گھر پر ہے، ہر ایک لیونگ روم میں ایک بڑا گدّا زیادہ جگہ گھیر لیتا ہے، اور اس کے پیچھے دیوار پر ایک بڑا آئینہ لگا ہوتا ہے۔ بچی ہوئی جگہ مجرے کے لیے ہے۔ یہ جگہ خاص طور پر میوزک اور ڈانس کی پیشکش کے لیے ہے۔ یہاں کی نوجوان عورتیں پرانی نسل کی پیشہ ور خواتین سے مجرا سیکھتی ہیں؛ کبھی کبھی صرف دیکھ کر اور کبھی کبھی ہدایت کے ذریعے۔ ایک چھوٹا کمرہ بھی ہے، شاید ۱۰ بائی ۱۲ سائز کا ہوگا۔ یہ بیڈ روم کی طرح استعمال ہوتا ہے۔ یہاں ایک چھوٹا سا باورچی خانہ بھی ہے۔

راہل بتاتے ہیں، ’’ہم نے کچھ بوڑھے گاہکوں سے ایک مجرا شو کے لیے ۸۰ ہزار روپے تک مانگے ہیں۔‘‘ وہ پیسہ یا جوڑ جاڑ کر جو بھی پیسہ ملتا ہے، وہ طبلہ، سارنگی، اور ہارمونیم بجانے والے ہمارے تین استادوں [ماہر موسیقاروں] کے درمیان تقسیم ہو جاتا ہے، اور پھر رقاصہ اور دلالوں میں بانٹ دیا جاتا ہے۔‘‘ لیکن اتنی بڑی رقم ملنا مشکل ہے، اور اب تو صرف یاد کا حصہ ہے۔

The entrance to a brothel in Chaturbhuj Sthan
PHOTO • Jigyasa Mishra

چتربھج استھان میں ایک ’قحبہ خانہ‘ کا داخلی دروازہ

کیا اس مشکل وقت میں بیوٹی کی مناسب کمائی ہو پا رہی ہے؟ اس سوال کے جواب میں وہ کہتی ہیں، ’جس دن قسمت مہربان ہو جائے، ہاں، لیکن زیادہ تر دنوں میں نہیں۔ پچھلا ایک سال ہمارے لیے بے حد خراب رہا ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے سب سے ریگولر گاہک بھی اس وقت آنے سے بچتے رہے۔ اور جو آئے، انہوں نے پیسے کم دیے‘

کیا اس مشکل وقت میں بیوٹی کی مناسب کمائی ہو پا رہی ہے؟

اس سوال کے جواب میں وہ کہتی ہیں، ’’جس دن قسمت مہربان ہو جائے، ہاں، لیکن زیادہ تر دنوں میں نہیں۔ پچھلا ایک سال ہمارے لیے بے حد خراب رہا ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے سب سے ریگولر گاہک بھی اس وقت آنے سے بچتے رہے۔ اور جو آئے، انہوں نے پیسے کم دیے۔ حالانکہ، ہمارے پاس یہ (پیسے) رکھنے کے علاوہ، کوئی اور متبادل نہیں ہے، چاہے وہ جو کچھ بھی دیں، بھلے ہی یہ خطرہ ہو کہ ان میں سے کوئی کووڈ سے متاثرہو سکتا ہے۔ اسے سمجھئے: اس بھیڑ بھاڑ والے علاقے میں اگر ایک آدمی وائرس سے متاثر ہوتا ہے، تو سبھی کی جان خطرے میں پڑ جائے گی۔‘‘

بیوٹی کا کہنا ہے کہ وہ ہندوستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر آنے سے پہلے تک ۲۵ ہزار سے ۳۰ ہزار روپے مہینہ کما لیتی تھیں، لیکن اب مشکل سے ۵ ہزار روپے کما پاتی ہیں۔ دوسری لہر کے بعد لگے لاک ڈاؤن نے ان کی اور یہاں کی دیگر سیکس ورکرز کی پریشان کن زندگی کو اور بھی زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔ وائرس کا ڈر بھی بہت بڑا ہے۔

*****

چتربھج استھان کی عورتیں پچھلے سال مارچ میں مرکزی حکومت کے ذریعے اعلان کردہ ’پردھان منتری غریب کلیان یوجنا‘ کا فائدہ نہیں اٹھا پا رہی ہیں۔ اُس پیکیج کے تحت ۲۰ کروڑ غریب عورتوں کو تین مہینے کے لیے ۵۰۰ روپے ملیں گے۔ لیکن، اس کے لیے ان کے پاس جن دھن اکاؤنٹ ہونا ضروری تھا۔ جسم فروشی کے اس مرکز میں جتنے لوگوں سے میں نے بات کی، ان میں سے ایک بھی عورت کے پاس جن دھن اکاؤنٹ نہیں تھا۔ ویسے بات یہ بھی ہے، جیسا کہ بیوٹی پوچھتی ہیں: ’’میڈم، ہم ۵۰۰ روپے میں کیا کر لیتے؟‘‘

این این ایس ڈبلیو کے مطابق، ووٹر آئی ڈی، آدھار اور راشن کارڈ یا ذات کا سرٹیفکیٹ جیسے شناختی کارڈ حاصل کرنے میں، سیکس ورکرز کو عام طور پر مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی اکیلی عورتیں ہیں جن کے بچے ہیں اور جو کہیں بھی رہنے کا ثبوت نہیں دے پاتی ہیں۔ اس کے علاوہ، ذات کا سرٹیفکیٹ لینے کے لیے ضروری کاغذ دکھا پانا ان کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ انہیں اکثر ریاستی حکومتوں کے ذریعے دیے جانے والے راشن اور راحت پیکیج سے محروم کر دیا جاتا ہے۔

Beauty looks for clients on a Sunday morning; she is three-months pregnant and still working
PHOTO • Jigyasa Mishra

بیوٹی اتوار کی صبح گاہک تلاش کر رہی ہیں؛ وہ تین مہینے کی حاملہ ہیں اور ابھی بھی کام کر رہی ہیں

آل انڈیا نیٹ ورک آف سیکس ورکرز کی صدر اور نئی دہلی میں رہنے والی کُسُم کہتی ہیں، ’’جب راجدھانی دہلی میں بھی سرکار کی طرف سے کوئی مدد نہیں ملی، تو آپ ملک کے دیہی علاقوں کی حالت کا اندازہ لگا سکتی ہیں، جہاں پالیسیاں اور فائدے ویسے بھی دیر سے پہنچتے ہیں یا کبھی نہیں پہنچتے۔‘‘ کئی سیکس ورکر ہیں، جو اس وبائی مرض سے بچنے کے لیے یکے بعد دیگرے قرض لینے کو مجبور ہیں۔

بیوٹی کے ہارمونیم پر ریاض کا وقت ختم ہونے والا ہے: ’’چھوٹی عمر کے گاہک [کلائنٹس] مجرا دیکھنا پسند نہیں کرتے ہیں اور آتے ہی سیدھے بیڈ روم میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔ ہم انہیں بتاتے ہیں کہ ڈانس دیکھنا ضروری ہے [جو عام طور پر ۳۰ سے ۶۰ منٹ تک چلتا ہے]، بھلے ہی وہ تھوڑے وقت کے لیے دیکھیں۔ اگر ایسا نہیں ہوگا، تو ہم اپنی ٹیم کے لیے اور مکان کا کرایہ بھرنے کے لیے پیسے کیسے کمائیں گے؟ ہم ایسے لڑکوں سے کم از کم ۱۰۰۰ روپے لیتے ہیں۔‘‘ وہ بتاتی ہیں کہ سیکس کے لیے ریٹ الگ ہیں۔ ’’یہ زیادہ تر گھنٹے کی بنیاد پر طے ہوتا ہے۔ ساتھ ہی، ہر کلائنٹ کے حساب سے الگ ہوتا ہے۔‘‘

صبح کے ۱۱ بج کر ۴۰ منٹ ہو رہے ہیں اور بیوٹی ہارمونیم بند کرکے رکھ دیتی ہیں۔ وہ اپنا ہینڈ بیگ لاتی ہیں اور اس میں سے آلو کا پراٹھا نکالتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’مجھے اپنی دوائیں [ملٹی وٹامن اور فولک ایسڈ] لینی ہیں، اس لیے بہتر ہوگا کہ میں اب اپنا ناشتہ کر لوں۔ جب بھی میں کام پر آتی ہوں، میری ماں میرے لیے کھانا بناتی ہیں اور پیک کرکے دیتی ہیں۔‘‘

تین مہینے کی حاملہ بیوٹی آگے کہتی ہیں، ’’میں آج شام گاہک آنے کی امید کر رہی ہوں۔ حالانکہ، اتوار کی شام کو امیر گاہک ملنا اتنا آسان نہیں ہے۔ مقابلہ کافی بڑھ گیا ہے۔‘‘

پاری اور کاؤنٹر میڈیا ٹرسٹ کی جانب سے دیہی ہندوستان کی بلوغت حاصل کر چکی لڑکیوں اور نوجوان عورتوں پر ملگ گیر رپورٹنگ کا پروجیکٹ پاپولیشن فاؤنڈیشن آف انڈیا کے مالی تعاون سے ایک پہل کا حصہ ہے، تاکہ عام لوگوں کی آوازوں اور ان کی زندگی کے تجربات کے توسط سے ان اہم لیکن حاشیہ پر پڑے گروہوں کی حالت کا پتا لگایا جا سکے۔

اس مضمون کو شائع کرنا چاہتے ہیں؟ براہِ کرم [email protected] کو لکھیں اور اس کی ایک کاپی [email protected] کو بھیج دیں۔

جگیاسا مشرا ٹھاکر فیملی فاؤنڈیشن سے ایک آزاد صحافتی گرانٹ کے توسط سے صحت عامہ اور شہریوں کی آزادی پر رپورٹ کرتی ہیں۔ ٹھاکر فیملی فاؤنڈیشن نے اس رپورٹ کے مواد پر کوئی ادارتی کنٹرول نہیں کیا ہے۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Jigyasa Mishra

Jigyasa Mishra is an independent journalist based in Chitrakoot, Uttar Pradesh.

Other stories by Jigyasa Mishra
Illustration : Labani Jangi

Labani Jangi is a 2020 PARI Fellow, and a self-taught painter based in West Bengal's Nadia district. She is working towards a PhD on labour migrations at the Centre for Studies in Social Sciences, Kolkata.

Other stories by Labani Jangi
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez