ہُک، لائن اور سِنکر: مالوَن کی ماہی گیر عورتیں

مہاراشٹر کے مالوَن تعلقہ میں – پورے ہندوستان کی طرح ہی – مچھلی خریدنے، خشک کرنے، ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے اور ذخیرہ کرنے سے لیکر اسے کاٹنے اور فروخت کرنے تک، عورتیں مچھلیوں کے کاروبار میں اہم رول ادا کرتی ہیں، لیکن انہیں ماہی گیر مردوں جتنی سبسڈی نہیں ملتی ہے

۲۷ اکتوبر ۲۰۲۰ | تریشا گپتا اور ماننی بنسل

لاک ڈاؤن اور گہرے سمندر کے درمیان پھنسے آندھرا کے ماہی گیر

لاک ڈاؤن اور گہرے سمندر کے درمیان پھنسے آندھرا کے ماہی گیر

۲۶ اپریل، ۲۰۲۰ | امرتا کوسورو

’کشتیوں کو بھی اپنے ملاحوں کی یاد آ رہی ہوگی‘

کووِڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن کے سبب مدھیہ پردیش کے چترکوٹ میں رہنے والے نشاد کشتی بانوں کا معاش بھی متاثر ہوا ہے۔ اس برادری کے بہت سے لوگوں کے پاس راشن کارڈ تک نہیں ہے۔ سشما دیوی، ایک حاملہ ماں اور بیوہ، بھی انہیں میں سے ایک ہیں

۲۰ اپریل، ۲۰۲۰ | جگیاسا مشرا

’آج ہم اُن مچھلیوں کو ڈِسکوری چینل پر تلاش کر رہے ہیں‘

تمل ناڈو کے رام ناتھ پورم ضلع کے پامبن جزیرہ پر ماہی گیروں کے ذریعے اور ماہی گیروں کے لیے چلایا جانے والا کمیونٹی ریڈیو، کڈل اوسئی، اس ہفتہ تین سال کا ہو گیا۔ اب اس کا جدید ترین نشریہ موسمیاتی تبدیلی پر مرکوز ہے

۱۲ اگست، ۲۰۱۹ | کویتا مرلی دھرن

خلیج بنگال میں ماہی گیروں کا خطرہ

ماہی گیر، جو موسمی مچھلی پکڑنے کے لیے خلیج بنگال کے غیر آباد جزیروں پر اقامت اختیار کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ مچھلی کی کمی، پانی کے ناکارہ ہونے اور بڑے ٹرالروں کے آنے کی وجہ سے انھیں یہاں سے بھاگنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے

۲۹ مئی، ۲۰۱۹ | نیہا سملئی

چِراڈپاڑہ میں خوشحالی سے بدحالی

تھانے ضلع کے چِراڈپاڑہ گاؤں کے باہر دہائیوں سے رہ رہے چار کاتکری آدیواسی کنبے جلد ہی اپنی جھونپڑیاں اور ذریعہ معاش کھو سکتے ہیں، جب ممبئی-ناگپور سمردھی شاہراہ کا ایک پُل ان کی بستی سے ہو کر گزرے گا

۲۷ مارچ، ۲۰۱۹ | جیوتی شنولی

روٹی چھیننے والا ’فوڈ پارک‘
and • West Godavari, Andhra Pradesh

روٹی چھیننے والا ’فوڈ پارک‘

آندھرا پردیش کے مغربی گوداوری ضلع میں لوگ، ایک بڑے ایکوا فوڈ پارک سے روزانہ گونٹیرو نالے میں ۵۰ ہزار لیٹر آلودہ پانی ڈالنے کی تجویز کے خلاف لڑائی لڑ رہے ہیں، ان کی یہ لڑائی ریاست سے بھی ہے

۱۷ جنوری، ۲۰۱۸ | ساہتھ ایم

دھنُش کوڑی کے بھلا دیے گئے لوگ

تمل ناڈو کے دھنُش کوڑی کو نصف صدی قبل ایک زبردست سمندری طوفان نے ویران کر دیا تھا، لیکن مچھلیوں کا کام کرنے والے ۴۰۰ خاندان آج بھی وہاں رہتے ہیں۔ اتنے دنوں تک کسی نے بھی ان کو نہیں پوچھا، لیکن اب انھیں سیاحت کے فروغ میں روڑہ سمجھا جا رہا ہے

۱۰ جنوری، ۲۰۱۸ | دیپتی استھانا

اوکھی میں لاپتہ ماہی گیروں کے منتظر رشتہ دار

کیرالہ میں ۳۰ نومبر کو سمندر میں آنے والے اوکھی طوفان کی وجہ سے جو ماہی گیر لاپتہ ہیں، ان کے گھر والوں کو اب بھی یہ امید ہے کہ پہلی کرسمس – اور اب نیا سال – ان کے لیے معجزہ لے کر آئے گا

یکم جنوری، ۲۰۱۸ | جیشا ایلیزابیتھ

فورٹ کوچی میں جال ڈالنا

کیرل کے فورٹ کوچی میں رائج سہارے سے اٹھائے جانے والے جال، یا ’مچھلی پکڑنے کا چینی جال‘، ماہی گیروں کے لیے اب مشکل سے ہی ذریعہ معاش رہ گئے ہیں

۳ مارچ، ۲۰۱۷ | وی ششی کمار

ڈونگر پاڑہ کے مہاجر ماہی گیر

شمالی مہاراشٹر کے ماڑھ میں ماہی گیروں کی بستی میں کولی خاندان، سمندر سے پکڑی گئی مچھلیوں کو لانے، ان کی چھنٹائی کرنے، انھیں سُکھانے اور جالوں کی سلائی کرنے جیسے متعدد کاموں کے لیے اترپردیش، آندھرا پردیش، مہاراشٹر اور دیگر ریاستوں کے گاؤوں سے آنے والے مزدوروں کو نوکری پر رکھتے ہیں

۲۴ فروری، ۲۰۱۷ | شریا کاتیائینی

ندی سے پلیٹ تک: سندر بن کے ٹائیگر جھینگوں کا سفر

سندر بن کے گاؤں کی عورتوں کے لیے، ٹائیگر جھینگے کے بچوں کو پکڑنا مفت کا کام ہے جس سے انھیں کوئی فائدہ نہیں ملتا، حالانکہ یہ جب دوسروں کے پلیٹوں تک سپلائی ہوتا ہے، تو اس کی اونچی قیمت ملتی ہے

۱۱ جنوری، ۲۰۱۷ | اُروَشی سرکار

شہد کی مکھیوں کا ڈنک اور چیتوں کا خوف

سُندربن کے ’مَولی‘ یا شہد جمع کرنے والے گھنے اور خطرناک جنگلوں میں بغیر کسی بچاؤ کے کام کرتے ہیں اور مگرمچھوں، چیتوں کا سامنے کرنے کے ساتھ ساتھ محکمہ جنگلات کے فرمان کو بھی جھیلتے ہیں

۲۳ ستمبر، ۲۰۱۶ | اُروَشی سرکار

مچھلی پکڑنے کا حق، جینے کی لڑائی
and • Twenty-four Parganas, West Bengal

مچھلی پکڑنے کا حق، جینے کی لڑائی

’’ہماری کشتیاں کیوں ضبط کی جاتی ہیں اور ہمیں پیٹ پر کیوں مارا جاتا ہے؟‘‘

۱۲ مارچ، ۲۰۱۵ | اُروَشی سرکار

Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez