بیلتانگڑی میں گائے کے گلے کی گھنٹیاں بنانے والے ہوکرپّا

کرناٹک کے دکشن کنڑ ضلع میں واقع شیباجے گاؤں میں بانس سے، گائے کے گلے میں باندھی جانے والی گھنٹیاں بنانے والے آخری بچے کاریگروں میں سے ایک، ہوکرپّا اس ویڈیو میں اپنے ہنر کی باریکیاں بیان کر رہے ہیں

۲۷ مئی، ۲۰۲۲ | رپورٹر: وٹھل مالیکوڑیا | ایڈیٹر: ونوتھا مالیہ

جبرّا: بھینسوں کے تحفظ کو لیکر فکرمند، مرکام

وشال رام مرکام کی چہیتی بھینسیں، چھتیس گڑھ کے دھمتری ضلع کے گھنے جنگلوں میں دن بھر چرتی رہتی ہیں اور شام کو اُن کے پاس لوٹ آتی ہیں۔ لیکن، ان جنگلوں میں موجود بھوکے شکاریوں کی طرف سے انہیں ہمیشہ خطرہ لاحق رہتا ہے

۲۰ جنوری، ۲۰۲۲ | پرشوتم ٹھاکر اور پریتی ڈیوڈ

سانگلی کے کسان: نجی شعبہ کے دخل سے پریشان

دودھ کی قیمتوں پر پرائیویٹ سیکٹر کے کنٹرول کی وجہ سے پیداواری لاگت حاصل کرنے میں ناکام، مغربی مہاراشٹر میں دودھ کا کاروبار کرنے والے ارون جادھو جیسے کسان اپنے مویشیوں کو فروخت کر رہے ہیں اور ان کی پیداوار کم ہوتی جا رہی ہے

۷ دسمبر، ۲۰۲۱ | پارتھ ایم این

وبائی مرض کی قیمت چکا رہے وِدربھ کے مویشی پرور

مشرقی مہاراشٹر میں نند گولی اور دودھ کا کاروبار کرنے والے دیگر کسانوں کو صحت سے متعلق مسائل اور چارے کی کمی کا سامنا کرنے کے علاوہ دودھ کی مانگ میں گراوٹ اور سپلائی کی کڑی کے ٹوٹ جانے کے سبب کافی نقصان ہو رہا ہے

۲۲ اپریل، ۲۰۲۰ | جے دیپ ہرڈیکر اور چیتنا بورکر

راستہ، جو آپ کو گھر نہیں پہنچاتا

کووِڈ- ۱۹ سے لاک ڈاؤن کے سبب، مہینوں سے سڑکوں پر چل رہے چینا کونڈا بالا سامی اور تلنگانہ کے دیگر مویشی پروروں کے لیے کھانا اور نئے چراگاہوں تک پہنچنا – یا اپنے گاؤوں واپس لوٹنا مشکل ہو رہا ہے

۳۱ مارچ، ۲۰۲۰ | ہری ناتھ راؤ ناگل ونچا

دارالحکومت دہلی کے بیل گاڑی مالکان

شمال وسطی دہلی میں واقع کارگو مرکز سے ایک عرصے سے ٹرانسپورٹروں کا تجارتی سامان ایک مقام سے دوسرے مقام تک متنقل کرنے والے کچھ بیل گاڑی مالکان اب کہیں اور بہتر اجرت کی تلاش میں ہیں، جب کہ کئی ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ یہ ان کا روایتی پیشہ ہے اور ان کے پاس کام کا کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے

۴ مارچ، ۲۰۲۰ | سمت کمار جھا

کروبا چرواہے اپنا معاش کھو رہے ہیں

کرناٹک کے مویشی پرور کروبا طویل عرصے سے اپنی مضبوط دکنی بھیڑوں کو چرانے کے لیے مہینوں تک سفر کرتے رہے ہیں۔ لیکن اپنے جانوروں کی کھاد اور ان کی مانگ میں کمی کے باعث، ان میں سے کئی اب آمدنی کے دیگر ذرائع تلاش کر رہے ہیں

۱۳ دسمبر، ۲۰۱۹ | پربیر مترا

’مویشی اور پرندے، دونوں کو ڈھیر سارا پانی چاہیے‘

قحط نے دیہی مہاراشٹر کے کئی کنبوں کو مویشی کیمپوں میں رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ستارا ضلع کے مہسوڈ میں بنے ایک کیمپ میں، ساریکا اور انل ساونت اپنی فیملی کے دودھ اور مرغ پروری کے کاروبار کی بڑھتی جدوجہد کے بارے میں بتا رہے ہیں

۷ مئی، ۲۰۱۹ | میدھا کالے

آدھی قیمت میں بھی بکری خریدنے والا کوئی نہیں

وٹھوبا یادو اپنی بکری کو بازار میں اس کی قیمت سے آدھے دام پر بیچنا چاہتے تھے، لیکن پانی اور چارے کی سخت قلت کی وجہ سے ستارا ضلع کے مہسوَڈ شہر کے اس بازار میں اس بکری کا ایک بھی خریدار نہیں ملا

۱۳ مارچ، ۲۰۱۹ | میدھا کالے

چِمنا بائی کو آخرکار ۸۰۰۰ دیگر کے ساتھ، چارہ مل گیا

لکشمی کالیل اپنی فیملی کو گاؤں میں ہی چھوڑ دو بھینسوں، ایک گائے اور ایک بیل کے ساتھ ستارا ضلع کے مویشی کیمپ میں چلی گئیں؛ لیکن سخت قحط سے نمٹنے کی کوشش کر رہے دیگر کے ساتھ نیا رشتہ بنا رہی ہیں

۲۸ فروری، ۲۰۱۹ | میدھا کالے

چارے کی تلاش میں بچھڑے کنبے

مہاراشٹر کے ستارا اور دیگر ضلعوں میں ابتدائی خشک سالی نے زرعی کاموں اور مویشیوں کے چارے کو ختم کر دیا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اپنے مویشیوں کو مویشی کیمپ میں لے جانے پر مجبور ہیں – جہاں عورتوں کو یہ بحران جھیلنا پڑ رہا ہے

۱۸ فروری، ۲۰۱۹ | میدھا کالے

کمزور برادریوں کو سہارا دیتے طاقتور مویشی

تلنگانہ کے امراباد ٹائیگر ریزرو کے پاس کے گاؤوں میں دیسی پوڈا تھروپو مویشی، اس کی افزائش کرنے والی برادریوں اور کسانوں کے لیے ذریعہ معاش ہیں، اور اس نسل کے تحفظ کی کوششیں جاری ہیں

۱۱ جنوری، ۲۰۱۹ | ہری ناتھ راؤ ناگل ونچا

’میں جب انھیں گھر واپس دیکھتی ہوں، تو شیر کا شکریہ ادا کرتی ہوں‘

یوتمال کے ایک خوفزدہ چرواہے شنکر اترام نے، حال ہی میں مار دی گئی ٹی- ۱ شیرنی سے خود کو بچانے کے لیے ایک مضحکہ خیز پتلی ’ڈھال‘ بنائی تھی، لیکن انھیں اور گاؤں کے دیگر لوگوں کو اب دوسرے شیروں کے حملے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

۶ نومبر، ۲۰۱۸ | جے دیپ ہرڈیکر

جزیرہ پر رہنے والے آسام کے دودھ کاروباری

آسام کی برہم پتر ندی کے چلکورہ جزیرہ پر رہنے والے لوگوں کا واحد ذریعہ معاش ہے دودھ کا کاروبار – لیکن ریاست کے ذریعہ مویشیوں کے چارے پر دی جانے والی سبسڈی کو ختم کر دینے سے ان کا مستقبل تاریک ہو گیا ہے

۳ اکتوبر، ۲۰۱۷ | رتنا بھڑالی تعلقدار

’میں نے جب یہ تصویر کھینچی اس کے بعد ہی یہ بچھڑا غائب ہو گیا‘

جنگل کی زندگی پر مبنی چھ تصویری مضامین کے سلسلہ کے اس چھٹے حصہ میں منگلا گاؤں کے ایک کسان، این سوامی بَسّوَنّا کہتے ہیں، ’کھیتی میں سبھی کو شامل ہونا چاہیے اور ان چیلنجز کو سمجھنا چاہیے جن کا ہم سامنا کر رہے ہیں‘

۲۱ اگست، ۲۰۱۷ | این سوامی بسّونّا

’یہی وہ جگہ ہے جہاں تیندوا اور ٹائیگر حملہ کرتے ہیں‘

باندی پور نیشنل پارک کے پاس منگلا گاؤں میں کام کرنے والے اندر کمار، ’پاری‘ پر شائع چھ تصویری مضامین کے سلسلہ کے اس پانچویں حصہ میں مویشی چرانے والوں، تیندوے کے حملوں، مقامی فنکاروں اور فصل کو ریکارڈ کر رہے ہیں

۱۴ اگست، ۲۰۱۷ | اندر کمار

باندی پور کے پرنس سے قریبی سامنا

باندی پور نیشنل پارک کے پاس رہنے والے ایک نیچری اور کاشت کار، کے این مہیشا، ’پاری‘ پر شائع چھ تصویری مضامین کے سلسلہ کے اس چوتھے حصہ میں بیلوں، حساس گایوں، کام کرنے والے ہاتھیوں اور شکاری پرندوں کی تصویریں لے کر آ رہے ہیں

۷ اگست، ۲۰۱۷ | کے این مہیش

بیل گاڑی کی دوڑ کا نظارہ کرتے ہوئے ایک اور دن

مہاراشٹر نے، اپریل ۲۰۱۷ میں بیل گاڑیوں کی دوڑ کو قانونی منظوری دے دی ہے۔ اس نے چندر پور میں ۲۰۰۷ میں ہونے والی اسی قسم کی ایک دوڑ کی یادیں تازہ کر دیں

۱۸ جولائی، ۲۰۱۷ | پی سائی ناتھ

’آج ایک جانور بچانے کا مطلب ہے، کل ایک جانور کمانا‘

قحط کے دوران پناہ گاہ، پانی اور چارے کے سخت ضرورت مند جن مویشیوں کو جانوروں کے کیمپوں میں رکھا گیا تھا، اب وہ سارے کیمپ مانسون کی وجہ سے بند کر دیے گئے ہیں۔ لیکن بیڈ کو اب بھی بارش کا انتظار ہے اور پلوَن کا یہ کیمپ اب بھی کھلا ہوا ہے

۲۲ جولائی، ۲۰۱۷ | جے دیپ ہرڈیکر

بروکپا: ’جنگل ہماری ماں ہے‘

اروناچل پردیش کے مغربی کیمانگ اور توانگ ضلعوں میں رہنے والے بروکپا تنہائی پسند چرواہے ہیں جو مقررہ موسم کے حساب سے اونچے پہاڑی علاقوں کی جانب ہجرت کرتے ہیں۔ ان کی روزمرہ کی زندگی کو پیش کرتی یہ فوٹو اسٹوری…

۲۲ جون، ۲۰۱۷ | رتائن مکھرجی

گائے کی اب کوئی قیمت نہیں

مراٹھواڑہ بھر کے کسان جو پہلے سے ہی زرعی بحران کے شکار ہیں، ۴۵ ڈگری درجۂ حرارت میں ایک بازار سے دوسرے بازار تک کئی کلومیٹر کا سفر کر رہے ہیں، اپنے مویشی کو بیچنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں تاکہ کچھ پیسہ مل جائے، لیکن بیف پر پابندی کی وجہ سے یہ تقریباً ناممکن سا ہو گیا ہے

۱ جون، ۲۰۱۷ | پارتھ ایم این

’ہم اب خودانحصار اور منظم ہیں‘

ترمالی نندی والے، جو ایک خانہ بدوش پرفارمنگ آرٹسٹوں کا قبیلہ ہے، کو مہاراشٹر کے بیڈ ضلع کے کناڑی بُدرُک گاؤں میں ایک مستقل گھر ڈھونڈنے اور بنیادی سہولیات حاصل کرنے کے لیے کئی دہائیوں تک جدوجہد کرنی پڑی

۱۳ دسمبر، ۲۰۱۶ | شریش کھرے

پرکی ڈیہہ میں جب گائیں گھر آتی ہیں

’گو بندنا‘ تہوار کے دوران مغربی بنگال کے پرولیا ضلع کے سنتال اپنی گایوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ یہ مٹی کے رنگوں، دیوار کی پینٹنگ، میوزک اور کھیل کا وقت ہوتا ہے

۴ جولائی، ۲۰۱۶ | ارونوا پاترا

بیلوں سے خطرہ مول لینا، پلّوں سے بھاگنا

تمل ناڈو کے منفرد کنگایم مویشی ختم ہوتے جا رہے ہیں ۔ ہم نے جنوری میں پونگل تہوار کے دوران اس نسل کے ایک نایاب بیل سے ملاقات کی۔

۱۴ جنوری، ۲۰۱۶ | اپرنا کارتکیئن

اڈیشہ میں ہجرت کے لیے تیراکی

اڈیشہ کے جگت سنگھ پور ضلع میں، گرمی کے دوران بھینسیں نئے چراگاہوں کی تلاش میں، روزانہ مقامی ندی کو تیر کر پار کرتی ہیں

۲ اکتوبر، ۲۰۱۵ | دلیپ موہنتی

مویشیوں کی نسل: دیسی بمقابلہ بیرونی

تھریسور میں اونچی دیکھ بھال والی کراس بریڈ پر زور دینے کی وجہ سے گھریلو محنت کش مویشیوں میں تیزی سے کمی آ رہی ہے

۵ اگست، ۲۰۱۵ | پی سائی ناتھ

مقدس گائے! چھوٹی خوبصورت ہے

دیسی نسل، لوگوں کی وجہ سے نہیں بلکہ طویل مدتی سرکاری پالیسیوں کی وجہ سے تباہ ہو گئی

۵ اگست، ۲۰۱۵ | پی سائی ناتھ

دوڑ کا نظارہ کرتے ہوئے ایک دن

مہاراشٹر کے چندر پور ضلع کے دیلان واڈی میں بیل گاڑیوں کی دوڑ پوری دھوم دھام سے منعقد کی جاتی ہے۔ لیکن جیسا کہ اس مصنف کو لوگوں نے بتایا، دوڑ والے راستے میں کافی خطرہ درپیش ہوتا ہے۔ اور یہ خطرہ صرف بیلوں کو ہی نہیں ہوتا

۱۴ جون، ۲۰۱۵ | پی سائی ناتھ
Translator : PARI Translations, Urdu