’’یہ کبھی ۱۰۰ دن نہیں ہوتا ہے۔ اس سال ابھی تک صرف ۵۰ دن، بس،‘‘ آر ونجا نے کہا۔ وہ بنگلا میڈو بستی میں ویلی کیتھن مارم (ولایتی ببول) کے درخت کے سایہ میں تقریباً ۱۸ عورتوں اور ۲-۳ مردوں کے ساتھ زمین پر بیٹھی تھیں۔ وہ ۲۰۱۹ میں یکم دسمبر کی صبح نور نل ویلئی (سو دنوں کے کام)، جیسا کہ وہ تمل میں منریگا کے کام کو کہتے ہیں، پر بات کر رہے تھے، اپنی مزدوری کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ونجا تقریباً ۲۰ سال کی ہیں، اور ۳۵ ایرولا کنبوں کی اس بستی میں زیاہ تر بالغوں کی طرح، دہاڑی مزدور کے طور پر کام کرتی ہیں۔

تمل ناڈو کے تھیروولّور ضلع کے تیروتّنی بلاک کی چیروکّنور پنچایت کے اس حصہ میں، مرد عام طور پر غیر- نریگا کام کرتے ہیں۔ وہ کھیتوں کے کنارے نالے کھودتے ہیں، آم کے باغوں میں پانی ڈالتے ہیں، تعمیراتی مقامات پر مزدوری کرتے ہیں، مچان، کاغذ کی لگدی، جلانے کی لکڑی اور دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے والے سووَکّو کے درختوں کو کاٹتے ہیں۔ ایک دن کا کام کرنے سے انہیں عام طور پر ۳۰۰ روپے ملتے ہیں۔

لیکن یہ سبھی کام موسمی اور غیر متوقع ہیں۔ مانسون کے دوران، جس دن انہیں کوئی کام نہیں ملتا ہے، اس دن ایرولا – تمل ناڈو میں خاص طور سے کمزور قبائلی گروہ کی شکل میں فہرست بند – بغیر کسی آمدنی کے ہی کسی طرح گزارہ کرتے ہیں، اور کھانے کے لیے پاس کے جنگلات میں چھوٹے جانوروں کا شکار کرتے ہیں، یا پھل اور قند تلاش کرتے ہیں (دیکھیں بنگلا میڈو میں دفن خزانے کی کھدائی اور بنگلا میڈو میں چوہوں کے ساتھ ایک الگ راہ پر

اور عورتوں کے لیے تو وہ بکھرے ہوئے کام بھی شاید ہی کبھی دستیاب ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی، وہ اپنے شوہر کے ساتھ پاس کے اینٹ بھٹوں پر کام کرتی ہیں، جو جنوری- فروری سے شروع ہوکر مئی- جون تک چلتا ہے۔ لیکن یہ کام رک رک کر ہوتا ہے، اور میاں بیوی کی جوڑی پورے سیزن میں ۶ ہزار روپے کماتی ہے۔

'Where are the jobs for women?' asked S. Sumathi; here she is standing at water absorption pits dug on a dried lake bed, and a few tree saplings planted as part of MGNREGA water conservation projects in Cherukkanur panchayat
PHOTO • Smitha Tumuluru
'Where are the jobs for women?' asked S. Sumathi; here she is standing at water absorption pits dug on a dried lake bed, and a few tree saplings planted as part of MGNREGA water conservation projects in Cherukkanur panchayat
PHOTO • Smitha Tumuluru

’’عورتوں کے لیے نوکریاں کہاں ہیں؟‘‘ ایس سُمَتی نے سوال کیا؛ یہاں وہ ایک سوکھی جھیل کی زمین پر کھودے گئے پانی جذب کرنے والے گڑھے کے پاس کھڑی ہیں، اور ان گڑھوں میں چیروکّنور پنچایت کے منریگا آبی تحفظ پروجیکٹ کے حصہ کے طور پر کچھ پودے لگائے گئے ہیں

کئی بار، عورتیں مونگ پھلی کی پھلیاں توڑتی ہیں اور ایک دن میں تقریباً ۱۱۰-۱۲۰ روپے پاتی ہیں، یا اپنے شوہر کے ساتھ وہ مونگ پھلی کی پھلیوں کو صاف کرنے کے بعد ان کے دانے نکالتی ہیں اور انہیں پیک کرتی ہیں – اس کے لیے میاں بیوی کی جوڑی کو ۴۰۰-۵۰۰ روپے ملتے ہیں۔ لیکن یہ کام بھی نایاب ہے۔

کل ملاکر، مزدوری کے کام کے لیے عورتیں منریگا پر زیادہ منحصر ہیں۔

’’عورتوں کے لیے نوکریاں کہاں ہیں؟‘‘ ونجا کی پڑوسن، ۲۸ سالہ ایس سُمتی نے سوال کیا، جو اپنے ۳۶ سالہ شوہر، ایک دہاڑی مزدور، کے شری رامولو کے ساتھ ایک کچے مکان میں رہتی ہیں۔ ’’ نور نل ویلئی ہمارا واحد روزگار ہے۔‘‘

منریگا ، یا مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار گارنٹی قانون، ۲۰۰۵، ہر ایک دیہی فیملی کو ایک سال میں کم از کم ۱۰۰ دنوں کے کام کا حق دیتا ہے۔

اُس مرام (پروسوپِس جولی فلورا) کے درخت کے نیچے بیٹھے گروپ نے ناموں کا شمار کیا اور مجھے بتایا کہ بنگلا میڈو کے ۳۵ کنبوں میں، ۲۵ عورتوں (اور ۲ مردوں) کے پاس منریگا جاب کارڈ ہے۔ ’’وہ ہمیں ایرئی ویلئی [جھیل کے کام] کے لیے بلاتے ہیں،‘‘ سُمتی نے ان کاموں کے لیے مقامی لفظ کا استعمال کرتے ہوئے کہا – جس میں خاص طور سے نہروں اور گڑھوں کی کھدائی، سوکھی جھیل سے گھاس پھوس اکھاڑنا، یا کبھی کبھی سڑکوں کے کنارے پودے لگانا شامل ہے۔

لیکن منریگا کا کام اور اس سے ہونے والی آمدنی بھی بے قاعدہ ہے۔ چیروکّنور پنچایت کے اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ پچھلے تین سالوں سے کام کے دنوں کی اوسط تعداد میں لگاتار کمی آ رہی ہے – بنگلا میڈو کے لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے، لیکن انہیں لگتا ہے کہ ایسا شاید اس لیے ہو رہا ہے کیوں کہ پنچایت کے ذریعے کچھ نئے پروجیکٹ شروع کیے جا رہے ہیں۔ مذکورہ اعداد و شمار کے مطابق، ۲۰۱۹-۲۰ (مالی سال) میں، یہ فی کنبہ صرف ۴۹ اعشاریہ ۲۲ دن تھا – ۲۰۱۶-۱۷ کے ۹۳ اعشاریہ ۴۸ دن سے کافی کام۔

Left: The women of Bangalamedu, an Irular colony in Cherukkanur  panchayat, discuss MGNREGA wages. Right: S Sumathi with her job card. The attendance and wage details on most of the job cards in this hamlet don't tally with the workers’ estimates
PHOTO • Smitha Tumuluru
Left: The women of Bangalamedu, an Irular colony in Cherukkanur  panchayat, discuss MGNREGA wages. Right: S Sumathi with her job card. The attendance and wage details on most of the job cards in this hamlet don't tally with the workers’ estimates
PHOTO • Smitha Tumuluru

بائیں: چیروکّنور پنچایت کی ایرولا بستی، بنگلا میڈو کی عورتیں منریگا مزدوری پر بات کر رہی ہیں۔ دائیں: ایس سُمتی کا جاب کارڈ؛ اس بستی کے زیادہ تر کارڈوں پر حاضری اور مزدوری کی تفصیل مزدوروں کے اندازوں سے میل نہیں کھاتی ہے

’’ہم نے ایک سال پہلے ۸۰-۹۰ دن بھی کام کیا ہے۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے،‘‘ ونجا نے کہا۔ ’’ان کا گھر – ان کے ۲۱ سالہ شوہر، آر جانسن اور تین سالہ بیٹا، شکتی ویل کے ساتھ – عام طور سے ان کی نور نل ویلئی سے چلتا ہے۔ ایک مزدور کے طور پر جانسن کی آمدنی کا زیادہ تر حصہ ان کے ذریعے خریدے گئے سیکنڈ ہینڈ موٹربائک کے لیے قسطوں کی ادائیگی کرنے پر خرچ ہوتا ہے۔

لیکن اکتوبر ۲۰۱۹ اور اپریل ۲۰۲۰ کے درمیان، ونجا کو صرف ۱۳ دنوں کا منریگا کا کام ملا۔ ان مہینوں کے دوران، فیملی کو جانسن کی مزدوری پر منحصر رہنا پڑا۔ ’’انہوں نے جو کچھ بھی کمایا، ہم نے اسے گھریلو ضروریات پر خرچ کر دیا،‘‘ ونجا نے بتایا۔

اس کے علاوہ، کم از کم مزدوری – تمل ناڈو میں منریگا کام کے لیے ۲۲۹ روپے (سال ۲۰۱۹-۲۰ کے لیے) – کو جاب کارڈ پر صرف ۱۴۰-۱۷۰ روپے درج کیا گیا ہے۔ چیروکّنور پنچایت کے تحت رام کرشن پورم بستی کی ۳۱ سالہ ایس ایس نتیہ، جو بنگلا میڈو کے لیے پنی ڈھالا پوروپّلر (پی پی) ، مقامی سپروائزر ہیں، نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم ہے کہ جتنی مزدوری لازمی کی گئی ہے اس سے کم کیوں ہے۔

’’’ اوورس نے طے کیا کہ ہر ایک آدمی کتنا کام کرے گا اور اس کام کے لیے اسے کتنی رقم کی ادائیگی کی جائے گی،‘‘ انہوں نے بتایا۔ انجینئر کو ’اوورس‘ کہا جاتا ہے – کبھی کبھی انہیں ’اوورسر‘ یا ’اوورسمّا بھی کہا جاتا ہے۔ ’’اگر وہ گڑھے کھود رہی ہیں، تو اوورس ہی گڑھے کی پیمائش، گڑھوں کی تعداد اور اس کام کے لیے رقم طے کرتا ہے۔ یا اگر انہیں نہر کھودنی ہے، تو اوورس ہی پیمائش اور ادائیگی کو طے کرتا ہے۔‘‘

Left: M. Mariammal has ensured all documents are in place so as to not lose out on any benefits. Right: V. Saroja with her NREGA job card, which she got in 2017
PHOTO • Smitha Tumuluru
Left: M. Mariammal has ensured all documents are in place so as to not lose out on any benefits. Right: V. Saroja with her NREGA job card, which she got in 2017
PHOTO • Smitha Tumuluru

بائیں: ایم مرِیَمّل نے یقینی بنایا ہے کہ تمام دستاویز ساتھ رہیں، تاکہ وہ کسی بھی فائدہ سے محروم نہ رہ جائیں۔ دائیں: وی سروجا اپنے منریگا جاب کارڈ کے ساتھ، جو انہیں ۲۰۱۷ میں ملا تھا

جاب کارڈ سے مزدوروں کو اپنی حاضری اور مزدوری پر نظر رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ مزدور ان کارڈوں کو کام کی جگہ پر لاتے ہیں، اور پی پی کو روزانہ اس پر حاضری درج کرنی پڑتی ہے۔ لیکن بنگلا میڈو کے زیادہ تر جاب کارڈوں پر یہ تفصیل مزدوروں کے اندازوں سے میل نہیں کھاتی ہے۔

ایسا اس لیے ہو سکتا ہے کیوں کہ مزدور شاید کارڈ اپنے ساتھ لانا بھول گیا ہو، یا پی پی نے اسے نہیں بھرا ہو۔ پی پی ایک رجسٹر بھی رکھتا ہے، جو زیادہ باقاعدگی سے بھرا جاتا ہے، اور اسے تیروتّنی کے بلاک ڈیولپمنٹ آفس میں کمپیوٹر آپریٹر کو بھیجا جاتا ہے، جہاں حاضری کا ڈیٹا آن لائن رکھا جاتا ہے – یہ تب ہوا جب ۲۰۱۷ میں منریگا کی مزدوری کی منتقلی ڈجیٹل کر دی گئی تھی (جو سیدھے بینک کھاتوں میں جمع ہو جاتی ہے)۔

ڈجیٹائزیشن سے پہلے، پی پی نقد مزدوری سونپنے کے وقت جاب کارڈوں میں بھی مزدوری کی تفصیلات بھرتے تھے۔ ’’ہماری نور نل ویلئی کی مزدوری جب ہمیں نقد میں ملتی تھی، تو ہمیں پتا چل جاتا تھا کہ ہم ہر ہفتے کتنا کما رہے ہیں۔ اب یہ بینکوں میں آتی ہے۔ اگر ہم اسکول گئے ہوتے، تو ہم بتا سکتے تھے کہ ہمیں کتنا ملتا ہے،‘‘ ۴۳ سالہ وی سروجا نے بتایا۔

ڈجیٹل ورژن ، جسے اپ ڈیٹ شدہ حاضری اور مزدوری کی تفصیل کے ساتھ بلاک ڈیولپمنٹ آفس میں اپ لوڈ کیا جاتا ہے، عوامی طور پر دستیاب ہے، لیکن ایرولاؤں کی آسان پہنچ کے اندر نہیں ہے۔ کئی کے پاس فون نہیں ہے، یا وہ انٹرنیٹ سے دور ہیں۔ اور آن لائن دنیا سے محدود تعارف ان کے لیے پیچیدہ فارموں اور ویب صفحات کو تلاش کرنا مشکل بناتا ہے۔

G. Sumathi has been a PP (panidhala poruppalar, the local supervisor) in the past, with her husband K. Sriramulu;  when the lockdown eased, in May, she  used her Rs. 5,000 savings of MGNREGA wages to set up a small shop outside her house
PHOTO • Smitha Tumuluru
G. Sumathi has been a PP (panidhala poruppalar, the local supervisor) in the past, with her husband K. Sriramulu;  when the lockdown eased, in May, she  used her Rs. 5,000 savings of MGNREGA wages to set up a small shop outside her house
PHOTO • Smitha Tumuluru

بائیں: ایک سابق مقامی سپروائزر، جی سُمتی نے بتایا کہ اگر بڑی تعداد میں لوگ منریگا کا کام تلاش کر رہے ہیں، تو ۲۰ سے زیادہ لوگوں کی ٹیم کو اپنی باری آنے میں زیادہ وقت لگتا ہے، اور ہو سکتا ہے کہ انہیں کام کے کم دن دستیاب ہوں۔ دائیں: ایس سُمتی (ایک دوسری خاتون) اور ان کے شوہر شری رامولو؛ جب لاک ڈاؤن میں رعایت دی گئی، تو انہوں نے منریگا کی مزدوری سے کی گئی ۵ ہزار روپے کی بچت کا استعمال اپنے گھر کے باہر ایک چھوٹی سی دکان کھولنے میں کیا

اس لیے اب جاب کارڈ، مزدوروں کے ذریعے اپنے بینک کھاتوں کی جانچ کرنے، تفصیل کی تصدیق کرنے اور پی پی کو مطلع کرنے کے بعد ہی اپ ڈیٹ کیے جاتے ہیں۔ ’’اگر ہم ادائیگی حاصل کرنے سے پہلے ہی [کارڈ پر] مزدوری کی تفصیلات بھر دیں، تو یہ گمراہ کن ہو جائے گا،‘‘ ایس ایس نتیہ نے بتایا۔ ’’اندراج دکھائے گا کہ لوگوں کو ان کے پیسے مل گئے، لیکن وہ پیسہ ابھی تک بینک میں نہیں آیا ہوگا۔ لوگوں نے اس کی شکایت کی ہے۔‘‘

بنگلا میڈو کے ایرولاؤں کے لیے اپنے بینک بیلنس کی جانچ کرنے میں وقت لگتا ہے اور اس طرح مزدوری کا نقصان ہوتا ہے۔ ’’اپنے بینک [بستی سے چار کلومیٹر دور، کے جی کندیگئی پنچایت میں] جانے کے لیے ہمیں شاہراہ تک، تین کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا ہے۔ وہاں سے ہم مشترکہ آٹو یا بس پکڑتے ہیں، اور ایک طرف کا کرایہ ۱۰ روپے لگتا ہے،‘‘ سُمتی نے کہا۔ ’’اگر پیسہ نہیں آیا، تو ہمیں دوبارہ جانا پڑتا ہے۔‘‘ کئی بار، وہ مقامی لوگوں کے ساتھ موٹربائک پر سوار ہوکر جاتے ہیں۔ ’’لیکن ہمیں انہیں پیٹرول کے لیے ۵۰ روپے دینے پڑتے ہیں،‘‘ ۴۴ سالہ وی سروجا نے کہا۔

رسائی کو بہتر کرنے کے لیے، بینکوں نے ’چھوٹا بینک‘ شروع کیا ہے۔ کینرا بینک، جس کا استعمال ایرولا کرتے ہیں، کی چیروکّنور پنچایت میں ایسی ہی ایک ’ایک بہت چھوٹی شاخ‘ ہے۔ لیکن وہ بھی تقریباً چار کلومیٹر دور ہے، اور صرف منگل کو ہی کھلتی ہے۔ ان شاخوں میں وہ اپنا بینک بیلنس چیک کر سکتے ہیں اور ۱۰ ہزار روپے تک نکال سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ پیسے نکالنے کے لیے انہیں کے جی کندیگئی کی بڑی شاخ کا دورہ کرنا پڑتا ہے۔

At times, the wages the Irula women count on withdrawing from their accounts fall short, as it did for K. Govindammal  (left) when she constructed a house under the Pradhan Mantri Awas Yojana, and has been the experience of other women too in this small hamlet of Irulas (right)
PHOTO • Smitha Tumuluru
At times, the wages the Irula women count on withdrawing from their accounts fall short, as it did for K. Govindammal  (left) when she constructed a house under the Pradhan Mantri Awas Yojana, and has been the experience of other women too in this small hamlet of Irulas (right)
PHOTO • Smitha Tumuluru

کئی بار، ایرولا عورتیں اپنے اکاؤنٹ سے نکالنے کے لیے مزدوری کے جن پیسوں کا شمار کرتی ہیں وہ کم ہو جاتی ہے، جیسا کہ کے گووندمّل (بائیں) کے ساتھ ہوا، جب انہوں نے پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت ایک گھر کی تعمیر کی تھی، اور ایسا ہی تجربہ ایرولاؤں کی اس بستی (دائیں) میں رہنے والی دیگر عورتوں کا بھی رہا ہے

چھوٹے بینک کی ادائیگی کا نظام آدھار پر مبنی بایومیٹرکس پر کام کرتا ہے۔ ’’مشین میرے انگوٹھے کے نشان کو کبھی نہیں پڑھ پاتی،‘‘ سُمتی نے کہا۔ ’’میں اپنا ہاتھ اس پر لگاتی رہتی ہوں لیکن یہ کبھی کام نہیں کرتا ہے۔ اس لیے مجھے کندیگئی میں واقع بینک جاکر اے ٹی ایم کارڈ کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔‘‘

بینک پچھلے پانچ لین دین کو چیک کرنے کے لیے فون بینکنگ کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔ لیکن سُمتی اور دیگر عورتیں اس خدمت سے انجان ہیں۔ ’’ہم اپنے فون پر اسے کیسے کریں؟ ہم نہیں جانتے،‘‘ انہوں نے کہا۔ پھر بھی، انہوں نے کہا کہ سیدھے بینک میں پیسے بھیجنے کے فائدے بھی ہیں۔ ’’جب ہاتھ میں نقدی ہوتی ہے، تو پتا ہی نہیں چلتا کہ یہ کیسے خرچ ہو گیا۔ اب ہم اپنے نور نل ویلئی کے پیسے بینک میں ہی چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘

کئی بار ایرولا عورتیں اپنے کھاتوں سے رقم نکالنے کی جو گنتی کرتی ہیں، وہ ان کے شمار سے کم ہو جاتی ہے۔ کے گووندمّل کا ایسا ہی تجربہ رہا۔ گووندمّل، جو اب تقریباً ۴۰ سال کی ہیں، نے ۲۰ سال پہلے اپنے شوہر کو کھو دیا تھا، ان کے تین بڑے بچے ہیں، اور وہ اکیلے رہتی ہیں۔ پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت، ۲۰۱۸-۱۹ میں انہیں ایک لاکھ ۷۰ ہزار روپے ملے تھے، اور وہ ان دنوں کے لیے منریگا مزدوری کا دعویٰ کرنے کی حقدار تھیں جب انہوں نے کسی کام کی جگہ پر جانے کی بجائے اپنا خود کا گھر بنانے کا کام کیا۔ انہوں نے اپنے گھر پر تقریباً ۶۵ دنوں تک کام کیا اور اس کی مزدوری کا استعمال راج مستری کے لیے مزدوری کی لاگت کے طور پر کیا۔ وہ امید کر رہی تھیں کہ اس کے بدلے ان کے اکاؤنٹ میں ۱۵ ہزار روپے جمع کر دیے جائیں گے، لیکن صرف ۱۴ ہزار روپے ہی جمع کیے گئے۔ اس کے علاوہ، گھر بنانے کی حقیقی لاگت مذکورہ یوجنا اور نریگا مزدوری کے ذریعے دی گئی رقم سے زیادہ ہے، اور کئی بار تعمیراتی سامانوں کی لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے گووندمّل کے پختہ مکان کا فرش ادھورا ہے۔ ’’میرے پاس اسے پورا کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

۲۰۱۹ میں، سروجا نے بھی ایری ویلئی کام کی بجائے اپنا خود کا گھر بنانے کی کوشش کی۔ ایک سال گزر گیا، لیکن ان کی منریگا مزدوری کی ادائیگی کا کوئی پتا نہیں ہے۔ ’’افسر نے مدد کا بھروسہ دلایا ہے۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے،‘‘ سروجا نے مئی میں بتایا تھا۔ ’’اگر ایری ویلئی سے پیسہ نہیں آیا، تو میں راج مستری کی ادائیگی کیسے کروں گی؟ میرا معمول کا کام بھی چھوٹ جاتا ہے۔‘‘ تب سے، انہیں منریگا کی ادائیگی کے طور پر صرف ۲ ہزار روپے ملے ہیں، حالانکہ ان کا اندازہ ہے کہ انہوں نے اپنے گھر پر ایک مہینہ تک کام کیا تھا اور انہیں کم از کم ۴-۵ ہزار روپے ملنے چاہئیں۔

Left: A. Ellamma, 23, stopped going to MGNREGA work when her child was born 2.5 years ago. Right: M. Ankamma, 25, with her two children. On her job, many entries are missing for both attendance and wages
PHOTO • Smitha Tumuluru
Left: A. Ellamma, 23, stopped going to MGNREGA work when her child was born 2.5 years ago. Right: M. Ankamma, 25, with her two children. On her job, many entries are missing for both attendance and wages
PHOTO • Smitha Tumuluru

بائیں: ۲۳ سالہ اے ایلمّا نے ڈھائی سال پہلے اپنے بچے کی پیدائش ہونے پر منریگا کے کام پر جانا بند کر دیا تھا۔ دائیں: ۲۵ سالہ ایم انکمّا، اپنے دو بچوں کے ساتھ۔ ان کے جاب کارڈ پر، حاضری اور مزدوری دونوں کے کئی اندراج غائب ہیں

رکاوٹوں کے باوجود، منریگا نے بنگلا میڈو کی عورتوں کو سالانہ ۱۵-۱۸ ہزار روپے تک کمانے کا موقع فراہم کیا ہے۔ اور مارچ ۲۰۲۰ میں لاک ڈاؤن شروع ہونے اور دیگر ذریعہ معاش ختم ہونے کے بعد، منریگا کے پیسے سے ہی ان کنبوں کا کام چل رہا ہے۔

سُمتی کئی ہفتوں سے مزدوری بچا کر رکھ رہی تھیں تاکہ گھر کی مرمت اور طبی اخراجات جیسی ناگہانیوں میں وہ پیسے کام آ سکیں۔ لیکن جب مئی میں لاک ڈاؤن میں رعایت دی گئی، تو انہوں نے اس کے بدلے ۵ ہزار روپے کی اُس بچت سے اپنے گھر کے باہر ایک چھوٹی سی دکان کھول لی، جہاں وہ صابن، مرچ پاؤڈر اور دیگر ضروری سامان فروخت کرتی ہیں۔ (لاک ڈاؤن کے دوران، ان کی بستی میں کوئی دکان نہیں ہونے کے سبب، ایرولا سرکار، پنچایت کے لیڈروں، غیر سرکاری تنظیموں اور دیگر لوگوں کے ذریعے دیے گئے بنیادی راشنوں پر ہی پوری طرح سے منحصر تھے)۔

’’کوئی کام نہیں ہے، کوئی پیسہ نہیں ہے،‘‘ سُمتی نے اپریل کی ابتدا میں بتایا تھا، جب اینٹ بھٹے اور دیگر کام کے مقام بند تھے۔ اس مہینہ کے آخری ہفتہ میں، بستی میں منریگا کے مقامات پر کام پھر سے شروع کردیا گیا تھا، جس سے بنگلا میڈو کے لوگوں کو تھوڑی مالی راحت ملی تھی۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Mohd. Qamar Tabrez is PARI’s Urdu/Hindi translator since 2015. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi. You can contact the translator here:

Smitha Tumuluru

Smitha Tumuluru is a documentary photographer based in Bengaluru. Her prior work on development projects in Tamil Nadu informs her reporting and documenting of rural lives.

Other stories by Smitha Tumuluru