اب سے کچھ ہی دیر میں، اکیلے احمد آباد سے یہ ہزاروں کی تعداد میں پرواز کرنے کو تیار ہیں۔ یہ نظارہ کسی بھی جانی پہچانی ہوائی قلا بازی کے مقابلے زیادہ رنگین اور شاندار ہونے والا ہے۔ ان کے پائلٹ اور مالک، دونوں ہی زمین پر ہوتے ہیں۔ انہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ جس چیز کو اڑا رہے ہیں، ان میں سے ہر ایک کو زمین پر موجود آٹھ لوگوں کے عملہ نے تیار کیا ہے، جو اس صنعت کو زندہ رکھنے کے لیے تقریباً سال بھر کام کرتے ہیں۔ عملہ میں زیادہ تر عورتیں ہوتی ہیں، جن میں سے اکثر دیہات اور چھوٹے قصبوں میں رہتی ہیں، جنہیں اس پیچیدہ، نازک لیکن محنت بھرے کام کے بدلے معمولی پیسے ملتے ہیں، اور خود اپنی زندگی میں کبھی اونچی پرواز نہیں کرسکتیں۔

آج مکر سنکرانتی ہے۔ ہندوؤں کے اس تہوار کے موقع پر شہر میں جتنی بھی رنگ برنگی پتنگیں اڑائی جائیں گی، انہیں اسی احمد آباد میں اور گجرات کے آنند ضلع کے کھمبھات تعلقہ کی مسلم اور ہندو چونار برادریوں کی عورتوں نے بنایا ہے۔ انہیں اڑانے والے، ظاہر ہے، زیادہ تر ہندو ہوں گے۔

ان پتنگوں کو بنانے کے لیے یہ عورتیں سال کے ۱۰ مہینے تک کام کرتی ہیں، جس کی انہیں بہت معمولی اجرت ملتی ہے۔ خاص کر وہ ان رنگ برنگی پتنگوں پر کام کرتی ہیں جنہیں ۱۴ جنوری کو آسمان میں اڑایا جاتا ہے۔ گجرات میں ۶۲۵ کروڑ روپے کی اس صنعت نے ایک لاکھ ۲۸ ہزار لوگوں کو روزگار دیا ہے، اور ہر ۱۰ کاریگروں میں سے ۷ عورتیں ہی ہیں۔

۴۰ سال کے سبین عباس نیاز حسین ملک بتاتے ہیں، ’’تیار ہونے سے پہلے ہر ایک پتنگ کو سات لوگوں کے ہاتھوں سے ہوکر گزرنا پڑتاہے۔ ہم لوگ کھمبھات کے لال محل علاقے کی ایک چھوٹی گلی میں واقع ان کے ۱۲ بائی ۱۰ فٹ کے گھر و دکان میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اور وہ بھیجنے کے لیے پوری طرح بن کر تیار چاندی کے چمکدار کاغذ میں لپٹی ہوئی پتنگوں کے پیکٹ کے پاس بیٹھے ہوئے، ظاہری طور پر اس خوبصورت صنعت کے بارے میں ہمیں بتا رہے ہیں، جس کے متعلق لوگوں کو کم معلوم ہے۔

Sabin Abbas Niyaz Hussein Malik, at his home-cum-shop in Khambhat’s Lal Mahal area.
PHOTO • Umesh Solanki
A lone boy flying a lone kite in the town's Akbarpur locality
PHOTO • Pratishtha Pandya

بائیں: سبین عباس نیاز حسین ملک، کھمبھات کے لال محل علاقے میں اپنے گھر (اسی میں وہ دکان بھی چلاتے ہیں) پر۔ دائیں: شہر کے اکبرپور علاقے میں ایک لڑکا اپنی چھت پر پتنگ اڑا رہا ہے

olourful kites decorate the sky on Uttarayan day in Gujarat. Illustration by Anushree Ramanathan and Rahul Ramanathan

گجرات میں اُتّرایَن کے دن رنگ برنگی پتنگوں سے آسمان مزین ہو جاتا ہے۔ خاکہ: انوشری رام ناتھن اور راہل رام ناتھن

چاروں طرف بکھری ہوئی رنگ برنگی بہت سی پتنگیں، جنہیں ابھی تک پیک نہیں کیا گیا ہے، ان کے اس ایک کمرہ والے گھر کے نصف فرش کو ڈھانپے ہوئی ہیں۔ ٹھیکہ پر ان پتنگوں کو بنانے والے وہ تیسری نسل کے کاروباری ہیں، جو ۷۰ کاریگروں کی ایک فوج کے ساتھ سال بھر کام کرتے ہیں، تاکہ مکر سنکرانتی کے لیے سپلائی تیار کر سکیں۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان پتنگوں کو سنبھالنے والے وہ آٹھویں شخص ہیں۔

عقیدت مندوں کے مطابق، مکر سنکرانتی سے سورج کے مکر (برج جدی) میں داخل ہونے کی شروعات ہوتی ہے۔ یہ فصل سے جڑا ہوا تہوار بھی ہے جسے پورے ہندوستان میں مختلف ناموں سے اور الگ الگ طریقے سے منایا جاتا ہے، جیسے کہ آسام میں بیہو، بنگال میں پوش پربون اور تمل ناڈو میں پونگل ۔ گجرات میں اسے اُتّرایَن کہا جاتا ہے، جو سردیوں کے موسم میں سورج کے شمالی سمت میں سفر کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ دور حاضر میں اُتّرایَن ایک طرح سے پتنگ بازاری کے تہوار کا ہی دوسرا نام بن گیا ہے۔

میں نے چھ سال کی عمر میں پہلی بار پتنگ اڑائی تھی، اپنے آبائی گھر کی چھت پر، جو کہ احمد آباد کے پرانے شہر کی سب سے اونچی عمارت ہوا کرتی تھی۔ ہوا اچھی ہونے کے باوجود، مجھے اپنی پتنگ اڑانے کے لیے چھ مزید ہاتھوں کی ضرورت ہوا کرتی تھی۔ ان میں سے سب سے ماہر ہاتھ میرے والد کے ہواکرتے تھے، جو کِنّہ (بیچ کے دھاگے) باندھتے تھے۔ دوسرا، تھوڑا متحمل ہاتھ میری والدہ کا ہوا کرتا تھا، جو مانجھا (رنگ برنگے دھاگے) کے ساتھ پھرکی (چرخی) کو مضبوطی سے تھامے رہتی تھیں۔ اور آخری دو ہاتھ پڑوسی کی عمارت کی چھت کے اوپر موجود کسی انجان شخص کے ہوتے تھے، جو میری پتنگ کو دونوں سرے سے پکڑے ہوئے اپنی چھت کے سب سے دور والے کونے تک جاتا – ہاتھ آسمان کی جانب پھیلے ہوئے – اور ہوا کے اُس جھونکے کا انتظار کرتا، جو اس پتلے، رنگین کاغذ کو اپنی آغوش میں لے لے اور میں اپنی پتنگ کو ہوا میں اوپر کی طرف اڑانے کے لائق ہو جاؤں۔

احمد آباد کے پرانے شہر میں بڑے ہوتے ہوئے، ہم پتنگوں کو بہت ہلکے میں لیتے تھے۔ وہ کاغذ کے چھوٹے پرندے ہوا کرتے تھے جو گھر کے سامانوں میں چھپے ہوئے پرانے ٹرنکوں (ٹن کے بکسوں) سے الگ الگ سائز اور شکلوں میں باہر نکل آتے تھے یا پھر اُتّرایَن پر اڑانے کے لیے کئی دن پہلے پرانے شہر کے بھیڑ بھاڑ والے بازاروں سے خرید کرلائے جاتے تھے۔ کوئی بھی ان پتنگوں کی تاریخ یا اس کی کاریگری کے بارے میں نہیں سوچتا تھا، تو پھر اس کے بنانے والوں کی فکر کی تو بات ہی چھوڑ دیجئے۔ جب کہ یہ لوگ سال بھر صرف اس لیے کام میں مصروف رہتے ہیں تاکہ کچھ وقت کے لیے ہم یہ پتنگیں ہوا میں اڑا سکیں۔ ان کے کاریگر تو ہماری نظر سے پوری طرح غائب رہے ہیں۔

اس موسم میں پتنگ اڑانا بچوں کا بیحد پسندیدہ کھیل ہے۔ لیکن ان پتنگوں کو بنانا بچوں کا کھیل نہیں ہے۔

*****

Sketch of the parts of a kite.
PHOTO • Antara Raman
In Ahmedabad, Shahabia makes the borders by sticking a dori .
PHOTO • Pratishtha Pandya
Chipa and mor being fixed on a kite in Khambhat
PHOTO • Pratishtha Pandya

بائیں: پتنگ کے تمام حصوں کا ایک خاکہ۔ درمیان میں: احمد آباد میں، شہابیہ ڈوری چپکا کر کنارے بناتی ہیں۔ دائیں: کھمبھات میں پتنگ پر چِپّا اور مور چپکایا جا رہا ہے

سبین ملک اس کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’ہر کام الگ الگ کاریگر کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ ایک آدمی کاغذ کاٹتا ہے، دوسرا پان [کاغذ سے کاٹی کی گئی دل کی شکل] کو چپکاتا ہے، تیسرا ڈوری [پتنگ کے کنارے لگا دھاگہ] پر کام کرتا ہے، اور چوتھا کاریگر دھڈّھو [بیچ کی قمچی] جوڑتا ہے۔ اس کے بعد، اگلا کاریگر کمان باندھتا ہے، پھر کوئی اور کاریگر مور، چِپّا، ماتھا جوڑی، نیچی جوڑی [پتنگ کو مضبوط کرنے کے لیے اس کے مختلف حصوں کو گوند سے چپکانا] کو چپکاتا ہے، اور ایک آدمی پھودڑی [دُم] بناتا ہے جسے پتنگ سے جوڑا جائے گا۔‘‘

مالک میرے سامنے ایک پتنگ کو پکڑے ہوئے ہیں اور اپنی انگلی سے اس کے ہر ایک حصے کے بارے میں مجھے بتا رہے ہیں۔ سمجھنے کے لیے میں اپنی کاپی میں اس کا ایک خاکہ بناتی ہوں۔ معمولی سا نظر آنے والا یہ کام کئی الگ الگ جگہوں پر ہوتا ہے۔

سبین ملک اپنے نیٹ ورک کے بارے میں بتاتے ہیں، ’’شکرپور، جو کہ تقریباً ایک کلومیٹر دور ہے، وہاں سے ہم صرف ڈوری بارڈر کا کام کراتے ہیں۔ اکبرپور میں وہ صرف پان / ساندھا لگاتے ہیں [جوڑ تیار کرتے ہیں]۔ پاس کے دادیبا میں وہ دھڈھا چپکاتے ہیں۔ تین کلومیٹر دور واقع ناگرا گاؤں میں وہ کمان کو چپکاتے ہیں، مٹن مارکیٹ میں پٹّی لگانے کا کام [مضبوط کرنے کے لیے ٹیپ لگانا] ہوتا ہے۔ وہاں پر وہ پھودڑی بھی بناتے ہیں۔

کھمبھات، احمد آباد، نادیاڈ، سورت اور گجرات کے دوسرے مقام کے پتنگ سازوں کی بھی یہی کہانی ہے۔

Munawar Khan at his workshop in Ahmedabad's Jamalpur area.
PHOTO • Umesh Solanki
Raj Patangwala in Khambhat cuts the papers into shapes, to affix them to the kites
PHOTO • Umesh Solanki

بائیں: احمد آباد کے جمال پور علاقے میں واقع اپنی ورکشاپ میں منور خان۔ دائیں: کھمبھات میں رام پتنگ والا پتنگوں پر چپکانے کے لیے کاغذوں کو الگ الگ سائز میں کاٹتے ہیں

احمد آباد میں رہنے والے، ۶۰ سالہ منور خان اس پیشہ سے وابستہ چوتھی نسل کے کاروباری ہیں۔ ان کے کام کی شروعات بیلارپور یا تریبینی نام کے پتنگ کے کاغذ کی سپلائی سے ہوتی ہے۔ یہ دونوں کاغذ چونکہ احمد آباد کی بیلارپور انڈسٹریز اور کولکاتا کی تریبینی ٹشیوز میں بنتے ہیں، اس لیے ان کا یہ نام پڑا ہے۔ بانس کی چھڑیاں آسام سے منگائی جاتی ہیں اور انہیں کولکاتا میں مختلف سائزوں میں کاٹا جاتا ہے۔ ان کے ذریعے خریدے گئے کاغذوں کے ریم اُن کی ورکشاپ میں الگ الگ سائزوں اور شکلوں میں کاٹے جاتے ہیں۔

تقریباً ۲۰ شیٹ (کاغذ کے ٹکڑے) کو صاف بنڈل میں رکھنے کے بعد، وہ ایک بڑے چاقو کی مدد سے انہیں پتنگ کی سائز کے کاغذوں میں کاٹنا شروع کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ انہیں ایک جگہ جمع کرکے باندھتے ہیں اور اگلے کاریگر کے پاس بھیج دیتے ہیں۔

کھمبھات میں، ۴۱ سالہ راج پتنگ والا بھی یہی کام کرتے ہیں۔ اپنی پتنگوں کے لیے فری سائز کے کاغذ کاٹتے ہوئے وہ کہتے ہیں، ’’میں ہر کام جانتا ہوں۔ لیکن میں اکیلے اتنا سارا کام نہیں سنبھال سکتا۔ کھمبھات میں میرے کئی کاریگر ہیں، کچھ بڑے پتنگوں پر کام کرتے ہیں، کچھ چھوٹے پتنگوں پر۔ اور ہر ایک سائز کے پتنگ کی ۵۰ قسمیں ہوتی ہیں۔‘‘

جس وقت آسمان میں مختلف رنگوں اور الگ الگ شکلوں کی پتنگوں کی شاندار لڑائی چل رہی ہوگی، ٹھیک اسی وقت میرے ناتجربہ کار ہاتھوں سے بنی گھینشیو (وہ پتنگ جس کے نیچے ایک پھندنا لگا ہو) ہماری چھت سے تین میٹر کا مختصر فاصلہ طے کرکے اُن کے پاس پہنچ جائے گی۔ پورا آسمان چیل (پرندوں کی شکل میں لڑنے کے لیے بنائی گئی بڑے پر والی پتنگ)، چندے دار (چمکدار دائروں والی پتنگ)، پٹّے دار (ایک سے زیادہ رنگ میں ترچھی یا افقی پٹیوں کے ساتھ) اور دیگر قسموں کی پتنگوں سے جگمگا اٹھے گا۔

In Khambhat, Kausar Banu Saleembhai gets ready to paste the cut-outs
PHOTO • Pratishtha Pandya
Kausar, Farheen, Mehzabi and Manhinoor (from left to right), all do this work
PHOTO • Pratishtha Pandya

بائیں: کھمبھات میں، کوثر بانو سلیم بھائی کٹ آؤٹ چپکانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ دائیں: کوثر، فرحین، مہہ جبیں اور ماہ نور (بائیں سے دائیں)، سبھی یہ کام کرتی ہیں

پتنگ کا ڈیزائن، رنگ اور شکل جتنی پیچیدہ ہوگی، اس کے مختلف حصوں کو آپس میں جوڑنے کے لیے اتنے ہی ماہر کاریگروں کی ضرورت پڑے گی۔ کھمبھات کے اکبر پور علاقے میں رہنے والی ۴۰ سال سے زیادہ عمر کی کوثر بانو سلیم بھائی پچھلے ۳۰ سالوں سے یہی کام کر رہی ہیں۔

وہ پتنگ کی رنگ برنگی شکلوں کو آپس میں ملاتی اور ان سے میچ کراتی ہیں اور کوئی مخصوص ڈیزائن تیار کرنے کے لیے ان کے سروں کو گوند سے چپکاتی ہیں۔ کوثر بانو اپنے پاس موجود عورتوں کے مجمع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’’ہم سبھی عورتیں ہی یہاں پر اس کام کو کرتی ہیں۔ مرد دوسرے کام کرتے ہیں، جیسے کہ فیکٹریوں میں کاغذ کو کاٹنا یا پتنگوں کو فروخت کرنا۔‘‘

کوثر بانو یہ کام صبح میں، دوپہر میں، اور اکثر رات میں کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں، ’’ایک ہزار پتنگیں بنانے کے مجھے اکثر و بیشتر ۱۵۰ روپے ملتے ہیں۔ اکتوبر اور نومبر میں اس کی بہت زیادہ مانگ رہتی ہے، تب مجھے ۲۵۰ روپے تک مل سکتے ہیں۔ ہم عورتیں گھر میں کام کرتی ہیں اور کھانا بھی بناتی ہیں۔‘‘

ذاتی طور پر با روزگار خواتین کی تنظیم کے ذریعے سال ۲۰۱۳ میں کیے گئے ایک مطالعہ سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ اس صنعت میں کام کرنے والی ۲۳ فیصد عورتیں ماہانہ ۴۰۰ روپے سے بھی کم کما رہی تھیں۔ لیکن ان عورتوں کی اکثریت ۴۰۰ سے ۸۰۰ روپے کے درمیان کما رہی تھی۔ ان میں سے صرف ۴ فیصد کی ماہانہ آمدنی ۱۲۰۰ روپے سے زیادہ تھی۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان میں سے زیادہ تر عورتیں ایک مہینے میں اُس پتنگ کی قیمت سے بھی کم کما رہی تھیں جو کسی کاروباری کو ایک بڑی، ڈیزائنر پتنگ کی فروخت سے ملتی ہے اور جو ۱۰۰۰ روپے میں فروخت ہوتی ہے۔ اگر آپ سستی پتنگ خریدنا چاہتے ہیں، تو آپ کو تقریباً ۱۵۰ روپے میں پانچ پتنگوں کا ایک پیک خریدنا ہوگا۔ ان میں سے کئی کی قیمت ۱۰۰۰ روپے یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ درمیانی پتنگوں کی قیمتیں اتنی ہی مختلف ہیں جتنی کہ ان کی قسمیں، شکلیں اور سائز۔ یہاں پر سب سے چھوٹی پتنگ کا سائز ۲۱ اعشاریہ ۵ بائی ۲۵ انچ ہوتا ہے۔ سب سے بڑی پتنگ کا سائز اس سے دو یا تین گنا زیادہ ہو سکتا ہے۔

*****

Aashaben, in Khambhat's Chunarvad area, peels and shapes the bamboo sticks.
PHOTO • Umesh Solanki
Jayaben glues the dhaddho (spine) to a kite
PHOTO • Pratishtha Pandya

بائیں: کھمبھات کے چونارواڑ علاقے میں آشابین، بانس کی ڈنڈیوں کو چھیل کر اسے شکل دیتی ہیں۔ دائیں: جیابین پتنگ پر دھڈو چپکاتی ہیں

جیسے ہی میری پتنگ تھوڑی دوری طے کرکے چھت پر لوٹی، مجھے یاد آیا کہ وہاں کھڑا ایک شخص ’’دھڈو مچاڑ! (پتنگ کے بالکل درمیان میں لگی بانس کی ڈنڈی کو موڑو)‘‘ چیخ رہا تھا۔ اس لیے میں نے اپنے چھوٹے ہاتھوں سے پتنگ کو اوپر اور نیچے کے سرے سے پکڑ لیا اور اس کی ڈنڈی کو گھما دیا۔ ڈنڈی کو لچکدار ہونا چاہیے، لیکن اتنا کمزور نہیں کہ مڑنے پر ٹوٹ جائے۔

کھمبھات کے چونار واڑ میں، کئی دہائیوں بعد میری ملاقات ۲۵ سالہ جیابین سے ہوتی ہے، جو پتنگ کے درمیانی حصے میں بانس کی قمچی چپکانے میں مصروف ہیں۔ وہ جو گوند استعمال کر رہی ہیں، اسے گھر میں ہی اُبلے ہوئے صابودانہ سے تیار کیا گیا ہے۔ ان جیسی کاریگر کو ایک ہزار قمچیاں چپکانے کے بدلے ۶۵ روپے ملتے ہیں۔ اس کے بعد پتنگ بنانے کے مختلف کاموں میں لگے کاریگروں میں سے اگلے کو پتنگ میں کمان لگانا ہوتا ہے۔

لیکن، کمان کو پتنگ میں لگانے سے پہلے اسے پالش کرکے چکنا کرنا پڑتا ہے۔ چونارواڑ کی ۳۶ سالہ آشابین کئی سالوں سے بانس کی ڈنڈیوں کو چھیلنے اور انہیں شکل دینے کا کام کر رہی ہیں۔ اپنے گھر میں ڈنڈیوں کے ایک بنڈل کے ساتھ بیٹھی ہوئی، اپنی شہادت کی انگلی پر سائیکل کے ٹیوب کا ربر لپیٹے ہوئے، وہ ایک دھاردار چاقو سے انہیں چھیل رہی ہیں۔ آشابین بتاتی ہیں، ’’مجھے ایسی ایک ہزار ڈنڈیاں چھیلنے کے بدلے ۶۰ سے ۶۵ روپے ملتے ہیں۔ اس کام کے دوران ہماری انگلیاں سوج جاتی ہیں۔ بڑی چھڑیوں کے ساتھ کام کرتے وقت انگلیوں سے خون بھی نکل آتا ہے۔‘‘

اب جب کہ کمان چکنا کر دیا گیا ہے، لہٰذا اسے بینڈنگ کے عمل سے گزرنا ہوگا۔ احمد آباد کے جمالپور علاقے میں ۶۰ سالہ جمیل احمد کی ایک چھوٹی دکان ہے اور وہ آج بھی کمان کے لیے بینڈنگ کا کام کرتے ہیں۔ ان کے پاس مٹی کے تیل سے جلنے والا کئی برنر کا ایک لیمپ باکس ہے جس میں آٹھ شعاعیں نکلتی ہیں۔ بانس کی ڈنڈیوں کے مٹھی بھر بنڈل کو وہ اسی لیمپ پر گھماتے ہیں۔ اس کی وجہ سے بانس کی ڈنڈیوں پر سیاہ رنگ کی دھاریاں بن جاتی ہیں۔

At his shop in Ahmedabad's Jamalpur area, Jameel Ahmed fixes the kamman (cross par) onto kites
PHOTO • Umesh Solanki
He runs the bamboo sticks over his kerosene lamp first
PHOTO • Umesh Solanki

بائیں: احمد آباد کے جمال پور علاقے میں واقع اپنی دکان میں، جمیل احمد پتنگ پر کمان لگا رہے ہیں۔ دائیں: اس سے پہلے وہ اپنے کیروسن لیمپ پر بانس کی ڈنڈیوں کو گھماتے ہیں

Shahabia seals the edge after attaching the string.
PHOTO • Umesh Solanki
Firdos Banu (in orange salwar kameez), her daughters Mahera (left) and Dilshad making the kite tails
PHOTO • Umesh Solanki

بائیں: شہابیہ، ڈوری لگانے کے بعد کنارے کو بند کرتی ہیں۔ دائیں: فردوس بانو (نارنجی شلوار قمیض میں)، اور ان کی بیٹیاں، ماہرہ (بائیں) اور دلشاد پتنگ کی دُم بنا رہی ہیں

جمیل اپنی کمانوں کو جوڑنے کے لیے ایک خاص قسم کی گوند استعمال کرتے ہیں۔ ’’پتنگ بنانے کے لیے آپ کو تین سے چار قسم کی گوند کی ضرورت پڑتی ہے، جس میں سے ہر ایک الگ الگ قسم کے مواد سے بنی ہو اور اس میں مضبوطی بھی ہونی چاہیے۔‘‘ وہ ہلکے نیلے رنگ کی گوند کا استعمال کر رہے ہیں، جسے مور تھو تھو نام کے کوبالٹ کے روغن کو میدے میں ملا کر بنایا گیا ہے۔ ایک ہزار کمانوں کو جوڑنے کی قیمت ۱۰۰ روپے ہے۔

احمد آباد کے جوہا پورہ میں رہنے والی ۳۵ سالہ شہابیہ ڈوری بارڈر کے لیے جس گوند کا استعمال کرتی ہیں، وہ جمیل کی گوند سے مختلف ہے۔ وہ اسے گھر پر پکائے گئے چاول سے بناتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ اس کام کو وہ سالوں سے کر رہی ہیں۔ اس وقت وہ اپنے سر کے اوپر چھت سے ٹنگے دھاگے کے ایک موٹے گچھے سے ایک مضبوط اور خوبصورت دھاگے کو کھینچ رہی ہیں۔ اس دھاگے کو وہ بڑی تیزی سے پتنگ کے چاروں طرف گھماتے ہوئے اپنی انگلیوں سے گوند کی ایک پتلی لکیر دھاگے پر لگاتی ہیں۔ ان کی ڈیسک کے نیچے لیئی (چاول سے بنی گوند) سے بھرا ہوا ایک پیالہ رکھا ہوا ہے۔

’’شوہر کے گھر لوٹنے کے بعد میں یہ کام نہیں کر پاتی ہوں۔ مجھے یہ سب کرتے ہوئے دیکھ کر وہ کافی ناراض ہو جاتے ہیں۔‘‘ ان کے اس کام سے پتنگ مضبوط ہو جاتا ہے اور پھٹنے سے بچتا ہے۔ ایک ہزار پتنگوں کے سرے بنانے کے بدلے انہیں ۲۰۰ سے ۳۰۰ روپے تک مل جاتے ہیں۔

اس کے بعد، دوسری عورتیں پتنگ کے درمیانی حصے کو مضبوط کرنے اور کمان کو اس کی جگہ پر ٹکا کر رکھنے کے لیے کاغذ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو ان جگہوں پر چپکاتی ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کو اس قسم کے کام ایک ہزار پتنگوں پر کرنے کے بدلے ۸۵ روپے ملتے ہیں۔

۴۲ سالہ فردوس بانو، قوس قزح کے گچھے کو اپنے ہاتھوں سے ہمارے سامنے پھیلا دیتی ہیں – جو کہ چمکدار اور رنگین پتنگ کے کاغذ ہیں – جن کی دُم ایک ساتھ بندھی ہوئی ہے، ایک گچھے میں ۱۰۰۔ وہ اکبر پور میں رہتی ہیں اور ان کے شوہر ایک آٹو ڈرائیور ہیں۔ فردوس پہلے، آرڈر ملنے پر پاپڑ بناتی تھیں۔ ’’لیکن وہ کام بہت مشکل تھا کیوں کہ پاپڑ کو سکھانے کے لیے ہمارے پاس اپنی چھت نہیں تھی۔ یہ بھی کوئی آسان کام نہیں ہے اور اس کے بہت کم پیسے ملتے ہیں۔ لیکن مجھے اس سے اچھا کوئی اور کام نہیں آتا۔‘‘

ویڈیو دیکھیں: پتنگ کی دُم

پتنگ کا ڈیزائن، رنگ اور سائز جتنا پیچیدہ ہوگا، اس کے تمام ٹکڑوں یا حصوں کو جوڑنے کے لیے اتنے ہی ماہر کاریگر کی ضرورت ہوگی

ایک لمبی تیز دھار والی قینچی سے، وہ ضرورت کے مطابق ایک طرف سے کاغذ کے الگ الگ سائز کے ٹکڑے کاٹتی ہیں۔ اس کے بعد کٹے ہوئے ٹکڑے کو اپنی دو بیٹیوں، ۱۷ سالہ دلشاد بانو اور ۱۹ سالہ ماہرہ بانو کے حوالے کر دیتی ہیں۔ وہ ایک بار میں کاغذ کا ایک ہی ٹکڑا لیتی ہیں اور پہلے سے بنائی گئی لیئی میں سے تھوڑا اس کے بیچ میں لگاتی ہیں۔ اس کے بعد، کوثر نے اپنی پیر کی انگلیوں میں جو دھاگہ لپیٹ رکھا ہے، اس میں سے وہ تھوڑا دھاگہ کھینچتی ہیں، اور کاغذ کے ٹکڑے کو پھودڑی کے چاروں طرف گھماکر اس میں لپیٹ دیتی ہیں۔ اس کے بعد دوسرا کاریگر جب پتنگ میں دُم کو جوڑے گا، تو یہ اڑنے لائق ہو جائے گی۔ اور یہ تینوں عورتیں جب اس قسم کی تین ہزار دُم بنا لیتی ہیں، تو انہیں مجموعی طور پر ۷۰ روپے ملیں گے۔

’’لپیٹ…!!‘‘ اس بار کی آواز تھوڑی سخت تھی۔ ایک چھت سے دوسری چھت جاتے ہوئے مانجھا بھاری ہو کر ایک کونے میں گر گیا۔ ہاں، اتنی دہائیوں بعد بھی، مجھے اپنی پسندیدہ پتنگ کا کٹ جانا آج بھی یاد ہے۔

اب میں پتنگیں نہیں اڑاتی۔ لیکن اس ہفتے میں نے ان لوگوں سے ملاقات کرنے کی کوشش کی جو اب بھی اگلی نسل کے بچوں کے لیے اس اونچی پرواز کو ممکن بناتے ہیں۔ ان لوگوں کی کڑی محنت ہی ہماری مکر سنکرانتی میں رنگ بھرتی ہے۔

مضمون نگار، اس اسٹوری کو درج کرنے میں مدد کے لیے حذیفہ اجینی، سمینہ ملک اور جاں نثار شیخ کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہیں۔

کور فوٹو: قمرالنساء بانو پلاسٹک کی پتنگوں پر کام کر رہی ہیں، جو اب کافی مقبول ہے۔ تصویر: پرتشٹھا پانڈے

مترجم: محمد قمر تبریز

Pratishtha Pandya

Pratishtha Pandya is a poet and a translator who works across Gujarati and English. She also writes and translates for PARI.

Other stories by Pratishtha Pandya
Photographs : Umesh Solanki

Umesh Solanki is an Ahmedabad-based photographer, documentary filmmaker and writer, with a master’s in Journalism. He loves a nomadic existence.

Other stories by Umesh Solanki
Illustration : Anushree Ramanathan and Rahul Ramanathan

Anushree Ramanathan and Rahul Ramanathan are students of Anand Niketan School (Satellite) in Ahmedabad. Anushree is a student of Class 7 and Rahul of Class 10. They love illustrating PARI stories.

Other stories by Anushree Ramanathan and Rahul Ramanathan
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez