شانتی لال، شونتو، ٹینیو: تین نام اور تینوں ایک ہی شخص کے۔ لیکن شاید ہم ان کے چوتھے نام کا استعمال کرسکتے ہیں۔ سابر کانٹھا ضلع کے وڈالی گاؤں کی بولی میں ان کا نام ’شونتو‘ ہو جائے گا۔ تو، آئیے انہیں اسی نام سے پکارتے ہیں۔

شونتو کا کردار ایک استثنائی کردار ہے۔ اس لحاظ سے نہیں کہ وہ غیر معمولی، منفرد، مشہور جیسی صفات سے متصف ہے، بلکہ اس وجہ سے کہ وہ نیک، غریب، پسماندہ یا دلت ہے۔ اور اسی وجہ سے اس کا کردار ثابت قدم، مصائب زدہ اور بے سمت نظر آتا ہے۔ بعض اوقات شونتو مکمل طور پر لا موجود معلوم ہوتے ہیں۔ اور بعض اوقات ان کی موجودگی ایک نہایت ہی معمولی انسان کے مساوی ہو جاتی ہے۔

شونتو کی پرورش انتہائی غربت میں ان کے والدین، ایک بڑے بھائی اور دو بہنوں (ان میں سے ایک ان سے چھوٹی) کی موجودگی میں ہوئی۔ انہوں نے کبنے کی بڑھتی ہوئی ضروریات پر ہمیشہ قینچی چلتے دیکھی تھی۔ والدین اور بڑے بھائی بہن مل کر اتنا کما لیتے تھے کہ دو وقت کے کھانے کا انتظام ہو سکے۔ والد مال بردار میٹاڈور چلاتے تھے، لیکن الگ سے کوئی سواری نہ اٹھانے کی وجہ سے کوئی اضافی آمدنی بھی نہیں ہوتی تھی۔ ماں دہاڑی مزدور تھیں۔ انہیں کبھی کام ملتا تھا اور کبھی نہیں ملتا تھا۔ گھر کی ایک خوش آئند بات یہ تھی کہ والد شرابی نہیں تھے اور گھر میں زیادہ ہنگامہ نہیں ہوتا تھا۔ لیکن اس بات کا احساس شونتو کو بہت بعد میں ہوا تھا۔

جب شونتو وڈالی کے شاردا ہائی اسکول میں نویں جماعت کے طالب علم تھے، تو گاؤں میں ایک سرکس آیا تھا، جس کے ٹکٹ کافی مہنگے تھے۔ تاہم اسکول کے طلباء کو پانچ روپے فی ٹکٹ کی پیشکش کی گئی تھی۔ اسکول لے جانے کے لیے شونتو کے پاس پیسے نہیں تھے۔ ’’کھڑے ہو جاؤ،‘‘ ٹیچر نے حکم دیا۔ ’’بیٹے، تمہارے پاس پیسے کیوں نہیں ہیں؟‘‘ انہوں نے پیار سے دریافت کیا تھا۔ ’’میڈم، میرے والد بیمار ہیں، اور ماں کو ابھی تک کپاس اوٹنے کی مزدوری نہیں ملی ہے،‘‘ شونتو رونے لگے تھے۔

اگلے دن ان کی ہم جماعت کُسم پٹھان نے ’رمضان میں ایصال ثواب کے طور پر‘ انہیں ۱۰ روپے دیے۔ ایک دن بعد کسم نے ان سے پوچھا، ’’میں نے جو پیسے دیے تھے اس کا تم نے کیا کیا؟‘‘ شونتو نے سنجیدگی سے جواب دیا، ’’پانچ روپے سرکس کے ٹکٹ پر خرچ کیے اور پانچ روپے گھر کے اخراجات میں مدد کے لیے دیے۔‘‘ یہ تھی کسم، رمضان، شونتو اور سرکس کی معصوم دنیا۔

