ایک صبح انو درخت کے نیچے پلاسٹک کی ایک چٹائی پر بیٹھی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ان کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور چہرہ زرد ہے۔ لوگ ان سے فاصلہ بناکر بات کرتے ہیں۔ قریب میں جانور آرام کر رہے ہیں اور چارے کا انبار دھوپ میں سوکھ رہا ہے۔

انو بتاتی ہیں، ’’بارش ہونے پر بھی میں ایک چھاتا لیکر درخت کے نیچے بیٹھتی ہوں اور گھر کے اندر نہیں جاتی۔ یہاں تک کہ میرا سایہ بھی کسی کے اوپر نہیں پڑنا چاہیے۔ ہم اپنے بھگوان کو ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔‘‘

یہ درخت ان کے گھر سے ۱۰۰ میٹر دور، ایک کھلی جگہ پر ہے۔ ہر مہینے حیض کے دوران، تین دنوں کے لیے یہ درخت ہی ان کا ’گھر‘ بن جاتا ہے۔

انو (بدلا ہوا نام) کہتی ہیں، ’’میری بیٹی ایک پلیٹ میں میرے لیے کھانا رکھ کر چلی جاتی ہے۔‘‘ ان دنوں وہ الگ الگ برتن استعمال کرتی ہیں۔ ’’ایسا نہیں ہے کہ یہاں میں اپنی خوشی سے آرام کرتی ہوں۔ میں (گھر پر) کام کرنا چاہتی ہوں، لیکن اپنی ثقافت کی عزت کی وجہ سے میں یہاں پر ہوں۔ حالانکہ، ہمارے کھیتوں میں بہت زیادہ کام ہونے پر میں وہاں بھی کام کرتی ہوں۔‘‘ انو کی فیملی کے پاس ڈیڑھ ایکڑ کھیت ہے جس پر یہ لوگ راگی اُگاتے ہیں۔

حالانکہ، اُن دنوں انو اپنے دَم پر تنہا رہتی ہیں، لیکن ایسا کرنے والی وہ اکیلی نہیں ہیں۔ ۱۷ اور ۱۹ سال کی ان کی بیٹیاں بھی یہی کرتی ہیں (۲۱ سال کی ان کی ایک اور بیٹی ہے، جس کی شادی ہو چکی ہے)۔ ۲۵ کنبوں کے اس چھوٹے سے گاؤں میں، کاڈوگولّا برادری کی عورتوں کو اسی طرح سب سے الگ تھلگ رہنا پڑتا ہے۔

زچگی کے فوراً بعد بھی عورتوں کو مختلف قسم کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انو کے درخت کے ارد گرد ۶ جھونپڑیاں ہیں، جن میں اس قسم کی عورتیں اپنے نوزائیدہ بچوں کے ساتھ رہتی ہیں۔ دیگر مواقع پر یہ جھونپڑیاں خالی ہوتی ہیں۔ حیض کے دوران عورتوں کو درخت کے نیچے ہی رہنا پڑتا ہے۔

The tree and thatched hut in a secluded area in Aralalasandra where Anu stays during three days of her periods
PHOTO • Tamanna Naseer

درخت کے نیچے رکھی ہوئی چٹائی ہر مہینے تین دنوں کے لیے انو کو پناہ دیتی ہے، اور ارد گرد بنی جھونپڑیوں میں عورتیں زچگی کے بعد اپنے نوزائیدہ بچوں کے ساتھ رہتی ہیں

یہ درخت اور جھونپڑیاں گاؤں کے پچھلے حصے میں واقع ہیں، جو کرناٹک کے رام نگر ضلع کے چنّا پٹنہ تعلقہ کے ایک گاؤں (جس کی آبادی سال ۲۰۱۱ کی مردم شماری کے مطابق ۱۰۷۰ ہے) ارلالاسَندر کے شمال میں ہے۔

حیض کے دوران بے گھر ہونے کی اذیت برداشت کر رہی یہ عورتیں حوائج ضروریہ کے لیے جھاڑیوں کے پیچھے جاتی ہیں یا خالی جھونپڑیوں کو استعمال کرتی ہیں۔ اہل خانہ یا پڑوسیوں کے ذریعے انہیں گلاس اور بالٹی میں پانی مہیا کرا دیا جاتا ہے۔

نوزائیدہ بچوں والی خواتین کو ان جھونپڑیوں میں کم از کم ایک مہینے تک دوسروں سے الگ رہنا پڑتا ہے۔ پوجا (بدلا ہوا نام) ایک خاتون خانہ ہیں، جنہوں نے ۱۹ سال کی عمر میں اپنی شادی ہونے کے بعد بی کام کی ڈگری حاصل کی۔ اس سال فروری میں انہوں نے بنگلورو کے پرائیویٹ اسپتال میں (ان کے گاؤں سے ۷۰ کلومیٹر دور) ایک بچے کو جنم دیا تھا۔ پوجا ایک جھونپڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتاتی ہیں، ’’میرا آپریشن (سی سیکشن) ہوا تھا۔ میرے ساس سسر اور شوہر اسپتال آئے تھے، لیکن رواج کے مطابق وہ ایک مہینہ تک بچے کو چھو نہیں سکتے۔ جب میں اپنے میکے (ارلالاسندر گاؤں میں کاڈوگولّا برادری کا محلہ؛ وہ اپنے شوہر کے ساتھ دوسرے گاؤں میں رہتی ہیں) آئی، تو میں ۱۵ دنوں تک ایک جھونپڑی میں رہی۔ اس کے بعد میں اس جھونپڑی میں آ گئی۔‘‘ پورے ۳۰ دن باہر رہنے کے بعد، وہ اپنے بچے کے ساتھ گھر کے اندر داخل ہو سکیں۔

اس گفتگو کے دوران ان کا بچہ رونے لگتا ہے۔ وہ اپنے بچے کو اپنی ماں کی ساڑی سے بنے جھولے میں لٹا دیتی ہیں۔ پوجا کی ماں، گنگمّا (ان کی عمر ۴۰ سال سے کچھ زیادہ ہے) کہتی ہیں، ’’وہ (پوجا) صرف ۱۵ دنوں کے لیے الگ جھونپڑی میں رہی۔ اپنے گاؤں میں، ہم لوگ کافی نرم مزاج ہو گئے ہیں۔ (کاڈوگولّا کے) دوسرے گاؤوں میں زچگی کے بعد ماں کو اپنے بچے کے ساتھ دو مہینے سے بھی زیادہ وقت کے لیے جھونپڑی میں رہنا پڑتا ہے۔‘‘ ان کی فیملی بھیڑ پالتی ہے اور اپنی ایک ایکڑ زمین پر راگی اور آم کی کھیتی کرتی ہے۔

پوجا اپنی ماں کی بات سن رہی ہیں، ان کا بچہ جھولے میں سو گیا ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’مجھے کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔ میری ماں مجھے سب کچھ سمجھانے کے لیے موجود ہیں۔ بس، باہر گرمی بہت زیادہ ہے۔‘‘ وہ اب ۲۲ سال کی ہیں اور ایم کام کی ڈگری کے لیے آگے پڑھنا چاہتی ہیں۔ ان کے شوہر بنگلورو کے ایک پرائیویٹ کالج میں اٹینڈنٹ کا کام کرتے ہیں۔ پوجا آگے کہتی ہیں، ’’میرے شوہر بھی چاہتے ہیں کہ میں اس رواج کی پیروی کروں۔ میں یہاں نہیں رہنا چاہتی۔ لیکن، میں نے مخالفت نہیں کی۔ ہم سبھی کو یہ سب کرنا ہی پڑتا ہے۔‘‘

*****

یہ رواج کاڈوگولّا کے دوسرے گاؤوں میں بھی ہے۔ ان تمام بستیوں کو مقامی طور پر گولّاراڈوڈّی یا گولارہٹّی کہا جاتا ہے۔ تاریخی اعتبار سے کوڈوگولّا مویشی پروری کرنے والی ایک خانہ بدوش ذات ہے، جسے کرناٹک میں دیگر پس ماندہ ذات (او بی سی) قرار دیا گیا ہے (حالانکہ، یہ برادری خود کو درج فہرست قبیلہ کے طور پر تسلیم کیے جانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے)۔ کرناٹک میں اس برادری کی تعداد تقریباً ۳ لاکھ (جیسا کہ رام نگر کے پس ماندہ طبقہ کی فلاح و بہبود کے محکمہ کے ڈپٹی ڈائرکٹر پی بی باسَوراجو بتاتے ہیں) سے ۱۰ لاکھ (کرناٹک پس ماندہ طبقہ کمیشن کے ایک سابق رکن کے مطابق) کے درمیان ہے۔ باسَوراجو کے مطابق، یہ برادری عام طور پر ریاست کے جنوبی اور وسط حصے میں شامل دس ضلعوں میں رہتی ہے۔

Left: This shack right in front of Pooja’s house is her home for 15 days along with her newborn baby. Right: Gangamma says, 'In our village, we have become lenient. In other [Kadugolla] villages, after delivery, a mother has to stay in a hut with the baby for more than two months'
PHOTO • Tamanna Naseer
Left: This shack right in front of Pooja’s house is her home for 15 days along with her newborn baby. Right: Gangamma says, 'In our village, we have become lenient. In other [Kadugolla] villages, after delivery, a mother has to stay in a hut with the baby for more than two months'
PHOTO • Tamanna Naseer

بائیں: پوجا اپنے گھر کے بغل میں بنی جھونپڑی میں اپنے نوزائیدہ بچے کے ساتھ ۱۵ دن رہیں۔ دائیں: گنگمّا کہتی ہیں، ’اپنے گاؤں میں ہم لوگ کافی نرم مزاج ہو گئے ہیں۔ (کاڈوگولّا کے) دوسرے گاؤوں میں زچگی کے بعد ماں کو اپنے بچے کے ساتھ دو مہینے سے بھی زیادہ وقت کے لیے جھونپڑی میں رہنا پڑتا ہے‘

پوجا کی جھونپڑی سے ۷۵ کلومیٹر دور، تمکور ضلع کے ڈی ہوسہلّی گاؤں کی کاڈوگولّا بستی میں، جیمّا بھی ایک دوپہر اپنے گھر کے سامنے والی سڑک کے پاس ایک درخت کے نیچے آرام کر رہی ہیں۔ یہ ان کے حیض کا پہلا دن ہے۔ ان کے ٹھیک پیچھے ایک تنگ کھلی ہوئی نالی بہہ رہی ہے، اور ان کے بغل میں اسٹیل کا ایک پلیٹ اور ایک گلاس زمین پر رکھا ہوا ہے۔ وہ ہر مہینے تین دن درخت کے نیچے ہی سوتی ہیں، یہاں تک کہ بارش میں بھی۔ وہ اس دوران اپنے گھر پر کھانا بنانے کا کام نہیں کر سکتیں، لیکن وہ ابھی بھی اپنی بھیڑوں کو چرانے کے لیے پاس کے کھلے علاقوں میں لے جاتی ہیں۔

وہ سوال کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’’باہر کون سونا چاہتا ہے؟ لیکن یہ سبھی کو کرنا پڑتا ہے کیوں کہ بھگوان (کاڈوگولّا برادری کے لوگ کرشن کی پوجا کرتے ہیں) یہی چاہتے ہیں۔ کل میرے پاس ایک پلاسٹک کور تھا، بارش ہونے پر میں اس کے نیچے بیٹھی تھی۔‘‘

جیمّا اور ان کے شوہر دونوں بھیڑ پالتے ہیں۔ ان کے دو بیٹے (دونوں کی عمر ۲۰ سے ۳۰ سال کے درمیان ہے) بنگلورو میں کارخانوں میں کام کرتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’جب ان کی شادی ہوگی تو ان کی بیویوں کو بھی اس دوران باہر سونا پڑے گا کیوں کہ ہم نے ہمیشہ اپنے رواجوں کی پیروی کی ہے۔ چیزیں صرف اس لیے نہیں بدلیں گی کہ مجھے یہ پسند نہیں ہے۔ اگر میرے شوہر اور گاؤں کے دوسرے لوگ اس رواج کو ختم کرنا چاہیں گے، تو میں اُن دنوں (حیض) میں اپنے گھر میں رہنا شروع کر دوں گی۔‘‘

کونیگل تعلقہ کے ڈی ہوسہلّی گاؤں کے کاڈوگولّا محلہ کی دوسری عورتوں کو بھی ایسا کرنا پڑتا ہے۔ ۳۵ سالہ لیلا ایم این (بدلا ہوا نام)، جو گاؤں میں ہی آنگن واڑی کارکن ہیں، بتاتی ہیں، ’’میرے گاؤں میں، حیض آنے پر عورتیں پہلی تین راتوں کے لیے باہر رہتی ہیں اور چوتھے دن کی صبح لوٹتی ہیں۔‘‘ وہ حیض آنے پر خود بھی باہر ہی رہتی ہیں۔ وہ آگے کہتی ہیں، ’’یہ ایک عادت کی طرح ہے۔ لوگ بھگوان کے ڈر سے اس رواج کو ختم نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ رات میں گھر کے مرد (بھائی، دادا، یا شوہر) ایک دوری بناکر گھر کے اندر سے یا باہر رہ کر عورتوں کی نگرانی کرتے ہیں۔ چوتھے دن بھی اگر عورتوں کا حیض نہیں رکتا، تو وہ گھر کے اندر دوسرے ممبران سے دور رہتی ہیں۔ بیویاں اپنے شوہروں کے ساتھ نہیں سوتی ہیں۔ لیکن، ہم گھر میں کام کرتے ہیں۔‘‘

حالانکہ، ہر مہینے کاڈوگولّا گاؤوں کی عورتوں کا گھر کے باہر رہنا ایک اصول بن گیا ہے، لیکن حیض کے دوران یا زچگی والی عورتوں کو سب سے الگ تھلگ کرنے کا یہ رواج قانون کے مطابق ممنوع ہے۔ کرناٹک کا غیر انسانی برے رواج اور کالا جادو کی روک تھام اور خاتمہ کا قانون، ۲۰۱۷ ایسے ۱۶ رسوم و رواج پر پابندی عائد کرتا ہے۔ اس میں، ’’حیض آنے پر یا زچگی کے بعد عورتوں کو گاؤوں میں آنے سے روکنے یا الگ تھلگ کرنے، جبراً گھر سے باہر نکالنے سے متعلق خواتین مخالف رسم‘‘ شامل ہے۔ اس قانون کے مطابق اس کی خلاف ورزی کرنے پر ایک سال سے ۷ سال تک کی سزا اور جرمانے کا التزام ہے۔

حالانکہ، اس قانون کے نافذ ہونے کے باوجود کاڈوگولّا برادری کی آشا اور آنگن واڑی کارکنان بھی اس رواج پر عمل کرتی ہیں، جب کہ ان پر صحت عامہ کی ذمہ داری ہے۔ ڈی شردَمّا (بدلا ہوا نام) ایک آشا کارکن ہیں، اور وہ ہر مہینے حیض کے دوران باہر کھلے آسمان کے نیچے رہتی ہیں۔

Jayamma (left) sits and sleeps under this tree in the Kadugolla hamlet of D. Hosahalli during her periods.  Right: D. Hosahalli grama panchayat president Dhanalakshmi K. M. says, ' I’m shocked to see that women are reduced to such a level'
PHOTO • Tamanna Naseer
Jayamma (left) sits and sleeps under this tree in the Kadugolla hamlet of D. Hosahalli during her periods.  Right: D. Hosahalli grama panchayat president Dhanalakshmi K. M. says, ' I’m shocked to see that women are reduced to such a level'
PHOTO • Tamanna Naseer

بائیں: ڈی ہوسہلّی گاؤں کی کاڈوگولّا بستی کی جَیمّا حیض کے دوران درخت کے نیچے بیٹھتی اور سوتی ہیں۔ دائیں: ڈی ہوسہلّی گرام پنچایت کی صدر دھن لکشمی کے ایم کہتی ہیں، ’میں حیران ہوں کہ عورتوں کی حالت اتنے نیچے جا چکی ہے‘

شردَمّا، جن کی عمر ۴۰ سال کے آس پاس ہے، کہتی ہیں، ’’گاؤں میں ہر کوئی یہی کرتا ہے۔ چتر دُرگ (پڑوسی ضلع) میں، جہاں میری پرورش ہوئی، لوگوں نے اس رواج کو اپنانا بند کر دیا ہے کیوں کہ انہیں لگا کہ عورتوں کا باہر رہنا محفوظ نہیں ہے۔ یہاں تمام لوگوں کو لگتا ہے کہ اگر ہم اس رواج کو نہیں مانیں گے تو بھگوان ہمیں سزا دیں گے۔ میں بھی اسی برادری سے ہوں، اس لیے میں بھی اس پر عمل کرتی ہوں۔ میں اکیلے کچھ بدل نہیں سکتی۔ اور مجھے باہر رہنے کے دوران کبھی کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔‘‘

اس رواج پر کاڈوگولّا برادری کے سرکاری ملازمین کے گھروں میں بھی عمل کیا جاتا ہے۔ ہوسہلّی پنچایت میں کام کرنے والے ۴۳ سالہ موہن ایس (بدلا ہوا نام) کی فیملی میں بھی اس رواج پر عمل کیا جاتا ہے۔ ان کے بھائی کی بیوی، جن کے پاس ایم اے اور بی ایڈ کی ڈگری ہے، پچھلے سال دسمبر میں ماں بنیں، تو انہیں گھر کے باہر اپنے بچے کے ساتھ ایک جھونپڑی میں دو مہینے کے لیے رہنا پڑا۔ وہ جھونپڑی خاص طور پر انہی کے لیے بنوائی گئی تھی۔ موہن کہتے ہیں، ’’وہ ایک متعینہ مدت کے بعد ہی ہمارے گھر کے اندر داخل ہوئیں۔‘‘ ان کی ۳۲ سالہ بیوی بھارتی (بدلا ہوا نام) بھی ان سے متفق ہیں، ’’میں بھی حیض کے دوران کچھ بھی نہیں چھوتی۔ میں نہیں چاہتی کہ سرکار اس نظام میں کوئی تبدیلی کرے۔ وہ ہمارے رہنے کے لیے ایک کمرہ بنوا سکتے ہیں تاکہ ہمیں درختوں کے نیچے نہ سونا پڑے۔‘‘

*****

وقت کے ساتھ، ایسے گھروں کو بنوانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ۱۰ جولائی ۲۰۰۹ کو شائع ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق، کرناٹک حکومت نے ہر کاڈوگولّا گاؤں کے باہر ایک ’مہیلا بھون‘ بنانے کا فرمان جاری کیا تھا، جہاں ایک وقت میں ۱۰ عورتیں رہ سکیں۔

اس فرمان کے جاری ہونے سے پہلے جَیَمّا کے ڈی ہوسہلّی گاؤں کی مقامی پنچایت نے سیمنٹ کا ایک کمرہ بنوایا تھا۔ کونیگل تعلقہ کے پنچایت رکن کرشنپّا جی ٹی کہتے ہیں کہ وہ کمرہ ان کے بچپن کے دوران، تقریباً ۵۰ سال پہلے بنوایا گیا تھا۔ گاؤں کی عورتیں کچھ سالوں تک درختوں کے نیچے سونے کی بجائے، اس کمرے کا استعمال کرتی رہیں۔ اب اس بوسیدہ کمرے کے چاروں طرف گھاس پھوس اور پیڑ پودے ہیں۔

اسی طرح اَرلالاسَندر گاؤں کے کاڈوگولّا محلہ میں بھی ایک کچی دیوار کا کمرہ اسی کام کے لیے بنوایا گیا تھا، جو اب استعمال میں نہیں ہے۔ انو کہتی ہیں، ’’چار سے پانچ سال پہلے ضلع کے کچھ افسر اور پنچایت کے کچھ رکن ہمارے گاؤں آئے تھے۔ انہوں نے (حیض کے دوران) باہر رہ رہی عورتوں کو گھر جانے کے لیے کہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ باہر رہنا اچھا نہیں ہے۔ ہمارے ذریعے کمرہ خالی کرنے کے بعد ہی وہ واپس گئے۔ ان کے جانے کے بعد سبھی لوگ واپس کمرے میں آ گئے۔ کچھ مہینوں کے بعد وہ پھر سے آئے اور ہم سے حیض کے دوران گھر کے اندر ہی رہنے کو کہا، اور کمرہ توڑنے لگے۔ ہم پہلے کم از کم بنا کسی پریشانی کے ٹوائلیٹ کا استعمال کر سکتے تھے۔‘‘

سال ۲۰۱۴ میں خواتین و اطفال کی فلاح و بہبود کی وزیر، اوما شری نے کاڈوگولّا برادری کے اس رسم کے خلاف آواز بلند کرنے کی کوشش کی تھی۔ علامتی احتجاج درج کراتے ہوئے انہوں نے ڈی ہوسہلّی گاؤں کے کاڈوگولّا محلہ میں حیض کے دوران عورتوں کے رہنے کے لیے بنوائے گئے کمرے کے کچھ حصوں کو توڑ دیا تھا۔ کونیگل تعلقہ کے پنچایت رکن کرشنپّا جی ٹی کہتے ہیں، ’’اوما شری میڈم نے ہماری عورتوں کو حیض کے دوران گھروں کے اندر رہنے کو کہا۔ جب وہ ہمارے گاؤں کا دورہ کرنے آئی تھیں، تو کچھ لوگ ان کی بات سے متفق تھے؛ لیکن کسی نے اس رواج کو ماننا بند نہیں کیا۔ وہ پولیس سیکورٹی کے ساتھ آئی تھیں اور انہوں نے دروازے اور کمرے کے کچھ حصوں کو توڑ دیا تھا۔ انہوں نے ہمارے علاقے میں ترقی کا وعدہ کیا تھا، لیکن یہاں کچھ بھی نہیں ہوا۔‘‘

A now-dilapidated room constructed for menstruating women in D. Hosahalli. Right: A hut used by a postpartum Kadugolla woman in Sathanur village
PHOTO • Tamanna Naseer
A now-dilapidated room constructed for menstruating women in D. Hosahalli. Right: A hut used by a postpartum Kadugolla woman in Sathanur village
PHOTO • Tamanna Naseer

بائیں: ڈی ہوسہلّی گاؤں میں حیض کے دوران عورتوں کے رہنے کے لیے بنوایا گیا کمرہ، جو اب بوسیدہ پڑا ہے۔ دائیں: ستھانور گاؤں میں زچگی کے بعد کاڈوگولّا عورتیں اس جھونپڑی میں رہتی ہیں

پھر بھی، دھن لکشمی کے ایم (وہ کاڈوگولّا برادری کی نہیں ہیں)، جو اس سال فروری میں ڈی ہوسہلّی گرام پنچایت کی صدر منتخب ہوئی ہیں، عورتوں کے الگ کمرہ بنانے کی تجویز پر غور کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’میں حیران ہوں کہ عورتوں کی حالت اتنے نیچے جا چکی ہے کہ وہ زچگی اور حیض جیسے نازک وقت میں اپنے گھر کے باہر رہنے کو مجبور ہیں۔ کم از کم میں ان کے لیے الگ گھر بنوانا چاہتی ہوں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوان لڑکیاں بھی اس رواج پر عمل کر رہی ہیں۔ میں کوئی تبدیلی کیسے لا سکتی ہوں، جب وہ خود تبدیلی کی مخالفت کر رہی ہیں؟‘‘

ضلع کے پس ماندہ طبقہ کی فلاح و بہبود کے محکمہ کے پی بی باسَوراجو کہتے ہیں، ’’اب کمروں اور دیگر امور پر بحث بند ہونی چاہیے۔ اگر الگ کمرے عورتوں کی مدد کرتے بھی ہیں، تو بھی ہم چاہتے ہیں کہ وہ لوگ اس رواج کو ماننا بند کر دیں۔ ہم کاڈوگولّا برادری کی عورتوں سے بات کرکے انہیں اس بدعقیدگی کو روکنے کے لیے سمجھاتے ہیں۔ ماضی میں ہم اس کے خلاف بیداری مہم چلا چکے ہیں۔‘‘

ارلالاسندر گاؤں کے پاس کے علاقے میں رہنے والے کے ارکیش، جو سنٹرل ریزرو پولیس فورس کے ریٹائرڈ افسر (انسپکٹر جنرل) ہیں، کا ماننا ہے کہ حیض کے دوران عورتوں کے الگ رہنے کے لیے کمرے بنوانا اس مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’ کرشن کُٹیر (ان کمروں کو اسی نام سے پکارا جاتا ہے) اس رواج کو جواز فراہم کر رہے تھے۔ عورتوں کے ناپاک ہونے جیسے کسی عقیدہ کو پوری طرح خارج کیا جانا چاہیے، نہ کہ اسے فروغ دینا چاہیے۔‘‘

وہ آگے کہتے ہیں، ’’اس قسم کے راسخ عقیدے بے حد ظالمانہ ہیں۔ لیکن، سماجی دباؤ ایسا ہے کہ عورتیں منظم ہوکر اس کے خلاف لڑتی نہیں ہیں۔ ستی کے رواج کو صرف سماجی انقلاب کے ذریعے ہی بند کرایا جا سکا تھا۔ اس وقت تبدیلی کی ایک خواہش تھی۔ انتخابی سیاست کے سبب ہمارے لیڈر ان موضوعات پر کوئی بات نہیں کرتے ہیں۔ ایسے میں سیاسی لیڈروں، سماجی کارکنوں، اور برادری کے ممبران کے ذریعے کسی مشترکہ کوشش کی ضرورت ہے۔‘‘

*****

لیکن جب تک ایسا نہیں ہوتا، تب تک غیبی آفت اور سماجی بدنامی کا خوف اس رواج کو آگے بڑھاتا رہے گا۔

ارلالاسندر گاؤں کے کاڈوگولّا محلہ میں رہنے والی انو کہتی ہیں، ’’اگر ہم اس رواج پر عمل نہیں کریں گے، تو ہمارے ساتھ کچھ بہت برا ہو سکتا ہے۔ بہت سال پہلے ہم نے سنا کہ تمکور میں ایک عورت نے حیض کے دوران باہر رہنے سے منع کر دیا۔ اس کے سبب اس کے گھر میں عجیب طریقے سے آگ لگ گئی۔‘‘

Anganwadi worker Ratnamma (name changed at her request; centre) with Girigamma (left) in Sathanur village, standing beside the village temple. Right: Geeta Yadav says, 'If I go to work in bigger cities in the future, I’ll make sure I follow this tradition'
PHOTO • Tamanna Naseer
Anganwadi worker Ratnamma (name changed at her request; centre) with Girigamma (left) in Sathanur village, standing beside the village temple. Right: Geeta Yadav says, 'If I go to work in bigger cities in the future, I’ll make sure I follow this tradition'
PHOTO • Tamanna Naseer

ستھانور گاؤں کی گریگمّا (بائیں)، آنگن باڑی کارکن رتنمّا (بدلا ہوا نام، بیچ میں) گاؤں کے مندر کے پاس کھڑی ہیں۔ دائیں: گیتا یادو کہتی ہیں، ’اگر میں مستقبل میں کام کرنے کے لیے بڑے شہروں میں گئی، تو وہاں اس رواج پر عمل ضرور کروں گی‘

ڈی ہوسہلّی گرام پنچایت کے ساتھ کام کرنے والے موہن ایس کہتے ہیں، ’’بھگوان چاہتے ہیں کہ ہم ایسے ہی رہیں۔ اگر ہم ان کے احکام کے مطابق نہیں چلیں گے، تو ہمیں اس کے خطرناک نتائج بھگتنے ہوں گے۔ اگر اس نظام کو روکا جاتا ہے، تو بیماریاں پھیلیں گی، ہماری بکریاں اور بھیڑیں مر جائیں گی۔ ہمیں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا، لوگوں کو بہت نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اس نظام کو ختم نہیں ہونا چاہیے۔ ہم نہیں چاہتے کہ اس میں تبدیلی ہو۔‘‘

رام نگر ضلع کے ستھانور گاؤں کے کاڈوگولّا محلہ کی گریگمّا کہتی ہیں، ’’مانڈیا ضلع میں ایک عورت کو حیض کے دوران گھر کے اندر رہنے پر سانپ نے کاٹ لیا تھا۔‘‘ یہاں، سرکار کے ذریعے بنوائے گئے ایک پختہ کمرے، جس کے ساتھ ایک غسل خانہ بھی ہے، میں ابھی تک عورتیں حیض کے دوران رہتی ہیں۔ گاؤں کی مرکزی سڑک سے ملحق ایک تنگ گلی سیدھا اس کمرے تک لے جاتی ہے۔

تین سال پہلے اپنے پہلے حیض کے بڑے تجربات کو یاد کرتے ہوئے گیتا یادو کہتی ہیں، ’’میں نے روتے ہوئے اپنی ماں سے کہا کہ وہ مجھے یہاں نہ بھیجے۔ لیکن انہوں نے میری بات نہیں مانی۔ اب، ساتھ میں ہمیشہ ہی کوئی آنٹی (دیگر عورتیں جنہیں حیض ہو رہا ہے) ہوتی ہیں، اس لیے اب میں آرام سے سو پاتی ہوں۔ میں حیض کے دوران اسکول سے سیدھا اس کمرے میں آتی ہوں۔ کاش یہاں سونے کے لیے پلنگ ہوتا اور ہمیں فرش پر سونا نہیں پڑتا۔‘‘ گیتا ابھی ۱۶ سال کی ہیں اور ۱۱ویں کلاس میں پڑھ رہی ہیں۔ وہ آگے کہتی ہیں، ’’اگر مستقبل میں کام کرنے کے لیے بڑے شہروں میں گئی، تو میں الگ کمرے میں رہوں گی اور کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگاؤں گی۔ میں اس رواج پر عمل کروں گی۔ اسے ہمارے گاؤں میں بہت اہمیت دی جاتی ہے۔‘‘

محض ۱۶ سال کی عمر میں گیتا اس رواج کو آگے لے جانے کی بات کرتی ہیں، ۶۵ سالہ گریگمّا کا کہنا ہے کہ ان کی برادری میں عورتوں کے پاس شکایت کرنے کا کوئی سبب نہیں ہے، جب انہیں ان دنوں میں آرام کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’ہم خود بھی دھوپ اور بارش میں گھر کے باہر رہے ہیں۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوا کہ مجھے طوفان کے وقت دوسری ذات کے لوگوں کے گھر جاکر پناہ لینی پڑی، کیوں کہ مجھے ہماری ذات کے کسی بھی آدمی کے گھر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ کبھی کبھی ہم زمین پر پڑے پتوں پر کھانا کھاتے تھے۔ اب عورتوں کے پاس الگ برتن ہیں۔ ہم کرشن کے پیروکار ہیں، آخر یہاں کی عورتیں اس رواج پر عمل کیسے نہیں کریں گی؟‘‘

۲۹ سال کی رتنمّا (بدلا ہوا نام) کہتی ہیں، ’’ہم ان تین چار دنوں میں صرف خاموش بیٹھتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں، اور سو جاتے ہیں۔ نہیں تو ہمیں کھانا بنانے، صفائی کرنے، اور بکریوں کی دیکھ بھال کے لیے سارا دن دوڑنا پڑتا ہے۔ جب ہم حیض کے دوران الگ کمرے میں رہتے ہیں، تو ہمیں ان سارے کاموں سے چھٹی مل جاتی ہے۔‘‘ رتنمّا کنک پورہ تعلقہ (ستھانور گاؤں بھی اسی تعلقہ میں واقع ہے) کے کبّال گرام پنچایت میں آنگن واڑی کارکن ہیں۔

A state-constructed room (left) for menstruating women in Sathanur: 'These Krishna Kuteers were legitimising this practice. The basic concept that women are impure at any point should be rubbished, not validated'. Right: Pallavi segregating with her newborn baby in a hut in D. Hosahalli
PHOTO • Tamanna Naseer
A state-constructed room (left) for menstruating women in Sathanur: 'These Krishna Kuteers were legitimising this practice. The basic concept that women are impure at any point should be rubbished, not validated'. Right: Pallavi segregating with her newborn baby in a hut in D. Hosahalli
PHOTO • Tamanna Naseer

بائیں: ستھانور میں حیض کے دوران عورتوں کے رہنے کے لیے سرکار کے ذریعے بنوایا گیا ایک کمرہ: ’یہ کرشن کٹیر اس رواج کو جواز فراہم کر رہے تھے۔ عورتوں کے ناپاک ہونے جیسے کسی عقیدہ کو پوری طرح خارج کیا جانا چاہیے، نہ کہ اسے فروغ دینا چاہیے‘۔ دائیں: ڈی ہوسہلّی میں ایک جھونپڑی میں پلّوی اپنے نوزائیدہ بچے کے ساتھ الگ رہ رہی ہیں

حالانکہ، گریگمّا اور رتنمّا علیحدگی کے اس رواج کو فائدہ کے طور پر دیکھتی ہیں، لیکن اس رواج کے سبب بہت سے حادثات اور ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ دسمبر ۲۰۱۴ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق، تمکور میں اپنی ماں کے ساتھ ایک جھونپڑی میں رہ رہے نوزائیدہ بچے کو بھاری بارش کی وجہ سے زکام ہو گیا اور اس سے اس کی موت ہو گئی۔ ایک دیگر رپورٹ کے مطابق، سال ۲۰۱۰ میں مانڈیا کے مدّور تعلقہ کے کاڈوگولّا محلہ میں محض دس دن کے ایک بچے کو کتّا اٹھا لے گیا۔

ڈی ہوسہلّی گاؤں کے کاڈوگولّا محلہ کی پلّوی جی ان خطروں کو خارج کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’’کئی سالوں میں ایسے دو یا تین معاملے آتے ہیں، اس سے مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ جھونپڑی کافی آرامدہ ہے۔ مجھے کیوں ڈر لگے گا؟ حیض کے دوران میں ہمیشہ اندھیرے میں باہر رہی ہوں۔ یہ میرے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘ ۲۲ سال کی پلّوی ایک خاتون خانہ ہیں اور انہوں نے اسی سال فروری میں اپنے پہلے بچے کو جنم دیا ہے۔

پلّوی کے شوہر تمکور میں ایک گیس فیکٹری میں کام کرتے ہیں۔ وہ اپنے بچے کے ساتھ ایک جھونپڑی میں سوتی ہیں، جو ایک دوسری جھونپڑی سے کچھ میٹر کی دوری پر واقع ہے، جس میں ان کی ماں یا دادا ان کا ساتھ دینے کے لیے رہتے ہیں۔ ان کی جھونپڑی کے ٹھیک سامنے ایک پنکھا اور ایک بلب لگا ہوا ہے اور باہر لکڑیوں پر پانی گرم کرنے کے لیے ایک برتن رکھا ہوا ہے۔ پلّوی اور ان کے بچے کا کپڑا جھونپڑی کے اوپر خشک ہونے کے لیے پھیلا ہوا ہے۔ دو مہینے اور تین دن کے بعد ماں اور بچے کو گھر کے اندر داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی، جو ان کی جھونپڑی سے ۱۰۰ میٹر کی دوری پر ہے۔

کچھ کاڈوگولّا فیملی ماں اور بچے کو گھر کے اندر داخل ہونے کی اجازت دینے سے پہلے ایک بھیڑ کی بلی (قربانی) دیتے ہیں۔ عام طور پر شدھی کرن سے جڑی ایک رسم ادا کی جاتی ہے، اور جھونپڑی اور سبھی کپڑوں، ماں اور بچے سے جڑی سبھی چیزوں کی صفائی کی جاتی ہے۔ گاؤں کے بزرگ دور سے ہی انہیں صلاح دیتے ہیں۔ پھر انہیں ایک مقامی مندر میں نام رکھنے کی رسم ادا کرنے کے لیے لے جایا جاتا ہے۔ وہاں پوجا کرتے ہیں اور کھانا کھاتے ہیں، پھر انہیں گھر کے اندر داخل کرایا جاتا ہے۔

*****

حالانکہ، اس رواج کی مخالفت کے قصے بھی موجود ہیں۔

ارلالاسندر گاؤں کی کاڈوگولّا بستی میں رہنے والی ۴۵ سالہ ڈی جے لکشما حیض کے دوران اپنے گھر کے اندر ہی رہتی ہیں، جب کہ ان کی برادری کے دوسرے لوگ بار بار ان پر اس رواج پر عمل کرنے کا دباؤ ڈالتے ہیں۔ وہ ایک آنگن واڑی کارکن ہیں۔ وہ اپنے چاروں بچوں کے پیدا ہونے کے بعد اسپتال سے سیدھا گھر واپس آ گئیں، جس کے سبب پڑوسی کاڈوگولّا کنبے ان سے ناراض ہو گئے۔

Aralalasandra village's D. Jayalakshmma and her husband Kulla Kariyappa are among the few who have opposed this practice and stopped segeragating
PHOTO • Tamanna Naseer
Aralalasandra village's D. Jayalakshmma and her husband Kulla Kariyappa are among the few who have opposed this practice and stopped segeragating
PHOTO • Tamanna Naseer

ارلالاسند گاؤں کی ڈی جے لکشما اور ان کے شوہر کُلّا کریپّا ان چند لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اس رواج کی مخالفت کی ہے

جے لکشما بتاتی ہیں، ’’جب میری شادی ہوئی تھی، تو اس گاؤں کی سبھی عورتیں حیض کے دوران چھوٹی سی جھونپڑی میں رہتی تھیں یا کبھی کبھی درختوں کے نیچے رہتی تھیں۔ میرے شوہر نے اس رواج کی مخالفت کی۔ میں اپنے میکے میں بھی اس رواج کو نبھانا پسند نہیں کرتی تھی۔ اس لیے، میں نے اس پر عمل کرنا بند کر دیا۔ لیکن، ہمیں ابھی تک اس کے لیے گاؤں والوں سے طعنے سننے پڑتے ہیں۔‘‘ جے لکشما نے دسویں تک پڑھائی کی ہے۔ ان کی تینوں بیٹیاں (جن کی عمر ۱۹ سال سے ۲۳ سال تک ہے) بھی حیض کے دوران گھر سے باہر نہیں جاتی ہیں۔

جے لکشما کے شوہر کُلّا کریپّا (۶۰ سال) ایک ریٹائرڈ لکچرر ہیں، جن کے پاس ایم اے اور بی ایڈ کی ڈگریاں ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’یہ (گاؤں والے) لوگ ہمیں طعنہ دیتے تھے، پریشان کرتے تھے۔ جب بھی ہمیں کسی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا تھا، تو وہ ہم سے کہتے تھے کہ اس کی وجہ ہمارے ذریعے رواج پر عمل نہیں کرنا ہے۔ ہم سے کہا جاتا تھا کہ ہمارے ساتھ بہت برا ہو سکتا ہے۔ کبھی کبھی وہ ہمیں نظرانداز بھی کرتے تھے۔ گزشتہ کچھ برسوں سے قانون کے ڈر سے لوگ ہمیں اب نظرانداز نہیں کرتے۔ جب بھی گاؤں والوں نے مجھ سے سوال کرتے ہوئے رواج کو نبھانے کو کہا، تو میں نے یہی کہا کہ ایک ٹیچر ہونے کے ناتے میں ایسا نہیں کر سکتا۔ ہماری لڑکیوں کو یہ کہہ کر ورغلایا جا رہا ہے کہ انہیں ہمیشہ ہی قربانی دینی ہوگی۔‘‘

ارلالاسندر میں رہنے والی ۳۰ سال کی امرتا (بدلا ہوا نام)، جو دو بچوں کی ماں ہیں، جے لکشما کی طرح ہی اس رواج پر عمل نہیں کرنا چاہتی ہیں، لیکن وہ ایسا کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’اوپر کے کچھ لوگوں (افسر یا لیڈر) کو ہی ہمارے گاؤں کے بزرگوں کو سمجھنا پڑے گا۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، میری پانچ سال کی بیٹی کو بھی (بڑے ہوکر) یہی کرنا پڑے گا۔ مجھے اس کے لیے کہنا پڑے گا۔ میں اکیلے اس رواج کو بند نہیں کروا سکتی۔‘‘

پاری اور کاؤنٹر میڈیا ٹرسٹ کی جانب سے دیہی ہندوستان کی بلوغت حاصل کر چکی لڑکیوں اور نوجوان عورتوں پر ملگ گیر رپورٹنگ کا پروجیکٹ پاپولیشن فاؤنڈیشن آف انڈیا کے مالی تعاون سے ایک پہل کا حصہ ہے، تاکہ عام لوگوں کی آوازوں اور ان کی زندگی کے تجربات کے توسط سے ان اہم لیکن حاشیہ پر پڑے گروہوں کی حالت کا پتا لگایا جا سکے۔

اس مضمون کو شائع کرنا چاہتے ہیں؟ براہِ کرم [email protected] کو لکھیں اور اس کی ایک کاپی [email protected] کو بھیج دیں۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Tamanna Naseer

Tamanna Naseer is a freelance journalist based in Bengaluru.

Other stories by Tamanna Naseer
Illustration : Labani Jangi

Labani Jangi is a 2020 PARI Fellow, and a self-taught painter based in West Bengal's Nadia district. She is working towards a PhD on labour migrations at the Centre for Studies in Social Sciences, Kolkata.

Other stories by Labani Jangi
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez