چترا اور متھو راجا کے پیار کی ان کہی داستان

متھوراجا کا ہاتھ چترا کے کندھے پر ہے، اور وہ انہیں راستہ بتاتی ہیں – مدورئی ضلع کے یہ میاں بیوی زندگی کی مشکلوں کا ایک ساتھ مل کر سامنا کرتے ہیں۔ لیکن غریبی، خراب صحت اور جسمانی معذوری ان کے لیے روزمرہ کی زندگی کو مشکل بنا دیتی ہے

۱ ستمبر، ۲۰۲۱ | ایم پلانی کمار

اسکول، کھیل اور چلنے پھرنے سے محروم ہوا محسن

سرینگر میں بے گھر لوگوں کے لیے بنائی گئی ’رکھِ آرتھ‘ ہاؤسنگ کالونی میں بسنے کے بعد سے، دماغی طور پر مفلوج اپنے بیٹے کے علاج کا انتظام کرنے اور گزر بسر کے لیے کام تلاش کرنے میں اخون فیملی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

۶ مئی، ۲۰۲۱ | کنیکا گپتا

بہادر ٹیچر کے جذبہ سے سبق حاصل کرنا

پرتبھا ہلیم کو پچھلے سال گینگرین کی وجہ سے اپنے دونوں پیر کھونے پڑے تھے۔ لیکن پالگھر، مہاراشٹر کی اس آدیواسی ٹیچر نے ہمت کے ساتھ اپنے ہی گھر پر اُن بچوں کو پڑھانا جاری رکھا ہے، جن کے پاس ’آن لائن تعلیم‘ تک رسائی کے مواقع کافی کم ہیں

۳ دسمبر، ۲۰۲۰ | شردھا اگروال

وبائی مرض کے دوران ’چھونے کے ذریعے دنیا‘ کو دیکھنا

ومل اور نریش ٹھاکرے، دونوں نا بینا، ممبئی کی لوکل ٹرین میں رومال فروخت کرتے تھے۔ لاک ڈاؤن نے ان کی، اور کئی دیگر لوگوں کی آمدنی چھین لی۔ انہیں حکومت سے معمولی مدد مل رہی ہے اور مستقبل غیر یقینی ہے

۱۰ جولائی، ۲۰۲۰ | جیوتی شنولی

’ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ میری ہڈیاں کھوکھلی ہو چکی ہیں‘

زندگی بھر بیماری اور کئی سرجری کے بعد، پونہ ضلع کے ہڈشی گاؤں کی بیبا بائی لوئرے کمر سے جھک گئی ہیں۔ پھر بھی، وہ کھیتی کا کام اور اپنے فالج زدہ شوہر کی دیکھ بھال کرنا جاری رکھے ہوئی ہیں

۲ جولائی، ۲۰۲۰ | میدھا کالے

’ڈاکٹروں نے بچہ دانی نکلوانے کا مشورہ دیا تھا‘

ذہنی طور پر معذور عورتوں کی جنسی اور تولیدی صحت کے حقوق کی اکثر خلاف ورزی کی جاتی ہے اور انہیں اکثر اپنی بچہ دانی نکلوانے کے لیے مجبور کر دیا جاتا ہے۔ لیکن مہاراشٹر کے واڈی گاؤں میں، مالن مورے خوش قسمت ہیں کہ انہیں اپنی ماں کا ساتھ ملا

۹ جون، ۲۰۲۰ | میدھا کالے

پنویل سے ایم پی: اسکوٹر پر چار دن اور چار راتیں

چند سال قبل ایک حادثہ میں اپنا ایک پیر گنوا چکے بملیش جیسوال نے لاک ڈاؤن کے دوران اپنی بیوی اور تین سال کی بیٹی کے ساتھ، مہاراشٹر کے پنویل سے مدھیہ پردیش کے ریوا تک، ۱۲۰۰ کلومیٹر کا سفر بنا گیئر والے اسکوٹر سے پورا کیا

۹ جون، ۲۰۲۰ | پارتھ ایم این

خاص نظر سے بنی ٹوکری

میزورم کے راجیو نگر کے ایک نابینا دست کار، دیبہال، یادداشت کی بنیاد پر اور چھو کر گزشتہ ۵۰ برسوں سے معاش کے لیے خوبصورت ٹوکریاں بنا رہے ہیں، اور کہتے ہیں کہ وہ ابھی بانس کا بھی گھر بنا سکتے ہیں

۲۵ جولائی، ۲۰۱۹ | لوکیش چکمہ

دھروتا میں، جان سے بھی زیادہ قیمتی، ایک کارڈ

کیا آدھار کارڈ سبھی سرکاری اسکیموں تک رسائی کو بہت آسان بناتا ہے؟ اترپردیش کے الہ آباد ضلع کے ایک گاؤں میں بھوک سے ہونے والی ایک موت سے پتہ چلتا ہے کہ کارڈ حاصل کرنے کا عمل غریبوں کی جان لے سکتا ہے

۹ جولائی، ۲۰۱۸ | پوجا اوستھی

ووٹ کے لیے کافی، آدھار کے لیے نہیں

پاروتی دیوی کی انگلیاں کوڑھ کی وجہ سے خراب ہو چکی ہیں۔ لہٰذا لکھنؤ میں کوڑا چننے والی یہ – اور شاید اس مرض میں مبتلا ایسی ہی ہزاروں دیگر – آدھار کارڈ حاصل نہیں کر سکتیں، اور اس کے بغیر معذوری کا اپنا پنشن یا راشن حاصل نہیں کر سکتیں

۳۰ مارچ، ۲۰۱۸ | پوجا اوستھی

بنگو میں جسموں کو توڑنے والی کچ دھات

جھارکھنڈ کے مشرقی سنگھ بھوم ضلع میں جڈوگوڈا کان سمیت، یورینیم کانوں کے قریب واقع گاؤوں میں رہنے والے لوگ، نصف صدی سے شعاع پذیر سلری اور زہریلے نالوں کے پاس رہنے کی بڑی قیمت چکا رہے ہیں

۱۹ مارچ، ۲۰۱۸ | سبھراجیت سین

مراٹھواڑہ کے پانی سے خراب ہوتی ہڈیاں

مراٹھواڑہ میں بار بار کی قحط سالی نے ساورکھیڈ جیسے گاؤوں کے لوگوں کو بورویل کا فلورائڈ سے آلودہ پانی پینے پر مجبور کر دیا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کی ہڈیاں کمزور ہو چکی ہیں

۱۲ جنوری، ۲۰۲۰ | پارتھ ایم این

’اگر یہ رک گیا، تو میری زندگی بھی رک جائےگی‘

پاری کے رضاکار سنکیت جین کا ارادہ ہے ہندوستان بھر کے ۳۰۰ گاؤوں کا دورہ کرنا۔ دیگر اسٹوریز کے علاوہ، یہ فیچر انہی کی تخلیق ہے: جو کسی دیہی منظر یا واقعہ کی تصویر اور اس تصویر کا خاکہ ہے۔ پاری پر اس سلسلہ کی یہ چھٹی کڑی ہے۔ پوری تصویر یا خاکہ کو دیکھنے کے لیے سلائڈر کو دائیں یا بائیں کسی ایک جانب دبا کر کھینچیں

سنکیت جین
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez