’’وبائی امراض اور لاک ڈاؤن نے ہمیں سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، پھر بھی ہم کووڈ سے پریشان شہر کو خوش کرنے کے لیے اچھی دھُن بجا رہے ہیں،‘‘ گدائی داس کہتے ہیں۔

داس، دیہی بنگال کے ایک ڈھاکی – روایتی اور اکثر موروثی ڈھولک بجانے والے – ہیں، اور تاراپیٹھ علاقے میں رہتے ہیں، جو بیربھوم ضلع کے چاندی پور گاؤں کی وہ جگہ ہے، جہاں کا مندر کافی مشہور ہے۔ ہر سال دُرگا پوجا کے وقت، پورے بنگال کے دیہی علاقوں سے آئے ڈھاکی کولکاتا کے سیالدہ ریلوے اسٹیشن پر جمع ہوتے ہیں۔ اسٹیشن کا احاطہ ان کی سرگرمی اور اکثر ڈھول کی آواز، بہت سے پیروں کی لے، اور آمد کی دھُنوں سے گونج اٹھتا ہے۔

بانکورہ، بردھمان، مالدہ، مرشد آباد اور نادیا سے آئے ڈھول بجانے والوں کا ہنر عام طور پر بڑے مجمع کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ یہ ڈھول بجانے والے بعد میں ان کے فنی مظاہرہ کے لیے کمیونٹی کے ذریعے کرایے پرلیے گئے نسبتاً پوجا کی چھوٹی جگہوں پر نظر آتے ہیں۔

افسوس، اس سال ایسا نہیں ہوا۔ دیگر تمام علاقائی فنکاروں کی طرح، وہ بھی کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن سے تباہ ہو چکے ہیں۔ بہت کم ڈھول بجانے والے کولکاتا آ پائے ہیں – ٹرینیں چل نہیں رہی ہیں۔ مرشد آباد ضلع کے شیرپور کے ڈھاکی واڈو داس بتاتے ہیں کہ ان کے گاؤں اور آس پاس کے علاقوں سے ۴۰ لوگ یہاں ایک چھوٹی بس سے آئے، جس کے لیے انہیں ۲۲ ہزار روپے دینے پڑے تھے۔ کولکاتا میں ڈھاکیوں کو دیگر، غیر وبائی مرض والے سال کے مقابلے آدھے سے بھی کم پیسے مل رہے ہیں۔ اور نقدی کی کمی کے سبب پوجا کے کئی منتظمین نے ریکارڈ شدہ گانے کو بجانا شروع کر دیا ہے – جو کہ ان دیہی فنکاروں کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے۔

میں جس ڈھاکی منڈلی میں بھی گیا، وہ سبھی ماں دُرگا سے یہی پرارتھنا کرتے ہوئے ملے: براہ کرم خوشیوں کے دن جلد از جلد واپس لائیں۔

Gadai Das (in the taxi window) arrives at his venue. Right: a group of dhakis negotiating a fee with a client
PHOTO • Ritayan Mukherjee
Gadai Das (in the taxi window) arrives at his venue. Right: a group of dhakis negotiating a fee with a client
PHOTO • Ritayan Mukherjee

گدائی داس (ٹیکسی کی کھڑکی میں) اپنے پروگرام کی جگہ پر پہنچ رہے ہیں۔ دائیں: ڈھاکیوں کا گروہ ایک گاہک سے پیسے کو لیکر بات چیت کر رہا ہے

مترجم: محمد قمر تبریز

Mohd. Qamar Tabrez is PARI’s Urdu/Hindi translator since 2015. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi. You can contact the translator here:

Ritayan Mukherjee

Ritayan Mukherjee is a Kolkata-based photographer and a 2016 PARI Fellow. He is working on a long-term project that documents the lives of pastoral nomadic communities of the Tibetan Plateau.

Other stories by Ritayan Mukherjee