یہ پہلی نظر والا پیار تھا، جب چترا نے سال ۲۰۱۶ میں ایک دوست کی شادی میں متھوراجا کو دیکھا تھا۔ متھوراجا کو بھی پیار ہو گیا تھا، مگر انہوں نے چترا کا دیدار نہیں کیا تھا، کیوں کہ وہ دیکھ نہیں سکتے۔ چترا کی فیملی نے اس شادی کی مخالفت کی۔ انہوں نے دلیل دی کہ وہ ایک نابینا شخص سے شادی کرکے اپنی زندگی برباد کرنے جا رہی ہے۔ فیملی نے وارننگ دی کہ انہیں دونوں کے لیے کمانا پڑے گا، اور چترا کو روکنے کی بہت کوشش بھی کی۔

شادی کے ایک مہینہ بعد ہی چترا کی فیملی غلط ثابت ہوئی۔ جب چترا کی دل کی بیماری کا پتہ چلا، تو یہ متھوراجا ہی تھے جو اس دوران ان کی پوری دیکھ بھال کر رہے تھے۔ تب سے، ان دونوں کی زندگی مشکل حالات سے بھری رہی، جن میں سے کچھ خطرناک رہے ہیں۔ لیکن، تمل ناڈو کے مدورئی ضلع کے سولانکرونی گاؤں میں رہنے والی اس جوڑی، ۲۵ سالہ ایم چترا اور ۲۸ سالہ ڈی متھوراجا نے ہمت اور امید کے ساتھ زندگی کا سامنا کیا۔ یہ ان کے پیار کی کہانی ہے

*****

چترا ۱۰ سال کی تھیں، جب ان کے والد نے اپنی تین بچیوں اور بیوی کو چھوڑ دیا، اور ساتھ میں بہت سارا قرض بھی چھوڑ گئے۔ دین داروں (ساہوکاروں) کے ذریعے پریشان کرنے پر، ان کی ماں نے اپنے بچوں کو اسکول سے نکالا اور پڑوسی ریاست آندھرا پردیش میں آ کر بس گئیں، جہاں وہ سبھی (پوری فیملی) سوتی دھاگے بنانے والی کمپنی کے لیے کام کرنے لگے۔

وہ دو سال بعد مدورئی لوٹے اور اس بار وہ ایک گنّے کے کھیت میں کام کرنے لگے۔ ۱۲ سال کی چترا کو گنّے کی ۱۰ قطاروں کی صفائی اور سوکھی ٹھونٹھ اکھاڑ کر پھینکنے کے لیے ۵۰ روپے ملتے تھے۔ یہ کام جوکھم بھرا تھا، اس سے ان کے ہاتھ رگڑ کھا کر چھل جاتے تھے اور پیٹھ میں درد ہونے لگتا تھا۔ لیکن وہ اپنے والد کا قرض نہیں چکا سکے۔ اس لیے، چترا اور ان کی بڑی بہن کو کپاس کی ایک مل میں کام کرنے کے لیے بھیج دیا گیا۔ وہاں، وہ روزانہ ۳۰ روپے کماتی تھیں، اور تین سال بعد جب انہوں نے قرض کے پیسے واپس کر دیے، تب ان کی مزدوری بڑھ کر ۵۰ روپے روزانہ ہو گئی تھی۔ چترا کو قرض کی رقم یا شرح سود یاد نہیں ہے۔ اپنے تجربہ کے ذریعے، وہ جانتی ہیں کہ یہ توڑ کر رکھ دینے والا تھا۔

Chitra plucks 1-2 kilos of jasmine flowers (left) at a farm for daily wages. She gathers neem fruits, which she sells after drying them
PHOTO • M. Palani Kumar
PHOTO • M. Palani Kumar

چترا، دہاڑی کرتے ہوئے ایک کھیت میں ۱-۲ کلو چنبیلی کے پھول (بائیں) توڑتی ہیں۔ وہ نیم کے پھلوں کو جمع کرتی ہیں، جنہیں وہ سکھا کر فروخت کر دیتی ہیں

جیسے ہی ایک قرض لوٹایا جا سکا، اس کے ٹھیک بعد دوسرے قرض نے دستک دے دی – جب ان کی بڑی بہن کی شادی ہونی تھی۔ چترا اور ان کی چھوٹی بہن اس بار ایک کپڑا مل میں پھر سے کام کرنے لگیں۔ انہیں سومنگلی اسکیم کے تحت نوکری ملی، جو تمل ناڈو میں پرائیویٹ کپڑا ملوں کے ذریعے شروع کیا گیا ایک متنازع پروگرام ہے، اور مبینہ طور پر لڑکیوں کو ان کی شادی کے خرچ کو کور کرنے میں ان کی مدد کرتا ہے۔ غریب اور کمزور برادریوں کی غیر شادی شدہ عورتوں کو تقریباً تین سال کی مدت کے لیے کام پر رکھا جاتا تھا، اور ان کے کنبوں کو ان کے معاہدہ کے آخر میں بڑی رقم دینے کا وعدہ کیا جاتا تھا۔ چترا ۱۸ ہزار روپے سالانہ کما رہی تھیں، اور وہ ابھی بالغ نہیں ہوئی تھیں اور قرض چکانے کے لیے لگاتار محنت کر رہی تھیں۔ جب وہ ۲۰ سال کی عمر میں متھوراجا سے ملیں، اس سے پہلے ۲۰۱۶ تک گھر وہی چلا رہی تھیں۔

*****

چترا سے ملنے سے تین سال پہلے متھوراجا کی دونوں آنکھوں کی روشنی پوری طرح سے چلی گئی تھی۔ ان کے دماغ پر وہ وقت اور تاریخ کندہ ہے – پونگل سے ایک رات قبل، ۱۳ جنوری ۲۰۱۳ کو شام کے ۷ بج رہے تھے۔ وہ لگاتار بڑھتی ہوئی اس بے چینی کو یاد کرتے ہیں جب انہیں یہ احساس ہوا کہ اب وہ کچھ بھی نہیں دیکھ سکتے۔

اگلے کچھ سال ان کے لیے پریشان کر دینے والے تھے۔ وہ زیادہ تر گھر کے اندر ہی رہتے تھے۔ انہیں غصہ، بے چینی کے ساتھ ہر وقت رونا آتا تھا اور ان کے من میں خودکشی کرنے کا خیال بھی آتا تھا۔ لیکن، وہ دور کسی طرح گزر گیا۔ چترا سے ملنے کے وقت، وہ ۲۳ سال کے تھے اور ان کی آنکھوں کی روشنی جا چکی تھی۔ وہ آہستہ سے کہتے ہیں، وہ خود کو ’’ایک لاش کی طرح محسوس کرتے تھے‘‘ اور چترا نے ہی متھوراجا کو زندگی کا ایک نیا پہلو دیا۔

لگاتار رونما ہونے والے حادثات نے متھوراجا کی ان کی آنکھوں کی روشنی پوری طرح سے جانے سے پہلے ہی ان کی آنکھیں خراب کر دی تھیں۔ جب وہ سات سال کے تھے، تب وہ اور ان کی بہن مدورئی کے اپنے کھیت میں گلاب کے پودے لگا رہے تھے، جہاں بازار میں فروخت کرنے کے لیے پھول اگائے جاتے ہیں۔ وہ ایک چھوٹی سی بھول تھی – ان کی بہن نے ان کے ہاتھوں سے ایک اکھاڑا ہوا پودا ٹھیک سے نہیں پکڑا اور پودے کا تنا ان کے چہرے پر جا لگا اور کانٹے ان کی آنکھوں میں چبھ گئے۔

چھ سرجری کے بعد انہیں بائیں آنکھ سے کچھ کچھ نظر آنا شروع ہوا۔ ان کی فیملی کو اپنی تین سینٹ (صفر اعشاریہ صفر ۳ ایکڑ) زمین بیچنی پڑی اور یہ لوگ قرض میں ڈوب گئے۔ کچھ وقت بعد، جب ان کا بائیک سے ایک ایکسیڈنٹ ہوا، تو ان کی اس آنکھ میں ایک اور چوٹ لگ گئی جس سے وہ دیکھ پاتے تھے۔ تب متھوراجا کے لیے اسکول اور پڑھائی، دونوں ہی چنوتی بن گئے – وہ بلیک بورڈ یا ان پر سفید حروف کو ٹھیک سے نہیں دیکھ پاتے تھے۔ لیکن انہوں نے کسی طرح اپنے ٹیچروں کی مدد سے ۱۰ویں کلاس تک کی پڑھائی مکمل کی۔

متھوراجا کی دنیا میں تب پوری طرح سے اندھیرا چھا گیا، جب جنوری ۲۰۱۳ میں اپنے گھر کے سامنے کی سڑک پر ہی ان کا سر لوہے کی چھڑ سے ٹکرا گیا۔ چترا سے ملنے کے بعد ان کی زندگی میں روشنی اور محبت لوٹ آئی۔

PHOTO • M. Palani Kumar

چنبیلی کے کھیت میں دن کا کام ختم کرنے کے بعد، چترا اور متھوراجا مدورئی کے تروپرن کندرم بلاک کے سولانکرونی گاؤں میں واقع اپنے گھر واپس جا رہے ہیں

*****

شادی کے ایک مہینہ بعد، سال ۲۰۱۷ میں چترا کو سانس لینے میں تکلیف ہونے لگی۔ وہ مدورئی کے انّا نگر محلہ کے سرکاری اسپتال گئے۔ بہت سارے ٹیسٹ کے بعد انہیں پتہ چلا کہ چترا کا دل کمزور ہے۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ انہیں حیرانی ہے کہ چترا اتنے لمبے وقت تک زندہ کیسے رہیں۔ (چترا اپنی بیماری کا نام نہیں بتا سکتیں – ان کی فائلیں اسپتال کے پاس ہیں۔) ان کی فیملی نے – جن کے لیے انہوں نے زندگی بھر محنت کی – مدد کرنے سے انکار کر دیا۔

متھوراجا نے چترا کے علاج کے لیے ۳۰ ہزار روپے سود پر قرض لیے۔ ان کی اوپن ہارٹ سرجری ہوئی تھی اور وہ تین مہینے تک اسپتال میں رہیں۔ جب وہ گھر لوٹیں، تو بہتر محسوس کر رہی تھیں، لیکن پھر متھوراجا کو کان کی سرجری کروانے کی ضرورت پڑ گئی۔ مایوس ہوکر ان دونوں نے اپنی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن زندگی نے ہی انہیں روک لیا – چترا ماں بننے والی تھیں۔ متھوراجا پریشان تھے کہ کیا چترا کا دل اس تناؤ کو برداشت کر پائے گا، لیکن ان کے ڈاکٹر نے اس حمل کو برقرار رکھنے کی صلاح دی۔ مہینوں کی بے چینی اور دعاؤں کے بعد ان کے بیٹے کی پیدائش ہوئی۔ اب چار سال کے ہو چکے وشانت راجا ہی ان کی امید، ان کا مستقبل، اور خوشی ہیں۔

*****

اس جوڑے کے لیے روزمرہ کی مشکلیں جوں کی توں بنی ہوئی ہیں۔ چترا اپنی حالت کی وجہ سے کچھ بھی بھاری سامان نہیں اٹھا سکتی ہیں۔ متھوراجا دو گلی دور واقع ایک پمپ سے بھرے ہوئے پانی کے برتن کو کندھے پر ایک ہاتھ سے رکھ کر لے جاتے ہیں۔ چترا ان کے لیے راستہ دکھانے والی آنکھیں ہیں۔ چترا کھیتوں اور آس پاس کے جنگلی علاقہ سے نیم کے پھل جمع کرتی ہیں، پھر انہیں سکھاتی ہیں اور ۳۰ روپے میں فروخت کرتی ہیں۔ اور باقی وقت میں وہ منجنتھی کائی (ہندوستانی شہتوت) چنتی اور بیچتی ہیں، جس کے انہیں ۶۰ روپے ملتے ہیں۔ وہ ایک کھیت میں ایک یا دو کلو چنبیلی کے پھول توڑتی ہیں اور دن کے ۲۵-۵۰ روپے کماتی ہیں۔

چترا کی ایک دن کی اوسط آمدنی ۱۰۰ روپے ہے، جو دن کے خرچے میں چلا جاتا ہے۔ وہ ۱۰۰۰ روپے سے دوائیں خریدتی ہیں جو متھوراجا کو ہر مہینے تمل ناڈو حکومت کی ڈفرینٹلی ایبلڈ پنشن اسکیم کے ذریعے ملتے ہیں۔ چترا کہتی ہیں، ’’میری زندگی ان دواؤں پر چلتی ہے۔ اگر میں انہیں نہیں کھاتی ہوں، تو مجھے درد ہوتا ہے۔‘‘

کووڈ۔۱۹ کی وجہ سے لگے لاک ڈاؤن نے پھلوں سے کمائی کرنے کا موقع چھین لیا ہے۔ آمدنی میں گراوٹ آنے کے ساتھ ہی، چترا نے اپنی دوائیں لینی بھی بند کر دیں۔ اس لیے، ان کی طبیعت خراب رہنے لگی ہے اور سانس لینے اور چلنے میں پریشانی ہو رہی ہے۔ وہ اپنی چائے کے لیے دودھ نہیں خرید سکتیں، اس لیے ان کا بیٹا کالی چائے پیتا ہے۔ حالانکہ، وشانت کہتے ہیں، ’’مجھے بس کالی چائے ہی پسند ہے۔‘‘ یہ سننا کچھ یوں ہے، جیسے وہ اپنے والدین، ان کی زندگی، ان کے نقصان، اور ان کی محبت کو سمجھتے ہیں۔

Chitra’s chest scans from when her heart ailment was diagnosed in 2017. Recently, doctors found another problem with her heart. She needs surgery, but can't afford it
PHOTO • M. Palani Kumar
Chitra’s chest scans from when her heart ailment was diagnosed in 2017. Recently, doctors found another problem with her heart. She needs surgery, but can't afford it
PHOTO • M. Palani Kumar

سال ۲۰۱۷ میں جب چترا کی دل کی بیماری کا پتہ چلا، تب سے چترا کے سینے کا اسکین ہوتا رہتا ہے۔ حال ہی میں، ڈاکٹروں نے ان کے دل میں ایک اور مسئلہ پایا ہے۔ انہیں سرجری کی ضرورت ہے، لیکن وہ اس خرچ کو برداشت نہیں کر سکتیں

Chitra watches over her four year old son, Vishanth Raja, who was born after anxious months and prayers
PHOTO • M. Palani Kumar
Chitra watches over her four year old son, Vishanth Raja, who was born after anxious months and prayers
PHOTO • M. Palani Kumar

۱۰ سال کی عمر سے ہی چترا نے دن کے بہت لمبے لمبے گھنٹوں تک کام کیا ہے، جس میں سے زیادہ تر کام زرعی مزدور اور مل کی ملازمہ کے طور پر تھا

PHOTO • M. Palani Kumar

چترا اپنے چار سال کے بیٹے، وشانت راجا کی دیکھ بھال کرتی ہیں، جو مہینوں کی دعاؤں کے بعد پیدا ہوا تھا

PHOTO • M. Palani Kumar

ان کا بیٹا ہی ان کی دنیا ہے؛ متھوراجا کہتے ہیں، وہ نہ ہوتا تو میں نے اور چترا نے اپنی زندگی ختم کر لی ہوتی

PHOTO • M. Palani Kumar

وشانت اپنے ماں باپ کے ساتھ گا کر اور ناچ کر ان کی تفریح کرتے ہیں۔ ان کے چاروں طرف گھر کے سامان دکھائی دے رہے ہیں

PHOTO • M. Palani Kumar

چترا باتھ روم کا استعمال کرنے کے لیے اپنے سسر کے گھر جاتی ہیں، کیوں کہ ان کے پاس کرایے کے اپنے گھر میں باتھ روم نہیں ہے

PHOTO • M. Palani Kumar

تیز ہواؤں اور شدید بارش کی وجہ سے، چترا اور متھوراجا کے گھر کی اسبسطوس سے بنی چھت اڑ گئی۔ ان کے رشتہ داروں نے انہیں ایک نئی چھت دلانے میں مدد کی

PHOTO • M. Palani Kumar

متھوراجا، چترا، اور وشانت دو گلی دور واقع پمپ پر روز پانی لانے جاتے ہیں

PHOTO • M. Palani Kumar

چترا اپنے دل کی حالت کی وجہ سے کچھ بھی بھاری سامان نہیں اٹھا سکتی ہیں، اس لیے متھوراجا برتن ڈھوتے ہیں اور وہ ان کو راستہ بتاتی ہیں

PHOTO • M. Palani Kumar

چترا نے اپنے گرتے ہوئے اس گھر میں اسپتال کے اپنے سارے بلوں کو سنبھال کر رکھا ہے

PHOTO • M. Palani Kumar

متھوراجی کی فیملی کی ایک پرانی تصویر – وہ تصویر میں نیلی ٹی شرٹ میں ہیں، دوسری قطار میں سب سے دائیں

PHOTO • M. Palani Kumar

چترا اور متھوراجا کی زندگی دردناک حادثات سے بھری ہوئی ہے، مگر وہ اس کا سامنا امید کے سہارے کر رہے ہیں

اس اسٹوری کا متن اپرنا کارتکیئن نے رپورٹر کی مدد سے لکھا ہے۔

مترجم: محمد قمر تبریز

M. Palani Kumar

M. Palani Kumar is a 2019 PARI Fellow, and a photographer who documents the lives of the marginalised. He was the cinematographer for ‘Kakoos’, a documentary on manual scavengers in Tamil Nadu by filmmaker Divya Bharathi.

Other stories by M. Palani Kumar
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez