مدورئی کے ٹرانس آرٹسٹ: ظلم و ستم، تنہائی اور مالی تنگی

معاشرہ کے ظلم کے شکار، فیملی کے ذریعے چھوڑ دیے گئے، اور معاش سے محروم، تمل ناڈو کے ٹرانس فوک آرٹسٹ اپنی زندگی کے سب سے خراب دور سے گزر رہے ہیں

۲۹ جولائی، ۲۰۱۱ | رپورٹنگ: ایس سینتھالیر | تصویریں: ایم پلانی کمار

مدورئی کے ٹرانس فوک آرٹسٹوں کی درد بھری زندگی

وبائی مرض نے تمل ناڈو میں نہ جانے کتنے مقامی فنکاروں کی زندگی تباہ کر دی، ٹرانس خواتین فنکاروں پر اس کا اثر سب سے زیادہ ہوا، جن کے پاس نہ تو کوئی کام ہے نہ ہی آمدنی کا کوئی ذریعہ، اور حکومت کی جانب سے بھی انہیں کوئی مدد نہیں ملی ہے

۲۷ جولائی، ۲۰۱۱ | رپورٹنگ: ایس سینتھالیر | تصویریں: ایم پلانی کمار

جودھپور کا کٹھ پتلی تماشا: اسٹیج خالی، ناظرین غائب

اس ویڈیو اسٹوری میں پریم رام بھاٹ اور دوسرے لوگ بتا رہے کہ کیسے کٹھ پتلی تماشا، جو کسی زمانے میں شاہی درباروں اور گاؤں کی تقریبات میں کافی مقبول تھا، اب لوگوں کی دلچسپی کا باعث نہیں رہا، اور لاک ڈاؤن نے ان کی آمدنی کو بری طرح متاثر کیا ہے

۱۶ جولائی، ۲۰۲۱ | مادھو شرما

مدورئی میں کومبو کی دھیمی ہوتی آواز

کووڈ۔۱۹ لاک ڈاؤن کے دوران مندر کے تہواروں اور عوامی پروگراموں سے کوئی آمدنی نہ ہونے کی وجہ سے تمل ناڈو کے کومبو فنکار پریشان ہیں۔ لیکن ان کی تشویش کی بنیادی وجہ اس فن کا آہستہ آہستہ ختم ہونا ہے

۲۹ جون، ۲۰۲۱ | ایم پلانی کمار

کرگٹّم کے فنکار: مدورئی میں بدحالی کے شکار

تمل ناڈو کے کرگٹّم کے فنکار، جو گزر بسر کے لیے اسی فن پر منحصر ہیں، اب کام نہ ملنے اور آمدنی کی کمی کے سبب کافی پریشان ہیں – اور اس بات کو لیکر فکرمند ہیں کہ وبائی مرض کا یہ دور اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے اُن کے خواب کو چکناچور کر دے گا

۱۶ جون، ۲۰۲۱ | ایم پلانی کمار

’پھولوں کے ہار کی طرح رقص‘

سردی کے مہینوں میں تقریبات اور جشن کے دوران، چھتیس گڑھ کی گونڈ برادری کے نوجوان مرد و عورت ہُلکی مانڈری اور کولانگ رقص کرنے کے لیے ایک ساتھ سفر کرتے ہیں، اور ریلا گیت گاتے ہیں

۳۰ مارچ، ۲۰۲۱ | پرشوتم ٹھاکر

تیرہ تالی: ۱۳ مجیروں کا رقص

نرملا دیوی، ان کی بیٹی تارا، اور کلی طور پر خواتین پر مشتمل ان کا گروپ ماہر رقاصاؤں سے بھرا ہوا ہے، تیرہ تالی والی پیشکش جن کی خاص پہچان ہے۔ ہر شام کو وہ اُدے پور کی باگور کی حویلی میں اسٹیج پر نمودار ہوتی ہیں

