گوگل کا نقشہ (گوگل میپ) مجھے بتا رہا ہے کہ میں اپنی منزل پر پہنچنے والا ہوں۔ لیکن میری یادداشت بتا رہی ہے کہ یہ علاقہ کچھ بدلا بدلا سا لگ رہا ہے۔ سمندر کے ساحل پر وہ پرانا اور بوسیدہ گھر دکھائی نہیں دے رہا ہے، جس کا پتہ میں نے پچھلی بار اُپّڈا آنے کے بعد اپنے فون میں محفوظ کرکے رکھا تھا۔ ٹی مرمّا خلیج بنگال سے آتی ایک موج کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لاپروائی سے بتاتی ہیں، ’’ارے، وہ گھر؟ وہ تو اب سمندر میں ڈوب چکا ہے۔ دیکھو، وہاں!‘‘

مجھے اب بھی وہ پرانا اجڑا ہوا سا گھر یاد ہے، جو دیکھنے میں بہت خوبصورت مگر اُداس سا نظر آتا تھا۔ مارچ ۲۰۲۰ میں لاک ڈاؤن سے کچھ ہفتے پہلے جب میں اُپّڈا گیا تھا، تو وہاں میں نے مرمّا اور ان کے اہل خانہ کی تصویریں لی تھیں، اُن کے پیچھے وہی گھر تھا۔ ساحل کے ایک حصے میں بنے اس وسیع و عریض گھر کا ایک چھوٹا سا ہی حصہ باقی بچا تھا، جہاں پہلے مرما کی فیملی [۲۰۰۰ کی دہائی کے ابتدائی سالوں تک] رہتی تھی۔

مرما کی عمر ۵۰ سے ۶۰ سال کے درمیان ہے اور وہ ایک مقامی لیڈر ہیں۔ پہلے وہ مچھلیوں کا کاروبار کرتی تھیں۔ مرما بتاتی ہیں، ’’یہ ۸ کمروں پر مشتمل ایک بڑی عمارت تھی، جہاں [مویشیوں کے] تین باڑے تھے۔ اس میں تقریباً سو لوگ رہتے تھے۔‘‘ سال ۲۰۰۴ کی سونامی سے ٹھیک پہلے اپڈا میں آئے سمندری طوفان کے سبب عمارت کا ایک بڑا حصہ ٹوٹ گیا، جس کی وجہ سے ان کے مشترکہ خاندان کو الگ الگ گھروں میں رہنے کے لیے مجبور ہونا پڑا۔ مرما کچھ سالوں تک اس ٹوٹے پھوٹے گھر کا استعمال کرتی رہیں، بعد میں وہ اس کے پاس ہی ایک نئے گھر میں رہنے چلی گئیں۔

ایسا صرف مرما اور ان کی فیملی کے ساتھ ہی نہیں ہوا ہے؛ اپڈا میں تقریباً سبھی لوگ طاقتور سمندری لہروں کے سبب کم از کم ایک بار اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ گھر سے نکلنے کے لیے صحیح وقت کا اندازہ لگانے کی خاطر وہ اپنے تجربات کو ملحوظ نظر رکھنے کے علاوہ، مقامی برادری کی سمندری لہروں سے متعلق روایتی سمجھ پر منحصر رہتے ہیں۔ او شیو (عمر ۱۴ سال، جنہیں سمندری موجوں سے بچنے کے لیے پہلے بھی ایک بار گھر چھوڑنا پڑا تھا، بتاتے ہیں، ’’سمندر کی موجیں جب آگے بڑھنے لگتی ہیں، تب ہم سمجھ جاتے ہیں کہ گھر ان کی زد میں آنے والا ہے۔ تب ہم اپنے برتن اور بقیہ تمام سامان ایک طرف کر دیتے ہیں [اور رہنے کے لیے کرایے کا ایک عارضی مکان تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں]۔ ایک مہینہ کے اندر پرانا گھر [سمندر میں] کہیں غائب ہو جاتا ہے۔‘‘

T. Maramma and the remains of her large home in Uppada, in January 2020. Her joint family lived there until the early years of this century
PHOTO • Rahul M.

جنوری ۲۰۲۰ میں، ٹی مرمّا اور اُپّڈا میں ان کے اس بڑے سے گھر کا بچا ہوا بقیہ حصہ۔ ان کا مشترکہ خاندان اس صدی کے اوائل تک وہیں رہتا تھا

*****

مشرقی گوداوری ضلع میں واقع اور آندھرا پردیش کے ۹۷۵ کلومیٹر لمبے ساحلی علاقوں سے ملحق اُپڈا گاؤں طویل عرصے سے سمندری ساحل کے بڑھتے ہوئے کٹاؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ یہاں رہنے والے لوگ بتاتے ہیں کہ انہوں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے، اپنے گاؤں کو اس خطرے کا سامنا کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔

تقریباً ۵۰ سال پہلے جب مرما کی فیملی اُس وقت کے اپنے نئے گھر میں رہنے گئی، تو وہ سمندری ساحل سے کافی دور تھا۔ او چِنّا بائی، جو شیو کے دادا اور مرما کے چچا ہیں، یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں، ’’ہم جب ساحل سے گھر واپس لوٹتے تھے، تو ہمارے پیروں میں کافی درد ہوتا تھا۔‘‘ اب تقریباً ۷۰-۸۰ سال کے درمیان ہو چکے چنّا بائی، اُس زمانے میں سمندر کی گہرائی سے مچھلیاں پکڑنے والے ماہی گیر تھے۔ انہیں یاد ہے کہ ان کے گھر سے لے کر ساحل تک بہت سارے مکانات، دکانیں اور سرکاری عمارتیں تھیں۔ چنا بائی دور افق کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں، جہاں کچھ جہاز شام کی سیاہی میں گم ہو گئے ہیں، ’’وہاں ساحل تھا۔‘‘

مرما یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں، ’’ہمارے نئے گھر اور سمندری ساحل کے درمیان ریت ہی ریت پھیلی ہوئی تھی۔ جب ہم چھوٹے تھے، تب ہم ان ریت کے ٹیلوں سے گزرتے تھے، وہاں کھیلتے تھے۔‘‘

اپڈا کی یہ پرانی یادیں اب سمندر کی موجوں میں کہیں دفن ہو چکی ہیں۔ ۱۹۸۹ سے ۲۰۱۸ کے درمیان، اپڈا کا ساحلی علاقہ ہر سال اوسطاً ایک اعشاریہ ۲۳ میٹر کم ہوا ہے۔ وجے واڑہ میں واقع آندھرا پردیش اسپیس اپیلی کیشنز سینٹر کے محققین نے اپنے ایک مطالعہ میں پایا کہ ۱۸-۲۰۱۷ میں، ساحلی علاقوں کا کٹاؤ ۲۶ اعشاریہ ۳ میٹر گہرا تھا۔ ایک دوسرے مطالعہ کے مطابق، گزشتہ چار دہائیوں میں کاکی ناڈا علاقے کی تقریباً ۶۰۰ ایکڑ زمین سمندر کے پانی کی وجہ سے برباد ہوگئی ہے، ان میں سے صرف اپڈا گاؤں کی بات کریں، تو اس کا ایک چوتھائی حصہ اب سمندر کی لہروں میں غائب ہو چکا ہے – اپڈا، کاکی ناڈا ڈویژن کے کوتاپلّی منڈل میں واقع ایک گاؤں ہے۔ سال ۲۰۱۴ کے ایک مطالعہ میں کاکی ناڈا کے شمال میں واقع ساحلی علاقوں میں رہنے والے ماہی گیروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ گزشتہ ۲۵ برسوں میں سمندری ساحل کئی سو میٹر سکڑ گئے ہیں۔

Maramma’s old family home by the sea in 2019. It was washed away in 2021, in the aftermath of Cyclone Gulab.
PHOTO • Rahul M.
Off the Uppada-Kakinada road, fishermen pulling nets out of the sea in December 2021. The large stones laid along the shore were meant to protect the land from the encroaching sea
PHOTO • Rahul M.

بائیں: سال ۲۰۱۹ میں سمندر کے کنارے واقع مرما کا پرانا گھر۔ یہ گھر ۲۰۲۱ میں آئے سمندری طوفان ’گلاب‘ کی وجہ سے بہہ گیا تھا۔ دائیں: اپڈا-کاکی ناڈا سڑک کے کنارے، ماہی گیر دسمبر ۲۰۲۱ میں سمندر سے جال کھینچ رہے ہیں۔ یہ بڑے پتھر ساحلی زمین کو قدم بڑھاتے سمندر سے بچانے کے لیے ساحل کے کنارے رکھے گئے تھے

وشاکھاپٹنم کی آندھرا یونیورسٹی میں ارضیاتی انجینئرنگ شعبہ کے ریٹائرڈ پروفیسر، ککنی ناگیشور راؤ کہتے ہیں، ’’اپڈا، جو کاکی ناڈا شہر کے شمال میں چند کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے، میں ساحل کے کٹاؤ کی بنیادی وجہ ’ہوپ آئی لینڈ‘ کی تعمیر ہے، جسے سائنسی زبان میں ’اسپٹ‘ کہتے ہیں، جو مسطح لکیر جیسا ۲۱ کلومیٹر لمبا ایک ریت کا ڈھانچہ ہے۔ یہ اسپٹ قدرتی طور پر نیلاریوو ندی (گوداوری کی ایک معاون ندی) کے دہانے سے شروع ہوتا ہے۔‘‘ کئی دہائیوں سے آندھرا پردیش کی ساحلی شکلوں اور عمل کاریوں کا باریکی سے مطالعہ کر رہے پروفیسر راؤ کے مطابق، ’’اس اسپٹ سے سمندری لہریں منتشر ہوکر اپڈا ساحل سے ٹکراتی ہیں، جس سے اس کا کٹاؤ ہوتا ہے۔ ایسا شاید ایک صدی پہلے سے ہو رہا ہے، ۱۹۵۰ کی دہائی سے ہم اس اسپٹ کو اپنی موجودہ شکل میں دیکھ رہے ہیں۔‘‘

پرانے سرکاری اعداد و شمار کی چھان بین کریں، تو ۲۰ویں صدی کی ابتدا میں ہی اپڈا کے مسئلہ کو تسلیم کر لیا گیا تھا۔ مثال کے طور پر، ۱۹۰۷ کے گوداوری ضلع گزٹ میں کہا گیا ہے کہ ۱۹۰۰ سے اب تک سمندری لہروں نے اپڈا میں ۵۰ گز سے زیادہ زمین کو برباد کر دیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں کہیں تو، اُن سات سالوں میں گاؤں نے ہر سال اپنی سات میٹر زمین کھوئی ہے۔

ڈاکٹر راؤ کا کہنا ہے، ’’چونکہ ساحلی علاقے عموماً کافی محرک ہوتے ہیں، جو عالمی، علاقائی اور مقامی واقعات کے پیچیدہ اثرات کا سامنا کرتے ہیں، اس لیے اپڈا میں ہو رہے ساحلی کٹاؤ کے کثیر رخی اسباب ہیں۔‘‘ خلیج بنگال میں بڑھتے سمندری طوفانوں کے علاوہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ، قطبی علاقوں میں گلیشیئروں کا پگھلنا، اور سمندر کی آبی سطح کا بڑھنا، یہ وہ اسباب ہیں جن کی وجہ سے ساحلی مٹی کے کٹاؤ کا مسئلہ لگاتار بڑھتا جا رہا ہے۔ گوداوری ندی میں بنائے جا رہے باندھوں کے سبب ندی کے دہانے پر گاد کی مٹی کم ہوتی جا رہی ہے، جس سے یہ مسئلہ مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔‘‘

*****

جیسے جیسے سمندری لہروں کے دباؤ میں اپڈا کی ساحلی زمین برباد ہوتی جا رہی ہے، وہاں کے باشندوں کی یادوں میں اپڈا الگ الگ طریقے سے جگہ بنا رہا ہے۔

گاؤں والوں میں سے کسی نے مجھ سے تیلگو فلم ’ناکو سوتنترم واچندی‘ دیکھنے کے لیے کہا، تاکہ میں اپڈا سے وابستہ پرانی یادوں اور اس کی کہانیوں کی ایک جھلک دیکھ سکوں۔ سال ۱۹۷۵ کی اُس فلم میں، اپڈا گاؤں کی ایک الگ ہی تصویر دکھائی دیتی ہے، جہاں مناسب دوری تک پھیلی ریت سے بھری خوبصورت ساحلی لکیر گاؤں اور سمندر کو ایک دوسرے سے الگ کرتی ہے۔ یہ فلم سمندر اور ریت سے بھری ساحلی لکیر کو ایک ہی فریم میں دکھاتی ہے، جہاں ساحلی لکیر اتنی چوڑی تھی کہ فلم ساز وہاں الگ الگ زاویوں سے مناظر کو کیمرے میں قید کر سکتے تھے۔ یہ مناظر فلم کے اہم حصوں میں دکھائی دیتے ہیں۔

Pastor S. Kruparao and his wife, S. Satyavati, outside their church in Uppada, in September 2019.
PHOTO • Rahul M.
D. Prasad  grew up in the coastal village, where he remembers collecting shells on the beach to sell for pocket money. With the sand and beach disappearing, the shells and buyers also vanished, he says
PHOTO • Rahul M.

بائیں: پادری ایس کرپا راؤ اور ان کی بیوی ایس ستیہ وتی، ستمبر ۲۰۱۹ میں اپڈا میں اپنے گرجا گھر کے باہر موجود ہیں۔ دائیں: ڈی پرساد کی پرورش و پرداخت سمندر کے ساحل پر واقع گاؤں میں ہوئی۔ وہ اُس دور کو یاد کرتے ہیں، جب وہ اپنے دوستوں کے ساتھ سیپیاں (صدفیے) جمع کرنے کے لیے جاتے تھے، اور جیب خرچ نکالنے کے لیے اسے فروخت کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ریت اور سمندری ساحل کے غائب ہونے کے ساتھ، سیپیاں اور ان کے خریدار بھی غائب ہو گئے ہیں

۶۸ سالہ ایس کرپا راؤ، جو اپڈا کے ایک گرجا گھر میں پادری ہیں، کہتے ہیں، ’’میں نے فلم کی شوٹنگ دیکھی ہے۔ کچھ اداکار، جو شوٹنگ کے لیے آئے تھے، وہ یہاں کے گیسٹ ہاؤس (مہمان خانہ) میں ٹھہرے تھے۔ اب سب کچھ سمندر میں ڈوب چکا ہے۔ یہاں تک کہ گیسٹ ہاؤس بھی۔‘‘

سال ۱۹۶۱ میں شائع ہونے والے مشرقی گوداوری ضلع کے مردم شماری سے متعلق کتابچہ میں ایک گیسٹ ہاؤس کا ذکر ملتا ہے: ’’سمندری ساحل سے صرف ایک فرلانگ (تقریباً ۲۰۰ میٹر) کی دوری پر یہاں سیاحوں کے لیے ایک شاندار بنگلہ ہے، جہاں کمروں کے دو سوئٹ (عیش و زیبائش سے لیس کمروں کا سیٹ) ہیں۔ ایسا کہا جاتا ہے کہ سمندری لہروں سے پرانے سیاحتی بنگلہ کے برباد ہو جانے کے بعد اسے بنوایا گیا تھا۔‘‘ اس لیے جہاں ’ناکو سوتنترم واچندی‘ کے اداکار ٹھہرے تھے، وہ کم از کم دوسرا ایسا بنگلہ تھا جو سمندری لہروں کی وجہ سے تباہ ہو گیا۔

سمندری لہروں میں غرقاب ہوچکے فن پارے اور عمارتی سانچے اب آرکائیو اور مقامی لوگوں کی یادوں کا حصہ ہیں، جسے کئی نسلوں سے بحفاظت رکھا گیا ہے۔ گاؤں کے بزرگوں کو یاد ہے کہ ان کے دادا دادی یا والدین، سمندر میں ڈوبے ایک بڑے پتھر (پیڈ رئی) کے بارے میں کئی سال تک بات کرتے رہے۔ سال ۱۹۰۷ کے گزٹ میں کچھ ایسا ہی لکھا ہوا ملتا ہے: ’’سمندر میں نصف میل کی دوری پر ایک ڈوبے ہوئے کھنڈر میں ماہی گیروں کے جال پھنس جاتے ہیں، اور بچے مد و جزر کے وقت سکّے تلاش کرنے ساحل پر آ جاتے ہیں، کیوں کہ سمندری موجیں اپنے ساتھ ایسی کچھ چیزیں بہا لے آتی ہیں، جو شاید کسی ڈوبے ہوئے شہر کی وجہ سے سمندر کی گود میں بکھری پڑی ہیں۔‘‘

سال ۱۹۶۱ کے ہینڈبک میں بھی اس کھنڈر کا ذکر ملتا ہے: ’’بزرگ ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ جب وہ مچھلی پکڑنے کے لیے اپنی کشتیوں اور بیڑوں میں جاتے تھے، تو ساحل سے ایک میل کی دوری پر ان کے جال عمارتوں کی نکیلی سطح یا درختوں کی شاخوں میں پھنس جاتے تھے، اور اس کے علاوہ ان کی روایتی معلومات کے مطابق، سمندر ان کے گاؤں کو اپنے قبضے میں لیتا جا رہا ہے۔‘‘

تب سے لے کر حال تک، گاؤں کا ایک بڑاحصہ سمندر کی آغوش میں جا چکا ہے۔ اس کے تقریباً تمام ساحل، بے شمار گھر، کم از کم ایک مندر اور ایک مسجد سمندری موجوں کی وجہ سے تباہ ہو چکے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی میں، سمندری موجوں کے سبب ۱۴۶۳ میٹر لمبا ’جیو ٹیوب‘ بھی خستہ ہو چکا ہے، جسے ۲۰۱۰ میں اپڈا گاؤں کو بچانے کے لیے ۱۲ اعشاریہ ۱۶ کروڑ روپے کی تخمینی لاگت سے بنوایا گیا تھا۔ جیو ٹیوب، بڑے نالوں جیسی ساخت کے کنٹینر ہوتے ہیں جو ریت اور پانی کے آمیزہ سے بھرے ہوتے ہیں، جن کا استعمال ساحلی علاقوں کی حفاظت اور اصلاح اراضی میں کیا جاتا ہے۔ اسی گاؤں میں رہنے والے ۲۴ سالہ ڈی پرساد، جو کبھی کبھی مچھلی پکڑنے کا کام کرتے ہیں، کہتے ہیں، ’’گزشتہ پندرہ برسوں میں، سمندری لہروں کی مار سے دو مربع فٹ رقبہ والے دو بڑے چٹانی پتھروں کو میں نے چھ انچ کے کنکڑوں میں بدلتے دیکھا ہے۔‘‘

Remnants of an Uppada house that was destroyed by Cyclone Gulab.
PHOTO • Rahul M.
O. Chinnabbai, Maramma's uncle, close to where their house once stood
PHOTO • Rahul M.

بائیں: ٹوٹے ہوئے ایک گھر کا باقی حصہ، جو پچھلے سال سمندری طوفان ’گلاب‘ کی زد میں آکر تباہ ہو گیا تھا۔ دائیں: مرما کے چچا، او چنا بائی اس جگہ پر کھڑے ہیں جہاں کبھی ان کا گھر ہوا کرتا تھا

’اُپینا‘ سال ۲۰۲۱ میں ریلیز ہوئی ایک تیلگو فلم ہے، جس میں ایک ایسے زمانے کی تصویر کشی کی گئی ہے، جب اپڈا گاؤں کو سمندری موجوں سے بچانے کے لیے چٹانوں اور پتھروں کو باہم جوڑ کر رکھا گیا ہے، اور ساحلی لکیر پوری طرح تباہ ہو چکی ہے۔ سال ۱۹۷۵ کی فلم کے بالکل برعکس، سمندر اور گاؤں کو ایک فریم میں دکھانے کے لیے آسمان سے (یا مخصوص زاویوں سے) مناظر کو کیمرے میں قید کیا گیا ہے، کیوں کہ کیمرہ رکھنے کے لیے ساحل پر مناسب جگہ نہیں تھی۔

دورِ حاضر میں اپڈا کی تباہی کی شاید سب سے بڑی وجہ پچھلے سال ستمبر کے اواخر میں آیا سمندری طوفان ’گلاب‘ تھا، جب سمندری لہروں نے کم از کم ۳۰ گھروں کو غرقاب کر دیا۔ پھر دسمبر میں آئے طوفان ’جواد‘ نے اپڈا-کاکی ناڈا سڑک کو خستہ کر دیا۔ یہ ایک نئی سڑک تھی، جسے سمندری طوفان سے آئی تباہی نے سفر کے لحاظ سے غیر محفوظ بنا دیا۔

اس طوفان کے بعد سمندر نے ہولناک صورت اختیار کر لی، اور اکتوبر کی ابتدا میں مرما کی فیملی کے پرانے گھر کا باقی بچا حصہ بھی ٹوٹ کر سمندری لہروں کے ساتھ بہہ گیا۔ موجیں مرما کے گھر کو بھی بہا لے گئیں، جہاں وہ اور ان کے شوہر رہتے تھے۔

*****

مرما ۲۰۲۱ میں آئی تباہی کو یاد کرتے ہوئے کانپ جاتی ہیں، ’’سمندری طوفان ’گلاب‘ کی تباہی کے بعد ہم میں سے کئی لوگوں کو دوسروں کے گھروں کے سامنے بنے اونچے چبوتروں پر سونا پڑا۔‘‘

سال ۲۰۰۴ کے بعد، جب انہیں سمندری طوفان کے سبب اپنے پشتینی گھر کو چھوڑنا پڑا، مرما اور ان کے شوہر ٹی بابئی (جو گہرے سمندر میں مچھلیاں پکڑنے والی ماہی گیر ہیں) دو گھروں میں رہ چکے ہیں۔ پہلے ایک کرایے کے گھر میں، اور اس کے بعد اپنے گھر میں۔ پچھلے سال کے سمندری طوفان میں ان کا گھر بہہ گیا تھا۔ فی الحال وہ پڑوس میں اپنے ایک رشتہ دار کے گھر کے باہر ایک چبوترے پر کھلے آسمان کے نیچے رہ رہے ہیں۔

مرما کہتی ہیں، ’’ایک زمانہ تھا، جب ہم ’امیر‘ تھے [نسبتاً بہتر مالی حالت والے تھے اور ہمارا اثر و رسوخ تھا]۔‘‘ بار بار کی نقل مکانی اور باز تعمیر کی وجہ سے وہ پریشان تو تھے ہی، ساتھ ہی چار بیٹیوں کی شادی میں ہوئے اخراجات نے فیملی کی بچت کو پوری طرح ختم کر دیا۔

M. Poleshwari outside her third house; the first two were lost to the sea. “We take debts again and the house gets submerged again”
PHOTO • Rahul M.
M. Poleshwari outside her third house; the first two were lost to the sea. “We take debts again and the house gets submerged again”
PHOTO • Rahul M.

بائیں: مرما کا پرانا گھر آٹھ کمروں والا مکان تھا۔ وہ کہتی ہیں، ’یہاں تقریباً سو لوگ رہتے تھے۔‘ دائیں: ایم پولیشوری اپنے تیسرے گھر کے باہر؛ انہوں نے پہلے دو گھروں کو سمندرکی لہروں میں کھو دیا۔ وہ کہتی ہیں: ’ہم قرض لے کر دوبارہ گھر بناتے ہیں اور وہ پھر سے ڈوب جاتا ہے‘

ایم پولیشوری یہاں کی ایک ماہی گیر فیملی سے تعلق رکھتی ہیں، اور وہ بھی مرما کی طرح تکلیف میں ہیں، ’’ہم نے اپنا گھر بنانے کے لیے قرض لیا تھا، لیکن ہمارا گھر تو ڈوب گیا۔ ہم دوبارہ قرض لے کر گھر بنوائیں، تو وہ پھر سے ڈوب جائے گا۔‘‘ پولیشوری کے اب تک دو گھر سمندری لہروں کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ وہ اب ایک تیسرے گھر میں رہ رہی ہیں، اور اپنی فیملی کی مالی حالت اور اپنے شوہر کی حفاظت سے متعلق ہمیشہ فکرمند رہتی ہیں، کیوں کہ ان کے شوہر گہرے سمندر میں مچھلیاں پکڑنے والے ماہی گیر ہیں۔ ’’اگر ان کے باہر جانے پر طوفان آتا ہے، تو ان کی موت ہو سکتی ہے۔ لیکن ہم اور کر ہی کیا سکتے ہیں؟ سمندر ہی ہماری گزر بسر کا واحد ذریعہ ہے۔‘‘

معاش کے دیگر ذرائع بھی ختم ہو رہے ہیں۔ پرساد یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ مد و جزر کے کم ہونے پر وہ بچپن میں اپنے دوستوں کے ساتھ سمندری ساحل پر سیپیاں (صدفیے) یا کیکڑے پکڑنے جاتے تھے، جنہیں فروخت کرکے وہ اپنے جیب خرچ کا انتظام کرتے تھے۔ ریت بھرے ساحلوں کے غائب ہوتے ہی، سیپیاں بھی غائب ہو گئیں۔ جلد ہی خریدار بھی بازار سے ہٹ گئے۔

پولیشوری اپنے گھر کے باہر دھوپ میں سوکھتی ہوئی سیپیوں کو دیکھ کر کہتی ہیں، ’’ہم نے ان سیپیوں کو جمع کیا تھا، تاکہ انہیں فروخت کر سکیں۔ پہلے یہاں سیپیاں خریدنے والے کافی لوگ آتے تھے۔ اب تو وہ بھی کم آتے ہیں۔‘‘

ستمبر ۲۰۲۱ کے سمندری طوفان کے بعد مرما اور ماہی گیر کالونی کے تقریباً ۲۹۰ دیگر لوگوں نے آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ جگن ریڈی کو خط لکھ کر انہیں اپنے گاؤں میں بڑھتے خطرے اور بحران کے بارے میں آگاہ کیا۔ ان کے خط میں کہا گیا، ’’اس سے پہلے جناب وائی ایس راج شیکھر ریڈی گارو [سابق وزیر اعلیٰ] نے ماہی گیروں کے گاؤں اپڈا سے ملحق ساحل پر بڑے بڑے پتھر رکھوائے تھے اور گاؤں کو سمندر میں ڈوبنے سے بچایا تھا۔ ان پتھروں نے ہمیں آنے والے سمندری طوفانوں اور سونامی سے بچایا۔‘‘

The stretch from the fishing colony to the beach, in January 2020. Much of it is underwater now.
PHOTO • Rahul M.
The Uppada-Kakinada road became unsafe after it was damaged by Cyclone Jawad in December 2021. A smaller road next to it is being used now
PHOTO • Rahul M.

بائیں: جنوری ۲۰۲۰ میں ماہی گیر کالونی سے سمندری ساحل تک کا حصہ۔ اس کا زیادہ تر حصہ اب پانی میں ڈوب چکا ہے۔ دائیں: دسمبر ۲۰۲۱ میں سمندری طوفان جواد کی زد میں آنے سے خستہ ہونے کے بعد اپڈا-کاکی ناڈا سڑک سفر کے لیے محفوظ نہیں رہ گئی تھی۔ آمد و رفت کے لیے اب اس کے بغل میں بنی ایک چھوٹی سڑک کا استعمال کیا جا رہا ہے

’’اب چونکہ بار بار سمندری طوفان آ رہے ہیں، اس لیے کناروں پر رکھے پتھر اپنی جگہ سے ہٹ گئے ہیں، اور ساحلی علاقہ تباہ ہو گیا ہے۔ پتھروں کو باندھنے والی رسی بھی کمزور ہو گئی ہے۔ اس لیے، کنارے پر بنے مکان اور جھونپڑیاں سمندر میں ڈوب رہی ہیں۔ سمندری ساحل کے کنارے رہنے والے ماہی گیر دہشت میں زندگی گزار رہے ہیں۔‘‘ اس کے علاوہ، انہوں نے پرانے پتھروں کو ہٹا کر نئے بڑے پتھروں کو رکھوانے کا مطالبہ بھی کیا۔

حالانکہ، ڈاکٹر راؤ کے مطابق، اس بات کے وافر ثبوت نہیں ہیں کہ ان چٹانوں سے سمندری لہروں کو روکا جا سکتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ انہیں ایک عارضی حل کہا جا سکتا ہے، کیوں کہ سمندر کا قبضہ جاری ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’اپنے گھروں کو بچانے کی کوشش مت کرو۔ ساحل کو بچاؤ۔ کیوں کہ اسی سے تمہارے گھر بچیں گے۔ سمندر کے کنارے لگائی گئی رکاوٹوں کے ذریعے ہی اپڈا میں ساحلی کٹاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، جاپان میں بڑے بڑے پتھر جیسے ڈھانچے سمندری لہروں کی رفتار میں مزاحم پیدا کرتے ہیں، جس سے ’کائیکے‘ ساحل پر آنے والی لہروں کی رفتار دھیمی ہو جاتی ہے۔‘‘

*****

بھلے ہی سمندری لہروں کی وجہ سے گاؤں سمندر کے اندر دھنستا جا رہا ہے، لیکن وہاں ہو رہی سماجی تبدیلیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اپڈا، ہاتھوں سے بُنی اعلیٰ معیار کی ریشم کی ساڑیوں کے لیے مشہور ہے۔ یہاں کی بُنکر برادری ۱۹۸۰ کی دہائی میں ساحلی علاقوں سے ہٹ کر گاؤں کے اندرونی علاقوں میں جا کر بس گئی تھی۔ وہاں انہیں حکومت نے کچھ زمینیں پٹّہ پر دی تھیں۔ دھیرے دھیرے، گاؤں کے خوشحال لوگ، خاص کر اونچی ذات کے لوگ سمندر سے دور جا کر بسنے لگے۔ لیکن ماہی گیر برادری کے پاس وہاں رہنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا، کیوں کہ سمندر ہی ان کے معاش کا واحد ذریعہ ہے۔

اونچی ذات کے لوگ محفوظ علاقوں کی تلاش میں ساحلی علاقوں کو چھوڑ کر جا رہے ہیں، جس سے ذات پر مبنی رسم و رواج کمزور ہونے لگے ہیں۔ مثال کے طور پر، ماہی گیر برادری پر اونچی ذات کے لوگوں اور ان کے تہواروں کے لیے اپنا مال (یعنی مچھلیاں) مفت میں دینے کا دباؤ ختم ہو گیا تھا۔ دھیرے دھیرے، ماہی گیر برادری عیسائی مذہب قبول کرنے لگی۔ پادری کرپا راؤ کہتے ہیں، ’’کئی لوگوں نے آزاد ہونے کے لیے عیسائی مذہب قبول کر لیا۔‘‘ یہاں کے زیادہ تر لوگ بہت غریب ہیں اور بنیادی طور پر پس ماندہ ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔ کرپا راؤ کو عیسائی مذہب قبول کرنے سے پہلے کئی قسم کے ذات پات پر مبنی امتیاز اور بے عزتی کا سامنا کرنا پڑا۔

Poleru and K. Krishna outside their home, in 2019. The structure was washed away in 2021 after Cyclone Gulab struck the coast.
PHOTO • Rahul M.
The cyclone also wrecked the fishing colony's church, so prayers are offered in the open now
PHOTO • Rahul M.

بائیں: کے پولیرو اور کے کرشنا، ۲۰۱۹ میں اپنے گھر کے باہر کھڑے ہیں۔ یہ ڈھانچہ پچھلے سال سمندری طوفان کی زد میں آنے سے بہہ گیا تھا۔ دائیں: چونکہ ماہی گیر کالونی میں واقع گرجا گھر کی عمارت تباہ ہو گئی تھی، اس لیے وہاں کھلے میں عبادت کی جاتی ہے

چنا بائی کے بیٹے، او دُرگیہ کہتے ہیں، ’’۲۰ سے ۳۰ سال پہلے، گاؤں کے زیادہ تر لوگ ہندو تھے۔ وہ مقامی دیوی کا تہوار ہر سال مناتے تھے۔ اب گاؤں میں زیادہ تر لوگ عیسائی ہیں۔‘‘ کالونی کے لوگ ۱۹۰۰ کی دہائی سے پہلے دیوی کی پوجا کے لیے ہفتہ میں ایک دن جمعرات کو چھٹی لیتے تھے، اب گرجا گھر جانے کے لیے ہر اتوار کو چھٹی لیتے ہیں۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ کچھ دہائی پہلے تک اپڈا میں کچھ مسلمان بھی رہتے تھے، لیکن گاؤں کی مسجد کے ڈوبنے کے بعد ان میں سے کافی لوگ وہاں چلے گئے۔

گاؤں میں باقی بچے لوگوں کے لیے سمندر خطرناک ہونے کے باوجود ان کے معاش کا ذریعہ ہے، اور وہی زندگی کے سبق بھی دے کر جا رہا ہے۔ کے کرشنا نام کے ایک ماہی گیر نے مجھے بتایا، ’’خطرہ تو پہچانا جا سکتا ہے۔ پتھروں سے ایک خاص قسم کی ’گھولّو گھولّو‘ جیسی آواز آنے لگتی ہے۔ پہلے، ہم ستاروں کو دیکھ کر لہروں کا اندازہ لگاتے تھے، وہ کچھ الگ طریقے سے چمکنے لگتے تھے۔ اب موبائل فون ہمیں یہ سب بتا دیتا ہے۔‘‘ میں ان سے ۲۰۱۹ میں اپنے پہلے سفر کے دوران ملا تھا۔ ان کی بیوی کے پولیرو نے کہا، ’’کبھی کبھی جب کھیتوں کی طرف سے پوروی (مشرق سے چلنے والی) ہوا بہتی ہے، تو ماہی گیروں کو ذرا بھی آمدنی نہیں ہوتی [انہیں ایک بھی مچھلی نہیں ملتی]۔‘‘ ہم ماہی گیر کالونی کے کنارے بنی ان کی جھونپڑی سے سمندری لہروں کو دیکھ رہے تھے۔ سال ۲۰۲۱ میں آئے سمندری طوفان ’گلاب‘ کی وجہ سے ان کی جھونپڑی ٹوٹ گئی، اور تب سے وہ ایک دوسری جھونپڑی میں رہنے لگے ہیں۔

دریں اثنا، مرما اپنے رشتہ دار کے گھر کے باہر چبوترے پر رہنے کے لیے مجبور ہیں۔ ان کی آواز کی لرزش سے ان کی تکلیف اور ان کے نقصان کا صاف پتہ چلتا ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’یہ سمندر ہمارے دو گھروں کو کھا چکا ہے؛ میں نہیں جانتی کہ ہم ایک اور گھر بنا سکیں گے یا نہیں۔‘‘

مترجم: محمد قمر تبریز

Rahul M.

Rahul M. is an independent journalist based in Anantapur, Andhra Pradesh, and a 2017 PARI Fellow.

Other stories by Rahul M.
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez