ایس موتھوپیچی پورے اطمینان سے اپنی پریشانیاں ایک ایک کرکے بتاتی ہیں۔ کرگٹم روایتی فن کی ایک شکل ہے، جس کی پیشکش وہ اپنے ذریعۂ معاش کے طور پر کرتی ہیں۔ اس فن کے تحت رات بھر رقص کرنے کے لیے مہارت و صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ پھر بھی، کرگٹم اداکاروں کے ساتھ ناروا سلوک اور انہیں بدنام کیا جاتا ہے۔ انہیں کوئی سماجی تحفظ حاصل نہیں ہے۔ اس ۴۴ سالہ خاتون نے ان تمام چیزوں کا سامنا کیا ہے۔

ان کے شوہر کا انتقال دس سال پہلے ہو گیا تھا، جس کے بعد موتھوپیچی نے تن تنہا اپنے تمام اخراجات کا انتظام کیا اور اپنی کمائی سے دو بیٹیوں کی شادی کی۔ لیکن تبھی، کووڈ۔۱۹ آ گیا۔

وہ جب کورونا وائرس کی بات کرتی ہیں، تو ان کی آواز میں غصہ اور اذیت صاف جھلکتی ہے۔ ’’ پاژھا پونا کورونا [یہ بدبخت کورونا]،‘‘ مرض کو لعنت بھیجتے ہوئے وہ کہتی ہیں۔ ’’کوئی آمدنی نہیں ہے کیوں کہ اسے عوامی طور پر پیش نہیں کیا جا رہا ہے۔ میں اپنی بیٹیوں سے پیسے قرض لینے پر مجبور ہوں۔‘‘

وہ آگے کہتی ہیں، ’’سرکار نے پچھلے سال مدد کے طور پر ۲۰۰۰ روپے دینے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن ہمیں صرف ۱۰۰۰ روپے ملے۔ ہم نے اس سال مدورئی کے کلکٹر سے اپیل کی ہے، لیکن ابھی تک اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے۔‘‘ اپریل- مئی ۲۰۲۰ میں، تمل ناڈو حکومت نے ریاست کے فوک آرٹسٹس ویلفیئر بورڈ کے ساتھ رجسٹرڈ فنکاروں کو ۱۰۰۰ روپے کی خصوصی ادائیگی، دو بار کرنے کا اعلان کیا تھا۔

مشہور اداکار اور علاقائی (فوک) فن کی شکلوں کے ٹیچر، مدورئی گووند راج بتاتے ہیں کہ عالمی وبائی مرض کے آغاز سے ہی مدورئی کے تقریباً ۱۲۰۰ فنکاروں کو کام نہیں مل رہا ہے۔ پڑوس کے امبیڈکر نگر میں واقع اونیا پورم قصبہ میں کرگٹم کے تقریباً ۱۲۰ اداکار رہتے ہیں، جہاں مئی میں میری ملاقات موتھوپیچی اور دیگر فنکاروں سے ہوئی تھی۔

کرگٹم، دیہی رقص کی ایک بڑی شکل ہے اور اسے مذہبی تہواروں کے دوران مندروں کے اسٹیج پر، ثقافتی پروگراموں میں اور شادیوں جیسی سماجی تقریبات میں، اور کسی کی آخری رسومات ادا کرنے کے دوران پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے فنکار دلت ہیں، جن کا تعلق آدی دراوڑ ذات سے ہے۔ وہ گزر بسر کے لیے اپنے فن پر منحصر ہیں۔

کرگٹم اجتماعی رقص ہے، جسے عورتوں اور مردوں کے ذریعے مل کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس کی پیشکش کے دوران اداکار اپنے سر پر سجا ہوا ایک وزنی برتن رکھ کر رقص کرتے ہیں۔ وہ اکثر رات بھر رقص کرتے ہیں، یعنی رات کے ۱۰ بجے سے صبح کے ۳ بجے تک۔

PHOTO • M. Palani Kumar

کرگٹم فنکار اے موتھو لکشمی (بائیں) اونیا پورم میں اپنے گھر کے باہر کھانا پکا رہی ہیں کیوں کہ یہاں گھر کے اندر چولہا رکھنے کی جگہ نہیں ہے

چونکہ ان کی باقاعدہ آمدنی کا ذریعہ مندر کے تہوار ہیں – جو کہ عام طور پر فروری سے ستمبر کے درمیان منعقد ہوتے ہیں – ان فنکاروں کو تقریباً ایک سال سے اپنی پرانی آمدنی پر گزارہ کرنے پر مجبور ہونا پڑا، یا اپنا گھر چلانے کے لیے قرض لینا پڑا۔

لیکن وبائی مرض نے ان کی آمدنی کے محدود ذریعہ کو متاثر کیا ہے۔ ان کے پاس جو زیورات – اور گھر میں جو بھی قیمتی سامان تھا، اسے رہن پر رکھنے کو مجبور کیا، اور اب یہ فنکار آگے کا خرچ چلانے کے لیے فکرمند ہیں۔

’’مجھے کرگٹم کے علاوہ کچھ نہیں آتا،‘‘ ۳۰ سالہ ایم نلّوتھائی کہتی ہیں۔ وہ اکیلی ماں ہیں اور گزشتہ ۱۵ سالوں سے کرگٹم پیش کر رہی ہیں۔ ’’فی الحال، میرے دو بچے اور میں راشن سے ملنے والے چاول اور مسور کی دال پر گزارہ کر رہے ہیں۔ لیکن مجھے نہیں معلوم کہ کتنے دنوں تک ایسا ہی چلتا رہے گا۔ مجھے ہر مہینے ۱۰ دنوں کے کام کی ضرورت ہے۔ تب جاکر میں اپنی فیملی کا پیٹ بھر سکوں گی اور بچوں کے اسکول کی فیس ادا کر پاؤں گی۔‘‘

نلّوتھائی کے بچے پرائیویٹ اسکول میں پڑھتے ہیں، جن کے اسکول کی فیس سالانہ ۴۰ ہزار روپے ہے، جو انہیں ادا کرنا پڑتا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان کے بچے چاہتے ہیں کہ وہ یہ پیشہ چھوڑ دیں۔ انہیں امید تھی کہ اچھی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ان بچوں کے پاس مزید متبادل ہوں گے۔ لیکن یہ وبائی مرض سے پہلے کی بات تھی۔ ’’اب مجھے اپنی روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرنے میں دقتیں پیش آ رہی ہیں۔‘‘

کسی تہوار میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے پر کرگٹم رقص کرنے والوں کو (فی کس) ۱۵۰۰ سے ۳۰۰۰ روپے ملتے ہیں۔ کسی کی آخری رسومات کے دوران اسے پیش کرنے پر کم پیسے ملتے ہیں – جہاں وہ اوپاّری (ماتمی گیت) گاتی ہیں، جس کے انہیں عام طور سے ۵۰۰ سے ۸۰۰ روپے ملتے ہیں۔

عالمی وبائی مرض میں آخری رسومات کے دوران ماتمی گیت گانا ہی ان کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہے، ۲۳ سالہ موتھولکشمی بتاتی ہیں۔ وہ امبیڈکر نگر میں ۸ بائی ۸ کے ایک کمرے میں اپنے والدین کے ساتھ رہتی ہیں۔ ان کے والدین تعمیراتی مقامات پر مزدوری کرتے ہیں۔ وبائی مرض کے دوران ان میں سے کسی کو بھی زیادہ پیسے کمانے کا موقع نہیں ملا۔ لاک ڈاؤن میں چھوٹ کے بعد انہیں تھوڑی راحت تو ملی تھی، لیکن کرگٹم اداکاروں کی اجرت کم کر دی گئی۔ مندر کے تہوار، جب کبھی منعقد ہوئے، تو انہیں عام ریٹ کا ایک چوتھائی یا ایک تہائی ہی ملا۔

ایک سینئر ڈانسر، ۵۷ سالہ گنانمّل بدلتی ہوئی صورتحال سے تناؤ میں ہیں۔ ’’مجھے کافی مایوسی ہوتی ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’کبھی کبھی مجھے خودکشی کرنے کا خیال آتا ہے...‘‘

PHOTO • M. Palani Kumar

ایک سینئر اداکارہ اور پانچ سالہ بچے کی دادی، آر گنانمّل کئی نوجوان کرگٹم اداکاروں کو ٹریننگ دے چکی ہیں

گنانمّل کے دونوں بیٹوں کا انتقال ہو چکا ہے۔ وہ اور ان کی دونوں بہوئیں آپس میں مل کر اپنا گھر چلاتی ہیں۔ ان کی فیملی میں پانچ پوتے / پوتیاں بھی ہیں۔ وہ اپنی چھوٹی بہو کے ساتھ اب بھی یہ رقص کرتی ہیں، جب کہ ان کی بڑی بہو کپڑے کی سلائی کرتی ہے اور ان کی غیر موجودگی میں گھر سنبھالتی ہے۔

پہلے جب تہوار اور پروگرام انہیں مصروف رکھتے تھے، تو انہیں کھانے تک کا وقت نہیں ملتا تھا، ۳۵ سالہ ایم الگوپنڈی کہتی ہیں۔ ’’اور اس وقت سال میں ۱۲۰ سے ۱۵۰ دنوں تک کا کام مل جاتا تھا۔‘‘

الگوپنڈی تو تعلیم حاصل نہیں کر سکیں، لیکن وہ بتاتی ہیں کہ ان کے بچے مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔ ’’میری بیٹی کالج میں ہے۔ وہ کمپیوٹر سائنس سے بی ایس سی کر رہی ہے۔‘‘ حالانکہ، آن لائن کلاسز ایک بڑی مصیبت ہیں، وہ کہتی ہیں۔ ’’ہمیں پوری فیس ادا کرنے کے لیے کہا گیا ہے، جب کہ ہم پیسے کمانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔‘‘

ٹی ناگ جیوتی نے کرگٹم کو اپنا پیشہ اس لیے بنایا کیوں کہ ان کی اتھائی (چچی) ایک مشہور فنکار تھیں، لیکن ۳۳ سالہ اس اداکارہ کو اب فکر ستانے لگی ہے۔ چھ سال پہلے ان کے شوہر کا انتقال ہوگیا تھا، تبھی سے وہ اپنی آمدنی سے گھر کا خرچ چلا رہی ہیں۔ ’’میرے بچے ۹ویں اور ۱۰ویں کلاس میں پڑھتے ہیں۔ مجھے ان کا پیٹ بھرنا مشکل ہو رہا ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

ناگ جیوتی تہواروں کے موسم میں لگاتار ۲۰ دنوں تک رقص کر سکتی ہیں۔ اگر طبیعت خراب ہو گئی، تب بھی وہ دوائیں کھاکر اپنے فن کا مظاہر کرتی رہتی ہیں۔ ’’چاہے جو ہو جائے، میں رقص کرنا نہیں چھوڑوں گی۔ مجھے کرگٹم سے پیار ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

عالمی وبائی مرض نے کرگٹم کے ان فنکاروں کی زندگی کو اب کافی مشکل بنا دیا ہے۔ وہ اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے موسیقی، عارضی اسٹیج اور پیسے کا انتظار کر رہی ہیں۔

’’ہمارے بچے چاہتے ہیں کہ ہم یہ پیشہ چھوڑ دیں،‘‘ الگو پنڈی کہتی ہیں۔ ’’ہم ایسا کر سکتے ہیں۔ لیکن اُس وقت، جب وہ تعلیم یافتہ ہو جائیں اور اچھی نوکری حاصل کرلیں۔‘‘

PHOTO • M. Palani Kumar

’کرگم‘ کے ساتھ ایم الگوپنڈی۔ یہ ایک سجایا ہوا برتن ہے، جسے کرگٹم اداکار فن کی پیشکش کے دوران اپنے سر پر رکھ کر رقص کرتے ہیں۔ الگوپنڈی نہیں چاہتیں کہ بچے ان کے نقش قدم پر چلیں

PHOTO • M. Palani Kumar

این جے رمن ۶۴ سالہ موسیقار ہیں، جو کرگٹم کی پیشکش کے دوران پیپا نما ڈھول، تھاوی بجاتے ہیں

PHOTO • M. Palani Kumar

اے اوما اور ان کے شوہر نلّو رمن، دونوں ہی فنکار ہیں۔ اوما کرگٹم رقص کرتی ہیں اور نلو رمن فریم نما ڈھول، پرئی بجاتے ہیں

PHOTO • M. Palani Kumar

فنکاروں کے گھروں میں بیکار پڑے آلاتِ موسیقی اس بات کی یاد دلا رہے ہیں کہ وبائی مرض کے دوران انہیں کئی مہینوں سے کوئی کام نہیں ملا ہے

PHOTO • M. Palani Kumar

ایم نلّوتھائی کوئی کام نہ ملنے کی وجہ سے قرض میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ انہیں تشویش ہے کہ اگر وبائی مرض یوں ہی جاری رہا، تو ان کے بچوں کو اپنی تعلیم بیچ میں ہی چھوڑنی پڑے گی

PHOTO • M. Palani Kumar

ایس موتھوپیچی کہتی ہیں کہ کرگٹم کے تئیں احترام میں کمی آئی ہے اور اب اس کے فنکاروں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جاتا۔ کئی بار انہیں کپڑے بدلنے کے لیے الگ سے کمرے بھی نہیں دیے جاتے

PHOTO • M. Palani Kumar

ٹی ناگ جیوتی نے ۱۲ سال کی عمر میں ہی اس فن کا مظاہرہ کرنا شروع کر دیا تھا۔ سجا ہوا کرگم، کرگٹم سے منسلک ملبوسات کا ایک اہم حصہ ہے

PHOTO • M. Palani Kumar

کرگٹم فنکار، ۲۹ سالہ  ایم سوریا دیوی، ان کے شوہر وی مہالنگم، جو پرئی بجاتے ہیں، وبائی مرض کے دوران اپنے مکان کا کرایہ نہیں دے پائے تھے۔ سوریا دیوی کو کچھ مہینوں کے لیے اپنے بچوں کو اپنی ماں کے گھر بھیجنا پڑا تھا۔ یہ فیملی اب ایک مقامی این جی او کی مدد سے اپنا گزارہ چلا رہی ہے

PHOTO • M. Palani Kumar

این موتھوپنڈی اپنے مخصوص لباس میں پوز دے رہے ہیں۔ وہ ۵۰ سال کی عمر میں کرگٹم اداکاری کے علاوہ ڈراموں میں مسخرہ کا رول ادا کرتے ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ اگر وبائی مرض زیادہ دنوں تک رہا، تو یہ پیشہ ختم ہو جائے گا

PHOTO • M. Palani Kumar

۳۳ سالہ ایس دیوی، اَوَنیا پورم کے امبیڈکر نگر میں اپنے گھر کے باہر کھڑی ہیں۔ وہ بچپن سے ہی بطور کرگٹم فنکار یہ رقص پیش کر رہی ہیں

اس اسٹوری کا متن اپرنا کارتی کیئن نے رپورٹر کے ساتھ مل کر لکھا ہے۔

مترجم: محمد قمر تبریز

M. Palani Kumar

M. Palani Kumar is PARI's Staff Photographer and documents the lives of the marginalised. He was earlier a 2019 PARI Fellow. Palani was the cinematographer for ‘Kakoos’, a documentary on manual scavengers in Tamil Nadu, by filmmaker Divya Bharathi.

Other stories by M. Palani Kumar
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez