چار مہینے سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے، جب عبدالستار کو لاک ڈاؤن کے سبب بنگلورو چھوڑنا پڑا تھا۔

’’ہم کسی بھی طرح یہاں سے نکلیں گے، بھلے ہی دیر ہو جائے،‘‘ انہوں نے کہا تھا۔ یہ تب کی بات ہے، جب سمندری طوفان امفن ۲۰ مئی کو زمین سے ٹکرانے والا تھا۔ پھر بھی، عبدالستار اور ان کے دوست مغربی بنگال کے مغربی میدنی پور ضلع میں اپنے گاؤں، چک لچھی پور تک کا ۱۸۰۰ کلومیٹر لمبا سفر کرنے کے لیے تیار تھے۔

عبدالستار کو ممبئی سے بنگلورو آئے مشکل سے کچھ ہی مہینے ہوئے تھے۔ وہ جنوری یا فروری میں یہاں آئے تھے، وہ بتاتے ہیں۔ ان کی بیوی، ۳۲ سالہ حمیدہ بیگم جو کہ ایک خاتونِ خانہ ہیں، اور ان کے بچے، ۱۳ سالہ سلمیٰ خاتون اور ۱۲ سالہ یاسر حمید، گھٹل بلاک میں واقع اپنے گاؤں میں تین کمرے کے ایک چھوٹے سے گھر میں رہتے ہیں۔ ان کی فیملی کے پاس ۲۴ ڈیسیمل (ایک چوتھائی ایکڑ) زمین ہے، جس پر ان کے بھائی دھان کی کھیتی کرتے ہیں۔

اپنے گاؤں کے دیگر لوگوں کی طرح، عبدالستار نے ۸ویں کلاس کے بعد اسکول چھوڑ دیا اور کڑھائی کا کام سیکھنے لگے۔ تب سے، وہ الگ الگ جگہوں پر کام کرتے رہے ہیں۔ کچھ سالوں تک انہوں نے دہلی میں کام کیا، پھر ممبئی چلے گئے، اور ہر ۵-۶ مہینے میں ایک بار گھر جاتے تھے۔ ’’میں مشین سے کڑھائی کرتا ہوں۔ مجھے ممبئی میں زیادہ کام نہیں مل رہا تھا، اس لیے میں نے اپنے چچیرے بھائی کے ساتھ کام کرنے کا فیصلہ کیا،‘‘ انہوں نے کہا۔

۴۰ سالہ عبدالستار سلائی کے اس چھوٹے کاروبار میں شامل ہو گئے، جسے ان کے چچیرے بھائی، ۳۳ سالہ حسن اللہ شیخ نے جنوبی بنگلورو میں قائم کیا تھا۔ وہ چک لچھی پور کے ہی پانچ دیگر لوگوں کے ساتھ ایک کمرے میں رہتے تھے – یہ سبھی چھ لوگ حسن کی دکان میں سلائی اور کڑھائی کا کام کرتے تھے۔

Despite the uncertainty, Abdul Sattar, who does machine embroidery (left) and his cousin Hasanullah Sekh (right) were prepared to brave the 1,800-kilometre journey home to Chak Lachhipur village
PHOTO • Courtesy: Abdul Settar
Despite the uncertainty, Abdul Sattar, who does machine embroidery (left) and his cousin Hasanullah Sekh (right) were prepared to brave the 1,800-kilometre journey home to Chak Lachhipur village
PHOTO • Smitha Tumuluru

غیر یقینی صورتحال کے باوجود، عبدالستار، جو مشین سے کڑھائی (بائیں) کرتے ہیں اور ان کے چچیرے بھائی، حسن اللہ شیخ (دائیں) چک لچھی پور گاؤں تک ۱۸۰۰ کلومیٹر لمبا سفر کرنے کے لیے تیار تھے

حسن اپنی بیوی اور چھ سال کے بیٹے کے ساتھ بنگلورو میں ۱۲ سال سے رہ رہے تھے۔ وہ اور ان کی ٹیم اپریل اور مئی کے دوران شادیوں کے سیزن اور رمضان کے مہینہ کا انتظار کر رہی تھی۔ ’’ان مہینوں میں ہمیں بہت سارے آرڈر ملتے ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔ اس سیزن میں ہر ایک کاریگر کو روزانہ تقریباً ۴۰۰-۵۰۰ روپے یا اس سے زیادہ ملتے تھے۔ ان میں سے ہر ایک کو ایک مہینہ میں کم از کم ۱۵-۱۶ ہزار روپے کمانے کی امید تھی، اور حسن کی کمائی تمام اخراجات کے بعد ۲۵ ہزار روپے ہوئی ہوتی۔

’’ہم میں سے زیادہ تر لوگ کرایے اور دیگر اخراجات کے لیے ۵-۶ ہزار روپے میں اپنا کام چلا لیتے ہیں اور باقی پیسے گھر بھیج دیتے ہیں،‘‘ عبدالستار نے کہا۔ ’’مجھے گھر چلانا ہے، اپنے بچوں کے اسکول کی فیس وغیرہ دینی ہے۔ میں اپنے والدین کی صحت اور گزر بسر کے خرچ کے لیے بھی کچھ پیسے دیتا ہوں۔ (ان کے والدین ان کے بڑے بھائی کے ساتھ رہتے ہیں؛ وہ چار بھائی اور ایک بہن ہیں۔ سب سے بڑے بھائی، جو دھان کی کھیتی کرتے ہیں، امفن طوفان کے سبب کھیتوں میں پانی بھر جانے سے انہیں کافی نقصان اٹھانا پڑا۔)

لیکن عبدالستار کو بنگلورو میں کام کرتے ہوئے مشکل سے دو مہینے ہوئے تھے کہ لاک ڈاؤن کا اعلان ہو گیا۔ کام بند ہو جانے کے سبب، ان کا راشن جلد ہی ختم ہونے لگا۔ ’’ہم باہر قدم نہیں رکھ سکتے تھے،‘‘ حسن نے کہا۔ ’’ہمارے علاقے میں سبھی دکانیں بند تھیں۔ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ ہم کھانا خریدنے کے لیے کہاں جا سکتے ہیں۔ خوش قسمتی سے ہمارے لیے، پاس میں ایک مسجد ہے۔ وہاں کے رضاکاروں نے ہمیں دن میں دو وقت کا کھانا بھیجنا شروع کیا۔‘‘

’’ہمارے گاؤں اور اس کے ارد گرد کے کئی لوگ بنگلورو میں رہتے ہیں،‘‘ عبدالستار نے مجھ سے کہا تھا۔ ’’وہ سبھی لوگ ایک ہی قسم کا کام کرتے ہیں – سلائی اور کڑھائی۔ عام طور پر ۵-۶ لوگ ایک ہی کمرے میں ساتھ رہتے ہیں۔ ہم نے پایا کہ ان میں سے کئی کے پاس کھانے پینے کا سامان یا پیسہ نہیں بچا ہے۔‘‘ شہری رضاکاروں نے راشن سے بھی ہماری مدد کی، انہوں نے کہا۔ ’’ہم نے بھی، ہمیں جو کچھ دیا گیا تھا، اس میں سے کچھ اپنے جاننے والوں کو بانٹنے کی کوشش کی۔ پولس نے ہمیں یہ دیکھ کر بائک چلانے کی اجازت دے دی کہ ہم دوسروں کی مدد کر رہے تھے۔‘‘

After returning home to his wife Hamida and children Salma and Yasir, Abdul worked as a farm labourer to manage expenses
PHOTO • Courtesy: Abdul Settar
After returning home to his wife Hamida and children Salma and Yasir, Abdul worked as a farm labourer to manage expenses
PHOTO • Courtesy: Abdul Settar

گھر پر اپنی بیوی حمیدہ اور بچوں، سلمیٰ اور یاسر کے پاس لوٹنے کے بعد، عبدالستار نے خرچ چلانے کے لیے زرعی مزدور کے طور پر کام کیا

دو مہینے تک کوئی آمدنی نہیں ہونے اور غیر یقینی صورتحال کے سبب، عبدالستار، حسن اور ان کے گاؤں کے دیگر لوگ چک لچھی پور لوٹنے کے لیے بیتاب ہو گئے۔ ’’ہم مدد کے لیے کب تک دوسروں پر منحصر رہ سکتے ہیں؟‘‘ حسن نے پوچھا تھا۔ ’’اگر ہم واپس جاتے ہیں، تو ہمارے سبھی رشتہ دار وہیں رہتے ہیں، اس لیے کم از کم ہمارے کھانے کا خیال رکھا جائے گا۔‘‘

’’ہم ابھی واپس جانا چاہتے ہیں،‘‘ عبدالستار نے کہا تھا۔ ’’گھر پر ہماری فیملی بھی یہی چاہتی ہے کہ ہم لوٹ آئیں۔ ہم یہاں بیمار ہونے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ فیملی اور رشتہ داروں سے دور، اس کورونا بخار سے ہمارے ایک رشتہ دار کی ممبئی میں موت ہو گئی۔ اگر ویسا ہی کچھ یہاں پر ہمارے ساتھ بھی ہو گیا، تو! ہماری دیکھ بھال کے لیے کوئی فیملی نہیں ہوگی۔ اس لیے، ہم نے من بنا لیا ہے۔‘‘

لیکن گھر لوٹنا مشکل ثابت ہوا۔ اجازت لینے کے لیے درخواست کہاں کرنی ہے، کیا انہیں مغربی بنگال میں داخل ہونے کے لیے پاس کی ضرورت ہے، اور ٹرینیں کب روانہ ہوں گی، اسے لیکر پس و پیش کی حالت تھی۔ خراب انٹرنیٹ کے باوجود، وہ آخرکار ریاستی حکومت کی سیوا سندھو ویب سائٹ پر ایک لازمی سفر کا فارم بھرنے میں کامیاب رہے۔ پھر انہیں ایس ایم ایس کے ذریعے منظوری کے لیے ۱۰ دنوں تک انتظار کرنا پڑا۔ عبدالستار نے سفر سے متعلق درخواست جمع کرانے کے لیے پاس کے پولس اسٹیشن کا بھی دورہ کیا۔

’’میرا روزہ ہے اور اس دھوپ میں پولس اسٹیشن کے سامنے لمبے وقت تک انتظار کرنا مشکل ہو رہا ہے،‘‘ انہوں نے مجھ سے کہا تھا۔ ٹرینوں کے بارے میں غیر یقینی صورتحال اور یہ خوف کہ سیٹ ملنے سے پہلے ہی ان کا منظور شدہ پاس ختم ہو سکتا ہے، اس گروپ نے دیگر متبادل پر غور کرنا شروع کیا۔ پرائیویٹ گاڑیاں پانچ لوگوں کے لیے ۷۰ ہزار روپے مانگ رہی تھیں۔ ایک بس والے نے اس سفر کے لیے ۲ لاکھ ۷۰ ہزار روپے مانگے۔

Farmers in Chak Lachhipur village, including Abdul's eldest brother, suffered huge losses due to Cyclone Amphan
PHOTO • Courtesy: Abdul Settar

امفن طوفان کے سبب عبدالستار کے سب سے بڑے بھائی سمیت چک لچھی پور گاؤں کے کئی کسانوں کا بھاری نقصان ہوا

بہت کوشش کے بعد، عبدالستار اور حسن آخرکار ایک بس کا انتظام کرنے میں کامیاب رہے (سب سے اوپر کور فوٹو میں دیکھیں)۔ ’’ہمارے گاؤں کا ایک آدمی بس چلاتا ہے، اور ہمیں اس سے بس منگوانے کے لیے بہت محنت کرنی پڑی،‘‘ حسن نے مجھے مئی میں بتایا۔ ’’انہوں نے بنگال سے ہمارے سبھی پاس اور منظوری کا انتظام کیا۔ ہم نے ۳۰ لوگوں کا ایک گروپ جمع کیا ہے، ہم سبھی ایک ہی گاؤں کے ہیں، سبھی کڑھائی اور سلائی کا ہی کام کرتے ہیں۔ ہم ڈیڑھ لاکھ روپے ادا کریں گے۔ کچھ لڑکوں کو اس کے لیے زیورات اور زمین گروی رکھنی پڑی۔ کل صبح بس آئے گی اور ہم اپنے راستے پر ہوں گے۔‘‘

منصوبہ کے مطابق یہ گروپ اگلے دن نہیں جا سکا، کیوں کہ آندھرا پردیش کی سرحد پر بس کو دیر ہو گئی۔ آخرکار ایک دن کی دیری کے بعد، وہ ۲۰ مئی کو روانہ ہوئے، جس دن امفن طوفان مغربی بنگال میں زمین سے ٹکرایا تھا۔ مختلف چیک پوسٹ پر کئی دیری کے بعد، بس ۲۳ مئی کو چک لچھی پور گاؤں پہنچی۔ گھر پہنچنے کے بعد، عبدالستار اور دیگر لوگوں نے اپنے چھوٹے گھروں میں دو ہفتے آئیسولیشن میں گزارے۔

یہاں سے چلتے وقت، حسن اور ان کی فیملی نے بنگلورو میں اپنا گھر خالی کر دیا، لیکن انہوں نے اپنے سلائی کے سازوسامان کے ساتھ دکان کی جگہ کو اور اس کمرے کونہیں چھوڑا، جہاں کاریگر رہتے تھے۔ مالکن نے ۱۰ ہزار روپے کی دو مہینے کی پیشگی رقم کو اپریل اور مئی کے بقایا کرایے کے ساتھ ایڈجسٹ کر دیا۔ وہ ان کے لوٹنے کا انتظار کرنے اور پھر مئی کے بعد کے مہینوں کا کرایہ لینے کے لیے تیار ہو گئی۔

ستمبر کے پہلے ہفتہ میں، حسن بنگلورو لوٹ آئے۔ حالانکہ، لاک ڈاؤن میں رعایت دے دی گئی ہے، مگر کام پوری طرح شروع نہیں ہوا ہے، وہ کہتے ہیں۔ ’’اگر ہم دکان کھولتے ہیں، تب بھی ہمیں یہ امید نہیں ہے کہ کڑھائی کے کام کے لیے یا سلائی کا بڑا کام لیکر کوئی آئے گا۔ کاروبار کچھ وقت کے لیے سست رہنے والا ہے۔ ہمارا ایک چھوٹا سا کاروبار ہے۔ ہم ہر دن آنے والے پیسے کے بغیر شہر میں نہیں رہ سکتے۔‘‘

عبدالستار اب بھی اپنے گاؤں میں ہی ہیں، جہاں انہیں ۳۰۰ روپے یومیہ مزدوری پر دھان کے کھیت میں تقریباً ۲۵ دنوں کا کام ملا۔ وہ بتاتے ہیں کہ وہ اپنی بچت سے، اور کچھ دنوں کی زرعی مزدوری سے ملنے والے پیسے سے گھر کے سبھی خرچ چلا رہے ہیں۔ ’’اب گاؤں میں کوئی کام دستیاب نہیں ہے۔ اس لیے ہم پہلے یہاں سے چلے گئے تھے،‘‘ وہ آگے کہتے ہیں۔ ’’ہمیں [بنگلورو] لوٹنا ہوگا۔‘‘

لیکن بنگلورو میں کووڈ- ۱۹ کے بڑھتے معاملوں کے سبب، عبدالستار تشویش میں مبتلا ہیں۔ ’’حسن بھائی جیسا کہیں گے، اس کی بنیاد پر، میں اپنے سفر کا منصوبہ بناؤں گا۔ ہم بغیر آمدنی کے اس طرح گزارہ نہیں کر سکتے۔ ہم لمبے وقت تک [کڑھائی کے کام سے] دور نہیں رہ سکتے۔ ہم واپس جائیں گے۔ ایک بار حالات ٹھیک ہو جائیں، تو ہم واپس چلے جائیں گے۔‘‘

مترجم: محمد قمر تبریز

Mohd. Qamar Tabrez is PARI’s Urdu/Hindi translator since 2015. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi. You can contact the translator here:

Smitha Tumuluru

Smitha Tumuluru is a documentary photographer based in Bengaluru. Her prior work on development projects in Tamil Nadu informs her reporting and documenting of rural lives.

Other stories by Smitha Tumuluru