یہ مائیلا پکیر ہے، تیلگو کی بچوں کی اساطیری کہانیوں کا ایک برا جادوگر، جو آندھرا پردیش کے اننت پور کی سڑکوں پر گھوم رہا ہے۔ ان کا یہ اوتار اپنایا ہے کشور کمار نے – ہندی کے مشہور گلوکار آنجہانی کشور کمار نہیں – بلکہ آندھرا پردیش پولیس کے مسلح ریزرو کانسٹیبل کشور کمار ہیں۔ ان کی یہ تصویر ۲ اپریل کو شہر کے بالکل درمیان میں واقع گھنٹا گھر کے پاس لی گئی تھی۔

تیلگو بولنے والی ریاستوں میں پولیس دستہ اپنے پیغام کو عوام تک پہنچانے کے لیے عام طور پر جسمانی سزا یا پٹائی کا استعمال کرتا ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس نے آرٹ کا استعمال سیکھ لیا ہے۔ (دوسرے ضلع کے ایک اور ویڈیو میں، ہاتھ کی صفائی کے بارے میں بیداری پھیلانے کی کوشش کرتے ہوئے مشہور تیلگو گیت ’رامولو راملا‘ پر پولیس کو رقص کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے)۔ ’اننت پور پولیس‘ عنوان والے ایک فیس بک پیج نے مائیلا پکیر (عرف کشور کمار) کی اس خوفناک کورونا وائرس ہیڈ ڈریس کے ساتھ تصویریں پوسٹ کیں (ویسے، کورونا لفظ کا ایک مطلب ’تاج‘ بھی ہوتا ہے)۔

اننت پور پولیس کا کہنا ہے کہ مہم کی گاڑی اور یہ ’’فنی بہروپیا‘‘ پابندیوں میں چھوٹ کے وقت، سماجی دوری اور صفائی سے متعلق دوسرے پیغام کو عوام تک لے جائے گا۔ (مثال کے طور پر، جب لوگ سامان خریدنے کے لیے اپنے گھروں سے باہر نکلیں گے)۔ اور یہ پیغام ’’بھیڑ بھاڑ سے بھری سبزی منڈیوں، سرکاری اسپتالوں، راشن کی دکانوں، اور سب سے زیادہ مصروف چوراہوں‘‘ پر لے جایا جائے گا۔ یہ مہم پولیس دستہ کے لیے ایک نئی سمت کی طرح ہے، جسے عوام کو ڈرانے کے لیے کبھی مدد کی ضرورت نہیں رہی ہے۔

In Anantapur, Andhra Pradesh, police rope in a mythological sorcerer in the battle against the coronavirus
PHOTO • Police Department, Anantapur
In Anantapur, Andhra Pradesh, police rope in a mythological sorcerer in the battle against the coronavirus
PHOTO • Police Department, Anantapur

مترجم: محمد قمر تبریز

Rahul M.

Rahul M. is an independent journalist based in Anantapur, Andhra Pradesh, and a 2017 PARI Fellow.

Other stories by Rahul M.
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez