یہلل انّا سے وابستہ یادیں مجھے اپنی آغوش میں جکڑ لیتی ہیں اور کسی جادوئی طاقت کی طرح ایک موج کے ساتھ بہا لے جاتی ہیں۔ یہ مجھے راحت افزا سایوں سے بھرے رنگین جنگلوں کے پار لے جاتی ہیں، جھومتے اونچے درختوں کے درمیان، جپسی (یعنی خانہ بدوش) راجاؤں کی کہانیوں میں، اور کسی پہاڑ کی چوٹی پر لا کھڑا کرتی ہیں۔ وہاں سے پوری دنیا ایک خواب سی نظر آتی ہے۔ پھر اچانک، انّا مجھے رات کی ٹھنڈی ہوا میں ستاروں کے درمیان پھینک دیتے ہیں۔ وہ مجھے زمین کی طرف تب تک دھکیلتے ہیں، جب تک کہ میں مٹی نہ بن جاؤں۔

وہ مٹی کے بنے تھے۔ ان کی زندگی ایسی ہی تھی۔ وہ کبھی ایک مسخرے کی شکل اختیار کر لیتے، تو کبھی ایک استاد، ایک بچہ، اور ایک اداکار بن جاتے تھے – مٹی کی طرح کسی بھی شکل میں ڈھل جاتے تھے۔ یہلل انّا نے مجھے اسی مٹی سے بنایا ہے۔

میں راجاؤں کی طرح اُن کہانیوں کو سنتے ہوئے بڑا ہوا ہوں جو وہ بچوں کو سناتے تھے۔ لیکن، اب مجھے ان کی کہانی سنانی ہوگی۔ اس شخصیت کی کہانی، جو ایک سایہ کی طرح ان کے اور ان کی تصویروں کے پیچھے پوشیدہ ہے۔ وہ کہانی جو گزشتہ پانچ سالوں سے بھی زیادہ عرصے سے میرے اندر زندہ ہے۔

*****

آر یہلل آرسن مسخروں کے سردار ہیں۔ ادھر ادھر کودتا ایک چوہا، رعب دکھاتا ایک پرندہ، ایک شریف بھیڑیا، ناز و نخرے کے ساتھ چلتا ایک شیر ہیں۔ ان کا ہونا اُس دن کی کہانی پر منحصر کرتا ہے۔ کہانیاں، جنہیں وہ تمل ناڈو کے جنگلوں اور شہروں کے سفر کے دوران، ۳۰ سے زیادہ برسوں سے اپنی پیٹھ پر ایک بڑے سبز رنگ کے تھیلے میں ڈھو رہے ہیں۔

سال ۲۰۱۸ کی بات ہے۔ ہم ناگ پٹّینم کے ایک سرکاری اسکول کے کیمپس میں ہیں۔ سمندری طوفان گاجا کے سبب اکھڑے درختوں سے کاٹے گئے لٹھوں کے انبار اسکول کے احاطہ میں چاروں طرف پھیلے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے وہ کسی اجڑی ہوئی لکڑی کی فیکٹری جیسا لگ رہا ہے۔ لیکن، تمل ناڈو میں اس سمندری طوفان سے بری طرح متاثر ہوئے اس ضلع کا یہ ویران اور خستہ نظر آنے والا کیمپس، بچوں کے قہقہے اور جوش سے ایک بار پھر آہستہ آہستہ تروتازہ ہو رہا ہے۔

’’وندانے دینّ پارنگ کٹّی یَکّارن آما کٹّی یکّارن۔ وارنے دینّ پارَنگ [دیکھو، مسخرہ آیا ہے، مسخرہ آ رہا ہے، دیکھو]۔‘‘

PHOTO • M. Palani Kumar

یہلل انّا، بچوں کو ناٹک کے لیے تیار کرنے سے پہلے ان کے ساتھ بیٹھتے ہیں اور ان سے ان کی دلچسپیوں کے بارے میں پوچھتے ہیں

PHOTO • M. Palani Kumar

سال ۲۰۱۸ میں آئے سمندر طوفان گاجا کے گزر جانے کے بعد، ناگ پٹّینم میں ان کے ذریعے لگائے گئے آرٹ کیمپ نے بچوں کے ساتھ ساتھ ان کے قہقہوں سے کلاسوں کو گلزار کر دیا

سفید اور زرد رنگوں سے رنگا چہرہ، تین سرخ گولے – ایک ناک پر اور دو گالوں پر بنے، سر پر آسمانی رنگ کی پلاسٹک کی کام چلاؤ جوکر والی ٹوپی، ہونٹوں پر ایک مذاقیہ گیت کے بول تھے اور جسم کے اعضاء میں ایک لاپرواہ لے – وہ ہنسی مذاق کی ایک چلتی پھرتی دکان لگ رہے تھے۔ ہمیشہ کی طرح شور شرابہ ہو رہا تھا۔ یہلل انّا کے آرٹ کیمپ کی شروعات اسی طرح ہوتی ہے، چاہے وہ جوادو کی پہاڑیوں میں واقع ایک چھوٹے سے سرکاری اسکول میں لگا ہو یا چنئی کے کسی پرائیویٹ اسکول میں، ستیہ منگلم کے جنگلوں (ایروڈ ضلع) میں آدیواسی بچوں کے لیے ہو یا جسمانی طور سے معذور بچوں کے لیے۔ انّا نے ایک گیت، ایک چھوٹا سا پس منظر سنایا ہے، جس سے بچے اپنی جھجک بھول کر دوڑنے لگتے ہیں، کھیلتے ہیں، ہنستے ہیں، اور ساتھ گانے لگتے ہیں۔

انّا ایک ماہر فنکار ہیں اور انہیں کبھی اسکولوں میں دستیاب سہولیات کو لے کر کوئی فکرمندی نہیں ہوتی۔ وہ کوئی مطالبہ نہیں کرتے۔ نہ کوئی الگ ہوٹل یا ٹھہرنے کا انتظام چاہتے ہیں، اور نہ ہی کوئی مخصوص آلہ مانگتے ہیں۔ وہ بجلی، پانی یا کسی جدید فنی ساز و سامان کے بغیر بھی اپنا کام چلا لیتے ہیں۔ ان کی پوری توجہ صرف بچوں سے ملنے، بات چیت کرنے، اور ان کے ساتھ کام کرنے پر مرکوز ہوتی ہے۔ باقی کچھ بھی ان کے لیے معنی نہیں رکھتا۔ آپ بچوں کو ان کی زندگی سے الگ نہیں کر سکتے۔ جب بات بچوں کی ہو، تو وہ دلکش اور سرگرم انسان بن جاتے ہیں۔

ایک بار، ستیہ منگلم کے ایک گاؤں میں انہوں نے ایسے بچوں کے ساتھ کام کیا جنہوں نے پہلے کبھی رنگ نہیں دیکھے تھے۔ انہوں نے رنگوں کا پہلی بار استعمال کرکے اپنے تصور سے کچھ بنانے میں ان بچوں کی مدد کی۔ یہ ان بچوں کے لیے ایک نیا تجربہ تھا۔ تقریباً ۲۲ سال پہلے جب انہوں نے اپنا آرٹ اسکول، کلیمن ویرلگل [مٹی کی انگلیاں] شروع کیا، تب سے وہ لگاتار بچوں کو ایسے تجربات سے روبرو کرواتے رہے ہیں۔ میں نے انہیں کبھی بیمار پڑتے نہیں دیکھا۔ بچوں کے ساتھ کام کرنا ہی ان کا علاج ہے اور ان کے درمیان فنی پیشکش کے لیے وہ ہمیشہ تیار رہے۔

انّا نے تقریباً ۳۰ سال پہلے، سال ۱۹۹۲ میں چنئی فائن آرٹس کالج سے فائن آرٹس میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی تھی۔ وہ یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’کالج کے میرے سینئر، پینٹر تیرو تمل سیل وَن، کاسٹیوم ڈیزائنر جناب پربھاکرن، اور پینٹر جناب راج موہن نے کالج کے دنوں میں میری بہت مدد کی تھی اور مجھے میری ڈگری مکمل کرنے میں بھی مدد کی۔ ٹیرا کوٹا مجسمہ سازی کا کورس کرنے کے بعد، فنکارانہ کاموں کو اچھی طرح سیکھنے اور ان میں تجربہ حاصل کرنے کے لیے میں چنئی کی للت کلا اکیڈمی کے ساتھ جڑ گیا۔‘‘ انہوں نے کچھ دنوں تک اپنے مورتی بنانے والے اسٹوڈیو میں بھی کام کیا۔

وہ کہتے ہیں، ’’لیکن جب میرا کام (مورتیاں وغیرہ) فروخت ہونے لگا، تو مجھے محسوس ہوا کہ وہ عام لوگوں تک نہیں پہنچ رہا ہے۔ اس لیے، میں نے عوام کے درمیان فنکارانہ سرگرمیاں شروع کیں، اور طے کیا کہ دیہی علاقے، یعنی تمل ناڈو کے پانچ گوشے [پہاڑ، ساحل سمندر، ریگستان، جنگل، کھیت] ہی میرا میدانِ عمل ہیں، جہاں میں موجود ہونا چاہتا ہوں۔ میں نے اپنے بچوں کے ساتھ کام کرنا شروع کیا اور مٹی و دستکاری کے ذریعے کھلونے بنانے لگا۔‘‘ انہوں نے بچوں کو پیپر ماسک (کاغذ کے مکھوٹے)، کلے ماسک (مٹی کے مکھوٹے)، کلے ماڈل (مٹی کی مورتیاں اور دیگر سامان)، خاکہ نگاری (ڈرائنگ)، مصوری (پینٹنگ)، گلاس پینٹنگ (شیشے پر تصویر کشی) اور اوریگیمی (کاغذ کو مختلف شکلوں میں فنکارانہ طریقے سے موڑنے کا فن) سکھانا شروع کیا۔

PHOTO • M. Palani Kumar
PHOTO • M. Palani Kumar

بائیں: ستیہ منگلم میں، بچے پہلی بار رنگوں سے متعارف ہوئے ہیں۔ دائیں: کرشنا گیری ضلع میں واقع کاویری پٹینم میں، بچے گتّے اور اخبار کے استعمال سے ہرنوں کا مُکُٹ (سر والا حصہ) بنا رہے ہیں

PHOTO • M. Palani Kumar
PHOTO • M. Palani Kumar

بائیں: کاویری پٹینم میں ایک ورکشاپ کے آخری دن پیش کیے جانے والے ناٹک کے لیے، خود سے ڈیزائن کردہ اور بنائے گئے مُکُٹ کے ساتھ بچے۔ دائیں: پیرمبلور میں بچے خود سے بنائے گئے مٹی کے مکھوٹے دکھا رہے ہیں، ہر مکھوٹے میں ایک الگ انداز و احساس دکھائی دے رہا ہے

ہم جب بھی سفر کرتے تھے، اور سفر کے لیے جس بھی ذریعہ کا استعمال کرتے تھے – خواہ وہ بس ہو، وین ہو یا کچھ اور، ہمارے ساتھ بچوں سے جڑا سامان سب سے زیادہ ہوتا تھا۔ یہلل انّا کا بڑا سا سبز رنگ کا تھیلا ڈرائنگ بورڈ، پینٹ برش، رنگ، فیوی کول ٹیوب، براؤن بورڈ، گلاس پینٹ، پیپر، اور بہت سی دوسری چیزوں سے بھرا رہتا تھا۔ وہ ہمیں چنئی کے تقریباً ہر علاقے میں لے جاتے تھے – ایلس روڈ سے لے کر پیرس کارنر تک، ٹرپلی کین سے لے کر ایگمور تک – جہاں بھی فنون لطیفہ اور ادب کی دکانیں تھیں، وہ ہمیں ہر جگہ لے جاتے تھے۔ اور تب تک ہمارے پیروں میں درد ہونے لگتا تھا۔ اور ہمارا بل ۷-۶ ہزار روپے تک پہنچ جاتا تھا۔

انّا کے پاس کبھی بھی پورے پیسے نہیں ہوتے تھے۔ وہ اپنے دوستوں، چھوٹی چھوٹی نوکریوں، پرائیویٹ اسکولوں میں کام کرکے پیسوں کا انتظام کرتے تھے، تاکہ آدیواسی یا جسمانی طور سے معذور بچوں کے لیے مفت میں آرٹ کیمپ لگا سکیں۔ یہلل انّا کے ساتھ سفر کرتے ہوئے ان پانچ برسوں میں، میں نے انہیں کبھی زندگی سے مایوس ہوتے نہیں دیکھا۔ انہوں نے اپنے لیے کبھی کچھ نہیں بچایا اور نہ ہی ان کے پاس بچانے کے لیے کچھ بچا تھا۔ وہ جو کچھ بھی کماتے تھے انہیں میرے جیسے ساتھی فنکاروں کے درمیان تقسیم کر دیتے تھے۔

کبھی کبھی، انّا چیزوں کو خریدنے کی بجائے نئے میٹریل تلاش کرتے تھے، تاکہ بچوں کو وہ سب کچھ سکھا سکیں جسے سکھانے میں تعلیم نظام ناکام رہا ہے۔ وہ انہیں آس پاس کی چیزوں کا استعمال کرکے، مختلف قسم کی چیزیں بنانے کے لیے بھی کہتے تھے۔ مٹی ایک ایسی چیز ہے جو آسانی سے مل جاتی ہے، اور وہ اکثر اس کا استعمال کرتے تھے۔ لیکن، وہ مٹی سے گاد اور پتھروں کو ہٹانے سے لے کر، مٹی کے ڈھیلوں کو توڑنے اور انہیں گھولنے، چھاننے، خشک کرنے جیسے کام خود ہی کرتے تھے۔ مٹی مجھے ان کی اور ان کی زندگی کی یاد دلاتی ہے۔ بچوں کی زندگی سے گوندھی گئی اور کسی بھی شکل میں ڈھل جانے والی۔ انہیں بچوں کو مکھوٹے بنانا سکھاتے ہوئے دیکھنا ایک دلچسپ تجربہ ہے۔ ہر مکھوٹے پر ایک الگ احساس و جذبہ ہوتا تھا، لیکن ہر بچے کے چہرے پر ایک جیسی خوشی کا اظہار۔

بچے جب مٹی کو اٹھاتے اور اسے مکھوٹے کی شکل دے دیتے، تو انّا خوش ہو جاتے تھے۔ یہلل انّا انہیں اپنی زندگی سے جڑے کسی واقعہ کا تصور کرنے کے لیے کہتے تھے۔ وہ بچوں سے ان کی دلچسپیوں کے بارے میں پوچھتے رہتے، اور ان سے اس پر عمل کرنے کے لیے کہتے۔ کچھ بچے پانی کی ٹنکیاں بناتے تے، کیوں کہ ان کے گھروں میں پانی کی کمی تھی یا بالکل بھی پانی نہیں تھا۔ کچھ دوسرے بچے ہاتھی بناتے تھے۔ لیکن، جنگل کے علاقوں میں رہنے والے بچے سونڈ اوپر اٹھائے ہوئے ہاتھی بناتے تھے، جو کہ اس مضبوط جلد والے جانور کے ساتھ ان کے خوبصورت رشتوں کو ظاہر کرتا ہے۔

PHOTO • M. Palani Kumar

مٹی مجھے ہمیشہ یہلل انّا اور بچوں کے ساتھ گزری ان کی زندگی کی یاد دلاتی ہے۔ وہ خود مٹی کی طرح ہیں، کسی بھی شکل میں ڈھل جانے والے۔ انہیں بچوں کو مکھوٹے بنانا سکھاتے ہوئے دیکھنا ایک دلچسپ تجربہ ہے، جیسے کہ یہاں ناگ پٹینم کے ایک اسکول میں وہ بچوں کو سکھا رہے ہیں

PHOTO • M. Palani Kumar

وہ بچوں کو اپنے ذریعے بنائی گئی مختلف شکلوں میں اپنے آس پاس کی دنیا کی شبیہ اور اس سے جڑے خیالات کو شامل کرنے کے لیے آمادہ کرتے ہیں، ستیہ منگلم کی ایک آدیواسی بستی کے اس بچے کی طرح، جس نے مٹی سے سونڈ اوپر اٹھایا ہوا ہاتھی بنایا ہے، کیوں کہ اس نے ہاتھی کو اسی طرح دیکھا ہے

وہ آرٹ کیمپوں میں استعمال کیے جانے والے ساز و سامان کے بارے میں پوری احتیاط سے غور و فکر کرتے تھے۔ فن میں مہارت حاصل کرنے کی ان کی خواہش، بچوں کو صحیح سامان دینے سے متعلق ان کی مسلسل فکر نے انہیں ہمارا ہیرو بنا دیا۔ کیمپ کی ہر رات، یہلل انّا اور دوسرے لوگ مل کر اگلے دن کے لیے ساز و سامان تیار کرتے رہتے تھے۔ وہ کیمپ لگانے سے پہلے آنکھوں پر پٹی باندھ کر مشق کرتے، تاکہ نابینا بچوں کے ساتھ گفتگو کرنے کا طریقہ سیکھ سکیں۔ جسمانی طور سے معذور بچوں کو ٹریننگ دینے سے پہلے، وہ اپنے کان بند کرکے مشق کرتے تھے۔ جس طرح سے وہ اپنے شاگردوں کے تجربات کو سمجھنے کی کوشش کرتے تھے، اس نے مجھے اپنی تصویروں کے کرداروں کے ساتھ جڑنے کا موقع فراہم کیا۔ اس سے پہلے کہ میں کسی کی تصویر کھینچوں، اس سے جڑنا میرے لیے ضروری تھا۔

یہلل انّا کو غبّاروں کا جادو سمجھ میں آ گیا تھا۔ غباروں کے ساتھ کھیلے جانے والے کھیلوں نے انہیں ہمیشہ چھوٹی عمر کے لڑکے لڑکیوں کے ساتھ جڑنے میں مدد کی۔ اپنے بیگ میں وہ ڈھیر سارے غبارے رکھتے تھے – گول پھولنے والے بڑے غبارے، سانپ جیسے لمبے غبارے، گھماؤ دار، سیٹی بجانے والے، پانی سے بھرے ہوئے۔ غباروں نے بچوں میں جوش پیدا کرنے میں کافی مدد کی۔ اور وہ گیت تو گاتے ہی تھے۔

انّا کہتے ہیں، ’’اپنے کام کے دوران، میں نے یہ بھی محسوس کیا ہے کہ بچوں کو گانوں اور کھیلوں کی لگاتار ضرورت پڑتی ہے۔ میں ایسے گانے اور کھیل تیار کرتا ہوں جن میں سماجی پیغام بھی ہوتے ہیں۔ میں انہیں ساتھ گانے کو کہتا ہوں۔‘‘ انّا کیمپ میں ماحول بنا دیتے تھے۔ آدیواسی گاؤوں کے بچے، کیمپ کے بعد انہیں بہت مشکل سے جانے دیتے تھے۔ وہ انہیں گانے کے لیے کہتے تھے۔ اور انّا بغیر رکے گاتے رہتے۔ ارد گرد بچے تھے، اس لیے وہ گاتے رہتے تھے۔

جس طرح وہ اپنے شاگردوں کے تجربات کو سمجھنے کے لیے ان سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کرتے تھے اس نے مجھے اپنی تصویروں کے کرداروں کے ساتھ جڑنے کا موقع فراہم کیا۔ شروعات میں، جب فوٹوگرافی کے بارے میں مجھے کچھ خاص سمجھ نہیں تھی، میں نے یہلل انّا کو اپنی تصویریں دکھائیں۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں اپنی تصویریں ان لوگوں کو دکھاؤں جو ان تصویروں میں قید تھے۔ انہوں نے کہا، ’’وہ [لوگ] تمہیں تمہارے ہنر کو چمکانے میں مدد کریں گے۔‘‘

PHOTO • M. Palani Kumar

بچے اکثر نہیں چاہتے کہ یہلل انا کیمپ کے بعد وہاں سے جائیں۔ ’بچوں کو گانوں اور کھیلوں کی لگاتار ضرورت پڑتی ہے۔ میں انہیں ساتھ گانے کے لیے کہتا ہوں‘

PHOTO • M. Palani Kumar

سیلم میں، سننے اور بولنے سے محروم بچوں کے ایک اسکول میں غبارے کا کھیل جاری ہے

کیمپوں میں بچوں نے ہمیشہ اپنی تخلیقی صلاحیت دکھائی۔ ان کے ذریعے بنائی گئی پینٹنگ، اوریگیمی، اور مٹی کی گڑیا کی نمائش لگتی تھی۔ بچے اپنے والدین اور بھائی بہنوں کو لاتے تھے اور فخر کے ساتھ اپنی ہنرمندی دکھاتے تھے۔ یہلل انّا نے ان کے لیے کیمپ کو ایک جشن میں بدل دیا۔ انہوں نے لوگوں کو خواب دیکھنا سکھایا۔ میرے ذریعے کھینچی گئی تصویروں کی پہلی نمائش ایک ایسا ہی خواب تھا جسے انہوں نے پروان چڑھایا۔ ان کے کیمپوں سے ہی مجھے اپنی تصویروں کی نمائش لگانے کا حوصلہ ملا۔ لیکن میرے پاس اس کے لیے پیسے نہیں تھے۔

انّا ہمیشہ مجھے صلاح دیتے تھے کہ جب بھی میرے پاس کچھ پیسے آئیں، میں اپنی تصویروں کو پرنٹ کرا لیا کروں۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں مستقبل میں کافی آگے جاؤں گا۔ وہ لوگوں کو میرے بارے میں بتاتے تھے۔ وہ انہیں میرے کام کے بارے میں بتاتے تھے۔ مجھے لگتا ہے کہ اس کے بعد ہی میرے لیے چیزیں بہتر ہونے لگیں۔ یہلل انا کے گروپ کی تھیٹر فنکار اور کارکن، کرونا پرساد نے مجھے نمائش لگانے کے لیے شروعاتی ۱۰ ہزار روپے دیے۔ اس کی مدد سے میں پہلی بار اپنی تصویریں پرنٹ کرا پایا۔ انّا نے مجھے اپنی تصویروں کے لیے، لکڑی کا فریم بنانا سکھایا۔ انہوں نے میری نمائش کے لیے ایک منصوبہ بنایا تھا، جس کے بغیر میری پہلی نمائش نہیں لگ پاتی۔

بعد میں، میری تصویریں رنجیت انّا [پا رنجیت] اور ان کے نیلم کلچرل سنٹر تک پہنچیں۔ اس کے ساتھ ہی، یہ دنیا بھر کی کئی کئی دوسری جگہوں تک بھی جا پہنچیں، لیکن جس جگہ پر یہ خیال پہلی بار پیدا ہوا تھا وہ یہلل انا کا ہی کیمپ تھا۔ جب میں نے پہلی بار ان کے ساتھ سفر کرنا شروع کیا تھا، تو مجھے بہت سی چیزوں کے بارے میں معلوم نہیں تھا۔ اس قسم کے سفر کے دوران ہی میں نے بہت کچھ سیکھا۔ لیکن، انا نے بہت کچھ جاننے والوں اور نسبتاً بہت کم جاننے والوں کے درمیان کسی بھی قسم کا کوئی امتیاز نہیں برتا۔ وہ ہمیں لوگوں کو ساتھ لانے کے لیے آمادہ کرتے تھے، بھلے ہی وہ کسی سے کم صلاحیت مند کیوں نہ ہوں۔ وہ کہتے تھے، ’’ہم انہیں نئی چیزوں سے متعارف کرائیں گے، ان کے ساتھ سفر کریں گے۔‘‘ وہ کبھی کسی آدمی کی کمیاں نہیں دیکھتے تھے۔ اور اس طرح انہوں نے کئی فنکار تیار کیے۔

انہوں نے بہت سے بچوں کو بھی فنکار اور اداکار بنا دیا۔ انّا کہتے ہیں، ’’ہم سماعت و گویائی سے محروم بچوں کو محسوس کرنا سکھاتے ہیں – ہم انہیں پینٹ کرنا، مٹی سے زندہ چیزیں بنانا سکھاتے ہیں۔ نابینا بچوں کو ہم موسیقی اور ناٹک کرنا سکھاتے ہیں۔ ہم انہیں مٹی سے سہ رخی مورتیاں بنانا بھی سکھاتے ہیں۔ اس سے، نابینا بچوں کو فن کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ ہم پاتے ہیں کہ جب بچے اس قسم کی آرٹ کی شکلوں کو سیکھتے ہیں، اور انہیں سماج کو سمجھنے کے عمل کے ایک حصہ کے طور پر سیکھتے ہیں، تو وہ بھی آزاد اور خود کفیل محسوس کرتے ہیں۔‘‘

PHOTO • M. Palani Kumar

تنجاور میں نابینا بچوں کے ایک اسکول کے بچے، یہلل انّا کے کیمپ میں مزہ لے رہے ہیں۔ وہ کیمپ سے پہلے آنکھوں پر پٹی باندھ کر مشق کرتے ہیں، تاکہ نابینا بچوں کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کا طریقہ سیکھ سکیں۔ سماعت و گویائی سے محروم بچوں کو ٹریننگ دینے سے پہلے بھی وہ اپنے کان بند کرکے مشق کرتے ہیں

PHOTO • M. Palani Kumar

کاویری پٹینم میں اوئل اٹّم نامی فوک ڈانس (علاقائی رقص) کی مشق کرتے بچے۔ یہلل انا نے بچوں کو کئی قسم کے فوک آرٹ سے متعارف کرایا ہے

بچوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے انہوں نے محسوس کیا کہ ’’گاؤوں کے بچے – خاص کر لڑکیاں – اسکول میں بھی بہت شرماتے تھے۔ وہ ٹیچر کے سامنے کوئی سوال نہیں پوچھ پاتے۔ انا بتاتے ہیں، ’’میں نے انہیں تھیٹر کے ذریعے بولنے کا ہنر سکھانے کا فیصلہ کیا۔ اور ایسا کرنے کے لیے، میں نے تھیٹر کارکن کرونا پرساد سے تھیٹر کی کلاس لی۔ فنکار پرشوتم کی رہنمائی میں، ہم نے بچوں کو تھیٹر کی ٹریننگ دینی شروع کی۔‘‘

وہ اپنے بچوں کو تربیت یافتہ بنانے کے لیے، دوسرے ممالک کے فنکاروں سے سیکھی گئی آرٹ کی مختلف شکلوں کو بچوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ بچوں کو اپنے آس پاس کی دنیا کے تئیں حساس بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہلل انا بتاتے ہیں، ’’ہم اپنے کیمپوں میں ماحولیات سے متعلق فلمیں دکھاتے ہیں۔ ہم انہیں جانداروں کی مختلف شکلوں کو سمجھنے کا ہنر سکھاتے ہیں – چاہے وہ کتنا بھی چھوٹا جانور ہو، پرندہ ہو یا کیڑا۔ وہ اپنے آس پڑوس میں لگے پودوں کی پہچان کرنا سیکھتے ہیں، ان کی اہمیت کو سمجھتے ہیں، ساتھ ہی زمین کی عزت کرنا اور اس کا تحفظ کرنا سیکھتے ہیں۔ میں ایسے ناٹک تیار کرتا ہوں جو حیاتیات کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ اس طرح، بچے ہمارے پودوں اور جانوروں کی تاریخ کے بارے میں جان پاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، سنگم لٹریچر میں ۹۹ پھولوں کا ذکر ہے۔ ہم بچوں کو ان کا خاکہ بنانے، اور جب وہ ہمارے قدیم آلات موسیقی کو بجاتے ہیں، تو ان کے بارے میں گانے کے لیے کہتے ہیں۔‘‘ وہ ناٹکوں کے لیے نئے گانے بناتے تھے۔ وہ کیڑوں اور جانوروں کے بارے میں قصے بناتے ہیں۔

یہلل انّا نے زیادہ تر آدیواسی اور ساحلی علاقوں میں واقع گاؤوں کے بچوں کے ساتھ کام کیا، لیکن جب انہوں نے شہری علاقوں کے بچوں کے ساتھ کام کیا، تو انہیں معلوم ہوا کہ شہری بچوں میں فوک آرٹ اور معاش سے جڑے علم کی کمی ہے۔ پھر انہوں نے شہری کیمپوں میں فوک آرٹ کی تکنیکوں کی معلومات کو شامل کرنا شروع کیا، جیسے پرائی میں ڈھول کا استعمال کیا جاتا ہے، سیلمبو میں نمائش کے دوران پائل جیسے زیور کا استعمال کیا جاتا ہے، اور پُلی میں شیر کے مکھوٹے کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہلل انّا کہتے ہیں، ’’میں فن کی ان شکلوں کو بچوں تک پہنچانے اور ان کی حفاظت کرنے میں یقین رکھتا ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ فن کی ان شکلوں میں ہمارے بچوں کو خوش اور متحرک رکھنے کی طاقت ہے۔‘‘

پانچ سے چھ دنوں تک چلنے والے ان کیمپوں کے لیے ٹیم میں ہمیشہ ایک سے زیادہ فنکار ہوتے تھے۔ ایک وقت تھا، جب ہمارے گروپ میں گلوکار تمل آرسن، پنٹر راکیش کمار، مورتی ساز یہلل انّا، اور فوک آرٹسٹ ویل موروگن اور آنند شامل تھے۔ انا دھیرے سے پس منظر میں چلنے والی میری سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’اور ہاں، ہماری ٹیم میں فوٹوگرافر بھی ہیں، جو ہمارے بچوں کو تصویروں کے ذریعے اپنی زندگی کو درج کرنا سکھاتے ہیں۔‘‘

PHOTO • M. Palani Kumar

تیروچینگوڈو میں کیمپ کے آخری دن، ’پرفارمنس‘ کے موقع پر پرائی اٹّم کے طور پر بنائے گئے فریم ڈرم بجاتے بچے

PHOTO • M. Palani Kumar

تنجاور میں، جزوی طور پر دیکھ پانے کے قابل لڑکیاں تصویریں کھینچ رہی ہیں

انہیں خوبصورت لمحوں کو سنوارنا بخوبی آتا ہے۔ ایسے لمحے جن میں بچے اور بوڑھے مسکراتے ہیں۔ انہوں نے مجھے اپنے والدین کے ساتھ ایسے لمحوں کو پھر سے جینے میں مدد کی۔ انجینئرنگ کا کورس پورا کرنے کے بعد، جب میں بے روزگار کے طور پر بھٹک رہا تھا، اور میرا فوٹوگرافی کی طرف رجحان شروع ہوا، تو یہلل انّا نے مجھے اپنے والدین کے ساتھ وقت گزارنے کو بھی کہا۔ انہوں نے اپنی ماں کے ساتھ اپنے رشتوں کے بارے میں کہانیاں شیئر کیں – کیسے والد کی موت کے بعد ان کی ماں نے اکیلے ہی ان کی اور ان کی چار بہنوں کی پرورش کی تھی۔ ان کی ماں کی جدوجہد سے جڑی بات چیت کے ذریعے، یہلل انا نے مجھے اس بارے میں سوچنے پر مجبور کیا کہ میرے اپنے والدین نے میری پرورش و پرداخت میں کتنی جدوجہد کی ہوگی۔ اس کے بعد ہی میں اپنی ماں کی قیمت کو سمجھ پایا، ان کی تصویریں کھینچیں، ان کے بارے میں لکھا ۔

جب میں نے یہلل انّا کے ساتھ سفر کی شروعات کی، تو میں ناٹک کی پیشکش سے متعلق باریکیاں سیکھنے لگا، خاکہ بنانا اور پینٹ کرنا، رنگ بنانا سیکھنے لگا۔ اس کے ساتھ ہی، میں نے بچوں کو فوٹوگرافی سکھانا شروع کر دیا۔ اس کام نے بچوں اور میرے درمیان کی ایک دنیا کھول دی۔ میں نے ان کی کہانیاں سنیں، ان کی زندگی کو تصویروں میں اتارنا شروع کیا۔ جب میں نے ان کے ساتھ بات چیت کرنے کے بعد، ان کے ساتھ کھیلنے کے بعد، ان کے ساتھ ناچنے اور گانے کے دوران تصویریں لینی شروع کیں، تو یہ ایک قسم کے جشن جیسا بن گیا۔ میں ان کے ساتھ ان کے گھر گیا، ان کے ساتھ کھانا کھایا، ان کے والدین سے بات کی۔ مجھے احساس ہوا کہ جب میں ان کے ساتھ بات چیت کرنے، ان کے ساتھ زندگی کے تجربات شیئر کرنے اور وقت گزارنے کے بعد تصویریں کھینچتا ہوں، تو جادو سا ہو جاتا ہے۔

گزشتہ ۲۲ برسوں میں، جب سے یہلل انّا نے کلیمن ویرلگل کی شروعات کی ہے، ان کے رابطے میں جو کوئی بھی آیا اُن سب کی زندگی انہوں نے جادو اور روشنی سے بھر دی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’ہم آدیواسی بچوں کو درس و تدریس سے متعلق رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ ہم انہیں تعلیم کی اہمیت بتاتے ہیں۔ ہم بچوں کو اپنی حفاظت کرنا بھی سکھاتے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ جب بچے اپنی حفاظت کے لیے تربیت یافتہ بنائے جاتے ہیں، تو ان میں خود اعتمادی بڑھتی ہے۔‘‘ ان کا ماننا ہے: اپنے بچوں پر اعتماد کرنا، انہیں منطقی سوچ سے لیس کرنا، اور خیالات و اظہار کی آزادی کو فروغ دینا۔

وہ کہتے ہیں: ’’ہم مانتے ہیں کہ ہر انسان برابر ہوتا ہے، اور ہم انہیں یہی سکھاتے ہیں۔ ان کی خوشی میں ہی میں اپنی خوشی تلاش کر لیتا ہوں۔‘‘

PHOTO • M. Palani Kumar

کوئمبٹور کے ایک اسکول میں یہلل انّا ایک ناٹک ’آئینہ‘ کی مشق کروا رہے ہیں، اور پورا کمرہ بچوں کے قہقہوں سے گلزار ہو چکا ہے

PHOTO • M. Palani Kumar

ناگ پٹینم میں یہلل انّا اور ان کی ٹیم، پرندوں پر مبنی ایک ناٹک پیش کر رہی ہے

PHOTO • M. Palani Kumar

تیرونّا ملائی میں مکھوٹوں، پوشاک، اور رنگے ہوئے چہروں کے ساتھ، ناٹک ’لاین کنگ‘ کرنے کے لیے تیار کھڑی ٹیم

PHOTO • M. Palani Kumar

ستیہ منگلم میں بچوں کے ساتھ یہلل انّا۔ آپ بچوں کو ان کی زندگی سے الگ نہیں کر سکتے۔ جب بات بچوں کی ہو، تو وہ دلچسپ اور سرگرم انسان بن جاتے ہیں

PHOTO • M. Palani Kumar

جوادو کی پہاڑیوں میں واقع کیمپس میں، بچے خود سے بنائے گئے کاغذی مکھوٹوں کے ساتھ تصویر کھنچوا رہے ہیں

PHOTO • M. Palani Kumar

کانچی پورم میں گویائی و سماعت سے معذور بچوں کے ایک اسکول میں منعقد اوریگیمی ورکشاپ کے ایک سیشن کے دوران، خود سے بنائی گئی کاغذی تتلیوں سے گھری ایک بچی

PHOTO • M. Palani Kumar

پیرمبلور میں، اسٹیج کی آرائش کے لیے بچے خود سے پوسٹر بنا رہے ہیں۔ اسٹیج کو کاغذوں اور کپڑوں سے تیار کیا گیا تھا

PHOTO • M. Palani Kumar

جوادو میں، اپنے آس پاس کے درختوں کی شاخوں کا استعمال کرکے، یہلل انّا اور بچے ایک جانور کا ڈھانچہ بنا رہے ہیں

PHOTO • M. Palani Kumar

ناگ پٹینم میں ایک اسکول کے احاطہ میں بچوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے

PHOTO • M. Palani Kumar

کانچی پورم میں، جسمانی طور سے معذور بچوں کے ایک اسکول کے کیمپس کے بچے، پرانی سی ڈی سے الگ الگ چیزیں بنا رہے ہیں

PHOTO • M. Palani Kumar

سیلم کے ایک اسکول میں اپنی فنی تخلیقات کی نمائش کرتے بچے

PHOTO • M. Palani Kumar

ستیہ منگلم کے ایک کیمپ میں بنائے گئے آرٹ کی نمائش میں، بچوں کے ساتھ مل کر گاؤں والوں کا استقبال کرتے یہلل انّا

PHOTO • M. Palani Kumar

کاویری پٹینم میں نمائش والے دن، پوئی کال کودورئی اٹّم نامی ایک مقامی رقص کو لوگوں کے درمیان شروع کرواتے یہلل انّا۔ پوئیکال کودورئی نقلی پیروں والے گھوڑے کو گتّے اور کپڑوں سے تیار کیا گیا ہے

PHOTO • M. Palani Kumar

کاویری پٹینم میں ایک کیمپ کے آخری دن، یہلل انّا کی ٹیم اور بچے بلند آواز میں کہتے ہیں، ’پاپ رپّا بائے بائے، بائے بائے پاپ رپّا‘

مضمون نگار، بنیادی طور پر تمل میں لکھے گئے اس مضمون کے ترجمے پر کام کرنے کے لیے کویتا مرلی دھرن، اور اسٹوری میں اہم اِن پُٹ دینے کے لیے اپرنا کارتکیئن کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

پوسٹ اسکرپٹ (مابعد عبارت): یہ مضمون اشاعت کے لیے تیار ہی کیا جا رہا تھا کہ ۲۳ جولائی، ۲۰۲۲ کو جانچ میں سامنے آیا کہ آر یہلل آرسن ’جیلئن بیرے سنڈروم‘ میں مبتلا ہیں۔ یہ ایک خطرناک اعصابی مرض ہے، جس میں آپ کے جسم کی قوت مدافعت آپ کی رگوں پر حملہ کرتی ہے۔ یہ بیماری محیطی اعصابی نظام کو متاثر کرتی ہے اور پٹھوں کو کمزور کرنے اور فالج کا سبب بن سکتی ہے۔

مترجم: محمد قمر تبریز

M. Palani Kumar

M. Palani Kumar is PARI's Staff Photographer and documents the lives of the marginalised. He was earlier a 2019 PARI Fellow. Palani was the cinematographer for ‘Kakoos’, a documentary on manual scavengers in Tamil Nadu, by filmmaker Divya Bharathi.

Other stories by M. Palani Kumar
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez