وہ روزانہ صبح میں ۳ بجے نیند سے بیدار ہو جاتی ہیں۔ انہیں صبح کے ۵ بجے تک کام پر ہونا ہوتا ہے اور اس سے پہلے اپنے سبھی گھریلو کاموں کو پورا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے کام کرنے کے وسیع، اور گیلے مقام تک کی دوری بہت زیادہ نہیں ہے، جہاں وہ پیدل چل کر جاتی ہیں۔ وہ اپنے گھروں سے نکلتی ہیں، سمندر تک پہنچتی ہیں – اور اس کے اندر غوطے لگانا شروع کر دیتی ہیں۔

کبھی کبھی وہ کشتی سے نزدیک کے جزیروں پر پہنچتی ہیں – اور وہاں غوطے لگاتی ہیں۔ وہ اس کام کو اگلے ۷-۱۰ گھنٹوں تک بار بار کرتی ہیں۔ ہر ایک غوطے کے بعد جب وہ پانی سے اوپر آتی ہیں، تو ان کے ہاتھوں میں سمندری کائی ہوتی ہے، گویا ان کی زندگی اسی پر ٹکی ہو – یہی حقیقت بھی ہے۔ تمل ناڈو کے رام ناتھ پورم ضلع کے بھارتی نگر کی ماہی گیر برادری کی خواتین کے ذریعے سمندر میں غوطہ لگاکر سمندری پودوں اور کائی کو جمع کرنا ہی ان کی کمائی کا بنیادی ذریعہ ہے۔

کام کے دن، وہ کپڑے اور جالی دار تھیلوں کے ساتھ ’حفاظتی لباس‘ بھی لے کر چلتی ہیں۔ کشتی بان جہاں انہیں سمندری کائی سے بھرے جزیروں پر لے جاتے ہیں، وہیں دوسری طرف یہ خواتین اپنی ساڑیوں کو دھوتی کی طرح ٹانگوں کے درمیان باندھ لیتی ہیں، جالی دار تھیلوں کو اپنی کمر کے چاروں طرف لیپٹتی ہیں، اور اپنی ساڑیوں کے اوپر ٹی شرٹ پہنتی ہیں۔ ’حفاظتی‘ آلات میں شامل ہیں ان کی آنکھوں کے لیے کالے چشمے، انگلیوں پر کپڑے کی پٹیاں لپیٹی ہوئی یا کچھ کے لیے سرجیکل دستانے، اور ربر کی چپلیں تاکہ ان کے پیر تیز اور نکیلی چٹانوں سے کٹ نہ سکیں۔ ان کا استعمال وہ ہر وقت کرتی ہیں، چاہے کھلے سمندر میں ہوں یا جزیروں کے ارد گرد۔

سمندری کائی جمع کرنا اس علاقے کا ایک روایتی پیشہ ہے جو نسلوں سے ماں سے بیٹی کو پاس کیا جاتا رہا ہے۔ کچھ اکیلی اور بے سہارا خواتین کے لیے، یہ آمدنی کا واحد ذریعہ ہے۔

ایک ایسی آمدنی جو تیزی سے کم ہوتی سمندری کائی کے سبب گھٹ رہی ہے، اور درجہ حرارت میں اضافہ، سمندر کی سطح میں اضافہ، بدلتے موسم اور آب و ہوا، اور اس وسیلہ سے حد سے زیادہ استفادہ حاصل کرنے کا نتیجہ ہے۔

’’سمندری کائی کا بڑھنا بہت کم ہو گیا ہے،‘‘ ۴۲ سالہ پی رکّمّا کہتی ہیں۔ یہاں کام کرنے والی دیگر خواتین کی طرح، وہ بھی بھارتی نگر کی رہنے والی ہیں، جو تیروپلّنی بلاک کے مایاکولم گاؤں کے پاس ہے۔ ’’ہمیں اب اتنی مقدار نہیں مل رہی ہے، جتنی پہلے ملا کرتی تھی۔ اب یہ کبھی کبھی ہمیں مہینے میں صرف ۱۰ دنوں کا ہی کام دیتی ہے۔‘‘ اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ سال میں صرف پانچ مہینے ہی ایسے ہوتے ہیں جب خواتین کے ذریعے منظم طریقے سے سمندری کائی جمع کی جاتی ہے، یہ ایک جھٹکا ہے۔ رکّمّا کو لگتا ہے کہ ’’موجیں طاقتور ہو گئی ہیں اور‘‘ دسمبر ۲۰۰۴ کی ’’سونامی کے بعد سمندر کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔‘‘

PHOTO • M. Palani Kumar

سمندری کائی جمع کرنا اس علاقے کا ایک روایتی پیشہ ہے جو ماں سے بیٹی کو پاس کیا جاتا رہا ہے؛ یہاں، یو پنچاورم چٹانوں کے درمیان سے سمندری کائی جمع کر رہی ہیں

ایسی تبدیلی اے موکُپوری جیسی حصید کار کو نقصان پہنچا رہی ہے، جو آٹھ سال کی عمر سے ہی سمندری کائی جمع کرنے کے لیے غوطہ لگا رہی ہیں۔ وہ جب بہت چھوٹی تھیں، تو ان کے والدین کی موت ہو گئی تھی، اور رشتہ داروں نے ان کی شادی ایک شرابی سے کر دی تھی۔ اب ۳۵ سال کی عمر میں موکُپوری کی تین بیٹیاں ہیں، لیکن وہ ابھی بھی اپنے والد کے ساتھ رہتی ہیں، حالانکہ وہ کچھ بھی کمانے اور فیملی کا ہاتھ بنٹانے کی حالت میں نہیں ہے۔

اپنے گھر میں واحد کمانے والی رکن کے طور پر وہ کہتی ہیں کہ اپنی تین بیٹیوں کو آگے پڑھانے میں مدد کرنے کے لیے ’’اب سمندری کائی سے ہونے والی کمائی ناکافی ہے۔‘‘ ان کی سب سے بڑی بیٹی بی کام کی پڑھائی کر رہی ہے۔ دوسری بیٹی کالج میں داخلہ کا انتظار کر رہی ہے۔ سب سے چھوٹی بیٹی چھٹی کلاس میں ہے۔ موکُپوری کو تشویش ہے کہ چیزیں جلد ہی ’’درست ہونے والی نہیں ہیں۔‘‘

وہ اور ان کی ساتھی حصیدہ کار مُتھورئیار ہیں، جنہیں تمل ناڈو میں سب سے پس ماندہ برادری (ایم بی سی) کے طور پر درج فہرست کیا گیا ہے۔ رام ناتھ پورم ماہی گیر یونین کے صدر، اے پلسامی کا اندازہ ہے کہ تمل ناڈو کے ۹۴۰ کلومیٹر کے ساحل پر سمندری کائی جمع کرنے والی خواتین کی تعداد ۶۰۰ سے زیادہ نہیں ہے۔ لیکن وہ جو کام کرتی ہیں، اس پر بہت بڑی آبادی منحصر ہے جو صرف اسی ریاست تک محدود نہیں ہے۔

۴۲ سالہ پی رانی امّا سمجھتی ہیں، ’’ہم جو سمندری کائی جمع کرتے ہیں، اس کا استعمال آگار بنانے میں کیا جاتا ہے۔‘‘ یہ ایک جلیٹن جیسا مادّہ ہے جس کا استعمال غذائی اشیاء کو گاڑھا بنانے کے لیے کیا جاتا ہے۔

یہاں سے حاصل سمندری کائی کا استعمال غذائی صنعت میں، کچھ کھادوں میں ایک مادّہ کے طور پر، فارما کمپنیوں کے ذریعے ادویاتی تیاریوں میں، اور دیگر التزامات میں بھی کیا جاتا ہے۔ خواتین سمندری کائی کو جمع کرکے سکھاتی ہیں، جسے بعد میں مدورئی ضلع کی فیکٹریوں میں پروسیسنگ کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ اس علاقے کی دو اہم قسمیں ہیں – مٹّ کورئی (gracilaria) اور مریکوژُنتو (gelidium amansii)۔ جیلیڈیم کو کبھی کبھی سلاد، پوڈنگ اور جام کی شکل میں پروسا جاتا ہے۔ یہ ان لوگوں کے مفید مانا جاتا ہے جو ڈائیٹنگ کر رہے ہیں اور کبھی کبھی قبض کو دور کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ مٹّ کورئی کا استعمال کپڑے کی رنگائی سمیت دیگر صنعتی التزامات میں بھی کیا جاتا ہے۔

لیکن صنعتوں میں اتنی بڑی سطح پر سمندری کائی کی مقبولیت نے اس سے حد سے زیادہ استفادہ کو بھی جنم دیا ہے۔ مرکزی نمک اور سمندری کیمیاوی تحقیق انسٹی ٹیوٹ (منڈپم کیمپ، رام ناتھ پورم) نے بتایا ہے کہ غیر منظم طریقے سے سمندری کائی کو جمع کرنے کے سبب اس کی دستیابی میں بھاری گراوٹ آئی ہے۔

PHOTO • M. Palani Kumar

پی رانی امّا مریکوژنتو کے ساتھ، جو سمندری کائی کی ایک چھوٹی کھانے لائق قسم ہے

آج کی مقدار اس گراوٹ کو دکھاتی ہے۔ ’’پانچ سال پہلے، ہم ساتھ گھنٹے میں کم از کم ۱۰ کلوگرام مریکوژنتو جمع کر لیتے تھے،‘‘ ۴۵ سالہ ایم امریتم کہتی ہیں، ’’لیکن اب، ایک دن میں ۳-۴ کلو سے زیادہ نہیں ملتا۔ اس کے علاوہ، سمندری کائی کا سائز بھی پچھلے کچھ سالوں میں چھوٹا ہو گیا ہے۔‘‘

اس سے جڑی صنعت بھی سکڑ گئی ہے۔ ۲۰۱۴ کے آخر تک، مدورئی میں اگار کی ۳۷ اکائیاں تھیں، اے بوس کہتے ہیں، جو اس ضلع میں سمندری کائی کی پروسیسنگ کی ایک کمپنی کے مالک ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ آج ایسی صرف ۷ اکائیاں ہیں – اور وہ اپنی کل استعداد کے صرف ۴۰ فیصد پر ہی کام کر رہی ہیں۔ بوس آل انڈیا اگار اور الگینیٹ مینوفیکچررز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر ہوا کرتے تھے – ممبران کی کمی کے سبب یہ تنظیم گزشتہ دو برسوں سے کام نہیں کر رہی ہے۔

’’ہمیں جتنے دنوں تک کام ملتا تھا، اس کی تعداد کم ہو گئی ہے،‘‘ ۵۵ سالہ ایم مریمّا کہتی ہیں، جو سمندری کائی کے لیے چار دہائیوں سے غوطہ لگا رہی ہیں۔ ’’آف سیزن میں ہمیں نوکری کا کوئی دوسرا موقع نہیں ملتا ہے۔‘‘

مریمّا جب ۱۹۶۴ میں پیدا ہوئی تھیں، تو مایا کولم گاؤں ایک سال میں ایسے ۱۷۹ دنوں کی امید کر سکتا تھا جب درجہ حرارت ۳۸ ڈگری سیلسیس یا اس سے زیادہ تک پہنچ جائے۔ سال ۲۰۱۹ میں، ۲۷۱ ایسے گرم دن ہوں گے – یعنی ۵۰ فیصد سے زیادہ کا اضافہ۔ اس سال جولائی میں نیویارک ٹائمز کے ذریعے آن لائن پوسٹ کیے گئے ماحولیاتی اور گلوبل وارمنگ پر ایک انٹریکٹو ٹول سے حساب کتاب کے مطابق، اگلے ۲۵ برسوں میں، یہ علاقہ ایسے ۲۸۶ سے ۳۲۴ دن دیکھ سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سمندر بھی گرم ہو رہے ہیں۔

ان سبھی چیزوں کا بھارتی نگر کے ماہی گیروں سے پرے بھی اثر پڑ رہا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی پر بین سرکاری پینل کی تازہ رپورٹ (آئی پی سی سی) بغیر حمایت کیے ان مطالعات کا ذکر کرتی ہے، جو سمندری کائی کو ماحولیاتی تبدیلی کو کم کرنے کے ممکنہ اہم اسباب کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ رپورٹ خود قبول کرتی ہے کہ: ’’سمندری کائی کی آبی زراعت آگے کی تحقیق کرنے کی ضرورت پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔‘‘

کولکاتا کی جادھوپور یونیورسٹی میں بحری سائنس شعبہ کے پروفیسر توہِن گھوش اس رپورٹ کے اہم مصنفین میں سے ایک تھے۔ ان کے خیالات ماہی گیر برادری کی ان خواتین کے بیان سے صحیح ثابت ہوتے ہیں جو اپنی پیداوار میں گراوٹ کی بات کہہ رہی ہیں۔ ’’صرف سمندری کائی ہی نہیں، بلہ بہت سی دیگر عمل کاریوں میں بھی کمی یا اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ [جیسے مہاجرت]،‘‘ انہوں نے فون پر پاری کو بتایا۔ ’’یہ مچھلیوں کی افزائش، جھینگوں کے بچوں کی پیداوار، اور سمندر اور زمین دونوں سے جڑی کئی چیزوں کے لیے صحیح ہوگا، جن میں کیکڑا جمع کرنا، شہد اکٹھا کرنا، مہاجرت (جیسا کہ سندربن میں دیکھا گیا ہے) وغیرہ شامل ہیں۔‘‘

PHOTO • M. Palani Kumar

کبھی کبھی، یہاں سے خواتین قریب کے جزیروں پر کشتی لے جاتی ہیں جہاں سے وہ غوطہ لگاتی ہیں

پروفیسر گھوش کہتے ہیں کہ ماہی گیر برادری جو کچھ کہہ رہی ہے اس میں دَم ہے۔ ’’حالانکہ، مچھلی کے معاملے میں، یہ صرف بدلتی آب و ہوا کا معاملہ نہیں ہے – بلکہ مہاجال سے مچھلی پکڑنے والے جہاز کے ذریعے اور صنعتی پیمانے پر مچھلی پکڑنے کا خطرناک ناجائز استفادہ بھی ہے۔ اس نے روایتی ماہی گیروں کے ذریعے عام آبی وسائل سے مچھلی پکڑنے کو بھی تیزی سے کم کر دیا ہے۔‘‘

حالانکہ، مہاجال والے جہاز سمندری کائی کو متاثر نہیں کر سکتے، لیکن صنعتی استفادہ یقینی طور پر ہو رہا ہے۔ بھارتی نگر کی خواتین اور ان کی ساتھی حصیدہ کاروں نے اس عمل میں چھوٹا، لیکن اہم رول نبھانے کے لیے غوروفکر ضرور کیا ہے۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے کارکنوں اور محققین کا کہنا ہے کہ سکڑتی پیداوار سے متفکر ہوکر، انہوں نے آپس میں میٹنگیں کیں اور جولائی سے منظم کٹائی کو پانچ مہینے تک محدود رکھنے کا فیصلہ کیا۔ پھر تین مہینے تک، وہ سمندر کے چکر بالکل بھی نہیں لگاتی ہیں – جس سے سمندری کائی کو دوبارہ زندہ ہونے کا موقع ملتا ہے۔ مارچ سے جون تک، وہ کائی ضرور جمع کرتی ہیں لیکن مہینے میں صرف کچھ ہی دنوں کے لی۔ سیدھے لفظوں میں کہیں، تو خواتین نے اپنا سیلف ریلگولیٹنگ نظام بنایا ہے۔

یہ ایک قابل غور نظریہ ہے – لیکن اس کی انہیں کچھ قیمت چکانی پڑتی ہے۔ ’’ماہی گیر برادری کی خواتین کو مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار گارنٹی قانون (منریگا) کے تحت کام نہیں دیا جاتا ہے،‘‘ مریمّا کہتی ہیں۔ ’’کائی جمع کرنے کے موسم دوران بھی، ہم مشکل سے ایک دن میں ۱۰۰-۱۵۰ روپے کماتے ہیں۔‘‘ سیزن میں، ہر ایک خاتون ایک دن میں ۲۵ کلوگرام تک سمندری کائی جمع کر سکتی ہے، لیکن انہیں ملنے والی قیمت (اس میں بھی گراوٹ آ رہی ہے) ان کے ذریعے سمندر سے لائی گئی کائی کی قسم کی بنیاد پر الگ الگ ہوتی ہے۔

ضابطوں اور قوانین میں تبدیلی کے معاملے کو اور بھی پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ۱۹۸۰ تک، وہ کافی دور تک کے جزیروں پر جا سکتی تھیں، جیسے کہ نلّ تھیوو، چپلّی، اُپّوتھنّی – ان میں سے کچھ کی دوری کشتی سے تقریباً دو دنوں کی ہے۔ وہ گھر لوٹنے سے پہلے سمندری کائی جمع کرنے پر ایک ہفتہ تک کا وقت گزار سکتی تھیں۔ لیکن اُس سال، وہ جن جزیروں پر گئی تھیں ان میں سے ۲۱ کو منّار کی خلیج کے سمندری نیشنل پارک میں شامل کر دیا گیا – اور اس طرح وہ سبھی محکمہ جنگلات کے دائرہ اختیار میں آ گئے۔ محکمہ نے انہیں ان جزیروں پر رہنے کی اجازت دینے سے منع کر دیا اور ان مقامات پر ان کی رسائی کو بند کر دیا۔ اس پابندی کی مخالفت میں سرکار سے کوئی ہمدردی بھرا جواب نہیں ملا ہے۔ جرمانہ کے خوف سے، جو ۸۰۰۰ روپے سے ۱۰۰۰۰ روپے تک ہو سکتا ہے، وہ ان جزیروں پر اب نہیں جاتی ہیں۔

PHOTO • M. Palani Kumar

جالی دار تھیلے جو خواتین سمندری کائی جمع کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں؛ اس عمل میں انہیں اکثر چوٹ لگ جاتی ہے اور خون بہنے لگتا ہے، لیکن پوری طرح بھرے تھیلے کا مطلب ہے اپنے کنبوں کی مدد کرنے کے لیے آمدنی

اس لیے آمدنی میں اور کمی آئی ہے۔ ’’ہم جب اُن جزیروں پر ایک ہفتہ گزارا کرتے تھے، تو کم از کم ۱۵۰۰ روپے سے ۲۰۰۰ روپے تک کما لیتے تھے،‘‘ ایس امریتم کہتی ہیں، جو ۱۲ سال کی عمر سے سمندری کائی جمع کر رہی ہیں۔ ’’ہمیں مٹّ کورئی اور مریکوژنتو سمندری کائی دونوں ہی مل جاتے تھے۔ اب ایک ہفتہ میں ۱۰۰۰ روپے کمانا بھی مشکل ہو رہا ہے۔‘‘

ہو سکتا ہے سمندری کائی جمع کرنے والی خواتین ماحولیاتی تبدیلی پر چل رہی بحث سے لاعلم ہوں، لیکن انہوں نے اس کا تجربہ کیا ہے اور اس کے کچھ اثرات کو جانتی ہیں۔ وہ سمجھ چکی ہیں کہ ان کی زندگی اور پیشہ میں کئی بدلاؤ چل رہے ہیں۔ انہوں نے سمندر، اور درجہ حرارت، موسم اور آب و ہوا کے برتاؤ میں تبدیلیوں کا تجزیہ اور تجربہ کیا ہے۔ انہوں نے فی الحال جاری تبدیلیوں میں انسانی سرگرمیوں کے کچھ رول (خود اپنے رول سمیت) کو بھی محسوس کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ان کی واحد آمدنی عمل کاریوں کے اس مکمل، پیچیدہ مجموعہ میں قید ہے۔ اور وہ جانتی ہیں کہ انہیں کوئی متبادل نہیں دیا جا رہا ہے – جیسا کہ منریگا میں شامل نہ کرنے کے بارے میں مریمّا کا تبصرہ ظاہر کرتا ہے۔

پانی کی سطح دوپہر سے بڑھنی شروع ہو جاتی ہے، اس لیے وہ دن کی اپنی سرگرمی کو سمیٹنا شروع کر دیتی ہیں۔ کچھ ہی گھنٹوں میں، وہ جمع کی گئی سمندری کائی کو ان کشتیوں پر واپس لے آئی ہیںجن سے وہ سمندر کے اندر گئی تھیں اور جالی دار تھیلوں میں انہیں کنارے پر جمع کر رکھا تھا۔

ان کی سرگرمی چاہے کچھ بھی ہو لیکن آسان اور بنا خطرے والی نہیں ہے۔ سمندر میں جانا مشکل ہوتا جا رہا ہے، کچھ ہفتہ پہلے ہی اس علاقے میں ایک طوفان کے سبب چار ماہی گیروں کی موت ہو گئی تھی۔ صرف تین لاشیں ہی برآمد ہوئیں، اور مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ ہوائیں تبھی دھیمی اور سمندر کی موجیں تھمیں گی جب جھاگ بنے گا۔

جیسا کہ مقامی لوگ کہتے ہیں، ہواؤں کا ساتھ ملے بغیر، سمندر سے متعلقہ سبھی کام چیلنجز سے بھرے ہوئے ہیں۔ آب و ہوا سے متعلق حالات میں بڑی تبدیلی کے سبب، بہت سارے دن غیر یقینی ہوتے ہیں۔ پھر بھی خواتین اپنے واحد ذریعہ معاش کی تلاش میں خطرناک پانی میں اترتی ہیں – علامتی اور کبھی کبھی معنوی طور پر یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ گردابی سمندر میں بھٹک چکی ہیں۔

PHOTO • M. Palani Kumar

سمندری کائی کے لیے غوطہ لگانے کے لیے کشتی کو سمندر میں کھینا: ہواؤں کا ساتھ ملے بغیر، سمندر سے متعلق سبھی کام چیلنجز سے بھرے ہوئے ہیں۔ آب و ہوا کے حالات میں بڑی تبدیلی کے سبب، بہت سارے دن غیر یقینی ہوتے ہیں

PHOTO • M. Palani Kumar

سمندری کائی جمع کرنے والی خاتون پھٹے دستانے کے ساتھ – جو دھار دار چٹانوں اور گردابی پانی کے خلاف ایک کمزور حفاظتی سامان ہے

PHOTO • M. Palani Kumar

جال تیار کرنا: خواتین کے حفاظتی لباس میں شامل ہے دھوپ کا چشمہ، ہاتھوں کے لیے کپڑے کی پٹی یا دستانے اور ربر کی چپلیں تاکہ وہ اپنے پیروں کو دھاردار چٹانوں سے کٹنے سے بچا سکیں

PHOTO • M. Palani Kumar

ایس امریتم تیز لہروں سے لڑتے ہوئے، چٹانوں کے سلسلے تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں

PHOTO • M. Palani Kumar

ایم مریمّا سمندری کائی جمع کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے جالی دار تھیلے کی رسی کو کس رہی ہیں

PHOTO • M. Palani Kumar

غوطہ لگانے کی تیاری میں

PHOTO • M. Palani Kumar

اور پھر غوطہ لگانا، سمندر کی گہرائی میں خود کو دھکیلتے ہوئے

PHOTO • M. Palani Kumar

گہرائی میں – خواتین کے کام کرنے کا مقام، مچھلیوں اور سمندری جانوروں کی پانی کے نیچے ایک غیر شفاف دنیا

PHOTO • M. Palani Kumar

لمبے پتوں والی اس سمندری کائی، مٹّ کورئی، کو جمع کیا جاتا ہے، سُکھایا جاتا ہے اور پھر کپڑوں کی رنگائی میں استعمال کیا جاتا ہے

PHOTO • M. Palani Kumar

سمندر کی گہرائی میں ٹھہرنے کے دوران، رانی امّا کئی سیکنڈوں تک اپنی سانس کو قابو کرکے مریکوژنتو جمع کرتی ہیں

PHOTO • M. Palani Kumar

پھر سطح پر واپس آ جاتی ہیں، گردابی لہروں کے درمیان، بڑی مشکل سے حاصل کی گئی اپنی کائی کے ساتھ

PHOTO • M. Palani Kumar

تیز لہریں آنی شروع ہو گئی ہیں، لیکن خواتین دوپہر تک کام کرنا جاری رکھتی ہیں

PHOTO • M. Palani Kumar

غوطہ لگانے کے بعد اکائی جمع کرنے والی ایک خاتون اپنے حفاظتی سامان کو صاف کرتے ہوئے

PHOTO • M. Palani Kumar

سمندر کے ساحل کی طرف واپس جاتے ہوئے، پوری طرح تھکی ہوئیں

PHOTO • M. Palani Kumar

انہوں نے جو سمندری کائی جمع کی، اسے کھینچ کر کنارے پر لاتے ہوئے

PHOTO • M. Palani Kumar

دیگر لوگ دن کے گہرے سبز رنگ کی فصل سے بھرے جالی دار تھیلوں کو کشتی پر لاد رہے ہیں

PHOTO • M. Palani Kumar

سمندری کائی سے بھری ایک چھوٹی کشتی کنارے تک پہنچتی ہے؛ کائی جمع کرنے والی ایک خاتون لنگر کی رہنمائی کرتی ہے

PHOTO • M. Palani Kumar

سمندری کائی کو کشتی سے نیچے اتارتا ایک گروپ

PHOTO • M. Palani Kumar

دن بھر کے ذخیرہ کا وزن کرتے ہوئے

PHOTO • M. Palani Kumar

سمندری کائی کو سُکھانے کی تیاری

PHOTO • M. Palani Kumar

دیگر لوگ سُکھانے کے لیے پھیلا کر رکھی گئی سمندری کائی کے اپنے ذخیرہ کو لے جاتے ہوئے

PHOTO • M. Palani Kumar

اور پھر، سمندر میں اور پانی کی گہرائی میں گھنٹوں گزارنے کے بعد، یہ خواتین زمین پر واقع اپنے گھروں کو واپس جاتی ہوئیں

کور فوٹو: اے موکُپوری جالی دار تھیلے کو کھینچ رہی ہیں۔ اب ۳۵ سال کی ہو چکیں، وہ آٹھ سال کی عمر سے ہی سمندری کائی جمع کرنے کے لیے غوطہ لگا رہی ہیں۔ (تصویر: ایم پلانی کمار/پاری)

اس اسٹوری میں ہمدردانہ تعاون فراہم کرنے کے لیے سینتھالِر ایس کا بہت شکریہ۔

موسمیاتی تبدیلی پر پاری کی ملک گیر رپورٹنگ، عام لوگوں کی آوازوں اور زندگی کے تجربہ کے توسط سے اس واقعہ کو ریکارڈ کرنے کے لیے یو این ڈی پی سے امداد شدہ پہل کا ایک حصہ ہے۔

اس مضمون کو شائع کرنا چاہتے ہیں؟ براہِ کرم [email protected] کو لکھیں اور اس کی ایک کاپی[email protected]  کو بھیج دیں۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

M. Palani Kumar

ایم پلانی کمار سال ۲۰۱۹ کے لیے پاری کے فیلو اور ایک فوٹوگرافر ہیں، جو محروموں کی زندگی کی دستاویز بندی کرتے ہیں۔ وہ فلم ساز دِویا بھارتی کے ذریعے تمل ناڈو میں ہاتھ سے گندگی ڈھونے والوں پر بنائی گئی دستاویزی فلم، ’کاکوس‘ کے سنیماٹوگرافر تھے۔

Other stories by M. Palani Kumar