بجرنگ گائکواڑ کا وزن جیسے ہی پانچ کلو کم ہوا، وہ سمجھ گئے کہ انہیں کافی نقصان ہو چکا ہے۔ وہ بتاتے ہیں، ’’پہلے، میں روزانہ بھینس کا چھ لیٹر دودھ پیتا تھا، ۵۰ بادام، ۱۲ کیلے اور دو انڈے کھاتا تھا – اس کے بعد ہر دوسرے دن گوشت کھاتا تھا۔‘‘ اب، انہیں یہ تمام چیزیں سات دنوں میں یا اس سے بھی زیادہ مدت میں کھانے کو ملتی ہیں – اور ان کا وزن گھٹ کر ۶۱ کلو ہو گیا ہے۔

کولہاپور ضلع کے جونی پرگاؤں کے ۲۵ سالہ پہلوان، بجرنگ کہتے ہیں، ’’پہلوان کا وزن کم نہیں ہونا چاہیے۔ اس سے آپ کمزور ہو سکتے ہیں اور کشتی کے دوران ٹھیک سے لڑ نہیں سکتے۔ ہماری خوراک اتنی ہی اہم ہے جتنی کی ہماری ٹریننگ۔‘‘ دیہی مغربی مہاراشٹر کے اپنے جیسے کئی دوسرے پہلوانوں کی طرح ہی، بجرنگ بھی لمبے عرصے سے اپنی مقوی اور بھاری بھرکم غذا کے لیے کشتی سے حاصل ہونے والے پیسے پر منحصر رہے ہیں۔

لیکن، کولہاپور کے ڈونولی گاؤں میں آخری کُشتی لڑے ہوئے بجرنگ کو اب ۵۰۰ سے زیادہ دن ہو چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’اتنا لمبا بریک (وقفہ) تو میں نے بہت زیادہ زخمی ہونے پر بھی کبھی نہیں لیا ہے۔‘‘

Left: Bajrang and his mother, Pushpa Gaikwad; their house was flooded in July 2021. Right: Coach Maruti Mane inspecting the rain-ravaged taleem. The floods came after a year-plus of no wrestling bouts due the lockdowns
PHOTO • Sanket Jain
Left: Bajrang and his mother, Pushpa Gaikwad; their house was flooded in July 2021. Right: Coach Maruti Mane inspecting the rain-ravaged taleem. The floods came after a year-plus of no wrestling bouts due the lockdowns
PHOTO • Sanket Jain

بائیں: بجرنگ اور ان کی ماں، پشپا گائکواڑ؛ جولائی ۲۰۲۱ میں ان کا گھر سیلاب کے پانی میں ڈوب گیا تھا۔ دائیں: کوچ ماروتی مانے بارش سے تباہ ہوئی تعلیم (اکھاڑہ) کا معائنہ کر رہے ہیں۔ ایک سال کے بعد یہاں سیلاب آیا تھا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے کوئی کُشتی بھی نہیں ہوئی

مارچ ۲۰۲۰ سے ہی یہاں کُشتی نہیں ہو رہی ہے۔ پورے مہاراشٹر میں گاؤں کی جاترا (میلوں) میں کُشتی کرائی جاتی ہے، لیکن لاک ڈاؤن لگنے کے بعد ان پر پابندی عائد کر دی گئی – اور ابھی بھی اس کی اجازت نہیں ہے۔

کووڈ۔۱۹ وبائی مرض سے قبل کُشتیوں کے سیزن میں، بجرنگ نے مغربی مہاراشٹر اور شمالی کرناٹک کے گاؤوں میں منعقد ہونے والی متعدد کُشتیوں میں ایک لاکھ ۵۰ ہزار روپے کمائے تھے۔ یہ ان کی سال بھر کی کل آمدنی تھی۔ وہ بتاتے ہیں، ’’اچھا پہلوان ایک سیزن میں کم از کم ۱۵۰ میچ کھیل سکتا ہے۔‘‘ یہ سیزن اکتوبر کے آخر میں شروع ہوتا ہے اور اپریل- مئی (مانسون شروع ہونے سے پہلے) تک چلتا ہے۔ بجرنگ کے استاد (کوچ)، ۵۱ سالہ ماروتی مانے بتاتے ہیں، ’’نیا پہلوان ایک سیزن میں ۵۰ ہزار روپے کما سکتا ہے، جب کہ سینئر پہلوان ۲۰ لاکھ روپے تک کما لیتے ہیں۔‘‘

لاک ڈاؤن شروع ہونے سے پہلے بھی، بجرنگ اور ہاتکننگلے تعلقہ کے جونی پرگاؤں کے دوسرے پہلوانوں کو اس وقت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، جب اگست ۲۰۱۹ میں مغربی مہاراشٹر اور کونکن کے کچھ علاقوں میں زبردست سیلاب آ گیا تھا۔ جونی (پرانے) پرگاؤں، اور اس سے ملحق پرگاؤں، جو ورنا ندی کے شمالی کنارے کے قریب واقع ہے، تین دنوں کی بارش میں پوری طرح ڈوب گئے۔ دونوں گاؤوں کی آبادی (مردم شماری ۲۰۱۱ کے مطابق) مجموعی طور پر ۱۳۱۳۰ ہے۔

With the lockdown restrictions, even taleems – or akhadas – across Maharashtra were shut. This impacted the pehelwans' training, and the increasing gap between training and bouts has forced many of them to look for other work
PHOTO • Sanket Jain
With the lockdown restrictions, even taleems – or akhadas – across Maharashtra were shut. This impacted the pehelwans' training, and the increasing gap between training and bouts has forced many of them to look for other work
PHOTO • Sanket Jain

لاک ڈاؤن کی پابندیوں کی وجہ سے پورے مہاراشٹر میں تعلیم – یا اکھاڑے – بھی بند کر دیے گئے تھے۔ اس سے پہلوانوں کی ٹریننگ پر کافی اثر پڑا، اور ٹریننگ اور کُشتی کے درمیان بڑھتے وقفہ کی وجہ سے کئی پہلوانوں کو دوسرے کاموں کی جانب رخ کرنے پر مجبور ہونا پڑا

ماروتی مانے بتاتے ہیں کہ جونی پرگاؤں کا جے ہنومان تعلیم بھی پانی میں ڈوب گیا تھا۔ بقول ان کے، یہ اکھاڑہ سو سال سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ یہاں کے اور قریبی گاؤوں کے ۵۰ سے زیادہ پہلوانوں (سبھی مرد) نے اپنے ۲۳ بائی ۲۰ فٹ کے ٹریننگ ہال کے پانچ فٹ گہرے اکھاڑہ کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے سانگلی ضلع سے ٹرک میں ۲۷ ہزار کلو تامبڑی ماٹی (لال مٹی) لانے میں اپنا تعاون دیا۔ اس پر انہیں ۵۰ ہزار روپے خرچ کرنے پڑے۔

تاہم، لاک ڈاؤن کی پابندیوں کی وجہ سے پورے مہاراشٹر میں، تعلیم – یا اکھاڑے- بھی بند کر دیے گئے۔ اس سے بجرنگ اور دیگر پہلوانوں کی ٹریننگ بری طرح متاثر ہوئی۔ اور ٹریننگ اور کشتی کے درمیان بڑھتے اس وقفہ نے ان میں سے کئی کو دوسرا کام تلاش کرنے پر مجبور کر دیا۔

جون ۲۰۲۱ میں، بجرنگ نے بھی اپنے گھر سے ۲۰ کلومیٹر دور واقع آٹوموبائل پرزوں کی ایک فیکٹری میں مزدوری کی نوکری کر لی۔ وہ بتاتے ہیں، ’’مجھے ہر مہینے ۱۰ ہزار روپے ملتے ہیں اور خوراک کے لیے مجھے کم از کم ۷ ہزار روپے کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘ ان کے کوچ، ماروتی مانے کے مطابق، تجربہ کار پہلوانوں کو صرف اپنی خوراک کے لیے روزانہ ۱۰۰۰ روپے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا انتظام نہ کر پانے کی وجہ سے اگست ۲۰۲۰ سے بجرنگ نے اپنے کھانے میں کمی شروع کر دی، جس سے ان کا وزن گھٹنے لگا۔

ویڈیو دیکھیں: سیلاب، لاک ڈاؤن وغیرہ سے ہاتھ آزمائی

کوچ مانے بتاتے ہیں، ’اب کوئی بھی پہلوان کم از کم دو مہینے کی بھی ٹریننگ نہیں لے سکتا۔ سب سے پہلے، پوری مٹی کو ایک مہینہ تک سوکھنے کے لیے چھوڑنا پڑے گا‘

بجرنگ کے والد، جو کہ ایک زرعی مزدور تھے، کا ۲۰۱۳ میں انتقال ہونے کے بعد انہیں کئی نوکریاں کرنی پڑیں۔ انہوں نے کچھ دنوں تک ایک مقامی دودھ کے کوآپریٹو میں پیکیجنگ کا کام کیا، جہاں سے انہیں یومیہ ۱۵۰ روپے ملتے تھے، اور ساتھ ہی لامحدود مقدار میں دودھ بھی پینے کے لیے ملتا تھا۔

ان کی ماں، ۵۰ سالہ پشپا نے اکھاڑے تک کے ان کے سفر میں پورا ساتھ دیا، جس کی شروعات انہوں نے ۱۲ سال کی عمر میں مقامی کشتی سے کی تھی۔ وہ بتاتی ہیں، ’’میں نے اسے زرعی مزدور کے طور پر کام کرتے ہوئے [جہاں چھ گھنٹے کام کرنے کے ۱۰۰ روپے ملتے تھے] پہلوان بنایا۔ لیکن اب کافی مشکلیں پیش آ رہی ہیں کیوں کہ [بار بار] سیلاب آنے کی وجہ سے کھیتوں میں کوئی کام نہیں رہ گیا ہے۔‘‘

بطور مزدور بجرنگ کو نئی نوکری میں ہڈی توڑ محنت کرنی پڑتی ہے، اور اس کی وجہ سے ان کا لازمی طور پر ورزش کرنے کا وقت بھی چلا جاتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں، ’’کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے جب مجھے کئی دنوں تک تعلیم میں جانے کی بھی خواہش نہیں ہوتی۔‘‘ حالانکہ یہ ہال مارچ ۲۰۲۰ کے بعد سے ہی بند پڑے ہیں، پھر بھی کچھ پہلوان اس کے اندر جاکر کبھی کبھی ٹریننگ حاصل کرتے ہیں۔

Though Juney Pargaon village's taleem is shut since March 2020, a few wrestlers continue to sometimes train inside. They first cover themselves with red soil to maintain a firm grip during the bouts
PHOTO • Sanket Jain

حالانکہ جونی پرگاؤں کی تعلیم مارچ ۲۰۲۰ کے بعد سے ہی بند پڑی ہے، پھر بھی کچھ پہلوان اس کے اندر جاکر کبھی کبھی ٹریننگ حاصل کرتے ہیں۔ وہ سب سے پہلے اپنے جسم پر لال مٹی لگاتے ہیں تاکہ کشتی کے دوران ان کی پکڑ مضبوط بنی رہے

مئی ۲۰۲۱ میں، جب ہال کا استعمال کیے ہوئے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا تھا، پہلوانوں نے ایک بار پھر اکھاڑہ کی مٹی کو برابر کرنا اور اسے کشتی کے لائق بنانا شروع کر دیا۔ لال مٹی میں تقریباً ۵۲۰ کلو بھینس کا دودھ، ۳۰۰ کلو ہلدی پاؤڈر، ۱۵ کلو پیسا ہوا کپور، تقریباً ۲۵۰۰ لیموں کا رس، ۱۵۰ کلو نمک، ۱۸۰ لیٹر کھانا پکانے کا تیل، اور ۵۰ لیٹر نیم میں ملایا ہوا پانی ڈالا گیا۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ یہ تمام چیزیں پہلوانوں کو انفیکشن، کٹنے اور بڑے زخموں سے بچانے میں مدد کریں گی۔ اس پر کل ایک لاکھ روپے کا خرچ آیا، جسے ایک بار پھر پہلوانوں کے تعاون اور کشتی کے چند مقامی شائقین کی مدد سے جمع کیا گیا تھا۔

لیکن دو مہینے بھی نہیں گزرے تھے کہ ۲۳ جولائی کو ان کا گاؤں ایک بار پھر بارش اور سیلاب کی وجہ سے پانی میں ڈوب گیا۔ بجرنگ کہتے ہیں، ’’سال ۲۰۱۹ میں تعلیم کے اندر کم از کم ۱۰ فٹ پانی بھر گیا تھا اور ۲۰۲۱ میں یہ ۱۴ فٹ کو بھی پار کر گیا۔ ہم [دوبارہ] مالی تعاون نہیں کر سکتے تھے، اس لیے میں پنچایت کے پاس پہنچا، لیکن کوئی بھی مدد کے لیے آگے نہیں آیا۔‘‘

کوچ مانے بتاتے ہیں، ’’اب کوئی بھی پہلوان کم از کم دو مہینے کی بھی ٹریننگ حاصل نہیں کر سکتا۔ سب سے پہلے، ایک مہینے تک پوری ماٹی [مٹی] کو سکھانا پڑے گا۔ اس کے بعد، انہیں نئی ماٹی لانی پڑے گی۔‘‘

A pehelwan from Juney Pargaon climbing a rope, part of a fitness regimen. 'If you miss even a day of training, you go back by eight days', says Sachin Patil
PHOTO • Sanket Jain

جونی پرگاؤں کا ایک پہلوان رسّی سے اوپر چڑھ رہا ہے، جو کہ ورزش کا حصہ ہے۔ سچن پاٹل کہتے ہیں، ’اگر آپ نے ایک دن کی بھی ٹریننگ چھوڑ دی، تو آپ آٹھ دن پیچھے چلے جاتے ہیں‘

ان دونوں کے درمیان فرق کا مزید برا اثر ہوتا ہے۔ کیسری نام کی مشہور کشتی لڑ چکے ۲۹ سالہ سچن پاٹل کہتے ہیں، ’’اگر آپ نے ایک دن کی بھی ٹریننگ چھوڑ دی، تو آپ آٹھ دن پیچھے چلے جاتے ہیں۔‘‘ کیسری کشتی کا انعقاد مہاراشٹر اسٹیٹ ریسلنگ ایسوسی ایشن کے ذریعے عام طور سے نومبر-دسمبر میں، ریاست کے مختلف ضلعوں میں کیا جاتا ہے۔ سچن نے ۲۰۲۰ میں، ہریانہ میں سات کشتیاں جیتی تھیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’وہ اچھا سیزن تھا، اور میں نے اس وقت ۲۵ ہزار روپے کمائے تھے۔‘‘

سچن گزشتہ چار سالوں سے زرعی مزدور کے طور پر کام کر رہے ہیں، اور کبھی کبھی کھیتوں میں کیمیاوی کھاد چھڑکنے کا کام بھی کرتے ہیں – اور ہر مہینے ۶۰۰۰ روپے کماتے ہیں۔ کولہاپور ضلع میں واقع ورنا شوگر کوآپریٹو کے ذریعے انہیں کچھ دنوں تک مدد بھی ملی تھی – ماہانہ ۱۰۰۰ روپے کا اعزازیہ، روزانہ ایک لیٹر دودھ اور رہنے کے لیے جگہ۔ (کبھی کبھی، اچھا ٹریک ریکارڈ رکھنے والے پہلوانوں کو ریاست کے چینی اور دودھ کوآپریٹو سے اس قسم کی مدد ملتی ہے، جیسا کہ بجرنگ کو ۲۰۱۴ سے ۲۰۱۷ تک ملی تھی۔)

مارچ ۲۰۲۰ سے پہلے، وہ روزانہ صبح ساڑھے چار بجے سے ۹ بجے تک، اور پھر دوبارہ شام کو ساڑھے پانج بجے ٹریننگ حاصل کرتے تھے۔ کوچ مانے کہتے ہیں، ’’لیکن لاک ڈاؤن میں وہ ٹریننگ حاصل نہیں کر سکے، اور اب اس کا اثر دیکھا جا سکتا ہے۔‘‘ ان کا اندازہ ہے کہ پہلوانوں کو دوبارہ مقابلہ کرنے لائق بننے کے لیے کم از کم چار مہینے کی سخت ٹریننگ لینی پڑے گی۔ ویسے سچن کو ڈر ہے کہ وسط ۲۰۱۹ سے اب تک، صرف دو سالوں کے اندر انہوں نے دو سیلابوں اور کووڈ کی وجہ سے پہلوانی کا اپنا بہترین وقت کھو دیا ہے۔

With this series of setbacks, the once-popular sport of kushti, already on a downslide, is in serious decline
PHOTO • Sanket Jain

اس سلسلہ وار پریشانی کی وجہ سے کسی زمانے میں مشہور رہ چکا کشتی کا کھیل، جو پہلے ہی زوال پذیر تھا، اب مزید زوال کا شکار ہے

مانے کہتے ہیں، ’’آپ جب ۲۵ سے ۳۰ سال کے ہوتے ہیں تو یہ اس کھیل کی بہترین عمر ہوتی ہے، اس کے بعد کشتی کو جاری رکھنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔‘‘ مانے خود ۲۰ سال تک پہلوانی کر چکے ہیں، اور گزشتہ دو دہائیوں سے ایک مقامی پرائیویٹ اسپتال میں سیکورٹی گارڈ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں، ’’دیہی پہلوانوں کی زندگی جدوجہد اور تکلیفوں سے بھری ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ کچھ بہترین پہلوان بھی آج کل مزدور کے طور پر کام کر رہے ہیں۔‘‘

اس سلسلہ وار پریشانی کی وجہ سے کسی زمانے میں مشہور رہ چکا کشتی کا کھیل، جو پہلے ہی زوال پذیر تھا، اب مزید زوال کا شکار ہے۔ مہاراشٹر میں، کھلے میدان میں کُشتی کو سماجی مصلح، شاہو مہاراج نے (۱۸۹۰ کے آخری ایام سے) مقبول بنایا تھا۔ گاؤوں میں افغانستان، ایران، پاکستان، ترکی اور کچھ افریقی ممالک کے پہلوانوں کی کافی مانگ ہوا کرتی تھی۔ (پڑھیں: کُشتی: سیکولر اور اتحاد پسند )

دھنگر برادری اور مانے فیملی کے پہلوانوں کی دوسری نسل سے تعلق رکھنے والے ماروتی مانے کہتے ہیں، ’’ایک دہائی پہلے، جونی پرگاؤں میں کم از کم ۱۰۰ پہلوان ہوا کرتے تھے۔‘‘ وہ بغیر کوئی فیس لیے، گھنکی، کینی، نیلے واڑی، اور پرگاؤں اور جونی پرگاؤں کے شاگردوں کو ٹریننگ دیتے ہیں۔

'This year [2021], the floods were worse than 2019' says Bajrang, and the water once again caused widespread destruction in Juney Pargaon village
PHOTO • Sanket Jain
'This year [2021], the floods were worse than 2019' says Bajrang, and the water once again caused widespread destruction in Juney Pargaon village
PHOTO • Sanket Jain

بجرنگ کہتے ہیں، ’اس سال [۲۰۲۱] کا سیلاب ۲۰۱۹ سے زیادہ خطرناک تھا‘، اور پانی نے ایک بار پھر جونی پرگاؤں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی

کشتی میں ان کے ذریعے جیتی گئی ٹرافیاں تعلیم کی اونچی الماریوں پر سجی ہیں، یہاں پر وہ سیلاب کے پانی سے محفوظ ہیں۔ سیلاب کے بارے میں بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں، ’’۲۳ جولائی [۲۰۲۱] کو ہم رات میں ۲ بجے اپنے گھر سے نکلے اور قریب کے ایک کھیت میں چلے گئے۔ پانی تیزی سے بڑھنے لگا اور ایک ہی دن میں پورا گاؤں ڈوب گیا۔‘‘ مانے فیملی نے اپنی چھ بکریاں اور ایک بھینس بحفاظت نکال لی، لیکن ۲۵ مرغیاں کھو دیں۔ ۲۸ جولائی کو جب سیلاب کا پانی گھٹنے لگا، تو ماروتی ۲۰ دیگر پہلوانوں کے ساتھ تعلیم کو دیکھنے گئے، لیکن وہاں سب کچھ برباد ہو چکا تھا۔

وہ اب پہلوانوں کی نوجوان نسل پر پڑنے والے مزید اثرات کے بارے میں فکرمند ہیں۔ سانگلی ضلع کے بی اے کے طالب علم، ۲۰ سالہ میور باگڑی، دو سال [۲۰۱۸-۱۹] میں ۱۰ سے زیادہ کُشتیاں جیت چکے ہیں، کہتے ہیں، ’’اس سے پہلے کہ میں مزید کچھ سیکھ پاتا اور آگے کا سفر کر پاتا، لاک ڈاؤن نے سب کچھ چھین لیا۔‘‘ تب سے وہ اپنی فیملی کی دو بھینسوں کا دودھ نکالنے اور کھیتوں پر کام کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

پچھلی کشتی انہوں نے فروری ۲۰۲۰ میں گھنکی گاؤں میں لڑی تھی، جب انہوں نے ۲۰۰۰ روپے کا انعام جیتا تھا۔ سچن پاٹل بتاتے ہیں، ’’فاتح کو جیت کی رقم کا ۸۰ فیصد ملتا ہے، اور ہارنے والے کو ۲۰ فیصد ملتا ہے۔‘‘ اس طرح، کُشتی سے ہر ایک کی کچھ نہ کچھ کمائی ہو جاتی ہے۔

حالیہ سیلاب سے پہلے، میور اور پڑوس کے نیلے واڑی سے دیگر تین پہلوان چار کلومیٹر کا سفر طے کرکے جونی پرگاؤں آتے تھے۔ وہ بتاتے ہیں، ’’ہمارے گاؤں میں کوئی تعلیم نہیں ہے۔‘‘

Wrestler Sachin Patil’s house was damaged even in the 2005 and 2019 floods
PHOTO • Sanket Jain
Mayur Bagadi from Nilewadi has won over 10 bouts in two years.
PHOTO • Sanket Jain

بائیں: پہلوان سچن پاٹل کے مکان کو ۲۰۰۵ اور اس کے بعد ۲۰۱۹ کے سیلاب میں بھی نقصان پہنچا تھا۔ دائیں: نیلے واڑی کے میور باگڑی دو سال میں ۱۰ سے زیادہ کشتیاں جیت چکے ہیں

پچھلے مہینے سیلاب کے دوران، وہ بتاتے ہیں، ’’ہم دن بھر تین فٹ گہرے پانی میں پھنسے رہے۔ وہاں سے جب ہمیں نکالا گیا، تو مجھے بخار ہو گیا تھا۔‘‘ باگڑی فیملی ایک ہفتہ تک پرگاؤں کے ایک پرائیویٹ اسکول میں رہی۔ میور بتاتے ہیں، ’’ہمارا پورا گھر ڈوب گیا تھا، ۱۰ گُنٹھا [۰ء۲۵ ایکڑ] کھیت بھی۔‘‘ تب اس فیملی نے اپنی ۲۰ ٹن گنّے کی فصل سے کام چلایا، جس کی قیمت ۶۰ ہزار روپے تھی۔ انہوں نے اپنے گھر پر جو ۷۰ کلو مکئی، گیہوں اور چاول رکھے ہوئے تھے، اس کا بھی انہیں نقصان ہوا۔ میور کہتے ہیں، ’’سب کچھ چلا گیا۔‘‘

سیلاب کا پانی ختم ہونے کے بعد، میور نے گھر صاف کرنے میں اپنے والدین کی مدد کی – دونوں ہی پیشہ سے زرعی مزدور ہیں۔ ’’بدبو نہیں جائے گی، لیکن اب ہمیں یہیں پر سونا اور کھانا پڑے گا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔

بجرنگ بتاتے ہیں کہ سیلاب دنوں دن خطرناک ہوتے جا رہے ہیں، ’’۲۰۱۹ کا سیلاب ۲۰۰۵ سے کہیں زیادہ خطرناک تھا۔ اور ۲۰۱۹ میں، ہمیں بطور معاوضہ ایک روپیہ بھی نہیں ملا۔ اس سال [۲۰۲۱] کا سیلاب ۲۰۱۹ سے بھی زیادہ خطرناک تھا۔ اگر حکومت آئی پی ایل [انڈین پریمیئر لیگ] کی مدد کر سکتی ہے اور اسے دوسرے ممالک میں منتقل کرنے کے بارے میں سوچ سکتی ہے، تو وہ کُشتی کے لیے کچھ کیوں نہیں کر سکتے؟‘‘

سچن مزید کہتے ہیں، ’’ان تمام حالات کے باوجود میں کسی بھی پہلوان سے لڑ سکتا ہوں۔ لیکن میں کووڈ اور سیلابوں سے کشتی نہیں لڑ سکتا۔‘‘

مترجم: محمد قمر تبریز

Sanket Jain

Sanket Jain is a journalist based in Kolhapur, Maharashtra, and a 2019 PARI Fellow.

Other stories by Sanket Jain
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez