رشی کیش گھڑگے ۵ اگست کو جاپان میں اپنا اولمپک سلور میڈل لینے کے لیے پوڈیم پر چڑھ رہے پہلوان، روی دہیا کو دیکھ کر جذباتی ہو گئے تھے۔ کافی دنوں کے بعد انہیں خوشیوں سے بھرا اس قسم کا پر لطف نظارہ دیکھنے کو ملا تھا۔

مارچ ۲۰۲۰ میں جب کووڈ۔۱۹ کی شروعات ہوئی، تب سے لیکر اب تک کے ان ۱۸ مہینوں میں مہاراشٹر کے لاتور ضلع کے ۲۰ سالہ پہلوان، رشی کیش مایوسی کے شکار ہیں۔ اور ایسا نہیں لگتا کہ مستقبل قریب میں یہ حالت بہتر ہونے والی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’مایوسی بھرا ماحول ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ وقت میرے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔‘‘

معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ وہ سب سے بنیادی مسئلہ اٹھاتے ہیں: ’’کُشتی اور جسمانی فاصلہ پر ایک ساتھ کیسے عمل کیا جا سکتا ہے؟‘‘

خود کو خوش رکھنے کے لیے، رشی کیش نے عثمان آباد شہر کے مضافات میں واقع پہلوانوں کی ایک اکادمی، ہٹلئی کُشتی سنکُل میں اپنے دوستوں کے ساتھ ٹوکیو ۲۰۲۰ اولمپکس دیکھا۔ ۸ اگست کو جب ان کھیلوں کا اختتام ہوا، تو ہندوستان کی جھولی میں سات تمغے آئے – جن میں سے دو کُشتی کو ملے تھے۔

دہیا کو سلور میڈل اور بجرنگ پونیا کو برونز میڈل بالترتیب مردوں کی ۵۷ کلو اور ۶۵ کلو کے زمرہ کی فری اسٹائل کشتی میں ملے – جس نے غریب گھروں سے تعلق رکھنے والے رشی کیش جیسے پہلوانوں کو کافی حوصلہ بخشا ہے۔ ۲۳ سالہ دہیا ہریانہ کے نہری گاؤں کے ایک بٹائی دار کسان کے بیٹے ہیں۔ سلور میڈل جیتنے کے بعد دہیا نے ٹوکیو میں پریس ٹرسٹ آف انڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فیملی نے انہیں کامیاب دیکھنے کے لیے کافی قربانیاں دی ہیں۔ لیکن ان کے گاؤں میں بنیادی سہولیات کی کمی ہے، جب کہ یہ گاؤں ابھی تک تین اولمپک کھلاڑی پیدا کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اسے ہر ایک چیز کی ضرورت ہے... اچھے اسکولوں سے لیکر کھیل کی تمام سہولیات تک۔‘‘

Left: Rushikesh Ghadge moved from Latur to Osmanabad to train in wrestling. Right: Practice session in the wrestling pit at Hatlai Kusti Sankul in Osmanabad
PHOTO • Parth M. N.
Left: Rushikesh Ghadge moved from Latur to Osmanabad to train in wrestling. Right: Practice session in the wrestling pit at Hatlai Kusti Sankul in Osmanabad
PHOTO • Parth M. N.

بائیں: رشی کیش گھڑگے کُشتی سیکھنے کے لیے لاتور سے عثمان آباد آ گئے تھے۔ دائیں: عثمان آباد کے ہٹلئی کُشتی سنکل کے اکھاڑہ میں کشتی کی مشق

رشی کیش کو معلوم ہے کہ دہیا کس بارے میں بات کر رہے ہیں۔ پہلوانی کا اپنا شوق پورا کرنے کی خاطر وہ تین سال پہلے، لاتور کے اپنے ٹاکا گاؤں سے ۶۵ کلومیٹر دور واقع عثمان آباد کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ اپنے اس سفر کے بارے میں بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں، ’’گھر پر کوئی سہولت نہیں ہے۔ عثمان آباد میں اچھے کوچ ہیں، اور میرے پاس یہاں کامیاب ہونے کا [ایک کامیاب پہلوان کے طور پر] بہتر موقع ہے۔‘‘

کولی برادری سے تعلق رکھنے والے رشی کیش کے لیے یہاں سے کہیں اور جانے کا فیصلہ آسان نہیں تھا۔ ان کے والد بے روزگار تھے اور ماں کشیدہ کاری کے کام سے ہر مہینے جو ۷۔۸ ہزار روپے کماتی تھیں، اسی پیسے سے ان کے گھر کا خرچ چلتا تھا۔ رشی کیش بتاتے ہیں، ’’خوش قسمتی سے، مجھے یہاں ایک ایسے کوچ مل گئے جنہوں نے پہلوانی کی اس اکادمی کے ہاسٹل میں مجھے مفت میں رہنے کی اجازت دے دی۔ لہٰذا، میری ماں صرف میری بنیادی ضرورتوں کے لیے پیسے بھیجتی تھیں [۲۔۳ ہزار روپے]۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔‘‘

ان کے کوچ اور ہٹلئی کُشتی سنکُل چلانے والے، ۲۸ سالہ کرن جاولگے کہتے ہیں کہ عثمان آباد آنے کے بعد رشی کیش نے کافی محنت کی اور امیدوں پر کھرا اترا۔ ’’ضلعی سطح پر ہونے والے ٹورنامنٹوں میں اس نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اس کا اگلا قدم قومی سطح کے لیے تھا۔ اگر آپ ان ٹورنامنٹوں میں اچھا مظاہرہ کرتے ہیں تو اسپورٹس کوٹہ کے ذریعے سرکاری نوکری ملنے کا موقع مل جاتا ہے۔‘‘

لیکن وبائی مرض نے زندگی پر ایک طرح سے بریک لگا دی۔ رشی کیش کی ماں کا کام چھوٹ گیا، اور کُشتی کے ٹورنامنٹ بھی بند ہو گئے، جس کے ذریعے وہ کچھ آمدنی حاصل کر سکتے تھے۔ جاولگے کہتے ہیں، ’’وبائی مرض کے دوران کئی پہلوانوں نے کُشتی چھوڑ کر مزدوری کا کام کرنا شروع کر دیا۔ ان کے اندر اسے [ٹریننگ کو] جاری رکھنے کے لیے پیسے نہیں تھے۔‘‘

Many students of the wrestling academy have stopped training because they cannot afford the expensive diet anymore
PHOTO • Parth M. N.

کُشتی کی اکادمی کے کئی شاگرد نے ٹریننگ چھوڑ دی کیوں کہ اب ان کے پاس مہنگی غذا کے لیے پیسے نہیں تھے

پہلوان کے لیے صحت مند غذا کو برقرار رکھنا ضروری ہے – اور یہ مہنگی بھی ہوتی ہے۔ جاولگے بتاتے ہیں، ’’ایک پہلوان ہر مہینے اوسطاً چار کلو بادام کھاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسے روزانہ ڈیڑھ کلو دودھ اور آٹھ انڈے چاہیے۔ صرف کھانے پر ہر مہینے ۵ ہزار روپے کا خرچ آتا ہے۔ میرے کئی شاگردوں نے کشتی چھوڑ دی ہے کیوں کہ اب ان کے پاس اتنی مہنگی غذا کے لیے پیسے نہیں ہیں۔‘‘ پہلے ان کی اکادمی میں ۸۰ شاگرد ہوتے تھے، لیکن اب ان کے پاس صرف ۲۰ شاگرد ہی بچے ہیں۔

رشی کیش ان شاگردوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے امید کا دامن نہیں چھوڑا ہے۔

اپنا خرچ چلانے کے لیے وہ اکادمی کے قریب واقع تالاب میں مچھلی پکڑنے جاتے ہیں اور ان مچھلیوں کو آس پاس کے ہوٹلوں میں فروخت کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں، ’’میں نے عثمان آباد کی ایک کپڑا فیکٹری میں پارٹ ٹائم نوکری بھی شروع کر دی ہے۔ کل ملا کر، میں ہر مہینے ۱۰ ہزار روپے کما لیتا ہوں۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس میں سے وہ ۵۰۰۰ روپے اپنے پاس رکھتے ہیں اور بقیہ پیسے گھر بھیج دیتے ہیں۔ رشی کیش عثمان آباد کے مکنی گاؤں میں واقع بھارت ودیالیہ میں بی اے سال دوئم کے طالب علم بھی ہیں۔ ان کے پاس اسمارٹ فون نہیں ہے، اس لیے وہ اپنے ایک دوست کے فون پر آن لائن لکچر سنتے ہیں۔

رشی کیش کی ماں کو اپنے بیٹے کی اس جدوجہد کا علم نہیں ہے۔ رشی کیش بتاتے ہیں، ’’ٹورنامنٹ نہ ہونے کی وجہ سے میری ماں پہلے سے ہی پریشان ہیں، اس لیے میں انہیں مزید پریشانی میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ میں اپنے خوابوں کو زندہ رکھنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں۔ میں روزانہ مشق کرتا ہوں تاکہ وبائی مرض کے ختم ہونے پر میں رابطے سے باہر نہ رہوں۔‘‘

Tournaments used to be a good source of income for aspiring wrestlers says Kiran Jawalge (left), who coaches the Hatlai Kusti Sankul students
PHOTO • Parth M. N.
Tournaments used to be a good source of income for aspiring wrestlers says Kiran Jawalge (left), who coaches the Hatlai Kusti Sankul students
PHOTO • Parth M. N.

ہٹلئی کُشتی سنکل میں شاگردوں کو کوچنگ دینے والے، کرن جاولگے (بائیں) کہتے ہیں کہ ٹورنامنٹ نئے ابھرتے ہوئے پہلوانوں کے لیے آمدنی کا ایک اچھا ذریعہ ہوا کرتے تھے

پورے دیہی مہاراشٹر کے پہلوانوں کا بھی وہی خواب ہے جو رشی کیش کا ہے – سبھی کھلاڑی کسانوں اور زرعی کارکنوں کے بچے ہیں۔ یہ کھیل اس ریاست میں کافی مقبول ہے، جہاں ہزاروں لوگ، بعض دفعہ لاکھوں ، اکھاڑہ میں ان پہلوانوں کو کُشتی لڑتے ہوئے دیکھنے آتے ہیں۔

ان اکھاڑوں میں عام طور پر نومبر سے مارچ تک، مختلف عمر کے پہلوانوں کے لیے کُشتی کے ٹورنامنٹ منعقد کیے جاتے ہیں۔ جاولگے کہتے ہیں، ’’اگر آپ نے ان چھ مہینوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، تو آپ انعام میں لاکھوں روپے جیت سکتے ہیں۔ اس سے مہنگی غذا کا انتظام کرنے میں مدد ملتی ہے۔‘‘ لیکن کووڈ۔۱۹ شروع ہونے کے بعد، پہلوانوں کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بند ہو گیا۔ کوچ جاوگلے کہتے ہیں، ’’مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں صرف کرکٹ اور کچھ حد تک ہاکی کی ہی فکر رہتی ہے۔ لیکن کچھ روایتی کھیل جیسے کہ کُشتی اور کھوکھو کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔‘‘

قومی کھوکھو ٹیم میں منتخب ہونے سے پہلے، عثمان آباد شہر کی ۲۹ سالہ ساریکا کالے کو بین ریاستی میچ کھیلنے کے لیے بغیر رزرویشن کے ٹرین سے سفر کرنا پڑتا اور کمیونٹی ہال میں ٹھہرنا پڑتا تھا۔ وہ بتاتی ہیں، ’’سفر کے دوران ہم اپنا کھانا ساتھ لیکر چلتے تھے۔ کئی بار تو ہمیں ٹوائلیٹ کے بغل میں بیٹھ کر سفر کرنا پڑا کیوں کہ تب ہمارے پاس ٹکٹ نہیں ہوتے تھے۔‘‘

کھوکھو، جس کی ابتدا مہاراشٹر میں ہوئی ، روایتی ہندوستانی کھیلوں میں مقبول ہے۔ کھوکھو ٹیم نے ساریکا کی کپتانی میں گوہاٹی، آسام میں منعقد ہونے والے ۲۰۱۶ کے جنوبی ایشیائی کھیلوں میں شرکت کی تھی۔ سال ۲۰۱۸ میں لندن میں منعقد ہونے والے دوطرفہ ٹورنامنٹ میں انہوں نے انگلینڈ کے خلاف ہندوستانی ٹیم کی طرف سے کھیلا تھا۔ اگست ۲۰۲۰ میں، حکومت ہند نے انہیں باوقار ارجن ایوارڈ سے نوازا۔ ساریکا کہتی ہیں، ’’گزشتہ دہائی میں زیادہ سے زیادہ لڑکیوں نے کھوکھو کھیلنا شروع کر دیا ہے۔‘‘

Left: Sarika Kale is a former national kho-kho captain and an Arjuna awardee. Right: A taluka sports officer now, Sarika trains and mentors kho-kho players
PHOTO • Parth M. N.
Left: Sarika Kale is a former national kho-kho captain and an Arjuna awardee. Right: A taluka sports officer now, Sarika trains and mentors kho-kho players
PHOTO • Parth M. N.

بائیں: ساریکا کالے قومی کھوکھو ٹیم کی سابق کپتان ہیں جنہیں ارجن ایوارڈ مل چکا ہے۔ دائیں: اب وہ تعلقہ کی اسپورٹس آفیسر ہیں اور کھو کھو کھلاڑیوں کو ٹریننگ دیتی ہیں

اب عثمان آباد ضلع کے تلجاپور تعلقہ میں بطور اسپورٹس آفیسر کام کرتے ہوئے، ساریکا نوجوان کھلاڑیوں کو ٹریننگ دیتی ہیں۔ کووڈ۔۱۹ شروع ہونے کے بعد انہوں نے دیکھا کہ کھلاڑی دھیرے دھیرے ٹریننگ چھوڑتے جا رہے ہیں۔ وہ بتاتی ہیں، ’’ان میں سے زیادہ تر لڑکیاں ہیں جو غریب گھروں سے تعلق رکھتی ہیں۔ گاؤوں میں لڑکیوں کی کھیل کے لیے حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔ وبائی مرض نے والدین کو اپنی بچیوں کو کھیلوں سے باہر نکالنے کا ایک اچھا بہانہ دے دیا ہے۔‘‘

ساریکا کہتی ہیں کہ وبائی مرض کے دوران ٹریننگ سے دور رہنا نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔ وہ بتاتی ہیں، ’’مارچ ۲۰۲۰ کے بعد، پریکٹس تقریباً پانچ مہینے سے مکمل طور پر بند تھی۔ اس کے بعد جب کچھ کھلاڑی واپس لوٹے، تو ان کا فٹنس لیول کافی کم ہو چکا تھا۔ پھر، ہم نے جب نئے سرے سے ٹریننگ شروع کی، تو دوسری لہر آ گئی۔ ہم ایک بار پھر کچھ مہینوں کے لیے پریکٹس نہیں کر سکے۔ جولائی [۲۰۲۱] میں ہم نے دوبارہ شروع کیا۔ رک رک کر پریکٹس سیشن شروع کرنا کسی بھی طرح صحیح نہیں ہے۔‘‘

عمر کے لحاظ سے ہونے والے ٹورنامنٹوں میں حصہ لینے والے کھلاڑی مناسب پریکٹس نہ کرنے کی وجہ سے ہار جاتے ہیں۔ ساریکا بتاتی ہیں، ’’۱۴ سال سے کم عمر کا کھلاڑی میچ کھیلے بغیر ۱۷ سال کی عمر والی کیٹیگری میں چلا جائے گا۔ وہ اپنا بیش قیمتی سال کھو رہے ہیں۔ کھوکھو کھیلنے والوں کے لیے ۲۱ سے ۲۵ سال کی عمر ترقی کرنے والی عمر ہوتی ہے، اور عمر کے لحاظ سے گروپ میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ان کا انتخاب سب سے اونچی [قومی] سطح پر ہوتا ہے۔‘‘

وبائی مرض کی وجہ سے ان کا مستقبل غیر یقینی کا شکار ہے اور دیہی مہاراشٹر میں جن کھلاڑیوں نے اپنی محنت سے بلندی حاصل کی ہے، اب اس پر پانی پھرنے لگا ہے۔

Promotion of kho-kho in Osmanabad district has brought more players to the sport, but Covid-19 is affecting the progress of recent years
PHOTO • Parth M. N.

عثمان آباد ضلع میں کھوکھو کے فروغ سے مزید کھلاڑی اس جانب رخ کر رہے ہیں، لیکن کووڈ۔۱۹ حالیہ برسوں میں ہونے والی پیش رفت پر اثر ڈال رہا ہے

ساریکا نے دو دہائی قبل جب کھوکھو کھیلنا شروع کیا تھا، تو انہوں نے اپنے والدین کو اس کے بارے میں بتایا نہیں تھا کیوں کہ وہ اس کی اجازت نہیں دیتے۔ وہ بتاتی ہیں، ’’ادارہ جاتی تعاون بہت کم ملتا ہے اور دیہی علاقوں میں اچھی سہولت کا فقدان ہے۔ لوگ اپنے بچوں کا بہتر مستقبل دیکھنا چاہتے ہیں – میرے والد بھی میرے لیے ایسا ہی چاہتے تھے۔ میں جب بڑی ہو رہی تھی، تو فیملی کے پاس مناسب مقدار میں کھانا بھی نہیں ہوتا تھا۔‘‘ ان کی والد زرعی مزدور کے طور پر کام کرتے تھے، اور ان کی ماں ایک گھریلو کارکن تھیں۔

ساریکا کہتی ہیں کہ لڑکیوں کے لیے کھیلنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ ’’سماج کی سوچ یہی ہے کہ لڑکیوں کو اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرنی چاہیے اور باورچی خانہ کو سنبھالنا چاہیے۔ فیملی کو یہ بات بالکل بھی پسند نہیں ہے کہ کوئی لڑکی چھوٹے کپڑے پہن کر کھیلوں میں حصہ لے۔‘‘ لیکن ساریکا نے جب پہلی بار اپنے اسکول میں یہ کھیل دیکھا، تو انہیں کھوکھو کھیلنے سے کوئی بھی نہیں روک سکا۔ وہ بتاتی ہیں، ’’مجھے یاد ہے کہ میں اس سے کتنا مسحور ہو گئی تھی۔ مجھے ایک اچھے کوچ مل گئے جنہوں نے میری کافی مدد کی۔‘‘

ان کے کوچ، چندر جیت جادھو کھوکھو فیڈریشن آف انڈیا کے جوائنٹ سکریٹری ہیں۔ وہ عثمان آباد میں رہتے ہیں اور وہاں پر انہوں نے اس کھیل کو فروغ دینے میں بڑا رول ادا کیا ہے جس کی وجہ سے یہ کھوکھو کا مرکز بنا ہوا ہے۔ عثمان آباد شہر میں دو کوچنگ سنٹر ہیں اور پورے ضلع میں تقریباً ۱۰۰ اسکول اس کھیل کو فروغ دے رہے ہیں۔ جادھو کہتے ہیں: ’’گزشتہ دو دہائی کے دوران، عثمان آباد کے ۱۰ کھلاڑی، ہر عمر کے گروپ میں، قومی سطح پر بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ جیت چکے ہیں۔ چار خواتین ریاستی حکومت کا شیو چھترپتی ایوارڈ جیت چکی ہیں اور اسپورٹس کوچ کے طور پر میں نے بھی یہ ایوارڈ جیتا ہے۔ ہمارے ایک کھلاڑی کو ارجن ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔‘‘

ساریکا کا تجربہ بتاتا ہے کہ (کرکٹ یا ہاکی کے علاوہ) کھیل کے تئیں گاؤوں کے لوگوں کا نظریہ بدل رہا ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’بہت کم لوگ کھیل کو وقت کا زیاں سمجھتے ہیں۔‘‘

Left: Ravi Wasave (in grey t-shirt) from Nandurbar wants to excel in kho-kho. Right: More girls have started playing the sport in the last decade
PHOTO • Parth M. N.
Left: Ravi Wasave (in grey t-shirt) from Nandurbar wants to excel in kho-kho. Right: More girls have started playing the sport in the last decade
PHOTO • Parth M. N.

