مرکزی حکومت کے ذریعے ستمبر میں پارلیمنٹ کے توسط سے قانون تھوپنے (جب کہ زراعت ریاستی موضوع ہے) کے خلاف کسانوں کے زبردست احتجاج نے ملک بھر کے شاعروں اور فنکاروں کو متاثر کیا ہے۔ یہ خوبصورت نظم پنجاب سے ہے، جو ایک چھوٹے کسان کی روزمرہ کی جدوجہد پر شاعر کی تکلیف کو بیان کرتی ہے۔ نظم سے متاثر خاکہ نگاری بنگلورو کی ایک بہت ہی نوجوان فنکار کی ہے۔

سدھنوا دیش پانڈے کی آواز میں یہ نظم انگریزی میں سنیں

خاکہ نگاری: انترا رمن

ایک کسان کی داستان

جوتنا، بونا، اُگانا اور کاٹنا
انہی وعدوں پر میں قائم ہوں
جو کیا میں نے اپنے پیروں کے نیچے کی زمین سے
ایسی ہے میری زندگی...
جسم کے آخری سانس لینے تک

جس مٹی کو میں نے اپنے پیسنے سے سینچا
طوفانوں کو اپنے سینے پر برداشت کیا
کڑاکے کی سردی ہو یا شدید گرمی
میری روح کو پیچھے نہیں ہٹا سکی
ایسی ہے میری یہ زندگی....
جسم کے آخری سانس لینے تک

قدرت جو نہیں کر سکی، حاکم نے کیا
میری روح کا پُتلا لگایا
جیسے پرندوں کو ڈرانے کیلیے کھیت میں لگا پتلا
اس کی خوشی اور ہنسی مذاق کے لیے
ایسی ہے میری یہ زندگی....
جسم کے آخری سانس لینے تک

گزرے دنوں میں، پھیلے ہوئے تھے میرے کھیت
جہاں ہوتا تھا جنت اور زمین کا ملن
لیکن افسوس! اب میرے پاس بچی ہے
قرض چُکانے کے لیے کچھ ایکڑ زمین
ایسی ہے میری یہ زندگی....
میرے آخری سانس لینے تک

میری فصل سنہری، سفید اور ہری
لاتا ہوں بازار میں بے شمار امیدوں کے ساتھ
ٹوٹی امیدیں اور خالی ہاتھ
یہی ہیں میری زمینوں کے تحفے
ایسی ہے میری یہ زندگی.... جب تک موت متفق ہے
اس تکلیف سے مجھے باہر نکالنے کے لیے

چیختے، بھوکے، ان پڑھ بچے
بکھرے پڑے ہیں جن کے خواب
چھت کے نیچے، بس ملبہ
ٹوٹے ہوئے جسم، منتشر روح
ایسی ہے میری یہ زندگی.....
جسم کے آخری سانس لینے تک

چھن گئے تمام زیورات، جواہرات
خالی پیٹ، بے سہارا روح
لیکن پورے کرنے ہیں مجھے اپنے وعدے
مٹانے کے لیے بھوک اور لالچ
ایسی ہے میری یہ زندگی.....
جسم کے آخری سانس لینے تک

سنہری فصل جو میں کاٹوں
نہیں تیار لینے کو کوئی تاجر
قرض میں ڈوبا، تناؤ سے گھرا
مشکل سے دھڑکتا میرا دل
ایسی ہے میری یہ زندگی.....
جسم کے آخری سانس لینے تک

ہو سکتا ہے کوئی علاج؟
پھانسی ہو یا پھر انقلاب
ہنسیا اور درانتی نہیں رہے اوزار
لیکن بن گئے ہیں اب وہ ہتھیار
ایسی ہے میری یہ زندگی....
جسم کے آخری سانس لینے تک

شاعر، سربجوت سنگھ بہل کی آواز میں پنجابی میں یہ نظم سنیں

امرتسر کے ایک آرکی ٹیکٹ، جینا سنگھ کے ذریعے پنجابی زبان میں لکھی گئی نظم کا انگریزی میں ترجمہ کیا گیا۔

خاکہ نگار انترا رمن، سرشٹی انسٹی ٹیوٹ آف آرٹ، ڈیزائن اینڈ ٹیکنالوجی، بنگلور سے وژوئل کمیونی کیشن میں حالیہ گریجویٹ ہیں۔ ان کی خاکہ نگاری پر تصوراتی فن اور بیانیہ کی تمام شکلوں کا گہرا اثر ہے۔

انگریزی میں آڈیو: سدھنوا دیش پانڈے، جن ناٹیہ منچ کے ایک اداکار اور ڈائرکٹر اور لیفٹ ورڈ بکس کے ایڈیٹر ہیں۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Mohd. Qamar Tabrez is PARI’s Urdu/Hindi translator since 2015. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi. You can contact the translator here:

Sarbjot Singh Behl

Prof. Sarbjot Singh Behl is Dean, Academic Affairs, at Guru Nanak Dev University, Amritsar. An architect by training, he teaches at the School of Architecture and Planning and writes powerful poetry.

Other stories by Sarbjot Singh Behl