سمیرالدین شیخ، احمد آباد کی بھیڑ بھاڑ والی پرانی سڑکوں پر دن میں اپنی سائیکل سے آتے جاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ جوہا پورہ کی فتح واڑی میں اپنے گھر سے ’تاج انویلپس‘، جہاں وہ کام کرتے ہیں، کا ۱۳ کلومیٹر کا سفر ایک طرف سے طے کرنے میں انہیں تقریباً ایک گھنٹہ لگتا ہے۔ ’’میں اپنے کام پر جانے کے لیے اپنی موٹر سائیکل نہیں نکالتا ہوں، کیوں کہ میں پیٹرول کی قیمت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا،‘‘ ۳۶ سال کے نرم گو سمیرالدین اپنی سائیکل کھڑی کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

وہ پرانے شہری علاقہ کے ایک شاپنگ کامپلیکس کے بیسمنٹ (تہہ خانہ) میں ۱۰ گنا ۲۰ فٹ کے ایک کمرے میں دن بھر کام کرتے ہیں۔ شہر کا یہ علاقہ کھڑیا کہلاتا ہے۔ ان کے ساتھ لفافہ بنانے والے ۱۰ دیگر لوگ بھی کام کرتے ہیں۔ ایک دن میں سب سے زیادہ لفافے انہوں نے ۶۰۰۰ سے ۷۰۰۰ تک بنائے ہیں۔

سمیرالدین بتاتے ہیں کہ لفافہ بنانا اتنا بھی آسان کام نہیں ہے جتنا کہ یہ دکھائی دیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’اس کاریگری کو سیکھنے میں ڈیڑھ دو سال لگ جاتے ہیں۔‘‘ وہ تفصیل سے بتاتے ہیں، ’’آپ ایک آزاد کاریگر، جو اپنا محنتانہ خود طے کرتا ہو، تب تک نہیں بن سکتے، جب تک آپ کے استاد (جو عموماً کوئی بزرگ اور تجربہ کار کاریگر ہوتا ہے) آپ کے کام کے معیار سے متفق نہ ہوں اور اس پر اپنی مہر نہ لگا دیں۔‘‘

معیار کی بنیاد یہاں کام کی تیزی، صفائی، مہارت اور صحیح اوزاروں کے استعمال کے توازن سے ہے۔ کٹنگ اور پنچنگ والی دو مشینوں کو چھوڑ کر کارخانہ میں بقیہ تمام کام ہاتھ سے کیے جاتے ہیں۔

سب سے پہلے، کارخانہ (ورکشاپ) میں مشینیں کاغذ کی بڑی چادروں کو پہلے سے متعینہ چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ لیتی ہیں۔ اس کے بعد خصوصی طور پر بنے روایتی سانچہ کی مدد سے کاغذ کے ان ٹکڑوں کو الگ الگ سائزوں میں موڑا جاتا ہے۔ کاریگر ان ٹکڑوں کو گنتے ہیں اور ایک بار میں سو کاغذ کے ٹکڑوں کا بنڈل موڑنے، چپکانے، سیل کرنے اور آخر میں پیکنگ کرنے جیسے کام کے لیے لیتے ہیں۔

Left: Sameeruddin Shaikh cycling through the old city to Taj Envelopes in Khadia.
PHOTO • Umesh Solanki
Right: Craftsmen at work, sitting on the floor at Taj Envelopes’ workshop in the basement of a shopping complex
PHOTO • Umesh Solanki

بائیں: سمیرالدین شیخ پرانے شہر سے اپنی سائیکل پر بیٹھ کر کھڑیا کے ’تاج انویلپس‘ جاتے ہوئے۔ دائیں: ایک شاپنگ کامپلیکس کے بیسمنٹ میں واقع تاج انویلپس کے فرش پر بیٹھے اور اپنے اپنے کام میں مصروف کاریگر

لفافہ بنانے کی پوری کاریگری باریکیوں سے بھری ہوئی ہے۔ لفافہ کے ہر حصے کا الگ نام ہوتا ہے – سب سے اوپر کا حصہ ماتھو کہلاتا ہے، نیچے کے فلیپ کو پیندی ، بغل کے فلیپ کو کھولا کہتے ہیں، جسے گوند سے چپکایا جاتا ہے۔ لفافہ بنانے کے عمل اور مرحلہ کا بھی الگ الگ نام ہوتا ہے، اور ہر عمل کو اسی صفائی کے ساتھ کرنا ہوتا ہے۔ اوزاروں کے استعمال میں بھی احتیاط اور سمجھداری برتی جاتی ہے، ورنہ لاپروائی کے سبب گہری چوٹ لگنے کا خطرہ بنا رہتا ہے۔

جب بغل کے فلیپ موڑے جاتے ہیں، تو کاریگر پہلے اپنی مٹھیوں کا اور اس کے بعد ’اسٹون‘ نام کے ایک اوزار کا استعمال کرتے ہیں، تاکہ کاغذ کو صاف صاف اور دھاردار طریقے سے موڑا جا سکے۔ ’فولڈنگ اسٹون‘ اب گرائنڈنگ اسٹون سے نہیں بنائے جاتے ہیں۔ اب کاریگر ایک بھاری بھرکم لوہے کے سلیب کا استعمال کرتے ہیں۔ ۵۱ سال کے عبدالمطلب انصاری بتاتے ہیں، ’’جب میں یہ کام سیکھ رہا تھا تب پتھر میری انگلی سے آ ٹکرایا۔ میری انگلی سے خون کا فوارہ پھوٹ پڑا اور میرے قریب کی دیوار خون سے بھر گئی۔ تب میرے استاد نے بتایا کہ اگر مجھے ایک عمدہ کاریگر بننا ہے، تو طاقت کا استعمال کرنے کی بجائے تکنیک کا استعمال کرنا سیکھنا ہوگا۔‘‘

’اسٹون‘ کا وزن ایک کلوگرام کے آس پاس ہوتا ہے۔ عبدالمطلب بتاتے ہیں، ’’ایک عام لفافہ بنانے کے لیے آپ کو اسے چار سے پانچ فعہ استعمال کرنا ہوتا ہے۔‘‘ ۵۲ سالہ عبدالغفار انصاری کہتے ہیں، ’’کاغذ کی موٹائی کے حساب سے آپ کو اپنی تکنیک بدلنی پڑتی ہے۔ آپ کو کتنی اونچائی تک ’اسٹون‘ کو اٹھانا ہے، کتنی زور سے مارنا ہے، اور کتنی بار مارنا ہے – یہ سبھی کام آپ انہیں کرتے کرتے ہی سیکھ سکتے ہیں۔‘‘ وہ آگے بتاتے ہیں، ’’اس پورے عمل میں ایک لفافہ ہمارے ہاتھوں سے ۱۷-۱۶ بار گزرتا ہے۔ ایسے میں ہر دن اپنی انگلیوں کے کٹنے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اگر گوند آپ کی کٹی انگلی سے چھو بھی جائے، تو اس میں بہت تیز جلن ہوتی ہے۔‘‘

لفافہ بنانے والے ۶۴ سال کے مستنصر اجینی بتاتے ہیں کہ کہیں کٹ جانے کی حالت میں وہ اپنے زخموں پر کوکم کا تیل لگاتے ہیں۔ کچھ دوسرے لوگ آرام پانے کے لیے ویسلین یا ناریل کا تیل استعمال کرتے ہیں۔ اس کام کی چنوتیاں اُس کاغذ کی قسم پر منحصر ہے جس کا استعمال لفافہ بنانے میں کیا جاتا ہے۔ سونل انویلپس میں کام کرنے والے محمد آصف کہتے ہیں، ’’کئی بار جب ہمیں کڑک مال [۱۲۰ جی ایس ایم کا آرٹ پیپر] ملتا ہے، تو ہمارے ہاتھ اکثر زخمی ہو جاتے ہیں۔ میں آرام کے لیے انہیں نمک ملے گرم پانی میں سات آٹھ منٹ کے لیے ڈبو دیتا ہوں۔‘‘ سمیرالدین شیخ ان کی باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’موسم ٹھنڈا ہونے پر بھی ہمارے ہاتھوں میں درد اٹھتا ہے۔‘‘

Left: Mohammad Asif Shaikh at Sonal Envelopes hitting the 'stone' on dhapa to create a fold.
PHOTO • Umesh Solanki
Right: Mustansir Ujjaini applying warm kokum oil on his sore hands
PHOTO • Umesh Solanki

بائیں: سونل انویلپس کے محمد آصف شیخ ڈھاپہ پر کاغذ کو موڑنے کے لیے ’اسٹون‘ سے مار رہے ہیں۔ دائیں: مستنصر اجینی اپنی ہتھیلیوں کی سوجن پر کوکم کا گرم تیل لگا رہے ہیں

اس کام میں کاریگروں کو کئی کئی گھنٹوں تک فرش پر بیٹھے رہنا پڑتا ہے۔ سمیرالدین کہتے ہیں، ’’ہم کام کرنے کے لیے ایک بار ساڑھے نو بجے صبح جو بیٹھتے ہیں، تو دوپہر کو ایک بجے کھانا کھانے کے لیے ہی اٹھتے ہیں۔ میری پیٹھ میں درد ہوتا ہے۔ کام ختم ہو جانے پر اٹھ کھڑے ہونے پر بھی یہ درد بنا رہتا ہے۔‘‘ کام کرتے ہوئے لمبے وقت تک ایک ہی حالت میں بیٹھے رہنے کی وجہ سے ان کے ٹخنوں میں گٹھے پڑ گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’یہ پریشانی ہر کسی کو ہونی ہی ہے۔‘‘ یہ بات وہ شاید اس لیے کہہ رہے ہیں، کیوں کہ ہر کاریگر کو فرش پر پالتھی مار کر بیٹھنا ہوتا ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں، ’’اگر میں اپنے پیروں کی پرواہ کروں گا، تو میری پیٹھ میں درد شروع ہو جائے گا۔‘‘

اس درد اور اینٹھن، درد اور جلن کے بعد بھی اس کام سے ہونے والی آمدنی بہت کم ہے۔ تقریباً ۳۳ سال کے محسن خان پٹھان کے لیے یہ تشویش کی بات ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’میری فیملی تنہا میری آمدنی پر ہی گزارہ کرتی ہے۔ گھر کا کرایہ ۶۰۰۰ روپے ہے۔ میرے ہلکے پھلکے ناشتہ اور چائے پر روزانہ ۵۰ روپے اور بس اور آٹو کے کرایے پر ۶۰ روپے خرچ ہوتے ہیں۔‘‘ ان کی چار سال کی بیٹی نے ابھی حال ہی میں ایک انگریزی میڈیم اسکول میں داخلہ لیا ہے۔ ’’اس کی سالانہ فیس ۱۰ ہزار روپے ہے،‘‘ وہ فکرمندی کے ساتھ بتاتے ہیں، اور دوبارہ لفافہ بنانے کے کام میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

سمیرالدین کی فیملی میں کل چھ لوگ ہیں – تین بچے اور ایک بزرگ والد۔ وہ کہتے ہیں، ’’بچے اب بڑے ہونے لگے ہیں، اور لفافہ بنانے کے اس کام سے مجھے کچھ زیادہ نہیں مل پا رہا ہے۔ میں کسی طرح اپنی فیملی چلا رہا ہوں، لیکن کوئی بچت نہیں کر پا رہا ہوں۔‘‘ وہ آمدنی بڑھانے کا کوئی متبادل تلاش کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں اور ایک آٹو لائسنس حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ ایک آٹو رکشہ خرید کر بہتر آمدنی حاصل کر سکیں۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں، ’’لفافے کے کام میں آمدنی متعین نہیں ہے۔ جس دن ہمیں کام نہیں ملتا اُس دن ہم دوپہر ۳-۲ بجے تک فارغ ہو جاتے ہیں۔ ہم سبھی کمیشن پر کام کرنے والے کاریگر ہیں، ہماری کوئی مقررہ تنخواہ نہیں ہے۔‘‘

Workers sit in this same position for most of their working hours. Sameeruddin Shaikh (left) showing calluses on his ankle due to continuously sitting with one leg folded under him.
PHOTO • Umesh Solanki
Mustansir Ujjaini (right) and two others working, seated on the floor
PHOTO • Umesh Solanki

اپنے کام کے زیادہ تر گھنٹوں میں کاریگر ایک ہی حالت میں بیٹھے رہتے ہیں۔ سمیرالدین شیخ (بائیں) تاج انویلپس میں اپنے دائیں ٹخنے کا گٹھا دکھا رہے ہیں، جو انہیں لگاتار ایک پیر کو دبا کر بیٹھنے کی وجہ سے ہوا ہے۔ مستنصر اجینی (دائیں) اور دو دیگر کاریگر فرش پر بیٹھ کر کام کر رہے ہیں

لفافہ کاریگروں کی ایک یونین ۱۹۸۸ میں قائم کی گئی تھی۔ یہ کبھی سرگرم رہتی تھی اور کبھی ناکارہ، آخرکار ایک دن اسے تحلیل کر دیا گیا۔ یہ کاریگر، یونین کے تحلیل ہونے کی صحیح تاریخ نہیں جانتے ہیں، لیکن بتاتے ہیں کہ کچھ سال بعد ان میں سے کچھ لوگوں نے یونین کو بحال کیا تھا۔ اور، تب یونین میں ورکشاپ مالکوں کے ساتھ یہ طے ہوا تھا کہ مہنگائی بڑھنے کی حالت اور کام کے تناسب میں بونس اور چھٹی اور اجرت میں سالانہ اضافہ کے طور پر کاریگروں کی مزدوری میں ۱۰ فیصد کا اضافہ کیا جائے گا۔

احمد آباد میں، اس صنعت میں پوری طرح مردوں کا ہی غلبہ رہتا ہے – یہاں صرف ایک ہی خاتون کاریگر ہے جو لفافہ بنانے کا کام کرتی ہے۔

اجرت ہفتہ کے حساب سے ادا کی جاتی ہے، جو بنائے گئے لفافوں کی کل تعداد کے ساتھ ساتھ ان کے سائز اور موٹائی کے مطابق طے ہوتی ہے۔ عام کاغذ سے بنائے گئے فی ۱۰۰۰ لفافے کے عوض کاریگروں کو تقریباً ۳۵۰ روپے ملتے ہیں، جب کہ آرٹ پیپر سے بنائے گئے لفافوں کی مزدوری ۴۸۹ روپے ہے۔ ایک کاریگر ایک دن میں ۲ سے لے ۶ ہزار تک لفافے بناتا ہے۔ یہ تعداد لفافے کی قسموں، ان کو بنانے کی رفتار اور الگ الگ سیزن میں آنے والی مانگ پر منحصر ہے۔

دفتروں میں استعمال ہونے والا ۱۱ گنا ۵ انچ سائز کا ایک لفافہ، جس کا وزن ۱۰۰ جی ایس ایم (گرام فی مربع میٹر) ہوتا ہے، پانچ روپے میں فروخت ہوتا ہے۔

کاریگروں کو ۱۰۰ جی ایس ایم وزن والے ۱۰۰۰ لفافوں کے عوض ۱۰۰ روپے کی دہاڑی ملتی ہے۔ بالفاظ دیگر، آفس والا ایک لفافہ بنانے میں لگنے والی محنت کے بدلے انہیں ملنے والا پیسہ لفافے کی بازار میں قیمت کے پچاسویں حصے کے برابر ہوتی ہے۔

ساتھ ہی، ایک کاریگر کو ۱۰۰ روپے کمانے کے لیے دو گھنٹے کڑی محنت کرنی پڑتی ہے۔

S. K. Sheikh the owner of Taj Envelopes arranging the die on the rectangle sheets before cutting the paper in the machine
PHOTO • Umesh Solanki

تاج انویلپس کے مالک ایس کے شیخ مشین سے کاغذوں کی کٹنگ کرنے سے پہلے مستطیل کاغذوں پر سانچے کو ترتیب دے رہے ہیں


Maqbul Ahmad Jamaluddin Shaikh a worker at Om Traders operating the punching machine that cuts sheets of paper to a size and shape of ready for folding. Most workshop owners handle the cutting and punching machines themselves
PHOTO • Umesh Solanki

اوم ٹریڈرز میں کام کرنے والے ایک کاریگر، مقبول جمال الدین شیخ سانچے کے سائز اور قسم کے مطابق کاغذوں کو پنچنگ مشین پر کاٹ رہے ہیں۔ اس کے بعد، کٹے ہوئے کاغذوں کو متعینہ جگہوں سے موڑا جائے گا۔ زیادہ تر ورکشاپ مالک کٹنگ اور پنچنگ مشینوں کو خود چلاتے ہیں


Different shapes and sizes of metal frames (called a die) are used in the punching machines
PHOTO • Umesh Solanki

پنچنگ مشینوں میں الگ الگ سائز اور قسم کے دھات کے فریم (سانچے) استعمال کیے جاتے ہیں


Artisans at Om Traders counting the sheets and getting piles of 100 each ready to be folded
PHOTO • Umesh Solanki

اوم ٹریڈرز کے کاریگر کاغذ کی تہوں کو موڑنے سے پہلے انہیں گن کر ان کا بنڈل بنا رہے ہیں۔ ایک بنڈل میں کٹے ہوئے کاغذ کے ۱۰۰ ٹکڑے ہوتے ہیں


Workers begin by folding the envelope sheets to give them shape. Each flap is identified by its distinctive name – mathu (top flap), pendi (bottom flap), dhapa (right flap, where the glue will be applied), khola (let flap). Bhikbhai Rawal of Taj Envelopes is folding pendi of a large envelope to hold an x-ray
PHOTO • Umesh Solanki

کاریگر لفافے کے کاغذ کو موڑ کر انہیں ایک سائز دینے سے کام کی شروعات کرتے ہیں۔ ہر ایک فلیپ اپنے ایک خاص نام سے پہچانا جاتا ہے – ماتھو (اوپر کا فلیپ)، پیندی (نچلا فلیپ)، ڈھاپہ (دایاں فلیپ، جہاں گوند لگائی جاتی ہے)، کھولا (بایاں فلیپ)۔ تاج انویلپس کے بھیکھا بھائی راول ایکس رے کے لیے بنے ایک بڑے لفافے کی پیندی کو موڑ رہے ہیں


Abdul Majeed Abdul Karim Sheikh (left) and Yusuf Khan Chotukhan Pathan of Sameer envelopes are using their side of their palms on the folded dhapa and pendi to make a sharp crease
PHOTO • Umesh Solanki

سمیر انویلپس کے عبدالمجید کریم شیخ (بائیں) اور یوسف خان چھوٹو خان پٹھان اپنی ہتھیلیوں کے کناروں کے استعمال سے مڑے ہوئے ڈھاپے اور پیندی کو دھار دار بنا رہے ہیں


Mohammad Ilyas Shaikh of Dhruv Envelopes, using his fist on the side flap. He works on 100 envelopes at a time and needs to repeat the same action some 16 times leaving the sides of his palm sore
PHOTO • Umesh Solanki

دھرو انویلپس کے محمد الیاس شیخ بغل کے فلیپ پر اپنی مٹھیوں کو ٹھوک رہے ہیں۔ وہ ایک وقت میں ۱۰۰ لفافے تیار کرنے کا کام کرتے ہیں اور ایک لفافہ پر انہیں تقریباً ۱۶ بار ٹھوکنا ہوتا ہے۔ ایسا کرنے سے ان کی ہتھیلی کے کنارے سوج جاتے ہیں


Abdul Ghaffar Gulabbhai Mansuri at Taj Envelopes uses mal todvano patthar (a folding stone) on the bottom flap. The ‘stone’ is actually a piece of iron weighing about a kilogram and a half and is an essential tool in the process
PHOTO • Umesh Solanki

تاج انویلپس کے عبدالغفار گلاب بھائی منصوری نچلے فلیپ پر ’مال توڑوانو پتھر ‘ (فولڈنگ اسٹون) کا استعمال کرتے ہوئے۔ یہ ’اسٹون‘ اصل میں لوہے کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے، جس کا وزن ایک کلوگرام کے آس پاس ہوتا ہے۔ یہ کاریگروں کے لیے ایک ضروری اوزار ہے


Craftsmen use a wooden tool, known as silas to pull the right side of the stack of envelopes into a slide, making it easy to apply glue
PHOTO • Umesh Solanki

لفافوں کی دائیں طرف کے حصے پر سہولت آمیز طریقے سے گوند لگائی جا سکے، اس کے لیے فلیپ کو اندر کی طرف سرکایا جاتا ہے۔ اس کام کے لیے کاریگر ایک لکڑی کے اوزار کا استعمال کرتے ہیں جنہیں وہ ’سیلاس ‘ کہتے ہیں


Abdul Muttalib Mohammad Ibrahim Ansari at Taj Envelopes is applying lai (a glue made from either refined flour or tamarind seed) on the covers using a putlo , a little bundle-like tool made using thin strips of cloth tied inside a piece of rexine
PHOTO • Umesh Solanki

تاج انویلپس میں عبدالمطلب محمد ابراہیم انصاری، کور پر ایک پُتلو کی مدد سے لائی (آٹے، میدے یا املی کے بیجوں سے بنائی گئی گوند) لگا رہے ہیں۔ پتلو ایک چھوٹا سا بنڈل نما اوزار ہوتا ہے جسے کپڑوں کی پتلی پتلی پٹیوں کو ایک ریکسین کے ٹکڑے کے اندر باندھ کر بنایا جاتا ہے


Sameeruddin Shaikh applying paste to dhapa , the right flap of the envelope paper. He works on 100 envelopes at a time
PHOTO • Umesh Solanki

سمیرالدین شیخ لفافے کے کاغذ کے دائیں فلیپ (ڈھاپہ) پر پیسٹ لگا رہے ہیں۔ زیادہ تر کاریگروں کی طرح وہ بھی ایک وقت میں ۱۰۰ کی تعداد کے حساب سے اپنا کام کرتے ہیں


Bhikhabhai Rawal at Taj Envelopes folds the papers to paste the glued right flap on khola , the left flap
PHOTO • Umesh Solanki

تاج انویلپس میں بھیکھا بھائی راول لائی لگے دائیں فلیپ کو بائیں فلیپ (کھولا) سے چپکانے کے لیے کاغذ کو موڑ رہے ہیں


Mohammad Ilyas Shaikh at Dhruv Envelope seals the bottom of the cover by fixing the glued pendi
PHOTO • Umesh Solanki

محمد الیاس شیخ، دھرو انویلپس میں کور کے نچلے حصے (پیندی) پر لائی لگا کر اسے سیل کر رہے ہیں


Artisans at Om Traders taking a break for lunch. This is the only time in the day that they stop working
PHOTO • Umesh Solanki

اوم ٹریڈرز کے کاریگر ساتھ میں دوپہر کا کھانا کھا رہے ہیں۔ یہ واحد موقع ہوتا ہے، جب ان کو اپنے کام کے طویل گھنٹوں کے درمیان تھوڑا سا آرام ملتا ہے


Abdul Muttalib Mohammad Ibrahim Ansari shows a large-size lamination cover that he has been making at Taj Envelopes
PHOTO • Umesh Solanki

تاج انویلپس میں کام کرنے والے عبدالمطلب محمد ابراہیم انصاری ایک بڑے سائز کا لیمنیشن کور دکھاتے ہوئے جسے وہ خود تیار کر رہے ہیں


An average worker takes about six to seven minutes to get 100 envelopes ready. Shardaben Rawal(left) has been making the envelopes for the last 34 years. She learnt it while working with her husband Mangaldas Rawal (right)
PHOTO • Umesh Solanki

عام طور پر ایک کاریگر کو ۱۰۰ لفافے تیار کرنے میں چھ سے سات منٹ کا وقت لگتا ہے۔ شاردا بین راول (بائیں) گزشتہ ۳۴ سالوں سے لفافے بنانے کا کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے یہ کاریگری اپنے شوہر منگل داس روال (دائیں) کے ساتھ کام کرتے ہوئے سیکھی تھی


An envelope goes through 16 rounds in the hands of a worker during the entire process and the chances of getting your fingers cut, are high. Kaleem Sheikh shows his injured thumb
PHOTO • Umesh Solanki

ایک لفافہ کو بنانے کے عمل میں اسے تقریباً ۱۶ بار کاریگر کے ہاتھوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں انگلیوں کے کٹنے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ کلیم شیخ اپنا کٹا ہوا انگوٹھا دکھا رہے ہیں


When the lai (handmade glue) touches the injured fingers they burn and pain. Kaleem Shaikh of Dhruv Envelopes shows his recent injuries
PHOTO • Umesh Solanki

جب لائی انگلیوں کے کٹے ہوئے حصہ پر لگتی ہے تب بہت تیز جلن اور درد ہوتا ہے۔ دھرو انویلپس کے کلیم شیخ کٹنے پھٹنے کے نشان دکھا رہے ہیں، جو انہیں حال ہی میں لگے ہیں


Hanif Khan Bismillah Khan Pathan at Taj Envelopes stacks the covers with open flaps according to their sizes
PHOTO • Umesh Solanki

تاج انویلپس میں حنیف خان بسم اللہ خان پٹھان کھلے ہوئے فلیپ کے ساتھ کور کے بنڈل کو درست کر رہے ہیں۔ یہ بنڈل لفافوں کے سائز اور تعداد کے مطابق بنائے جاتے ہیں


Mohammad Hanif Nurgani Shaikh closes the mouth of the envelope by folding the top flap. He is the current president of the envelope workers union
PHOTO • Umesh Solanki

محمد حنیف نور غنی شیخ اوپر کے فلیپ کو موڑ کر لفافے کا منہ بند کر رہے ہیں۔ وہ انویلپ ورکرز یونین کے موجودہ صدر بھی ہیں


The finished envelopes are packed in bundles of hundred each by Hanif Pathan
PHOTO • Umesh Solanki

تیار ہو چکے لفافوں کو سو سو کے بنڈلوں میں پیک کرتے ہوئے حنیف پٹھان


Shardaben Rawal placing the envelopes in a box. Other than her, there is not a single woman working in any of the 35 envelope workshops in Ahmedabad
PHOTO • Umesh Solanki

لفافوں کو ڈبہ بند کرتی ہوئیں شاردا بین راول۔ ان کے سوا کوئی دوسری خاتون کاریگر احمد آباد کے ۳۵ کارخانوں میں کہیں بھی کام نہیں کرتی ہے


The Rawal couple giving a report on their work to Jietendra Rawal, the owner of Dhruv Envelopes. They will be paid on Saturday for the week
PHOTO • Umesh Solanki

راول میاں بیوی اپنے کاموں کا بیورہ دھرو انویلپس کے مالک، جتیندر راول کو دے رہے ہیں۔ اسی بورہ کی بنیاد پر ان کا حساب کتاب ہوتا ہے اور ہر آنے والے سنیچر کو پیسے کی ادائیگی کی جاتی ہے


A photo of the document listing the increase in wages of artisan labour between January 1, 2022 to December 31, 2023, prepared after discussion between the two unions, of workers and manufacturers in Ahmedabad. In 2022, cover-craft prices were increased by 6 per cent
PHOTO • Umesh Solanki

ورکر یونینوں اور احمد آباد کے لفافہ بنانے والوں کے درمیان ہوئے صلاح و مشورہ کے بعد، یکم جنوری ۲۰۲۲ سے لے کر ۳۱ دسمبر ۲۰۲۳ تک کی مدت کے لیے کاریگروں کی بڑھی ہوئی مزدوری کی فہرست تیار کی گئی ہے۔ سال ۲۰۲۲ میں کور کرافٹ کی قیمتوں میں ۶ فیصد کا اضافہ ہوا تھا


مضمون نگار اس اسٹوری کی رپورٹنگ میں مدد کے لیے حذیفہ اجینی کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Umesh Solanki

Umesh Solanki is an Ahmedabad-based photographer, reporter, documentary filmmaker, novelist and poet. He has three published collections of poetry, one novel-in-verse, a novel and a collection of creative non-fiction to his credit.

Other stories by Umesh Solanki
Editor : Pratishtha Pandya

Pratishtha Pandya is a Senior Editor at PARI where she leads PARI's creative writing section. She is also a member of the PARIBhasha team and translates and edits stories in Gujarati. Pratishtha is a published poet working in Gujarati and English.

Other stories by Pratishtha Pandya
Photo Editor : Binaifer Bharucha

Binaifer Bharucha is a freelance photographer based in Mumbai, and Photo Editor at the People's Archive of Rural India.

Other stories by Binaifer Bharucha
Translator : Qamar Siddique

Qamar Siddique is the Translations Editor, Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist.

Other stories by Qamar Siddique