جب وہ گیارہویں جماعت میں تھے، تب ان کے کچے مکان کو بغیر پلاسٹر کے اینٹ اور سیمنٹ سے دوبارہ تعمیر کرنا پڑا تھا۔ چونکہ ان کا کنبہ اس کام کے سبھی اخراجات کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا، اس لیے صرف ایک مستری کو یومیہ اجرت پر رکھا گیا اور باقی کے کام ان کے گھر والوں نے مل کر کیا تھا۔ اس تعمیر میں کافی وقت صرف ہوا تھا اور اس سے پہلے کہ شونتو کو وقت کا احساس ہوتا، ان کے سالانہ امتحانات سر پر آن کھڑے ہوئے۔ ان کی حاضری کم پڑ گئی تھی۔ ہیڈ ماسٹر سے التجا کرنے اور انہیں اپنی صورتحال سے باخبر کرنے کے بعد امتحان میں بیٹھنے کی اجازت مل گئی تھی۔

وہ بارویں جماعت میں پہنچ چکے تھے اور اس میں بہتر کارکردگی کا عہد کر لیا تھا۔ شونتو نے سخت محنت کی، لیکن تبھی ماں بیمار پڑ گئیں۔ ان کی بیماری میں تیزی سے اضافہ ہوا، اور فائنل امتحانات سے عین قبل ان کا انتقال ہو گیا۔ اس نقصان، اس درد کا بوجھ ایک ۱۸ سالہ لڑکے کے لیے بہت زیادہ تھا۔ انہوں نے قریب آ رہے امتحانات کا دباؤ محسوس کیا، لیکن ان کی محنت کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا۔ انہیں ۶۵ فیصد نمبر ملے۔ شونتو تعلیم جاری رکھنے کا خیال ترک کرنے کی سوچنے لگے۔

انہیں پڑھنے کا شوق تھا۔ اس لیے پبلک لائبریری جانے اور وہاں سے کتابیں گھر لانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ پڑھائی میں ان کی دلچسپی دیکھ کر ایک دوست نے انہیں وڈالی آرٹس کالج میں تاریخ میں بیچلر ڈگری کے لیے داخلہ لینے پر راضی کر لیا۔ دوست نے کہا کہ ’’تم کو وہاں کچھ بہترین کتابیں پڑھنے کو ملیں گی۔‘‘ شونتو نے کورس جوائن کیا لیکن کالج صرف لائبریری سے کتابیں لینے اور انہیں واپس کرنے گئے۔ باقی دن روئی اوٹنے کا کام کرتے تھے۔ شام کو کتابیں پڑھتے، یا ادھر ادھر چہل قدمی کرتے رہتے۔ بی اے کے پہلے سال میں انہیں ۶۳ فیصد نمبر ملے۔

جب پروفیسر نے ان کے امتحان کے نتائج دیکھے، تو شونتو سے باقاعدگی سے کالج آنے کی درخواست کی۔ اس دوران شونتو بھی اپنی پڑھائی سے لطف اندوز ہونے لگے تھے۔ یہ ان کا تیسرا سال تھا۔ وڈالی کے آرٹس کالج نے مطالعہ کی بہترین مہارت رکھنے والے طالب علم کو میرٹ سرٹیفکیٹ دینے کا فیصلہ کیا۔ شونتو نے بھی اپنا دعویٰ پیش کیا۔ ان کے پروفیسر نے حیران ہو کر پوچھا تھا، ’’تمہیں لائبریری جاکر کتابیں لینے کا وقت کب ملتا ہے، شانتی لال؟‘‘ شونتو نے ۲۰۰۳ میں ۶۶ فیصد نمبروں کے ساتھ بی اے کا تیسرا سال پاس کیا تھا۔

PHOTO • Shantilal Parmar
PHOTO • Shantilal Parmar

تصویر میں دائیں طرف جو مکان سامنے نظر آ رہا ہے اب اس کی اوپری منزل پر شونتو رہتے ہیں۔ یہ وہی مکان ہے جسے کنبے نے اینٹ اور سیمنٹ سے دوبارہ تعیمر کیا تھا۔ اس وقت شونتو گیارہویں جماعت کے طالب علم تھے۔ جو پلاسٹر نظر آ رہا اسے بہت بعد میں کرایا گیا تھا

ایم اے کرنے کے لیے انہوں نے پڑوسی ضلع مہسانہ کے وِس نگر میں واقع ایک کالج میں داخلہ لیا اور ہاسٹل میں قیام کیا۔ ہاسٹل میں کمرہ محفوظ کرنے کے لیے فائنل امتحان میں ۶۰ فیصد نمبر لانا لازمی تھا۔ اس شرط کو انہوں نے بی اے میں تو پورا کر لیا تھا۔ لیکن اگلے سال ہاسٹل میں انہیں جگہ نہیں ملی۔ پہلے سال کے فائنل امتحان میں شونتو معمولی فرق سے مقررہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام ہو گئے تھے۔ انہیں ۵۹ فیصد نمبر ملے تھے۔

اب وہ وڈالی سے وس نگر روزانہ آنے جانے لگے۔ اس سفر میں ایک طرف کا راستہ ڈیڑھ گھنٹے میں طے ہوتا تھا۔ اس سال دیوالی کے بعد والد کے پاس کوئی کام نہیں تھا۔ ٹیمپو کے لیے بینک سے لیے گئے قرضوں کی ادائیگی کی کون کہے، ان کی جیب میں کھانے کے لیے بھی پیسے نہیں تھے۔ ان کے بڑے بھائی راجو نے ٹیلرنگ کے کام سے گھر کے اخراجات پورے کرنے کی کوشش کی۔ شونتو اپنے بھائی کا احسان لینے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے تھے اور ایک بار پھر ان کے کالج کی حاضری میں بے قاعدگی آنے لگی۔

شونتو نے منڈی کے اندر تھیلیوں میں کپاس بھرنا اور اسے ٹرکوں پر لادنے کرنے کا کام شروع کیا۔ اس کام سے انہیں روزانہ ۱۰۰ سے ۲۰۰ روپے کی آمدنی ہو جاتی تھی۔ اس سال مارچ میں ایک بار پھر ان کی حاضری کم پڑ گئی اور انہیں امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ملی۔ چند دوستوں کی مداخلت کے بعد امتحان میں بیٹھنے کی اجازت ملی اور انہوں نے ۳۸ء۵۸ فیصد نمبروں کے ساتھ ایم اے پاس کیا۔ شونتو کے دل میں ایم فل کرنے کا خیال آیا، لیکن پیسوں کی قلت کا انہیں شدید احساس تھا۔

ایک سال کے وقفے کے بعد شونتو نے مطلوبہ فارم بھرکر وِس نگر کے ایک سرکاری بی ایڈ کالج میں داخلہ لیا۔ اس کام کے لیے راجو بھائی نے ۳ فیصد شرح سود پر ۷۰۰۰ روپے کا فوری قرض لیا۔ اس میں سے ۳۵۰۰ روپے داخلہ کی فیس میں گئے۔ مزید ۲۵۰۰ روپے کمپیوٹر کے لازمی مضمون کی فیس کے طور پر خرچ ہوئے۔ شونتو کے پاس اپنے دوسرے اخراجات پورے کرنے کے لیے ایک ہزار روپے باقی بچے تھے۔ پڑھائی کے لیے وس نگر آنے جانے کا یہ ان کا تیسرا سال تھا۔

اپنے کنبے کی مالی مشکلات سے وہ ہمہ وقت آگاہ رہتے تھے۔ یہ ان کے لیے پریشانی کا بڑا سبب تھا۔ راجو بھائی سے انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ پڑھائی چھوڑنا چاہتے ہیں۔ ان کے بڑے بھائی نے جواب دیا، ’’گھر کی فکر کیے بغیر اپنی پڑھائی پر دھیان دو۔ یہ سال دیکھتے ہی دیکھتے گزر جائے گا۔ اور بھگوان نے چاہا تو بی ایڈ کے بعد تمہیں نوکری مل ہی جائے گی۔‘‘ بھائی کے الفاظ سے شونتو کے اندر امید کی نئی کرن پیدا ہوئی، اور موسم گرما میں بھی ان کی تعلیم کی سست رفتار گاڑی کا سفر جاری رہا۔

سردیاں اپنے ساتھ والد کی بیماری بھی لے آئی تھی۔ اس بیماری نے کنبے کی ساری آمدنی پر ہاتھ صاف کر لیا۔ شونتو اس بات سے پریشان تھے کہ راجو بھائی کو ان کی تعلیم کا خرچ تنہا اٹھانا پڑ رہا ہے۔ بی ایڈ کے کورس نے انہیں سکھایا تھا کہ تعلیم اور اخراجات اچھے دوست ہوتے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ انٹرن شپ اور سرو شکشا ابھیان (پرائمری ایجوکیشن کا ہمہ گیر قومی پروگرام) کے لیے کام کرنے کا مطلب یہ تھا کہ انہیں ۱۰ دنوں کے لیے وس نگر تعلقہ کے بوکر واڑہ اور بھانڈو گاؤوں میں جانا پڑا۔ بوکر واڑہ پرائمری اسکول کی جانب سے بورڈنگ فراہم کی جانی تھی، لیکن طعام کا خرچ نیا مسئلہ تھا۔ وہ راجو بھائی کو پریشان نہیں کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے کالج کے ایڈمن آفس کے مہندر سنگھ ٹھاکر سے ۳۰۰ روپے ادھار لیے۔

شونتو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں، ’’ہم گاؤں کے پجاری کے پاس گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمارے لیے کھانا بنا سکتے ہیں، لیکن ایک پلیٹ کی قیمت ۲۵ روپے ہوگی۔ ہم دوستوں نے پجاری کے یہاں چار دن تک کھانا کھایا۔ میں نے ہفتے میں دو دن بَرت رکھا اور ۵۰ روپے بچائے۔‘‘ اس کے بعد، انہوں نے پڑوسی گاؤں بھانڈو میں مزید پانچ دن گزارے۔ وہاں وہ اپنی رہائش کا بندوبست نہیں کرسکے۔ اس کا مطلب تھا کہ بوکر واڑہ سے آنا جانا، اور ہر سفر پر ۱۰ روپے کا اضافی خرچ ۔ شونتو نے مہندر سنگھ سے مزید ۲۰۰ روپے ادھار لیے۔

بھانڈو کے انجینئرنگ کالج میں کھانے کا انتظام تھا، لیکن یہاں بھی ایک پلیٹ کی قیمت ۲۵ روپے تھی۔ شونتو نے مزید دو دن کا برت رکھا۔ لیکن یہ بات ان کے دوستوں کو ناگوار گزری۔ ان میں سے ایک نے مشورہ دیا، ’’شانتی لال، ہم نے پانچ دن پہلے ہی پیسوں کی ادائیگی کی ہے۔ صرف تم ہی کھانے کے بعد ادائیگی کرتے ہو۔ جب ہم سب کھانا کھا کر چلے جاتے ہیں تو کوئی ہم سے پیسے نہیں مانگتا۔ تم بھی بھیڑ میں ہمارے ساتھ بیٹھو اور ہمارے ہی ساتھ نکل چلو!‘‘ شونتو نے ایسا ہی کیا۔ وہ کہتے ہیں، ’’میں نے ان کی بات سنی اور اگلے چند دنوں تک بغیر پیسے دیے کھانا کھایا۔‘‘

ایسا کرکے وہ بہت زیادہ خوش نہیں تھے، اور اس کے باوجود پروفیسر ایچ کے پٹیل سے انہیں مزید ۵۰۰ روپے ادھار لینے پڑے۔ انہوں نے پٹیل سے کہا تھا، ’’جب میری اسکالرشپ کی رقم مل جائے گی تو میں پیسے واپس کردوں گا۔‘‘ ہر روز اخراجات میں اضافہ ہو رہا تھا۔ یہاں تک کہ ان سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ بھانڈو میں اسکول کے اساتذہ کے ریفریشمنٹ پر بھی خرچ کریں گے۔

ایک دن ایچ کے پٹیل نے شونتو کو اسٹاف روم میں طلب کیا اور ان کے ہاتھ میں ۱۰۰ روپے کا نوٹ دیتے ہوئے کہا، ’’تمہارے والد بہت بیمار ہیں۔ جلدی گھر جاؤ۔‘‘ گھر میں، ’’سب میرا انتظار کر رہے تھے۔ انہوں نے مجھے ان کا چہرہ دکھایا اور آخری رسوم کی تیاری میں لگ گئے۔‘‘ ایک بہت بڑا بحران ان کے کنبے کا منتظر تھا۔ ماں باپ میں سے کسی کی موت کے بعد ۱۲ویں کی تقریب لازمی رسم تھی جسے ادا کرنی تھی۔ اس کا مطلب تھا کم سے کم ۴۰ ہزار روپے کا خرچ۔

PHOTO • Shantilal Parmar
PHOTO • Shantilal Parmar

ان گلیوں کو شونتو اچھی طرح پہچانتے ہیں، بالکل ان مکانات کی طرح جو ان کے آخر سرے پر کھڑے ہیں۔ وہ جب بھی وڈالی سے وس نگر یا وجئے نگر اسکول اور بعد میں کالج آتے جاتے تھے تو یہیں سے ہوکر گزرتے تھے

جب ان کی والدہ کی موت ہوئی تھی تو وہ ایسا نہیں کر پائے تھے، اس لیے اس بار بچنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ برادری کی میٹنگ بلائی گئی۔ وڈالی کے کچھ بزرگوں نے استثنیٰ کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا، ’’لڑکے چھوٹے ہیں؛ ایک بھائی ابھی پڑھ رہا ہے، اور دوسرا گھر کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ چونکہ تمام ذمہ داریاں ایک کے سر پر ہیں، اس لیے ان کے لیے یہ خرچ برداشت کرنا ممکن نہیں ہوگا۔‘‘ اس طرح کنبے کو ایک بڑی مالی مصیبت سے بچا لیا گیا تھا۔

۷۶ فیصد نمبروں کے ساتھ بی ایڈ مکمل کرنے کے بعد شونتو نوکری کی تلاش میں لگ گئے۔ اس دوران مانسون کی وجہ سے راجو بھائی کی آمدنی کم ہو گئی۔ شونتو بتاتے ہیں، ’’میں نے نوکری کا خواب چھوڑ دیا اور کھیتوں میں کام کرنا شروع کر دیا۔‘‘ وہاں نئے سیلف فنانسڈ بی ایڈ کالج کھلے تھے، لیکن تدریسی ملازمتوں کے لیے درخواست دہندگان کی میرٹ بہت زیادہ تھی۔ وہ ان کے سامنے کیسے کھڑے ہو سکتے تھے۔ اس کے علاوہ، بھرتیوں میں بدعنوانی عام تھی۔ اس صورتحال نے شونتو کو پریشان کر دیا۔

کچھ مدت کے بعد انہوں نے اپنی راہ تبدیل کرنے اور کمپیوٹر پر ہاتھ آزمانے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لیے انہوں نے سابرکانٹھا ضلع میں واقع وجئے نگر کے پی جی ڈی سی اے ٹیکنیکل کالج میں ایک سالہ ڈپلومہ کورس میں داخلے کے لیے درخواست دی۔ ان کا نام میرٹ لسٹ میں بھی آیا۔ لیکن ان کے پاس فیس کے پیسے نہیں تھے۔

ان کی ملاقات وڈالی سے دو کلومیٹر دور کوٹھی کمپا کے چنتن مہتہ سے ہوئی۔ مہتہ نے کالج کے ٹرسٹیوں سے بات کی اور ان سے شونتو کی فیس کو اسکالرشپ کے طور پر ملنے والی رقم سے ایڈجسٹ کرنے پر راضی کرلیا۔ اگلے دن شونتو وجئے نگر گئے۔ لیکن کالج کے کلرک نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ کلرک نے کہا، ’’ہم ہی یہاں کا انتظام سنبھالتے ہیں۔‘‘ لگاتار تین دنوں تک فیس ادا نہ کرنے کی وجہ سے شونتو کا نام میرٹ لسٹ سے خارج کر دیا گیا۔

شونتو نے امید نہیں چھوڑی۔ کلرک نے انہیں بتایا کہ کالج نے اس کورس کی اضافی نشستوں کے لیے درخواست دی ہے۔ شونتو نے ان نشستوں کی منظوری تک کلاسوں میں شرکت کی اجازت طلب کی۔ اجازت مل گئی۔ ان کا داخلہ تاحال ہوا میں معلق تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے وڈالی اور وجئے نگر کے درمیان کا اپنا سفر کرنا شروع کر دیا۔ اس سفر پر روزانہ ۵۰ روپے خرچ ہوتے تھے۔ دوستوں نے ان کی مدد کی۔ ان میں سے ایک ششی کانت نے انہیں بس پاس کے لیے ۲۵۰ روپے ادھار دیے۔ بار بار کی التجا کے بعد کلرک نے پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے رعایتی پاس پر دفتر کی مہر لگا دی۔ کورس میں داخلہ ملنے کی امید میں شونتو ڈیڑھ ماہ تک سفر کرتے رہے۔ لیکن کالج کو نئی اضافی نشستیں نہیں ملیں۔ جس دن انہیں اس کا علم ہوا انہوں نے کالج جانا چھوڑ دیا۔

شونتو ایک بار پھر زرعی مزدور کے طور پر کام کرنے لگے۔ موراد گاؤں کے ایک کھیت میں ایک ماہ تک کام کرنے کے بعد، انہوں نے راجو بھائی کے ساتھ ٹیلرنگ کا کام شروع کیا۔ وڈالی گاؤں کے ریپڑی ماتا مندر کے قریب سڑک کے کنارے راجو بھائی کا ایک چھوٹا سا کاروبار ہے۔ پھر، پورنیما (پورے چاند کی رات) سے تین دن پہلے شونتو کی ملاقات ان کے دوست ششی کانت سے ہوئی۔ ششی کانت نے ان سے کہا، ’’شانتی لال، بہت سارے طلباء، جن کے لیے یہ کورس مشکل تھا، نے پی جی ڈی سی اے کورس ادھورا چھوڑ دیا ہے۔ کلاس میں طلباء کی کمی ہے، اور تم کو وہاں واپس آنے کا موقع مل سکتا ہے۔‘‘

اگلے دن، شونتو نے دوبارہ وجئے نگر میں کلرک سے ملاقات کی۔ کلرک نے فیس ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ شونتو نے اسے ۱۰۰۰ روپے ادا کیے جو اس نے راجو بھائی کے ساتھ کام کر کے کمائے تھے۔ ’’میں دیوالی تک باقی ۵۲۰۰ روپے کے انتظام سے متعلق کچھ کروں گا،‘‘ انہوں نے کہا، اور داخلہ لے لیا۔

داخلے کے پندرہ دن بعد پہلا انٹرنل امتحان ہوا۔ اس امتحان میں شونتو ناکام رہے۔ انہوں نے کوئی تیاری نہیں کی تھی۔ ان کے اساتذہ نے انہیں پیسے ضائع نہ کرنے کا مشورہ دیا کیونکہ انہوں نے بہت دیر سے کورس جوائن کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس کورس میں پاس نہیں ہوسکیں گے۔ لیکن شونتو نے امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ پیچھے چھوٹ گئے اسباق مکمل کرنے میں وڈالی کے ہمانشو بھاوسار، گجیندر سولنکی، اور ایڈر کے ششی کانت پرمار نے ان کی مدد کی۔ انہوں نے پہلے سیمسٹر کے امتحانات میں ۵۰ فیصد نمبر حاصل کیے۔ ان کی کارکردگی کو دیکھ کر اساتذہ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔

PHOTO • Labani Jangi

شونتو فیل ہو گیے۔ انہوں نے کوئی مشق نہیں کی تھی۔ ان کے اساتذہ نے انہیں پیسے ضائع نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس کورس میں پاس نہیں ہوسکیں گے۔ لیکن شونتو نے امید کا دامن نہیں چھوڑا

دوسرے سیمسٹر کی فیس ۹۳۰۰ روپے تھی۔ شونتو کی پچھلے سیمسٹر کی فیس میں سے اب بھی ۵۲۰۰ روپے بقایا تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ انہیں کل ۱۴۵۰۰ روپے ادا کرنے تھے۔ اس رقم کی ادائیکی ان کے لیے ناممکن تھی۔ درخواستوں اور سفارشات کے ذریعہ معاملہ دوسرے سیمسٹر کے فائنل امتحان تک ٹلتا رہا۔ لیکن اب فیس کی ادائیگی کو مزید ٹالا نہیں جا سکتا تھا۔ شونتو کے راستے مسدود ہو گئے تھے۔ انہیں آگے کا راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ آخرکار، انہیں اسکالرشپ میں امید کی کرن نظر آئی۔

انہوں نے کلرک سے ملاقات کی اور اس سے گزارش کی کہ جب اسکالرشپ آ جائے تو ان کی فیس کے برابر کی رقم اس میں سے منہا کر لی جائے۔ بالآخر کلرک ایک شرط پر راضی ہوا کہ شونتو کو دینا بینک کی وجئے نگر برانچ میں ایک کھاتہ کھولنا ہوگا اور ایک دستخط شدہ بلینک چیک ضمانت کے طور پر اسے دینا ہوگا۔ دینا بیک اکاؤنٹ کھولنے کے لیے شونتو کے پاس ضروری ۵۰۰ روپے بھی نہیں تھے۔

بینک آف بڑودہ میں ان کا اکاؤنٹ تھا، لیکن صرف ۷۰۰ روپے جمع ہونے کی وجہ سے بینک نے چیک بک جاری کرنے سے انکار کردیا۔ انہوں نے اپنی رام کہانی ایک واقف کار رمیش بھائی سولنکی کو سنائی۔ رمیش بھائی نے شونتو کی باتوں پر بھروسہ کیا اور انہیں دینا بینک کا ایک خالی چیک دیا جس پر ان کے اپنے دستخط تھے۔ شونتو نے چیک کالج میں جمع کرایا اور پھر انہیں امتحان میں بیٹھنے کی اجازت مل گئی۔

شونتو نے شمالی گجرات کی ہیم چندراچاریہ یونیورسٹی کے زیراحتمام منعقدہ فائنل امتحان میں ۵۸ فیصد نمبر حاصل کیے، لیکن انہیں مارک شیٹ نہیں دی گئی۔

اس امید پر کہ کال لیٹر آنے سے پہلے انہیں مارک شیٹ مل جائے گی، شونتو نے نوکری کے لیے درخواست دی۔ لیکن ان کی مارک شیٹ اس وقت تک نہیں ملی جب تک کہ ان کی اسکالرشپ منظور نہیں ہو گئی اور ان کی فیس کی ادائیگی نہیں ہو گئی۔ شونتو انٹرویو کے لیے نہیں گئے کیونکہ ان کے پاس اصل مارک شیٹ نہیں تھی، جس کا ہونا لازمی تھا۔

انہوں نے سابر کانٹھا کے ایڈر میں ایک نئے نئے شروع ہوئے آئی ٹی آئی کالج میں ۲۵۰۰ روپے ماہانہ کے معاوضے پر اس شرط پر کام کرنا شروع کیا کہ وہ ایک مہینے کے اندر اپنی مارک شیٹ پیش کر دیں گے۔ لیکن ایک ماہ گزرنے کے باوجود مارک شیٹ نہیں ملی۔ جب انہوں نے محکمہ سماجی بہبود کے دفتر میں دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ اسکالرشپ کی رقم پہلے ہی کالج میں منتقل ہو چکی ہے۔ شونتو نے وجئے نگر کا دورہ کیا اور کلرک سے بات کی۔ کلرک نے انہیں بتایا کہ گرانٹ مل گئی ہے، لیکن کالج کی طرف سے اس کی منظوری کے بعد ہی ان کی فیس منہا کی جا سکتی ہے۔ اور اس کے بعد ہی انہیں اپنی مارک شیٹ مل سکتی تھی۔

شونتو نے رمیش بھائی کے دستخط شدہ بلینک چیک واپس کرنے کی درخواست کی۔ ’’آپ کو مل جائے گا،‘‘ کلرک نے جواب دیا تھا اور اس نے انہیں دوبارہ نہ آنے کو کہا۔ ’’مجھے کال کرکے اپنا اکاؤنٹ نمبر بتا دینا،‘‘ کلرک نے کہا۔ شونتو نے دیوالی اور نئے سال کے درمیان ایک دن کلرک کو کال کیا۔ ’’آپ کا اکاؤنٹ کس بینک میں ہے؟‘‘ کلرک نے دریافت کیا۔ ’’بینک آف بڑودہ میں،‘‘ شونتو نے جواب دیا۔ ’’آپ کو پہلے دینا بینک میں اکاؤنٹ کھولنا ہوگا،‘‘ کلرک نے کہا۔

شونتو کو آخر کار سرو شکشا ابھیان کے تحت ایک کام مل گیا ہے اور، جون ۲۰۲۱ سے وہ سابر کانٹھا ضلع کے بی آر سی بھون کھیڈ برہما میں ۱۱ ماہ کے معاہدے پر کام کر رہے ہیں۔ وہ اس وقت ڈیٹا انٹری آپریٹر اور آفس اسسٹنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں، انہیں ۱۰۵۰۰ روپے بطور تنخواہ ملتی ہے۔

یہ اسٹوری مصنف کے گجراتی زبان کی تخلیقی غیر افسانوی مجموعہ ’ماٹی‘ سے اخذ کی گئی ہے۔

مترجم: شفیق عالم

Umesh Solanki

Umesh Solanki is an Ahmedabad-based photographer, documentary filmmaker and writer, with a master’s in Journalism. He loves a nomadic existence. He has three published collections of poetry, one novel-in-verse, a novel and a collection of creative non-fiction to his credit.

Other stories by Umesh Solanki
Illustration : Labani Jangi

Labani Jangi is a 2020 PARI Fellow, and a self-taught painter based in West Bengal's Nadia district. She is working towards a PhD on labour migrations at the Centre for Studies in Social Sciences, Kolkata.

Other stories by Labani Jangi
Editor : Pratishtha Pandya

Pratishtha Pandya is a poet and a translator who works across Gujarati and English. She also writes and translates for PARI.

Other stories by Pratishtha Pandya
Translator : Shafique Alam

Shafique Alam is a Patna based freelance journalist, translator and editor of books and journals. Before becoming a full-time freelancer, he has worked as a copy-editor of books and journals for top-notched international publishers, and also worked as a journalist for various Delhi-based news magazines and media platforms. He translates stuff interchangeably in English, Hindi and Urdu.

Other stories by Shafique Alam