۲۰ ستمبر، ۲۰۱۹ | اورجا

چاروبالا: خوشی اور جھومور، تکلیف اور گانا

مغربی بنگال کے پرولیا ضلع کے سین بانا گاؤں میں، ۶۵ سالہ چاروبالا کالندی، جنہوں نے دہائیوں سے نچنی کے طور پر رقص کیا ہے، ابھی بھی اپنے رسِک اور ان کی منڈلی کے ساتھ پوری توانائی سے اپنے فن کا مظاہرہ کرتی ہیں

۱۹ جولائی، ۲۰۱۹ | ابھجیت چکربورتی

سائیکل، لباس، رنگ
and • Gariaband, Chhattisgarh

سائیکل، لباس، رنگ

دیوتا کے سامنے رقص کرنے کے لیے چھتیس گڑھ کے دیوبھوگ جاتے ہوئے

۲۳ اکتوبر، ۲۰۱۸ | پرشوتم ٹھاکر

ایک بہروپیے کی تبدیل ہوتی زندگی

مغربی بنگال کے بیشائے پور گاؤں کے رہنے والے راجو چودھری ایک داستان گو، بے چین گلوکار، ایک بہروپیا ہیں۔ ان کی آمدنی اوسط ہے اور کام مشکل۔ یہ فلم خیالی تارا سُندوری کی شکل میں ان کے حیران کن رقص پر مبنی ہے

۲۳ مارچ، ۲۰۱۸ | سنچیتا مانجی

کٹھ پتلی کے ہنر کو زندہ رکھنے کی آخری جدوجہد

آندھرا پردیش کے پرکاشم ضلع میں پتلی باز، اپنے ہنر کی شاندار روایت اور تاریخ کو زندہ رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، حالانکہ انھیں ریاست سے کوئی مدد نہیں مل رہی ہے اور ٹیلی ویژن نے تفریح کے تمام ذرائع چھین لیے ہیں

۲۱ مارچ، ۲۰۱۸ | راہل ماگنتی

تماشہ کا سفر تبدیلی کے ساتھ جاری ہے

ٹیکنالوجی اور سامعین کے ذائقے میں تبدیلی، اداکاری کے لیے سکڑتی جگہیں اور دیگر عناصر نے تماشہ پر اثر ڈالا ہے۔ اس کو لے کر منڈلی مالکوں کے تاثرات ملے جلے ہیں – رتناگیری ضلع کے رگھوویر کھیڈکر کا ماننا ہے کہ تماشہ خطرے میں ہے، جب کہ ستارا ضلع کی منگلا بنسوڈے کو یقین ہے کہ یہ فن زندہ رہے گا

۷ دسمبر، ۲۰۱۷ | ونے کرت کوٹی اور شتاکشی گوڑے

’تماشہ ایک جیل ہے، جس میں میں رہنا چاہتا ہوں‘

تماشہ دیہی مہاراشٹر میں کافی مقبول ہے۔ یہاں بہت سے لوگ زرعی مزدوری کے مقابلے اسے ایک مستحکم ذریعۂ معاش تصور کرتے ہیں، حالانکہ سخت محنت کے باوجود پیسے کافی کم ملتے ہیں۔ ایسی ہی ایک بڑی منڈلی منگلا بنسوڈے چلاتی ہیں، جنہوں نے کل، 9 اکتوبر کو تخلیقی فنون کے زمرہ میں قومی ایوارڈ حاصل کیا

۱۰ اکتوبر، ۲۰۱۷ | ونے کرت کوٹی اور شتاکشی گوڑے

ہیسر گھٹّا میں ڈولو پر رقص
and • Bangalore Urban, Karnataka

ہیسر گھٹّا میں ڈولو پر رقص

بنگلورو کے نواح میں نوجوان عورتیں کنّڑ ڈھول اور رقص کی اس شکل میں مہارت حاصل کر چکی ہیں جسے کبھی طاقتور مردوں کا ہنر تصور کیا جاتا تھا۔ یہاں پیش کیے گئے ویڈیو میں، خواتین کی اس جماعت کو پوری توانائی اور لَے کے ساتھ اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے

۱۴ نومبر، ۲۰۱۷ | وشاکا جارج

بہوروپی: متعدد چہروں والی فیملی

مغربی بنگال کے بہوروپی آرٹسٹس کسی پرفارمنس کے دوران مختلف کرداروں میں آسانی سے ڈھل جاتے ہیں، لیکن بدلتے ہوئے زمانے کے ساتھ اپنے رول کو بدلنے میں انھیں کافی مشکلیں آ رہی ہیں

۲۰ جنوری، ۲۰۱۷ | انکن رائے اور ساگریکا بسو

نقلی ٹانگ والے گھوڑے کا رقص

تھنجاوُر، تمل ناڈو کے ماہر پوئیکل کٹھی رائے ڈانسرز اپنے قدیم علاقائی آرٹ کے دَم پر گزر بسر کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں

۱۳ اکتور، ۲۰۱۶ | اپرنا کارتکیئن

علی راج پور کے بھیل
and • Alirajpur, Madhya Pradesh

علی راج پور کے بھیل

علی راج پور کے زیادہ تر گاؤوں ویران اور بنجر ہو چکے ہیں اور یہاں پر گزر بسر کے کچھ ہی مواقع بچے ہیں، بھیل اپنی کھیتی اور ثقافتی روایات کو برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں

۱۴ جولائی، ۲۰۱۶ | روہت جین

ڈھول، بیگ پائپ اور چھولیا رقص

اتراکھنڈ کی چھولیا منڈلی اسکاٹش بیگ پائپ کو دیہی ہندوستانی موسیقی میں ڈھالتی ہے

۲ اپریل، ۲۰۱۶ | یششونی رگھونندن اور ایکتا متّل

پُنگ
and • Thoubal, Manipur

پُنگ

اس روایتی ڈھول کو منی پور کی میئی تیئی برادری کی ثقافت، اور رقص و موسیقی میں مرکزی مقام حاصل ہے

۳۱ دسمبر، ۲۰۱۵ | انوبھا بھونسلے اور سُنزو بچسپتی مایوم

کٹئی کُٹو طریقے سے داستان گوئی

تمل ناڈو میں تعلیم اور تھیٹر آرٹ کے ایک انوکھے اسکول کے طلبہ فنکار

۱۳ نومبر، ۲۰۱۵ | نمیتا وائیکر

دھاگے سے لٹکا ہوا
and • New Delhi, Delhi

دھاگے سے لٹکا ہوا

دہلی کی پرانی کٹھ پتلی کالونی اس وقت نہایت خستہ حالت میں ہے

۱۸ دسمبر، ۲۰۱۴ | اُروشی سرکار

کالی کا رقص – تھپّتّم
and • Kanchipuram, Tamil Nadu

کالی رقص - تھپّتّم

کالی ویرپڈرن – کلاسیکی رقص، بھرت ناٹیم کی ایک شکل جس میں شاید صرف مردوں نے ہی مہارت حاصل کی ہے – اور تمل فوک ڈانس کی تین قدیم شکلوں کی شاندار پیشکش دیکھیں

۲۰ جولائی، ۲۰۱۴ | اپرنا کارتکیئن

کالی: ڈانسر اور ان کے خواب

’میں ایک ڈانس اسکول کھولنا چاہتا ہوں، میں پیسے کمانا چاہتا ہوں، میں اپنی ماں کی دیکھ بھال کرنا چاہتا ہوں، میں ڈانس کرنا چاہتا ہوں‘

۱۶ جولائی، ۲۰۱۴ | اپرنا کارتکیئن

کالی: ڈانسر اور ان کے خواب – فلم

کالی ویر پڈرن پر مبنی فلم، جنہوں نے بھرت ناٹیم کے ساتھ ساتھ تمل فوک ڈانس کی تین شکلوں میں مہارت حاصل کی ہے

۱۰ جولائی، ۲۰۱۴ | اپرنا کارتکیئن

مترجم: محمد قمر تبریز

Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez