ایئرپّا باگوے کو مارچ ۲۰۱۹ میں جب بنگلورو میں پروجیکٹ مینیجر کی نوکری ملی، تو انہیں یہ بالکل بھی معلوم نہیں تھا کہ ایک سال بعد لاک ڈاؤن کے سبب ان کی نوکری چلی جائے گی اور وہ جون ۲۰۲۰ میں، شمال مشرقی کرناٹک کے بیدر ضلع میں اپنے گاؤں، کامتھانا میں منریگا کے مقامات پر کام کر رہے ہوں گے۔

’’ایک مہینہ تک گھر پر بیکار بیٹھے رہنے کے بعد، میں نے اپریل میں نریگا کے طریقہ کار کو سمجھنے کی کوشش کی، کمانے اور یہ یقینی بنانے کے لیے کہ میری فیملی زندہ رہے۔ جب لاک ڈاؤن کا اعلان ہوا، تو ہمارے پاس پیسہ بالکل بھی نہیں تھا۔ میری ماں کو بھی کام ملنا مشکل ہو رہا تھا کیوں کہ کھیتوں کے مالک مزدوروں کو نہیں بلا رہے تھے،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔

لاک ڈاؤن کے سبب ان کی جو نوکری چلی گئی، وہ بہت محنت اور بڑھتے قرض اور ان کے اہل خانہ کے تعاون اور عزم کی بناپر ملی تھی کہ تعلیم سے ان کے معیار زندگی اور آمدنی میں اضافہ ہوگا۔

ایئرپّا نے اگست ۲۰۱۷ میں بیدر کے ایک پرائیویٹ کالج سے بی ٹیک کی ڈگری حاصل کی تھی اور اس سے پہلے، ۲۰۱۳ میں، اسی شہر کے ایک سرکاری پولی ٹیکنک سے آٹوموبائل انجینئرنگ میں ڈپلومہ کیا تھا۔ ڈگری کورس کے لیے داخلہ سے پہلے انہوں نے آٹھ مہینے تک پونہ میں زرعی مشینری بنانے والی ایک بین الاقوامی کمپنی میں تکنیکی مہارت حاصل کرنے والے کے طور پر کام کیا تھا، جہاں انہیں ہر مہینے ۱۲ ہزار روپے ملتے تھے۔ ’’میں ایک اچھا طالب علم تھا، اس لیے مجھے لگا کہ میں بڑی ذمہ داریاں لے سکتا ہوں اور زیادہ پیسے کما سکتا ہوں۔ میں نے سوچا کہ ایک دن مجھے بھی لوگ انجینئر کہیں گے،‘‘ ۲۷ سالہ ایئرپا کہتے ہیں۔

ان کی فیملی نے ان کی تعلیم کے لیے کئی قرض لیے۔ ’’تین سال [بی ٹیک] میں، مجھے تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے کی ضرورت تھی،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’مقامی سیلف ہیلپ گروپ (ایس ایچ جی) سے میرے والدین کبھی ۲۰ ہزار روپے لیتے تو کبھی ۳۰ ہزار روپے۔‘‘ دسمبر ۲۰۱۵ میں، جب وہ اپنے پانچویں سیمسٹر میں تھے، تو ان کے ۴۸ سالہ والد، ایک مزدور، کا یرقان (پیلیا) کے سبب انتقال ہو گیا۔ ان کے علاج کے لیے، فیملی نے ایس ایچ جی اور رشتہ داروں سے تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے مزید قرض لیے۔ ’’میں نے جب اپنی ڈگری مکمل کر لی، تو میرے کندھوں پر کئی ذمہ داریاں آن پڑیں،‘‘ ایئرپا کہتے ہیں۔

اس لیے جب انہیں بنگلورو میں ۲۰ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر پلاسٹک مولڈنگ مشین بنانے کی ایک چھوٹی سی اکائی میں پروجیکٹ مینیجر کے طور پر نوکری ملی، تو ان کے اہل خانہ کافی خوش تھے۔ یہ مارچ ۲۰۱۹ کی بات ہے۔ ’’میں ہر مہینے اپنی ماں کو ۸-۱۰ ہزار روپے بھیجتا تھا۔ لیکن، لاک ڈاؤن شروع ہوتے ہی سب کچھ بدل گیا۔‘‘

Earappa Bawge (left) with his mother Lalita and brother Rahul in Kamthana village (right) of Karnataka's Bidar district, where many sought work at MGNREGA sites during the lockdown
PHOTO • Courtesy: Earappa Bawge
Earappa Bawge (left) with his mother Lalita and brother Rahul in Kamthana village (right) of Karnataka's Bidar district, where many sought work at MGNREGA sites during the lockdown
PHOTO • Courtesy: Sharath Kumar Abhiman

اپنی ماں للتا اور بھائی راہل کے ساتھ ایئرپا باگوے (بائیں) کرناٹک کے بیدر ضلع کے کامتھانا گاؤں (دائیں) میں، جہاں لاک ڈاؤن کے دوران کئی لوگ منریگا کے مقامات پر کام تلاش کرنے لگے

ایئرپا کو اپنی ماں للتا کی طرف سے لگاتار کال آنے لگے۔ انہیں لگا کہ ان کا بیٹا ان کے گاؤں میں محفوظ رہے گا۔ ’’میں نے ۲۲ مارچ تک کام کیا۔ چونکہ مہینہ ختم ہونے والا تھا، اس لیے میرے پاس گھر لوٹنے کے لیے پورے پیسے نہیں تھے۔ مجھے اپنے چچیرے بھائی سے ۴ ہزار روپے قرض لینے پڑے،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ آخرکار، وہ ایک پرائیویٹ کار سے اپنے گھر پہنچے۔

اگلے مہینہ کے لیے، یہ چار رکنی فیملی – ان کا تعلق گونڈ برادری سے ہے، جو درج فہرست قبیلہ ہے – اپنی ماں کی آمدنی پر منحصر رہی، جو کام ملنے پر کھیتوں سے گھاس نکالتی ہیں، جس کے لیے انہیں ۱۰۰-۱۵۰ روپے یومیہ مزدوری ملتی ہے۔ ایئرپا بتاتے ہیں کہ کھیتوں کے مالک یہ کام عام طور پر تجربہ کار عورتوں سے کرواتے ہیں، اور ان کے جیسے نوجوان مردوں کو نہیں بلاتے۔ اور انہوں نے اپنے بی پی ایل (خط افلاس سے نیچے) کارڈ پر پی ڈی ایس راشن اٹھایا۔ ایئرپا کے دو چھوٹے بھائی ہیں – ۲۳ سالہ راہل کرناٹک پبلک سروس کمیشن کی نوکریوں کے لیے امتحان کی تیاری کر رہا ہے، جب کہ ۱۹ سالہ ولاس بی اے ڈگری کورس کے پہلے سال میں ہے اور فوج میں بھرتی ہونے کی تیاری کر رہا ہے۔ فیملی کی ایک ایکڑ بارش پر مبنی زمین پر، وہ مسور، مونگ اور جوار اُگاتے ہیں، جس کے زیادہ تر حصے کا استعمال وہ خود اپنے کھانے میں کرتے ہیں۔ فیملی کے پاس ایک بھینس بھی ہے، جس کی دیکھ بھال ایئرپا کے بھائی کرتے ہیں، اور اس کا دودھ فروخت کرکے وہ ہر مہینے تقریباً ۵ ہزار روپے کماتے ہیں۔

ایئرپا نے منریگا کے مقامات پر ۳۳ دن کام کیا – زیادہ تر نہر سے کیچڑ نکالنے کا کام – اور کل ۹ ہزار روپے سے تھوڑا زیادہ کمائے۔ ان کے بھائیوں میں سے ہر ایک نے جولائی میں ۱۴ دن کام کیا، جب کہ ان کی ماں نے ۳۵ دن کام کیا – مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار گارنٹی قانون، ۲۰۰۵ کے تحت، ایک فیملی ایک سال میں کل ۱۰۰ دنوں کے کام کی حقدار ہے۔ ستمبر سے ان کی ماں کو زیادہ تر، ۱۰۰-۱۵۰ روپے کی ان کی عام یومیہ مزدوری پر کھیتوں سے گھاس نکالنے کا کام ملتا رہا ہے۔

ان کے بیدر لوٹنے کے کچھ دنوں کے اندر، بنگلورو میں ایئرپا جس مینوفیکچرنگ اکائی میں کام کرتے تھے، وہ تین مہینے کے لیے بند ہو گئی۔ ’’میرے باس نے کہا کہ سبھی کے لیے مناسب کام نہیں ہے،‘‘ وہ پریشان حالت میں بتاتے ہیں۔ ’’میں نے اپنا بایوڈیٹا بنگلورو، پونہ اور بامبے میں کام کر رہے انجینئرنگ کالج کے اپنے تین چار دوستوں کو بھیجا ہے،‘‘ وہ آگے کہتے ہیں۔ ’’میں نوکری کی ویب سائٹوں کو پابندی سے چیک کرتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ کہیں نہ کہیں [پھر سے] نوکری مل جائے گی۔‘‘

*****

اسی گاؤں میں، ایک اور نوجوان کے خواب ٹوٹ چکے ہیں۔ ستمبر ۲۰۱۹ میں (آکسفورڈ کالج آف انجینئرنگ، بنگلورو سے) ایم بی اے کا کورس پورا کرنے والے ۲۵ سالہ آتش میترے نے بھی حالیہ مہینوں میں کامتھانا گاؤں میں ایئرپا کے ساتھ منریگا کے مقامات پر کام کیا ہے۔

 Atish Metre (right), who has completed his MBA coursework, also went to work at MGNREGA sites in Kamthana village in Karnataka
PHOTO • Courtesy: Earappa Bawge
 Atish Metre (right), who has completed his MBA coursework, also went to work at MGNREGA sites in Kamthana village in Karnataka
PHOTO • Courtesy: Atish Metre

آتش میترے (دائیں) بھی، جنہوں نے اپنا ایم بی اے کورس پورا کر لیا ہے، کرناٹک کے کامتھانا گاؤں میں منریگا کے مقامات پر کام کرنے گئے

اس سال اپریل میں، انہیں لاک ڈاؤن کے سبب بنگلورو میں ایچ ڈی ایف سی بینک کے سیلز ڈویژن کی اپنی نوکری چھوڑنی پڑی۔ ’’ہمیں ٹارگیٹ پورے کرنے تھے، لیکن گھر سے باہر نکلنے کی نہ تو اجازت تھی اور نہ ہی یہ محفوظ تھا۔ میری ٹیم کے زیادہ تر لوگوں نے نوکری چھوڑ دی تھی۔ میرے پاس اور کوئی متبادل نہیں تھا،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔

وہ اپنی نئی دلہن، ۲۲ سالہ ستیہ وتی لڈگورے کے ساتھ کامتھانا لوٹ آئے۔ ستیہ وتی کے پاس بی کام کی ڈگری ہے اور انہوں نے بھی کچھ دنوں تک آتش کے ساتھ منریگا کے مقامات پر کام کیا، جب تک کہ وہ وہ محنت کے کام سے تھک نہیں گئیں۔ آتش نے کام کرنا جاری رکھا، اور ۲۱ نومبر تک وہ ان مقامات پر ۱۰۰ دن کا کام کر چکے تھے – جیسے کہ گڑھے کھودنا، چھوٹے باندھوں کی صفائی کرنا، جھیلوں سے کیچڑ نکالنا – اور کل ملاکر تقریباً ۲۷ ہزار روپے کمائے تھے۔

اپریل میں، آتش کے دو بڑے بھائیوں – فیملی کا تعلق ہولیا برادری سے ہے، جو درج فہرست قبیلہ ہے – نے ایک چھوٹی سی تقریب میں شادی کی، جس کے لیے ان کی ماں نے مقامی سیلف ہیلپ گروپ سے ۷۵ ہزار روپے قرض لیے تھے؛ قسطوں کی ادائیگی ہر ہفتے کی جانی ہے۔ آتش نے موٹر سائیکل خریدنے کے لیے نومبر ۲۰۱۹ میں ۵۰ ہزار روپے قرض لیے تھے، جس کے لیے انہیں بھی ہر مہینے  ۳۷۰۰ روپے چکانے پڑتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں، فیملی بڑے پیمانے پر ان کے بڑے بھائی، پردیپ کی آمدنی پر منحصر رہی، جو بنگلورو کی ایک کمپنی میں اے سی ٹیکنیشین کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان کے ماں باپ مزدور ہیں، جیسا کہ آٹھ رکنی فیملی میں ایک اور بھائی ہے۔

’’میرے بھائی پردیپ لاک ڈاؤن کے بعد، اپریل میں میرے ساتھ کامتھانا لوٹ آئے تھے۔ لیکن اگست میں وہ  بنگلورو واپس چلے گئے اور اپنی پرانی کمپنی میں شامل ہو گئے،‘‘ آتش بتاتے ہیں۔ ’’میں بھی پیر [۲۳ نومبر] کو بنگلور جا رہا ہوں۔ میں ایک دوست کے ساتھ رہوں گا اور نوکری تلاش کروں گا؛ میں کسی بھی شعبہ میں کام کرنے کو تیار ہوں۔‘‘

*****

آتش اور ایئرپا کے برعکس، پریتم کیمپے ۲۰۱۷ میں گریجویشن کرنے کے بعد کامتھانا میں ہی رک گئے۔ انہیں پینے کے پانی کے ایک پلانٹ میں کوالٹی ٹیسٹر کے طور پر ۶ ہزار روپے ماہانہ پر جزوقتی کام مل گیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے دسمبر ۲۰۱۹ میں بی ایڈ کا کورس مکمل کیا۔ ’’مجھے اپنی فیملی کی مدد کرنے کے لیے گریجویشن مکمل ہونے کے فوراً بعد کام شروع کرنا پڑا، شہر جانا میرے لیے کوئی متبادل نہیں تھا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’مجھے نہیں لگتا کہ میں اب بھی کسی شہر میں جا پاؤں گا کیوں کہ ماں کو میری ضرورت ہے۔‘‘

ان کی ماں – اس فیملی کا تعلق بھی ہولیا ایس سی برادری سے ہے – کپڑے کی سلائی کرکے آمدنی حاصل کرتی ہیں، لیکن کام کی وجہ سے ان کی نظر کمزور ہو گئی ہے اور پیروں میں درد رہتا ہے؛ ان کی بہن بھی بی ایڈ کر رہی ہے، دو بڑے بھائی بہن شادی شدہ ہیں اور الگ رہتے ہیں؛ ان کے والد، ایک کسان، کا ۲۰۰۶ میں انتقال ہو گیا تھا۔

Left: Pritam Kempe with his mother Laxmi Kempe and sister Pooja in Kamthana. Right: Mallamma Madankar of Taj Sultanpur village in Gulbarga district. Both put their career plans on hold and tried their hand at daily wage labour
PHOTO • Courtesy: Pritam Kempe
Left: Pritam Kempe with his mother Laxmi Kempe and sister Pooja in Kamthana. Right: Mallamma Madankar of Taj Sultanpur village in Gulbarga district. Both put their career plans on hold and tried their hand at daily wage labour
PHOTO • Courtesy: Mallamma Madankar

بائیں: پریتم کیمپے کامتھانا میں اپنی ماں لکشمی کیمپے اور بہن پوجا کے ساتھ۔ دائیں: گلبرگہ ضلع کے تاج سلطانپور گاؤں کی ملّمّا مدنکر۔ دونوں نے اپنے کریئر کے منصوبہ کو طاق پر رکھ دیا اور یومیہ مزدوری میں ہاتھ آزمایا

پریتم نے اپنی بڑی بہن کی شادی کے لیے ایک پرائیویٹ فائنانسنگ فرم سے فروری میں ایک لاکھ روپے قرض لیے تھے۔ قرض چکانے کے لیے انہیں ہر مہینے ۵۵۰۰ روپے جمع کرنے ہوں گے۔ لاک ڈاؤن کے دوران انہیں اپنی ماں کا سونا گاؤں کے ایک آدمی کے پاس گروی رکھ کر پھر سے قرض لینے پڑے، تاکہ وہ سود کی اس رقم کو ادا کر سکیں۔

مئی کے پہلے ہفتہ میں، انہوں نے بھی ایئرپا اور آتش کے ساتھ منریگا کے مقامات پر کام کرنا شروع کر دیا۔ ’’میرے لیے اس طرح سے رقم کا انتظام کرنا بہت مشکل ہے۔ جب بارش ہوتی ہے، تو ہمارے پاس نریگا کا کام بھی نہیں ہوتا ہے،‘‘ انہوں نے مجھے کچھ دنوں پہلے بتایا تھا۔ پریتم نے ۲۱ نومبر تک مختلف مقامات پر ۹۶ دنوں تک کام کیا، اور تقریباً ۲۶ ہزار روپے کمائے۔

’’میں جس پینے والے پانی کے پلانٹ میں برسر روزگار ہوں، وہاں بہت کام نہیں ہے،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’میں اس جگہ ہفتہ میں تین چار بار کچھ گھنٹوں کے لیے جاتا ہوں۔ مجھے [ایک بار] اکتوبر میں ۵ ہزار روپے ادا کیے گئے تھے۔ کچھ مہینوں سے میری تنخواہ نہیں ملی ہے۔ اب بھی لگاتار تنخواہ ملنے کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ اس لیے میں بیدر کے صنعتی علاقے میں نوکری تلاش کر رہا ہوں۔‘‘

*****

لاک ڈاؤن کے دوران کامتھانا گاؤں – جس کی آبادی ۱۱۱۷۹ ہے – میں ایئرپا، آتش اور پریتم جیسے کئی دیگر لوگ پریشانی کی حالت میں، منریگا کے کام کرنے پرمجبور ہوئے۔

’’شروعات میں، جب لاک ڈاؤن لگایا گیا تھا، تو بہت سے لوگوں کا کام بند ہو گیا اور وہ کھانے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے،‘‘ لکشمی باگوے کہتی ہیں، جنہوں نے مارچ ۲۰۲۰ میں بدھ بساوا امبیڈکر یوتھ ٹیم بنانے میں مدد کی۔ اس گروپ نے، جس کے اس وقت تمام عمر کے تقریباً ۶۰۰ رکن ہیں، لاک ڈاؤن کے ابتدائی ہفتے میں بیدر شہر کی ضلع انتظامیہ کے ساتھ مل کر کامتھانا میں ان کنبوں کو راشن تقسیم کیے، جن کے پاس یا تو کارڈ نہیں تھا یا جو پی ڈی ایس کی دکانوں تک پہنچنے سے قاصر تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے حاملہ عورتوں کو آنگن واڑیوں سے کھانے کی سپلائی کی، اور دیگر طریقے سے مدد کرنے کی کوشش کی۔

آل انڈیا ڈیموکریٹک ویمنس ایسوسی ایشن کی رکن، ۲۸ سالہ لکشمی نے منریگا کے کام کے لیے رجسٹریشن کے عمل کو سمجھنے کے لیے پڑوسی گلبرگہ ضلع کے سینئر کارکنوں سے بات کی۔ ’’ان بے روزگار نوجوانوں کے لیے جاب کارڈ حاصل کرنا آسان نہیں تھا،‘‘ وہ کہتی ہیں، کیوں کہ پنچایت کی سطح پر اس عمل میں بے قاعدگیاں ہیں۔ ’’حالانکہ، ضلع کے سینئر اہلکاروں نے مدد کی اور یقینی بنایا کہ وہ کام کرنا شروع کر سکتے ہیں۔‘‘

At MGNREGA trenches in Kamthana. The village's young people are desperate for work where they can use their education
PHOTO • Courtesy: Sharath Kumar Abhiman
At MGNREGA trenches in Kamthana. The village's young people are desperate for work where they can use their education
PHOTO • Courtesy: Sharath Kumar Abhiman

کامتھانا میں منریگا کے تحت کھودے گئے گڑھے کے پاس۔ گاؤں کے نوجوان ایسے کام کے لیے بیتاب رہتے ہیں جہاں وہ اپنی تعلیم کا استعمال کر سکیں

بیدر تعلقہ پنچایت کے اسسٹنٹ ڈائرکٹر، سرتھ کمار ابھیمان بتاتے ہیں کہ اپریل سے ستمبر، ۲۰۲۰ تک کامتھانا میں کل ۴۹۴ منریگا جاب کارڈ جاری کیے گئے۔ ’’ضلع انتظامیہ نے محسوس کیا کہ مہاجر مزدوروں کا ایک بڑا گروپ بڑے شہروں اور قصبوں سے بیدر لوٹ رہا ہے۔ اس لیے ہم نے ان کے لیے جاب کارڈ جاری کرنا شروع کیا اور نریگا کے تحت چھوٹے گروپ بنائے اور کام تقسیم کیا،‘‘ ابھیمان نے مجھے فون پر بتایا۔

*****

کامتھانا سے تقریباً ۱۰۰ کلومیٹر دور، گلبرگہ ضلع کے تاج سلطانپور گاؤں میں ۲۸ سالہ ملّمّا مدنکر ۲۰۱۷ سے ہی، جب وہ ایک طالبہ تھیں، منریگا کے مقامات پر کام کرنے لگی تھیں – جھیلوں سے کیچڑ نکالنا، کھیتی کے لیے تالابو، نالو اور سڑکوں کی تعمیر کرنا۔ ’’میں اپنے گھر سے جلدی نکل جاتی تھی، صبح ۹ بجے تک کام کرتی تھی، پھر اپنے کالج کے لیے بس پکڑتی تھی،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔

مارچ ۲۰۱۸ میں، وہ گلبرگہ کے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کالج سے اپنی قانون کی ڈگری مکمل کرنے میں کامیاب رہیں، اور ۶ ہزار روپے ماہانہ پر نو مہینے تک اسیٹ بینک آف انڈیا میں کلرک کے طور پر کام کیا۔ ’’میں گلبرگہ کی ضلع عدالت میں کسی سینئر وکیل کی نگرانی میں اپنی وکالت شروع کرنا چاہتی تھی، اور ایک سے بات بھی کر لی تھی جنہوں نے مجھے کالج کے پروجیکٹ میں مدد کی تھی۔ میرا ارادہ اس سال عدالتوں میں کام شروع کرنے کا تھا، لیکن میں [کووڈ کے سبب] شروع نہیں کر سکی۔‘‘

اس لیے ملّمّا – وہ ہولیا ایس سی برادری سے ہیں – اپریل کے آخر اور مئی میں کچھ وقت کے لیے منریگا کے مقامات پر واپس چلی گئیں۔ ’’لیکن بارش اور سماجی دوری کے سبب، ہمارے گاؤں کے اہلکاروں نے ہمیں اس سال نریگا کے تحت زیادہ کام کرنے کی اجازت نہیں دی۔ میں نے صرف ۱۴ دنوں تک کام کیا،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ ’’اگر کووڈ نہیں ہوتا، تو میں عدالت میں کام کرنا شروع کر دیتی۔‘‘

ملّمّا کی سات رکنی فیملی نے تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے کی پوری کوشش کی ہے؛ ایک بہن کے پاس ایم اے- بی ایڈ کی ڈگری ہے (جس نے بنگلورو میں ایک این جی او کے ساتھ سرویئر کے طور پر کام کیا)، دوسری کے پاس سوشل ورک میں ماسٹر کی ڈگری ہے (جو بیدر میں ایک این جی او کے ساتھ نوکری کرتی تھی)؛ بھائی کے پاس ایم کام کی ڈگری ہے۔

ان کی ماں، ۶۲ سالہ بھیم بائی اپنی تین ایکڑ زمین کی دیکھ بھال کرتی ہیں، جہاں وہ جوار، باجرا اور دیگر فصلیں اگاتے ہیں، اور پیداوار کا استعمال خاص طور سے اپنے خود کے کھانے کے لیے کرتے ہیں۔ ان کے والد گلبرگہ ضلع کے جیورگی تعلقہ میں ہائی اسکول کے ایک ٹیچر تھے۔ ۲۰۰۲ میں ریٹائرمنٹ کے بعد ان کا انتقال ہو گیا، اور فیملی کو ان کی پنشن کی شکل میں ۹ ہزار روپے ہر مہینے ملتے ہیں۔

’’میری بہنیں لاک ڈاؤن کے سبب گھر لوٹ آئیں،‘‘ ملّمّا کہتی ہیں۔ ’’ہم سبھی ایک وقت بے روزگار ہیں۔‘‘

وہ اور کامتھانا گاؤں کے نوجوان ایسے کام کی تلاش میں بیتاب ہیں جہاں وہ اپنی تعلیم کا استعمال کر سکیں۔ ’’میں کچھ ایسا چاہتا ہوں، جہاں مجھے ذمہ داریاں دی جائیں،‘‘ ایئرپا کہتے ہیں۔ ’’میں چاہتا ہوں کہ میری تعلیم کا استعمال ہو۔ میں ایک انجینئر ہوں اور ایسی جگہ کام کرنا چاہتا ہوں، جہاں میری ڈگری کو کم از کم کچھ وقعت دی جائے۔‘‘

اس مضمون کے لیے تمام انٹرویو ۲۷ اگست سے ۲۱ نومبر کے درمیان فون پر کیے گئے تھے۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Mohd. Qamar Tabrez is PARI’s Urdu/Hindi translator since 2015. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi. You can contact the translator here:

Tamanna Naseer

Tamanna Naseer is a freelance journalist based in Bengaluru.

Other stories by Tamanna Naseer