مدورئی میں کومبو کی دھیمی ہوتی آواز

کووڈ۔۱۹ لاک ڈاؤن کے دوران مندر کے تہواروں اور عوامی پروگراموں سے کوئی آمدنی نہ ہونے کی وجہ سے تمل ناڈو کے کومبو فنکار پریشان ہیں۔ لیکن ان کی تشویش کی بنیادی وجہ اس فن کا آہستہ آہستہ ختم ہونا ہے

۲۹ جون، ۲۰۲۱ | ایم پلانی کمار

’پھولوں کے ہار کی طرح رقص‘

سردی کے مہینوں میں تقریبات اور جشن کے دوران، چھتیس گڑھ کی گونڈ برادری کے نوجوان مرد و عورت ہُلکی مانڈری اور کولانگ رقص کرنے کے لیے ایک ساتھ سفر کرتے ہیں، اور ریلا گیت گاتے ہیں

۳۰ مارچ، ۲۰۲۱ | پرشوتم ٹھاکر

دنکر آئیولے کی محنت سے بنی بے شمار بانسری

مہاراشٹر کے کوڈولی گاؤں کے استاد دستکار اور موسیقی ساز دِنکر آئیولے ڈیڑھ لاکھ گھنٹے تک بانسری بنانے کا کام کر چکے ہیں – لیکن لاک ڈاؤن اور دیگر چنوتیوں کے سبب یہ کام اور موسیقی پھیکنی پڑنے لگی ہے

۶ مارچ، ۲۰۲۱ | سنکیت جین

غائب ہوتی: منی رام کی بانسری، اورچھا کے جنگل

بانسری بنانے والے، چھتیس گڑھ کے نارائن پور ضلع کے گونڈ آدیواسی، منی رام منڈاوی اُس وقت کو یاد کرتے ہیں، جب جنگل جانوروں، درختوں اور اُس بانس سے بھرے ہوتے تھے جس سے وہ ایک خاص قسم کی ’گھمانے والی بانسری‘ بناتے ہیں

۲۴ فروری، ۲۰۲۱ | پریتی ڈیوڈ

رقص اور گانے کے ذریعہ کسانوں کا احتجاج

جنوری کے آخر میں ممبئی کے آزاد میدان میں کسانوں کے احتجاجی مظاہرہ میں، مہاراشٹر کے ڈہانو تعلقہ کی آدیواسی برادریوں کے دھُمسی اور تارپا بجانے والوں نے رقص اور گانے کے ذریعہ نئے زرعی قوانین کی مخالفت کی

۲۴ فروری ۲۰۲۱ | اورنا راؤت اور ریا بہل

پیروویمبا: اپنی لے کو برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد

کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن میں سامان فروخت نہیں ہونے، اور اپنے ڈھول کے لیے کچا چمڑا خریدنے میں مشکلات کے سبب، کیرالہ کے پیروویمبا گاؤں میں آلات موسیقی بنانے والے کڑچی کولّن کاریگروں کو مستقل آمدنی حاصل نہیں ہو پا رہی ہے

۱۹ جنوری، ۲۰۲۱ | کے اے شاجی

بانس گیت: چھتیس گڑھ میں گائے کے چرواہوں کی دھن

گوالا برادری سے تعلق رکھنے والے پنچ رام، بابو لال اور سہدیو یاد وسطی چھتیس گڑھ کے بالود ضلع میں اب بھی بانس باجا گیت بجاتے ہیں، لیکن یہ روایتی آلہ موسیقی اور گیت اب مقبول نہیں رہے

۱۳ جنوری، ۲۰۲۱ | پرشوتم ٹھاکر

’’ہم ہنستے، گاتے اور جھومتے ہوئے دہلی پہںچیں گے‘‘

مہاراشٹر کے مختلف ضلعوں سے تقریباً ۱۰۰۰ کسان، جن میں سے زیادہ تر آدیواسی ہیں – گاڑی، ٹیمپو، جیپ اور کاروں کے ذریعہ دہلی کے احتجاجی مظاہرین کے ساتھ شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ایک خوبصورت اور پر عزم قافلہ ہے

۲۴ دسمبر، ۲۰۲۰ | شردھا اگروال

بیربھوم سے غائب ہوتی جل، جنگل، زمین کی آوازیں

آدیواسی برادریوں میں مقبول، اور ان کے ذریعہ بنائے جانے والے موسیقی کے ساز اب غائب ہو رہے ہیں۔ اور مغربی بنگال کے بیربھوم ضلع میں ایسا ہونے کی وجہ ثقافتی نہیں، بلکہ کچھ اور ہے

۱۸ نومبر، ۲۰۲۰ | سیانی چکربورتی

دُرگا پوجا سے ڈھاکی ابھی غائب نہیں ہوئے

دیہی بنگال کے روایتی ڈھول بجانے والوں کو اس موسم میں کولکاتا میں مشکلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

۲۶ اکتوبر، ۲۰۲۰ | رتائن مکھرجی

ساز کو ٹھیک کرنے والے زندگی سے پریشان

ہارمونیم کی مرمت کرنے والے جبل پور، مدھیہ پردیش کے کئی کاریگر لاک ڈاؤن کے سبب دو مہینے سے مہاراشٹر کے ریناپور میں پھنسے ہوئے تھے۔ انہوں نے پاری کو اپنی پریشانیوں کے بارے میں بتایا

۱۵ جون، ۲۰۲۰ | ایرا دیولگاؤنکر

راجما اور مکئی، رُباب اور کھنجری

چمبا ضلع کے ایک کسان و موسیقار، پریم لال کو حال ہی میں ایک پروگرام کے دوران اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنیں

۱۲ مارچ، ۲۰۲۰ | پرشوتم ٹھاکر

مایلاپور کے مردنگم ساز

جیسوداس اور ان کے بیٹے ایڈوِن ماہر کاریگر ہیں، جنہیں چنئی کی کرناٹک موسیقی دنیا اور دیگر جگہوں پر مردنگم بنانے کے لیے جانا جاتا ہے، حالانکہ انھیں آج بھی کبھی کبھار ذات پر مبنی تفریق کا سامنا کرنا پڑتا ہے

۲۳ مئی، ۲۰۱۹ | آشنا بوٹانی

کاسر گوڑ کے بانس کا ڈھول بجانے والے

کیرالہ کے پرپّا گاؤں میں تہواروں اور دیگر پروگراموں کے دوران ماویلن آدیواسی برادری کے لوگ ’گھاس‘ پر ڈھول بجاتے ہیں، اور سال کے باقی دن یومیہ مزدوری کرتے ہیں

۱۶ اپریل، ۲۰۱۹ گوپیکا اجیَن

ساز، گیت، نعرے
and • Nashik, Maharashtra

ساز، گیت، نعرے

ناسک میں ۲۰-۲۱ فروری کو ہوئی کسانوں کی ریلی میں، کئی لوگ اپنے روایتی موسیقی آلات کے ساتھ آئے تھے، جس سے احتجاجی ریلی میں ساز اور گیت بھی شامل ہو گیا

۱ مارچ، ۲۰۱۹ | سنکیت جین

اچھوٹی میں ناچ کے لیے باجا

مغربی اوڈیشہ میں دلت برادریوں کے موسیقار ہر سال رائے پور کے ایک چوراہے پر اکٹھا ہوتے ہیں، اور چھتیس گڑھ کے او بی سی رقص گروہوں کے ذریعہ کام پر رکھے جانے کا انتظار کرتے ہیں

۱۳ فروری، ۲۰۱۹ | پرشوتم ٹھاکر

پہاڑوں میں مہاجر موسیقار
and • Kangra, Himachal Pradesh

پہاڑوں میں مہاجر موسیقار

راجستھان کے زرعی مزدور ہر سال اپریل-مئی کے مہینوں میں ہماچل پردیش کے دھرم شالہ میں راون ہاتھا بجانے جاتے ہیں، جو کہ ایک مشہور صدیوں پرانا مقامی آلہ موسیقی ہے، اور اس سے موسمی آمدنی کماتے ہیں

۲۰ جون، ۲۰۱۸ | نمیتا وائکر

ہیسر گھٹّا میں ڈولو پر رقص
and • Bangalore Urban, Karnataka

ہیسر گھٹّا میں ڈولو پر رقص

بنگلورو کے نواح میں نوجوان عورتیں کنّڑ ڈھول اور رقص کی اس شکل میں مہارت حاصل کر چکی ہیں جسے کبھی طاقتور مردوں کا ہنر تصور کیا جاتا تھا۔ یہاں پیش کیے گئے ویڈیو میں، خواتین کی اس جماعت کو پوری توانائی اور لَے کے ساتھ اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے

۱۴ نومبر، ۲۰۱۷ | وشاکا جارج

اچار اور پاپڑ سے آگے ڈھول اور خواب

گاؤں والوں کے طعنوں، شوہر کی گالیوں، اور ذات سے متعلق صدیوں پرانے خیالات سے لڑتی، بہار کے ڈھیبرا گاؤں کی دس دلت عورتوں نے ایک بینڈ بنایا ہے – اور اب ان کی تال پر بہت سے لوگ ناچنے اور جھومنے لگے ہیں

۳ اگست، ۲۰۱۷ | پوجا اوستھی

باسو دیب باؤل: بنگال کا افسانوی گیت گا رہے ہیں

موسیقی کا باؤل کلچر، زندگی کے اتحاد پسندانہ فلسفہ کے سبب امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں پر دکھائی جا رہی فلم میں، بیربھوم ضلع کے بولپور سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور اور ٹیچر، باسودیب داس باؤل، زندگی کے اس طریقہ اور آرٹ کی شکل کے بارے میں بتا رہے ہیں

۱ اگست، ۲۰۱۷ | سنچیتا ماجی

ڈھول، بیگ پائپ اور چھولیا رقص

اتراکھنڈ کی چھولیا منڈلی اسکاٹش بیگ پائپ کو دیہی ہندوستانی موسیقی میں ڈھالتی ہے

۲ اپریل، ۲۰۱۶ | یششونی رگھونندن اور ایکتا متل

جب میناکشی ایک برتن کو ۳۰۰۰ بار پیٹتی ہیں

آٹھ کلوگرام مٹی، جو مانامدروئی، تمل ناڈو میں خوبصورت موسیقی پیدا کرتی ہے

۸ مارچ، ۲۰۱۶ | اپرنا کارتکیئن

پُنگ
and • Thoubal, Manipur

پُنگ

اس روایتی ڈھول کو منی پور کی میئی تیئی برادری کی ثقافت، اور رقص و موسیقی میں مرکزی مقام حاصل ہے

۳۱ دسمبر، ۲۰۱۵ | انوبھا بھونسلے اور سنزو بچسپتی مایوم

نرسنگاپیٹئی کے ناد سُوَرَم بنانے والے

یہ دستکار کئی نسلوں سے ہوا سے بجنے والا ساز بناتے چلے آ رہے ہیں۔ لیکن نئی نسل چونکہ زیادہ پیسے والے کاموں کی طرف بھاگ رہی ہے، اس لیے یہ فن موت کے دہانے پہنچ چکا ہے۔

۱۳ اپریل، ۲۰۱۵ | اپرنا کارتکیئن

گجرات کے ڈانگ میں پاوری بجاتے ہوئے

ڈانگ کی آدیواسی برادریوں کے اس روایتی ساز کو سنیں

۲۱ جولائی، ۲۰۱۴ | ساکشی

مترجم: محمد قمر تبریز

Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez