’’تم سال بھر سے میری تصویریں کھینچ رہے ہو، آخر ان تصویروں کا کروگے کیا؟‘‘ گووندمّا ویلو غصے سے پوچھتی ہیں۔ اس سال مارچ میں اپنے بیٹے، سیلّیّا کی موت سے وہ پوری طرح ٹوٹ چکی ہیں۔ میری آنکھوں کی روشنی پوری طرح جا چکی ہے۔ میں تمہیں دیکھ نہیں پا رہی ہوں۔ میری اور میری عمر رسیدہ ماں کی دیکھ بھال کون کرے گا؟‘‘

وہ مجھے اپنے ہاتھوں پر لگے زخم اور کٹے کے نشان دکھاتی ہیں۔ گووندمّا کہتی ہیں، ’’۲۰۰ روپے کما کر گھر لے جانے کے لیے مجھے کافی تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ کیا میری عمر جھینگے پکڑنے کے لیے جال پھینکنے کی ہے؟ نہیں، میں اب یہ کام نہیں کر سکتی۔ میں صرف اپنے ہاتھ استعمال کر سکتی ہوں۔‘‘ ۷۰ سال کے آس پاس کی، چھوٹے قد والی اس کمزور عورت کا ماننا ہے کہ کوہ ۷۷ سال کی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’’مجھ سے لوگ یہی کہتے ہیں۔ ریت کھودنے اور جھینگا پکڑنے میں گہرے زخم آ جاتے ہیں۔ پانی میں ہاتھ ڈبونے پر مجھے پتہ نہیں چلتا کہ اس میں خون بہہ رہا ہے یا نہیں۔‘‘

میں نے انہیں پہلی بار ۲۰۱۹ میں دیکھا تھا، جب وہ بکنگھم نہر والے علاقے میں سفر کر رہی تھیں۔ یہ نہر شمالی چنئی کے ایک علاقہ، اینّور میں کوسس تلیار ندی کے متوازی بہتے ہوئے پڑوس کے تیروولّور ضلع کی طرف چلی جاتی ہے۔ مرغابی (گریب پرندہ) کی طرح تیزی سے نہر میں غوطہ لگاتے ہوئے دیکھ کر میں ان کی طرف متوجہ ہونے پر مجبور ہو گیا۔ وہ بڑی تیزی سے اپنے ہاتھوں کو ندی کی نچلی سطح پر جمی ریت میں گھساتیں اور جھینگے پکڑ کر اوپر لے آتیں۔ وہاں اور بھی لوگ تھے، لیکن کسی اور میں اتنی چستی نہیں تھی۔ ان کی کمر میں تاڑ کے پتے سے بُنی ایک ٹوکری بندھی ہوئی تھی، جس میں وہ ان جھینگوں کو جمع کر رہی تھیں۔ ان کا آدھا جسم کولہے تک پانی میں ڈوبا ہوا تھا، جس میں ان کی جلد کا رنگ بالکل نہر کے پانی جیسا تھا۔ دور سے دیکھنے پر ایسا لگ رہا تھا کہ دونوں ایک ہی ہیں۔

بکنگھم نہر ۱۹ویں صدی میں تعمیر کی گئی تھی، جو دو دیگر ندیوں – کوسس تلیار اور ارنیار کے ساتھ اینّور سے ہوکر بہتی ہے، اور یہ تینوں پانی کا ایک ایسا نظام بناتی ہیں جو چنئی شہر کے لیے لائف لائن (زندگی کی شہ رگ) ہے۔

PHOTO • M. Palani Kumar

گووندمّا ویلو (دائیں)، شمالی چنئی میں واقع اینّور کی کامراجر بندرگاہ کے قریب اپنی ایک رشتہ دار (بائیں) کے ساتھ کوسس تلیار ندی سے باہر نکل رہی ہیں۔ آج ان دونوں کو جھینگے زیادہ نہیں ملے ہیں، اس لیے وہ اب بکنگھم نہر کی جانب جا رہی ہیں، جو کہ کوسس تلیار ندی کے متوازی بہتی ہے

PHOTO • M. Palani Kumar

گووندمّا (سب سے بائیں) اپنی ایرولر کمیونٹی کے دوسرے لوگوں کے ساتھ کوسس تلیار ندی سے جھینگے پکڑ رہی ہیں۔ انہیں پکڑنے کے لیے وہ پانی میں یونہی ۴-۲ کلومیٹر تک غوطے لگاتے ہیں

کوسس تلیار ندی جیسے ہی اینّور سے باہر نکلتی ہے، اس کے دونوں کناروں پر موجود دلدل میں ہمیں ہرے بھرے جنگلات نظر آتے ہیں، جو پلویرکاڈو جھیل تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ جھیل ’پُلی کیٹ‘ کے نام سے مشہور ہے۔ ۲۷ کلومیٹر لمبی اس ندی کے آس پاس رہنے والے لوگوں کا اپنی زمین اور پانی سے گہرا رشتہ ہے۔ ان کے معاش کا سب سے بڑا ذریعہ ماہی گیری ہے، لہٰذا اس ندی میں مرد و عورت دونوں کو مچھلیاں پکڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں پائے جانے والے جھینگوں کی بڑی مانگ ہے اور وہ کافی مہنگے ہیں۔

سال ۲۰۱۹ میں جب میں گووندمّا سے پہلی بار ملا تھا، تو انہوں نے مجھے بتایا تھا، ’’میرے دو بچے ہیں۔ میرا بیٹا جب ۱۰سال کا اور بیٹی ۸ سال کی تھی، تبھی میرے شوہر کی موت ہو گئی تھی۔ ان کی وفات کو اب ۲۴ سال ہو چکے ہیں۔ میرے بیٹے کی شادی ہو چکی ہے اور اس کی چار بیٹیاں ہیں؛ میری بیٹی کی دو بیٹیاں ہیں۔ اس سے زیادہ اور کیا چاہیے؟ گھر آؤ، بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔‘‘ دعوت دینے کے بعد، انہوں نے اتی پٹّو پڈونگر (اتی پٹو نیو ٹاؤن) کی جانب تیزی سے قدم بڑھانا شروع کر دیا، جو کہ وہاں سے سات کلومیٹر تک کا پیدل سفر ہے، جہاں وہ سڑک کے کنارے ان مچھلیوں کو بیچتی ہیں۔ درمیان میں کووڈ۔۱۹ لاک ڈاؤن آ جانے کی وجہ سے دوسری بار ان سے میری ملاقات دو سال بعد ہوئی۔

گووندمّا کا تعلق ایرولر کمیونٹی سے ہے، جسے تمل ناڈو میں درج فہرست قبیلہ کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔ وہ پہلے چنئی کی کامراجر بندرگاہ کے پاس کے علاقے – جو پہلے اینّور پورٹ کہلاتا تھا، میں رہا کرتی تھیں۔ یہ جگہ کوسس تلیار ندی کے اُس علاقے سے بہت قریب تھی جہاں وہ جھینگے پکڑنے جاتی تھیں۔ لیکن ۲۰۰۴ میں آئی سُنامی نے ان کی جھونپڑی کو تباہ کر دیا تھا۔ اس حادثہ کے ایک سال بعد وہ ۱۰ کلومیٹر دور تیروولّور ضلع کے شہر اتی پٹّو چلی گئیں۔ سُنامی میں اجڑ چکی ایرولر برادری کے زیادہ تر لوگوں کو اسی شہر کی تین کالونیوں – ارونودَیَم، نیسا نگر، اور مریمّا نگر میں دوبارہ بسایا گیا ہے۔

جس ارونودَیَم نگر میں اب گووندما رہتی ہیں، اس میں بنے ہوئے مکانوں کی قطاریں سنامی کے بعد بدرنگ اور بے رونق نظر آنے لگی ہیں۔ تقریباً دو سال پہلے جب ان کی پوتی کی شادی ہوئی، تب انہوں نے اپنا گھر اس کے لیے خالی کر دیا تھا اور خود پاس کے ایک نیم کے درخت کے نیچے رہنے چلی گئیں۔

PHOTO • M. Palani Kumar
PHOTO • M. Palani Kumar

بائیں: گووندمّا (ہرے رنگ کی ساڑی میں) اور ان کی ماں (دائیں) ارونودیم نگر میں واقع اپنے گھر کے باہر۔ دائیں: گووندما، ان کا بیٹا سیلیا (درمیان میں نیلے چوکور خانے کی لنگی پہنے ہوئے)، ان کے پوتا پوتی اور دوسرے رشتہ دار۔ ایک خاندانی جھگڑے کی وجہ سے سیلیا نے اس سال مارچ میں خود کر لی تھی

گووندما روزانہ صبح کو ۵ بجے جگنے کے بعد، دو کلومیٹر پیدل چل کر اتی پٹّو ریلوے اسٹیشن پہنچتی ہیں۔ وہاں وہ ٹرین پر سوار ہو کر دو اسٹاپ کے بعد اتی پٹّو پڈو نگر اترتی ہیں۔ پھر وہ سات کلومیٹر دور کامراجر پورٹ کے قریب ماتا (سینٹ میری) چرچ تک جاتی ہیں۔ کبھی کبھی وہ کرایے کے آٹو رکشہ کا بھی استعمال کرتی ہیں۔ پورٹ میں بڑی تعداد میں چھوٹی چھوٹی جھونپڑیاں ہیں، جن میں زیادہ تر ایرولر کمیونٹی کے لوگ رہتے ہیں۔ اپنے معاش کے لیے وہ جھینگا پکڑنے اور بیچنے کا کام کرتی ہیں۔ گووندمّا وہاں اپنے ساتھی ماہی گیروں کے ساتھ پانی میں غوطے لگاتی ہیں اور اپنے کام میں مصروف ہو جاتی ہیں۔

ان کی دن بہ دن کمزور ہوتی آنکھوں نے ان کے اس پیشہ ورانہ کام کو کافی تکلیف دہ بنا دیا ہے۔ گووندما کہتی ہیں، ’’ٹرین اور آٹو میں بیٹھنے کے لیے مجھے دوسروں سے مدد لینی پڑتی ہے۔ میں اب پہلے کی طرح صاف نہیں دیکھ پاتی ہوں۔‘‘ انہیں اپنے روزانہ کے سفر کے لیے ۵۰ روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ وہ پوچھتی ہیں، ’’میں اگر اتنا زیادہ خرچ کروں گی، تو اپنی زندگی کیسے چلاؤں گی؟ جھینگے بیچ کر میں صرف ۲۰۰ روپے ہی کما پاتی ہوں۔‘‘ کبھی کبھی انہیں ۵۰۰ روپے کی بھی آمدنی ہو جاتی ہے، لیکن اکثر وہ بمشکل ۱۰۰ روپے ہی کما پاتی ہیں۔ اور، کبھی کبھی تو انہیں خالی ہاتھ ہی گھر لوٹنا پڑتا ہے۔

جس دن صبح کے وقت لہریں بہت اونچی اٹھ رہی ہوتی ہیں، گووندما اپنے ٹھکانے پر رات کے وقت جاتی ہیں۔ تب تک پانی کی سطح بہت گھٹ چکی ہوتی ہے۔ اپنی کمزور نظروں کے باوجود اندھیرے میں جھینگوں کو پکڑنا ان کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ لیکن پانی میں رہنے والے سانپوں اور ’ایرو کیلاتی‘ (گرے ایل کیٹ فش) سے انہیں بھی ڈر لگتا ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’میں ٹھیک سے دیکھ نہیں سکتی ہوں…اس لیے میں نہیں سمجھ پاتی کہ میرے پیروں کو کون سے جاندار چھو رہے ہیں…وہ کوئی سانپ ہے یا جال۔‘‘

گووندما بتاتی ہیں، ’’ہم ان کے حملوں سے بچتے ہوئے اپنے گھروں میں لوٹنا چاہتے ہیں۔ اگر یہ کالی مچھلی (گرے ایل کیٹ فش) ہمارے ہاتھ پر [اپنی پونچھ سے] مار دے، تو اگلے سات آٹھ دنوں کے لیے ہمارا ہوش میں آنا بھی مشکل ہے۔‘‘ گرے ایل کیٹ فش (پلوٹوسس کینیکس) کے خول نما پنکھ (فِنس) بہت زہریلے ہوتے ہیں، اور ان سے زخمی ہونے پر ناقابل برداشت درد ہوتا ہے۔ ’’اس درد سے دواؤں تک سے کوئی راحت نہیں ملتی ہے۔ جوان لوگ تو اس درد کو پھر بھی برداشت کر سکتے ہیں، لیکن آپ ہی بتائیے، مجھ سے یہ ہو سکے گا؟‘‘

PHOTO • M. Palani Kumar

بکنگھم نہر میں جھینگوں کو پکڑ کر انہیں اپنے دانتوں کے سہارے لٹکی ہوئی ٹوکری میں جمع کرتی ہوئیں گووندما

PHOTO • M. Palani Kumar

گووندما کے ہاتھوں پر لگے زخموں اور کھرونچوں کے نشان۔ ’ریت کو کھود کر ان سے جھینگے نکالنے کے کام میں ہاتھ بری طرح چھل جاتے ہیں‘

اینوّر کے تھرمل پاور پلانٹوں کے ذریعے فلائی ایش اور کچروں کے اندھا دھند اخراج نے نہر کے اندر کچرے کے متعدد ٹیلے بنا دیے ہیں۔ ایسے میں گووندما کی چنوتیاں پہلے کے مقابلے اب کئی گنا زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ تصویریں کھینچنے کے لیے جب میں پانی میں اترتا ہوں، تو وہ مجھے دکھاتے ہوئے کہتی ہیں، ’’ اند سگدی پارو (اس کیچڑ کو دیکھو)۔ کال یِڑوتُ وچّ پوگ نمکّ ستُّ پوئیڑد (اس کچرے کی وجہ سے جب میں ندی کی سطح پر چلتی ہوں، تو میرے پاؤں دھنسنے لگتے ہیں۔‘‘

بکنگھم نہر کے آس پاس کے اینّور- منالی صنعتی علاقے میں کم از کم ۳۴ ایسی بڑی صنعتیں ہیں جن سے ماحولیات کو بہت زیادہ خطرہ ہے۔ ان میں تھرمل پاور پلانٹ، پیٹرو کیمیکلس اور کھاد کی فیکٹریاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں تین بڑی بندرگاہیں بھی بنی ہوئی ہیں۔ پانی کی اس گندگی اور صنعتی فضلے کی بہتات نے مقامی آبی اکائیوں سے حاصل ہو سکنے والے وسائل کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ مقامی ماہی گیر کہتے ہیں کہ اب انہیں جھینگے کی ۳-۲ انواع ہی مل پاتی ہیں، جب کہ تقریباً دو دہائی پہلے یہاں جھینگے کی ۷-۶ قسمیں آسانی سے مل جایا کرتی تھیں۔

گزشتہ چند سالوں میں جھینگے کی دستیابی میں آئی گراوٹ سے گووندما بھی فکرمند ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’جب بھاری بارش ہوتی تھی، ہمیں بڑی مقدار میں جھینگے ملتے تھے۔ ہم انہیں جمع کرکے صبح ۱۰ بجے تک بیچنے نکل جاتے تھے۔ اب ہمیں پہلے کی طرح بڑی مقدار میں جھینگے نہیں ملتے۔ عام موسموں میں ہمیں آدھا سے ایک کلو جھینگا پکڑنے کے لیے دوپہر ۲ بجے تک کام کرنا پڑتا ہے۔‘‘ اس لیے اب ان جھینگوں کو دوپہر بعد بیچا جاتا ہے۔

اکثر انہیں اپنے جھینگے بیچنے کے لیے مجبوراً ۹ یا ۱۰ بجے رات تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ گووندما کہتی ہیں، ’’گاہک انہیں کم سے کم قیمت میں خریدنے پر مجھ سے مول بھاؤ کرتے ہیں۔ میں بھلا کیا کر سکتی ہوں؟ ہمیں اپنا جھینگا بیچنے کے لیے کڑی دھوپ میں بیٹھے رہنا پڑتا ہے، لیکن گاہک اس بات کو نہیں سمجھتے ہیں۔ آپ خود بھی دیکھ رہے ہیں – جھینگوں کی ان دو ڈھیروں کو بیچنے میں ہمیں کتنے پاپڑ بیلنے پڑ رہے ہیں۔‘‘ ہر ڈھیر میں ۲۰ سے ۲۵ جھینگے ہیں اور وہ بمشکل ۱۰۰ یا ۱۵۰ روپے میں فروخت ہوں گے۔ ’’میں کوئی دوسرا کام بھی نہیں جانتی ہوں، اس لیے میرے جینے کی یہی بنیاد ہیں،‘‘ ان کی آواز میں ایک بے بسی صاف طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔

PHOTO • M. Palani Kumar
PHOTO • M. Palani Kumar

بائیں: جھینگے پکڑنے کا ان کا ساز و سامان، جو ان کی واحد لائف لائن ہے۔ دائیں: کام ختم کرنے کے بعد تھکی ہوئی گووندما بکنگھم نہر کے قریب بیٹھی پانی کا گھونٹ پیتی ہوئی

PHOTO • M. Palani Kumar
PHOTO • M. Palani Kumar

بائیں: کامراجر پورٹ کے قریب، سینٹ میری چرچ کے پاس کھڑی گووندما کسی سواری گاڑی یا آٹورکشہ کا انتظار کرتی ہوئیں۔ اتی پٹو پڈو نگر میں تیرو ووٹری یور ہائی وے کے کنارے اپنے جھینگوں کو بیچتی ہوئی گووندما۔ ایک ڈھیر کی قیمت ۱۰۰ سے ۱۵۰ روپے تک ہوتی ہے اور ایک ڈھیر میں ۲۰ سے ۲۵ جھینگے ہوتے ہیں

گووندما اپنے بچے ہوئے جھینگوں کو برف میں نہیں رکھتی ہیں، بلکہ انہیں گیلی ریت سے ڈھانپ دیتی ہیں۔ اس سے جھینگے میں نمی اور تازہ پن رہتا ہے۔ وہ مجھ سے پوچھتی ہیں، ’’یہ تب تک تازہ بنے رہتے ہیں، جب تک گاہک انہیں گھر لے جا کر پکاتے نہیں ہیں۔ آپ کو معلوم ہے، پکنے کے بعد وہ کتنے ذائقہ دار ہو جاتے ہیں؟ مجھے اپنے خود کے پکڑے ہوئے جھینگے اسی دن بیچنے ہوتے ہیں۔ میں اس کے بعد ہی کانجی (ایک قسم کا پتلا دلیا) پیتی ہوں اور اپنے پوتے پوتیوں کی ضرورت کی چیزیں خریدتی ہوں۔ نہیں تو میں بھوکے پیٹ ہی گھر لوٹ جاتی ہوں۔‘‘

جھینگے پکڑنے کا ہنر انہوں نے اپنے بچپن میں ہی سیکھ لیا تھا۔ گووندما اپنے بچپن کے دنوں کو یاد کرتی ہیں، ’’میرے سرپرستوں نے مجھے پڑھنا لکھنا سکھانے کے لیے اسکول بھیجا ہی نہیں۔ وہ مجھے اپنے ساتھ ندی پر لے جاتے تھے اور جھینگے پکڑنا سکھاتے تھے۔ میں نے اپنی پوری زندگی پانی کے اندر ہی گزار دی۔ میرے لیے میرا سب کچھ یہ ندی ہی ہے۔ اس کے بغیر میرا کوئی وجود نہیں ہے۔ شوہر کی وفات کے بعد میں نے اپنے بچوں کی پرورش کرنے میں کتنی جدوجہد کی ہے، یہ صرف ایشور ہی جانتا ہے۔ اگر میں نے ندی میں جھینگے نہیں پکڑے ہوتے، تو شاید میں زندہ نہیں بچتی۔‘‘

ان کی ماں نے بھی ندی میں جھینگے پکڑ کر اور الگ الگ قسم کی چھوٹی مچھلیوں کی خرید و فروخت کرکے گووندما اور ان کے چار سگے بھائی بہنوں کی پرورش و پرداخت کی۔ اپنے والد کے انتقال کے وقت گووندما صرف دس سال کی تھیں۔ ’’میری ماں نے دوبارہ شادی نہیں کی۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی ہماری دیکھ بھال کرنے کے لیے کڑی محنت کی۔ اب وہ ۱۰۰ سال سے بھی زیادہ کی ہو چکی ہیں۔ سُنامی کالونی میں لوگ انہیں سب سے عمر دراز خاتون کے طور پر جانتے ہیں۔‘‘

گووندما کے بچوں کی زندگیاں بھی اسی ندی پر منحصر ہیں۔ وہ بتاتی ہیں، ’’میری بیٹی کی شادی بدقسمتی سے ایک شرابی کے ساتھ ہو گئی ہے۔ وہ کوئی ڈھنگ کا کام نہیں کرتا ہے۔ میری بیٹی کی ساس جھینگے پکڑ کر اور انہیں فروخت کرکے اس کے کھانے کا انتظام کرتی ہیں۔‘‘

PHOTO • M. Palani Kumar

کوسس تلیار ندی میں جھینگے پکڑنے کی تیاری کرتے ہوئے سیلیا۔ یہ فوٹو ۲۰۲۱ میں لی گئی تھی

PHOTO • M. Palani Kumar

سیلیا (بائیں) پکڑی ہوئی مچھلیوں کے ساتھ جال کو اٹھائے ہوئے، جب کہ ان کی بیوی کوسس تلیار ندی کے کنارے بنے ایک عارضی ٹینٹ کے بغل میں اپنے گھر والوں کے لیے کھانا پکا رہی ہیں

ان کا اکلوتا بیٹا، سیلیا اپنی موت کے وقت صرف ۴۵ سال کا تھا۔ وہ بھی اپنی فیملی کا پیٹ بھرنے کے لیے جھینگے پکڑنے کا ہی کام کرتا تھا۔ جب میں ان سے ۲۰۲۱ میں ملا تھا، تو انہوں نے مجھے یاد کرتے ہوئے بتایا تھا: ’’جب میں چھوٹا تھا، تو میرے ماں باپ ندی جانے کے لیے صبح ۵ بجے گھر سے نکل جاتے تھے، اور ان کے گھر لوٹتے لوٹتے رات کے ۹ یا ۱۰ بج جاتے تھے۔ وہ اپنے ساتھ راشن لے کر آتے تھے، میری ماں اتنی رات کو کھانا پکاتی تھیں، اور تب ہمیں کھانے کے لیے جگایا جاتا تھا۔‘‘

سیلیا جب صرف ۱۰ سال کے تھے، تب وہ ایک چینی مل میں کام کرنے کے لیے آندھرا پردیش چلے گئے تھے۔ انہوں نے کہا تھا، ’’جب میں وہاں تھا، تبھی میرے والد جھینگا پکڑ کر گھر لوٹتے وقت ایک حادثہ کا شکار ہو گئے اور ان کی موت ہو گئی۔ مجھے اپنے والد کا چہرہ دیکھنا بھی نصیب نہیں ہوا۔ ان کی موت کے بعد میری ماں نے سارے کام کیے۔ وہ اپنا زیادہ تر وقت ندی کے اندر گزارتی تھیں۔‘‘

فیکٹری انہیں وقت پر تنخواہ نہیں دیتی تھی، اس لیے سیلیا اپنی ماں کا ہاتھ بٹانے کے ارادے سے لوٹ آئے۔ لیکن گووندما کے برعکس، سیلیا اور ان کی بیوی جھینگوں کو پکڑنے کے لیے جال کا استعمال کرتے تھے۔ ان کی چار بیٹیاں ہیں۔ انہوں نے بتایا تھا، ’’میں نے سب سے بڑی بیٹی کی شادی کر دی ہے۔ ایک انگریزی میں بی اے کر رہی ہے اور بقیہ دو لڑکیاں اسکول جاتی ہیں۔ جھینگوں کو بیچ کر میری جو کمائی ہوتی ہے اسے میں ان کی تعلیم پر خرچ کرتا ہوں۔ گریجویشن کرنے کے بعد میری بیٹی قانون کی پڑھائی کرنا چاہتی ہے۔ اور، میرے تعاون کے بغیر اس کا خواب پورا نہیں ہو پائے گا۔‘‘

بہرحال، ان کی خواہش پوری نہیں ہو سکی۔ مارچ ۲۰۲۲ میں ایک خاندانی رنجش کی وجہ سے غصے میں آکر سیلیا نے خودکشی کر لی۔ غم سے نڈھال گووندما کہتی ہیں، ’’میرے شوہر بھی جلدی چلے گئے تھے۔ اور اب میرا بیٹا بھی نہیں رہا۔ میری چِتا (نعش) کو آگے دینے والا بھی کوئی نہیں بچا۔ کیا کوئی میری دیکھ بھال ویسے کر پائے گا جیسے میرا بیٹا کرتا تھا؟‘‘

PHOTO • M. Palani Kumar

سیلیا کی موت کے بعد، ارونودَیم نگر میں واقع گھر میں ان کی تصویر کو دیکھ کر گووندما زار و قطار رونے لگتی ہیں

PHOTO • M. Palani Kumar
PHOTO • M. Palani Kumar

بائیں: اپنے بیٹے کی موت کی وجہ سے صدمے میں ڈوبی ہوئی گووندما۔ ’میں نے کم عمر میں اپنے شوہر کو کھو دیا۔ اور، اب میرا بیٹا بھی نہیں رہا۔‘ دائیں: ارونودَیم نگر کے اپنے گھر کے آگے جھینگے کی ٹوکری کے ساتھ گووندما۔ وہ آج بھی اپنی فیملی کا پیٹ بھرنے کے لیے کام کرتی ہیں

اس اسٹوری کی رپورٹنگ بنیادی طور پر تمل میں کی گئی تھی، اور سینتلیر ایس نے انگریزی میں اس کا ترجمہ کیا تھا۔ رپورٹر تمل میں لکھے متن کو ایڈٹ کرنے میں مدد کے لیے، پاری کے تمل ٹرانسلیشنز ایڈیٹر راجا سنگیتن کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔

مترجم: محمد قمر تبریز

M. Palani Kumar

M. Palani Kumar is PARI's Staff Photographer and documents the lives of the marginalised. He was earlier a 2019 PARI Fellow. Palani was the cinematographer for ‘Kakoos’, a documentary on manual scavengers in Tamil Nadu, by filmmaker Divya Bharathi.

Other stories by M. Palani Kumar
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez