رتنوّا ایس ہریجن کہتی ہیں، ’’جب سے میں پیدا ہوئی ہوں، تب سے میں نے ایک مزدور کے طور پر کام کیا ہے۔‘‘ اگست کی ایک دھندلی صبح ہے، جب رتنوّا اپنے گھر سے کھیت کی طرف تیزی سے جا رہی ہیں، جہاں وہ دہاڑی مزدوری کرتی ہیں۔ تھوڑے جھکے ہوئے جسم کے ساتھ جب وہ چلتی ہیں، تو یکساں رفتار سے چلتی ہیں۔ اس سے ان کے پیروں میں لنگڑے پن کا مسئلہ نظر نہیں آتا، جو نوجوانی میں ہوا تھا۔

کھیت میں پہنچنے کے بعد وہ اپنے ساتھ لائے کپڑے نکالتی ہیں، جنہیں وہ کام کے دوران پہنتی ہیں۔ سب سے پہلے، وہ اپنی ساڑی کے اوپر ایک نیلی شرٹ پہنتی ہیں، اور پھر زرگل کے غبار سے بچانے کے لیے اپنی کمر کے چاروں طرف ایک لمبی، زرد رنگ کی پرنٹیڈ نائٹی لپیٹتی ہیں۔ اس کے اوپر وہ بھنڈی کے پودے کے کچھ گنڈو ہُوو (’پھولوں کی نسل کے نر پھول‘) لے جانے کے لیے، تھیلی جیسا دکھائی دینے والا ایک پھٹا ہوا نیلا شیفان کپڑا باندھتی ہیں۔ ۴۵ سالہ رتنوّا، اپنے سر کے چاروں طرف بے رنگ پڑا سفید تولیہ لپیٹتی ہیں اور اپنے بائیں ہاتھ میں دھاگے کا ایک گچھا لیکر اپنا کام شروع کرتی ہیں۔

وہ ایک پھول چُن کر، دھیرے سے اس کی پنکھڑیوں کو موڑتی ہیں اور نر کون سے زرگل پاؤڈر کو ہر ایک رحم گل پر چھڑکتی ہیں۔ وہ اس کے چاروں طرف ایک دھاگہ باندھ کر زیرہ پوشی والے رحم گل کو نشان زد کرتی ہیں۔ وہ جھک کر کھیت میں بھنڈی کے پودوں کی قطاروں کے ساتھ ہر ایک پھول کی ایک لائن سے زیرہ پوشی کرتی جاتی ہیں۔ وہ ہاتھ سے زیرہ پوشی کرنے میں ماہر ہیں۔ یہ کام وہ بچپن سے کر رہی ہیں۔

رتنوّا، کرناٹک کی ایک دلت برادری مڈیگا سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ کرناٹک کے ہاویری ضلع کے رانے بینور تعلقہ میں، کوناناتالی گاؤں کے مڈیگرا کیری (مڈیگا کوارٹر) میں رہتی ہیں۔

Ratnavva S. Harijan picks the gandu hoovu (' male flower') from the pouch tied to her waist to pollinate the okra flowers. She gently spreads the pollen from the male cone to the stigma and ties the flower with a thread held in her left hand to mark the pollinated stigma
PHOTO • S. Senthalir
Ratnavva S. Harijan picks the gandu hoovu (' male flower') from the pouch tied to her waist to pollinate the okra flowers. She gently spreads the pollen from the male cone to the stigma and ties the flower with a thread held in her left hand to mark the pollinated stigma
PHOTO • S. Senthalir

رتنوّا ایس ہریجن، بھنڈی کے پھولوں کی زیرہ پوشی کرنے کے لیے اپنی کمر سے بندھی تھیلی سے گنڈو ہُوو (’نر پھول‘) چُنتی ہیں۔ وہ دھیرے سے زرگل کو نر کون سے رحم گل تک پھیلاتی ہیں اور زیرہ پوش رحم گل کو نشان زد کرنے کے لیے پھول کو اپنے بائیں ہاتھ میں رکھے دھاگے سے باندھتی ہیں

ان کا دن علی الصبح ۴ بجے شروع ہو جاتا ہے۔ وہ گھر کا کام پورا کرتی ہیں، اپنی فیملی کو ناشتہ اور چائے دیتی ہیں، دوپہر کا کھانا بناتی ہیں، اور صبح ۹ بجے کھیت میں جانے سے پہلے جلدی جلدی کھانا کھاتی ہیں۔

وہ آدھے دن تک بھنڈی کے تقریباً ۲۰۰ پودوں کے رحم گل کو زیرہ پوش کرتی ہیں۔ یہ سارے پودے تین ایکڑ کی زمین میں آدھے سے زیادہ حصے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ دوپہر میں صرف آدھے گھنٹے کا بریک لیتی ہیں، جلدی سے کھانا کھاتی ہیں اور اگلے دن زیرہ پوشی کے لیے، رحم گل کو تیار کرتے ہوئے، پھولوں کی کلیوں کی پرتوں کو چھیلنے کا کام کرتی ہیں۔ اس کام کے لیے زمیندار انہیں پہلے سے طے شدہ مزدوری ۲۰۰ روپے دیتا ہے۔

رتنوّا نے ہاتھ سے زیرہ پوشی کی تکنیک بہت پہلے ہی سیکھ لی تھی۔ وہ کہتی ہیں، ’’ہمارے پاس زمین نہیں ہے، اس لیے ہم دوسروں کی زمین پر کام کر رہے ہیں۔ میں کبھی اسکول نہیں گئی۔ بچپن سے ہی میں کام کر رہی ہوں۔ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، ہم غریب ہیں، اس لیے ہمیں یہ کرنا پڑا۔ شروعاتی دنوں میں، میں گھاس پھوس نکال کر ٹماٹر کی فصل میں زیرہ پوشی کرتی تھی۔‘‘ وہ ہاتھ سے پھولوں میں زیرہ پوشی کرنے کے اپنے کام کو بتانے کے لیے، ’کراس‘ اور ’کراسنگ‘ الفاظ کا استعمال کرتی ہیں۔

رتنوّا کی پیدائش رانے بینور تعلقہ کے ترومالادیواراکوپّا گاؤں کے بے زمین زرعی مزدور فیملی میں ہوئی تھی۔ ہاویری میں کل مزدوروں کی آبادی میں ۴۲ اعشاریہ ۶ فیصد حصہ داری زرعی مزدوروں کی ہے۔ ضلع کے دیہی علاقوں میں، تقریباً ۷۰ فیصد مزدور عورتیں ہیں (مردم شماری ۲۰۱۱ کے مطابق)۔ رتنوّا کے لیے، بچپن سے ہی کام شروع کر دینا کوئی خلاف معمول بات نہیں تھی۔

رتنوّا آٹھ بھائی بہنوں میں سب سے بڑی تھیں۔ اُن آٹھوں میں سے زیادہ تر لڑکیاں تھیں۔ رتنوّا کی شادی کوناناتالی کے ایک زرعی مزدور، سَنّاچوڈپّا ایم ہریجن سے ہوئی تھی۔ رتنوّا کہتی ہیں، ’’میرے والد شرابی تھے، اس لیے بالغ ہونے کے ایک سال کے اندر ہی میری شادی کر دی گئی۔ مجھے یاد بھی نہیں کہ اُس وقت میں کتنے سال کی تھی۔‘‘

Left: Flowers that will be used for pollination are stored in a vessel. Right: Ratnavva pollinates the stigmas of about 200 okra plants within the first half of the day
PHOTO • S. Senthalir
Left: Flowers that will be used for pollination are stored in a vessel. Right: Ratnavva pollinates the stigmas of about 200 okra plants within the first half of the day
PHOTO • S. Senthalir

بائیں: زیرگی کے لیے استعمال کیے جانے والے پھولوں کو ایک برتن میں جمع کیا جاتا ہے۔ دائیں: رتنوّا دن کے آدھے حصے میں، بھنڈی کے تقریباً ۲۰۰ پودوں کے رحم گل کو زیرہ پوش کرتی ہیں

ترومالادیواراکوپّا میں رتنوّا، ہاتھ سے پودوں کو زیرہ پوش کرنے کے لیے دن کے ۷۰ روپے کما لیتی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ۱۵ سال پہلے جب انہوں نے کوناناتالی میں کام کرنا شروع کیا، تو اس وقت انہیں دن کے ۱۰۰ روپے ملتے تھے۔ رتنوّا کہتی ہیں، ’’وہ [زمیندار] ہر سال دس دس روپے بڑھاتے رہے اور اب مجھے ۲۰۰ روپے ملتے ہیں۔‘‘

کوناناتالی میں بیج کی پیداوار میں ہاتھ سے زیرہ پوشی ایک اہم عمل ہے، جہاں بھنڈی، ٹماٹر، تورئی، اور ککڑی جیسی ہائبرڈ اقسام کی سبزیاں اُگائی جاتی ہیں۔ یہ کام عام طور پر مانسون اور سردیوں کے موسم میں کیا جاتا ہے۔ کپاس کے پاس سبزیوں کے بیج، گاؤں کی اہم زرعی پیداوار مانے جاتے ہیں، جہاں ان کی کھیتی تقریباً ۵۶۸ ہیکٹیئر (مردم شماری ۲۰۱۱ کے مطابق) میں ہوتی ہے۔ کرناٹک اور مہاراشٹر، ملک میں سبزیوں کے بیج کی پیداوار کے معاملے میں سب سے آگے ہیں اور پرائیویٹ سیکٹر اس میں بڑا رول ادا کرتے ہیں۔

ہاتھ سے زیرہ پوشی محنت اور مہارت کا کام ہے۔ اس میں، پھول کے سب سے چھوٹے حصے کو انتہائی احتیاط سے سنبھالنے کے لیے تیز نظر، پھرتیلے ہاتھوں، اور حد سے زیادہ تحمل اور یکسوئی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کام کو کرنے کے لیے، مردوں کے مقابلے عورتوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس بات کا اندازہ آپ اس طرح سے لگا سکتے ہیں کہ سیزن کے دوران، پڑوسی گاؤوں سے خواتین زرعی مزدوروں کو، کوناناتالی لانے کے لیے آٹورکشہ کا انتظام کیا جاتا ہے۔

ہر دن رتنوّا، پرمیشپّا پکّی رپّا جدر کے کھیت میں کام کرتی ہیں۔ جدر ایک زمیندار ہیں، جو امبیگا برادری (دیگر پس ماندہ ذات یا او بی سی زمرہ میں درج فہرست) سے آتے ہیں۔ رتنوّا پر جدر کا ڈیڑھ لاکھ روپے کا قرض ہے۔ رتنوّا کہتی ہیں کہ وہ جدر سے جو پیسے قرض لیتی ہیں اسے ان کے کام کی پیشگی ادائیگی مانی جاتی ہے۔ اس میں سود شامل نہیں ہوتا۔

رتنوّا کہتی ہیں، ’’مجھے اب مزدوری نہیں ملتی ہے۔ زمیندار ایک ریکارڈ [کام کے دنوں کی تعداد] رکھتا ہے اور قرض کی ادائیگی کے طور پر میری مزدوری رکھ لیتا ہے۔ ہم کھیت میں کام کرکے اپنا قرض چُکاتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر پھر سے قرض لیتے ہیں۔ اس لیے، ہم قرض لیتے رہتے ہیں اور ادا کرتے رہتے ہیں۔‘‘

Left: Pollen powder is applied on the stigma of a tomato plant flower from a ring. Right : Ratnavva plucks the ‘crossed’ tomatoes, which will be harvested for the seeds
PHOTO • S. Senthalir
Left: Pollen powder is applied on the stigma of a tomato plant flower from a ring. Right : Ratnavva plucks the ‘crossed’ tomatoes, which will be harvested for the seeds
PHOTO • S. Senthalir

بائیں: ٹماٹر کے پودے کے پھول کے رحم گل پر انگوٹھی سے زرگل بکھیرا جاتا ہے۔ دائیں: رتنوّا ’کراسڈ‘ ٹماٹر توڑتی ہیں، جسے بیج کے لیے رکھا جائے گا

رتنوا کے لیے، سب سے مشکل وقت مانسون کا ہوتا ہے۔ مانسون جولائی سے ستمبر تک رہتا ہے اور اس وقت بھنڈی اور ککڑی کے پودے میں زیرگی ہوتی ہے۔ کھیرے کی افزائش کے لیے، بغیر آرام کیے کم از کم چھ گھنٹے تک لگاتار کام کرنا پڑتا ہے۔ بھنڈی کی کلیوں کی سطحیں تیز ہوتی ہیں جو انگلیوں کو زخمی کر دیتی ہیں۔

اگست میں، میں رتنوّا سے جس دن ملا تھا اس وقت انہوں نے اپنے بیٹے کے ناخن کا ایک ٹکڑا، اپنے انگوٹھے سے چپکایا تھا، کیوں کہ بھنڈی کی کلیوں کی پرتوں کو چھیلنے کے لیے انہیں تیز دھار کی ضرورت تھی۔ انہوں نے دوسرے کھیت میں کام کرنے کے لیے پرمیشپّا کے کام سے دو دنوں کی چھٹی لی تھی۔ رتنوّا کا ۱۸ سالہ بیٹا لوکیش اس کھیت میں کام کرتا ہے، لیکن اس کے بیمار ہو جانے کے سبب رتنوا اس کی جگہ کام کرنے گئیں۔ لوکیش نے اس قرض کو ختم کرنے میں اپنی ماں کی مدد کے لیے کام کرنا شروع کیا تھا، جسے انہوں نے لوکیش کے کالج کی فیس کے لیے (۳ ہزار روپے) قرض لیے تھے۔

حالانکہ، رتنوّا ہی چھ رکنی اپنی فیملی کا پورا خرچ برداشت کرتی ہیں۔ اپنے شوہر، ساس، کالج جانے والے تین بچوں، اور خود کے روزمرہ کے خرچوں کو پورا کرنے کے علاوہ، وہ اپنے بیمار شوہر کی مہنگی دواؤں کا خرچ بھی برداشت کرتی ہیں۔

اکیلے اگست میں ہی انہوں نے زمیندار سے، اپنے شوہر کے علاج کے لیے ۲۲ ہزار روپے قرض لیے تھے۔ ان کے شوہر کو پیلیا (یرقان) ہو گیا تھا، جس سے ان کی پلیٹ لیٹس کی گنتی کافی نیچے چلی گئی تھی اور بلڈ ٹرانس فیوژن کرونا پڑا تھا۔ ایسی سہولیات والا سب سے قریبی اسپتال ان کے گاؤں سے ۳۰۰ کلومیٹر دور، منگلورو میں ہے۔

ضرورت پڑنے پر، زمیندار انہیں پیسے دے دیتا ہے۔ رتنوّا کہتی ہیں، ’’میں کھانا، علاج اور روزمرہ کی ضرورتوں کے لیے قرض لیتی ہوں۔ وہ ہمارے مسائل کو تھوڑا بہت سمجھتے ہیں اور ہمیں پیسے قرض دیتے ہیں۔ میں صرف وہاں [کام کرنے کے لیے] جاتی ہوں، اور کہیں نہیں جاتی۔ میں ابھی تک پورا پیسہ ادا نہیں کر پائی۔ اکیلے اپنے دَم پر میں کتنا ادا کر سکتی ہوں؟‘‘

Left: Ratnavva looks for flowers of the okra plants to pollinate them. Right: Her bright smile belies her physically strenuous labour over long hours
PHOTO • S. Senthalir
Left: Ratnavva looks for flowers of the okra plants to pollinate them. Right: Her bright smile belies her physically strenuous labour over long hours
PHOTO • S. Senthalir

بائیں: رتنوّا، بھنڈی کے پودوں کے پھولوں کی زیرہ پوشی کرانے کے لیے انہیں تلاش کرتے ہوئے۔ دائیں: ان کی یہ مسکان، کئی گھنٹے تک چلنے والی جسمانی طور سے توڑ دینے والی محنت اور دیگر پریشانیوں کو ڈھانپ لیتی ہے

زمیندار پر پیسے کے اس کبھی نہ ختم ہونے والے انحصار کے سبب، جب کبھی زمیندار کام کے لیے بلاتا ہے، تو انہیں جانا پڑتا ہے۔ ان کے لیے زمیندار سے دہاڑی مزدوری بڑھانے کی بات کرنا بھی آسان نہیں رہ گیا ہے۔ کوناناتالی میں کام کرنے والی پڑوسی گاؤوں کی عورتوں کو، آٹھ گھنٹے کے کام کے یومیہ ۲۵۰ روپے ملتے ہیں، وہیں رتنوّا کو صرف ۲۰۰ روپے ہی ملتے ہیں، چاہے وہ دن میں جتنے بھی گھنٹے کام کریں۔

وہ بتاتی ہیں، ’’اس لیے، جب بھی وہ مجھے کام پر بلاتے ہیں، تو مجھے جانا پڑتا ہے۔ کبھی کبھی صبح چھ بجے سے کام شروع ہو جاتا ہے اور شام سات بجے تک چلتا ہے۔ اگر کراسنگ کا کوئی کام نہیں ہے، تو مجھے گھاس کاٹنے کے لیے روزانہ صرف ۱۵۰ روپے ملتے ہیں۔ اگر میں پیسے قرض لیتی ہوں، تو میں کھچ نہیں کہہ سکتی۔ مجھے وہ جب بھی بلاتے ہیں، جانا پڑتا ہے۔ میں بڑھا کر مزدوری نہیں مانگ سکتی۔‘‘

صرف قرض کے سبب ہی رتنوّا کی محنت کا فائدہ نہیں اٹھایا جاتا ہے۔ مختلف مواقع پر، رتنوّا کو لنگایت فیملی کے کام کرنے کے لیے بلایا جاتا ہے۔ اوکّالو پدھتی (جسے بٹّی چکری ، ’بغیر اجرت والی محنت‘ بھی کہا جاتا ہے) صدیوں پرانی ذات پر مبنی روایت ہے۔ حالانکہ، یہ غیر قانونی ہے، لیکن کوناناتالی میں اس کو آج بھی مانا جاتا ہے۔ اس روایت میں، کسی مڈیگا فیملی کو لنگایت برادری کی ایک فیملی سے باندھ دیا جاتا ہے، جو سماج میں اثرو رسوخ رکھنے والی او بی سی برادری ہے۔ اس کے تحت، مڈیگا فیملی کو لنگایت فیملی کے گھر میں مفت میں کام کرنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔

رتنوّا کہتی ہیں، ’’چاہے شادی ہو یا کوئی تقریب ہو یا جب ان کے گھر میں کسی کی موت ہو جاتی ہے، تو ہمیں ان کا گھر صاف کرنا پڑتا ہے۔ اسے کرنے میں پورا دن لگ جاتا ہے۔ سارا کام ہمیں ہی کرنا ہوتا ہے۔ اگر شادی ہوتی ہے، تو ہم پورے آٹھ دنوں تک کام کرتے ہیں، لیکن اس کے بعد بھی وہ ہمیں اپنے گھر کے اندر آنے نہیں دیتے؛ وہ ہمیں باہر ہی کھڑا رکھتے ہیں اور تھوڑا مرمرے اور چائے دے دیتے ہیں۔ وہ ہمیں تھالی بھی نہیں دیتے۔ ہم اپنے گھر سے تھالی لیکر آتے ہیں۔ کبھی کبھی وہ ہمارے کام کے بدلے ہمیں ایک میمنا یا بچھڑا دے دیتے ہیں، لیکن وہ ہمیں پیسے نہیں دیتے ہیں۔ جب ان کے مویشی مر جاتے ہیں، تو وہ ہمیں لاش اٹھانے کے لیے بلاتے ہیں۔‘‘

چار سال پہلے، جب اُس لنگایت فیملی کے ایک رکن کی شادی ہوئی، تو رتنوّا کو ذات پر مبنی روایت کے مطابق ایک جوڑی نئی چپل خریدنی تھی، اس کی پوجا کرنی تھی، اور دولہے کو تحفہ میں دینا تھا۔ کچھ سال پہلے، جب بہت کوششوں کے بعد بھی رتنوّا کو اپنی مزدوری کے پیسے نہیں ملے، تو انہوں نے ان کے لیے کام کرنا بند کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے فیصلے سے لنگایت فیملی ناراض ہو گئی۔

Left: Ratnavva at home in Konanatali. Right: Her daughter Suma walks through their land with her cousin, after rains had washed away Ratnavva's okra crop in July
PHOTO • S. Senthalir
Left: Ratnavva at home in Konanatali. Right: Her daughter Suma walks through their land with her cousin, after rains had washed away Ratnavva's okra crop in July
PHOTO • S. Senthalir

بائیں: کوناناتالی میں واقع اپنے گھر میں رتنوّا۔ دائیں: جولائی میں بھاری بارش کے سبب بھنڈی کی فصل برباد ہونے کے بعد، رتنوّا کی بیٹی سُما اپنی چچیری بہن کے ساتھ اپنے کھیت میں کھڑی ہے

اس سال، پرمیشپّا سے کچھ پیسے لے کر، رتنوّا نے گاؤں میں آدھا ایکڑ زمین میں بھنڈی اور مکئی لگائی تھی۔ اس زمین کو حکومت نے رتنوّا کے شوہر کے نام الاٹ کیا تھا۔ حالانکہ، جولائی میں بارش نے قہر برپا کیا اور کوناناتالی میں مڈگا-مسور جھیل کے کنارے مڈیگا برادری کے لوگوں کو فراہم کی گئی زمین کے سبھی چھوٹے ٹکڑے سیلاب میں ڈوب گئے۔ وہ کہتی ہیں، ’’اس سال ہریجنوں [مڈیگا] کے کھیتوں میں بھنڈی لگائی گئی تھی، لیکن سب کچھ پانی میں ڈوب گیا۔‘‘

رتنوّا کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے کوئی ریاستی نظام آگے نہیں آیا۔ ایک بے زمین مزدور کے طور پر انہیں کسانوں کو ملنے والی سرکاری فلاحی امداد کو حاصل کرنے والوں میں شمار نہیں کیا جاتا ہے۔ انہیں نہ تو اپنی فصل کا معاوضہ ملا ہے اور نہ ہی وہ ریاست کے ذریعے جسمانی طور پر معذوری کے شکار لوگوں کو دیے جانے والے ایک ہزار روپے کے ماہانہ بھتّہ پر اپنا دعوی کر سکتی ہیں۔ حالانکہ، ان کے پاس معذوری کا سرٹیفکیٹ بھی ہے۔

دن کے لمبے گھنٹوں تک سخت جسمانی محنت کرنے کے باوجود، پیسوں کی کمی کے سبب رتنوّا کو مائیکرو فائنانس کمپنیوں سے قرض لینے کے لیے مجبور ہونا پڑا ہے۔ اس سے وہ قرض کے دلدل میں اور زیادہ ڈوب گئی ہیں۔ پرمیشپّا سے لیے قرض کے علاوہ، ان پر تقریباً دو لاکھ روپے کا قرض ہے۔ اس پر ۲ سے ۳ فیصد کا سود الگ سے چڑھتا ہے۔

گزشتہ دو سالوں میں انہوں نے اپنے گھر میں ایک کمرہ بنوانے، کالج کی فیس، اور علاج کے خرچ کے لیے کم از کم ۱۰ الگ الگ ذرائع سے قرض لیے ہیں۔ روزمرہ کے اخراجات کے لیے، وہ پیسے والے لنگایت کنبوں کی عورتوں کے پاس جاتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’پچھلے سال، میں [تمام ذرائع سے] قرض لیے گئے پیسوں پر ہر مہینے ۲۶۵۰ روپے کا سود دے رہی تھی۔ جب سے کووڈ۔۱۹ لاک ڈاؤن شروع ہوا ہے، میرے پاس سود ادا کرنے کے بھی پیسے نہیں ہیں؛ لیکن پھر بھی میں ہر مہینے خرچوں کے لیے قرض لینے کو مجبور ہوں۔‘‘

قرض کے بوجھ تلے دبنے کے باوجود بھی رتنوا نے اپنے بچوں کو کالج میں پڑھانے کا پورا عزم کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی یقینی بنایا ہے کہ ان کی بیٹی سُما، بٹّی چکری کی روایت کو آگے نہیں بڑھائے گی۔ وہ کہتی ہیں، ’’نہ تو میرا پیر ٹھیک تھا اور نہ ہی میں مضبوط حالت میں تھی۔ اس لیے میں اس حالت سے بھاگ نہیں سکتی تھی۔ لیکن میرے بچوں کو اس سے [غلامی سے] آزاد ہونا ہی تھا، ورنہ انہیں اسکول چھوڑنا پڑتا۔ اس لیے، میں بس کام کرتی رہی۔‘‘ تمام مشکلوں سے گھرا ہونے کے بعد بھی رتنوّا کا کہنا ہے، ’’میں انہیں تب تک پڑھاؤں گی، جب تک وہ پڑھنا چاہیں گے۔‘‘

مترجم: محمد قمر تبریز

S. Senthalir

S. Senthalir is a Reporter and Assistant Editor at the People's Archive of Rural India.

Other stories by S. Senthalir
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez