چند ماہ قبل شام کو تیزی سے غائب ہوتی روشنی میں، ننھا شکتی ویل اپنے گھر کے باہر مٹی کے فرش پر بیٹھا چوہے کے بچے کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ وہ اس کے پیٹ میں دھیرے سے انگلی مارتا، تاکہ وہ دوڑ کر بھاگے، پھر اس کی پونچھ کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیتا۔ ایک سال کے شکتی ویل کے لیے یہ چوہا واحد کھلونا تھا۔

یہ بچہ اور اس کے والدین، ۱۹ سالہ آر ونجا اور ۲۲ سالہ آر جانسن، بنگلا میڈو بستی کی ایک کچی جھونپڑی میں رہتے ہیں۔ ’’ہم کھلونے نہیں خریدتے۔ نوزائیدہ بچوں کے لیے [کبھی کبھی] شاید جھنجھنا بھلے ہی خرید لیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہمارے گاؤں میں کسی کے پاس بہت سارے کھلونے ہیں،‘‘ ونجا کہتی ہیں، جو ریاست کے ذریعے چلائے جانے والے منریگا کے مقامات پر کام کرتی ہیں، جب کہ جانسن تعمیراتی مقامات، اینٹ بھٹوں پر کام کرتے ہیں، یا پھر تمل ناڈو کے تیروتانی بلاک میں واقع اپنی پنچایت، چیروکنور کے گاؤوں میں درخت کاٹتے ہیں۔

’’ہمارے بچے پالتو جانوروں کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ ہم گھر پر خرگوش، چوہے، گلہری پالتے ہیں۔ زیادہ تر، بچے چوہوں کو رکھنا پسند کرتے ہیں۔ انہیں تلاش کرنا بھی آسان ہے۔ مجھے خرگوش پسند ہے۔ وہ ملائم ہوتے ہیں، لیکن آپ خرگوش کے بچوں کو اتنی آسانی سے نہیں حاصل کر سکتے،‘‘ ۲۸ سالہ ایس سمتی کہتی ہیں، جو اسی بستی میں پرائمری اسکول کے بچوں کو پڑھاتی ہیں، اور منریگا کے مقامات پر اور اینٹ بھٹوں پر بھی کام کرتی ہیں۔

ریاست کے تیرولور ضلع میں ۳۵ ایرولا آدیواسی کنبوں کی اس بستی میں بچوں کے درمیان، پالتو جانوروں کے طور پر چوہے کے بچے خاص طور سے مقبول ہیں۔ (دیکھیں بنگلا میڈو میں دفن خزانے کی کھدائی)۔ یہ چھوٹے جانور کاٹتے نہیں ہیں اور کسی بھی دیگر پالتو جانوروں کی طرح ہی کنبوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ (ایک سفر کے دوران، میں اس عورت سے ملی، جو اپنے پالتو چوہے کو تار کی ٹوکری میں رکھ کر میٹنگ میں لائی تھی۔)

Baby rats are especially popular as pets among the Irula Adivasis in Bangalamedu hamlet – Dhaman, S. Amaladevi and Sakthivel (left to right) with their pets
PHOTO • Smitha Tumuluru
Baby rats are especially popular as pets among the Irula Adivasis in Bangalamedu hamlet – Dhaman, S. Amaladevi and Sakthivel (left to right) with their pets
PHOTO • Smitha Tumuluru
Baby rats are especially popular as pets among the Irula Adivasis in Bangalamedu hamlet – Dhaman, S. Amaladevi and Sakthivel (left to right) with their pets
PHOTO • Smitha Tumuluru

بنگلا میڈو بستی کے ایرولا آدیواسیوں کے درمیان چوہے کے بچے، خاص طور سے پالتو جانوروں کے طور پر مقبول ہیں – دھمن، ایس املا دیوی اور شکتی ویل (بائیں سے دائیں) اپنے پالتو جانوروں کے ساتھ

ایرولا – تمل ناڈو کے چھ خصوصی طور سے کمزور آدیواسی گروہوں (پی وی ٹی جی) میں سے ایک – چوہے کا گوشت بھی کھاتے ہیں، جسے وہ دھان کے کھیتوں سے پکڑنے کے بعد تازہ پکاتے ہیں۔ وہ ہفتہ میں کم از کم ۲-۳ بار کھانے کے لیے شکار کرتے ہیں۔ کبھی کبھی جب انہیں کوئی کام نہیں ملتا، تو وہ روزانہ شکار کرتے ہیں۔ ان کے کھانے میں خرگوش، چوہے، گلہری، گھونگھے، کیکڑے، اور مختلف قسم کے پرندے شامل ہوتے ہیں – ان سبھی کو وہ بنگلا میڈو کے پاس کے جھاڑی دار جنگلات یا کھیتوں سے پکڑتے ہیں۔

’’ہم تقریباً ہر روز گوشت کھاتے ہیں،‘‘ ۳۵ سالہ جی منی گندھن کہتے ہیں۔ وہ ونجا کے چچا ہیں، اور بستی میں مڈل اسکول کے بچوں کے لیے اسکول کے بعد کی کلاسیں چلاتے ہیں۔ وہ کبھی کبھی دوپہیہ ’’ٹیکسی‘‘ بھی چلاتے ہیں، اور پاس کے تعمیراتی مقامات پر بجلی کا کام کرتے ہیں۔ بستی میں منی گندھن اور دیگر کا ماننا ہے کہ ہر ایک جانور کی ایک خاص ادویاتی اہمیت ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’بلی کا گوشت سانس کی گھڑگھڑاہٹ کے لیے اچھا ہے، گلہری کا گوشت آواز کے لیے اچھا ہے، زکام کے لیے کیکڑے اچھے ہیں۔ اسی لیے ہمارے لوگ اکثر بیمار نہیں پڑتے۔‘‘

(حالانکہ چند کتابوں میں درج ہے کہ ایرولا سانپ پکڑتے ہیں، لیکن بنگلا میڈو کے کنبوں کا کہنا ہے کہ ان کی برادری میں کوئی بھی سانپ نہیں پکڑتا ہے۔ منی گندھن یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ان کے والد کے زمانے میں، تقریباً چار دہائی قبل، کچھ لوگ بیچنے کے لیے سانپ پکڑتے تھے۔ یہ روایت وقت کے ساتھ ختم ہوتی چلی گئی۔ اب، اس بستی کے باشندے سانپوں کی اتنی ہی پرواہ کرتے ہیں جتنا کہ کوئی اور، وہ کہتے ہیں۔)

بنگلا میڈو کے باشندے اکثر کھانے کے لیے چوہے تب جمع کرتے ہیں، جب آس پاس کے گاؤوں کے کھیت مالک انہیں پیسے دے کر بلاتے ہیں تاکہ وہ اپنے کھیت کے چوہوں سے چھٹکارہ پا سکیں۔ چوہے کھیتوں سے دھان، راگی (جسے مقامی طور پر کیل ورگو کہا جاتا ہے) یا مونگ پھلی چراتے ہیں اور انہیں اپنے بلوں میں جمع کر لیتے ہیں۔

’’احتیاط سے کھدائی کرنے پر، ہمیں ان کے بلوں سے ۶-۷ پاڈی [تقریباً ۸-۱۰ کلو] دھان مل سکتا ہے،‘‘ منی گندھن بتاتے ہیں۔ ’’اس میں سے ہمیں تقریباً ۳ کلو چاول مل جاتا ہے۔ کھیت مالک ہمیں دھان کو اپنے گھر لے جانے کی اجازت دے دیتے ہیں۔ ہم چوہے کے گوشت کا استعمال کوجھامبو میں کرتے ہیں۔‘‘ یہ املی کے رس کے ساتھ بنا گوشت کا تیکھا شوربہ ہوتا ہے، جسے چاول کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔

Once the rats are caught, K. Krishnan (left) and his cousin G. Manigandan dig through the rat tunnels to carefully extract the stored paddy
PHOTO • Smitha Tumuluru
Once the rats are caught, K. Krishnan (left) and his cousin G. Manigandan dig through the rat tunnels to carefully extract the stored paddy
PHOTO • Smitha Tumuluru

چوہوں کو پکڑ لینے کے بعد، کے کرشنن (بائیں) اور ان کے چچیرے بھائی جی منی گندھن دھان نکالنے کے لیے احتیاط سے بل کی کھدائی کرتے ہیں

کھیت مالک ایرولا کو درختوں کی چھنٹائی کرنے، نہر کھودنے یا اپنے کھیتوں کو جوتنے کے لیے بھی بلاتے ہیں۔ اس کام سے وہ ایک دن میں ۳۵۰ روپے کما سکتے ہیں۔ چوہوں کو پکڑنے کے لیے، کھیت مالک انہیں ۵۰-۱۰۰ روپے دیتے ہیں۔ ’’اس کے لیے کوئی مقررہ رقم نہیں ہے،‘‘ منی گندھن کہتے ہیں۔ ’’یہ ہر ایک مالک پر منحصر ہے کہ وہ کتنا پیسہ دینے کا فیصلہ کرتا ہے۔ کچھ لوگ تو کچھ بھی نہیں دیتے اور کہتے ہیں کہ کس چیز کا پیسہ، کیا تمہیں اپنا چاول اور گوشت نہیں مل گیا؟‘‘

’’کچھ سال پہلے تک، وہ ہمیں خاص طور سے چوہے پکڑنے کے لیے بلاتے تھے،‘‘ سمتی کے شوہر، ۳۶ سالہ کے شری رامولو کہتے ہیں، جو دھان کے کھیتوں پر کام کرتے وقت باقاعدگی سے چوہوں کا شکار کرتے ہیں۔ ’’آج کل، جب ہم کھیتوں میں جتائی کرنے یا نہروں کی کھدائی کا کام کرنے جاتے ہیں، تو وہ ہمیں چوہے کا بل بھی صاف کرنے کے لیے کہتے ہیں۔ اگر مالک نہ بھی کہیں، تب بھی ولئی [بل] دکھائی دینے پر ہم چوہوں کو پکڑ لیتے ہیں۔‘‘

حالانکہ، برادری کے نوجوانوں کو چوہے پکڑنے کی ذمہ داری لینا پسند نہیں ہے، وہ بتاتے ہیں۔ ’’کوئی ان سے ملتا ہے اور کہتا ہے کہ ’آپ لوگ ابھی بھی اپنے پرانے راستے پر کیوں چل رہے ہیں، ابھی بھی چوہے کیوں پکڑ رہے ہیں‘۔ وہ شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔‘‘

برادری کے باہر کے کچھ لوگوں کے لیے کھانے کے طور پر چوہے کا خیال بھلے ہی اچھا نہ لگتا ہو، یا ہو سکتا ہے کہ ان کے لیے یہ نفرت آمیز ہو، لیکن ایرولا آدیواسیوں کے لیے چوہے بدبودار جانور سے بڑھ کر ہیں – وہ مضبوط اور صاف کھیت کے جانور ہیں۔ ’’وہ سبھی صحت مند چوہے ہیں،‘‘ سمتی کہتی ہیں۔ ’’وہ صرف دھان کھاتے ہیں اور کچھ نہیں۔ وہ صاف ہوتے ہیں۔ ورنہ ہم انہیں کھاتے نہیں۔‘‘

کھیتوں میں چوہوں کے بل کھودے بغیر بھی ایرولا ہفتہ میں کئی بار چوہے یا گھونگھے تلاش کرتے ہیں۔ دوپہر میں، اپنی مزدوری کے کام سے لوٹتے وقت، وہ کھیتوں میں رک کر ان چھوٹے جانوروں کا شکار کرتے ہیں۔ وہ عام طور پر کھیت کے کام کے لیے جو برما لے جاتے ہیں، وہ کام آتا ہے۔ ’’ہم زیادہ سبزیاں نہیں کھاتے،‘‘ منی گندھن بتاتے ہیں۔ ’’ہمارے کھانے کے لیے گوشت ضروری ہے۔ اس لیے ہم تقریباً ہر دن شکار کرتے ہیں۔ اگر ہم خوش قسمت رہے، تو ہمیں ۱۰ چوہے بھی مل جاتے ہیں۔ کبھی کبھی، ہم صرف چار سے کام چلا لیتے ہیں۔ ہم انہیں اسی دن پکاتے ہیں۔ ہم انہیں اگلے دن کے لیے کبھی بھی بچاکر نہیں رکھتے۔‘‘

PHOTO • Smitha Tumuluru

کرشنن (اوپر کی قطار) اور دیگر لوگ چوہے کا شکار کرنے کے لیے بل کے منہ کا پتہ لگاتے ہیں۔ نیچے بائیں: چوہا پکڑنے والے کبھی کبھی جال کا بھی استعمال کرتے ہیں۔ نیچے دائیں: ایس سمتی اپنے شوہر کے شری رامالو کے ساتھ، جو دھان کے کھیتوں میں کام کرتے وقت باقاعدگی سے چوہے کا شکار کرتے ہیں

چوہے پکڑنے والے عام طور پر جوڑے میں کام کرتے ہیں – حالانکہ کئی بار، ایک اکیلا شخص بھی چوہے کا شکار کر سکتا ہے، اور کبھی کبھی یہ تین لوگوں کی ٹیم بناکر ایسا کرتے ہیں۔ ایک دوپہر کو اسی کام کے لیے بلائے جانے پر، منی گندھن اور ان کے چچیرے بھائی کے کرشنن سوُکّو (کیسورائنا) کے جنگل سے سٹے دھان کے ایک کھیت کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ ۴۵ سالہ کرشنن کھیت کے کنارے موجود بل کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ’’کیا آپ ان سوراخوں کو دیکھ سکتے ہیں؟ یہ چوہے کے بلوں کے داخلی دروازے ہیں۔ ہم انہیں دیکھتے ہیں اور چوہوں کوپکڑنے کا منصوبہ بناتے ہیں۔‘‘ کرشنن ہر دوسرے دن شکار کرنے جاتے ہیں، اور کہتے ہیں، ’’ہم جو کچھ بھی حاصل کرتے ہیں اسے گھر لے آتے ہیں۔ چوہے پکڑنا سب سے آسان ہے۔ اس لیے ہم ہفتہ میں کم از کم دو سے تین بار چوہے پکاتے ہیں۔‘‘

’’چوہے کے بل بہت پیچیدہ ہوتے ہیں، جیسے کہ شہر کی سڑکیں الگ الگ سمتوں میں پھیلی ہوتی ہیں، زمین کے اوپر اور نیچے بھی،‘‘ منی گندھن کہتے ہیں۔ ’’وہ بہت چالاک ہوتے ہیں۔ وہ کیچڑ سے اپنی ولئی کو بند کر دیتے ہیں۔ انہیں ڈھونڈنا آسان نہیں ہے۔ آپ کو غور سے دیکھنا پڑے گا۔ لیکن نظر آ جانے کے بعد، ہم پتھر سے بل کے منھ کو بند کر دیتے ہیں اور دوسرے کنارے سے کھدائی شروع کرتے ہیں۔ چوہوں کے بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں بچتا اور ہم اسے پکڑ لیتے ہیں۔ اگر مٹی سخت ہے اور اتنی سوکھ گئی ہے کہ اسے کھودنا مشکل ہے، تو ہم گوبر جلاتے ہیں اور بل میں دھواں کر دیتے ہیں۔ اس سے چوہے کا دَم گھٹ جاتا ہے اور وہ مر جاتے ہیں۔‘‘

بستی میں منی گندھن، کرشنن اور دیگر لوگ چوہوں کو پکڑنے کے لیے جال کا بھی استعمال کرتے ہیں۔ ’’کبھی کبھی، جب ہمیں ولئی کے منہ نہیں ملتے، تو ہم اس جگہ کے چاروں طرف جال بچھا دیتے ہیں،‘‘ منی گندھن کہتے ہیں۔ ’’دھواں بل کے ذریعے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچ جاتا ہے۔ اگر کوئی چوہا دھوئیں سے بچنے کے لیے بل سے باہر بھاگنے کی کوشش کرتا ہے، تو وہ ہمارے جال میں آکر پھنس جاتا ہے۔‘‘ اس کے لیے، بنگلا میڈو کے کچھ ایرولا کنبے مضبوط دھاگے سے بُنائی کرکے اپنے خود کے جال بناتے ہیں، جب کہ دیگر لوگ انہیں آس پاس کے بازاروں سے خریدتے ہیں۔

اُدھر دھان کے کھیت میں، کرشنن جیسے ہی بل کے ایک کنارے سے کھدائی کرنا شروع کرتے ہیں، وہاں سے گزرنے والے ۲۰ سالہ جی سریش ان کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔ وہ اور ان کے والدین گزر بسر کے لیے لکڑی کا کوئلہ بناتے ہیں۔ وہ کرشنن کو ہوشیار کرتے ہیں کہ وہاں ایک چوہا ہے۔ گھبرایا ہوا چوہا جیسے ہی بھاگنے کی کوشش کرتا ہے، کرشنن تیزی سے اسے اپنے ہاتھوں سے پکڑ لیتے ہیں۔ وہ اس کے سبھی دانتوں اور اعضاء کو توڑ دیتے ہیں، جس کی آواز سنائی دیتی ہے۔ ’’یہ ضروری ہے، ورنہ وہ کاٹ سکتے ہیں یا بھاگ سکتے ہیں۔ وہ بہت پھرتیلے ہوتے ہیں،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ چوہے کو پکڑ لینے کے بعد، کرشنن اور ان کی ٹیم احتیاط سے دھان نکالنے کے لیے پورے بل کی کھدائی کرتی ہے۔

The Irula families of Bangalamedu depend on hunting for their meals. Left: M. Radha waits to trap a rabbit. Right: G. Subramani, catapult in hand, looks for birds
PHOTO • Smitha Tumuluru
The Irula families of Bangalamedu depend on hunting for their meals. Left: M. Radha waits to trap a rabbit. Right: G. Subramani, catapult in hand, looks for birds
PHOTO • Smitha Tumuluru

بنگلا میڈو کے ایرولا کنبے اپنے کھانے کے لیے شکار پر منحصر ہیں۔ بائیں: ایم رادھا خرگوش کو پھنسانے کا انتظار کرر ہی ہیں۔ دائیں: جی سبرمنی، ہاتھ میں غلیل لیے پرندوں کو تلاش کر رہے ہیں

کبھی کبھی، بلوں میں انہیں چوہوں کے بچے ملتے ہیں۔ بنگلا میڈو کے کئی ایرولا کنبے انہیں پالتو اور کھیلنے والے جانور کے طور پر اپناتے ہیں۔ ساتویں جماعت میں پڑھنے والی ۱۵ سالہ آر دھن لکشمی، جو منی گندھن کی اسکول کے بعد والی کلاس میں شریک ہوتی ہیں، ابھی بھی اپنے پالتو چوہے، گیتا کو یاد کرتی ہیں، جسے انہوں نے تب پالا تھا جب وہ ۱۰ سال کی تھیں۔ ’’مجھے اپنے چوہے سے پیار تھا،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’وہ کھیلنے کے لیے چھوٹا اور اچھا تھا۔‘‘

چوہا پکڑنا ایک مسلسل سرگرمی ہے، لیکن بنگلا میڈو کے کئی باشندے اب بلوں سے جمع کیے گئے دھان کو بطور کھانا استعمال کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ ’’ہمارے لوگوں کو راشن سے ملنے والے چاول کے ذائقہ کی عادت ہو گئی ہے،‘‘ منی گندھن کہتے ہیں۔ ’’وہ اب ولئی کے دھان کی بجائے اسے پسند کرتے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے لوگ چوہے تو پکڑتے ہیں، لیکن دھان کو بلوں میں ہی چھوڑ دیتے ہیں یا اسے اپنی مرغیوں کو کھلاتے ہیں۔‘‘

کرشنن اس بات سے متفق ہیں کہ ان کی بستی کے لوگ اب چوہے کے بل والے دھان سے زیادہ راشن کی دکان کے چاول کا استعمال کرتے ہیں۔ ’’چوہے کے بلوں سے ہمیں اتنا دھان نہیں ملتا جتنا پہلے ملا کرتا تھا،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’آج کل بارش کم ہوتی ہے، اس لیے دھان کی پیداوار بھی کم ہو رہی ہے۔ اور وہ کھیتوں پر گھر بنانے لگے ہیں، اس لیے بہت سے لوگ پہلے جتنا کھیتی بھی نہیں کر رہے ہیں۔‘‘

راشن کے چاول کا استعمال اب یومیہ کھانا پکانے کے لیے کیا جاتا ہے، وہ بتاتے ہیں۔ ’’لیکن ہم چوہے کے بلوں سے ملنے والے چاول کا استعمال کچھ میٹھا بنانے میں کرتے ہیں۔ اس چاول سے الگ خوشبو آتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگوں کو یہ پسند نہ ہو، لیکن ہمیں پسند ہے...‘‘

Irula Adivasis relish rat meat, which they cook fresh after catching the rodents. Right: A tomato broth getting ready for the meat to be added
PHOTO • Smitha Tumuluru
Irula Adivasis relish rat meat, which they cook fresh after catching the rodents. Right: A tomato broth getting ready for the meat to be added
PHOTO • Smitha Tumuluru

ایرولا آدیواسی چوہے کا گوشت کھاتے ہیں، جسے وہ پکڑنے کے بعد تازہ پکاتے ہیں۔ دائیں: گوشت میں ڈالنے کے لیے ٹماٹر کا شوربہ تیار ہو رہا ہے

لیکن چوہے کے بلوں سے نکلنے والی مونگ پھلی کو لوگ آج بھی پسند کرتے ہیں۔ ’’چوہے چھپنے کے لیے تیار مونگ پھلی کا انتخاب کرتے ہیں۔ ان کا ذائقہ کافی میٹھا ہوتا ہے۔ ہم اس سے تیل بھی نکال سکتے ہیں۔ ہمیں دھان ملے یا نہیں، لیکن اگر [کھیت میں] مونگ پھلی لگی ہوئی ہے، تو ہم اسے جمع کرنے کے لیے یقینی طور پر چوہوں کا شکار کرنے وہاں جاتے ہیں،‘‘ منی گندھن کہتے ہیں۔ سمتی اور کرشنن اس سے پوری طرح متفق ہیں۔

منی گندھن ایک سال پہلے برسات کا وہ دن یاد کرتے ہیں، جب گھر پر کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ ان کی والدہ، ۶۰ سالہ جی یلمّا نے اپنے بچوں کو کھلانے کے لیے کچھ نہ کچھ ڈھونڈ کر لانے کی ٹھانی۔ وہ چوہے کے بل سے کھودی ہوئی مونگ پھلی سے بھرا انّ کوڈئی (المونیم کا بڑا برتن) لیکر گھر لوٹیں۔

سمتی ابھی بھی بلوں سے دھان جمع کرتی ہیں۔ ’’چوہوں کے بلوں سے نکلے چاول سے مٹی کی خوشبو آتی ہے۔ اس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے۔ میری سہیلیوں نے حال ہی میں اس کا استعمال کوژوکٹئی [تازہ چاول کے آٹے کا ایک میٹھا پکوان، جو گڑ اور ناریل سے بھرا ہوتا ہے] بنانے میں کیا تھا۔‘‘

اور، وہ آگے کہتی ہیں، ’’بھلے ہی گھر پر [کھانے کے لیے] کچھ نہ ہو، ہم ہمیشہ چوہوں کو آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔ ہم انہیں آگ پر بھونتے ہیں اور بینگن، ٹماٹر اور پیاز کے کچھ ٹکڑوں کے ساتھ گوشت کا کوجھامبو بناتے ہیں۔ ہم اسے چاول کے ساتھ کھاتے ہیں۔ یہ لذیذ اور اطمینان بخش ہوتا ہے۔‘‘

مترجم: محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Smitha Tumuluru

اسمیتا تُمولورو بنگلورو میں مقیم ایک ڈاکیومینٹری فوٹوگرافر ہیں۔ تمل ناڈو میں ترقیاتی پروجیکٹوں پر ان کے پہلے کے کام ان کی رپورٹنگ اور دیہی زندگی کی دستاویزکاری کے بارے میں بتاتے ہیں۔

Other stories by Smitha Tumuluru