اُنّاؤ: کھیت میں دو دلت لڑکیاں مردہ پائی گئیں، تیسری کی حالت سنگین

دی وائر ، ۱۸ فروری، ۲۰۲۱

یوپی میں دلت لڑکی کی لاش درخت سے لٹکی ہوئی ملی، عصمت دری کے لیے ۳ کے خلاف ایف آئی آر درج

آؤٹ لُک انڈیا ، ۱۸ جنوری، ۲۰۲۱

اترپردیش میں ۱۵ سالہ لڑکی کی لاش کھیت میں ملی، گھر والوں نے لگایا قتل کا الزام

دی ہندوستان ٹائمز ، ۳ اکتوبر، ۲۰۲۰

ہاتھرس کے بعد: اتر پردیش میں ۲۲ سالہ دلت خاتون کی عصمت دری، قتل

دی انڈین ایکسپریس ، ۱ اکتوبر، ۲۰۲۰

اجتماعی عصمت دری کی شکار، اتر پردیش کی دلت لڑکی نے دہلی کے اسپتال میں دَم توڑا

دی ہندو ، ۲۹ ستمبر، ۲۰۲۰

اتر پردیش: نوجوان دلت لڑکی کی عصمت دری، لاش درخت سے لٹکی ہوئی ملی

فرسٹ پوسٹ ، ۱۹ فروری، ۲۰۱۵

اتر پردیش میں ایک اور نا بالغ کی لاش درخت سے لٹکی ہوئی ملی، فیملی نے عصمت دری اور قتل کا الزام لگایا

ڈی این اے ، ۱۲ جنوری، ۲۰۱۴

The continuing and appalling atrocities against young Dalit women in Uttar Pradesh inspired this poem
PHOTO • Antara Raman

سورج مُکھی کا کھیت

شاید یہ ان کے بڑھنے کی جگہ نہیں ہے
شاید یہ اُن کے کھِلنے کا وقت نہیں ہے
شاید یہ اُن کے مسکرانے کا موسم نہیں ہے
چاروں طرف تیز بارش ہو رہی ہے۔
شاید جمع کرنے کے لیے دھوپ نہیں ہے
شاید، سانس لینے کی جگہ نہیں ہے
ہم جانتے ہیں، شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ یہ سچ ہے۔

ہم جانتے ہیں، انہیں چُگ کر کھا لیا جائے گا
توڑا جائے گا، کُچلا جائے گا اور قتل کر دیا جائے گا
ہم جانتے ہیں، پھول کب بھورے ہوتے ہیں
اور کٹائی کے لیے تیار ہو جاتے ہیں
اور ملائم اور نوجوان کا ذائقہ کیسا ہوتا ہے
جب انہیں تازہ کھایا جاتا ہے
ایک ایک کرکے سبھی کو جل جانا چاہیے
یا ان کا قتل کر دینا چاہیے
ہر ایک بس اپنی باری کا انتظار کرتی ہیں۔

شاید یہ رات پیار کرنے کے لیے بہت ظالم ہے
اور دیکھ بھال کرنے کے لیے ہوا بھی بہت تیز ہے
شاید مٹی کھڑے ہونے کے لیے بہت نرم ہے
ریڑھ والے لمبے پھولوں کا وزن نہیں سنبھال سکتی
پھر انہیں بڑھنے کی ہمت کیسے ہوئی
اتنی بڑی تعداد میں
یہ جنگلی سورج مکھی کے کھیت؟

اچھوتی خوبصورتی کے کھیت
جہاں تک آنکھیں دیکھ سکتی ہیں
سبز اور سنہرے چمکدار شعلے
اپنے چھوٹے پیروں کو ٹھوکر مارتی اور ہنستی ہیں —
اُن لڑکیوں کا قہقہہ جو اڑتی ہیں
اُن لڑکیوں کا قہقہہ جو رقص کرتی ہیں
اور اپنے سر کو اتنا اونچا اٹھاتی ہیں
اور اپنے دو چھوٹے پیروں پر کھڑی ہوتی ہیں۔
اپنی چھوٹی مٹھی میں پکڑتی ہیں وہ
ایک تیز نارنجی چمک۔

یہ صرف جھلسانے والی راکھ نہیں ہے
جو دور کی عارضی چِتا سے آئی ہے،
بلکہ میری کوکھ میں سورج مکھی کے کھیت ہیں
جو میری آنکھوں میں آنسو اور جلن پیدا کرتے ہیں۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Mohd. Qamar Tabrez is PARI’s Urdu/Hindi translator since 2015. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi. You can contact the translator here:

Antara Raman

Antara Raman is an illustrator and website designer with an interest in social processes and mythological imagery. A graduate of the Srishti Institute of Art, Design and Technology, Bengaluru, she believes that the world of storytelling and illustration are symbiotic.

Other stories by Antara Raman
Pratishtha Pandya

Pratishtha Pandya is a poet and a translator who works across Gujarati and English. She also writes and translates for PARI.

Other stories by Pratishtha Pandya