جب ہم خود کو ندی سے دور کر لیتے ہیں…

دیہولی بھیلی زبان میں لکھی پانچ نظموں کی سیریز کی اس تیسری نظم میں، نرمدا ضلع کا یہ آدیواسی شاعر قدرت اور انسانوں کے درمیان ہونے والے تصادم کی بات کرتا ہے اور مین اسٹریم سے الگ قدروں والی ایک دنیا کو سامنے لا کھڑا کرتا ہے

۸ جولائی، ۲۰۲۲ | جتیندر وساوا

پالتو جانور، فراموش کردہ بیگم، اور بلڈوزر

’ہر اُس دل کو جسے جانور نے توڑ دیا تھا، وہاں ایک نیا دل، ایک نیا پھول، ایک نئی زندگی، ایک نئی دنیا اُگ آئی تھی‘: ملک بھر میں امتیازی طریقے سے گھروں اور عمارتوں کے گرائے جانے کے سلسلہ وار واقعات سے متاثر ہو کر لکھی گئی ایک نظم

۲۹ جون، ۲۰۲۲ | گوکل جی کے

آدیواسی نظریۂ کائنات اور ’چاند کا باشندہ‘

گجرات کے نرمدا ضلع کا ایک آدیواسی شاعر اپنی پانچ نظموں کے ایک مجموعہ میں آدیواسی برادریوں کے لیے تجربات و عقائد کے بارے میں بتاتا ہے۔ پیش ہے اُس مجموعہ کی دوسری نظم

۱۳ مئی، ۲۰۲۲ | جتیندر وساوا

جمہوریۂ بُلڈوزر میں: جنگلی پھولوں کے کھلنے کی امید

ایک بلڈوزر نے اس کی زندگی کو تباہ و برباد کر دیا۔ حالانکہ، فسادات نے اسے جو زخم پہنچایا تھا، وہ ابھی تک بھرے نہیں تھے۔ لیکن، وہ جانتی ہے کہ اِن مشینوں سے تباہ کر دی گئی زمین پر نئی امید کی طرح جنگلی پھول کھلیں گے، جس کی گواہی میں پیش ہے یہ نظم

۴ مئی، ۲۰۲۲ | پرتشٹھا پانڈیہ

ایک بیج سے جنگل کا اُگنا: اور نظم ہو جانا

گجرات کا یہ آدیواسی شاعر کہتا ہے کہ زبانیں ہی ادب، علم، عالمی منظرنامے کے ساتھ ساتھ بہت سی باتوں کا گھر ہوتی ہیں۔ وہ اپنے خیالات کا اظہار دیہوَلی بھیلی بولی میں شاعری کے ذریعے کرتے ہیں۔ پیش ہے اس سلسلے کی پہلی نظم

۲۶ اپریل، ۲۰۲۲ | جتیندر وساوا

لامحدود جنسی ہوس اور محبت سے عاری محنت
, and • North West Delhi, National Capital Territory of Delhi

لامحدود جنسی ہوس اور محبت سے عاری محنت

دہلی کی ایک سیکس ورکر کے ساتھ پیار و محبت اور زندگی کے بارے میں بات کرنے کے بعد جب ایک رپورٹر اسے قلم بند کرنے کے لیے بیٹھتی ہے، تو اسے احساس ہوتا ہے کہ الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں۔ وہ قلم تو اٹھاتی ہے، لیکن رپورٹ نہیں لکھ پاتی

۲۲ فروری، ۲۰۲۲ | شالنی سنگھ

میرے خوابوں کا بھارت
, and • Pune, Maharashtra

میرے خوابوں کا بھارت

ایک قلم کار جس ملک سے محبت کرتی ہیں اور جسے وہ اپنا گھر کہتی ہیں، اس میں تشدد اور نفرت سے بھرے الفاظ سن کر اس قدر جذباتی ہو جاتی ہیں کہ نظم کی شکل میں اپنا رد عمل ظاہر کرنے سے خود کو روک نہیں پاتیں

۲۹ دسمبر، ۲۰۲۱ | نمیتا وائکر

آنکھ کے بدلے آنکھ، اور بادشاہت کی ہو شکست

اپنے اوپر زبردستی تھوپے گئے زرعی قوانین کی مخالفت میں جگہ جگہ اور متحدہ طور پر حیرت انگیز لڑائی لڑنے اور پھر حکومت کو اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کرنے والے کسانوں کے لیے ایک شاعر کی طرف سے بطور نذرانہ پیش کی گئی یہ نظم

۱۱ دسمبر، ۲۰۲۱ | جوشوا بودھی نیترا

عظیم سلطنت اور پولیس کے کٹہرے میں ہنسی

حالیہ دنوں انتظامیہ کی طرف سے کئی اسٹینڈ اَپ کامیڈین اور کچھ دیگر فنکاروں کے شو ردّ کر دیے گئے۔ ایسے ہر معاملے میں انتظامیہ کی طرف سے قانون اور نظم و نسق بگڑنے کے امکان کا حوالہ دیتے ہوئے ایسا قدم اٹھایا گیا۔ پیش ہے فنون لطیفہ کی وجہ سے قانون اور نظم و نسق پر منڈلاتے ’مبینہ‘ خطرے کے ان تمام واقعات سے متاثر ہوکر لکھی گئی ایک نظم

۸ دسمبر، ۲۰۲۱ | گوکل جی کے

جنگلی بکریاں اور ’گھر واپسی‘

پوری دنیا میں نسلی تشدد میں اضافہ اور مہاجرین کو روکنے، حراست میں لینے اور انہیں در بدر کرنے کے واقعات، اور خود اپنے ملک میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتی نفرت سے پریشان ایک شاعر ’گھر واپسی‘ کا مطلب سمجھانے کی کوشش کرتا ہے

۲۵ نومبر، ۲۰۲۱ | انشو مالویہ

کہ راجا کے ہاتھی جیسے کان ہیں

ایک ماں اس لوک کہانی کو یاد کر رہی ہے جو اس نے اپنی ماں سے سنی تھی، اور اسے اپنی اس نظم میں درج کرتی ہے۔ زندہ یا مردہ لوگوں سے اس کی کوئی بھی مشابہت پوری طرح سے قارئین کے اپنے خیال کی پیداوار ہے

۲۷ اگست، ۲۰۲۱ | پرتشٹھا پانڈیہ

میری ہم سفر، ننھی سی گڑیا

۱۱ اکتوبر کو بچیوں کے عالمی دن کے موقع پر ریل کے سفر کا ایک قصہ

۱۱ اکتوبر، ۲۰۲۱ | عامر ملک

بچوں کی موت، یتیم ہو چکے عوام، اور دیوتاؤں کی خاموشی

اتر پردیش کے فیروز آباد، متھرا، اور گورکھپور ضلعوں میں بڑی تعداد میں بچے جان لیوا بخار کی وجہ سے موت کے شکار ہو رہے ہیں۔ گورکھپور کا ایک شاعر اپنی نظم میں اس المیہ کی گواہی دے رہا ہے

۲۱ ستمبر، ۲۰۲۱ | دیویش

کیل وین منی: خاک ہوگئیں جھونپڑیاں، بدل گئیں راکھ میں

تمل ناڈو کی اس بستی میں، ۲۵ دسمبر ۱۹۶۸ کو زمینداروں نے ۴۴ دلت مزدوروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ یہ نظم ایسے وقت میں شائع کی جا رہی ہے، جب اس دردناک حادثہ کو تفصیل سے قلم بند کرنے والی میتھلی شِو رامن اب ہمارے درمیان نہیں رہیں

۲ جون، ۲۰۲۱ | سیانی رکشت

اکیلی رات تھی، چاروں طرف اندھیرا تھا

وہ اُن کیڑوں سے نفرت کرتا تھا جو اَب متحد ہونا سیکھنے لگے تھے۔ آج کے دور کی گواہی دیتی نظم

۲۴ مئی، ۲۰۲۱ | جوشوا بودھی نیترا

ہو کے مجبور یہ بچوں کو سبق دینا ہے

کلاس روم کیوں سنسان ہوئے، ویران کیوں ہوئے کھیل کے میدان؟ اُن ٹیچروں کے لیے ایک نظم جنہیں ہم نے وبائی مرض کے دوران سرکاری لاپروائیوں کے سبب کھو دیا

۲۲ مئی، ۲۰۲۱ | پرتشٹھا پانڈیہ

عوام کی لاش پر تعمیر ہوا ایک راج محل

وبائی مرض کے اس مشکل دور میں عوام کی ناراضگی کو نظرانداز کرکے، مودی حکومت کا عالیشان سنٹرل وستا پروجیکٹ بنا کسی رکاوٹ کے جاری ہے۔ اس منظر کو دیکھتے ہوئے، ایک شاعر ایک پرانی کہانی سنا رہا ہے

۱۲ مئی، ۲۰۲۱ | سیانی رکشت

بھارت جل رہا ہے، دھرم راج!
, and • Allahabad, Uttar Pradesh

بھارت جل رہا ہے، دھرم راج!

تاریخی کردار سانس نہ لے پانے کی وجہ سے لڑکھڑا رہے ہیں، لیکن دیو دوتوں کے ذریعے انہیں نرک (جہنم) میں دھکیل دیا جاتا ہے

۵ مئی، ۲۰۲۱ | انشو مالویہ

جلا وہ اُن میں جو اجنبی تھے
, and • Thiruvananthapuram, Kerala

جلا وہ اُن میں جو اجنبی تھے

انسانی جانیں ہزاروں چتاؤں پر جل رہی ہیں اور ان کی لپٹوں میں پورا ملک گھر گیا ہے۔ وبائی مرض کے اس المیہ کو بیان کرتی ایک نظم

۳ مئی، ۲۰۲۱ | گوکل جی کے

پھول اس قبر پہ جاکر میں چڑھاؤں کیسے

یہ وہ نظم ہے جو ترشول سی چبھتی ہے، پینٹنگ ہے ایسی جو اندر دھنس جاتی ہے – اور وبائی مرض کا سامنا کرتی زندگی کی ایک کہانی ہے جس پر موت کے سائے منڈلا رہے ہیں

۲۹ اپریل، ۲۰۲۱ | جوشوا بودھی نیترا

آخری لمبی قطار میں ایک بار پھر انتظار

زندگی بھر قطاروں میں کھڑا رہا – پھر سب سے آخر میں ایک اور قطار۔ کووڈ- ۱۹ بحران پر ایک نظم

۱۹ اپریل، ۲۰۲۱ | پرتشٹھا پانڈیہ

دُکھ کے کھیتوں میں پھولوں کو کُچلنا

اتر پردیش میں نوجوان دلت خواتین کے خلاف مسلسل ہو رہے ظلم سے متاثر ہو کر لکھی گئی یہ نظم

۸ مارچ، ۲۰۲۱ | پرتشٹھا پانڈیہ

سلطان اور ٹڈیوں کا حملہ

تین زرعی قوانین سے متاثر ہونے والے ہزاروں کسان تقریباً ۶۰ دنوں سے دہلی کے دروازے پر احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ نظم ان کی مخالفت پر سرکاری ردِ عمل سے متاثر ہوکر لکھی گئی ہے

۲۲ جنوری، ۲۰۲۱ | پرتشٹھا پانڈیہ

کماٹھی پورہ میں مایوسی کے ساتھ امید بھی

کماٹھی پورہ میں سیکس ورکر اپنے بچوں کو عزت بخش زندگی فراہم کرنے کے لیے جدوجہد کرتی رہی ہیں۔ پیش ہے تکلیف کے وبائی مرض میں پھنسی ان عورتوں کی حقیقی زندگی کو بیان کرنے والی دو اسٹوریز سے متاثر ہوکر لکھی گئی یہ نظم

۲۸ دسمبر، ۲۰۲۰ | پرتشٹھا پانڈیہ

’قرض چُکانے کے لیے کچھ ایکڑ زمین‘

وبائی مرض اور لاک ڈاؤن کے باوجود، تین نئے زرعی قوانین کے خلاف ہزاروں کسانوں نے ۲۵ ستمبر سے پورے ہندوستان میں سڑکوں پر احتجاج کیا۔ یہ نظم ان کی جدوجہد کو بیان کرتی ہے

۵ نومبر، ۲۰۲۰ | سربجوت سنگھ بہل

اب تو بے شمار سالیہان، سبھی خواب دیکھنے والی

آدیواسی مجاہد آزادی دیمتی دیئی سبر، جنہوں نے ۱۹۳۰ میں اوڈیشہ کے نواپاڑہ ضلع کے سالیہا گاؤں میں انگریزوں کے خلاف بغاوت کی قیادت کی تھی – اور اس علاقے کی مختلف نوجوان دیمتیوں کو خراجِ عقیدت

۱۵ اگست، ۲۰۲۰ | پرتشٹھا پانڈیہ

مزدور ہوں میں، مجبور نہیں

۲۵ مارچ کے لاک ڈاؤن کے بعد لاکھوں مہاجر مزدوروں کی اجتماعی مہاجرت شاعروں اور فنکاروں کے تصورات کو جلا بخشتی ہے۔ یہ نظم مزدوروں سے نمٹنے میں ہماری منافقت کو اجاگر کرتی ہے۔

۱۵ جون، ۲۰۲۰ | انجم اسماعیل

مہاجرین کا فولادی جگر
and • Aurangabad, Maharashtra

مہاجرین کا فولادی جگر

مہاراشٹر کے اورنگ آباد ضلع کے قریب، ۸ مئی کو ایک ٹرین کے ذریعے کُچل کر مار دیے گئے ۱۶ مہاجر مزدوروں کا المیہ ہمیں آج بھی پریشان کرتا ہے۔ یہ دردناک نظم اور دلکش پینٹنگ ہمیں اس خطرناک حادثہ کی یاد دلاتی ہے

۳۱ مئی، ۲۰۲۰ | گوکل جی کے

لاک ڈاؤن میں خون سے سرابور ریل پٹریاں

مہاراشٹر میں اورنگ آباد ضلع کے پاس ۸ مئی کو جن ۱۶ مزدوروں – ان میں سے ۸ گونڈ آدیواسی تھے – کو مال گاڑی کے ذریعے کچل دیا گیا تھا ان سبھی کی عمر ۲۰ یا ۳۰ سال کے آس پاس تھی، اور وہ مدھیہ پردیش کے اُمریا اور شہڈول ضلع کے رہنے والے تھے

۱۰ مئی، ۲۰۲۰ | پرتشٹھا پانڈیہ

لاک ڈاؤن میں مہاجر چیونٹیوں کی ہجرت

جس شخص کے گھر پر چینی-تھائی ڈنر تیار ہو رہا ہو، وہ کب تک اپنے گاؤوں لوٹ رہے بھوکے مہاجر مزدوروں کو آدھے راستے میں پھنسا ہوا دیکھ سکتا ہے؟ امتیاز اور نابرابری کے ایشو پر دل کو چھو لینے والی ایک نظم

۶ مئی، ۲۰۲۰ | پرتشٹھا پانڈیہ

سر پر تھیلے، دلوں میں خوف
and • Thiruvananthapuram, Kerala

سر پر تھیلے، دلوں میں خوف

کووِڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن بحران کے سبب ہونے والی مہاجرت نے شاعروں اور فنکاروں کو یکساں طور پر متاثر کیا ہے۔ ایک ایسا ہی ردِ عمل یہاں پیش کیا جا رہا ہے

۱۶ اپریل، ۲۰۲۰ | گوکل جی کے

اندھیری روشنی کا چراغ جلتا ہے

پچھلے سال ۵ اپریل کو وزیر اعظم کے کہنے پر لوگوں نے رات کے ۹ بجے، ۹ منٹ کے لیے تمام لائٹیں بند کرکے چراغ روشن کیے۔ اس واقعہ نے الگ الگ لوگوں پر الگ الگ طریقے سے اثر ڈالا۔ گجرات کے شہر احمد آباد کی رہنے والی ایک شاعرہ نے اپنا ردعمل کچھ یوں دیا…

۶ اپریل، ۲۰۲۰ | پرتشٹھا پانڈیہ

Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez