صدر ٹاؤن کا پرائمری ہیلتھ سینٹر پیر کی صبح جیسے ہی کھلا، سُنیتا دتّہ اپنے شوہر کے ساتھ وہاں پہنچ گئیں۔ لیکن معاون نرس دائی (اے این ایم) جب سنیتا کو ڈلیوری وارڈ میں لے گئی، تو وہ اپنے شوہر کے ساتھ پی ایچ سی سے فوراً واپس لوٹ گئیں۔ ’’اس میں کیسے ہوگا بچہ، بہت گندگی ہے اِدھر،‘‘ سنیتا نے اُس رکشہ میں سوار ہوتے ہوئے کہا، جس میں بیٹھ کر وہ وہاں پہنچے تھے۔

’’آج اس کی زچگی کی تاریخ ہے – اس لیے اب ہمیں کسی پرائیویٹ اسپتال میں جانا ہوگا،‘‘ ان کے شوہر امر دتہ نے کہا، جب اُن کا رکشہ وہاں سے جا رہا تھا۔ سنیتا نے اس پی ایچ سی میں اپنے تیسرے بچے کو جنم دیا تھا۔ لیکن اس بار، اپنے چوتھے بچے کے لیے، انہوں نے کہیں اور جانے کا ارادہ کیا ہے۔

صبح ۱۱ بجے، صدر پی ایچ سی کے لیبر روم میں صفائی ملازم کے آنے کا انتظار ہو رہا ہے تاکہ خون سے سرابور فرش صاف ہو سکے – جو پچھلے دن کی ڈلیوری (زچگی) سے اب بھی گندا ہے۔

’’میں اپنے شوہر کا انتظار کر رہی ہوں، جو مجھے لینے آئیں گے۔ آج کی میری ڈیوٹی کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ میری رات کی شفٹ تھی اور کوئی مریض نہیں تھا، لیکن میں مچھروں کی وجہ سے مشکل سے سو سکی،‘‘ ۴۳ سالہ پُشپا دیوی (بدلا ہوا نام) کہتی ہیں۔ پُشپا بہار کے دربھنگہ ضلع میں صدر ٹاؤن کے پی ایچ سی میں اے این ایم کے طور پر کام کرتی ہیں۔ وہ دفتر کے علاقہ میں، ڈیوٹی پر تعینات اے این ایم کی کرسی پر بیٹھی ہوئی ہم سے بات کرتی ہیں۔ کرسی کے پیچھے ایک میز ہے، جس پر کچھ کاغذ بکھرے ہوئے ہیں، اور ایک لکڑی کی چارپائی ہے۔ وہی چارپائی جس پر پُشپا نے اپنی پریشان رات گزاری تھی۔

پیلی مچھردانی، جو کبھی کریم رنگ کی ہوا کرتی تھی، چارپائی کے اوپر ٹنگی ہے، جس میں اتنے بڑے بڑے سوراخ ہیں کہ مچھر آسانی سے اس کے اندر داخل ہو سکتے ہیں۔ چارپائی کے نیچے تہہ لگایا بستر، تکیہ کے ساتھ الگ رکھا ہوا ہے – جسے اگلی رات کی شفٹ میں اے این ایم کے ذریعہ استعمال کیا جائے گا۔

Sunita Dutta (in the pink saree) delivered her third child at the Sadar PHC (right), but opted for a private hospital to deliver her fourth child
PHOTO • Jigyasa Mishra
Sunita Dutta (in the pink saree) delivered her third child at the Sadar PHC (right), but opted for a private hospital to deliver her fourth child
PHOTO • Jigyasa Mishra

سنیتا دتہ (گلابی ساڑی میں) نے اپنے تیسرے بچے کو صدر پی ایچ سی (دائیں) میں جنم دیا تھا، لیکن اپنے چوتھے بچے کی پیدائش کے لیے انہوں نے ایک پرائیویٹ اسپتال کا انتخاب کیا

’’ہمارا دفتر اور سونے کی جگہ ایک ہے۔ یہاں ایسا ہی ہے،‘‘ پُشپا کہتی ہیں، اور ساتھ ہی نوٹ بک کے اوپر جمع ہو رہے مچھروں کے ایک جھنڈ کو بھگاتی ہیں۔ پُشپا کی شادی دربھنگہ شہر کے ایک چھوٹے سے دکاندار، ۴۷ سالہ کشن کمار سے ہوئی ہے، اور دونوں پی ایچ سی سے پانچ کلومیٹر دور اسی شہر میں رہتے ہیں۔ ان کا واحد بچہ، ۱۴ سالہ امریش کمار، وہاں کے ایک پرائیویٹ اسکول میں ۸ویں کلاس میں پڑھتا ہے۔

پُشپا کا کہنا ہے کہ صدر پی ایچ سی میں ہر مہینے اوسطاً ۱۰ سے ۱۵ بچوں کی پیدائش ہوتی ہے۔ کووڈ- ۱۹ وبائی مرض سے پہلے یہ تعداد تقریباً دو گنی تھی، وہ کہتی ہیں۔ پی ایچ سی کے لیبر روم میں دو ڈلیوری ٹیبل اور زچگی کے بعد کی دیکھ بھال (پی این سی) وارڈ میں کل چھ بستر ہیں – جن میں سے ایک ٹوٹا ہوا ہے۔ پُشپا بتاتی ہیں کہ ان بستروں میں سے ’’چار کا استعمال مریضوں کے ذریعہ اور دو کا استعمال ممتا کے ذریعہ کیا جاتا ہے،‘‘ ممتا کے سونے کے لیے اور کوئی جگہ نہیں ہے۔

’ممتا‘ بہار کے سرکاری اسپتالوں اور طبی مراکز کے زچگی وارڈوں میں ٹھیکہ پر کام کرنے والی طبی ملازمین ہیں۔ یہ زمرہ صرف اسی ریاست میں ہے۔ وہ ہرمہینے تقریباً ۵ ہزار روپے کماتی ہیں – کبھی کبھی اس سے بھی کم – اور ہر ایک زچگی کی دیکھ بھال اور مدد کرنے کے لیے انہیں الگ سے ۳۰۰ روپے کا ’انسینٹو‘ بونس ملتا ہے۔ لیکن کسی ایسی ممتا کو ڈھونڈنا مشکل ہے، جو تنخواہ اور ’انسینٹو‘ دونوں کو ملاکر مسلسل ۶ ہزار روپے ماہانہ کماتی ہو۔ اس پی ایچ سی میں دو اور پوری ریاست میں ۴ ہزار سے زیادہ ممتا ہیں۔

PHOTO • Priyanka Borar

دریں اثنا، پُشپا کا انتظار ختم ہو جاتا ہے کیوں کہ وہ جس ممتا کارکن، بیبی دیوی (بدلا ہوا نام) کا انتظار کر رہی تھیں، وہ آ جاتی ہیں۔ ’’بھگوان کا شکر ہے کہ میرے جانے سے پہلے وہ یہاں آ چکی ہیں۔ آج ان کی دن کی شفٹ ہے۔ دیگر اے این ایم کو بھی جلد ہی آ جانا چاہیے،‘‘ وہ کہتی ہیں، اور وقت دیکھنے کے لیے ایک پرانے موبائل کا بٹن دباتی ہیں – ان کے پاس اسمارٹ فون نہیں ہے۔ اس پی ایچ سی کے لیبر روم میں چار دیگر اے این ایم کام کرتی ہیں – اس سے وابستہ ۳۳ دیگر بھی ہیں، جو ضلع کے مختلف گاؤوں میں واقع اس کے طبی ذیلی مراکز میں خدمات فراہم کرتی ہیں۔ پی ایچ سی میں چھ ڈاکٹر کام کرتے ہیں – اور گائناکولوجسٹ (امراض خواتین کی ماہر) کا بھی ایک عہدہ ہے، جو خالی پڑا ہے۔ کوئی میڈیکل ٹیکنیشین نہیں ہے – یہ کام باہر سے کرایا جاتا ہے۔ دو صفائی ملازمین ہیں۔

بہار میں اے این ایم ۱۱۵۰۰ روپے کی ابتدائی تنخواہ پر اس سروس میں شامل ہوتی ہیں۔ پُشپا، تقریباً دو دہائی سے زیادہ عرصے سے کام کر رہی ہیں، اس لیے وہ اس کا تقریباً تین گنا زیادہ کماتی ہیں۔

۵۵ سالہ ممتا، بیبی دیوی اپنے ہاتھ میں ایک مسواک (نیم کی تقریباً ۲۰ سینٹی میٹر لمبی ایک پتلی ٹہنی، جسے دانت صاف کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے) کے ساتھ پی ایچ سی پہنچتی ہیں۔ وہ پُشپا سے کہتی ہیں، ’’ارے دیدی، آج بالکل بھاگتے بھاگتے آئے ہیں۔‘‘

تو آج خاص کیا ہے؟ ان کی ۱۲ سال کی پوتی، ارچنا (بدلا ہوا نام)، کام پر ان کے ساتھ آئی ہے۔ گلابی پیلی فراک پہنے، چکنی بھوری جلد اور سنہرے بھورے بالوں میں چھوٹی چوٹی بندھی ہوئی، ارچنا اپنی دادی کے پیچھے پیچھے چل رہی ہے، اس کے ہاتھ میں پلاسٹک کی ایک تھیلی ہے، جس میں شاید ان کا دوپہر کا کھانا ہے۔

Mamta workers assist with everything in the maternity ward, from delivery and post-natal care to cleaning the room
PHOTO • Jigyasa Mishra

ممتا کارکن ڈلیوری وارڈ میں زچگی اور زچگی کے بعد کی دیکھ بھال سے لیکر کمرے کی صفائی تک، ہر چیز میں مدد کرتی ہیں

ممتا کارکنوں کو زچہ بچہ کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔ حالانکہ، بیبی دیوی کہتی ہیں، وہ زچگی سے لیکر زچگی کے بعد دیکھ بھال اور ڈلیوری وارڈ میں ہونے والی ہر چیز میں مدد کرتی ہیں۔ ’’میرا کام ہے زچگی کے بعد ماں اور بچے کی دیکھ بھال کرنا، لیکن میں آشا دیدی کے ساتھ ڈلیوری کا دھیان رکھتی ہوں، اور پھر صفائی ملازم کے چھٹی پر ہونے کی صورت میں بستر کے ساتھ ساتھ لیبر روم کی بھی صفائی کرتی ہوں،‘‘ بیبی دیوی میز پر جمے غبار کو صاف کرتے ہوئے کہتی ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ جب وہ پی ایچ سی میں اکیلی ممتا تھیں تب زیادہ کماتی تھیں۔ ’’مجھے مہینے میں ۵-۶ ہزار روپے ملتے تھے، لیکن جب سے انہوں نے ایک اور ممتا کی تقرری کی ہے، میں صرف ۵۰ فیصد زچگی پر انسینٹو کماتی ہوں، ہر ایک کے لیے مجھے ۳۰۰ روپے ملتے ہیں۔ وبائی مرض کی شروعات سے ہی پی ایچ سی میں زچگی کی تعداد کم ہونے لگی تھی، جس کے بعد ان میں سے ہر ایک کو ہر مہینے زیادہ سے زیادہ ۳ ہزار روپے ملتے ہیں، شاید اس سے بھی کم۔ انہیں ۳۰۰ روپے کی ’انسینٹو‘ کی رقم صرف پانچ سالوں سے مل رہی ہے۔ ۲۰۱۶ تک یہ رقم ہر ایک زچگی پر صرف ۱۰۰ روپے ہوا کرتی تھی۔

زیادہ تر دنوں میں، کام کے لیے پی ایچ سی کا دورہ کرنے والوں میں آشا کارکن شامل ہیں، جو اپنی زیر نگرانی حاملہ خواتین کو یہاں ڈلیوری کرانے کے لیے لیکر آتی ہیں۔ سنتیا اور ان کے شوہر کے ساتھ کوئی آشا کارکن نہیں آئی تھی، اور اس رپورٹر نے جب وہاں کا دورہ کیا تب بھی کوئی آشا کارکن نہیں آئی تھی، جو شاید کووڈ- ۱۹ وبائی مرض شروع ہونے کے بعد پی ایچ سی میں آنے والے مریضوں کی تعداد میں کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ حالانکہ، جو خواتین ڈلیوری کے لیے آتی ہیں، ان کے ساتھ اکثر ایک آشا ہوتی ہے۔

آشا کا مطلب ہے ’منظور شدہ سماجی طبی کارکن‘ – اور یہ ان خواتین کو کہا جاتا ہے جو اپنی دیہی برادری کو عوامی حفظان صحت کے نظام سے جوڑتی ہیں۔

بہار میں تقریباً ۹۰ ہزار آشا ہیں، جو ملک بھر میں کام کرنے والی دس لاکھ سے زیادہ آشاؤں کی دوسری سب سے بڑی ٹیم ہے۔ حکومتوں کے ذریعہ انہیں ’رضاکار‘ کہا جاتا ہے، جو اِس لفظ کا استعمال انہیں بطور اجرت بہت کم پیسے ادا کرنے کا جواز ثابت کرنے کے لیے کرتی ہیں۔ بہار میں، وہ ماہانہ ۱۵۰۰ روپے پاتی ہیں – اور اسپتال میں زچگی، ٹیکہ کاری، گھر کے دورے، خاندانی منصوبہ بندی وغیرہ سے متعلق دیگر کاموں کے لیے انہیں ’انسینٹو‘ کے طور پر الگ سے کچھ پیسے ملتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کو ان تمام کاموں سے ہر مہینے اوسطاً ۵-۶ ہزار روپے ملتے ہوں گے۔ ان میں سے ۲۶۰ صدر پی ایچ سی اور اس کے مختلف ذیلی مراکز سے وابستہ ہیں۔

Left: The mosquito net and bedding in the office where ANMs sleep. Right: A broken bed in the post-natal care ward is used for storing junk
PHOTO • Jigyasa Mishra
Left: The mosquito net and bedding in the office where ANMs sleep. Right: A broken bed in the post-natal care ward is used for storing junk
PHOTO • Jigyasa Mishra

بائیں: دفتر میں مچھردانی اور چارپائی جہاں اے این ایم سوتی ہیں۔ دائیں: زچگی کے بعد دیکھ بھال والے وارڈ میں ایک ٹوٹی ہوئی چارپائی ردی جمع کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے

بیبی اپنی پوتی کو پلاسٹک کے تھیلے سے کھانا نکالنے کے لیے کہتی ہیں، اور اپنی بات جاری رکھتی ہیں۔ ’’ہمیں ہمیشہ لگتا ہے کہ یہاں جگہ، بستر اور سہولیات کی کمی ہے۔ لیکن اگر ہم بہتر سہولیات کا مطالبہ کرتے ہیں، تو ہمیں دھمکی دی جاتی ہے کہ ہمارا تبادلہ کر دیا جائے گا۔ مانسون کے دوران پانی کا جمع ہونا سب سے بڑی چنوتی بن جاتا ہے۔ کئی بار، اُس موسم میں ڈلیوری کے لیے آنے والی خواتین یہاں کی حالت کو دیکھ کر گھر لوٹ جاتی ہیں،‘‘ وہ آگے کہتی ہیں۔ ’’اس کے بعد وہ پرائیویٹ اسپتالوں کا رخ کرتی ہیں۔‘‘

’’میرے ساتھ آؤ، میں تمہیں اپنا پی این سی وارڈ دکھاتی ہوں،‘‘ وہ اس رپورٹر کا ہاتھ پکڑ کر اُس جانب لے جاتے ہوئے کہتی ہیں۔ ’’دیکھو، یہی ایک کمرہ ہے جو ہمارے پاس زچگی کے بعد ہی ہر چیز کے لیے ہے۔ ہمارے لیے اور ساتھ ہی مریضوں کے لیے، یہی سب کچھ ہے۔‘‘ اس وارڈ میں چھ بستروں کے علاوہ، ایک دفتر کے علاقہ میں ہے جس پر پُشپا جیسی اے این ایم کا قبضہ رہتا ہے اور ایک دوسرا ڈلیوری وارڈ کے باہر ہے۔ ’’ان دونوں بستروں کا استعمال اکثر ممتا کرتی ہیں۔ رات کی شفٹ میں جب سبھی بستروں پر مریضوں کا قبضہ ہو جاتا ہے، تو ہمیں سونے کے لیے بینچوں کو آپس میں ملانا پڑتا ہے۔ ایسے بھی دن گزرے ہیں جب ہمیں، یہاں تک کہ ہماری اے این ایم کو بھی، فرش پر سونا پڑا ہے۔‘‘

بیبی چاروں طرف دیکھتی ہیں کہ کہیں کوئی سینئر تو ہماری بات چیت نہیں سن رہا ہے، اور پھر اپنی بات جاری رکھتی ہیں، ’’ہمارے لیے پانی گرم کرنے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ دیدی [اے این ایم] طویل عرصے سے اس کا مطالبہ کر رہی ہیں، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ بغل کی صرف چائے والی ہماری مدد کرتی ہے۔ آپ جب باہر نکلیں گے، تو آپ کو پی ایچ سی کے دروازے کے دائیں طرف چائے کی ایک چھوٹی سی دکان ملے گی، جو ایک عورت اور اس کی بیٹی چلاتی ہے۔ ہمیں جب ضرورت ہوتی ہے، تو وہ اسٹیل کے ایک پتیلا (برتن) میں ہمارے لیے گرم پانی لاتی ہے۔ وہ جب بھی پانی لاتی ہے، ہم اسے ہر بار کچھ نہ کچھ دیتے ہیں۔ عام طور پر، ۱۰ روپے۔‘‘

وہ اتنے کم پیسے سے اپنا کام کیسے چلاتی ہیں؟ ’’تمہیں کیا لگتا ہے؟‘‘ بیبی پوچھتی ہیں۔ ’’کیا ۳۰۰۰ روپے چار رکنی فیملی کے لیے کافی ہیں؟ میں کمانے والی اکیلی رکن ہوں۔ میرا بیٹا، بہو اور یہ لڑکی [پوتی] میرے ساتھ رہتے ہیں۔ اس لیے مریض ہمیں کچھ پیسے دے دیتے ہیں۔ اے این ایم... ہر کوئی لیتا ہے۔ ہم بھی اس طرح سے کچھ پیسے حاصل کر لیتے ہیں۔ کبھی کبھی ۱۰۰ روپے فی زچگی۔ کبھی ۲۰۰ روپے۔ ہم مریضوں کو مجبور نہیں کرتے ہیں۔ ہم ان سے مانگتے ہیں اور وہ ہمیں خوشی خوشی دے دیتے ہیں۔ خاص طور پر جب کوئی لڑکا پیدا ہوتا ہے۔‘‘

پاری اور کاؤنٹر میڈیا ٹرسٹ کی جانب سے دیہی ہندوستان کی بلوغت حاصل کر چکی لڑکیوں اور نوجوان عورتوں پر ملگ گیر رپورٹنگ کا پروجیکٹ پاپولیشن فاؤنڈیشن آف انڈیا کے مالی تعاون سے ایک پہل کا حصہ ہے، تاکہ عام لوگوں کی آوازوں اور ان کی زندگی کے تجربات کے توسط سے ان اہم لیکن حاشیہ پر پڑے گروہوں کی حالت کا پتا لگایا جا سکے۔

اس مضمون کو شائع کرنا چاہتے ہیں؟ براہِ کرم [email protected] کو لکھیں اور اس کی ایک کاپی [email protected] کو بھیج دیں۔

جگیاسا مشرا ٹھاکر فیملی فاؤنڈیشن سے آزادانہ صحافت کے لیے گرانٹ کے توسط سے صحت عامہ اور شہریوں کی آزادی پر رپورٹ کرتی ہیں۔ ٹھاکر فیملی فاؤنڈیشن نے اس رپورٹ کے مواد پر کوئی ایڈیٹوریل کنٹرول نہیں کیا ہے۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Mohd. Qamar Tabrez is PARI’s Urdu/Hindi translator since 2015. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi. You can contact the translator here:

Illustration : Priyanka Borar

Priyanka Borar is a new media artist experimenting with technology to discover new forms of meaning and expression. She likes to design experiences for learning and play. As much as she enjoys juggling with interactive media she feels at home with the traditional pen and paper.

Other stories by Priyanka Borar
Jigyasa Mishra

Jigyasa Mishra is an independent journalist based in Chitrakoot, Uttar Pradesh.

Other stories by Jigyasa Mishra