’’یہ جہنم ہے
یہ گھومتا ہوا بھنور ہے
یہ ایک بدصورت تکلیف ہے
یہ ایک پائل پہنے ہوئی رقاصہ کا درد ہے...‘‘
۔۔ نام دیو ڈھسال کی نظم ’کماٹھی پورہ‘ سے ماخوذ

ہمیشہ کی ہلچل والی سڑک کئی سالوں میں پہلی بار خاموش ہوئی تھی۔ لیکن وہاں رہنے والی عورتیں زیادہ عرصے تک کام سے دور نہیں رہ سکتی تھیں۔ کرایے ادا کرنا باقی تھے، لاک ڈاؤن کے دوران ان کے بچے اپنے ہاسٹل سے واپس آ گئے تھے، اور اخراجات بڑھ گئے تھے۔

تقریباً چار مہینے کے وقفہ کے بعد، وسط جولائی میں، ۲۱ سالہ سونی نے سینٹرل ممبئی کے کماٹھی پورہ علاقے میں، ہر شام فاک لینڈ روڈ کے فٹ پاتھ پر دوبارہ کھڑا ہونا شروع کر دیا۔ وہ اپنی پانچ سال کی بیٹی ایشا کو مکان مالکن کی نگرانی میں چھوڑ کر، پاس کے کچھ ہوٹلوں یا کسی سہیلی کے کمرے پر گاہکوں سے ملنے چلی جاتی تھیں۔ ایشا کے سبب وہ انہیں اپنے کمرے میں نہیں لا سکتی تھیں۔ (اس اسٹوری میں سبھی نام بدل دیے گئے ہیں۔)

۴ اگست کو، جب سونی نے تقریباً ۱۱ بجے رات میں کام سے چھٹی لی اور اپنے کمرے پر واپس آئیں، تو دیکھا کہ ایشا رو رہی ہے۔ ’’جب تک میں اس کے پاس پہنچتی تھی، تب تک وہ سو چکی ہوتی تھی،‘‘ سونی بتاتی ہیں۔ ’’لیکن [اُس رات] وہ اپنے جسم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بار بار کہتی رہی کہ درد ہو رہا ہے۔ مجھے سب کچھ سمجھنے میں تھوڑا وقت لگا...‘‘

اُس شام، جب سونی کام پر تھیں، تو ایشا کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی گئی تھی۔ دو چار گھر دور رہنے والی ایک سیکس ورکر (جسم فروش)، اس چھوٹی لڑکی کو ناشتہ دینے کے بہانے اپنے کمرے میں لے گئی۔ اس کا ساتھی وہاں انتظار کر رہا تھا۔ ’’وہ نشے میں تھا اور اس نے میری بیٹی کو چھوڑنے سے پہلے کسی کو کچھ نہیں بتانے کی وارننگ دی تھی،‘‘ سونی کہتی ہیں۔ ’’وہ تکلیف میں تھی، اس نے گھر والی [مکان مالکن] کو بتایا، جسے ایشا اپنی نانی کی طرح مانتی تھی۔ میں بیوقوف ہوں جس نے یہ یقین کر لیا کہ ہمارے جیسے لوگ کسی پر اعتماد کر سکتے ہیں۔ اگر میری بیٹی نے ڈر سے مجھے اس بارے میں کبھی نہیں بتایا ہوتا تب کیا ہوتا؟ ایشا انہیں جانتی تھی اور انُ پر بھروسہ کرتی تھی، اسی لیے وہ ان کے کمرے میں گئی، ورنہ وہ اچھی طرح جانتی ہے کہ میری ناموجودگی میں اس علاقے میں کسی سے بات نہیں کرنی ہے۔‘‘

'I am a fool to believe that people like us can have someone to trust' says Soni, who filed a complaint at Nagpada police station after her daughter was raped
PHOTO • Aakanksha
'I am a fool to believe that people like us can have someone to trust' says Soni, who filed a complaint at Nagpada police station after her daughter was raped. Clothes hanging outside Kavita’s (Soni) room
PHOTO • Aakanksha

’میں بیوقوف ہوں جس نے یہ یقین کر لیا کہ ہمارے جیسے لوگ کسی پر اعتماد کر سکتے ہیں‘، سونی کہتی ہیں، جنہوں نے بیٹی کی عصمت دری کے بعد ناگپاڑہ پولس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ دائیں: ان کے کمرے کے باہر کپڑے لٹک رہے ہیں

واقعہ کے بعد، اس علاقے کی ایک سابق سیکس ورکر، جس کے بارے میں سونی کہتی ہیں کہ اسے ان کی بچی کو لبھانے کے منصوبہ کا علم تھا، نے اس معاملے کو نمٹانے کے لیے انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔ ’’ہر کوئی جانتا ہے کہ یہاں لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ لیکن ہر کوئی اس کے لیے اندھا ہو جاتا ہے، اور کئی لوگ ہمارا منہ بند کرانے آ جاتے ہیں۔ لیکن میں خاموش نہیں رہ سکتی،‘‘ وہ آگے کہتی ہیں۔

اُسی دن، یعنی ۴ اگست کو سونی نے پاس کے ناگپاڑہ پولس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ اگلے دن جنسی جرائم سے بچوں کا تحفظ قانون (پوکسو)، ۲۰۱۲ کے تحت ایک ایف آئی آر (پہلی اطلاعاتی رپورٹ) درج کی گئی۔ اس قانون کے مطابق، پولس نے ریاست کی چائلڈ ویلفیئر کمیٹی سے رابطہ کیا، جسے اس کے بعد قانونی مدد اور دیگر تعاون جیسے کاؤنسلر اور محفوظ ماحول میں بازآبادکاری فراہم کرنی ہوتی ہے۔ ایشا کو طبی جانچ کے لیے سرکاری جے جے اسپتال لے جایا گیا۔ ۱۸ اگست کو، اسے سنٹرل ممبئی کے ایک سرکاری امداد یافتہ چائلڈ کیئر سنٹر میں لے جایا گیا۔

******

حالانکہ اس قسم کے واقعات بہت عام ہیں۔ کولکاتا کے ریڈ لائٹ علاقوں میں ۲۰۱۰ میں کیے گئے ایک مطالعہ نے بتایا کہ جن ۱۰۱ کنبوں کے انٹرویو لیے گئے، ان میں سے ۶۹ فیصد کی یہی سوچ تھی کہ ان کے علاقے کا ماحول ان کے بچوں، خاص طور سے لڑکیوں کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ ’’...ماؤں کے ساتھ بات چیت سے انکشاف ہوا کہ جب کسی گاہک نے ان کی بیٹیوں کو چھوا، ان کے ساتھ چھیڑخانی کی، یا زبان طور پر مذاق کیا، تو انہوں نے بیچارگی محسوس کی،‘‘ مطالعہ میں کہا گیا ہے۔ اور انٹرویو میں شامل ۱۰۰ فیصد بچوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے دوستوں، بھائی بہنوں اور پڑوس کے دیگر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے معاملوں کے بارے میں سنا ہے۔

’’ہمارے لیے یہ سننا کوئی نئی بات نہیں ہے کہ اس نے ہماری بیٹیوں میں سے کسی کے ساتھ ایسا کیا یا ویسا کیا یا قریب آنے کی کوشش کی، یا اسے فحش مواد (پورنوگرافی) دیکھنے کے لیے مجبور کیا۔ یہ صرف بیٹیوں تک ہی محدود نہیں ہے، چھوٹے لڑکوں کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے، لیکن کوئی بھی اپنا منہ نہیں کھولے گا،‘‘ کماٹھی پورہ میں ہماری بات چیت کے دوران وہاں بیٹھی ایک سیکس ورکر کہتی ہیں۔

۲۰۱۸ کا ایک دیگر تجزیاتی مضمون کہتا ہے کہ ’’کچھ آبادیوں میں سی اے ایس [بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی] کے خطرے بہت زیادہ ہیں، جن میں کاروباری جسم فروش عورتوں کے بچے، ذہنی امراض میں مبتلا نوجوان لڑکیاں اور اسکول چھوڑ چکے اور بچہ مزدوری کرنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں شامل ہیں۔‘‘

Charu too has to leave three-year-old Sheela in the gharwali’s house when she goes for work, which she resumed in August. 'Do I have a choice?' she asks
PHOTO • Aakanksha
Charu too has to leave three-year-old Sheela in the gharwali’s house when she goes for work, which she resumed in August. 'Do I have a choice?' she asks
PHOTO • Aakanksha

چارو جب کام پر نکلتی ہیں، جسے انہوں نے اگست میں دوبارہ شروع کیا تھا، تو انہیں بھی تین سال کی شیلا کو گھر والی کے پاس چھوڑنا پڑتا ہے۔ ’میرے پاس اور کیا متبادل ہے؟‘ وہ پوچھتی ہیں

ہو سکتا ہے کہ لاک ڈاؤن نے انہیں مزید خطرے میں ڈال دیا ہو۔ ’بچوں کے خلاف تشدد کو ختم کرنے کی حکمت عملی‘ عنوان سے یونیسیف کی جون ۲۰۲۰ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ اپریل میں لاک ڈاؤن کے دو ہفتے کے دوران خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت کے ذریعے چلائی جانے والی ایمرجنسی سروس، چائڈ لائن کو بچوں کی مختلف قسم کی کالز کی تعداد میں ۵۰ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں، الگ سے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے ۹۴ اعشاریہ ۶ فیصد معاملوں میں، مجرم کسی نہ کسی طرح متاثرہ بچوں کے شناسا تھے؛ ۵۳ اعشاریہ ۷ فیصد معاملوں میں وہ فیملی کے رکن یا رشتہ دار/دوست تھے۔‘‘

کماٹھی پورہ میں کچھ غیر سرکاری تنظیمیں (این جن او)، جو سیکس ورکرز کے بچوں کے لیے، جب ان کی مائیں کام پر ہوتی ہیں، رات یا دن کا شیلٹر (قیام گاہ) چلاتی ہیں، انہوں نے لاک ڈاؤن کے دوران بچوں کو اپنے یہاں کل وقتی قیام کی پیشکش کی، حالانکہ شہر کے دیگر رہائشی اقامت گاہیں بند کر دی گئی تھیں اور بچوں کو ان کے گھر واپس بھیج دیا گیا تھا۔ ایشا ایک قیام گاہ میں تھی جس نے اسے وہاں ٹھہرانا جاری رکھا، لیکن چونکہ سونی کام نہیں کر رہی تھیں، اس لیے وہ جون کی شروعات میں اپنی بیٹی کو اپنے کمرے میں لے آئیں۔ جولائی میں سونی جب دوبارہ کام شروع کرنا چاہتی تھیں، تو انہوں نے ایشا کو واپس قیام گاہ میں چھوڑنے کی کوشش کی۔ ’’انہوں نے کورونا کے ڈر سے اسے اپنے پاس نہیں رکھا،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔

لاک ڈاؤن کے ابتدائی مرحلہ کے دوران، مقامی این جی او کی طرف سے کچھ راشن ملے تھے، لیکن کھانا پکانے کے لیے کیروسن (مٹی کے تیل) کی ضرورت تب بھی تھی۔ اور سونی نے جب دوبارہ کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا، تو اس وقت تک ان کا ۷ ہزار روپے کا دو مہینے کا کرایہ ادا کرنا باقی تھا۔ (جنسی زیادتی کے واقعہ کے بعد، سونی ۱۰ اگست کو پاس کی ایک دوسری گلی اور کمرے میں چلی گئیں۔ نئی گھر والی کا کرایہ ۲۵۰ روپے یومیہ ہے، لیکن وہ ابھی اس کے لیے زور نہیں دے رہی ہے۔)

ان برسوں میں سونی کے اوپر گھر والیوں اور علاقے کے دیگر لوگوں کا تقریباً ۵۰ ہزار روپے کا قرض جمع ہو چکا ہے، جسے وہ تھوڑا تھوڑا کرکے چکا رہی تھیں۔ اس میں سے کچھ ان کے والد کے علاج کے لیے تھے؛ وہ رکشہ چلاتے تھے اور بعد میں سانس لینے میں تکلیف کے سبب پھل بیچنے لگے تھے، لیکن فروری ۲۰۲۰ میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ’’مجھے پھر سے کام شروع کرنا پڑا ورنہ پیسے کون واپس ادا کرے گا؟‘‘ وہ سوال کرتی ہیں۔ سونی مغربی بنگال کے ہوڑہ ضلع کے اپنے گاؤں میں اپنی ماں، جو کہ ایک خاتونِ خانہ ہیں، اور تین بہنوں (دو پڑھائی کر رہی ہیں، ایک کی شادی ہو چکی ہے) کو پیسے بھیجتی ہیں۔ لیکن لاک ڈاؤن کے بعد وہ بھی بند ہو گیا تھا۔

******

کماٹھی پورہ میں دیگر سیکس ورکرز بھی اسی قسم کی لڑائی لڑتی رہی ہیں۔ ۳۰ سالہ پریہ، جو سونی کی ہی گلی میں رہتی ہیں، کو امید ہے کہ ہاسٹل جلد ہی ان کے بچوں کو دوبارہ اپنے یہاں رکھنے لگیں گے۔ نویں کلاس میں پڑھنے والی ان کی نو سال کی بیٹی رِدّھی، لاک ڈاؤن شروع ہونے پر پاس کے مدن پورہ واقع اپنے رہائشی اسکول سے لوٹ آئی تھی۔

Priya too is hoping residential schools and hostels will soon take back their kids (who are back home due to the lockdown). 'They should come and see our rooms for duri duri banake rakhne ka [social distancing]', she says, referring to the 10x10 feet room divided into three rectangular boxes of 4x6
PHOTO • Aakanksha
Priya too is hoping residential schools and hostels will soon take back their kids (who are back home due to the lockdown). 'They should come and see our rooms for duri duri banake rakhne ka [social distancing]', she says, referring to the 10x10 feet room divided into three rectangular boxes of 4x6
PHOTO • Aakanksha

پریہ کو بھی امید ہے کہ رہائشی اسکول اور ہاسٹل جلد ہی ان کے بچوں (جو لاک ڈاؤن کے سبب گھر واپس آ گئے ہیں) کو دوبارہ اپنے یہاں رکھنے لگیں گے۔ ’انہیں یہاں آنا چاہیے اور دوری دوری بناکے رکھنے کا [سماجی دوری بنانے] کے لیے ہمارے کمروں کو دیکھنا چاہیے‘، وہ ۴ بائی ۶ کے تین مستطیل بکسے میں تقسیم شدہ ۱۰ بائی ۱۰ فٹ کے کمرے کا حوالہ دیتے ہوئے کہتی ہیں

’’اس کمرے سے باہر بالکل نہیں نکلنا، جو بھی کرنا چاہتی ہو اسی کمرے میں کرو،‘‘ پریہ اپنی بیٹی سے سختی سے کہتی ہیں۔ رِدّھی کی آمد و رفت پر پابندی کووڈ کے ڈر سے نہیں ہے۔ ’’ہم ایسی جگہوں پر رہتے ہیں، جہاں یہ لوگ اگر ہماری بیٹیوں کو کھا بھی جائیں، تو کوئی پوچھنے تک نہیں آئے گا،‘‘ پریہ کہتی ہیں، جو اپنے باقاعدہ گاہکوں سے لیے گئے قرض کے کچھ پیسے سے اپنا کام کسی طرح چلا رہی ہیں۔

فیملی کے لیے لاک ڈاؤن مشکل تھا، جیسا کہ اس کے نتائج ہیں۔ ’’میری حالت خراب ہے، میں کرایہ دینے کے قابل نہیں ہوں اور مجھے کام شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ میں کام کرتے ہوئے رِدّھی کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتی، کم از کم وہ ہاسٹل میں محفوظ رہے گی،‘‘ پریہ کہتی ہیں، جو مہاراشٹر کے امراوتی ضلع سے ہیں، اور ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے کماٹھی پورہ میں ہیں۔

پریہ کا ۱۵ سالہ بیٹا وِکرم بھی ان کے ساتھ ہے۔ لاک ڈاؤن سے پہلے وہ بائکلا کے ایک میونسپل اسکول میں کلاس ۸ میں پڑھ رہا تھا۔ اس کی ماں جب گاہکوں سے ملتی تھی، تو وہ بغل کے کمرے میں سوتا، ادھر ادھر گھومتا، یا ایک این جی او کے ذریعہ چلائے جا رہے مقامی کیئر سنٹر میں وقت گزارتا تھا۔

یہاں کی عورتیں جانتی ہیں کہ ان کے بیٹے بھی جنسی زیادتی کے شکار ہوتے ہیں، یا ڈرگس اور دیگر برائیوں میں ان کے ملوث ہونے کا خطرہ رہتا ہے، اس لیے ان میں سے کچھ عورتیں لڑکوں کو بھی ہاسٹل میں ڈال دیتی ہیں۔ پریہ نے دو سال پہلے وکرم کو ایک ہاسٹل میں بھیجنے کی کوشش کی تھی، لیکن وہ بھاگ کر واپس آ گیا۔ اس سال اپریل میں، انہوں نے فیملی کی مدد کرنے کے لیے – ماسک اور چائے بیچنا، گھر والیوں کے گھروں کی صفائی کرنا – جو بھی کام مل سکا، اسے کرنا شروع کر دیا تھا۔

’’انہیں یہاں آنا چاہیے اور دوری دوری بناکے رکھنے کا [سماجی دوری بنانے] کے لیے ہمارے کمروں کو دیکھنا چاہیے،‘‘ پریہ ۴ بائی ۶ کے تین مستطیل بکسے میں تقسیم شدہ ۱۰ بائی ۱۰ فٹ کے کمرے کا حوالہ دیتے ہوئے کہتی ہیں۔ ہر ایک اکائی میں ایک بستر ہوتا ہے جو جگہ کو پوری طرح سے گھیر لیتا ہے اور دو الماریاں ہوتی ہیں۔ ایک کمرے میں پریہ رہتی ہیں، دوسرے کا استعمال دوسری فیملی کرتی ہے، اور بیچ والے کمرے کا استعمال (جب وہاں پر کوئی دوسری فیملی نہیں ہوتی) ان کے ذریعے کام کے لیے کیا جاتا ہے، یا وہ اپنی اکائیوں میں گاہکوں سے ملتی ہیں۔ کونے میں کچن اور واش روم کے لیے ایک عام جگہ ہوتی ہے۔ یہاں رہائشی اور کام کرنے کی کئی اکائیاں ایک جیسی ہیں – کچھ تو اور بھی چھوٹی ہیں۔

Even before the lockdown, Soni, Priya, Charu and other women here depended heavily on private moneylenders and loans from gharwalis; their debts have only grown during these last few months, and work, even with their kids back from schools and hostels in their tiny rooms, is an imperative
PHOTO • Aakanksha
Even before the lockdown, Soni, Priya, Charu and other women here depended heavily on private moneylenders and loans from gharwalis; their debts have only grown during these last few months, and work, even with their kids back from schools and hostels in their tiny rooms, is an imperative
PHOTO • Aakanksha

لاک ڈاؤن سے پہلے بھی، یہاں کی سونی، پریہ، چارو اور دیگر عورتیں پرائیویٹ ساہوکاروں اور گھر والیوں کے قرضوں پر بہت زیادہ منحصر تھیں؛ ان گزشتہ چند مہینوں کے دوران ان کے قرض صرف بڑھے ہیں، اور اسکولوں اور ہاسٹل سے ان چھوٹے کمروں میں ان کے بچوں کے واپس آ جانے سے، ان کے لیے کام کرنا ناگزیر ہو گیا ہے

گزشتہ چھ مہینے سے، پریہ اس چھوٹی سی جگہ کے لیے ۶ ہزار روپے ماہانہ کرایہ دینے کے قابل نہیں رہی ہیں، اُس چھوٹے سے حصہ کو چھوڑ کر جو انہوں نے حال ہی میں قرض کے پیسے سے ادا کیا تھا۔ ’’ہر مہینے، مجھے کسی نہ کسی چیز کے لیے کبھی ۵۰۰ روپے اور کبھی ۱۰۰۰ روپے لینے پڑتے تھے۔ ایسے میں وکرم کی کمائی سے مدد ملی،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ ’’کئی بار ہم گھاس لیٹ [کیروسن] خریدنے کے لیے [این جی اور دیگر لوگوں سے موصول کردہ] کچھ راشن [مقامی دکانوں پر] بیچتے ہیں۔‘‘

پریہ نے ۲۰۱۸ میں ۴۰ ہزار روپے قرض لیے تھے – سود کے ساتھ یہ اب ۶۲ ہزار ہو چکا ہے۔ اور وہ اب تک، اس میں سے صرف ۶ ہزار روپے ہی واپس ادا کر پائی ہیں۔ پریہ جیسے کئی لوگ اس علاقے کے پرائیویٹ ساہوکاروں پر پوری طرح سے منحصر ہیں۔

پریہ زیادہ کام نہیں کر سکتیں، انہیں پیٹ کے انفیکشن سے درد رہتا ہے۔ ’’میں نے اتنے اسقاط کرائے ہیں کہ اسی کی قیمت چکا رہی ہوں،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’میں اسپتال گئی تھی لیکن وہ کورونا میں مصروف ہیں اور آپریشن [ہسٹیرکٹومی، یا بچہ دانی نکالنے] کے لیے ۲۰ ہزار روپے مانگ رہے ہیں، جسے میں ادا نہیں کر سکتی۔‘‘ لاک ڈاؤن میں ان کی معمولی سی بچت کے پیسے بھی ختم ہو گئے۔ اگست میں انہیں ۵۰ روپے یومیہ پر اپنے علاقے میں ایک گھریلو ملازمہ کی نوکری ملی تھی، لیکن یہ صرف ایک مہینہ تک ہی چلی۔

پریہ نے اب کم از کم اپنی کچھ امیدیں ہاسٹل کے دوبارہ کھلنے پر لگا رکھی ہیں۔ ’’میں ردّھی کا مستقبل برباد کرنے کے لیے قسمت کا انتظار نہیں کر سکتی،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

اور جیسا کہ ان کی اور سونی کی بیٹی لاک ڈاؤن کے دوران اپنی ماں کے پاس لوٹ آئی تھیں، علاقے میں کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم، پریرنا نے اپنے ’ فوری تجزیاتی مطالعہ ‘ میں پایا کہ سیکس ورکرز (۳۰ کنبوں کا انٹرویو لیا گیا) کے ۷۴ بچوں میں سے ۵۷ لاک ڈاؤن کے دوران اپنی فیملی کے ساتھ رہ رہے تھے۔ اور کرایے کے کمروں میں رہنے والے ۱۸ میں سے ۱۴ کنبے اس مدت کے دوران کرایے ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں، جب کہ ۱۱ نے وبائی مرض کے دوران مزید قرض لیا۔

PHOTO • Aakanksha

’ان کے ساتھ کی گئی برائیاں انہیں اتنا متاثر کرتی ہیں کہ انہیں پتا ہی نہیں چلتا کہ کیا صحیح ہے۔ اگر سیکس ورکرز یا ان کے بچوں کے ساتھ کچھ بھی ہوتا ہے، تو ایسے علاقوں میں عام سوچ ہے: تو کیا ہوا؟ اگر بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے، تو وہ ماں کو قصوروار مانتے ہیں‘

چارو کی تین سال کی بیٹی، شیلا کو بھی ایک غیر سرکاری تنظیم کے ذریعے چلائے جا رہے کماٹھی پورہ کے شیلٹر سے مئی میں اس وقت گھر واپس بھیج دیا گیا، جب وہ بیمار ہو گئی تھی۔ ’’اسے کچھ ایلرجی ہے اور دھبے پڑ جاتے ہیں۔ مجھے اس کے سر کے بال اتروانے پڑے،‘‘ ۳۱ سالہ چارو کہتی ہیں، جن کے چار دیگر بچے بھی ہیں؛ ایک بیٹی کو کسی نے گود لے لیا ہے اور وہ بدلاپور میں ہے، اور تین بیٹے گاؤں میں – بہار کے کٹیہار ضلع میں رشتہ داروں – تمام دہاڑی مزدور – کے پاس رہتے ہیں۔ وہ ہر مہینے ان کے لیے ۳-۵ ہزار روپے بھیجتی تھی، لیکن لاک ڈاؤن میں انہیں مزید قرض لینا پڑا ہے۔ ’’میں اب اور نہیں لے سکتی، مجھے نہیں معلوم کہ اسے واپس کیسے کروں گی،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

اس لیے چارو کو بھی شیلا کو گھر والی کے پاس چھوڑنا پڑتا ہے، انہوں نے اگست سے دوبارہ کام پر جانا شروع کیا ہے۔ ’’میرے پاس اور کیا متبادل ہے؟‘‘ وہ پوچھتی ہیں۔

ان کے کام سے حالانکہ ان عورتوں کی آمدنی زیادہ نہیں ہو رہی ہے۔ ’’ایک ہفتہ میں مجھے صرف ایک یا دو گاہک مل رہے ہیں،‘‘ سونی کہتی ہیں۔ کسی زمانے میں چار یا پانچ ہوتے تھے، لیکن اب یہ نایاب ہے۔ پہلے یہاں کی عورتیں ایک دن میں ۴۰۰ سے ۱۰۰۰ روپے تک کما سکتی تھیں – اور صرف حیض آنے، اصل میں بیمار پڑنے، یا جب ان کے بچے گھر واپس آ جاتے تھے تبھی چھٹیاں لیتی تھیں۔ ’’اب تو ایک دن میں ۲۰۰-۵۰۰ روپے بھی ہمارے لیے بڑی بات ہے،‘‘ سونی کہتی ہیں۔

******

’’ہم بہت غریب کنبوں کو دیکھ رہے ہیں، جو اگر باہر آئیں اور اپنے مسائل کو اٹھائیں، تو ان پر غور بھی نہیں کیا جائے گا،‘‘ مجلس لیگل سنٹر کی وکیل اور سنٹر کے راحت پروجیکٹ کی پروگرام مینیجر، جیسنتا سلڈنہا کہتی ہیں – یہ تنظیم ممبئی میں جنسی تشدد سے متاثر لوگوں کو سماجی و قانونی مدد فراہم کرتی ہے۔ جیسنتا اور ان کی ٹیم اب ایشا کے معاملے کو سنبھال رہی ہے۔ ’’سونی واقعی میں ہمت ور تھی، جو کھل کر سامنے آئی۔ ایسے دیگر لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو بولتے نہیں ہیں۔ روزی روٹی کا سوال سب سے بڑا ہے۔ ان بڑے مسائل کے پیچھے کئی اسباب ہو سکتے ہیں۔‘‘

PHOTO • Aakanksha

اوپر بائیں: پریہ کا کمرہ؛ بستر کے ٹھیک اوپر ان کے سامان کے لیے دو خانے ہیں۔ اوپر دائیں: تین چھوٹی اکائیوں والے ہر ایک کمرے میں باورچی خانہ کے برتن اور پینے کے پانی کی بوتل رکھنے کے لیے ایک عام جگہ ہوتی ہے، اور اس کے پیچھے غسل کرنے کے لیے ایک چھوٹی جگہ ہوتی ہے، جس میں پردے کے طور پر ساڑی یا دوپٹہ لگا ہوتا ہے۔ نیچے کی قطار: سنٹرل ممبئی کا کماٹھی پورہ علاقہ

وہ کہتی ہیں کہ سیکس ورکرز کے حقوق کو مخاطب کرنے کے لیے ایک بڑے نیٹ ورک – این جی او، وکیل، کاؤنسلر اور دیگر کو ساتھ آنا چاہیے۔ ’’ان کے ساتھ کی گئی برائیاں انہیں اتنا متاثر کرتی ہیں کہ انہیں پتا ہی نہیں چلتا کہ کیا صحیح ہے،‘‘ سلڈنہا کہتی ہیں۔ ’’اگر سیکس ورکر یا ان کے بچوں کے ساتھ کچھ بھی ہوتا ہے، تو ایسے علاقوں میں عام سوچ ہے: تو کیا ہوا؟ اگر بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے، تو وہ ماں کو قصوروار مانتے ہیں۔‘‘

دریں اثنا، ایشا کے معاملے میں، پوکسو کے تحت درج، جنسی استحصال کرنے والا ۵ جولائی سے بند ہے، جب کہ جرم میں شامل دیگر لوگوں (اس کی معاون، گھر والی، اور سابق سیکس ورکر، یرغمال بنانے کے  لیے) کے خلاف چارج شیٹ داخل ہونی باقی ہے۔ اور انہیں ابھی حراست میں نہیں لیا گیا ہے۔ پوکسو اہم ملزم کے لیے قید کو لازمی بناتا ہے ’ جو دس سال سے کم نہیں ہوگی، لیکن جسے تاعمر قید تک بڑھایا جا سکتا ہے‘ اور اس میں سزائے موت کا بھی التزام ہے، ساتھ ہی جرمانہ بھی ہے جو ’مبنی بر انصاف اور مناسب ہوگا اور متاثرہ کو طبی اخراجات اور باز آبادکاری کے لیے ادا کیا جائے گا‘۔ اس میں یہ بھی التزام ہے کہ ریاست متاثرہ بچے اور اس کی فیملی کو ۳ لاکھ روپے تک کا معاوضہ دے گا۔

لیکن متاثرہ بچوں کے کنبوں (جنہوں نے پوکسو قانون کے تحت معاملے درج کرائے ہیں) کا کہنا ہے کہ ان کی بنیادی چنوتی ’’قانونی نظام سمیت موجودہ نظاموں میں اعتماد کی کمی ہے،‘‘ نیشنل لاء اسکول آف انڈیا یونیورسٹی ، بنگلورو کے سنٹر فار چائلڈ اینڈ لاء کی فروری ۲۰۱۸ کی رپورٹ کہتی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ سسٹم جنسی زیادتی کے شکار بچے کو ’’انصاف میں دیری، سماعت کے ملتوی ہونے اور عدالت کا بار چکر لگانے‘‘ کے ذریعہ دوبارہ پریشان کرتا ہے۔

سلڈنہا اس بات سے متفق ہیں۔ ’’[بچے کا] بیان چار بار درج کیا جاتا ہے، پہلے پولس اسٹیشن میں، پھر طبی جانچ کے دوران، اور دو بار عدالت میں [مجسٹریٹ کو اور جج کے سامنے]۔ کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے جب بچوں کو اتنا صدمہ پہنچتا ہے کہ وہ تمام ملزمین کے نام نہیں لے سکتے، جیسا کہ ایشا کے معاملے میں بھی ہوا۔ اس نے حال ہی میں گھروالی کے ملوث ہونے [جو جرم کو روکنے یا رپورٹ کرنے میں ناکام رہی] کے بارے میں منہ کھولا۔‘‘

اس کے علاوہ، وہ بتاتی ہیں، قانونی کارروائی میں – معاملہ دائر ہونے سے لیکر آخری فیصلہ تک – بہت وقت لگتا ہے۔ وزارت قانون و انصاف کے جون ۲۰۱۹ تک کے اعداد و شمار کے مطابق، پوکسو قانون کے تحت کل ایک لاکھ ۶۰ ہزار ۹۸۹ معاملے زیر التوا تھے، جن میں سے ۱۹ ہزار ۹۶۸ معاملوں کے ساتھ مہاراشٹر میں یہ (اتر پردیش کے بعد) دوسری سب سے زیادہ تعداد تھی۔

PHOTO • Aakanksha

ان کے کام سے حالانکہ ابھی ان عورتوں کی آمدنی زیادہ نہیں ہو رہی ہے

’’بوجھ بہت زیادہ ہے اور اس میں کئی اور معاملے روزانہ شامل ہوتے رہتے ہیں،‘‘ سلڈنہا کہتی ہیں۔ ’’ہم بھی چاہتے ہیں کہ اس کارروائی میں تیزی لائی جائے، جس کے لیے مزید ججوں کی یا شاید کام کے گھنٹے بڑھانے کی ضرورت ہے۔‘‘ وہ فکرمند ہیں کہ عدالتیں گزشتہ چھ مہینے کے معاملوں کا نمٹارہ کیسے کریں گی، اس کے علاوہ مارچ ۲۰۲۰ سے پہلے کے معاملے بھی ہیں جن کی سماعت لاک ڈاؤن کی وجہ سے روک دی گئی تھی۔

******

سونی مشکل سے ۱۶ سال کی تھیں جب ان کے دوست نے انہیں کولکاتا میں بیچ دیا تھا۔ ان کی جب شادی ہوئی تھی، تب وہ محض ۱۳ سال کی تھیں۔ ’’شوہر کے ساتھ میرا ہمیشہ جھگڑا ہوتا تھا [جو کپڑے کی فیکٹری میں معاون کے طور پر کام کرتا تھا] اور میں اپنے والدین کے گھر بھاگ جایا کرتی تھی۔ اس قسم کے جھگڑے کے بعد ایک بار میں اسٹیشن پر بیٹھی تھی جب میرے دوست نے کہا کہ وہ مجھے ایک محفوظ مقام پر لے جائے گا۔‘‘ اُس دوست نے ایک میڈم کے ساتھ سودا کرنے کے بعد سونی کو شہر کے ریڈ لائٹ علاقے میں چھوڑ دیا۔ ان کی بیٹی ایشا، تب مشکل سے ایک سال کی، ان کے ساتھ ہی تھی۔

سونی چار سال پہلے ممبئی کے کماٹھی پورہ آ گئیں۔ ’’مجھے گھر جانے کا من کرتا ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’لیکن میں نہ تو یہاں کی رہی نہ وہاں کی۔ یہاں [کماٹھی پورہ میں] میں نے قرض لیا ہے جسے مجھے واپس ادا کرنا ہے، اور میرے آبائی وطن میں لوگ میرے پیشہ کے بارے میں جانتے ہیں، اسی لیے مجھے وہاں سے آنا پڑا۔‘‘

ایشا کو جب سے چائلڈ کیئر سنٹر میں بھیجا گیا ہے، تب سے وہ (کووڈ سے متعلق پابندیوں کے سبب) اس سے ملنے میں ناکام رہی ہیں، اور ویڈیو کال پر اس سے بات کرتی ہیں۔ ’’میرے ساتھ جو کچھ ہوا، میں پہلے سے ہی اسے جھیل رہی ہوں۔ میں پہلے سے ہی ایک برباد عورت ہوں، لیکن کم از کم انہیں میری بیٹی کی زندگی برباد نہیں کرنی چاہیے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’میں نہیں چاہتی کہ وہ میرے جیسی زندگی میں قدم رکھے، جو میں نے کیا۔ میں اس کے لیے لڑ رہی ہوں کیوں کہ میں نہیں چاہتی کہ مستقبل میں اسے یہ محسوس ہو کہ کوئی بھی اس کے لیے کھڑا نہیں ہوا، جیسے کہ میرے لیے کوئی نہیں کھڑا ہوا تھا۔‘‘

جنسی زیادتی کرنے والے کی گرفتاری کے بعد، اس کی معاون (جو مبینہ طور پر بچی کے جنسی استحصال میں مددگار تھی) سونی کو پریشان کرتی رہتی ہے۔ ’’وہ جھگڑا کرنے کے لیے میرے کمرے میں آ جاتی ہے اور اپنے آدمی کو جیل بھجوانے کے لیے مجھے بد دعا دیتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اس سے بدلا لے رہی ہوں، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ میں شراب پیتی ہوں اور ایک لاپرواہ ماں ہوں۔ لیکن خوش قسمتی سے، وہ کم از کم مجھے ایک ماں کہہ رہے ہیں۔‘‘

کور فوٹو: چارو اور ان کی بیٹی شیلا (فوٹو: آکانکشا)

مترجم: محمد قمر تبریز

Mohd. Qamar Tabrez is PARI’s Urdu/Hindi translator since 2015. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi. You can contact the translator here:

Aakanksha

Aakanksha (she uses only her first name) is a Reporter and Content Editor at PARI.

Other stories by Aakanksha