تمل ناڈو میں رہنے والے ناگی ریڈی بولتے کنڑ ہیں، اور پڑھتے تیلگو میں ہیں۔ دسمبر کی شروعات میں، ہم چند کلومیٹر پیدل چل کر ان سے ملنے جاتے ہیں۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ ان کا گھر ’’بس پاس میں ہی ہے‘‘۔ لیکن، اصل میں یہ ایک الگ دنیا ہے جو قریب کی ایک گہری جھیل، املی کے ایک بڑے درخت کے پیچھے، یوکلپٹس کی پہاڑی، آم کے باغ، مویشیوں کے ایک باڑے، ایک پہریدار کتے، اور شور مچاتے ہوئے پلّوں سے بھرے منظرنامہ سے بنی ہے۔

ملک کے کسانوں کو جتنے قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ناگی ریڈی بھی ان تمام مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔ لیکن انہیں ایک اور مسئلہ درپیش ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنی موجودہ فصلوں کو چھوڑ کر کچھ اور اُگانے کے بارے میں سوچنے لگے ہیں۔ انہیں سب سے بڑا خطرہ ان بڑے اور خطرناک جانوروں سے محسوس ہوتا ہے، جن کے نام موٹئی وال ، مکّانا اور گیری ہیں۔

یہاں کے کسانوں کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ ان جانوروں کو ہلکے میں نہیں لیا جا سکتا۔ خاص کر جب ان میں سے ہر ایک کا وزن ۴ سے ۵ ہزار کلو کے درمیان ہو۔ حالانکہ مقامی باشندوں کو ان خطرناک ہاتھیوں کے صحیح وزن اور اونچائی کا کوئی علم نہیں ہے۔

ہم کرشنا گیری ضلع میں ہیں، جس کی سرحدیں دو ریاستوں – تمل ناڈو اور کرناٹک سے ملتی ہیں۔ اور ناگی ریڈی کا چھوٹا سا گاؤں واڈرا پلایم جو کہ دینکنی کوٹّئی تعلق میں ہے، جنگل سے زیادہ دور نہیں ہے۔ ظاہر ہے، یہ گاؤں ہاتھیوں کی پہنچ سے بھی دور نہیں ہے۔ اور، ہم ان کے گھر کے سیمنٹ سے بنے جس برآمدہ میں بیٹھے ہوئے ہیں، وہاں سے کچھ میٹر پر ہی ان کا کھیت شروع ہوتا ہے۔ گاؤں کے لوگ راگی کی کھیتی کرنے والے اس 86 سالہ کسان کو ناگنّا کہہ کر پکارتے ہیں۔ راگی غذائیت سے بھرپور ایک اناج ہے۔ وہ ایک تجربہ کار بزرگ ہیں اور اپنی طویل زندگی میں انہوں نے کھیتی کے اچھے، خراب، اور خطرناک – تینوں دور دیکھے ہیں۔

’’میں جب چھوٹا تھا، تو راگی کی مہک سے آنئی (ہاتھی) کبھی کبھار ہی آتے تھے۔‘‘ اور اب؟ ’’وہ اب اکثر آ جاتے ہیں، انہیں فصل اور پھل کھانے کی عادت ہو گئی ہے۔‘‘

اس کی دو وجہیں ہیں، ناگی تمل میں تفصیل سے بتاتے ہیں۔ ’’۱۹۹۰ کے بعد، اس جنگل میں ہاتھیوں کی تعداد میں تو اضافہ ہوا، لیکن جنگل کا سائز اور پیڑ پودے کم ہونے لگے۔ لہٰذا، اپنے کھانے کی تلاش میں وہ بستیوں میں آتے رہتے ہیں۔‘‘ وہ لمبی سانس لیتے ہیں اور مسکراتے ہوئے آگے کہتے ہیں، ’’جس طرح آپ کسی اچھے ہوٹل میں کھانے کے بعد اپنے دوستوں کو اس کے بارے میں بتاتے ہیں، اسی طرح ان ہاتھیوں نے بھی اپنے کنبے کو بتایا ہوگا۔‘‘ یہ عجیب و غریب موازنہ ان کے لیے محض ایک مذاق ہے، لیکن میرے لیے حیرانی کی بات ہے۔

PHOTO • M. Palani Kumar
PHOTO • Aparna Karthikeyan

بائیں: ناگی ریڈی کے کھیتوں میں کٹائی کے لیے تیار راگی کی فصل۔ دائیں: ناگی کے بیٹے آنندرامو ایل ای ڈی ٹارچ کی سفید روشنی دکھاتے ہوئے۔ یہ ٹارچ انہیں محکمہ جنگلات نے ہاتھیوں کو بھگانے کے لیے دیا ہے۔ ان کے والد ناگی ریڈی اپنے بیٹے کو دیکھ رہے ہیں

وہ ان ہاتھیوں کو جنگل میں واپس کیسے بھگاتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں وہ ایل ای ڈی ٹارچ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’ہم کوچل [بہت زیادہ شور] کرتے ہیں، اور ان پر بیٹریاں چمکاتے ہیں۔‘‘ ان کا بیٹا آنندرامو، جسے لوگ آسانی کے لیے آنند بلاتے ہیں، ٹارچ چلا کر دکھاتا ہے۔ یہ اسے محکمہ جنگلات نے دیا ہے۔ اس میں کافی روشنی ہے، بالکل سفید، اور یہ روشنی دور تک جاتی ہے۔ ’’لیکن اس سے صرف دو ہی ہاتھی بھاگتے ہیں،‘‘ ناگنا بتاتے ہیں۔

آنند برآمدہ کے ایک کونے میں جا کر اپنی پیٹھ کو ٹارچ کی طرف کرکے بتاتے ہیں، ’’ موٹئی وال اس طرح پیچھے گھوم جاتا ہے، تاکہ اس کی آنکھیں پر روشنی نہ پڑے، اور کھانا جاری رکھتا ہے۔ جب تک اس کا پیٹ پوری طرح بھر نہیں جاتا، موٹئی وال وہاں سے جائے گا نہیں۔ گویا وہ کہہ رہا ہو: تم اپنا کام کرو – یعنی ٹارچ جلاتے رہو، اور میں اپنا کام کروں گا – مطلب، جب تک پیٹ نہیں بھر جاتا تب تک کھاتا رہوں گا۔‘‘

چونکہ موٹئی وال کا پیٹ کافی بڑا ہوتا ہے، اس لیے اسے جو کچھ ملتا ہے اسے چٹ کر جاتا ہے۔ راگی اس کا پسندیدہ کھانا ہے۔ کٹہل بھی اسے اتنا ہی پسند ہے۔ اگر اونچی ٹہنیوں تک پہنچنے میں اسے دقت ہو رہی ہو، تو وہ آگے کی اپنی دونوں ٹانگیں درخت کے اوپر رکھ کر سونڈ سے اسے توڑ لیتا ہے۔ اگر درخت کی اونچائی زیادہ ہوئی اور اس سے بھی کام نہیں چلا، تو وہ ٹہنیوں کو ہی توڑ دیتا ہے۔ اور پھر مزے سے پھل کھاتا ہے۔ ناگنّا بتاتے ہیں، ’’ موٹئی وال ۱۰ فٹ اونچا ہے۔‘‘ آنند کہتے ہیں، ’’اور وہ اپنے دونوں پیروں کو اٹھا کر مزید چھ یا آٹھ فٹ اونچائی تک پہنچ سکتا ہے۔‘‘

ناگنا کہتے ہیں، ’’لیکن موٹئی وال ہم انسانوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا ہے۔ وہ مکئی اور آم کھاتا ہے، اور زمین پر پھیلی فصلوں کو روند دیتا ہے۔ ہاتھی اپنے پیچھے جو چیزیں چھوڑ جاتے ہیں وہ بندروں، جنگلی سوروں، اور چڑیوں کا پیٹ بھرنے کے کام آتی۔‘‘ ہمیں ہر وقت چوکنّا رہنا پڑتا ہے، ورنہ دودھ اور دہی بھی نہیں بچیں گے، کیوں کہ بندر باورچی خانہ میں بھی گھس جاتے ہیں۔

’’بچی کھچی کسر جنگلی کتے پوری کر دیتے ہیں۔ وہ ہماری مرغیوں کو چٹ کر جاتے ہیں۔ کئی بار تیندوے ہمارے پہریدار کتوں کا شکار کرکے کھا جاتے ہیں۔ پچھلے ہفتے ہی…‘‘ وہ اپنی شہادت کی انگلی سے ان راستوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن سے تیندوے شکار کرنے آتے ہیں، اور میں ڈر سے کانپنے لگتی ہوں۔ یہ صرف صبح کی خنکی ہی نہیں، بلکہ زندگی کو دہانے پر جینے کا بھی خوف ہے۔ یہاں زندگی بے یقینیوں سے بھری ہوئی ہے۔

آخر وہ اس کا سامنا کیسے کرتے ہیں؟ میرے اس سوال کے جواب میں آنند بتاتے ہیں، ’’ہم اپنے آدھے ایکڑ کھیت میں اتنا راگی اُگا لیتے ہیں جس سے گھر کا کام چل جائے۔ ہمیں ۸۰ کلو کی بوری کے بدلے صرف ۲۲۰۰ روپے ہی ملتے ہیں۔ اتنی کم قیمت پر فروخت کرکے ہم منافع کمانے کی سوچ بھی نہیں سکتے ہیں۔ پھر بے موسم بارش ایک الگ مصیبت ہے، اس کے بعد یہ رہی سہی کسر یہ جانوری پوری کر دیتے ہیں۔ اس لیے، ہم نے اپنے ایک الگ کھیت میں یوکلپٹس کے درخت لگائے ہیں۔ اور اس علاقے کے دوسرے لوگوں نے اب راگی چھوڑ کر گلاب کی کھیتی شروع کر دی ہے۔‘‘

ہاتھیوں کی پھولوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ کم از کم ابھی تک تو نہیں…

PHOTO • M. Palani Kumar

آنندرامو ہاتھیوں کے آنے کا راستہ دکھاتے ہوئے۔ یہ جانور اکثر فصل اور پھل کھانے کے لیے آتے ہیں

*****

میں راگی کے کھیتوں کے قریب جھولے پر بیٹھی انتظار کر رہی تھی
جہاں ہم طوطے کو بھگاتے ہیں، اور جب وہ آیا،
میں نے اس سے کہا، ’’جناب، میرے جھولے کو تھوڑا دھکہ دیجئے‘‘؛
’’ضرور لڑکی!‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے جھولے کو دھکہ دیا؛
اپنی پکڑ ڈھیلی ہونے کا بہانہ کرکے، میں زمین پر جا گری؛
میرے گرنے کو سچ مان کر، وہ مجھے اٹھانے کے لیے لپکا؛
میں ساکت پڑی رہی جیسے مجھے ہوش ہی نہیں تھا

یہ دلکش اشعار ۲ ہزار سال پرانے ہیں، جو سنگم دور کے شاعر، کپیلار کی نظم ’ کلیتوکئی ‘ سے لیے گئے ہیں۔ سنگم ادب کے شعری حصے کا ترجمہ پیش کرنے والے بلاگ، OldTamilPoetry.com کو چلانے والے سینتل ناتھن کہتے ہیں کہ اُس دور میں راگی کا ذکر عام بات تھی۔

سینتل ناتھن کہتے ہیں، ’’سنگم دور کی تصانیف میں عشقیہ شاعری کے حوالے سے راگی کے پس منظر کا ذکر ایک عام روش ہے۔ ایک بنیادی مطالعہ کے دوران راگی کا ذکر ۱۲۵ بار ملا، جو کہ چاول کے مقابلے کچھ زیادہ ہی ہے۔ اس لیے، یہ آسانی سے مانا جا سکتا ہے کہ سنگم دور میں (۲۰۰ قبل مسیح سے ۲۰۰ عیسوی تک) راگی عام لوگوں کے لیے ایک اہم اناج تھا۔ راگی کی انواع میں تنئی (کنگنی یا فاکس ٹیل ملیٹ) سب سے بہتر مانا جاتا ہے۔ اس کے بعد ’ورگو‘ (کودو راگی) کا نام آتا ہے۔‘‘

کے ٹی اچے اپنی کتاب ’انڈین فوڈ: اے ہسٹوریکل کمپینئن‘ میں لکھتے ہیں کہ راگی کی ابتدا مشرقی افریقہ کے یوگانڈا میں ہوئی تھی۔ جنوبی ہند میں اس کی آمد ہزاروں سال پہلے ہوئی تھی اور پہلی بار اس کی باقیات ’’کرناٹک میں تُنگ بھدرا ندی کے ہلور (۱۸۰۰ قبل مسیح) مقام،‘‘ اور ’’تمل ناڈو کے پیئم پلّی‘‘ (۱۳۹۰ قبل مسیح) میں ملیں۔ ناگنا کے گھر سے یہ جگہ تقریباً ۲۰۰ کلومیٹر دور ہے۔

ہندوستان میں راگی کی کھیتی کے معاملے میں تمل ناڈو دوسرے مقام پر ہے – پہلے نمبر پر کرناٹک کا نام آتا ہے – اور اس کی سالانہ پیداوار تقریباً ۲ اعشاریہ ۷۴۵ میٹرک ٹن ہے۔ کرشنا گیری ضلع، جس میں ناگنّا کا گاؤں ہے، ریاست کی کل پیداوار کا ۴۲ فیصد راگی اکیلے پیدا کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کی غذائی اور زرعی تنظیم (ایف اے او) راگی کی ’متعدد اہم خصوصیات‘ کے بارے میں بتاتی ہے، مثلاً راگی کو کسی فصل کے درمیان میں پھلیوں کے ساتھ بھی لگایا جا سکتا ہے، تاکہ کسان اضافی کمائی کر سکیں۔ کم محنت کرکے بھی اس سے اچھی پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے، اور کم زرخیز مٹیپر بھی یہ زندہ رہتی ہے۔

PHOTO • Aparna Karthikeyan
PHOTO • Aparna Karthikeyan

راگی کی فصل (بائیں) اور اس کا اناج۔ کرشنا گیری ضلع تمل ناڈو میں راگی کی پیداوار کا کل ۴۲ فیصد اکیلے پیدا کرتا ہے

ان سب کے باوجود راگی کی پیداوار اور کھپت، دونوں میں کمی آئی ہے۔ حیرت کی بات نہیں ہے کہ اس کمی کا تعلق سبز انقلاب کے نتیجہ میں چاول اور گیہوں کی بڑھتی مقبولیت سے ہے۔ عوامی تقسیم کے نظام (پی ڈی ایس) کی سرکاری اسکیم نے چاول اور گیہوں کی دستیابی کو عام لوگوں کے لیے نسبتاً آسان بنا دیا ہے۔

پورے ہندوستان میں خریف کے موسم کے دوران گزشتہ برسوں میں راگی کی پیداوار میں کئی اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملے، لیکن سال ۲۰۲۱ میں اس کی پیداوار تقریباً ۲۰ لاکھ ٹن کے آس پاس درج کی گئی۔ حالانکہ، سال ۲۰۲۲ میں پہلے اندازہ کے مطابق اس کی پیداوار میں کمی کا شک ظاہر کیا گیا ہے۔ سال ۲۰۱۰ میں یہ تقریباً ۱۰ اعشاریہ ۸۹ لاکھ ٹن تھی، لیکن ۲۰۲۲ میں اس کی تخمینی پیداوار تقریباً ۱۰ اعشاریہ ۵۲ لاکھ ٹن ہونے کا امکان ہے۔

دھان فاؤنڈیشن ، جو راگی پر سائنسی تحقیق کرنے اور اس کی پیداوار کے لیے مالی مدد فراہم کرنے والا ایک ترقیاتی ادارہ ہے، کے مطابق، ’’تغذئی خصوصیات اور موسم کے لچیلے پن کے باوجود ہندوستان میں راگی کی کھپت میں ۴۷ فیصد کمی آئی ہے ، جب کہ گزشتہ پانچ دہائیوں میں راگی کی دوسری چھوٹی انواع میں یہ گراوٹ ۸۳ فیصد تک درج کی گئی ہے۔

پڑوسی ریاست کرناٹک، ملک میں راگی پیدا کرنے والی دوسری سب سے بڑی ریاست ہے۔ ’’دیہی علاقوں میں ہر مہینے راگی کی کھپت اوسطاً فی کس ۱ اعشاریہ ۸ کلوگرام سے گھٹ کر ۱ اعشاریہ ۲ کلوگرام ہو گئی ہے۔ یہ ڈیٹا ۱۲-۲۰۱۱ کا ہے۔‘‘

اس فصل کا وجود اس لیے بچا ہوا ہے کہ ماحولیات اس کے موافق ہے اور کچھ برادریوں کے لوگ ابھی بھی راگی اُگاتے اور کھاتے ہیں۔ کرشنا گیری بھی ان میں سے ایک تھا۔

*****

آپ جتنی راگی پیدا کریں گے، اتنے ہی زیادہ مویشی پال سکیں گے اور اپنی آمدنی بڑھا سکیں گے۔ چارے کی کمی کے سبب ہی زیادہ تر لوگوں نے اپنے مویشیوں کو فروخت کر دیا ہے۔
گوپا کمار مینن، کسان اور مصنف

PHOTO • Aparna Karthikeyan
PHOTO • Aparna Karthikeyan

بائیں: گوپا کمار مینن اپنے گولّاپلّی گاؤں کے فارم میں راگی کا ڈنٹھل ہاتھ میں لیے ہوئے۔ دائیں: تیز بارش کی وجہ سے برباد ہو چکی راگی کا منظر

اُس علاقے میں اپنے میزبان ناگنّا کے گھر جانے سے ایک رات قبل گوپا کمار نے مجھے ہاتھی کی ایک رونگٹے کھڑی کر دینے والی کہانی سنائی۔ یہ دسمبر کی شروعات کا وقت ہے اور ہم گولّاپلّی گاؤں کے ان کے گھر کی چھت پر بیٹھے ہیں۔ چاروں طرف اندھیرا اور ہلکی ٹھنڈ ہے۔ کبھی کبھی بس رات میں گھومنے والے چرند و پرند کی خوفناک موجودگی محسوس ہو رہی ہے – بس ان کی گونج اور ان کی بھنبھناہٹ۔ یہ ایک ساتھ تسلی بھی دیتا ہے اور لرزش بھی پیدا کرتا ہے۔

وہ تھوڑے ہی فاصلہ پر آم کے درخت کو دکھاتے ہوئے کہتے ہیں، ’’ موٹئی وال یہاں پہنچ گیا تھا۔ اسے آم کھانا تھا، لیکن وہ ان تک پہنچ نہیں پا رہا تھا۔ پھر غصے میں اس نے درخت کو ہی گرا دیا۔‘‘ میں ڈرتے ہوئے چاروں طرف نظریں گھماتی ہوں۔ ہر ایک چیز میں مجھے ہاتھی ہی دکھائی دینے لگتا ہے۔ گوپا مجھے ڈھارس بندھاتے ہیں، ’’ڈریے مت، وہ یہاں ہوتا تو آپ خود ہی جان جاتے۔‘‘

اگلے ایک گھنٹے تک گوپا مجھے کئی کہانیاں سناتے ہیں۔ وہ عملی اقتصادیات کے اچھے جانکار، مصنف اور تاجرانہ ذہانت سے معمور شخص ہیں۔ تقریباً ۱۵ سال پہلے انہوں نے گولّاپلّی میں کچھ زمینیں خریدیں، جنہیں وہ اپنا فارم کہتے ہیں۔ کھیتی شروع کرنے کے بعد ہی یہ بات ان کی سمجھ میں آئی کہ یہ کتنا مشکل کام ہے۔ اپنی دو ایکڑ زمین میں اب وہ صرف لیموں اور چنا کی ہی کھیتی کرتے ہیں۔ آمدنی کے لیے پوری طرح کھیتی پر منحصر کسانوں کے لیے یہ بہت مشکل کام ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ خراب پالیسیوں، موسم کی مار، ناقص خرید قیمت، اور جانور اور انسانوں کے درمیان مقابلہ آرائی نے راگی کی روایتی کاشتکاری کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔

گوپا کہتے ہیں، ’’راگی مجوزہ اور بعد میں منسوخ شدہ زرعی قوانین کی ناکامی کی ایک بہترین مثال ہے۔ قانون کہتا ہے کہ آپ اسے کسی کو بھی فروخت کر سکتے ہیں۔ لیکن تمل ناڈو کا معاملہ ہی لے لیجئے۔ اگر یہ واقعی میں کارگر ہوتا، تو کسان زیادہ راگی اُگانے میں کامیاب ہوتے۔ اور ہاں، وہ اپنی پیداوار کو غیر قانونی طریقے سے کرناٹک کیوں لے جاتے؟ کیوں کہ وہاں راگی کی کم از کم امدادی قیمت ۳۳۷۷ روپے فی کوئنٹل ہے [جو کہ آنند کے مطابق تمل ناڈو کے مقابلے بہت بہتر ہے]۔‘‘

اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ تمل ناڈو کے مذکورہ علاقے میں لوگ مناسب امدادی قیمت پانے میں ناکام ہیں، جیسا کہ گوپا مینن کہتے ہیں، لہٰذا کئی کسان اپنی فصل اسمگلنگ کرکے سرحد پار لے جاتے ہیں۔

PHOTO • M. Palani Kumar
PHOTO • M. Palani Kumar

مزدور گولّا پلّی کے مضافات میں کسان سوا کمارن کے پٹّہ پر لیے گئے کھیت پر راگی کی فصل کاٹتے ہوئے

فی الحال تمل ناڈو کے ہوسور ضلع میں، آنند کے مطابق، سب سے اچھی قسم کی راگی کی قیمت ’’۲۲۰۰ روپے فی ۸۰ کلو ہے، اور دوسرے درجے کی راگی کی قیمت ۲۰۰۰ روپے ہے۔ فی کلو یہ بالترتیب ۲۵ اور ۲۷ روپے پڑتا ہے۔‘‘

یہ وہ قیمت ہے، جو ایک کمیشن ایجنٹ انہیں دروازے پر دے کر جاتا ہے۔ ظاہر ہے، ایجنٹ اپنا منافع بھی کماتا ہے، جو آنند کے اندازے کے مطابق تقریباً ۲۰۰ روپے ہے۔ اس طرح راگی کسان کے ہاتھ سے تھوک تاجر کے ہاتھ میں جاتی ہے۔ اگر کسان منڈی جا کر اپنی فصل براہ راست فروخت کریں، تو انہیں سب سے اچھی راگی کے ۲۳۵۰ روپے (۸۰ کلوگرام کی بوریوں کے) مل سکتے ہیں۔ لیکن کسانوں کی نظر میں یہ خسارے کا سودا ہے۔ ’’مجھے ڈُھلائی، ٹیمپو کا کرایہ، اور منڈی میں کمیشن کے لیے الگ سے پیسے ادا کرنے ہوں گے…‘‘

کرناٹک میں حالانکہ کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) تمل ناڈو کے مقابلے بہتر ہے، لیکن اس کے باوجود کئی کسان وصولی میں تاخیر کے سبب امدادی قیمت سے ۳۵ فیصد کم میں ہی اپنی پیداوار فروخت کر دیتے ہیں۔

گوپا کمار تمام جگہوں پر ایک مناسب ایم ایس پی نافذ کیے جانے کی ضرورت بتاتے ہیں۔ ’’اگر آپ ۳۵ روپے کلو کے حساب سے خریدیں گے، تو راگی کی فصل اُگانے میں کسانوں کی بھی حوصلہ افزائی ہوگی۔ اگر آپ نہیں خریدیں گے، تو کسان پھول، ٹماٹر، اور فرنچ بین کی کھیتی کرنے کی جانب متوجہ ہوں گے۔ اس طرح دھیرے دھیرے لوگ راگی اُگانے میں دلچسپی لینا بند کر دیں گے۔‘‘

گاؤں میں ان کے پڑوسی سینپّا جو ایک ادھیڑ عمر کے کسان ہیں، زیادہ ٹماٹر پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ سینپّا کہتے ہیں، ’’یہ ایک لاٹری ہے، ہر ایک کسان اُس کسان کو عزت کی نظر سے دیکھتا ہے، جو ٹماٹر اُگا کر ۳ لاکھ روپے کماتا ہے۔ لیکن ٹماٹر کی کھیتی میں لاگت بہت زیادہ ہے اور اس کی قیمت بہت غیر مستحکم رہتی ہے – کبھی صرف ایک روپے کلو جس سے کسان برباد ہو سکتا ہے، اور کبھی ۱۲۰ روپے کلو تک۔‘‘

اگر سینپا کو صحیح قیمت ملے تو، وہ ٹماٹر کی بجائے راگی کی ہی کھیتی کریں گے۔ ’’آپ جتنی راگی اُگائیں گے، اتنے ہی مویشیوں کو پال سکیں گے۔ آپ کی آمدنی میں بھی اسی تناسب سے اضافہ ہوگا۔ لوگوں نے اپنے مویشی اس لیے بیچ ڈالے، کیوں کہ ان کے پاس چارے کی کمی تھی۔‘‘

PHOTO • M. Palani Kumar
PHOTO • Aparna Karthikeyan

بائیں: کاٹی جا چکی فصل کے گٹھر۔ راگی کے دانوں کو دو سالوں تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ دائیں: سوکھی ہوئی پھوس کو مویشیوں کے چارے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے

گوپا مینن مجھے بتاتے ہیں کہ راگی اس علاقے کی بنیادی غذا ہے۔ ’’آپ راگی تبھی بیچتے ہیں جب آپ کو پیسوں کی قلت ہوتی ہے۔ اس کا ذخیرہ دو سالوں تک کے لیے ممکن ہے۔ آپ کو جب اسے کھانے میں استعمال کرنا ہو، تو آپ اسے پیس سکتے ہیں۔ دوسرے اناجوں کو اتنی اچھی طرح سے نہیں رکھا جا سکتا ہے۔ دوسری چیزیں پیدا کرکے یا تو آپ مالا مال ہو سکتے ہیں یا پھر برباد ہو سکتے ہیں۔

اس علاقے میں بہت سی مشکلیں ہیں اور وہ بے حد پیچیدہ بھی ہیں، ’’اس علاقے میں پھولوں کی جو پیداوار ہوتی ہے وہ فروخت کے لیے چنئی کے بازار میں جاتی ہے،‘‘ گوپا کمار بتاتے ہیں۔ ’’آپ کے فارم کے گیٹ تک ایک گاڑی آتی ہے اور آپ کو آپ کے پیسے دے جاتی ہے۔ جہاں تک راگی کا معاملہ ہے تو، سب سے قیمتی فصل ہونے کے بعد بھی آپ پوری طرح سے پر اعتماد نہیں رہتے، اور سب سے عجیب بات یہ ہے کہ دیسی، ہائبرڈ، اور آرگینک – سبھی قسموں کے لیے آپ کو ایک ہی قیمت ملتی ہے۔‘‘

’’امیر کسانوں نے اپنے کھیتوں کے چاروں طرف بجلی دوڑنے والے تار لگا دیے ہیں، جس کی وجہ سے ہاتھی غریب کسانوں کے کھیت کی طرف رخ کرتے ہیں۔ امیر کسان دوسری فصلیں بھی اُگا رہے ہیں، جب کہ غریب کسان صرف راگی پر منحصر ہیں۔‘‘ اس کے بعد بھی، گوپا اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں، ’’اس علاقے کے کسان ہاتھیوں کے تئیں زیادہ متحمل ہیں۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ ہاتھی جتنی مقدار میں کھاتے ہیں، اس سے دس گنا زیادہ برباد کرتے ہیں۔ میں نے موٹئی وال کو صرف ۲۵ فٹ کی دوری سے دیکھا ہے۔‘‘ وہ کہتے ہیں، اور ہاتھیوں کے قصے پھر چل نکلتے ہیں۔ ’’یہاں کے لوگوں کی طرح موٹئی وال بھی ایک سے زیادہ ریاستوں کے باشندے ہیں۔ وہ بنیادی طور پر تمل ہے، لیکن اعزازی کنّڈیگا بھی ہے۔ مکّانا اس کا معاون ہے۔ بجلی والے تار کے بیڑوں کو پار کرنے کی چالاکی مکّانا نے اسی سے سیکھی ہے۔‘‘

اچانک یہ محسوس ہوتا ہے، گویا موئٹی وال چھت کے بغل میں ہی کھڑا ہو۔ ’’ممکن ہے کہ میں ہوسور لوٹ کر اپنی کار میں ہی سو جاؤں،‘‘ میں گھبراتے ہوئے ہنسنے کی کوشش کرتی ہوں۔ گوپا مسکرانے لگتے ہیں، ’’موٹئی وال ایک بڑا ہاتھی ہے… بہت ہی وزنی۔ لیکن وہ نقصاندہ نہیں ہے۔‘‘ میں من ہی من دعا کرتی ہوں کہ اس سے واسطہ نہ پڑے – بلکہ دوسرے ہاتھیوں سے بھی ملاقات نہ ہو۔ لیکن ایشور اپنے منصوبوں کے بارے میں جانتا ہے…

*****

دیسی راگی میں پیداوار کم ہوا کرتی تھی، لیکن اس کا ذائقہ بہت اچھا اور تغذئی عناصر بہت زیادہ ہوتے تھے۔
ناگی ریڈی، کرشنا گیری کے راگی کے کاشتکار

PHOTO • M. Palani Kumar

بائیں سے: ناگنّا (ناگی ریڈی)، ان کی بہو پربھا اور بیٹا آنند، واڈرا پلیم گاؤں میں اپنے گھر کے برآمدے میں۔ ناگنّا کہتے ہیں، ’مجھے راگی کی پانچ قسموں کا علم ہے‘

ناگنّا جب نوجوان تھے، تب راگی کی فصل ان کے سینے تک آتی تھی۔ وہ اونچے قد کے ہیں – تقریباً ۵ فٹ ۱۰ انچ کے – اور دبلے پتلے ہیں۔ وہ دھوتی اور بنیان پہنتے ہیں اور کندھے پر ایک رومال لپیٹے رہتے ہیں۔ کبھی کبھی وہ ایک چھڑی لے کر چلتے ہیں، اور برادری میں آنے جانے کے لیے ایک سفید قمیض پہنتے ہیں۔

وہ چہرے پر ایک چمک کے ساتھ کہتے ہیں، ’’مجھے راگی کی پانچ قسموں کی جانکاری ہے۔‘‘ وہ اپنے برآمدے میں بیٹھے ہوئے گاؤں کو دیکھ رہے ہیں۔ سامنے ان کے گھر کا بڑا سا احاطہ ہے۔ ’’ ناٹو (دیسی) راگی میں صرف چار یا پانچ بالیاں ہوتی تھیں۔ ان کی پیداوار بھی بہت ملتی تھی۔ لیکن اس کا ذائقہ بہت اچھا ہوتا تھا اور وہ بہت مقوی ہوتا تھا۔‘‘

وہ یاد کرتے ہیں، ’’ہائبرڈ ۱۹۸۰ میں چلن میں آیا۔‘‘ ان کے آم بھی لوگوں کی طرح مختصر ہوتے تھے – ایم آر، ایچ آر – اور ان کی بالیاں بھی زیادہ ہوتی تھیں۔ ان سے اناج خوب نکلتے تھے – جس زمین سے ۸۰ کلوگرام کی پانچ بوریاں پیدا ہوتی تھیں، وہاں سے اب راگی کی اٹھارہ بوریاں آنے لگیں۔ لیکن زیادہ پیداوار سے کسان زیادہ پرجوش نہیں تھے – کیوں کہ اس کی قیمت اتنی اونچی نہیں تھی کہ ان کو مالی طور پر زیادہ منافع ہو پاتا۔

انہوں نے ۱۲ سال کی عمر سے کھیتی کرنا شروع کیا تھا اور اب اس علاقے میں ان کے ۷۴ سال گزر چکے ہیں۔ ناگنّا نے کئی فصلیں پیدا کیں۔ ’’ہماری فیملی نے ہر اُس چیز کی کھیتی کی جو ہم نے چاہی۔ ہم نے اپنے کھیتوں میں گنّے سے گڑ بنایا۔ ہم نے تل اُگایا اور لکڑی کی چکی میں اس کی پیرائی کرکے تیل نکالا۔ راگی، چاول، چنا، مرچ، لہسن، پیاز…ہم نے ہر چیز اُگائی۔‘‘

کھیت ہی ان کا اسکول تھا۔ روایتی اسکول اتنا دور تھا کہ وہاں پہنچنا مشکل تھا۔ ان کی ذمہ داری فیملی کے مویشیوں کی دیکھ بھال کرنا تھا، جن میں بکریاں اور گائیں تھیں۔ وہ بہت مصروف زندگی تھی جس میں ہر آدمی کے لیے کام تھا۔

ناگنّا کا مشترکہ خاندان کافی بڑا، جس میں کل ۴۵ لوگ تھے۔ تمام لوگ ان کے دادا کے ذریعے تعمیر کردہ گھر میں رہتے تھے۔ یہ گھر سڑک کے اُس پار تھا – تقریباً ۱۰۰ سال پرانا مکان، جس میں مویشیوں کے لیے باڑے بنے ہوئے تھے اور احاطہ میں بیل گاڑی لگی ہوتی تھی، برآمدے میں ایک بڑا گودام تھا، جس میں راگی کی سالانہ پیداوار رکھی جاتی تھی۔

PHOTO • M. Palani Kumar
PHOTO • M. Palani Kumar

بائیں: ناگنّا کے آبائی گھر میں مویشیوں کا باڑہ۔ دائیں: پرانے گھر کا برآمدہ اور اس میں بنا اناج گودام

ناگنّا جب صرف ۱۵ سال کے تھے، اسی وقت فیملی کے لوگوں میں جائیداد کا بٹوارہ ہو گیا۔ انہیں کھیت میں حصے کے علاوہ اُس زمین کا ٹکڑا بھی ملا، جہاں کبھی گئوشالہ ہوا کرتی تھی۔ اس کی صفائی کر کے وہاں ایک مکان بنانا اب ناگنّا کی ذمہ داری تھی۔ ’’اُس زمانے میں سیمنٹ کی ایک بوری کی قیمت ۸ روپے ہوتی تھی، جو کہ خاصی بڑی رقم مانی جاتی تھی۔ ہم نے ایک راج مستری کو ۱۰۰۰ روپے میں یہ گھر بنانے کا اوپّندم (ٹھیکہ) دے دیا۔‘‘

لیکن اس کام میں کئی سال لگ گئے۔ ایک بکری اور گڑ کی ۱۰۰ ڈلی فروخت کرکے کچھ اینٹیں خریدی گئیں، تاکہ ایک دیوار کھڑی کی جا سکے۔ سامان ماٹو وندی (بیل گاڑی) سے منگائے جاتے تھے۔ اس وقت پیسوں کی کافی قلت تھی۔ آخرکار، ایک پاڑی (ریاست میں وزن کا روایتی پیمانہ – ۶۰ پاڑی ۱۰۰ کلوگرام کے برابر ہوتے تھے) کے بدلے صرف آٹھ آنے آتے تھے۔

سال ۱۹۷۰ میں جب ان کی شادی ہوئی، اس کے کچھ سال پہلے ہی ناگنّا اس گھر میں رہنے آ گئے۔ ان کا گھر پرانی طرز کا ہی بنا ہوا ہے، جسے وہ بتاتے ہیں، ’’بس جیسے تیسے۔‘‘ ان کا پوتا اپنے دماغ سے کچھ نہ کچھ کرتا رہتا ہے۔ کسی نوک دار چیز سے اس نے لیمپ رکھنے کی طاقت کے ٹھیک اوپر اپنا نام اور بڑے ہو کر وہ جو عہدہ حاصل کرنا چاہتا ہے، اس کے بارے میں کندہ کیا ہے: ’ دنیش از دی ڈان ‘۔ ہم نے ۱۳ سال کے دنیش کو صبح ہی دیکھا تھا۔ وہ سڑک کے راستے اسکول جا رہا تھا۔ دیکھنے میں وہ کسی بھی زاویہ سے ڈان نہیں، بلکہ ایک سیدھا سادہ لڑکا لگ رہا تھا۔ اس نے انتہائی نرمی سے ہمیں سلام کیا اور تیزی سے آگے بڑھ گیا۔

ڈان بننے کی خواہش رکھنے والے لڑکے کی ماں، پربھا ہمارے لیے چائے لے کر آتی ہیں۔ ناگنّا اسے چنا لانے کے لیے کہتے ہیں۔ وہ ٹن کے ایک ڈبے میں بھونا ہوا چنا لے کر آتی ہیں اور لاتے وقت اسے زور سے ہلاتی ہیں۔ ڈبے سے ایک قسم کی موسیقی نکلتی ہے۔ ناگنّا ہمیں بتاتے ہیں کہ چنے کو کس طرح سے کولامبو (شوربے) میں پکایا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’اسے کچا کھائیے، اچھا لگے گا۔‘‘ ہم لوگ مٹھیوں میں چنا بھر لیتے ہیں۔ یہ سخت، چٹپٹا، اور ذائقہ دار ہے۔ ناگنّا کہتے ہیں، ’’نمک ڈال کر بھوننے کی وجہ سے اس کا ذائقہ لاجواب ہے۔‘‘ ہم ان کی بات سے اتفاق کرتے ہیں۔

کھیتی کے طور طریقے میں کیا تبدیلی آئی ہے، میں ان سے پوچھتی ہوں۔ ’’سب کچھ،‘‘ وہ واضح الفاظ میں کہتے ہیں۔ وہ اپنا سر ہلاتے ہیں، ’’کچھ تبدیلیاں اچھی بھی ہوئی ہیں، لیکن اب لوگ محنت نہیں کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ ان کی عمر ۸۶ سال کی ہو چکی ہے، لیکن وہ اب بھی روزانہ کھیت پر جاتے ہیں اور ان تمام موضوعات کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں جن سے ان کی زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں، ’’اب اگر آپ کے پاس کھیت ہے بھی تو آپ کو مزدور نہیں ملتے ہیں۔‘‘

PHOTO • M. Palani Kumar

اپنے گھر کے برآمدے میں بیٹھے ناگنّا اپنی نوجوانی کی کہانیاں سناتے ہیں

آنند کہتے ہیں، ’’لوگ آپ سے کہیں گے کہ راگی کی کٹائی کے لیے مشینیں آ گئی ہیں۔ لیکن مشین راگی کی بالیوں میں فرق نہیں کر سکتے ہیں۔ ایک ہی ڈنٹھل میں ایک بالی پکی ہوئی، دوسری سوکھی ہوئی اور تیسری کچی ہو سکتی ہے۔ کوئی بھی مشین تینوں بالیوں کی ایک ساتھ کٹائی کر دے گا۔ انہیں جب بوریوں میں بھرا جائے گا، تو پوری راگی سڑ جائے گی اور ان سے بدبو آنے لگے گی۔‘‘ ہاتھ سے کٹائی بہت محنت کا کام ہے، ’’لیکن اس سے راگی طویل عرصے سے محفوظ رہتی ہے۔‘‘

سوا کمار کے پٹّے پر لیے گئے راگی کے کھیت میں ۱۵ عورتیں ہاتھوں سے کٹائی کے کام میں لگی ہوئی ہیں۔ اپنی درانتی کو بغل میں دبائے اور کندھے پر ایک تولیہ لپیٹے سوا کمار راگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے خیالوں میں ڈوب جاتے ہیں۔ انہوں نے ایک ٹی شرٹ پہن رکھی ہے، جس پر لکھا ہے – ’سپر ڈرائی انٹرنیشنل‘۔

گولّا پلّی کے ٹھیک باہر، پچھلے ہی ہفتہ ان کے کھیت کو تیز بارش اور ہوا کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ سوا (۲۵ سال) محنتی کسان ہیں۔ وہ مجھے بارش اور اس کی وجہ سے فصل کو ہونے والے نقصان کے بارے میں بتاتے ہیں۔ پیداوار پر برا اثر پڑا ہے اور عورتوں کے کام کے گھنٹوں کو بڑھا دیا گیا اور وہ اکڑوں بیٹھ کر راگی کو کاٹ رہی ہیں، تاکہ ان کا گٹھر بنا کر پیداوار کو کھیتوں سے کھلیان تک پہنچایا جا سکے۔ لیکن سوا کو طے شدہ رقم کے مطابق ہی پٹّے کی ادائیگی کرنی ہے، اس میں کوئی راحت نہیں ملنے والی۔

وہ بتاتے ہیں، ’’اس کھیت کے لیے – جو کہ دو ایکڑ سے بھی کم ہے – مجھے پٹّے کے لیے سات بوری راگی دینی ہوگی۔ باقی بچی ۱۲ سے ۱۳ بوریاں میں بیچنے کے لیے رکھوں گا۔ اگر کرناٹک کے ڈر سے راگی فروخت کر سکے، تبھی آپ منافع کما سکتے ہیں۔ تمل ناڈو میں بھی ہمیں ۳۵ روپے فی کلو کی قیمت چاہیے۔ اس بات کو یاد رکھئے۔‘‘ وہ مجھے تاکید کرتے ہیں۔ اور میں اسے درج کر لیتی ہوں…

پیچھے اپنے آنگن میں ناگنّا مجھے ایک بڑا رولنگ اسٹون دکھاتے ہیں۔ یہ بہت بڑا ہے اور سائز میں گول ہے جسے مویشیوں کے ذریعے گوبر سے لیپی گئی زمین پر پھیلی ہوئی راگی روندنے کے کام میں لایا جاتا تھا۔ دھیرے دھیرے یہ پتھر پھلیوں کو رگڑ کر اناج اور بھوسے کو الگ کر دیتا تھا۔ راگی کو اس کے بعد پھٹک کر گھر کے سامنے بنے ذخیر والے گڑھے میں رکھ لیا جاتا تھا۔ پہلے انہیں جوٹ کی بوریوں میں بھر کر رکھا جاتا تھا – لیکن اب جوٹ کی بجائے پلاسٹک کی بوریاں استعمال کی جاتی ہیں۔

ناگنّا ہمیں دعوت دیتے ہوئے کہتے ہیں، ’’اندر آئیے۔ کھانا کھائیے…‘‘ اور باورچی خانہ میں کچھ اور کہانیاں ملنے کی امید میں، میں پرجوش ہوکر پربھا کے پیچھے چل پڑی۔

PHOTO • M. Palani Kumar
PHOTO • M. Palani Kumar

بائیں: سوا کمارن، گولاّ پلّی کے مضافات میں پٹّہ پر لیے گئے کھیت میں بارش سے تباہ ہوئی راگی کی فصل کاٹتے ہوئے۔ دائیں: سوا کے کھیت میں کام کرنے والے مزدور کٹائی کرنے کے بعد فصل کا گٹھر بناتے ہوئے

*****

کبوتر کے انڈوں کی طرح نظر آنے والی راگی کے اناج کے دانے
برسات سے سینچے کھیتوں میں اُگتے ہیں
دودھ میں پکے ہوئے اور شہد ملے
اور سلگتی لکڑی پر بھونا خرگوش کا ملائم گوشت
میں اپنے بچوں اور فیملی کے ساتھ کھا رہا ہوں
’پورنانورو ۳۴،‘ الاتور کیلار کی تحریر کردہ سنگم دور کی نظم
سینتل ناتھن کا ترجمہ

دو سالوں تک محفوظ رہنے والی اور کیلشیم اور آئرن سے بھرپور اور گلوٹین سے پاک راگی ایک صحت بخش اناج ہے۔ یہاں تک کہ ۲۰۰۰ سال پہلے بھی تمل لوگ راگی کا ایک ذائقہ دار پکوان بناتے تھے، جس میں دودھ، شہد، اور گوشت ملا ہوتا تھا۔ آج راگی کو کھانے کے طور پر پکایا اور کھایا جاتا ہے۔ اسے ناشتہ میں بھی کھایا جاتا ہے اور بچوں کے لیے بھی یہ فائدہ مند ہے۔ تمل ناڈو کے کئی علاقوں میں راگی کے الگ الگ پکوان بنتے ہیں۔ کرشنا گیری میں راگی کے مُڈّے (لڈو) بنتے ہیں، جسے کالی بھی کہتے ہیں۔ پربھا نے ہمیں ایک مُڈّے بناتے ہوئے دکھایا۔

ہم لوگ باورچی خانہ میں ہیں، جہاں سیمنٹ کے پلیٹ فارم پر ایک اسٹیل کا چولہا رکھا ہے۔ وہ المونیم کی کڑھائی میں پانی ڈالتی ہیں اور ایک ہاتھ میں لکڑی کا کرچھل اور دوسرے میں ایک کٹوری راگی کا آٹا لیے انتظار کرتی ہیں۔

کیا انہیں تمل بولنا آتا ہے؟ میں گفتگو شروع کرنے کے ارادے سے پوچھتی ہوں۔ پربھا نے شلوار قمیض کے ساتھ کچھ ہلکے زیور پہنے ہوئے ہیں اور ان کے چہرے پر ہچکچاہٹ سے بھری مسکراہٹ ہے۔ انہوں نے گردن ہلا کر ’نہ‘ کا اشارہ کیا۔ لیکن وہ تمل زبان سمجھ لیتی ہیں۔ وہ اٹکتی ہوئی کنڑ میں جواب دیتی ہیں، جس میں تمل کے بھی کچھ لفظ ملے ہوئے ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’میں یہ پچھلے ۱۶ سالوں سے پکا رہی ہوں۔‘‘ ۱۵ سال کی عمر سے ہی۔

پربھا کا تجربہ اسی وقت نظر آ جاتا ہے، جب پانی میں اُبال آتا ہے۔ وہ ایک بڑے کپ میں بھری راگی کا آٹا اُبلتے ہوئے پانی میں ملا دیتی ہیں۔ جلد ہی کڑھائی میں ایک بھورا آمیزہ تیار ہو جاتا ہے۔ کڑھائی کو چمٹے سے پکڑ کر وہ آمیزہ کو لکڑی کے کرچھل سے تیزی سے پھیٹنے لگتی ہیں۔ یہ ایک مشکل کام ہے، جس میں مہارت اور تحمل دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ کچھ ہی منٹوں میں راگی پک کر تیار ہو جاتی ہے، اور آٹا کرچھل میں لپٹ کر گوند کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

یہ اندازہ لگانا واقعی دلچسپ ہے، میں انہیں دیکھتے ہوئے سوچتی ہوں کہ یہاں کی عورتیں اس کام کو تقریباً دو ہزار سال سے کر رہی ہیں۔

ناگنّا بتاتے ہیں، ’’جب میں چھوٹا تھا، تب اسے لکڑی کے چولہے پر مٹی کے برتن میں پکایا جاتا تھا۔‘‘ اس کا ذائقہ بہت شاندار ہوا کرتا تھا۔ وہ دعوے کے ساتھ کہتے ہیں۔ آنند دیسی قسم کی راگی کے بارے میں بتاتے ہیں۔ ’’اس کی خوشبو گھر کے باہر ہی آپ کا استقبال کرنے لگتی تھی – گم گم واسنئی ۔‘‘ وہ اسے یوں کہتے ہیں، گویا دیسی راگی کی خوشبو کو سند کا مرتبہ عطا کر رہے ہوں۔ ’’لیکن ہائبرڈ راگی کی خوشبو دوسرے کمرے تک بھی نہیں پہنچتی ہے!‘‘

PHOTO • Aparna Karthikeyan
PHOTO • Aparna Karthikeyan
PHOTO • Aparna Karthikeyan

بائیں: پربھا کے ذریعے پکائی گئی راگی کا آٹا۔ درمیان میں اور دائیں: گرم آٹے کو ہتھیلیوں کے سہارے گرینائٹ کے سلیب پر بیچ میں گول کرکے مڈّو (لڈو) بناتی ہوئی پربھا

شاید ان کے پاس چونکہ وہاں ساس سسر موجود ہیں، اس لیے پربھا کم بول رہی ہیں۔ وہ کڑھائی کو باورچی خانہ کے کونے میں گرینائٹ کے مستطیل پتھر پر رکھتی ہیں اور بھاپ چھوڑتی ہوئی راگی کو اس میں پلٹ دیتی ہیں۔ پھر اپنی دونوں ہتھیلیوں کی مدد سے اسے ایک ٹیوب کے سائز میں گول کر لیتی ہیں۔ بیچ بیچ میں وہ اپنی ہتھیلیوں کو  گیلا کرتی رہتی ہیں۔ اس کے بعد وہ ٹیوب کے دونوں سروں کو ایک دوسرے سے ملا کر اسے دائرہ کار بنا دیتی ہیں۔

جب کچھ گولے بن جاتے ہیں، تو ہمیں اسٹیل کی طشتری میں کھانے کے طور پر دیا جاتا ہے۔ ’’انہیں یوں کھائیے،‘‘ ناگنّا کہتے ہیں، اور راگی سے بنے مڈے کے ایک چھوٹے حصے کو توڑتے ہوئے شوربہ دار چنے میں ڈبوکر کھاتے ہیں۔ پربھا ایک دوسرے پیالے میں ہمیں ہلکی تلی ہوئی سبزیاں دیتی ہیں۔ کھانا واقعی میں کافی مزیدار پکا ہے اور کھانے کے بعد بھی گھنٹوں ہمارا پیٹ بھرا ہوا سا محسوس ہوتا ہے۔

کرشنا گیری ضلع کے برگور میں ہی، جو بالکل پڑوس میں ہے، لنگایت برادری کے لوگ راگی کی روٹیاں کھاتے ہیں۔ بہت پہلے جب میں وہاں ایک بار گئی تھی، تب کسان پاروتی سدھیا نے گھر کے باہر بنے چولہے پر مجھے روٹیاں بنا کر کھلائی تھیں۔ وہ موٹی اور مزیدار تھیں۔ روٹی کا ذائقہ مجھے کئی دنوں تک یاد رہا۔ راگی کی روٹی جنگل میں مویشیوں کو لے کر جانے والے چرواہا کنبوں کی خاص غذا ہے۔

چنئی کے غذائی تاریخ نویس، ماہر اور ٹی وی پر شو کی میزبانی کرنے والے راکیش رگھوناتھن – خاندانی کھانا – راگی ویلّا ادئی کے بارے میں بتاتے ہیں۔ راگی کا آٹا، گڑ، سوکھا ادرک پاؤڈر، ناریل کا دودھ، اور چٹکی بھر الائچی سے بنا یہ میٹھا پین کیک بہت ذائقہ دار ہوتا ہے۔ ’’میری ماں کی دادی نے مجھے یہ ادئی بنانا سکھایا تھا۔ یہ تنجاور کے علاقے میں بنایا جاتا تھا، اور روایتی طور پر اسے کارتیگئی دیپم (چراغ جلانے کا ایک روایتی تہوار) کے دن روزہ کھولنے کے لیے کھایا جاتا تھا۔‘‘ یہ موٹا نرم پین کیک تھوڑے گھی کی مدد سے پکایا جاتا ہے اور مزیدار ہونے کے ساتھ مقوی بھی ہوتا ہے۔ یہ روزہ (اُپواس) کے بعد کا بہترین کھانا ہے۔

پڈوکوٹئی ضلع کے چنّا ویر منگلم گاؤں میں ولیج کوکنگ چینل کے مشہور شیف راگی سے بنا پکوان خاص طور پر بناتے ہیں: کرواڈو (خشک مچھلی) کے ساتھ کالی ۔ ان کے یوٹیوب چینل کی خاصیت یہی ہے کہ یہ جنوبی ہند کے روایتی پکوانوں پر مرکوز ہے۔ ’’جب میں سات یا آٹھ سال کا تھا، تب راگی خوب پکائی اور کھائی جاتی تھی۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ وہ ہماری زندگی سے غائب ہوتی چلی گئی، اور اس کی جگہ چاول نے لے لی۔‘‘

کوئی حیرت کی بات نہیں تھی کہ ۸ ملین ویوز کے ساتھ ایک دو سال پرانے ویڈیو نے چینل کو ۱۵ ملین سبسکرائبر دیے۔ اس ویڈیو میں راگی کو گرینائٹ کے پتھر پر پیسنے سے لے کر اسے تاڑ کے پتّے سے بنے دونے میں کھانے تک کی تمام کارروائیوں کو بڑی باریکی سے دکھایا گیا ہے۔

PHOTO • Aparna Karthikeyan
PHOTO • Aparna Karthikeyan

بائیں: گزشتہ پانچ دہائیوں میں راگی کی کھپت میں بھاری کمی آئی ہے۔ دائیں: ناگنّا کے احاطے کا وہ پتھر جو گڑائی کے کام میں آتا تھا۔ اس پتھر کو مویشی کھینچا کرتے تھے

راگی کا سب سے دلچسپ پہلو اس کے آٹے کے مڈو تیار کرنا ہے۔ سبرامنیم کے ۷۵ سالہ دادا پیریاتمبی، پیسی ہوئی راگی کو اُبلے چاول کے ساتھ ملائے جانے کی کارروائی پر نظر رکھتے ہیں۔ اس کے بعد اس آمیزہ کے چھوٹے چھوٹے گول لڈو بنائے جاتے ہیں اور ان لڈوؤں کو چاول کی مانڈ (پکے ہوئے چاول کا پانی) میں ڈالا جاتا ہے۔ اس نمکین کھانے کو سکھائی گئی مچھلیوں، جنہیں سلگتی ہوئی لکڑی پر بھونا جاتا ہے، کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں، ’’عام طور پر روزانہ کھائے جانے والے اس پکوان کو ہری مرچ اور چھوٹے پیاز کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔‘‘

سبرامنیم چاول کی دیسی قسموں اور راگی کی غذائیت سے متعلق خوبیوں کے بارے میں گہری دلچسپی کے ساتھ بتاتے ہیں۔ سال ۲۰۲۱ کے تمل ناڈو اسمبلی انتخابات سے پہلے سبرامنیم اور ان کے بھائیوں اور چچیرے بھائیوں نے راہل گاندھی کو ان کے انتخابی سفر کے دوران خاصا متاثر کیا تھا۔ اپنی ہر ایک ویڈیو کے ساتھ ان کا چینل ان پکوانوں پر مرکوز باتیں بھی نشر کرتا ہے، جو اب خاتمہ کے دہانے پر ہیں۔

*****

وہ کسان جو کیمیکل کا زیادہ چھڑکاؤ کرتے ہیں، دراصل اپنا منافع اسپتالوں کو عطیہ کر دیتے ہیں۔
آنند رامو، کرشنا گیری کے راگی کے کاشتکار

ناگنّا کے گاؤں کے آس پاس کے علاقے کے کھیتوں سے راگی ختم ہونے کے تین بنیادی اسباب ہیں – منافع کا حساب، ہاتھیوں کی تباہی، اور سب سے اہم ماحولیاتی تبدیلی۔ پہلی وجہ پورے تمل ناڈو کا سچ ہے۔ راگی کی کھیتی میں فی ایکڑ اوسطاً ۱۶ سے ۱۸ ہزار روپے لگانے پڑتے ہیں۔ آنند تفصیل سے بتاتے ہیں، ’’اگر فصل کی مدت میں بارش ہو جاتی ہے یا ہاتھی تباہی مچاتے ہیں، تو نقصان سے نمٹنے کے لیے، حالات کو دوبارہ پٹری پر لانے کی خاطر مزدوروں پر اضافی ۲۰۰۰ روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔‘‘

’’تمل ناڈو میں ۸۰ کلو کی بوری کی قیمت فروخت ۲۲۰۰ روپے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسان کو ہر ایک کلو پر ۲۷ روپے ۵۰ پیسے ملتے ہیں۔ جس سال اچھی فصل ہوتی ہے، اس سال زیادہ سے زیادہ ۱۵ بوری راگی پیدا ہوتی ہے۔ ہائبرڈ بیجوں کے استعمال کی صورت میں یہ پیداوار ۱۸ بوری تک ہو سکتی ہے۔ لیکن، آنند آگاہ کرتے ہیں، ’’مویشیوں کو ہائبرڈ کا چارہ کھانے میں مزہ نہیں آتا، انہیں صرف دیسی قسم ہی پسند ہے۔‘‘

اور یہی ایک ڈرامائی موڑ ہے، کیوں کہ راگی کے ڈنٹھلوں کا پورا بوجھ ۱۵ ہزار روپے میں فروخت ہوتا ہے اور ایک ایکڑ زمین سے ڈنٹھل کے دو بوجھ حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ کسان ان کا استعمال مویشیوں کے چارے کے طور پر کرتے ہیں۔ وہ انہیں ٹیلہ کی شکل میں جمع کر لیتے ہیں اور سال بھر تک ان کی کھپت ہوتی رہتی ہے۔ آنند بتاتے ہیں، ’’ہم راگی بھی نہیں بیچتے ہیں۔ جب تک کہ اگلے سال اچھی فصل نہیں ہوتی ہے۔ صرف ہم ہی نہیں، ہمارے کتے اور مرغیاں تک راگی ہی کھاتے ہیں۔ اسل یے سب کا پیٹ بھرنے کے لیے ہمیں ڈھیر سارے اناج کی ضرورت ہے۔‘‘

PHOTO • M. Palani Kumar
PHOTO • M. Palani Kumar

بائیں: آنند اپنی بھیڑ بکریوں کے ساتھ؛ مویشی بنیادی طور پر راگی کے ڈنٹھل ہی کھاتے ہیں۔ دائیں: ناگنّا کے آبائی گھر میں گُڑائی کے بعد پلاسٹک کی بوریوں میں رکھے گئے اناج

آنند رامو، دراصل ایک پرانی روایتی کی ہی تصدیق کر رہے ہیں – راگی اس علاقہ اور یہاں کی عام زندگی کا مرکزی جزو ہے۔ اس کی اہمیت صرف اس لیے نہیں ہے کہ یہ ایک پرانی غذا ہے۔ آنند کہتے ہیں، ’’یہ ایک مضبوط فصل ہے، اور عام طور پر کسی بھی قسم کے ’’خطرے سے پاک‘‘ ہے۔ ’’یہ بارش یا سینچائی کے بغیر بھی دو ہفتے تک زندہ رہ سکتی ہے۔ اس میں زیادہ کیڑے نہیں لگتے ہیں، اس لیے ہمیں ٹماٹر اور پھلیوں کی طرح زیادہ کیمیکل کے چھڑکاؤ کی ضرورت بھی نہیں پڑتی ہے۔ جو کسان کیمیکل کا زیادہ چھڑکاؤ کرتے ہیں، وہ اپنے منافع کی رقم اسپتالوں میں عطیہ کر دیتے ہیں۔‘‘

تمل ناڈو کی حکومت کے ذریعے اٹھایا گیا ایک تازہ قدم مشکلوں کو تھوڑا آسان کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ریاستی حکومت نے چنئی اور کوئمبٹور میں عوامی تقسیم کے نظام کی دکانوں میں راگی بانٹنے کی شروعات کی ہے۔ اس کے علاوہ، ۲۰۲۲ کا زرعی بجٹ پیش کیے جانے کے وقت دی گئی تقریر میں وزیر ایم آر کے پنیر سیلوم نے راگی لفظ کا استعمال ۱۶ بار کیا، جب کہ چاول اور دھان دونوں کا ذکر ۳۳ بار ہوا۔ راگی کی کھیتی کو فروغ دینے کے لیے جو تجویز پیش کی گئی، ان میں ایک تجویز دو مخصوص علاقے کے قیام اور ریاستی و ضلعی سطح کے تہواروں کے انعقاد سے متعلق بھی تھی۔ اس مد میں ۹۲ کروڑ روپے کی رقم بھی مختص کی گئی ہے، تاکہ راگی کے تغذئی عناصر کے بارے میں بیداری پیدا کی جا سکے۔

ایف اے او نے بھی ۲۰۲۳ کو راگی کا بین الاقوامی سال قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اعلان ہندوستان کی تجویز سے ہی متاثر ہے جو راگی سمیت اُن غذائی اجناس پر مرکوز ہے جو اپنی تغذئی خوبیوں کی وجہ سے مشہور ہیں۔

بہرحال، ناگنّا کی فیملی کے لیے یہ چنوتیوں سے بھرا سال ہونے والا ہے۔ راگی کے لیے مقررہ نصف ایکڑ کھیت سے وہ صرف تین بوریاں پیداوار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ باقی فصلیں بارش اور جنگلی جانوروں کے حملے کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں۔ آنند کہتے ہیں، ’’راگی کے موسم میں روزانہ ہمیں درخت پر بنے مچان پر اپنی رات کاٹنی پڑتی ہے۔‘‘

ان کے دوسرے بھائی بہن – تین بھائی اور ایک بہن – میں سے کسی اور کو کھیتی کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور وہ قریب کے شہر، تلّی میں نوکریاں کرتے ہیں۔ لیکن آنند کی گہری دلچسپی کھیتی میں ہے۔ کھیت میں ٹہلتے ہوئے وہ کہتے ہیں، ’’اسکول جاکر بھی میں کیا کرتا تھا؟ آم کے پیڑ پر چڑھ جاتا تھا اور گھنٹوں شاخ پر بیٹھا رہتا تھا۔ چھٹی ہونے پر دوسرے بچوں کے ساتھ میں بھی گھر لوٹ جاتا تھا۔ میں دراصل یہی کرنا چاہتا تھا۔‘‘ بات کرتے ہوئے ان کی نظر اپنے چنے کی فصل پر ٹکی ہوئی ہے۔

PHOTO • M. Palani Kumar
PHOTO • Aparna Karthikeyan

بائیں: آنند اپنے کھیت میں چنے کی فصل کی نگرانی کرتے ہوئے۔ دائیں: راگی کے موسم میں ناگنّا کے کھیت میں درخت پر بنا مچان، تاکہ وہاں سے ہتھیاروں پر نظر رکھی جا سکے

وہ ہمیں بارش سے ہوئے نقصان کو دکھا رہے ہیں۔ فصلوں کو چاروں طرف نقصان پہنچا ہے۔ ’’میں نے اپنے ۸۶ سال کی زندگی میں ایسی بارش نہیں دیکھی،‘‘ ناگنّا کی آواز میں فکرمندی جھلک رہی ہے۔ ان کے، اور جس پر انہیں مکمل اعتماد ہے، اس پنچانگ کے مطابق اس سال کی بارش ’وشاکا‘ ہے۔ بارش کی تمام قسموں کا نام کسی ستارے کے نام پر ہے۔ ’’ اورو ماسم، ملئی، ملئی ملئی ۔‘‘ اس پورے مہینے، صرف بارش، بارش، بارش۔ ’’صرف آج تھوڑی دھوپ نکلی ہے۔‘‘ اخباروں کی رپورٹ بھی اس بھاری بارش کی تصدیق کرتی ہے۔ ان کے مطابق، ۲۰۲۱ میں تمل ناڈو میں ۵۷ فیصد زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی۔

واپس گوپا کے کھیتوں کی طرف لوٹتے ہوئے ہماری ملاقات دو بزرگ کسانوں سے ہوتی ہے۔ انہوں نے شال اوڑھ رکھی ہے اور سر پر ٹوپی پہنا ہوا ہے۔ ان کے ہاتھوں میں چھاتا ہے۔ اصل کنڑ میں بتاتے ہیں کہ کس طرح راگی کی پیداوار میں زبردست کمی آئی ہے۔ گوپا ہماری آسانی کے لیے دو لسانی کے طور پر کام کرتے ہیں۔

کے رام ریڈی (۷۴ سال) مجھے بتاتے ہیں کہ کچھ دہائی پہلے کے مقابلے اب راگی کی کھیتی ’’صرف آدھے کھیتوں‘‘ میں ہی ہوتی ہے۔ ’’ہر فیملی پر تقریباً دو ایکڑ کی اوسط سے۔ اب ہم بس اتنا ہی پیدا کرتے ہیں۔‘‘ باقی لوگوں کے کھیت میں ٹماٹر اور پھلیوں کی پیداوار ہوتی ہے۔ کرشنا ریڈی (۶۳ سال) مجھے بتاتے ہیں کہ وہ راگی بھی جو ہم ابھی اُگا رہے ہیں، صرف ہائبرڈ اور صرف ہائبرڈ ہے۔ ’’ہائبرڈ‘‘ لفظ کو نشان زد کرنے کے لیے وہ اسے زور ڈالتے ہوئے کہتے ہیں۔

اپنے بازوؤں کے پٹھوں کے ابھار کو دکھاتے ہوئے رام ریڈی بتاتے ہیں، ’’ ناٹو راگی شکتی جاستی (دیسی راگی طاقتور ہوتی ہے)۔‘‘ اپنی اچھی صحت کا پورا کریڈٹ وہ جوانی کے دنوں میں کھائے گئے دیسی راگی کو دیتے ہیں۔

لیکن اس سال کی تیز بارش سے وہ بھی پریشان ہیں۔ وہ بدبداتے ہوئے بولتے ہیں، ’’یہ بہت برا ہوا۔‘‘

بارش سے ہوئے نقصان کا معاوضہ ملنے کی انہیں زیادہ امید نہیں ہے۔ ’’ہمارے نقصان کی کوئی بھی وجہ رہی ہو، بغیر رشوت دیے ہمیں کچھ بھی حاصل نہیں ہونے والا۔ ساتھ ہی پٹّے پر ہمارا نام چڑھا ہونا چاہیے۔‘‘ ورنہ نام کے بغیر معاوضہ پر کسان کا کوئی حق نہیں ہے۔

PHOTO • Aparna Karthikeyan
PHOTO • Aparna Karthikeyan

بائیں: گولّا پلّی میں کسان کرشنا ریڈی اور رام ریڈی (سرخ ٹوپی میں)۔ دائیں: آنند ہاتھوں کے ذریعے برباد ہو چکی فصل کی تصویروں کے ساتھ

یہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا ہے۔ آنند کی آواز میں ایک مایوسی ہے۔ ان کے والد کو اپنے ہی بھائی کے ذریعے دھوکہ کا شکار ہونا پڑا تھا۔ آنند اس واقعہ کو اداکاری کرکے بتاتے ہیں۔ وہ چار قدم آگے بڑھتے ہیں اور پھر چار قدم پیچھے کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ’’انہوں نے ہمیں زمین بھی اسی طریقے سے دی – یہ کہتے ہوئے کہ یہ زمین تمہاری ہے اور یہ میری۔ میرے والد پڑھے لکھے نہیں ہیں، اس لیے وہ راضی ہو گئے۔ آج صرف چار ایکڑ زمین پر ہی ہماری رجسٹری ہے۔‘‘ سچائی یہ ہے کہ وہ زیادہ زمین پر کھیتی کر رہے ہیں۔ لیکن کسی بھی نقصان کی حالت میں وہ صرف اُس چار ایکڑ زمین کے حساب سے ہی معاوضہ کا دعویٰ کر سکتے ہیں، جو سرکاری طور پر ان کے نام ہے۔

برآمدے میں پہنچنے کے بعد وہ ہمیں تصویریں اور کاغذات دکھاتے ہیں۔ یہاں ہاتھی نے فصل روند ڈالی تھی، تو جنگلی سوروں نے نقصان پہنچایا تھا۔ ایک گرا ہوا درخت۔ برباد ہوئی فصل۔ ایک تصویر میں وہ گرے ہوئے کٹہل کے درخت کے پاس کھڑے ان کے طویل القامت اور افسردہ والد۔

ناگنّا اپنی تکلیف بتاتے ہیں، ’’کھیتی کرکے آپ پیسہ کیسے کما سکتے ہیں؟ کیا آپ کوئی اچھی گاڑی خرید سکتے ہیں؟ اچھے کپڑے پہن سکتے ہیں؟ ہماری آمدنی اتنی کم ہے، جب کہ ہمارے پاس کم از کم اپنی زمینیں ہیں۔‘‘ انہوں نے اب روایتی موقعوں پر پہنے جانے والے، فارمل کپڑے پہن لیے ہیں – ایک سفید قمیض، نئی دھوتی، ٹوپی، ماسک، اور رومال۔ ’’میرے ساتھ مندر تک چلئے،‘‘ وہ ہم سے کہتے ہیں، اور ہم ان کے ہمراہ چل پڑتے ہیں۔ جس تہوار میں وہ جا رہے ہیں، وہ دینکنی کوٹئی تعلقہ میں ہو رہا ہے، جو ’اسٹار‘ روڈ (اچھی سڑک) پر آدھے گھنٹے کی دوری پر ہے۔

ناگنّا ہمیں راستے دکھاتے ہوئے یہ بھی بتاتے جا رہے ہیں کہ اس علاقے میں کتنی تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے۔ وہ بتاتے ہیں، گلاب اُگانے والے کسان بڑے قرض لے رہے ہیں۔ وہ ایک کلو پھول کے عوض میں ۵۰ سے ۱۵۰ روپے لیتے ہیں۔ ان کی آمدنی شادی بیاہ اور جشن و تہوار پر منحصر ہے۔ اس علاقے میں گلاب کی سب سے بڑی خوبی ان کا رنگ یا ان کی خوشبو نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہاتھی گلاب کھانا پسند نہیں کرتے ہیں۔

PHOTO • M. Palani Kumar
PHOTO • M. Palani Kumar

بائیں: ناگنّا، دینکنی کٹئی میں ہونے والے جشن کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔ دائیں: دوسرے مندر سے نکالے گئے جلوس کی قیادت کرتا ہوا ہاتھی

جیسے جیسے ہم مندر کے قریب پہنچ رہے ہیں، ویسے ویسے سڑک پر مجمع بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک لمبا جلوس نکلنے والا ہے، جس کی قیادت ایک ہاتھی کرے گا۔ ناگنّا پیشن گوئی کرتے ہیں، ’’ہم آنئی سے ملیں گے۔‘‘ وہ ہمیں مندر کے باورچی خانہ میں ناشتہ کے لیے مدعو کرتے ہیں۔ کھچڑی اور بجّی کا ذائقہ مزیدار ہے۔ جلد ہی ایک ہاتھی آ چکا ہوتا ہے۔ وہ تمل ناڈو کے کسی دور افتادہ مندر سے آیا ہے اور اس کے ساتھ اس کا مہاوت اور ایک پجاری بھی ہے۔ ناگنّا کہتے ہیں، ’’ پلوتا آنئی ۔‘‘ یہ ایک بوڑھی ہتھنی ہے، جو آہستہ آہستہ سست رفتار سے چل رہی ہے۔ لوگ اپنے اپنے موبائل فون سے لگاتار تصویریں کھینچ رہے ہیں۔ جنگل سے صرف آدھے گھنٹے کی دوری پر، یہ ہاتھی کی ایک الگ کہانی ہے۔

مجھے آنند کی ایک بات یاد آتی ہے، جسے انہوں نے تب کہی تھی، جب وہ برآمدے میں گلے میں تولیہ لپیٹے بیٹھے تھے۔ ’’اگر ایک یا دو ہاتھی کی بات ہو، تو ہم ان سے نمٹ سکتے ہیں، لیکن نوجوان نر ہاتھیو کو قابو میں کرنا بہت مشکل ہے۔ وہ کافی ہنگامہ مچا سکتے ہیں اور کچھ بھی کھا سکتے ہیں۔‘‘

آنند ان کی بھوک کو سمجھتے ہیں۔ ’’صرف آدھا کلو کھانے کے لیے ہم اتنی محنت کرتے ہیں۔ پھر ہاتھی کیا کریں گے؟ ان کو روزانہ ۲۵۰ کلوگرام کھانے کی ضرورت ہے۔ ہم ایک کٹہل کے پیڑ سے ۳۰۰۰ روپے کما سکتے ہیں۔ جس سال ہاتھی سب کچھ کھا جاتے ہیں، ہم بس یہی سوچتے ہیں کہ بھگوان ہمارے گھر آئے تھے۔‘‘

اس کے بعد بھی آنند کی بس اتنی سی خواہش ہے۔ کسی دن وہ ۳۰ سے ۴۰ بوریوں کے برابر راگی اُگانا چاہتے ہیں، ’’ سیئنم، میڈم۔ میں ایک دن ضرور کامیاب ہوؤں گا۔‘‘

موٹئی وال کی بھی یہی خواہش ہے…

اس تحقیقی مطالعہ کو بنگلورو کی عظیم پریم جی یونیورسٹی کے ریسرچ فنڈنگ پروگرام ۲۰۲۰ کے تحت مالی تعاون حاصل ہے۔

کور فوٹو: ایم پلانی کمار

مترجم: محمد قمر تبریز

Aparna Karthikeyan

Aparna Karthikeyan is an independent journalist, author and Senior Fellow, PARI. Her non-fiction book 'Nine Rupees an Hour' documents the disappearing livelihoods of Tamil Nadu. She has written five books for children. Aparna lives in Chennai with her family and dogs.

Other stories by Aparna Karthikeyan
Photographs : M. Palani Kumar

M. Palani Kumar is PARI's Staff Photographer and documents the lives of the marginalised. He was earlier a 2019 PARI Fellow. Palani was the cinematographer for ‘Kakoos’, a documentary on manual scavengers in Tamil Nadu, by filmmaker Divya Bharathi.

Other stories by M. Palani Kumar
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez