نومبر ۲۰۱۸ کی ابتدا میں، دیوالی سے پہلے کی ایک صبح تھی۔ مغربی اوڈیشہ کے تقریباً ۳۰-۴۰ موسیقار رائے پور کے بدھ تالاب چوراہے پر ایک ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کی پوشاک اور آلات موسیقی سے، میں بتا سکتا تھا کہ وہ بلانگیر، کالاہانڈی یا نواپاڑہ ضلع سے ہونے چاہئیں۔ وہ سبھی گنڈا برادری سے تھے، جو ایک درج فہرست ذات ہے۔

ان کا فنی مظاہرہ – جسے مقامی طور پر گانا-باجا کہا جاتا ہے – اوڈیشہ کی مقبول عام مقامی موسیقی کی ایک شکل ہے۔ مختلف مواقع جیسے شادی، پوجا اور دیگر تقریبات کے لیے ان جماعتوں کے الگ الگ سُر یا انداز ہوتے ہیں۔ تقریباً ۵-۱۰ موسیقاروں – روایتی طور پر، صرف مرد – سے ایک جماعت یا منڈلی بنتی ہے، جن میں سے ہر ایک روایتی آلہ موسیقی جیسے ڈھاپ، ڈھول، جھانجھ، نشان اور تاشا لیکر چلتے ہیں۔

میں نے مغربی اوڈیشہ کی کوسلی (سمبل پوری) زبان میں ان موسیقاروں سے پوچھا کہ وہ کس کا انتظار کر رہے ہیں۔ میری بات سن کر، بلانگیر (یا بولانگیر) ضلع کی ٹٹلا گڑھ تحصیل کے کنڈاکھل گاؤں کے بینودھر چھرا، جو تقریباً ۳۰ برسوں سے یہاں آ رہے ہیں، نے جواب دیا، ’’ہم راؤت- ناچ پارٹیوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ وہ ہمیں اپنے رقص کے لیے لے جائیں گے۔‘‘

Benudhar Chhura with his Gana-baja troupe
PHOTO • Purusottam Thakur
A member of the Raut community (with the cycle) watches and evaluates a Gana-baja performance
PHOTO • Purusottam Thakur

بائیں: بینودھر چھرا تین دہائیوں سے اپنی گانا-باجا منڈلی کے ساتھ رائے پور آ رہے ہیں۔ انہوں نے ۲۰ سال کی عمر میں اس کی شروعات کی تھی اور اب وہ تقریباً ۵۰ سال کے ہیں۔ دائیں: راؤت برادری کا ایک رکن (سائیکل کے ساتھ) انہیں دیکھ کر ان کے گانا-باجا مظاہرہ کا اندازہ لگا رہا ہے

راؤت یا یادو (او بی سی) برادری دیوالی کے دوران گووردھن پوجا میں رقص کا اہتمام کرتی ہے، جسے راؤت ناچ کہتے ہیں۔ ’’اس رقص کے لیے، انہیں ہماری موسیقی کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ آتے ہیں اور کسی مناسب منڈلی کو اپنے ساتھ لے جاتے ہیں،‘‘ بینودھر نے بتایا۔

وہ آپ کی منڈلی کو کتنے پیسے دیں گے اور آپ یہاں کتنے دن رکیں گے، میں نے پوچھا۔ ’’وہ ۱۵ ہزار روپے سے لیکر ۴۰ ہزار روپے تک کی ادائیگی کرتے ہیں، جو ان کے ذریعہ منتخب ڈانس پارٹی اور منڈلی پر منحصر کرتی ہے۔ وہ ہمیں ایک ہفتہ یا آٹھ دنوں کے لیے لے جائیں گے۔ آپ دیکھیں گے کہ یہاں سینکڑوں گروپ کام پر رکھے جانے کا انتظار کر رہے ہیں۔ راؤت-ناچ پارٹی یہاں آکر گانا-باجا کا انتخاب کرے گی۔ اس وقت گوری-گورا پوجا کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے، اس لیے اگر منڈلی کو اس کے لیے منتخب کیا جاتا ہے، تو یہ صرف دو دنوں کے لیے ہوگا اور ہمیں ۱۵-۲۰ ہزار [روپے] ملیں گے۔‘‘

آپ یہاں کب سے آ رہے ہیں، میں نے شنکر سگریا سے پوچھا، جو پاس میں کھڑے تھے۔ وہ بلانگیر ضلع کے سرگُل گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ ’’میں گزشتہ ۱۲ سے ۱۵ سال سے یہاں آ رہا ہوں،‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’میرے ساتھی موسیقار، اُپاسو اس سے بھی پہلے سے آ رہے ہیں۔‘‘ تب میں نے اُپاسو سے پوچھا کہ اُس وقت انہیں کتنے پیسے ملتے تھے۔ ’’تب ۷-۸ ہزار روپے ملتے تھے،‘‘ انہوں نے یاد کرتے ہوئے بتایا۔

Gana baja troupes display their musical prowess to Raut-nacha members
PHOTO • Purusottam Thakur

اوپر بائیں: بلانگیر ضلع کے سرگُل گاؤں کے شنکر سگریا، نشان بجاتے ہیں – چمڑے اور لوہے کا ایک ڈھول، جسے گانا-باجا میں مرکزیت حاصل ہے۔ اوپر دائیں: گانا-باجا منڈلی کا ایک ٹرانس جینڈر (مخنث) رقص کر رہا ہے؛ موسیقاروں کی یہ پیشکش طے کرے گی کہ کیا وہ کام پر رکھے جائیں گے۔ نیچے بائیں: گانا-باجا منڈلی، راؤت-ناچ ممبران کے لیے اپنی فنی مہارت پیش کر رہی ہے۔ نیچے دائیں: ماہوری بجاتا ہوا ایک ماہوریا، یہ ثابت کرنے کے لیے – راؤت رقاصوں کے ذریعہ منتخب کیے جانے کی امید میں – سخت محنت کر رہا ہے کہ اس کا گروپ اچھا ہے

جب آپ گاؤں میں ہوتے ہیں اور منڈلی کے ساتھ سفر نہیں کر رہے ہوتے ہیں، تب آپ کیا کرتے ہیں؟ ’’ہم تمام لوگ چھوٹے کسان اور زرعی مزدور ہیں۔ اس لیے [دھان کی] کٹائی ختم ہونے کے بعد، ہم شادی کی تقریبات اور دیگر پروگراموں میں [فنی مظاہرہ کے لیے] جاتے ہیں۔ ہم دیوالی کا انتظار کرتے ہیں اور اس کے لیے رائے پور آتے ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔

میں نے سنا تھا کہ اوڈیشہ کے اس حصہ میں سوکھا پڑا تھا، اس لیے میں نے پوچھا: اس بار فصل کیسی رہی؟ ’’اس بار بھی سوکھا ہے۔ ہم نے اپنی فصل کھو دی ہے،‘‘ اُپاسو نے بتایا۔

جس وقت ہم بات کر رہے تھے، ایک منڈلی نے اپنے فن کا مظاہرہ شروع کر دیا اور میں انہیں دیکھنے چلا گیا۔ راؤت برادری کے تین آدمی گا رہے تھے اور گانا-باجا موسیقار ان کے ساتھ اپنے آلات موسیقی بجا رہے تھے – راؤت کو راغب کرنے کی پوری کوشش کر رہے تھے تاکہ ان کا انتخاب ہو جائے۔

The Raut-nacha dancers use this stick while dancing.
PHOTO • Purusottam Thakur
People from Achhoti are taking the musicians to the village in an autorickshaw
PHOTO • Purusottam Thakur

بائیں: راؤت-ناچ رقاص رقص کرتے وقت اس ڈنڈے کا استعمال کرتے ہیں۔ دائیں: دُرگ ضلع کے اچھوٹی کے لوگوں نے گانا-باجا منڈلی کے ساتھ بات طے کر لی ہے اور موسیقاروں کو آٹورکشہ سے گاؤں لے جا رہے ہیں

اس سے کچھ ہی دوری پر، گانا-باجا منڈلی کے ایک ٹرانس جینڈر نے رقص کرنا شروع کر دیا، جس نے بہت سے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ اس کے علاوہ، ایک گانا-باجا منڈلی اور کچھ راؤت-ناچ رقاص وہاں سے روانہ ہونے کے لیے آٹو رکشہ میں سوار ہو رہے تھے۔ میں دوڑ کر آیا اور ڈھول بجانے والے سے پوچھا: کتنے پیسے میں بات طے ہوئی؟

’’۱۸۵۰۰ روپے میں، سات دنوں کے لیے،‘‘ انہوں نے کہا۔ آپ کون سے گاؤں جا رہے ہیں؟ اس سے پہلے کہ وہ جواب دے پاتے، چھتیس گڑھ کے دُرگ ضلع کے اچھوٹی گاؤں کی راؤت برادری کے سونو رام یادو نے کہا، ’’ہم نے اس منڈلی کا انتخاب کیا ہے اور آٹھ دنوں تک ان کی میزبانی کریں گے۔‘‘

مترجم: محمد قمر تبریز

Mohd. Qamar Tabrez is PARI’s Urdu/Hindi translator since 2015. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi. You can contact the translator here:

Purusottam Thakur

Purusottam Thakur is a 2015 PARI Fellow. He is a journalist and documentary filmmaker. At present, he is working with the Azim Premji Foundation and writing stories for social change.

Other stories by Purusottam Thakur