بائیں: نندُربار کے روی وساوے (گرے ٹی شرٹ میں) کھوکھو میں مہارت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دائیں: گزشتہ دہائی میں مزید لڑکیوں نے اس کھیل کو کھیلنا شروع کر دیا ہے

اس کھیل کی ترقی کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مہاراشٹر کے بنیادی طور پر آدیواسی ضلع، نندُربار سے، جو کہ ۶۰۰ کلومیٹر دور ہے، ۱۹ نوجوان کھلاڑی کھوکھو کی ٹریننگ حاصل کرنے کے لیے عثمان آباد آئے ہیں۔ ان میں سے ایک، ۱۵ سالہ روی وساوے ہیں جن کا تعلق بھیل آدیواسی برادری سے ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’گھر کا ماحول اسپورٹس کے لیے سازگار نہیں ہے۔ عثمان آباد نے کئی کھوکھو چمپئن پیدا کیے ہیں۔ میں بھی ان میں سے ایک بننا چاہتا ہوں۔‘‘

ساریکا کو اس بات میں ذرا بھی شک نہیں ہے کہ اگر وبائی مرض نہیں آتا، تو روی ۲۰۲۰ میں قومی سطح پر کھیل رہے ہوتے۔ روی کہتے ہیں، ’’میرے پاس خود کو ثابت کرنے کے لیے زیادہ وقت نہیں ہے۔ میرے ماں باپ کے پاس پانچ ایکڑ زمین ہے، جو بنجر پڑی ہوئی ہے۔ وہ یومیہ مزدوری کرکے اپنا گزارہ کرتے ہیں۔ انہوں نے مجھے اپنا شوق پورا کرنے کی اجازت دیکر ایک بڑا خطرہ مول لیا ہے۔‘‘

روی بتاتے ہیں کہ ان کے ماں باپ ان کے لیے سب سے بہتر انتظام کرنا چاہتے ہیں، لیکن انہیں ڈر ہے کہ اگر حالات یہی رہے تو پتہ نہیں روی کا کیا ہوگا۔ روی فی الحال عثمان آباد کے ڈائٹ کالج کلب سے ٹریننگ لے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’انہیں لگتا ہے کہ اگر میں کسی ٹورنامنٹ میں حصہ نہیں لے سکتا تو میرا گھر سے دور رہنا فضول ہے۔ میرے کوچوں نے انہیں دوبارہ بھروسہ دلایا ہے۔ لیکن مجھے معلوم ہے کہ اگر ٹورنامنٹ جلد ہی شروع نہیں ہوئے، تو انہیں دوبارہ فکر ہونے لگے گی۔ میں کھوکھو میں مہارت حاصل کرنا چاہتا ہوں، ایم پی ایس سی [ریاستی سول سروس] امتحان میں شریک ہونا چاہتا ہوں اور اسپورٹس کوٹہ سے نوکری حاصل کرنا چاہتا ہوں۔‘‘

روی، ساریکا کے نقش قدم پر چلنا چاہتے ہیں جو پورے دیہی مہاراشٹر میں نوجوان کھوکھو کھلاڑیوں کے لیے ایک رول ماڈل ہیں۔ ساریکا بھی اس بات سے واقف ہیں کہ انہوں نے کھوکھو کھلاڑیوں کی ایک پوری نسل کی حوصلہ افزائی کی ہے، لیکن انہیں اس کھیل پر وبائی مرض کے اثرات کا خوف بھی ستا رہا ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’زیادہ تر بچوں کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ وبائی مرض کے ختم ہونے کا انتظار کر سکیں۔ اسی لیے میں باصلاحیت اور پس ماندہ بچوں کی مالی مدد کرتی ہوں، اس امید میں کہ وہ اس کی وجہ سے اس کھیل کو چھوڑیں گے نہیں۔‘‘

اسٹوری کی اس سیریز کو، رپورٹر کو آزادانہ صحافتی گرانٹ کے توسط سے پولٹزر سنٹر کی م دد حاصل ہے۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Parth M. N.

Parth M.N. is a 2017 PARI Fellow and an independent journalist reporting for various news websites. He loves cricket and travelling.

Other stories by Parth M. N.
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez