ماحولیاتی تبدیلی کے پروں پر کیڑوں کی لڑائی

ہندوستان میں دیسی کیڑوں کی نسلیں تیزی سے غائب ہو رہی ہیں – جب کہ ان میں سے کئی ہمارے غذائی تحفظ کے لیے بیش قیمتی ہیں۔ لیکن انسان اُن کیڑوں سے اتنا پیار نہیں کرتا، جتنا کہ وہ بال والے جانوروں سے کرتا ہے

۲۲ ستمبر، ۲۰۲۰ | پریتی ڈیوڈ

لکشدیپ سے غائب ہوتی مونگے کی چٹانیں

ہندوستان کا سب سے چھوٹا یونین علاقہ، جو سمندر کی سطح سے اوسطاً ۱-۲ میٹر اوپر ہے – اور جہاں ہر ساتواں آدمی ماہی گیر ہے – اپنی مونگے کی چٹانوں کو کھو رہا ہے اور کئی سطحوں پر ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا کر رہا ہے

۱۲ ستمبر، ۲۰۲۰ | شویتا ڈاگا

تھانے میں بارش شرارتی ہوگئی ہے

مہاراشٹر کے شہاپور تعلقہ کی آدیواسی بستیوں میں رہنے والے دھرما گریل اور دیگر لوگ بھلے ہی ’موسمیاتی تبدیلی‘ کی بات نہ کریں، لیکن وہ روزانہ اس کے سیدھے اثرات کا سامنا کر رہے ہیں، جس میں بے ترتیب بارش اور کم ہوتی پیداوار شامل ہے

۲۵ اگست، ۲۰۲۰ | جیوتی شنولی

چورو: گرم لہر، سرد لہر – زیادہ تر گرم

جون ۲۰۱۹ میں، راجستھان کے چورو میں عالمی سطح پر سب سے زیادہ درجۂ حرارت ۵۱ ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔ حالانکہ یہاں کے کئی باشندوں کے لیے یہ پھیلتے ہوئی گرمی اور موسم میں ہونے والی چند دیگر تبدیلیوں کا محض ایک سنگ میل تھا جو واضح طور پر ماحولیاتی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتا ہے

۲ جون، ۲۰۲۰ | شرمیلا جوشی

جب یمنا کی ’مری ہوئی مچھلی تازہ ہوگی‘

آلودگی اور لاپروائی نے دہلی کی شہ رگ کو نالے میں تبدیل کر دیا ہے۔ ہر سال ہزاروں مچھلیاں مر جاتی ہیں جب کہ یمنا کے بنیادی محافظوں کے پاس کہیں اور جانے کی جگہ نہیں ہے۔ ان تمام اسباب سے ماحولیاتی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے

۲۲ جنوری، ۲۰۲۰ | شالنی سنگھ

بڑا شہر، چھوٹے کسان، اور ایک مرتی ہوئی ندی

شہر کے کسان؟ ہاں، ایک طرح سے – قومی راجدھانی میں، جدوجہد کر رہے ہیں کیوں کہ بند پڑی یمنا ندی اور اس کے سیلابی علاقوں کی تباہی اس پورے خطہ میں ماحولیاتی بحران میں اضافہ کرنے کے ساتھ ہی ان کسانوں کے ذریعہ معاش کو بھی برباد کر رہی ہے

۱۹ دسمبر، ۲۰۱۹ | شالنی سنگھ

ممبئی کے مضافات میں کم ہوتی پومفریٹ مچھلیاں

کم ہوتی مچھلیوں کے بارے میں بتانے کے لیے ورسووا کولی واڑا کے متعدد لوگوں کے پاس کوئی نہ کوئی کہانی ضرور ہے – اس کے مختلف اسباب ہیں، مقامی سطح پر آلودگی سے لے کر عالمی پیمانے پر درجہ حرارت میں اضافہ تک۔ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو شہر کے ساحلوں تک لانے میں دونوں کا مشترکہ رول رہا ہے

۴ دسمبر، ۲۰۱۹ | صبوحی جیوانی

تمل ناڈو کی سمندری کائی جمع کرنے والی خواتین

تمل ناڈو کے بھارتی نگر میں ماہی گیر برادری کی خواتین کی انوکھی سرگرمی انہیں کشتیوں کے مقابلے زیادہ دیر تک پانی کے اندر رکھتی ہے۔ لیکن ماحولیاتی تبدیلی اور سمندری وسائل کا ناجائز استفادہ ان کے ذریعہ معاش کو تباہ کر رہا ہے۔

۳۱ اکتوبر، ۲۰۱۹ | ایم پلانی کمار

بارش میں تاخیر اور بحران کے شکار بھنڈارا کے کسان

وِدربھ کا یہ ضلع، جہاں طویل مدت تک آبی وسائل تھے، بارش کے نئے پیٹرن کو دیکھ رہا ہے۔ اب ’ماحولیات کے ہاٹ اسپاٹ‘ کے طور پر درج فہرست بھنڈارا میں یہ تبدیلی دھان کے کسانوں کے لیے غیر یقینیت اور خسارے کا سبب بن رہی ہے

۲۳ اکتوبر، ۲۰۱۹ | جے دیپ ہرڈیکر

’کپاس اب سر درد بن گیا ہے‘

اوڈیشہ کے رائیگڑا ضلع میں کیمیاوی کھادوں سے شرابور بی ٹی کپاس کا مونوکلچر پھیل رہا ہے – جس سے صحت کو نقصان پہنچ رہا ہے، قرض بڑھتا جا رہا ہے، ناگزیر طور پر دیسی علم ختم ہو رہا ہے، اور ماحولیاتی بحران کے بیج بوئے جا رہے ہیں

۷ اکتوبر، ۲۰۱۹ | انیکیت آگا اور چترانگدا چودھری

اوڈیشہ میں ماحولیاتی بحران کے بیج کی بُوائی

رائیگڑا میں، بی ٹی کپاس کا رقبہ ۱۶ برسوں میں ۵۲۰۰ فیصد بڑھ گیا ہے۔ نتیجتاً، دیسی باجرا، چاول کی قسموں اور جنگلاتی غذائی اشیاء سے بھرپور اس حیاتی تنوع والے علاقے میں ایک خطرناک ماحولیاتی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے

۴ اکتوبر، ۲۰۱۹ | چترانگدا چودھری اور انیکیت آگا

گجرات کے سکڑتے چراگاہوں کے درمیان بھیڑوں کی گنتی

گجرات میں اپنی بھیڑوں کے لیے چراگاہ کی تلاش میں کچھ کے مویشی چرواہوں کو لمبی دوری تک چلنا پڑتا ہے، جب کہ دوسری طرف چراگاہ غائب ہوتے جا رہے ہیں یا پہنچ سے باہر ہیں، اور آب و ہوا کی فطرت پہلے سے کہیں زیادہ غیر یقینی ہو چکی ہے

۲۳ ستمبر، ۲۰۱۹ | نمیتا وائکر

سُندربن: ’گھاس کا ایک پتہ بھی نہیں اُگا...‘

مغربی بنگال کے سندربن میں لوگ طویل عرصے سے غریبی کی مار تو جھیل ہی رہے تھے، اب انھیں ماحولیاتی تبدیلی کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے – جس میں شامل ہے سمندر طوفان کا مسلسل آنا، بے ترتیب بارش، نمکینیت میں اضافہ، بڑھتی گرمی، گھٹتے جنگل اور بھی بہت کچھ

۱۰ ستمبر، ۲۰۱۹ | اُروَشی سرکار

’خوشی کے دن اب صرف پرانی یادیں ہیں‘

اروناچل پردیش میں مشرقی ہمالیہ کے اونچے پہاڑوں پر، خانہ بدوش بروکپا برادری ماحولیاتی تبدیلی کو پہچان رہی ہے اور روایتی علم کی بنیاد پر اس سے مقابلہ کرنے کی حکمت عملی بنا رہی ہے

۲ ستمبر، ۲۰۱۹ | رتائن مکھرجی

۴۳ ڈگری درجہ حرارت پر ژالہ باری سے لاتور میں تباہی

مہاراشٹر کے لاتور ضلع کے دیہی باشندے گزشتہ ایک دہائی سے گرمیوں میں بھاری اور شدید ژالہ باری سے پریشان ہیں۔ کچھ کسان باغات کو پوری طرح سے چھوڑ رہے ہیں

۲۶ اگست، ۲۰۱۹ | پارتھ ایم این

سانگولے میں ’سب کچھ اُلٹا ہو چکا ہے‘

مہاراشٹر کے سولاپور ضلع کے سانگولے تعلقہ کے گاؤوں سے ایسی خبریں بڑی تعداد میں آ رہی ہیں کہ اچھی بارش اور خشکی کے دنوں کا پرانا چکر ٹوٹ چکا ہے – اور اس کی وجہ کیا ہے اور اثرات کیا پڑ رہے ہیں

۱۹ اگست، ۲۰۱۹ | میدھا کالے

’آج ہم اُن مچھلیوں کو ڈسکَوری چینل پر تلاش کر رہے ہیں‘

تمل ناڈو کے رام ناتھ پورم ضلع کے پامبن جزیرہ پر ماہی گیروں کے ذریعے اور ماہی گیروں کے لیے چلایا جانے والا کمیونٹی ریڈیو، کڈل اوسئی، اس ہفتہ تین سال کا ہو گیا۔ اب اس کا جدید ترین نشریہ موسمیاتی تبدیلی پر مرکوز ہے

۱۲ اگست، ۲۰۱۹ | کویتا مرلی دھرن

’آب و ہوا اس طرح سے کیوں تبدیل ہو رہی ہے؟‘

وایناڈ، کیرالہ میں کافی اور کالی مرچ کے کسان درجۂ حرارت میں اضافہ اور بے ترتیب بارش سے ضلع میں ہونے والے نقصان کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے باشندوں کو کبھی یہاں کی ’ایئرکنڈیشنڈ آب و ہوا‘ پر فخر ہوا کرتا تھا

۵ اگست، ۲۰۱۹ | وشاکا جارج

’پہاڑ کے دیوتا کو ہم نے شاید ناراض کر دیا‘

لداخ کے اونچے چراگاہوں میں خانہ بدوش چانگپا مویشی پروروں کی یاک سے متعلق اقتصادیات پر بحران کے بادل چھائے ہوئے ہیں، جس کی وجہ ہے ان کے نازک کوہستانی ماحولیاتی نظام میں موسمیاتی تبدیلی

۲۲ جولائی، ۲۰۱۹ | رتائن مکھرجی

موسمیات سے پریشان کولہاپور کی بھینسیں

رادھا نگری، کولہاپور میں انسانوں اور جنگلی جانوروں کے درمیان ٹکراؤ بڑھتا جا رہا ہے، جہاں گور بھینسیں آس پاس کے کھیتوں پر دھاوا بول رہی ہیں۔ یہ سب جنگلات کی کٹائی، فصل میں تبدیلی، خشک سالی اور موسم کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے ہو رہا ہے

۱۷ جولائی، ۲۰۱۹ | سنکیت جین

رائل سیما میں ریت کی بارش

آندھرا پردیش کے اننت پور ضلع میں فصلوں کے برتاؤ میں تبدیلی، کم ہوتے جنگلی علاقے، بورویل کی تعداد میں بے پناہ اضافہ، ایک ندی کی موت، اور بھی بہت کچھ – نے زمین، ہوا، پانی، جنگل اور موسمیات پر منفی اثر ڈالا ہے

۸ جولائی، ۲۰۱۹ | پی سائی ناتھ

مترجم: محمد قمر تبریز

Mohd. Qamar Tabrez is PARI’s Urdu/Hindi translator since 2015. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi. You can contact the translator here: