جب دردِ زہ شروع ہوا، تو ۲۳ سالہ رانو سنگھ، ان کے شوہر اور ساس پہاڑ کے کنارے واقع اپنے چھوٹے گھر سے تیزی سے باہر نکلے۔ دن کا اجالا ہو چکا تھا، صبح کے تقریباً ۵ بج رہے تھے۔ ان کے سامنے تھا ڈیڑھ کلومیٹر لمبا پہاڑوں سے ہوکر گزرنے والا مشکل راستہ، جو انہیں مین روڈ تک لے جاتا، جہاں پر کرایے پر منگائی گئی ایک گاڑی انہیں ان کے گاؤں، سیولی سے تقریباً ۱۲ کلومیٹر دور، رانی کھیت کے ایک پرائیویٹ اسپتال تک لے جانے کے لیے اُن کا انتظار کر رہی تھی۔

انہوں نے ڈولی کا انتظام کرنے کی کوشش کی تھی – یہاں کی ٹھاکر برادری کی حاملہ خواتین کو ڈولی میں بیٹھاکر پہاڑی راستے سے لے جایا جاتا ہے، جسے چاروں کونے سے مرد اٹھاتے ہیں۔ یہ ڈولی اسے سڑک تک اور، عام طور سے، وہاں انتظار کر رہی گاڑی تک لے جاتی ہے، جو اسے اسپتال تک لے جائے گی۔ لیکن اُس دن صبح کو کوئی ڈولی نہیں تھی، اس لیے انہوں نے پیدل چلنا شروع کیا۔

رانو اونچائی والا صرف آدھا راستہ ہی طے کر پائیں۔ ’’ہم نے مشکل سے آدھا راستہ ہی طے کیا ہوگا کہ مجھے محسوس ہوا کہ [درد کی وجہ سے] میں چل نہیں سکوں گی۔ جیسے ہی میں نے چلنا بند کیا اور سڑک پر بیٹھ گئی، میرے شوہر سمجھ گئے اور تیزی سے قریب کی ایک فیملی کے پاس بھاگے۔ وہ ہمیں جانتے ہیں، اور چاچی کچھ پانی اور ایک چادر لیکر ۱۰ منٹ میں آ گئیں۔ اور میں نے اپنی ساس اور چاچی کی مدد سے بچہ کو جنم دیا۔‘‘ (رانو کے شوہر ۳۴ سال کے ہیں اور راشن کی دکان میں بطور معاون کام کرکے ۸ ہزار روپے ماہانہ کماتے ہیں، جو کہ تین بالغ اور ایک بچہ پر مبنی فیملی کی واحد کمائی ہے؛ وہ ان کا نام نہیں لینا چاہتی تھیں۔)

’’میرا لڑکا [جگت] اسی جنگل میں پیدا ہوا جب ہم مین روڈ تک پہنچنے کے لیے ابھی بھی چل رہے تھے،‘‘ وہ درختوں سے گھرے تنگ پہاڑی راستے میں اپنے پہلے بچہ کی پیدائش کے خطرناک واقعہ کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں۔ ’’میں نے بچہ کو اس طرح جنم دینے کے بارے میں کبھی نہیں سوچا تھا۔ اس کے بارے میں سوچ کر آج بھی میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ لیکن بھگوان کا شکر ہے کہ میرا بچہ بحفاظت باہر آ گیا۔ یہی سب سے قیمتی چیز ہے۔‘‘

فروری ۲۰۲۰ کی اُس صبح کو، جگت کی پیدائش کے فوراً بعد، رانو پیدل چل کر گھر واپس لوٹیں، جب کہ بچہ کو ان کی ساس، ۵۸ سالہ پرتیما سنگھ اپنی گود میں اٹھاکر لائیں۔

In February 2020, Rano Singh of Almora district gave birth on the way to the hospital, 13 kilometres from Siwali, her village in the mountains (right)
PHOTO • Jigyasa Mishra
In February 2020, Rano Singh of Almora district gave birth on the way to the hospital, 13 kilometres from Siwali, her village in the mountains (right)
PHOTO • Jigyasa Mishra

فروری ۲۰۲۰ میں، الموڑہ ضلع کی رانو سنگھ نے پہاڑوں میں واقع اپنے گاؤں، سیولی (دائیں) سے ۱۳ کلومیٹر دور، اسپتال جاتے ہوئے بیچ راستہ میں ہی بچہ کو جنم دیا

رانو اپنے حمل کی پوری مدت کے دوران صرف ایک بار، دوسرے مہینہ میں درد کی وجہ معلوم کرنے کے لیے، الٹرا ساؤنڈ کرانے رانی کھیت کے ایک پرائیویٹ کلینک میں ڈاکٹر سے ملنے گئی تھیں۔ پچھلے سال فروری میں اُس پہاڑی راستے میں بچہ کو جنم دینے کے تین دن بعد، مقامی آشا کارکن (منظور شدہ سماجی صحت کارکن) نے ان کے گھر کا دورہ کیا تھا۔ ’’آشا دیدی میرے بچہ کا وزن کرنے اور ضروری چیک اپ کرنے کے لیے آئی تھیں، اور انہوں نے ہمیں بتایا کہ بچہ پوری طرح سے ٹھیک ہے۔ تقریباً ایک ہفتہ سے میرا بلڈ پریشر اوپر نیچے ہو رہا تھا۔ لیکن اب میں بھی ٹھیک ہوں۔ پہاڑوں میں ہم اس قسم کی چنوتیوں کا سامنا کرنے کے عادی ہیں،‘‘ رانو کہتی ہیں۔

اتراکھنڈ کے الموڑہ ضلع کے تاری کھیت بلاک میں واقع سیولی کے لوگ کہتے ہیں کہ ۶۸ گھروں اور ۳۱۸ لوگوں کی ان کی بستی میں پہلے کبھی کسی بچے کی پیدائش راستے میں نہیں ہوئی، بلکہ اونچائی والے اس علاقہ میں زیادہ تر بچوں کی پیدائش گھر پر ہوتی ہے – جب کہ پورے اتراکھنڈ میں گھر پر پیدا ہونے والے بچوں کی شرح کم از کم ۳۱ فیصد ہے، جیسا کہ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے ( این ایف ایچ ایس- ۴ ، ۲۰۱۵-۱۶) میں بتایا گیا ہے۔ تاہم، طبی مراکز (خاص کر ریاستی اداروں) میں پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد دو گنی سے بھی زیادہ ہے – این ایف ایچ ایس- ۳ (۲۰۰۵-۰۶) میں درج ۳۳ فیصد سے بڑھ کر ۶۹ فیصد تک (یا اتراکھنڈ میں بچوں کی کل پیدائش کا دو تہائی سے تھوڑا زیادہ)۔

پھر بھی، رانی کھیت میں پریکٹس کرنے والی خواتین کے امراض کی ایک ماہر کے مطابق، کُماؤں کے پہاڑی علاقہ میں خاتون اور اس کی فیملی کے لیے اسپتال جانا اب بھی ایک چنوتی ہے۔ گاڑی چلانے لائق سب سے نزدیکی سڑک عام طور سے دور ہے، نقل و حمل کی کمی ہے، اور کرایے پر گاڑیاں لینا بہت مہنگا ہے۔

اور پچھلے سال، وبائی مرض کے سبب نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن نے تاری کھیت بلاک کے گاؤوں کی حاملہ خواتین کے لیے مزید مشکلیں پیدا کردیں۔ رانو کے گاؤں سے تقریباً ۲۲ کلومیٹر دور، پالی نادولی گاؤں میں منیشا سنگھ راوت نے اپنی بیٹی کو اگست ۲۰۲۰ میں گھر پر ہی جنم دیا۔ بچہ کی پیدائش کرانے میں فیملی کی ایک شناسا دائی نے مدد کی تھی۔ ’’میں اسپتال نہیں گئی تھی۔ میری بیٹی ۱۴ اگست [۲۰۲۰] کو یہیں پیدا ہوئی تھی،‘‘ وہ اپنے گھر میں بغل والے کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں۔ اُس کمرے میں بیڈ کا ایک پایہ اینٹوں کے ڈھیر پر کھڑا ہے۔ دیوار پر منیشا اور ان کے ۳۱ سالہ شوہر، دھیرج سنگھ راوت کی شادی کی ایک تصویر ٹنگی ہوئی ہے۔

ستمبر کا مہینہ ہے، صبح کے ساڑھے ۸ بج چکے ہیں۔ کچھ دیر پہلے ہی، منیشا گھاس کا ایک گٹھر اپنے دائیں ہاتھ میں اور دوسرا سر پر اٹھائے گھر لوٹی ہیں۔ گٹھر کو ایک طرف رکھتے ہوئے، انہوں نے اپنے سر کے اوپر نیلے رنگ کی روایتی کماؤنی لکڑی کی کھڑکی سے، تقریباً ایک مہینہ کی اپنی بیٹی، رانی کو آواز لگائی: ’’چیلی! دیکھو کون آیا!۔‘‘

Manisha Singh Rawat gave birth to her daughter (in pram) at home, assisted by a dai or traditional birth attendant
PHOTO • Jigyasa Mishra
Manisha Singh Rawat gave birth to her daughter (in pram) at home, assisted by a dai or traditional birth attendant
PHOTO • Jigyasa Mishra

منیشا سنگھ راوت نے اپنی بیٹی کو ایک دائی کی مدد سے گھر پر جنم دیا تھا

رانی کی پیدائش کے بمشکل دو ہفتے بعد، منیشا نے اونچائی پر چڑھنے کا اپنا معمول کا کام دوبارہ شروع کر دیا – وہ تقریباً ۳۰ منٹ میں ڈیڑھ کلومیٹر کی دوری طے کرکے تاری کھیت بلاک کی ۸۷۳ لوگوں کی آبادی والے گاؤں، پالی نادولی کے اُس پار گھاس سے بھرے میدان میں جاتی ہیں، جہاں سے وہ اپنی فیملی کی تین بکریوں کے لیے چارہ اکٹھا کرتی ہیں۔ اس خطہ میں، خواتین پانی، جلانے والی لکڑی اور چارے کی تلاش میں عام طور سے روزانہ کئی کلومیٹر تک پیدل چلتی ہیں – ان میں سے زیادہ تر علاقہ پہاڑ کی بلندی والا ہے۔ حالانکہ اپنے دو کمرے کے مٹی اور سیمنٹ سے بنے مکان کے باہر ایک ہینڈ پمپ ہونے کی وجہ سے منیشا کا کچھ وقت اور محنت بچ جاتی ہے۔

ان کی بیٹی بچہ گاڑی میں سو رہی ہے، جس کے اسٹیل کے ہینڈل نیلے رنگ کی لکڑی کی کھڑکی سے چھن کر آنے والی صبح کی سورج کی روشنی میں سونے کی طرح چمک رہے ہیں۔ ’’آشا نے کہا کہ ہمیں اسے صبح کی دھوپ میں تھوڑی دیر لیٹانا چاہیے تاکہ اسے کچھ وٹامن حاصل ہو۔ کون سا وٹامن، مجھے نہیں معلوم۔ تین دن پہلے جب آشا کارکن اسے دیکھنے آئی تھیں تب اس (بچی) کا وزن کم تھا۔ وہ ایک دو ہفتے بعد پھر سے آنے والی ہیں،‘‘ منیشا نے مجھے بتایا۔ آشا کارکن، ۴۱ سالہ ممتا راوت کہتی ہیں کہ بچی کا وزن ایک مہینہ میں ۳ کلو تھا، جبکہ یہ تقریباً ۴ اعشاریہ ۲ کلو ہونا چاہیے۔

منیشا نے کسی اسپتال میں بچہ کو جنم کیوں نہیں دیا؟ ’’میں اسپتال میں ہی بچے کو جنم دینا چاہتی تھی،‘‘ انہوں نے جواب دیا۔ ’’وہاں پر کچھ سہولت تو ہوتی۔ لیکن میری فیملی نے جو بھی فیصلہ کیا، وہ ٹھیک ہے۔‘‘

منیشا کے سسر، پان سنگھ راوت نے انہیں اسپتال لے جانے کی بجائے، دائی کو گھر پر بلانے کا فیصلہ کیا۔ ’’انہوں نے کہا کہ میرے پہلے بچہ کی پیدائش میں کافی پیسہ [۱۵ ہزار روپے] پہلے ہی خرچ ہو چکا ہے، جب میرا بیٹا پیدا ہوا تھا،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ان کا بیٹا، روہن، جو اَب دو سال کا ہے، پالی نادولی گاؤں سے تقریباً ۱۲ کلومیٹر دور، رانی کھیت کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں پیدا ہوا تھا (اور اس کے لیے، انہیں ڈولی سے گاڑی چلنے والی سڑک تک لے جایا گیا تھا)۔ ’’اور اسپتال جانے کے تیم جھام [جھنجھٹ] سے بچنے کے لیے کورونا [اگست ۲۰۲۰ میں بچی جب پیدا ہوئی تھی تب وبائی مرض اپنے عروج پر تھا] بھی ایک وجہ تھی،‘‘ منیشا کہتی ہیں۔

'We did not want to risk going all the way to Almora [for the delivery] in the pandemic,' says Pan Singh Rawat (left), Manisha’s father-in-law; they live in a joint family of nine
PHOTO • Jigyasa Mishra
'We did not want to risk going all the way to Almora [for the delivery] in the pandemic,' says Pan Singh Rawat (left), Manisha’s father-in-law; they live in a joint family of nine
PHOTO • Jigyasa Mishra

’وبائی مرض کے دوران [بچے کی پیدائش کے لیے] ہم الموڑہ جانے کا خطرہ نہیں اٹھانا چاہتے تھے‘، منیشا کے سسر، پان سنگھ راوت (بائیں) کہتے ہیں؛ نو ممبران پر مشتمل ان کی ایک مشترکہ فیملی ہے

منیشا نو رکنی مشترکہ فیملی میں رہتی ہیں جس میں ان کے دو بچے، شوہر، ساس سسر، اور ساتھ ہی ان کا دیور، اس کی بیوی اور بچہ شامل ہیں۔ ان کی شادی ۱۸ سال کی عمر میں ہوئی تھی، جب انہوں نے ۹ویں کلاس تک تعلیم مکمل کر لی تھی۔ ان کے شوہر، دھیرج سنگھ راوت نے ۱۲ویں کلاس تک پڑھائی کی ہے اور ایک مقامی ٹریول ایجنسی میں بطور ڈرائیور کام کرتے ہیں۔ ’’وہ سیاحوں کو الموڑہ سے نینی تال، بھیم تال، رانی کھیت اور قریب کے دیگر سیاحتی مقامات تک لے جاتے ہیں۔ وہ عام طور سے ہر مہینے تقریباً ۲۰ ہزار روپے کما لیتے ہیں،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ لاک ڈاؤن کے دوران جب کوئی کام نہیں تھا، فیملی نے منیشا کے سسر، پان سنگھ کی بچت کے پیسے پر گزارہ کیا۔

’’وبائی مرض کے دوران ہم اپنے گاؤں سے الموڑہ [ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر، جو کہ تقریباً ۸۰ کلومیٹر دور ہے] جانے کے لیے اپنی جان کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔ اس لیے ہم نے بچہ کی پیدائش یہیں اپنے گھر پر کروائی،‘‘ ۶۷ سالہ پان سنگھ بتاتے ہیں، جو چند سال پہلے رانی کھیت میں مزدوری والی سرکاری نوکری سے ریٹائر ہوئے تھے۔ ’’اس کے علاوہ، اسپتال جانے کے لیے، ہمیں پاس کے بازار سے ایک گاڑی کرایے پر لینی پڑتی، جو یہاں سے دو کلومیٹر آگے ملتی، اور پھر وہاں سے آگے ۸۰ کلومیٹر تک کا سفر کرنا پڑتا۔‘‘

گھر پر پیدائش کی وجہ سے کیا انہیں ماں اور بچہ کی حفاظت کی فکر تھی؟ ’’ان کی ماں [ان کی بیوی] اور میں اب بوڑھے ہو چکے ہیں،‘‘ وہ جواب دیتے ہیں۔ ’’اُس وقت، کورونا کافی پھیلا ہوا تھا، اور اسپتال جانے پر ہمیں خطرہ ہو سکتا تھا۔ اور یہ دائی جو ہمارے گھر پر آئی تھی، اسے ہم جانتے ہیں، اس لیے [کووڈ سے متاثر ہونے کا] خطرہ کم تھا۔ اس نے یہاں پر بہت سی ڈلیوری کروائی ہے، ہمارے گاؤں میں اور دوسرے گاؤوں میں بھی،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔

این ایف ایچ ایس- ۴ (۲۰۱۵-۱۶) کے مطابق، سروے سے پانچ سال قبل، اتراکھنڈ میں ۷۱ فیصد بچوں کی پیدائش طبی نگہداشت فراہم کرنے والے ماہرین کی مدد سے کرائی گئی – جس میں ڈاکٹر، نرسیں، معاون نرسیں اور ’لیڈی ہیلتھ وزیٹر‘ شامل ہیں۔ اور صرف ۴ اعشاریہ ۶ فیصد بچوں کی پیدائش ان کے گھر پر ماہر طبی نگہداشت فراہم کنندگان کی مدد سے کرائی گئی۔ گھر پر ہونے والی بچوں کی زیادہ تر پیدائش – ۲۳ فیصد – روایتی دائی کی مدد سے ہوئی۔

Left: Manisha proudly discusses her husband Dheeraj’s cricket accomplishments. Right: Her two-year-old son Rohan was born in a private hospital
PHOTO • Jigyasa Mishra
Left: Manisha proudly discusses her husband Dheeraj’s cricket accomplishments. Right: Her two-year-old son Rohan was born in a private hospital
PHOTO • Jigyasa Mishra

بائیں: منیشا اپنے شوہر دھیرج کے کرکٹ سے شوق کے بارے میں فخر سے بات کرتی ہیں۔ دائیں: ان کا دو سال کا بیٹا روہن ایک پرائیویٹ اسپتال میں پیدا ہوا تھا

ممتا راوت، جو تاری کھیت بلاک کے پالی نادولی، ڈوبا اور سنگولی (تینوں گاؤوں کی مجموعی آبادی ۱۲۷۳ ہے) کی واحد آشا کارکن ہیں، فون کے ذریعہ منیشا کی فیملی کے رابطہ میں تھیں اور انہیں بچے کی پرورش اور زچگی کے بعد کی دیکھ بھال کے بارے میں بتاتی رہیں۔ ’’میں منیشا کو اس کے حمل کی پہلی سہ ماہی میں اسپتال لیکر گئی تھی،‘‘ ممتا مجھے پالی نادولی کے سب سے قریبی، تاری کھیت کے پی ایچ سی کے بارے میں بتاتی ہی، جہاں یہ دونوں خواتین ممتا کی اسکوٹی سے گئی تھیں۔

’’میں نے اگست کے پہلے ہفتہ میں بھی اس سے بات کی تھی، اس کی ڈلیوری کی تاریخ سے بمشکل ۱۰ دن پہلے، اور اسے پوری احتیاط کے ساتھ اسپتال جانے کے لیے کہا تھا [پی ایچ سی میں زچگی کا ایک وارڈ ہے]۔ جب تاریخ گزر گئی اور مجھے اس کی یا اس کی فیملی کی طرف سے کوئی اطلاع نہیں ملی، تو میں نے پتا لگانے کے لیے فون کیا۔ مجھے یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ منیشا نے گھر پر ہی بچے کو جنم دیا، اور اسپتال میں ڈلیوری کرانے کا میرا مشورہ بیکار رہا،‘‘ ممتا کہتی ہیں، جنہیں اس بات کا افسوس ہے کہ ان کے مشورہ پر عمل نہیں کیا گیا۔

دریں اثنا، منیشا کے گھر پر اُس ستمبر کی صبح، دھوپ میں کافی شدت ہے۔ وہ اب بھی سو رہے اپنے بیٹے، روہن کو اس کے بستر سے اٹھاکر باہر لاتی ہیں، اور اس سے کہتی ہیں، ’’اٹھ جاؤ! دیکھو، تمہاری بہن پہلی ہی جاگ چکی ہے۔‘‘

اور پھر ہم بچہ کی پیدائش سے ہٹ کر کچھ اور باتیں کرنے لگتے ہیں، اور وہ اپنے شوہر دھیرج کے کرکٹ سے شوق کے بارے میں فخر سے بتاتی ہیں۔ ’’ہماری شادی کے ابتدائی دنوں میں، وہ روزانہ کھیلنے جایا کرتے تھے، لیکن آہستہ آہستہ دوسری ذمہ داریاں بڑھنے لگیں۔ آپ دیوار پر اُن تمام انعامات اور شیلڈ کو دیکھ رہی ہیں؟ یہ سبھی انہی کے ہیں،‘‘ وہ نیلے رنگ کی دیوار پر بنی اس الماری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں، جو ایک سرے سے دوسرے سرے تک انعامات سے بھری ہوئی ہے۔

کور کا خاکہ: لبنی جنگی بنیادی طور پر مغربی بنگال کے نادیا ضلع کے ایک چھوٹے سے قصبہ کی رہنے والی ہیں، اور فی الحال کولکاتا کے سینٹر فار اسٹڈیز اِن سوشل سائنسز سے بنگالی مزدوروں کی مہاجرت پر پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ وہ خود سے سیکھی ہوئی ایک مصور ہیں اور سفر کرنا پسند کرتی ہیں۔

پاری اور کاؤنٹر میڈیا ٹرسٹ کی جانب سے دیہی ہندوستان کی بلوغت حاصل کر چکی لڑکیوں اور نوجوان عورتوں پر ملگ گیر رپورٹنگ کا پروجیکٹ پاپولیشن فاؤنڈیشن آف انڈیا کے مالی تعاون سے ایک پہل کا حصہ ہے، تاکہ عام لوگوں کی آوازوں اور ان کی زندگی کے تجربات کے توسط سے ان اہم لیکن حاشیہ پر پڑے گروہوں کی حالت کا پتا لگایا جا سکے۔

اس مضمون کو شائع کرنا چاہتے ہیں؟ براہِ کرم [email protected] کو لکھیں اور اس کی ایک کاپی [email protected] کو بھیج دیں۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Jigyasa Mishra

Jigyasa Mishra is an independent journalist based in Chitrakoot, Uttar Pradesh.

Other stories by Jigyasa Mishra
Illustration : Labani Jangi

Labani Jangi is a 2020 PARI Fellow, and a self-taught painter based in West Bengal's Nadia district. She is working towards a PhD on labour migrations at the Centre for Studies in Social Sciences, Kolkata.

Other stories by Labani Jangi
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez