سبھاش کباڈے اپنی بہن کی موت کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں، ’’مجھے یہ نہیں معلوم کہ اس کی موت کی وجہ کیا ہے، لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اس کی صحیح دیکھ بھال نہیں کی گئی۔‘‘

ضلع کے سول اسپتال میں داخل اُن کی بہن لتا سُروَسے کے انتقال سے ایک رات قبل، ایک ڈاکٹر نے انہیں فوری طور پر دو انجیکشن لگانے کی صلاح دی تھی۔ لہٰذا سبھاش ایک قریبی میڈیکل اسٹور پر پہنچے اور کچھ ہی منٹوں میں انجیکشن لیکر واپس آ گئے۔ لیکن، تب تک ڈاکٹر وہاں سے جا چکے تھے۔

۲۵ سالہ سبھاش بتاتے ہیں، ’’انہیں کئی مریضوں کو دیکھنا تھا، اس لیے وہ دوسرے وارڈ میں چلے گئے۔ میں نے نرس سے کہا کہ وہ میری بہن کو انجیکشن لگا دیں، لیکن انہوں نے لتا کی فائل دیکھ کر کہا کہ اس میں اس انجیکشن کے بارے میں کوئی ذکر نہیں ہے۔ میں نے انہیں بتانے کی کوشش کی کہ یہ انجیکشن انہیں کچھ ہی منٹ پہلے ڈاکٹر نے لانے کو کہا تھا، اسی لیے فائل میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہوگا۔‘‘

لیکن نرس نے ان کی بات نہیں سنی۔ جب انہوں نے انجیکشن کو لیکر ان کے ہاتھ پیر جوڑے، تو سبھاش بتاتے ہیں، ’’وارڈ کے انچارج نے سیکورٹی گارڈ کو بلانے کی دھمکی دی۔‘‘ تقریباً ایک گھنٹہ انہی سب میں ضائع ہو گیا، اس کے بعد جاکر مریض کو انجیکشن دیا گیا۔

اگلی صبح، ۱۴ مئی کو لتا کا انتقال ہو گیا۔ وہ ۲۳ اپریل سے ہی اسپتال میں داخل تھیں، جس دن ان کی کورونا رپورٹ پازیٹو آئی تھی۔ بیڈ ضلع میں ایک وکیل کے طور پر کام کرنے والے سبھاش بتاتے ہیں، ’’اس میں صحت یاب ہونے کی علامت نظر آ رہی تھی...‘‘ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اگر وقت رہتے ان کی بہن کو انجیکشن دے دیا جاتا، تو ان کی جان بچائی جا سکتی تھی۔ لیکن انہیں لگتا ہے کہ اسپتال میں ڈاکٹروں کی کمی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’اس سے مریضوں کی صحت پر برا اثر پڑ رہا ہے۔‘‘

کورونا کی دوسری لہر نے، جس کی شروعات اس سال مارچ میں ہوئی تھی، یہ واضح کر دیا کہ دیہی ہندوستان میں صحت عامہ کے ڈھانچہ پر کتنا بوجھ ہے۔ دیہی علاقوں میں طبی سہولیات کا عالم یہ ہے کہ اسپتالوں میں ملازمین کی کمی، ان پر کام کا دباؤ، اور مریضوں کو صحیح دیکھ بھال نہ مل پانا اتنا عام ہے کہ اس سے لاکھوں لوگوں کی صحت متاثر ہو رہی ہے۔

Subash Kabade, whose sister died in the Beed Civil Hospital, says that the shortage of staff has affected the patients there
PHOTO • Parth M. N.

سبھاش کباڈے، جن کی بہن کا انتقال بیڈ کے سول اسپتال میں ہوا، کہتے ہیں کہ اسٹاف کی کمی نے مریضوں کی صحت کو بری طرح متاثر کیا ہے

مراٹھواڑہ علاقے میں واقع بیڈ کورونا کی دوسری لہر سے بری طرح متاثر تھا۔ یہ علاقہ پہلے سے ہی ماحولیاتی تبدیلی، پانی کی کمی، اور زرعی بحران کا شکار ہے۔ ۲۵ جون تک ضلع میں کورونا کے ۹۲ ہزار ۴۰۰ معاملے سامنے آئے اور تقریباً ۲۵۰۰ لوگوں کی موت ہوئی۔ لیکن، جب کورونا کی دوسری لہر اپنے عروج پر تھی، تو انفیکشن کی شرح میں کافی تیزی سے اضافہ دیکھا گیا؛ جہاں یکم اپریل تک ضلع میں ۲۶ ہزار ۴۰۰ معاملے درج کیے گئے تھے، ۳۱ مئی کو یہ تعداد ۸۷ ہزار ۴۰۰ تک پہنچ چکی تھی۔ ضلع کا طبی نظام ان معاملوں کے بوجھ تلے چرمرا گیا۔

بیڈ کی زیادہ تر آبادی اپنے علاج کے لیے صحت عامہ کے مراکز پر منحصر ہے، کیوں کہ وہاں طبی سہولیات مفت ہیں۔ ایسا اس لیے بھی ہے کیوں کہ بیڈ، جس کی آبادی ۲۶ لاکھ سے زیادہ ہے، طویل عرصے سے زرعی بحران کے سبب قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، اور اس بحران کے سبب یہ ضلع غریبی کا شکار ہے۔

ضلع میں کل ۸۱ کووڈ کیئر سنٹر ہیں، جن میں تین کو چھوڑ کر بقیہ سبھی ریاستی حکومت کے ماتحت ہیں۔ یہاں صرف اُن مریضوں کو داخل کیا جاتا ہے، جنہیں معمولی علامات ہیں۔ یہاں داخل مریضوں کی صحت ٹھیک نہ ہونے پر، انہیں کووڈ طبی مراکز میں بھیجا جاتا ہے۔ ضلع میں ایسے ۴۵ طبی مراکز ہیں، جن میں سے صرف ۱۰ حکومت کے ماتحت ہیں۔ نشان زد کیے گئے ۴۸ کووڈ اسپتالوں میں سے صرف ۵ اسپتال کی نگرانی انتظامیہ کے ذریعے کی جا رہی ہے، جہاں کورونا سے بری طرح متاثر مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔

حالانکہ، ان سرکاری مراکز میں ملازمین کی تعداد ناکافی ہے۔

کورونا کی دوسری لہر کے عروج پر پہنچنے کے دوران بھی، ضلع کے ان سرکاری مراکز میں مناسب تعداد میں طبی ملازمین تعینات نہیں کیے گئے تھے۔ ضلع انتظامیہ نے عارضی طبی ملازمین کی تعیناتی کا اعلان کیا تھا، لیکن پھر بھی کئی عہدوں پر تقرری نہیں کی گئی۔

رادھا کرشن پوار (ضلع کے میڈیکل افسر) کے مطابق، جن ۳۳ عہدوں پر ڈاکٹروں کی تقرری ہونی تھی، ان میں سے صرف ۹ عہدے ہی بھرے گئے۔ اینستھیسیا کے ماہرین کے سبھی ۲۱ عہدے خالی تھے۔ اسٹاف نرسوں کے لیے منظور شدہ ۱۳۲۲ عہدوں میں سے ۴۴۸ عہدوں پر تقرری نہیں ہوئی اور وارڈ ملازمین کے لیے منظور شدہ ۱۰۰۴ عہدوں میں سے ۳۰۱ عہدے خالی رہ گئے۔

مجموعی طور پر دیکھیں تو، ۱۶ زمروں میں ۳۱۹۴ منظور شدہ عہدوں میں سے ۳۴ فیصد، یعنی ۱۰۸۵ عہدے خالی تھے، جس کی وجہ سے مقررہ ملازمین پر اضافی بوجھ بڑھ گیا۔

Jyoti Kadam's husband, Balasaheb, died the day after he was admitted to the hospital
PHOTO • Parth M. N.

اسپتال میں داخل ہونے کے اگلے ہی دن، جیوتی کدم کے شوہر بالا صاحب کا انتقال ہو گیا

یکم اپریل تک ضلع میں کورونا کے کل ۲۶ ہزار ۴۰۰ معاملے درج کیے گئے تھے، جب کہ ۳۱ مئی آتے آتے آفیشیل معاملوں کی تعداد بڑھ کر ۸۷ ہزار ۴۰۰ ہو گئی، جس کی وجہ سے ضلع کا طبی نظام پوری طرح چرمرا گیا

اس لیے، جب ۳۸ سالہ بالا صاحب کدم کو بیڈ کے سول اسپتال میں وینٹی لیٹر بیڈ ملا، تو ان کے رشتہ داروں کو سرکاری اسپتال کے اسٹوریج روم سے وارڈ تک آکسیجن سیلنڈر لے جانا پڑا۔ ان کی بیوی جیوتی (عمر ۳۳ سال) کہتی ہیں، ’’اُس وقت وہاں اسٹاف کا کوئی ممبر موجود نہیں تھا اور ان کی آکسیجن کی سطح لگاتار کم ہو رہی تھی۔ ان کے بھائی اپنے کندھے پر سیلنڈر رکھ کر لے آئے اور اسے ٹھیک کرنے کے لیے وارڈ کے معاون سے ملے۔‘‘

لیکن بابا صاحب بچ نہ سکے۔ بالا صاحب، جو شہر سے ۳۰ کلومیٹر دور ییلمب گھاٹ کے نائب سرپنچ تھے، ان کی بیوی جیوتی کہتی ہیں، ’’وہ ہمیشہ باہر، لوگوں کے لیے دستیاب رہتے تھے۔ لوگ ان کے پاس اپنے مسائل لیکر آتے رہتے تھے۔‘‘

بالا صاحب کی بیوی جیوتی، جو گاؤں کے ہی ایک اسکول میں ٹیچر ہیں، بتاتی ہیں کہ ان کے شوہر ییلمب گھاٹ میں کورونا ویکسین کے تئیں بیداری پھیلانے کے لیے کام کر رہے تھے۔ جیوتی کے مطابق، ’’وہ کوشش کر رہے تھے کہ لوگوں کے دماغ میں ٹیکہ کے تئیں کوئی شک نہ ہو۔ اس کے لیے وہ گھر گھر جاکر لوگوں سے ملاقات کر رہے تھے۔‘‘ جیوتی کا ماننا ہے کہ وہ اسی مہم کے دوران کورونا کی زد میں آ گئے۔ اب ان کے اوپر دو بچیوں، جن کی عمر ۱۴ اور ۹ سال ہے، کی ذمہ داری ہے۔

۲۵ اپریل کو بالا صاحب کو سانس لینے میں تکلیف ہونے لگی، جو ان کے کورونا پازیٹو ہونے کی علامت تھی۔ ان کے والد، ۶۵ سالہ بھاگوت کدم کہتے ہیں، ’’ایک دن پہلے تک وہ گھر کے کھیتوں میں کام کر رہا تھا۔ اسے دوسری کوئی بیماری بھی نہیں تھی، لیکن اسپتال میں داخل ہونے کے اگلے ہی دن (۲۶ اپریل) اس کی موت ہو گئی۔ وہ ڈرا ہوا تھا۔ ایسے وقت میں مریضوں کو ڈاکٹروں کے ذریعے یہ بتائے جانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔ لیکن، ڈاکٹروں کے پاس تو اس کے لیے بھی اب فرصت نہیں ہے۔‘‘

انفیکشن کے خطرے کے باوجود، مریضوں کے رشتہ دار ان کی دیکھ بھال کرنے کے لیے وارڈ میں موجود رہنا چاہتے ہیں، خاص کر تب، جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ اسپتالوں میں اسٹاف کی کتنی کمی ہے۔ بیڈ کے سول اسپتال میں انتظامیہ لگاتار کوشش کر رہی ہے کہ مریضوں کے اہل خانہ وارڈ سے دور رہیں، کیوں کہ اکثر ان کے اور اسپتال کے ملازمین اور پولیس کے درمیان بحث ہونے لگتی ہے۔

Bhagwat Kadam, Balasaheb's father, says his son was scared but the doctors didn't have time to assuage his fears
PHOTO • Parth M. N.

بالا صاحب کے والد بھاگوت کدم کہتے ہیں کہ ان کا بیٹا گھبرایا ہوا تھا، لیکن ڈاکٹروں کے پاس اس کے ڈر کو دور کرنے کے لیے بھی فرصت نہیں تھی

اسپتال سے نکال دیے جانے کے باوجود، فیملی مسلسل کوشش کرتی ہے کہ موقع ملنے پر وہ اپنے عزیز کو دیکھ سکے۔ اسپتال کے باہر موٹر سائیکل پر بیٹھ کر انتظار کر رہے ۳۲ سالہ نتن ساٹھے کہتے ہیں، ’’اگر ہمارے عزیزوں کا خیال رکھا جا رہا ہوتا، تو ہمیں یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ میرے والدین میں سے دونوں کی عمر ۶۰ سال سے زیادہ ہے اور وہ اسپتال میں داخل ہیں۔ کوئی ان سے یہ نہیں پوچھے گا کہ انہیں پانی چاہیے یا انہیں بھوک لگی ہے۔‘‘

ساٹھے، جو اس شہر میں بینک کلرک ہیں، کہتے ہیں کہ مریضوں کی ذہنی حالت کی دیکھ بھال ضروری ہے۔ ’’اگر میں پاس رہوں، تو میں انہیں دیکھ سکتا ہوں، انہیں تسلی دے سکتا ہوں۔ اس سے انہیں کچھ مضبوطی ملے گی اور ان کا ڈر کم ہوگا۔ جب لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے، تو وہ مسلسل بری سے بری چیزوں کے بارے میں سوچتے ہیں۔ اور اس سے ان کے علاج پر بھی اثر پڑتا ہے۔‘‘

ساٹھے اس المیہ پر سوال کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’ایک طرف ہم اسپتال کے باہر رہنے پر مجبور ہیں۔ لیکن، دوسری طرف اسپتال میں مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے مناسب تعداد میں ملازمین نہیں ہیں۔‘‘

مئی کے دوسرے ہفتے میں، ضلع انتظامیہ ملازمین کی کمی کو لیکر اُس وقت سوالوں کے گھیرے میں آ گئی، جب ایک مقامی صحافی کو پتہ چلا کہ سرکاری اعداد و شمار میں کورونا سے ہوئی اموات کو بہت کم کرکے بتایا گیا تھا۔

’لوک مت‘ اخبار کے ۲۹ سالہ رپورٹر، سومناتھ کھٹال نے شمشان گھاٹ پر آخری رسومات ادا کرنے والے لوگوں کی تعداد کا موازنہ سرکاری اعداد و شمار سے کرتے ہوئے پایا کہ دونوں کے درمیان ۱۰۵ اموات کا فرق ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’اس خبر کے آنے کے ایک ہفتہ بعد ہی انتظامیہ نے سرکاری اعداد و شمار میں تقریباً ۲۰۰ اموات کا اضافہ کیا۔ کچھ معاملے تو پچھلے سال کے تھے۔‘‘

ڈی ایچ او پوار اس غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کی وجہ اسپتال میں ملازمین کی کم تعداد ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ انتظامیہ معاملوں کی تعداد کم کرکے دکھانا چاہتی تھی۔ ان کا کہنا ہے، ’’ہمارا نظام یہ ہے کہ جب کوئی شخص کووڈ پازیٹو پایا جاتا ہے، تو کووڈ پورٹل پر ہمیں ایک نوٹیفکیشن بھیجا جاتا ہے۔ جہاں بھی مریض کو داخل کیا گیا ہے، ان کے اوپر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے کورونا پازیٹو ہونے کے ساتھ ساتھ، اس کے علاج اور اس کی صحت کی معلومات کو اپ ڈیٹ کرتے رہیں۔‘‘

Nitin Sathe sitting on a motorbike outside the hospital while waiting to check on his parents in the hospital's Covid ward
PHOTO • Parth M. N.

اسپتال کے کووڈ وارڈ میں اپنے والدین کی جانچ کے لیے اسپتال کے باہر موٹر سائیکل پر بیٹھے نتن ساٹھے

پوار کہتے ہیں، ’’لیکن جب اپریل میں کورونا معاملوں کی یومیہ تعداد ۲۵-۳۰ سے لیکر ۱۵۰۰ تک پہنچ گئی، تو ان معاملوں کے بوجھ تلے کسی کی توجہ درج اعداد و شمار پر نہیں گئی۔ ان کا علاج کورونا سے متاثرہ مریض کے طور پر ہی کیا جا رہا تھا، لیکن ان میں سے ہوئی کچھ اموات کو پورٹل پر اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا۔ ہم اپنی غلطی مانتے ہیں اور جب یہ خبر آئی (شائع ہوئی)، تو ہم نے ضلع میں کورونا سے ہوئی اموات کے اعداد و شمار کو درست کیا ہے۔‘‘

حالانکہ، ضلع انتظامیہ نے اپنی غلطی مان لی، لیکن انہوں نے سبھاش پر مبینہ طور پر کورونا پروٹوکال توڑنے اور ’’لتا کی لاش کی بے حرمتی کرنے‘‘ کے الزام میں کارروائی شروع کی ہے۔

سبھاش بتاتے ہیں، ’’اسپتال کے ملازمین نے لاش کا اینٹیجن ٹیسٹ کیا، جو نگیٹو آیا۔ اس لیے انہوں نے مجھے اجازت دی کہ میں لاش کو اپنے گھر لے جا سکوں۔‘‘

سبھاش نے اسپتال سے پوچھا تھا کہ کیا انہیں اپنی بہن کی لاش کو اپنے گاؤں لے جانے کی اجازت ہے (ان کا گاؤں کمبھار واڑی شہر سے تقریباً ۳۵ کلومیٹر دور بیڈ کے گیورائی تعلقہ میں ہے)۔ لتا وہاں اپنے شوہر رستم اور اپنے چار سال کے بیٹے، شریئس کے ساتھ رہتی تھیں۔ ’’یہ فیملی کی مرضی تھی۔ ہم اس کی آخری رسومات احترام کے ساتھ کرنا چاہتے تھے۔‘‘

لیکن، جب وہ اپنے گاؤں کمبھار واڑی کے لیے روانہ ہو چکے تھے، تو اسپتال نے سبھاش کو فون کرتے ہوئے کہا کہ وہ لاش کو واپس اسپتال پہنچا دیں۔ ’’میں نے اپنے رشتہ داروں سے کہا کہ ہمیں انتظامیہ کی بات ماننی ہوگی، کیوں کہ یہ بیحد مشکل وقت ہے۔ ہم نے واپسی کا راستہ پکڑا اور لاش کو لیکر اسپتال آ گئے۔‘‘

لیکن، سول اسپتال نے وبائی امراض کے قانون، ۱۸۹۷ کے تحت سبھاش پر ایف آئی آر درج کرا دی۔ بیڈ کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ  رویندر جگتاپ کہتے ہیں، ’’اسپتال میں اگر کسی مریض کی کورونا سے موت ہو جاتی ہے، تو اس کے بعد کچھ پروٹوکال کی تعمیل کرنی ہوتی ہے۔ اس معاملے میں مریض کے اہل خانہ نے پروٹوکال پر عمل نہیں کیا۔ اینٹیجن ٹیسٹ کا کوئی مطلب نہیں ہے۔‘‘

Left: Subash Kabade shows his letter to the district collector explaining his side in the hospital's complaint against him. Right: Somnath Khatal, the journalist who discovered the discrepancy in official number of Covid deaths reported in Beed
PHOTO • Parth M. N.
Left: Subash Kabade shows his letter to the district collector explaining his side in the hospital's complaint against him. Right: Somnath Khatal, the journalist who discovered the discrepancy in official number of Covid deaths reported in Beed
PHOTO • Parth M. N.

بائیں: سبھاش کباڈے نے اپنے خلاف اسپتال کے ذریعے درج کرائے گئے معاملے میں اپنی بات رکھتے ہوئے ڈسٹرکٹ کلکٹر کو خط لکھا؛ دائیں: صحافی سومناتھ کھٹال، جنہوں نے ضلع میں کورونا اموات کو لیکر درج سرکاری معاملوں کی گڑبڑیوں کو اجاگر کیا

کووڈ پروٹوکال کے مطابق، مریض کی لاش کو ایک سیل بند باڈی بیگ میں لپیٹ کر، اسپتال سے سیدھے شمشان گھاٹ لے جانا ہوتا ہے، تاکہ اس کی آخری رسومات ادا کی جا سکے۔

سبھاش کہتے ہیں کہ وہ صرف اس لیے لتا کی لاش لے گئے، کیوں کہ اسپتال نے اس کے لیے اجازت دے دی تھی۔ وہ کہتے ہیں، ’’میں ایک وکیل ہوں۔ میں پروٹوکال کو سمجھتا ہوں۔ میں اسپتال کے خلاف جاکر اپنی فیملی کی صحت کو خطرے میں کیوں ڈالوں گا؟‘‘

وہ افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ اسپتال نے اس بات کا خیال بھی نہیں رکھا کہ اس سے پہلے انہوں نے کتنے مریضوں اور اسپتال کے ملازمین کی مدد کی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’میں نے کم از کم ۱۵۰ مریضوں کی اسپتال میں داخل ہونے میں مدد کی ہے۔ کئی مریضوں کو لکھنا پڑھنا نہیں آتا تھا، اور وہ ڈرے ہوئے تھے۔ میں نے انہیں فارم بھرنے اور اسپتال میں جگہ ڈھونڈنے میں مدد کی۔ میں نے وہ کام کیا جو اسپتال کے ملازمین کو کرنا چاہیے تھا۔‘‘

لتا کے بیمار ہونے کے پہلے سے ہی، سبھاش سول اسپتال میں مریضوں کو داخل کرانے میں مدد کر رہے تھے۔ بہن کے اسپتال میں داخل ہونے کے بعد کے ہفتوں کو ملاکر، کل ڈیڑھ مہینے سے وہ اسپتال میں لوگوں کی مدد کر رہے تھے۔‘‘

اسپتال میں اپنی بہن کی دیکھ بھال کرنے کے دوران، انہوں نے ایک کورونا مریض کو زمین سے اٹھاکر بیڈ پر لٹایا۔ وہ بتاتے ہیں، ’’وہ ایک بزرگ خاتون تھیں۔ اپنے بیڈ سے گرکر زمین پر پڑی ہوئی تھیں، لیکن کسی کی توجہ ان کے اوپر نہیں تھی۔ اسپتال میں مریضوں کی حالت ایسی ہی ہے۔‘‘

بیڈ کے ایک ہوٹل کی لابی میں سبھاش مجھ سے ملے، کیوں کہ وہ مجھے اپنے گھر نہیں بلا سکتے تھے۔ وہ بہت مایوس، پریشان اور ناراض دکھائی دے رہے تھے۔ انہوں نے بتایا، ’’میرے والدین میری بہن کی موت کے بعد سے ہی صدمے میں ہیں۔ وہ گفتگو کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔ مجھے بھی کوئی ہوش نہیں ہے۔ لتا کا بیٹا مجھے فون کرکے بار بار پوچھتا ہے کہ ’آئی گھر کب آئیں گی؟‘ مجھے نہیں معلوم کہ میں اس کو کیا بتاؤں؟‘‘

مترجم: محمد قمر تبریز

Parth M. N.

Parth M.N. is a 2017 PARI Fellow and an independent journalist reporting for various news websites. He loves cricket and travelling.

Other stories by Parth M. N.
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez