ہر صبح، ہمانشی کُبال ایک جوڑی پتلون اور ٹی شرٹ پہنتی ہیں اور اپنے شوہر کے ساتھ، اپنی چھوٹی کشتی کو دھکیل کر پانی میں لے جاتی ہیں۔ شام کو وہ رنگین ساڑی میں ہوتی ہیں اور اکثر اپنے بالوں میں ابولی پھول لگائے گاہکوں کے لیے مچھلی کاٹنے اور اسے صاف کرنے کا کام کرتی ہیں۔

۳۰ سالہ ہمانشی چھوٹی عمر سے ہی مچھلی پکڑنے کا کام کر رہی ہیں – پہلے اپنی فیملی کے ساتھ مالوَن تعلقہ کی ندیوں اور خلیج میں، اور تین سال پہلے کشتی خریدنے کے بعد، اپنے شوہر کے ساتھ بحر عرب میں مچھلی پکڑ رہی ہیں۔ وہ مالوَن کے دانڈی ساحل پر کام کرنے والی ان عورتوں میں سے ایک ہیں جو تیزی سے جال پھینک سکتی ہیں۔ اس تعلقہ کی کل آبادی ۱۱۱۸۰۷ ہے، جس میں سے ۱۰۶۳۵ لوگ ماہی گیر ہیں۔

’’مچھلی چھانٹنے کے لیے میں اپنے شوہر کے ساتھ دیگر کشتیوں پر کام کرتی تھی،‘‘ وہ بتاتی ہیں، ’’لیکن تین سال پہلے ہمارے پاس اپنی چھوٹی [بغیر موٹر والی] کشتی خریدنے کے لیے پیسہ آ گیا تھا، اور تب سے ہم ایک ساتھ مچھلی پکڑ رہے ہیں۔‘‘

پاس میں، ایک نیلامی کی بولی لگانے والا پکارتا ہے ’’ تین شے، تین شے دہا، تین شے ویس! ‘‘ [۳۰۰، ۳۱۰، ۳۲۰ روپے] جب کہ کئی دیگر ماہی گیر اپنی کشتیوں سے پکڑی گئی مچھلیوں کی ٹوکریاں باہر نکال رہے ہیں اور انہیں سمندر کے ساحل پر نمائش کے طور پر لگا رہے ہیں۔ تاجر اور ایجنٹ مجمع کے درمیان سے اپنا راستہ بناتے ہوئے سب سے اچھے سودے کی تلاش میں مول بھاؤ کر رہے ہیں۔ آوارہ کتّے، بلیاں اور پرندے وہاں پہنچ کر مزے سے اپنے حصے کی مچھلی کھا رہے ہیں۔

’’ہم عام طور پر ہر صبح مچھلی پکڑتے ہیں،‘‘ ہمانشی کہتی ہیں۔ ’’اور اگر خراب موسم یا دیگر اسباب سے ہم نہیں جا سکے، تو مچھلی کاٹنے اور اسے صاف کرنے کے لیے ہم صبح میں بازار جاتے ہیں۔ اور ہر شام کو ہم نیلامی میں شامل ہوتے ہیں۔‘‘

ویسے تو ہندوستان بھر کے زیادہ تر حصوں میں مچھلی پکڑنے کا کام عام طور پر مردوں کے ذریعے کیا جاتا ہے، لیکن ہمانشی جیسے بہت سی عورتیں اس کاروبار کے دیگر اجزا جیسے مچھلی کی پروسیسنگ اور فروخت میں مرکزی رول ادا کرتی ہیں۔ وہ ملک بھر میں ماہی گیری میں، مچھلی پکڑنے کے بعد کی افرادی قوت کی کل تعداد کا تقریباً ۶۶ اعشاریہ ۷ فیصد ہیں، اور اس صنعت کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ گزشتہ سمندری مچھلیوں کی گنتی (۲۰۱۰) کے مطابق، مچھلی پکڑنے کے بعد کی افرادی قوت میں (مچھلی پکڑنے کے بنیادی عمل کو چھوڑ کر تمام سرگرمیوں میں) تقریباً ۴ لاکھ عورتیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، تقریباً ۴۰ ہزار عورتیں ماہی پروری کے لیے ’مچھلیوں کے بیج‘ (یا انڈے) جمع کرنے میں شامل ہیں۔

’’یہ تھکا دینے والا کام ہے – مچھلی خریدنا، ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا، برف میں رکھنا اور ذخیرہ کرنا، اور آخر میں اسے کاٹنا اور بیچنا۔ اور ہم یہ سب اپنے دَم پر کرتے ہیں،‘‘ جوانیتا (پورا نام درج نہیں ہے) کہتی ہیں، جو ایک تاجر اور بیوہ ہیں اور دانڈی ساحل پر اینٹ اور اسبستوس سے بنے اپنے ایک کمرے کے گھر میں بیٹھی ہوئی ہیں، جہاں نیلامی میں ان کے ذریعے مچھلی کی خرید کے کئی بل لوہے کے تار میں گندھے ہوئے ایک دیوار پر لٹک رہے ہیں۔

PHOTO • Manini Bansal

’لیکن تین سال پہلے ہمارے اپنی چھوٹی کشتی خریدنے کے لیے پیسہ آ گیا تھا‘، ہمانشی کُبال کہتی ہیں، ’اور تب سے ہم ایک ساتھ مچھلی پکڑ رہے ہیں‘

جوانیتا جیسی تاجروں کے بغیر مچھلی کی نیلامی پوری نہیں ہوگی، جو مختلف قسم کی مچھلیاں خریدتی ہیں اور بعد میں انہیں مقامی بازار یا آس پاس کے چھوٹے شہروں میں فروخت کرتی ہیں۔ نیلامی کرنے والوں کے ساتھ مول تول کرنا ان کے معمول کا حصہ ہے، اور ہر ایک کے پاس سب سے اچھی قیمت حاصل کرنے کی اپنی حکمت عملی ہوتی ہے – کچھ عورتیں نیلامی کے آخر میں آخری قیمت ادا کرنے کے لیے راضی ہو جاتی ہیں لیکن نیلامی کرنے والے کو کچھ اضافی مچھلیاں دینے کے لیے راضی کر لیتی ہیں۔ دیگر عورتیں نیلامی کا عمل ختم ہونے کے بعد خاموشی سے کچھ رعایت کے لیے (کئی بار ۵ روپے کے لیے بھی) زور لگاتی ہیں۔

مچھلی فروخت کرنے کا لمبا دن آپس میں بات چیت کرنے اور کم ہوتی مچھلیوں اور رات میں کھانے کے لیے کون سی مچھلی پکائی جائے، اس پر گفتگو کرنے میں گزر جاتا ہے۔ یہاں کی عورتیں عام طور پر مچھلی کی صفائی کرنے کا بھی کام کرتی ہیں۔ دھونے اور چھیلنے سے لیکر آنتوں کی صفائی کرنے اور کاٹنے تک، ہر ایک مچھلی کو سرجیکل درستگی کے ساتھ سنبھالا جاتا ہے۔

’’میں نے نویں کلاس کے بعد اسکول چھوڑ دیا تھا، اور تب سے مچھلی خشک کرنے کا کام کر رہی ہوں۔ مجھے اپنا پیٹ بھرنے کے لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی تھا،‘‘ مالوَن تعلقہ کے دیوباغ گاؤں کی ایک مزدور، ۴۲ سالہ بینی فرنانڈیز کہتی ہیں، جو تقریباً ۴ ہزار روپے ماہانہ کماتی ہیں۔ وہ اپنے چھوٹے بچہ کو ایک ہاتھ میں پکڑے ہوئے دوسرے ہاتھ سے سوکھی مچھلی کی ٹوکری کو پوری مہارت سے لہراتی ہیں۔ مچھلی سُکھانے کا کام بھی پورے ہندوستان میں عورتوں کے ذریعے ہی کیا جاتا ہے اور چلچلاتی دھوپ میں گھنٹوں محنت کرنی پڑتی ہے۔ ’’مانسون کے دوران ہمارے پاس مچھلی سُکھانے کا کوئی کام نہیں ہوتا ہے، اس لیے ہم چھوٹا موٹا کام کرکے گزارہ کرتے ہیں،‘‘ بینی کہتی ہیں۔

مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ ہمانشی، جوانیتا اور بینی جیسی عورتیں خاص طور سے مچھلی پکڑنے والی برادریوں کی کمزور رکن ہیں، اور خصوصی طور پر ماہی گیری کی موجودہ حالت سے متاثر ہیں – چھوٹے ماہی گیروں کو حد سے زیادہ مچھلی پکڑے جانے، موٹرائزڈ ماہی گیری کے غلبہ، مچھلی کے شکار میں کمی، ماحولیاتی تبدیلی اور دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اور اس کاروبار میں زیادہ تر عورتوں کو مرد ماہی گیروں کے برابر منافع اور سبسڈی نہیں ملتی ہے، حالانکہ وہ بھی اس کام پر اتنی ہی منحصر ہیں۔ مثال کے طور پر، مانسون میں مچھلی پکڑنے پر پابندی کے دوران، کچھ ریاستوں میں ماہی گیروں کے کنبوں کو حکومت سے ماہانہ معاوضہ ملتا ہے۔ لیکن یہ معاوضہ خواتین ماہی گیروں (مرد ماہی گیروں کے بغیر) کے کنبوں کو نہیں دیا جاتا ہے۔

اُدھر دانڈی ساحل پر، شام ہوتے ہی عورتیں دوسرے کاموں میں مصروف ہو جاتی ہیں – اپنے بچوں کو سنبھالتی ہیں، گھر کا کام نمٹاتی ہیں اور اس قسم کے دیگر بہت سے کام کرتی ہیں۔ سورج ڈھلتے ہی، ان کے کام کی جگہ سمندری ساحل سے ان کے گھر میں منتقل ہو جاتی ہے۔

PHOTO • Manini Bansal

’یہ تھکا دینے والا کام ہے – مچھلی خریدنا، ایک جگہ سے دوسری جگہ پر لے جانا، برف میں رکھنا اور ذخیرہ کرنا، اور آخر میں اسے کاٹنا اور فروخت کرنا۔ اور ہم یہ سب اپنے دَم پر کرتے ہیں‘، جوانیتا، ایک کاروباری، کہتی ہیں

Left: 'We need to do something to fill our stomachs', says an elderly fisherwoman, as she walks a kilometre across Dandi beach in Malwan to the auction site to sell her family’s catch of tarli (sardine). Right: Women wash the fish to be to be salted and sun-dried
PHOTO • Manini Bansal
Left: 'We need to do something to fill our stomachs', says an elderly fisherwoman, as she walks a kilometre across Dandi beach in Malwan to the auction site to sell her family’s catch of tarli (sardine). Right: Women wash the fish to be to be salted and sun-dried
PHOTO • Manini Bansal

بائیں: ’ہمیں اپنا پیٹ بھرنے کے لیے کچھ نہ کچھ کرنا پڑتا ہے‘، ایک بزرگ خاتون ماہی گیر کہتی ہیں، جو اپنی فیملی کے ذریعے پکڑی گئی ٹارلی (سارڈن مچھلی) کو فروخت کرنے کے لیے مالوَن کے دانڈی ساحل پر ایک کلومیٹر پیدل چل کر نیلامی کے مقام تک جا رہی ہیں۔ دائیں: عورتیں مچھلیوں کو دھوتی ہیں تاکہ اس میں نمک لگاکر اسے سُکھایا جا سکا

PHOTO • Manini Bansal

مالوَن تعلقہ کے دانڈی ساحل کا مچھلی بازار۔ عورتیں ملک بھر میں ماہی گیری میں، مچھلی پکڑنے کے بعد کی افرادی قوت کی کل تعداد کا تقریباً ۶۶ اعشاریہ ۷ فیصد، اور اس صنعت کا اٹوٹ حصہ ہیں

PHOTO • Manini Bansal

ایک سُرمئی (مچلی) کی کٹائی۔ دھونے اور چھیلنے سے لیکر آنتوں کو صاف کرنے اور کاٹنے تک، ہر ایک مچھلی کو سرجیکل درستگی کے ساتھ سنبھالا جاتا ہے

PHOTO • Manini Bansal

بانگڑا مچھلی (میکیرل) بڑے قرینہ سے لپیٹی جاتی ہے، تاکہ بعد میں بازار میں فروخت کی جا سکے

PHOTO • Manini Bansal

’’مقامی عورتیں عام طور پر مچھلی فروخت کرنے کا کام کرتی ہیں، اس لیے انہیں مچھلی پکڑنے کا موقع نہیں ملتا ہے۔ میرے پاس کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے، مجھے جانا ہی پڑتا ہے کیوں کہ مدد کرنے والا کوئی اور نہیں ہے‘، ہمانشی کہتی ہیں۔ کچھ ماہی گیر اپنی مچھلیوں کو چھانٹنے کے لیے معاون (عام طور پر مرد) رکھتے ہیں اور ہر بار انہیں دن بھر کے کام کے لیے تقریباً ۵۰۰ روپے ادا کرتے ہیں

PHOTO • Manini Bansal

ہمانشی اور ان کے شوہر نہ صرف مچھلی پکڑنے جاتے ہیں، بلکہ دانڈی ساحل کے بازار میں ایک دوسرے کے ساتھ مچھلی کاٹتے اور اسے صاف بھی کرتے ہیں

Selling her fish in the evening auction (left) and everyday banter at the evening auction (right). The last Marine Fisheries Census (2010) records about 4 lakh women in the post-harvest workforce in marine fisheries (involved in all activities except the actual fishing process)
PHOTO • Manini Bansal
Selling her fish in the evening auction (left) and everyday banter at the evening auction (right). The last Marine Fisheries Census (2010) records about 4 lakh women in the post-harvest workforce in marine fisheries (involved in all activities except the actual fishing process)
PHOTO • Manini Bansal

شام کی نیلامی (بائیں) میں اپنی مچھلی فروخت کرنا اور ہنسی مذاق کرنا (دائیں)۔ گزشتہ سمندروں کی گنتی (۲۰۱۰) کے مطابق، سمندری ماہی گیری میں مچھلی پکڑنے کے بعد کی افرادی قوت میں تقریباً ۴ لاکھ عورتیں (مچھلی پکڑنے کےاصل کام کو چھوڑ کر تمام سرگرمیوں میں) شامل ہیں

Left: Manisha Jadhav, head of the local fisherwomen’s association, Sindhusagar Macchi Vikri Mahila Sanghatna, Malwan, exudes confidence as she sits with her fish in the market. Right: Women of the community
PHOTO • Manini Bansal
Left: Manisha Jadhav, head of the local fisherwomen’s association, Sindhusagar Macchi Vikri Mahila Sanghatna, Malwan, exudes confidence as she sits with her fish in the market. Right: Women of the community
PHOTO • Manini Bansal

بائیں: بازار میں اپنی مچھلیوں کے ساتھ بیٹھی مقامی خواتین ماہی گیروں کی تنظیم، سندھو ساگر مچھّی وِکری مہیلا سنگٹھن، مالوَن کی سربراہ منیشا جادھو نے اعتماد ظاہر کیا۔ دائیں: برادری کی خواتین

PHOTO • Manini Bansal

دانڈی کے مچھلی بازار میں ان عورتوں کی تصویروں کے ساتھ ایک بورڈ جو سندھو ساگر مچھّی وِکری سنگٹھن، مالوَن کی رکن ہیں

PHOTO • Manini Bansal

صبح کی آخری مچھلی فروخت کرنے کے بعد ایک عورت اپنی ٹوکریاں دھو رہی ہے

یہ مضمون دکشن فاؤنڈیشن کے ایک پروجیکٹ کے حصہ کے طور پر مضمون نگاروں کے ذریعہ کیے گئے کام پر مبنی ہے۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Mohd. Qamar Tabrez is PARI’s Urdu/Hindi translator since 2015. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi. You can contact the translator here:

Trisha Gupta

Trisha Gupta is a Bengaluru-based marine conservationist studying shark and ray fisheries along the Indian coastline.

Other stories by Trisha Gupta
Manini Bansal

Manini Bansal is a Bengaluru-based visual communication designer and photographer working in the field of conservation.

Other stories by Manini Bansal