html فورٹ کوچی میں جال ڈالنا



سہارے سے اٹھائے جانے والے جال، جو مچھلی پکڑنے والے چینی جال کے نام سے مشہور ہیں، طویل عرصے سے کیرل کے کوچی میں رہنے والے متعدد ماہی گیروں کا ذریعہ معاش رہے ہیں۔

لیکن ماحولیاتی اور اقتصادی، دونوں قسم کی متعدد تبدیلیوں کی وجہ سے اب یہ صنعت زوال آمادہ ہے۔ فورٹ کوچی کے ارد گرد بڑے پیمانے پر مچھلیاں پکڑنے اور صنعتوں سے ہونے والی آلودگی کے سبب مچھلیوں کی تعداد تیزی سے کم ہوتی جار ہی ہے۔ مچھلیوں کے پکڑنے سے سب سے زیادہ منافع بچلیوں کو ملتا ہے، جب کہ ماہی گیر کمیونٹی کو بہت تھوڑا حصہ ہی مل پاتا ہے۔

ماہی گیروں کے مسائل میں ان کمزور سرکاری اسکیموں سے مزید اضافہ ہو رہا ہے، جو ان کی ضرورتوں کے مطابق نہیں بنائی گئی ہیں۔ مزید برآں، جالوں کی دیکھ ریکھ پر لگنے والی رقم میں بے تحاشہ اضافہ سے ان کے مالکوں کے لیے یہ جال اقتصادی طور پر اب بیکار ہوتے جا رہے ہیں۔

نوجوان لوگ اب اس پیشہ سے دور جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے خدشہ لاحق ہوگیا ہے کہ فورٹ کوچی کے ساحلوں سے یہ چینی جال دھیرے دھیرے غائب ہو جائیں گے۔


02-Screen-Shot-2017-03-01-at-22.27.53-SK-Casting a net in Fort Kochi.jpg


03-Screen-Shot-2017-03-01-at-22.28.45-SK-Casting a net in Fort Kochi.jpg

Mohd. Qamar Tabrez is PARI’s Urdu/Hindi translator since 2015. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi. You can contact the translator here:

V. Sasikumar

V. Sasikumar is a 2015 PARI Fellow, and a Thiruvananthapuram-based filmmaker who focuses on rural, social and cultural issues.

Other stories by V. Sasikumar