یہ اسٹوری پاری کی ماحولیاتی تبدیلی پر مبنی سیریز کا حصہ ہے، جس نے ماحولیات کی رپورٹنگ کے زمرہ میں سال ۲۰۱۹ کا رامناتھ گوئنکا ایوارڈ جیتا ہے

آپ کے ایک ایکڑ کھیت میں لگی جوار کچھ ہی وقت میں کیسے اور کیوں غائب ہو جاتی ہے؟ اس سوال کے جواب میں آنند سالوی کہتے ہیں، ’’دو سال میں یہ پہلی بار تھا جب میں فصلوں کے موسم میں ایک ہفتہ کے لیے اپنے گاؤں سے باہر چلا گیا۔ اسی دوران، وہ سب کچھ ہضم کر گئیں۔‘‘ ’وہ‘ گور بھینسوں (جسے کبھی کبھی ہندوستانی بایسن بھی کہا جاتا ہے) کا ایک جھُنڈ ہے – دنیا کی سب سے بھاری بھرکم بھینسوں کی ایک قسم۔ نر گور کی کندھے تک کی اونچائی (کھڑے ہونے پر)، ۶ فٹ سے زیادہ اور وزن ۵۰۰ سے ۱۰۰۰ کلوگرام کے درمیان ہو سکتا ہے۔

مہاراشٹر کے کولہاپور ضلع کے رادھانگری وائلڈ لائف سینکچوری میں عام طور سے پرامن طریقے سے رہنے والے یہ وزنی جانور شاہراہوں پر نکل رہے ہیں اور اپنے آس پاس کے کھیتوں پر دھاوا بول رہے ہیں۔

راکشی گاؤں میں سالوی رنجیدہ لہجے میں کہتے ہیں، ’’میرے کھیت کی رکھوالی کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ خوش قسمتی سے، میں اپنے ایک ایکڑ گنّے (تقریباً ۸۰ ٹن گنّے) کو بچانے میں کامیاب رہا۔‘‘ تو آپ ۱۰۰۰ کلو کے اس لحیم شحیم جانور سے کچھ بھی کیسے ’بچاتے‘ ہیں؟ جواب ملتا ہے، پٹاخوں سے۔

دو سال پہلے، سالوی نے ہر رات کھیتوں میں سونا شروع کر دیا۔ ’’ہم روزانہ رات کو ۸ بجے آتے ہیں اور ۴ بجے صبح میں یہاں سے جاتے ہیں، جب سبھی گاوا (گور کے لیے مقامی لفظ) چلی جاتی ہیں،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’اور ہم رات میں کھیتوں میں پٹاخے پھوڑتے ہیں۔‘‘ اس سے بھینسیں ڈر جاتی ہیں اور ان کے پانچ ایکڑ کھیت میں داخل نہیں ہوتیں، وہ کہتے ہیں۔ ان کے کئی پڑوسی بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ پنہالہ تعلقہ کے راکشی گاؤں میں کم از کم دو سال سے یہ بایسن فصلوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

PHOTO • Sanket Jain

سکڑتی جا رہی ساورائی ساڈا جھیل، سینکچوری میں جانوروں اور پرندوں کے لیے پانی کے اہم وسائل میں سے ایک ہے

سالوی کی بیوی سنیتا کہتی ہیں، ’’ہم سیزن میں اُن پٹاخوں کو خریدنے پر تقریباً ۵۰ روپے روزانہ خرچ کرتے ہیں۔ یہ کھیتی کی لاگت میں ایک نئے خرچ کی طرح جڑتا ہے۔‘‘ وہ کہتی ہیں، ’’کسانوں کا رات میں کھیتوں میں سونا بھی خطرے سے بھرا ہوا ہے۔‘‘ اس مدت میں کھیتوں میں دیگر جنگلی جانور بھی سرگرم رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر، سانپ۔

لوگوں کا ماننا ہے کہ بھینسیں جلد ہی یہ پتہ لگا لیں گی کہ پٹاخوں سے انھیں کوئی نقصان نہیں ہونے والا ہے۔ اس لیے رادھانگری تعلقہ کے کچھ کسانوں نے بجلی کے کرنٹ والی باڑ لگانا شروع کر دیا ہے۔ ’’لیکن وہ اس کی بھی عادی ہوتی جا رہی ہیں،‘‘ رادھا نگری واقع وائلڈ لائف این جی او، بایسن نیچر کلب کے شریک کار بانی سمراٹ کیرکر کہتے ہیں۔ ’’ہم نے دیکھا ہے کہ گور اپنے کھُروں یا پیروں کو دھیرے سے باڑ پر رکھتے ہیں یہ چیک کرنے کے لیے کہ کیا یہ جھٹکا دیتا ہے۔ پہلے وہ انسانوں سے ڈرتے تھے، لیکن اب وہ ہمیں دیکھ کر اتنی آسانی سے نہیں بھاگتے۔‘‘

’’ہم گاوا کو قصوروار نہیں مانتے،‘‘ سنیتا کہتی ہیں۔ ’’یہ محکمہ جنگلات کی غلطی ہے۔ جنگلوں کی نگرانی اگر ٹھیک سے نہیں کی جائے گی، تو جانور باہر نکلیں گے ہی۔‘‘

گور بھینسیں تیزی سے وائلڈ لائف سینکچوری سے باہر آ رہی ہیں – چارہ اور پانی کی تلاش میں۔ انھیں دیگر چیزوں کے علاوہ کاروی کے پتوں کی تلاش ہوتی ہے، جو لگتا ہے کہ خشک ہوتے جنگلوں سے غائب ہوتے جا رہے ہیں۔ اور وہ پانی کے دیگر ذرائع کو بھی کھوجتی ہیں – کیوں کہ سینکچوری کے تالاب سوکھ کر سکڑتے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، جنگل کے محافظ اور زمینی محققین کا کہنا ہے کہ یہ جانور سینکچوری کے اندر ختم ہوتے گھاس کے میدانوں سے بھی پریشان ہیں۔

Anand Salvi lost an acre of jowar to a bison raid.
PHOTO • Sanket Jain
Sunita Salvi says she blames the forest department.
PHOTO • Sanket Jain
Metallic cots farmers sleep on in the fields, through the night.
PHOTO • Sanket Jain

بائیں: آنند سالوی نے بایسن کے حملے کی وجہ سے اپنے ایک ایکڑ کھیت میں لگی جوار کی فصل کھو دی۔ درمیان میں: سنیتا سالوی کہتی ہیں کہ وہ محکمہ جنگلات کو قصوروار مانتی ہیں۔ دائیں: کسان اپنے کھیتوں کی رکھوالی کے لیے رات میں، کھلے آسمان کے نیچے میٹل کی اِن کھاٹوں پر سوتے ہیں

سینٹرل گراؤنڈ واٹر بورڈ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ رادھانگری تعلقہ میں ۲۰۰۴ میں ۳۵۱۰ ملی میٹر، ۲۰۰۸ میں ۳۶۸۴ اور ۲۰۱۲ میں ۳۰۷۲ ملی میٹر بارش ہوئی تھی۔ لیکن ۲۰۱۸ میں یہ محض ۲۱۲۰ ملی میٹر ہی رہی – جو کہ ایک بھاری گراوٹ ہے۔ دراصل، پورے کولہاپور ضلع میں ایک دہائی یا اس سے زیادہ وقت سے بارش لگاتار بے ترتیب رہی ہے – مہاراشٹر کے کئی دیگر علاقوں کا بھی یہی حال ہے۔

پچاس سالہ چرواہے، راجو پاٹل نے پہلی بار، ایک دہائی قبل دیوگڑھ-نِپانی ریاستی شاہراہ پر ۱۲ گور کے ایک جھنڈ کو دیکھا تھا۔ انھوں نے اپنے گاؤں، رادھانگری کے باہری علاقے میں وائلڈ لائف سینکچوری (جنگلاتی حیاتیات کے علاقے) کے بارے میں سنا تھا۔ لیکن انھوں نے گاوا کو کبھی نہیں دیکھا تھا۔

وہ کہتے ہیں، ’’صرف اس گزشتہ دہائی میں، میں نے انھیں جنگل سے باہر آتے دیکھا ہے۔‘‘  تب سے، رادھانگری گاؤں کے لوگوں کے لیے اِن لمبے چوڑے جانوروں کو سڑک پار کرتے دیکھنا ایک عام بات ہو گئی ہے۔ گاؤوں والوں نے ان جانوروں کے ویڈیو اپنے سیل فون پر بنائے ہیں۔ گور نے کولہاپور ضلع کے رادھانگری، شاہوواڈی، کرویر اور پنہالہ تعلقہ میں گنّے، شالو (جوار)، مکئی اور دھان کھانے کے لیے کھیتوں میں گھسنا شروع کر دیا ہے۔

اور پانی پینے کے لیے – جو جنگل کے اندر ان کے لیے نایاب ہو گیا ہے۔

رادھانگری تعلقہ میں، گاؤوں والوں کا کہنا ہے کہ گاوا نے پچھلے ۱۰-۱۵ برسوں کے دوران ہی جنگل کے باہر حملہ کرنا شروع کر دیا۔ پنہالہ تعلقہ میں، یہ حالیہ واقعہ ہے۔ راکشی گاؤں کے ۴۲ سالہ یوراج نرِوکھے، جن کے کھیت جنگل کے پاس ہیں، کہتے ہیں، ’’ہم نے گاوا کو پچھلے دو سالوں میں ہی دیکھا ہے۔ پہلے جنگلی سور ہماری فصلوں پر حملہ کرتے تھے۔‘‘ جنوری کے بعد سے اب تک، ۱۲ بایسن کا ایک گروپ ان کے صفر اعشاریہ ۷۵ ایکڑ کھیت پر تین بار دھاوا بول چکا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’میں نے کم از کم ۴ کوئنٹل شالو کھو دیا اور اب مجھے بارش کے اس موسم میں چاول کی کھیتی کرنے سے ڈر لگ رہا ہے۔‘‘

رادھانگری تعلقہ کے لوگوں نے سینکچوری سے نکلتے اور سڑک اور شاہراہ پار کرتے گور کے ویڈیو اپنے سیل فون سے بنائے ہیں

رادھا نگری کے افسر برائے تحفظ جنگلات پرشانت تندولکر کہتے ہیں، ’’موسم کا معمول پوری طرح بدل گیا ہے۔ اس سے پہلے، مارچ اور اپریل میں کم از کم ایک بار بارش ہوتی تھی، جو تالابوں کو بھر دیتی تھی۔ اگر ہم قدرت کے خلاف جا رہے ہیں، تو کسے قصوروار ٹھہرایا جانا چاہیے؟ کوئی ۵۰-۶۰ سال پہلے جنگل کی زمین تھی، پھر چراگاہ، کھیت اور اس کے بعد گاؤں ہوا کرتے تھے۔ اب لوگ ان زمینوں پر بسنے لگے ہیں اور دھیرے دھیرے جنگل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ جنگل اور گاؤں کے درمیان کی زمین پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔‘‘

اس سے بھی زیادہ تباہ کن نوعیت کا ’قبضہ‘ ہوا ہے – جو کہ باکسائٹ کی کانکنی ہے۔ کچھ دہائیوں سے یہ کھلتا اور بند ہوتا رہا ہے۔

سینکچوری ایشیا کے بانی ایڈیٹر بِٹّو سہگل کہتے ہیں۔ ’’باکسائٹ کے کھلے کان سے ہونے والی کانکنی نے رادھانگری کو گزشتہ کچھ برسوں میں تباہ کر دیا ہے۔ اس کی بہت مخالفت ہوئی تھی، لیکن کانکنی کمپنیوں جیسے کہ اِنڈال [جو بعد میں ہِنڈالکو میں ضم ہو گئی] کا اقتدار کے گلیاروں میں مظاہرین سے کہیں زیادہ دبدبہ تھا۔ یہ کمپنیاں سرکاری دفاتر میں پالیسیاں بنا رہی تھیں۔ کانکنی کی سرگرمی سے چراگاہ، آبی وسائل، ان سبھی کو سنگین نقصان پہنچا۔‘‘

دراصل، ۱۹۹۸ سے ہی بامبے ہائی کورٹ اور ہندوستان کے سپریم کورٹ، دونوں نے ہی اس طرح کی سرگرمی پر ایک سے زیادہ بار پھٹکار لگائی ہے۔ اکتوبر ۲۰۱۸ کے آخر میں، عدالتِ عظمیٰ نے اس معاملے میں ریاست کے ذریعے کسی بھی قسم کی فکر نہ کرنے کے سبب مہاراشٹر سرکار کے چیف سکریٹری کو عدالت میں حاضر رہنے کا حکم دیا تھا۔

PHOTO • Sanket Jain

اوپر کی قطار میں بائیں: یوراج نروکھے اس موسم میں چاول کی کھیتی کرنے سے ڈر رہے ہیں۔ دائیں: بایسن کے سبب راجو پاٹل کا گنّے کا صفر اعشاریہ ۷۵ ایکڑ کھیت تباہ ہو گیا۔ نیچے کی قطار: ماروتی نکم کو پتہ چلا کہ بایسن کے حملوں سے نیپیئر گھاس کا آدھا ایکڑ (دائیں) تباہ ہو گیا ہے

کولہاپور میں واقع شیواجی یونیورسٹی کے محققین کے ذریعے ۲۰۱۲ کے ایک مطالعہ میں کانکنی کے مسلسل طویل مدتی اثرات کے بارے میں بتایا گیا۔ ان کے تحقیقی مقالہ ، کولہاپور کی ماحولیات پر باکسائٹ کانکنی کی سرگرمیوں کے اثرات کے بارے میں مطالعہ ، میں کہا گیا ہے کہ ’’جائز اور غیر قانونی کانکنی کی سرگرمی نے اس علاقے میں سنگین ماحولیاتی تباہی کی شروعات کی ہے۔ حالانکہ کانکنی نے شروع میں محدود باشندوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے اور سرکار کے لیے مالیت کا انتظام کیا، لیکن یہ کچھ وقت تک ہی چلے گا۔ حالانکہ، زمین کے استعمال میں تبدیلی کے نتیجہ کے طور پر نباتات کو ہونے والا نقصان مستقل ہے۔‘‘

رادھانگری سے محض ۲۴ کلومیٹر دور ایک اور وائلڈ لائف سینکچوری ہے – داجی پور۔ الگ ہونے سے پہلے، ۱۹۸۰ کی دہائی کے وسط تک دونوں ایک ہی اکائی تھے۔ ایک ساتھ، وہ ۳۵۱ اعشاریہ ۱۶ مربع کلومیٹر کے علاقہ کا احاطہ کرتے ہیں۔ داجی پور میں لیٹرائٹ پٹھار کا ایک حصہ، جسے ساورائی ساڈا بھی کہا جاتا ہے، جس میں ایک جھیل بھی ہے، اس علاقہ کے جانوروں اور پرندوں کے لیے چارہ اور پانی کے اہم ذرائع میں سے ایک رہا ہے۔ لیکن اس سال مئی تک جھیل کا زیادہ تر حصہ سکڑ یا سوکھ گیا تھا۔

اس کے علاوہ، ’’پچھلی دہائی میں یہاں زیادہ تر جنگلات کی کٹائی ہوئی ہے۔ اس نے [موسم کے] معمول کو متاثر کیا ہے،‘‘ امت سید کہتے ہیں، جو ایک وائلڈ لائف محقق اور وائلڈ لائف پروٹیکشن اینڈ ریسرچ سوسائٹی کے صدر ہیں۔

ساورائی ساڈا اُن مقامات میں سے ایک ہے جہاں محکمہ جنگلات نے جانوروں کے لیے مصنوعی ’ سالٹ لِک ‘ (وہ جگہ جہاں جانور نمک یا معدنیات جیسے ضروری غذائی مرکبات کو چاٹنے کے لیے جمع ہوتے ہیں) بنائے ہیں۔ داجی پور اور رادھانگری، دونوں ہی جگہ کچھ مقامات پر نمک اور کونڈا (بھوسی/چوکر) جمع کیے گئے ہیں۔

سالٹ لِکس کے مقابلے انسانی مداخلت کی ایک اور کم دلکش شکل ہے: گنّے کا پھیلاؤ۔ کولہارپور ضلع، جس کے کچھ تعلقوں میں اچھی بارش ہوتی ہے، دہائیوں سے گنّے کی کھیتی کا محور تھا۔ حالانکہ، اس میں اضافہ تھوڑا تشویشناک ہے۔ ریاست کی چینی کمشنری اور گزٹ کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ۱۹۷۱-۷۲ میں کولہاپور میں ۴۰ ہزار ہیکٹیئر زمین پر گنّے کی کھیتی کی گئی تھی۔ پچھلے سال، ۲۰۱۸-۱۹ میں، یہ علاقہ ۱۵۵ ہزار ہیکٹیئر تھا – یعنی ۲۸۷ فیصد کا اضافہ۔ (مہاراشٹر میں گنّے کی کھیتی میں فی ایکڑ ۱۸-۲۰ ملین لیٹر پانی لگتا ہے)۔

PHOTO • Sanket Jain

اوپر کی قطار میں بائیں: اپنے جھُنڈ سے بچھڑ گیا ایک گور۔ دائیں: لیٹرائٹ پٹھار اور کم ہوتا جنگل۔ نیچے کی قطار میں بائیں: ساورائی ساڈا میں جنگلی جانوروں کے لیے معدنیات چاٹنے کے لیے رکھا گیا نمک اور کونڈا (بھوسی/چوکر)۔ دائیں: سینکچوری کے پاس گنّے کا ایک کھیت

ان تمام سرگرمیوں کا علاقہ کی زمین، پانی، جنگل، نباتات و حیوانات، موسم اور ماحولیات پر منفی اثر پڑا ہے۔ اس سینکچوری میں جنگلات کی قسمیں ہیں – جنوبی نیم-سدابہار، جنوبی نم-آمیزہ پت جھاڑ اور جنوبی سدا بہار جنگل۔ ان تمام تبدیلیوں کا اثر چرند و پرند کی ان پناہ گاہوں کے باہر بھی نظر آتا ہے۔ یہاں کے لوگوں پر بھی اس کے سنگین نتائج ہوئے ہیں۔ انسانی سرگرمی بڑھ رہی ہے، لیکن گور کا جھُنڈ نہیں۔

ایسا مانا جاتا ہے کہ کچھ دہائی پہلے ان شاندار جانوروں کی تعداد ۱۰۰۰ سے زیادہ تھی، لیکن مہاراشٹر کے محکمہ جنگلات کے مطابق، رادھانگری وائلڈ لائف سینکچوری میں اب صرف ۵۰۰ بچے ہیں۔ فاریسٹ رینج آفیسر پرشانت تندولکر کا ذاتی طور پر اندازہ ۷۰۰ ہے۔ ہندوستان میں، گور کو جنگلاتی حیاتیات کے تحفظ کے قانون، ۱۹۷۲ کے شیڈول ۱ کے تحت زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے، جو فہرست میں شامل انواع کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ان جانوروں پر ظلم کرنے پر سخت سزا کا التزام ہے۔ گور بین الاقوامی تنظیم برائے تحفظاتِ قدرت کی خطرے والی انواع کی ’سرخ فہرست‘ میں بھی شامل ہیں، جو انھیں ’غیر محفوظ‘ کے طور پر درج فہرست کرتی ہے۔

گور سفر پر ہیں، لیکن: ’’ان کے [محکمہ جنگلات کے] پاس ان جانوروں کی مہاجرت سے متعلق کوئی ڈیٹا نہیں ہے،‘‘ امت سید کہتے ہیں۔ ’’وہ کہاں جا رہے ہیں؟ وہ کس طرح کے گلیارے کا استعمال کر رہے ہیں؟ کس قسم کے گروپ میں ہیں؟ ایک جھُنڈ میں کتنے ہیں؟ اگر وہ جھُنڈوں کی نگرانی کر رہے ہیں، تو اس قسم کی چیزیں نہیں ہوں گی۔ ان گلیاروں میں آبی ذخائر بنائے جانے چاہئیں۔‘‘

ہندوستانی محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کولہاپور ضلع میں جون ۲۰۱۴ میں بارش اس مہینے کے عام اوسط سے ۶۴ فیصد کم ہوئی تھی۔ ۲۰۱۶ میں ۳۹ فیصد سے کم۔ ۲۰۱۸ میں، یہ اوسط سے ایک فیصد زیادہ تھی۔ جولائی ۲۰۱۴ میں، یہ اس مہینے کے اوسط سے ۵ فیصد زیادہ تھی۔ اس کے اگلے سال جولائی میں یہ ۷۶ فیصد کم تھی۔ اس سال یکم جون سے ۱۰ جولائی کی مدت میں بارش اوسط سے ۲۱ فیصد زیادہ ہوئی۔ لیکن، جیسا کہ یہاں کے بہت سے لوگ بتاتے ہیں، اس سال اپریل اور مئی میں مانسون سے پہلے کی بارش بالکل نہیں ہوئی۔ کیرکر کہتے ہیں، ’’گزشتہ ایک دہائی سے بارش کا پیٹرن بے ترتیب رہا ہے۔‘‘ اس کی وجہ سے ان جنگلات میں اب کچھ بھی بچے بارہ ماسی آبی وسائل کا مسئلہ اور بڑھ گیا ہے۔

PHOTO • Rohan Bhate ,  Sanket Jain

اوپر کی قطار میں بائیں: داجی پور جنگل کے اندر (تصویر: سنکیت جین/ پاری )۔ دائیں: اپنے بچھڑوں کے ساتھ ایک گور بھینس۔ (تصویر: روہن بھاٹے)۔ نیچے کی قطار میں بائیں: بایسن کے لیے قدرتی تالاب کے پاس بنایا گیا ایک مصنوعی تالاب۔ دائیں: سمراٹ کیرکر ۳۰۰۰ لیٹر کے ایک ٹینکر سے تالاب میں پانی ڈال رہے ہیں

اپریل اور مئی ۲۰۱۷ میں، رادھانگری اور داجی پور کے جنگلوں میں کچھ تالاب پہلی بار مصنوعی طور پر بھرے گئے – ٹینکروں کے پانی سے۔ کیرکر کے بایسن نیچر کلب کے ذریعے دونوں جنگلوں میں تین مقامات پر تقریباً ۲۰ ہزار لیٹر پانی کی سپلائی اسی طرح کی گئی۔ ۲۰۱۸ میں، یہ بڑھ کر ۲۴ ہزار لیٹر ہو گیا۔ (جنگل میں کئی دیگر تالاب بھی ہیں جن کی دیکھ بھال خود محکمہ جنگلات کے ذریعے کی جاتی ہے)۔

حالانکہ، کیرکر کہتے ہیں، ’’اس سال، محکمہ جنگلات نے ہمیں نامعلوم اسباب سے رادھانگری رینج کے صرف ایک تالاب میں پانی کی سپلائی کی اجازت دی۔‘‘ اس سال، این جی او نے ۵۴ ہزار لیٹر کی سپلائی کی۔ بہرحال، کیرکر کہتے ہیں، ’’جون میں مانسون کی پہلی دو بارش کے بعد ہم سپلائی بند کر دیتے ہیں۔‘‘

جنگلات کی کٹائی، کانکنی، فصل کے پیٹرن میں بڑی تبدیلی، قحط، عام خشک سالی، پانی کے معیار میں کمی، زیر زمین پانی کا خشک ہونا – ان سبھی چیزوں کا رادھانگری اور اس کے آس پاس کے بڑے علاقے میں جنگل، کھیت، مٹی، موسم اور ماحولیات پر اثر پڑا ہے۔

لیکن یہ صرف قدرتی ماحولیات نہیں ہے جو بگڑ رہی ہے۔

گور اور انسانوں کے درمیان ٹکراؤ کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پنہالہ تعلقہ کے نکم واڈی گاؤں میں چھ ایکڑ زمین کے مالک، ۴۰ سالہ ماروتی نکم کہتے ہیں، ’’ گاوا نے میرے ذریعے ۲۰ گُنٹھا [تقریباً آدھا ایکڑٗ] میں لگائی گئی سبھی نیپئر گھاس کھا لی۔ انھوں نے اس سال جنوری سے اپریل کے درمیان ۳۰ گُنٹھا کے ایک اور کھیت پر مکئی کا صفایا کر دیا۔

’’بارش کے موسم میں، جنگل میں بہت سارا پانی ہوگا، لیکن اگر انھیں کھانا نہیں ملا، تو وہ ہمارے کھیتوں میں لوٹ آئیں گے۔‘‘

کور فوٹو: روہن بھاٹے۔ ہمیں اپنی تصویریں استعمال کرنے کی اجازت دینے کے لیے ان کا، اور سینکچوری ایشیا کا خصوصی شکریہ۔

موسمیاتی تبدیلی پر پاری کی ملک گیر رپورٹنگ، عام لوگوں کی آوازوں اور زندگی کے تجربہ کے توسط سے اس واقعہ کو ریکارڈ کرنے کے لیے یو این ڈی پی سے امداد شدہ پہل کا ایک حصہ ہے۔

اس مضمون کو شائع کرنا چاہتے ہیں؟ براہِ کرم [email protected] کو لکھیں اور اس کی ایک کاپی [email protected] کو بھیج دیں۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Reporter : Sanket Jain

Sanket Jain is a journalist based in Kolhapur, Maharashtra. He is a 2022 PARI Senior Fellow and a 2019 PARI Fellow.

Other stories by Sanket Jain

P. Sainath is Founder Editor, People's Archive of Rural India. He has been a rural reporter for decades and is the author of 'Everybody Loves a Good Drought' and 'The Last Heroes: Foot Soldiers of Indian Freedom'.

Other stories by P. Sainath

P. Sainath is Founder Editor, People's Archive of Rural India. He has been a rural reporter for decades and is the author of 'Everybody Loves a Good Drought' and 'The Last Heroes: Foot Soldiers of Indian Freedom'.

Other stories by P. Sainath
Series Editors : Sharmila Joshi

Sharmila Joshi is former Executive Editor, People's Archive of Rural India, and a writer and occasional teacher.

Other stories by Sharmila Joshi
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez