عثمان آباد ضلع میں جب کورونا کی دوسری لہر پہنچی، تو اس کا اثر بڑی تیزی سے نظر آنے لگا۔ تلجاپور تحصیل میں واقع تلجا بھوانی مندر میں جمع ہونے والی بھیڑ کی وجہ سے بھی یہ بحران مزید گہرا ہونے لگا۔

جے سنگھ پاٹل، جو کورونا کی وجہ سے مرتے مرتے بچے تھے، نے قسم کھائی ہے کہ وہ مندر تب تک نہیں جائیں گے، جب تک وہاں جانا محفوظ نہیں ہو جاتا۔ وہ کہتے ہیں، ’’میں ایک بھکت ہوں۔ میں لوگوں کے عقیدہ کی قدر کرتا ہوں۔ لیکن، وبائی مرض کے دوران مندروں کو کھولنا عقلمندی بھرا فیصلہ نہیں ہے۔‘‘

۴۵ سالہ جے سنگھ پاٹل، تلجا بھوانی ٹیمپل ٹرسٹ میں ایک کلرک کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’اس سال فروری میں، مجھے سینکڑوں لوگوں کی قطاروں کو سنبھالنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ بھکت کافی جارح ہوتے ہیں۔ اگر انہیں مندر میں داخل ہونے سے روکا جائے، تو وہ آپ پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ ضروری اسی بھیڑ کو سنبھالنے کی وجہ سے میں کورونا سے متاثر ہو گیا۔‘‘ یہ مندر مہاراشٹر کے سب سے مشہور تیرتھ استھلوں (مذہبی مقامات) میں سے ایک ہے، اور یہاں روزانہ پورے ہندوستان سے ہزاروں لوگ درشن (زیارت) کرنے کے لیے آتے ہیں۔

وہ ایک اسپتال کے آئی سی یو میں دو ہفتوں تک آکسیجن کے سہارے رہے۔ ان کے خون کے آکسیجن لیول میں ۷۵ سے ۸۰ فیصد تک کی گراوٹ آئی، جب کہ ڈاکٹر بتاتے ہیں کہ آکسیجن کی سطح کا ۹۲ فیصد سے کم ہونا تشویش کی بات ہے۔ جے سنگھ کہتے ہیں، ’’میں کسی طرح بچ گیا۔ لیکن، اتنے مہینے گزر جانے کے بعد بھی مجھے تھکان محسوس ہوتی ہے۔‘‘

Jaysingh Patil nearly died of Covid-19 after he was tasked with managing the queues of devotees visiting the temple
PHOTO • Parth M.N.

جے سنگھ کورونا کے مرض سے مرتے مرتے بچے، جب انہیں مندر کے باہر عقیدت مندوں کی قطار سنبھالنے کی ذمہ داری سونپی گئی

جے سنگھ جب بیمار پڑے، اس سے ایک مہینہ پہلے انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی جگدیش (عمر ۳۲ سال) کو ٹھیک انہیں حالات سے گزرتے دیکھا تھا۔ جگدیش پورے تین ہفتے اسپتال میں بھرتی رہے، اور ان کے خون کا آکسیجن لیول ۸۰ فیصد سے نیچے چلا گیا تھا۔ جے سنگھ بتاتے ہیں، ’’وہ مندر کا ایک پجاری ہے۔ کورنا سے متاثر ایک عقیدت مند کے رابطہ میں آنے کے بعد، وہ کورونا سے متاثر ہو گیا۔ ہم دونوں اس خطرناک تجربے سے گزرے۔‘‘

یہ تجربہ کافی خرچیلا بھی تھا۔ دونوں بھائیوں نے اپنے علاج پر تقریباً پانچ لاکھ روپے خرچ کیے۔ جے سنگھ کہتے ہیں، ’’خوش قسمتی سے ہم دونوں بچ گئے۔ لیکن، ہزاروں لوگ مر رہے ہیں اور ان کی فیملی برباد ہو رہی ہے۔ آپ چاہے کتنی بھی کوشش کر لیجئے، لیکن مندروں میں جسمانی فاصلہ پر عمل کرنا ممکن نہیں ہے۔‘‘

تلجاپور کے تحصیل دار سوداگر ٹنڈالے بتاتے ہیں کہ تلجا بھوانی مندر، جس کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ یہ ۱۲ویں صدی میں تعمیر کیا گیا مندر ہے، کی سالانہ آمدنی ۴۰۰ کروڑ روپے ہے۔ تلجاپور تحصیل کی آمدنی اس مندر پر منحصر رہتی ہے۔ مٹھائی کی دکانیں، ساڑیوں کی دکانیں، راشن کی دکان، ہوٹل، لاج (قیام گاہ)، اور یہاں تک کہ پجاریوں کی فیملی بھی اپنی آمدنی کے لیے عقیدت مندوں پر منحصر ہے۔

ٹنڈالے بتاتے ہیں کہ کورونا وبائی مرض سے پہلے روزانہ تقریباً ۵۰ ہزار لوگ مندر کے درشن کے لیے آتے تھے۔ ’’(ستمبر سے اکتوبر کے درمیان) نوراتری کے تہوار کے دوران تو ہر روز ایک لاکھ عقیدت مند یہاں آتے تھے۔‘‘ ایک سال تو ایسا ہوا کہ مندر میں روزانہ سات لاکھ سے زیادہ عقیدت مندر درشن کے لیے آئے۔

The Tuljapur temple has been shut since April
PHOTO • Parth M.N.

تلجاپور مندر اپریل سے ہی بند ہے

’’تحصیل آفس نے طے کیا کہ وہ درشن کے لیے آنے والے عقیدت مندوں کو پاس جاری کریں گے، جس کی اجازت پہلے سے لینی ہوگی۔ اس کی حد طے کرتے ہوئے ہر روز صرف ۲۰۰۰ لوگوں کو تلجاپور شہر آنے کی اجازت دی گئی۔ اس تعداد کو آہستہ آہستہ بڑھایا گیا، اور اس سال جنوری میں روزانہ تقریباً ۳۰ ہزار لوگ مندر میں درشن کے لیے آ رہے تھے۔‘‘

ٹنڈالے بتاتے ہیں کہ ان عقیدت مندوں میں سے ۹۰ فیصد سے زیادہ لوگ عثمان آباد سے نہیں، بلکہ باہر سے آئے تھے۔ ’’وہ مہاراشٹر کے کونے کونے سے، آندھرا پردیش، تلنگانہ، کرناٹک اور دیگر جگہوں سے آئے تھے۔‘‘

اس لیے، کورونا کی پہلی لہر کے بعد، نومبر ۲۰۲۰ میں مندر کو دوبارہ کھولنا ایک بہت بڑی غلطی تھی۔ خاص کر تب، جب یہ معلوم تھا کہ مندر آنے والے عقیدت مندوں کی وجہ سے وبائی مرض کی پہلی لہر کے دوران کورونا معاملوں کی تعداد تیزی سے بڑھی تھی۔

اس کے باوجود کہ مندر کو ۱۷ مارچ، ۲۰۲۰ کو بند کر دیا گیا تھا اور اس کے بعد قومی سطح پر لاک ڈاؤن کا اعلان ہوا تھا، عقیدت مند پھر بھی مندر میں دیوی کے درشن کے لیے آتے رہے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ضلع کے ایک افسر بتاتے ہیں، ’’وہ لوگ مین گیٹ پر آتے تھے اور دور سے ہی پوجا کرتے تھے۔ لاک ڈاؤن کے باوجود بھی عقیدت مند کسی طرح تلجاپور آ جاتے تھے۔ پچھلے سال اپریل سے مئی کے درمیان روزانہ ۵۰۰۰ عقیدت مند آتے رہے۔ لاک ڈاؤن کے بعد بھی یہاں معاملوں کی تعداد میں کوئی کمی نہیں آئی۔‘‘

ٹنڈالے بتاتے ہیں کہ مئی ۲۰۲۰ کے آخر میں، جب ضلع انتظامیہ نے تلجاپور کے پجاریوں (کل ۳۵۰۰) کی جانچ کی تو ان میں سے ۲۰ فیصد لوگ کورونا سے متاثر پائے گئے۔ جون سے تحصیل انتظامیہ نے تلجاپور آنے کے لیے، کورونا کی نگیٹو رپورٹ لانے کو ایک لازمی شرط بنا دیا۔ ٹنڈالے کہتے ہیں، ’’اس کی وجہ سے کچھ حد تک حالات قابو میں آئے۔ لیکن، تلجاپور کورونا کی پہلی لہر میں بری طرح متاثر ہوا تھا۔‘‘

اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں تھی۔

Mandakini (left) and Kalyani Salunkhe make puran polis for the devotees. The temple's closure gives them a break but it has ruined the family income
PHOTO • Parth M.N.
Mandakini (left) and Kalyani Salunkhe make puran polis for the devotees. The temple's closure gives them a break but it has ruined the family income
PHOTO • Parth M.N.

منداکنی (بائیں) اور کلیانی سالنکھے، بھکتوں کے لیے پورن پولی بناتے ہوئے۔ مندر کے بند ہونے پر انہیں ایک چھٹی تو ملی، لیکن اس سے ان کی فیملی کی آمدنی پر برا اثر پڑ رہا ہے

کچھ رسم و رواج نے کورونا کو پھیلانے میں اپنا رول نبھایا۔ ان میں سے ایک پورن پولی (ایک قسم کی میٹھی روٹی) کا چڑھاوا ہے، جسے پجاریوں کے گھروں میں عورتوں کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے۔ عقیدت مند اپنے ساتھ پکوان کا سامان لے کر آتے ہیں اور وہاں پورن پولی کے پرساد کا اپنا حصہ کھانے کے بعد، بقیہ حصے کو مندر میں چڑھا دیتے ہیں۔

کورونا وبائی مرض آنے سے قبل، ۶۲ سالہ منداکنی سالُنکھے روزانہ تقریباً سو بھکتوں کے لیے پورن پولی بنایا کرتی تھیں۔ ان کا بیٹا ناگیش (عمر ۳۵ سال) مندر میں ایک پجاری ہے۔ وہ بتاتی ہیں، ’’تہواروں کے دوران بننے والے چڑھاوے کے بارے میں تو پوچھئے ہی مت۔ میں نے اپنی پوری زندگی اسی کام میں گزاری ہے۔ زندگی میں پہلی بار مجھے تھوڑا آرام ملا ہے۔ لیکن، وبائی مرض کی پہلی لہر میں بھی لوگ آتے رہے۔‘‘

پورن پولی بنانا آسان نہیں ہے۔ ذائقہ برقرار رکھنے کے علاوہ، گول پورن پولی کو ایک گرم توے پر دونوں طرف سے سینکنا ہوتا ہے۔ ناگیش کی بیوی کلیانی (عمر ۳۰ سال) بتاتی ہیں، ’’تلجاپور میں ایسی کوئی عورت نہیں ہے جس کے ہاتھ پر جلنے کا نشان نہ ہو۔ یہ ضرور ہے کہ ہم سبھی کو چھٹی ملی ہے، لیکن اس کی وجہ سے ہمارا معاش بھی برباد ہو گیا ہے۔‘‘

ناگیش کے آباء و اجداد بھی پجاری تھے، اور انہیں یہ کام وراثت میں ملا ہے۔ یہ ان کی آمدنی کا واحد ذریعہ ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’عقیدت مند اپنے ساتھ دال، تیل، چاول، اور راشن کے دیگر سامان لے کر آتے ہیں۔ ہم ان میں سے کچھ کا استعمال ان کے کھانے کے لیے کرتے ہیں اور بقیہ کو ہم اپنے گھر کی ضرورت کے لیے رکھ لیتے ہیں۔ جب ہم بھکتوں کے لیے پوجا کرتے ہیں، تو وہ ہمیں اس کے لیے پیسے دیتے ہیں۔ ہم (پجاری) ہر مہینے ۱۸ ہزار روپے تک کما لیتے تھے۔ لیکن، اب سب بند ہو گیا ہے۔‘‘

Gulchand Vyavahare led the agitation to reopen the temple
PHOTO • Parth M.N.

گل چند ویوہارے نے مندر کو پھر سے کھولنے کی مانگ کو آگے بڑھایا

وہ فوراً وضاحت کرتے ہیں کہ وہ نہیں چاہتے ہیں کہ مندر پھر سے کھلے، کیوں کہ اس سے لوگوں کی جان خطرے میں پڑ جائے گی۔ وہ کہتے ہیں، ’’آپ لوگوں کی جان پر کھیل کر، معیشت کو نہیں بچا سکتے ہیں۔ ہم ان نامساعد حالات کو سمجھ سکتے ہیں۔ میں بس یہ امید کرتا ہوں کہ کاش ہمیں کچھ راحت مل جاتی۔‘‘

تحصیل دفتر نے عقیدت مندوں کو تلجاپور آنے سے روکنے میں، پجاریوں اور شہر کے لوگوں سے مدد لی تھی۔ ٹنڈالے کہتے ہیں، ’’ہم چیف پجاریوں کے تعاون سے پوجا پاٹھ جاری رکھے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ پچھلے سال نوراتری میں ہمارے یہاں کوئی عقیدت مند نہیں آیا۔ ہم نے تلجاپور کے باہر کے کسی شخص کو مندر میں داخل نہیں ہونے دیا۔ احمد نگر [برہان نگر دیوی مندر] سے ہر سال بڑی دھوم دھام سے ایک پالکی آتی ہے، لیکن اس بار ہم نے ان سے اسے بغیر کسی دھوم دھام کے، ایک کار میں بھجوانے کو کہا۔‘‘

لیکن، اکتوبر ۲۰۲۰ میں پہلی لہر کے کمزور پڑنے کے بعد، لوگوں نے یہ سوچ کر احتیاط برتنا چھوڑ دیا تھا کہ اب وبائی مرض جا چکا ہے۔

تلجاپور مندر کو کھولنے کی مانگ پھر سے شروع ہو گئی اور پچھلے سال نومبر میں ایک احتجاجی مظاہرہ بھی ہوا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (ریاستی اسمبلی میں حزب اختلاف) کے لیڈروں نے اس احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی۔ بی جے پی کے عثمان آباد کے ضلع سکریٹری گل چند ویوہارے کہتے ہیں، ’’ہوٹل، ریستوراں، اور بار کھل گئے ہیں۔ لیکن، مندر کو کیوں بند رکھا گیا ہے؟ لوگوں کے معاش کا سوال ہے۔ کیا کورونا صرف مندروں کے ذریعے پھیلتا ہے؟‘‘

تحصیل کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ تلجاپور کی معیشت، سیاست اور عقیدت، تینوں آپس میں مربوط ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’اسے الگ سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ لوگ معیشت پر اس لیے زور دیتے ہیں، کیوں کہ عقیدت سے کہیں زیادہ معیشت کا سوال عملی لگتا ہے۔ درحقیقت، ان تینوں پہلوؤں نے مل کر مندر کو بند رکھنے کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔‘‘

پورے مہاراشٹر میں مندر کو پھر سے کھلوانے کی مانگ ہو رہی تھی، جو آخرکار کامیاب ہو گئی۔ وزیر اعلیٰ اودھو ٹھاکرے نے نومبر ۲۰۲۰ کے وسط میں مندر کو پھر سے کھولے جانے کی اجازت دے دی تھی۔

تلجاپور کی مقامی انتظامیہ نے تیرتھ یاتریوں کو اجازت نامہ جاری کرنا شروع کر دیا اور ہر دن صرف ۲۰۰۰ لوگوں کو شہر میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔ یہ تعداد آہستہ آہستہ بڑھتی گئی اور جنوری ۲۰۲۱ تک روزانہ تقریباً ۳۰ ہزار عقیدت مند مندر میں درشن کے لیے آ رہے تھے۔ جے سنگھ کہتے ہیں کہ انہیں سنبھالنا مشکل ہو گیا تھا، ’’جب ۳۰ ہزار لوگوں کواجازت دی جا رہی تھی، تو اور ۱۰ ہزار لوگ بغیر اجازت کے مندر میں داخل ہونے کی کوشش کرتے مل جاتے تھے۔ دور دور سے دیوی کے درشن کے لیے آنے والے عقیدت مند، کسی بھی وجہ سے نہ رکنا چاہتے ہیں اور نہ کسی کی سنتے ہیں۔ وبائی مرض کی دوسری لہر کے بعد بھی، ہم اسے پھیلانے میں حصہ دار نہیں ہو سکتے۔ کچھ لوگوں کے لیے وائرس کو نظر انداز کرنا آسان ہے۔ آپ تب تک نہیں سمجھتے ہیں، جب تک آپ خود اس کا تجربہ نہیں کر لیتے۔‘‘

Nagesh Salunkhe has been losing out on the earnings from performing poojas in the Tuljapur temple (right)
PHOTO • Parth M.N.
Nagesh Salunkhe has been losing out on the earnings from performing poojas in the Tuljapur temple (right)
PHOTO • Parth M.N.

تلجاپور مندر (دائیں) کے بند ہونے کی وجہ سے ناگیش سالُنکھے کی آمدنی بہت کم ہو گئی ہے

تلجاپور مندر میں عقیدت مندوں کی تعداد بڑھنے کے بعد، عثمان آباد ضلع میں کورونا معاملوں کی تعداد بھی بڑھ گئی۔ فروری میں ضلع می کورونا کے کل ۳۸۰ معاملے سامنے آئے تھے۔ مارچ میں یہ تعداد بڑھ کر ۳۰۵۰ تک پہنچ گئی، جو کہ فروری سے ۹ گنا زیادہ تھی۔ اپریل میں کورونا متاثرین کی تعداد ۱۷۸۰۰ پار کر گئی، جس نے ضلع کے صحت سے متعلق ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ضلع کے ایک افسر کہتے ہیں، تلجاپور مندر کو چھوڑ کر عثمان آباد می ایسی کوئی دوسری جگہ نہی ہے، جہا اس سطح پر لوگوں کی بھیڑ جمع ہوتی ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اسی وجہ سے کورونا کی دوسری لہر خطرناک ہو گئی۔ یہ کمبھ (اتر پردیش) کی طرح ہی تھا، لیکن چھوٹی سطح پر۔‘‘

ٹنڈالے کہتے ہیں کہ دوسری لہر کے دوران، جب تلجاپور کے پجاریو کی کورونا جانچ ہوئی تو ان میں سے ۳۲ فیصد لوگ متاثر پائے گئے اور پچاس لوگوں کی موت ہو گئی۔

عثمان آباد کی آٹھ تحصیلوں میں سے، تلجاپور کورونا کے متاثرین اور اس سے ہوئی اموات کے معاملے میں دوسرے نمبر پر تھا۔ عثمان آباد کی اس تحصیل می کورونا انفیکشن اور اس سے ہوئی اموات کے سب سے زیادہ معاملے اس لیے سامنے آئے، کیوں کہ وہیں پر ضلع کا سب سے بڑا سرکاری اسپتال، سول ہاسپیٹل واقع ہے، جہاں پورے ضلع کے کورونا کے سب سے سنگین مریضوں کا علاج ہو رہا تھا۔

عثمان آباد مراٹھواڑہ کا زراعت سے جڑا ہوا علاقہ ہے، جو خشک سالی، بحران اور قرض میں مبتلا ہے اور پورے مہاراشٹر میں سب سے زیادہ کسانوں کی خودکشی یہیں ہوتی ہے۔ یہ ریاست پہلے ہی ماحولیاتی تبدیلی، پانی کی قلت اور زرعی بحران سے متاثر ہے اور ضلع کا طبی ڈھانچہ اتنا خراب ہے کہ لوگ اپنی صحت کے لیے اس پر منحصر نہیں رہ سکتے ہیں۔

Sandeep Agarwal does not mind losing sales from shutting his grocery shop until it is safe for the town to receive visitors
PHOTO • Parth M.N.

سندیپ اگروال اپنی دکان بند رکھنے کے لیے تیار ہیں، جب تک ان کے شہر کے لوگ کورونا سے محفوظ نہیں ہو جاتے

اس سال اپریل میں، جب تلجا بھوانی مندر کو ایک بار پھر بند کیا گیا، شہر کی سڑکیں ویران ہو گئیں، دکانیں بند ہو گئیں اور لگاتار دوسرے سال شہر میں سناٹا پھیل گیا۔

ضلع انتظامیہ کے ایک عہدیدار اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہتے ہیں، ’’اس قسم کے (سیاسی) ماحول میں مندر کو لمبے وقت کے لیے بند رکھنا خطرناک ہے۔ اس کی وجہ سے قانون اور نظم و نسق کا مسئلہ کھڑا ہو سکتا ہے۔‘‘

حالانکہ، تلجاپور کے لوگ محفوظ رہنا چاہتے ہی، بھلے ہی وہ معیشت میں آئی گراوٹ کی وجہ سے متاثر ہو رہے ہوں۔

۴۳ سالہ سندیپ اگروال، جو شہر میں کیرانے کی ایک دکان چلاتے ہیں، بتاتے ہیں کہ کورونا وبائی مرض سے پہلے وہ جہاں روزانہ ۳۰ ہزار روپے کا مال بیچا کرتے تھے، وہیں ان کی فروخت اب تقریباً صفر ہو گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’لیکن، جب تک سبھی کو ٹیکہ نہیں لگ جاتا، میں نہیں چاہتا کہ مندر کھلے۔ ہمیں ایک بار ہی زندگی ملتی ہے۔ اگر ہم اس وبائی مرض سے بچ گئے، تو معیشت کو پھر سے سنبھال لیں گے۔ جو لوگ مندر کو پھر سے کھولنا چاہتے ہیں وہ عثمان آباد کے لوگ نہیں ہیں۔‘‘

اگروال صحیح کہتے ہیں۔

تلجا بھوانی مندر کے ایک پجاری (صدر پجاری) تکوجی بوا کے پاس ملک بھر سے روزانہ ۲۰ فون آتے ہیں اور لوگ ان سے مندر دوبارہ کھلنے کے بارے میں سوال کرتے ہی۔ وہ کہتے ہیں، ’’میں ان لوگوں سے کہتا ہوں کہ لوگوں کی جان خطرے میں ہے اور یہ مان لیجئے کہ ہم نے سال ۲۰۲۰ اور ۲۰۲۱ کو صحت کے لیے وقف کر دیا ہے۔ وائرس (آپ کے اور) آپ کی صحت کے درمیان نہیں آ سکتا۔ آپ جہاں ہیں وہیں پر رہتے ہوئے دیوی کی پوجا کر سکتے ہیں۔‘‘

مہنت بتاتے ہیں کہ تلجا بھوانی کے بھکت ان کا درشن کرنا چاہتے ہیں یا کم از کم مندر کے دروازے کو چھونا چاہتے ہیں۔

Mahant Tukojibua has been convincing the temple's devotees to stay where they are and pray to the goddess from there
PHOTO • Parth M.N.

مہنت تکوجی بوا، مندر کے عقیدت مندوں کو دور سے ہی ماتا کی پوجا کرنے کے لیے سمجھا رہے ہیں

جیسے ہی تکوجی بوا اپنی بات ختم کرتے ہی، ان کا فون بجنے لگتا ہے۔ یہ تلجاپور سے ۳۰۰ کلومیٹر دور، پونہ سے ایک بھکت کا فون تھا۔

بھکت نے عقیدتاً کہا، ’’ساشٹانگ نمسکار!‘‘

مہنت پوچھتے ہیں، ’’آپ کیسے ہیں؟‘‘

پونہ سے بات کر رہا وہ شخص کہتا ہے، ’’مندر کو جلد ہی کھولنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں مثبت سوچنے کی ضرورت ہے۔ ہم جو بھی ہیں، تلجا بھوانی کی وجہ سے ہیں۔ یہاں تک کہ ڈاکٹر ہم سے بھگوان میں بھروسہ رکھنے کو کہتے ہیں۔‘‘

تکوجی بوا انہیں سمجھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ مندر کی پوجا کو آن لائن دیکھ سکتے ہیں۔ لاک ڈاؤن کے بعد سے ہی، مندر اپنی پوجا پاٹھ کو ڈیجیٹل طور پر نشر کر رہا ہے۔

حالانکہ، بھکت اس بات سے مطمئن نہیں ہوا۔ وہ پجاری سے کہتا ہے، کورونا مندر کی بھیڑ سے کبھی نہیں پھیلے گا۔‘‘ اس کا کہنا ہے کہ مندر کھلتے ہی وہ پیدل ہی ۳۰۰ کلومیٹر کی دوری طے کرکے، دیوی کے درشن کے لیے آئے گا۔‘‘

مترجم: محمد قمر تبریز

Parth M.N.

Parth M.N. is a 2017 PARI Fellow and an independent journalist reporting for various news websites. He loves cricket and travelling.

Other stories by Parth M.N.
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez