’’جب ہمارے جیسی عورتیں اپنے گھروں اور کھیتوں کو چھوڑ کر شہر میں احتجاج کرنے کے لیے آتی ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنے پیروں کے نیچے کی ماٹی [زمین] کھو رہی ہیں،‘‘ ارونا مَنّا نے کہا۔ ’’گزشتہ چند مہینوں میں ایسے دن بھی گزرے جب ہمارے پاس کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔ باقی دنوں میں ہم بمشکل ایک وقت کا کھانا کھا پائے۔ کیا ان قوانین کو پاس کرنے کا یہی وقت ہے؟ گویا یہ وبائی مرض [کووڈ- ۱۹] ہمیں مارنے کے لیے کافی نہیں تھا!‘‘

۴۲ سالہ ارونا، وسط کولکاتا میں احتجاج کے مقام، ایسپلینڈ وائی- چینل پر بول رہی تھیں، جہاں کسان اور زرعی مزدور خواتین ۹ سے ۲۲ جنوری تک آل انڈیا کسان سنگھرش سمنوے سمیتی (اے آئی کے ایس سی سی) کے بینر تلے جمع ہوئی تھیں۔ اس میں طلبہ، شہری، کارکن، ثقافتی تنظیمیں، سبھی شامل تھے – جو ستمبر ۲۰۲۰ میں پارلیمنٹ سے پاس کیے گئے تین زرعی قوانین کے خلاف دہلی کی سرحدوں پر احتجاج کر رہے کسانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے جمع ہوئی تھیں۔

ارونا راجواکھاکی گاؤں سے آئی تھیں۔ ان کے ساتھ تقریباً ۱۵۰۰ دیگر خواتین بھی آئی تھیں، جن میں سے زیادہ تر جنوبی ۲۴ پرگنہ ضلع کے مختلف گاؤوں سے تھیں۔ وہ ۱۸ جنوری کو ملک گیر خواتین کسانوں کا دن منانے اور اپنے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے ٹرینوں، بسوں اور ٹیمپو سے کولکاتا پہنچیں۔ مغربی بنگال میں اس کا انعقاد خواتین کسانوں اور زرعی مزدوروں، خواتین کی تنظیموں کی ۴۰ سے زیادہ یونین، اور اے آئی کے ایس سی سی کے ذریعہ کیا گیا تھا۔

حالانکہ اپنی آواز بلند کرنے کے لیے کولکاتا تک کا لمبا سفر طے کرنے کے بعد وہ تھک چکی تھیں، لیکن ان کا غصہ کم نہیں ہوا تھا۔ ’’تو ہمارے لیے کون احتجاج کرے گا، کورٹ بابو [جج]؟ ہمیں جب تک اپنا حق نہیں مل جاتا، ہم احتجاج کرتے رہیں گے!‘‘ شرم جیوی مہیلا سمیتی کی رکن، ۳۸ سالہ سُپرنا ہلدھر نے ہندوستان کے چیف جسٹس کے ذریعہ کیے گئے حالیہ تبصرہ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ عورتوں اور بزرگوں کو زرعی قوانین کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے مقام سے چلے جانے کے لیے ’راضی‘ کیا جانا چاہیے۔

سپرنا ۱۸ جنوری کو خواتین کسان کے دن کے حصہ کے طور پر کولکاتا کے احتجاجی مقام پر صبح ساڑھے ۱۱ بجے سے شام ۴ بجے تک منعقد مہیلا کسان مجور سبھا کے اجلاس میں بول رہی تھیں۔ اس اجلاس میں خواتین کی گہری تشویشوں، ان کی محنت، زمین کے مالکانہ حق کے لیے ان کی لمبی جدوجہد اور دیگر حقوق، اور ان کی زندگی پر نئے زرعی قوانین کے ممکنہ اثرات پر توجہ مرکوز کی گئی۔

On January 18, women from several districts of West Bengal attended the Mahila Kisan Majur Vidhan Sabha session in Kolkata
PHOTO • Smita Khator
On January 18, women from several districts of West Bengal attended the Mahila Kisan Majur Vidhan Sabha session in Kolkata
PHOTO • Smita Khator

۱۸ جنوری کو مغربی بنگال کے کئی ضلعوں کی خواتین نے کولکاتا کے مہیلا کسان مجور ودھان سبھا کے اجلاس میں شرکت کی

سُپرنا، جو جنوبی ۲۴ پرگنہ ضلع کی رائیڈیگھی گرام پنچایت کے پاکُرتالا گاؤں سے آئی تھیں، نے بتایا کہ کیسے بڑھتی ہوئی اِن پُٹ لاگت اور بار بار آنے والے سمندری طوفانوں نے ان کے علاقے میں گزربسر کے بنیادی ذریعہ، کھیتی کو کمزور کر دیا ہے۔ نتیجتاً، منریگا کے مقامات (جسے مقامی زبان میں ایک شو دنیر کاج یا ۱۰۰ دنوں کا کام کہا جاتا ہے) اور دیگر سرکاری مالی امداد یافتہ اور پنچایت کے ذریعہ چلائے جا رہے کام کے مقامات پر کام کرنا زرعی مزدوروں اور چھوٹے کسان خاندانوں کے لیے زندگی کی شہ رگ بن گیا ہے۔

کولکاتا کا احتجاجی مظاہرہ جہاں تین زرعی قوانین کو منسوخ کرنے پر مرکوز تھا، وہیں منریگا کے کام کے دنوں اور مقامی پنچایتوں کے تحت کام کی کمی بھی یہاں موجود خواتین کی ایک مسلسل تشویش تھی۔

’’کام دستیاب نہیں ہے۔ ہم تمام لوگوں کے پاس مستند جاب کارڈ ہیں [حالانکہ جاب کارڈ عام طور پر شوہر یا والد کے نام سے جاری کیے جاتے ہیں، اور یہ بھی کئی خواتین کے لیے ایک متنازع ایشو ہے]۔ پھر بھی ہمیں کام نہیں ملتا ہے،‘‘ ۵۵ سالہ سُچترا ہلدھر نے کہا، جو متھراپور دوئم بلاک کے تحت رائیڈیگھی پنچایت کے بلرامپور گاؤں میں ۱۰۰ دنوں کے کام کا الاٹمنٹ دیکھتی ہیں۔ ’’ہم طویل عرصے سے اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اگر ہمیں کام ملتا بھی ہے، تو وقت پر ہماری ادائیگی نہیں کی جاتی۔ کبھی کبھی تو ہمیں یہ ملتا بھی نہیں ہے۔‘‘

’’ہمارے گاؤں کی نوجوان نسل بیکار بیٹھی ہوئی ہے، ان کے لیے کوئی کام نہیں ہے،‘‘ راجواکھاکی گاؤں کی ۴۰ سالہ رنجیتا سامنتا نے کہا۔ ’’لاک ڈاؤن کے دوران کئی لوگ اُن مقامات سے واپس آ گئے ہیں، جہاں وہ کام کرنے گئے تھے۔ والدین مہینوں سے بغیر کسی نوکری کے ہیں، اور اس لیے نئی نسل بھی پریشانی جھیل رہی ہے۔ اگر ہمیں ۱۰۰ دنوں کا کام بھی نہیں ملے گا، تو ہم زندہ کیسے رہیں گے؟‘‘

وہاں سے کچھ دوری پر بیٹھی ۸۰ سالہ دُرگا نیّا، سفید رنگ کی اپنی سوتی ساڑی کے کنارے سے اپنے موٹے چشمے کو صاف کر رہی تھیں۔ وہ متھراپور دوئم بلاک کے گلارچھاٹ گاؤں کی بزرگ خواتین کی ایک جماعت کے ساتھ آئی تھیں۔ ’’جب تک میرے جسم میں طاقت تھی، میں کھیت مجور [زرعی مزدور] کے طور پر کام کرتی تھی،‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’دیکھئے، میں اب بہت بوڑھی ہو چکی ہوں... میرے شوہر کا بہت پہلے انتقال ہو گیا تھا۔ میں اب کام کرنے سے معذور ہوں۔ میں یہاں سرکار سے یہ کہنے آئی ہوں کہ وہ بزرگ کسانوں اور کھیت مجوروں کو پنشن دے۔‘‘

دُرگا نیّا کے پاس کسانوں کے احتجاج کا لمبا تجربہ ہے۔ ’’میں ۲۰۱۸ میں ان کے ساتھ دہلی گئی تھی تاکہ ملک کے دیگر کسانوں کے ساتھ شامل ہو سکوں،‘‘ متھراپور دوئم بلاک کے رادھا کانتاپور گاؤں کی ۵۰ سالہ بے زمین مزدور، پارول ہلدر نے کہا۔ وہ نومبر ۲۰۱۸ میں کسان مُکتی مورچہ کے لیے، ایک ساتھ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن سے پیدل رام لیلا میدان گئی تھیں۔

Ranjita Samanta (left) presented the resolutions passed at the session, covering land rights, PDS, MSP and other concerns of women farmers such as (from left to right) Durga Naiya, Malati Das, Pingala Putkai (in green) and Urmila Naiya
PHOTO • Smita Khator
Ranjita Samanta (left) presented the resolutions passed at the session, covering land rights, PDS, MSP and other concerns of women farmers such as (from left to right) Durga Naiya, Malati Das, Pingala Putkai (in green) and Urmila Naiya
PHOTO • Smita Khator

رنجیتا سامنتا (بائیں) نے اجلاس میں پاس کی گئی تجویزوں کو پیش کیا، جس میں شامل تھا زمین کا حق، پی ڈی ایس، ایم ایس پی اور (بائیں سے دائیں) دُرگا نیّا، مالتی داس، پِنگل پُتکائی (ہری ساڑی میں) اور اُرمیلا نیّا جیسی خواتین کسانوں کی دیگر تشویشیں

’’ہم مشکل سے جی رہے ہیں،‘‘ پارول نے کہا، جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ احتجاج کے مقام پر بزرگ خواتین کے ساتھ کیوں شامل ہوئی تھیں۔ ’’کھیتوں پر اب زیادہ کام دستیاب نہیں ہے۔ فصل کی کٹائی اور بوائی کے موسم میں ہمیں کچھ کام مل جاتا ہے، جب ہم یومیہ ۲۷۰ روپے تک کماتے ہیں۔ لیکن اس سے ہمارا گزارہ نہیں ہوتا۔ میں بیڑی بناتی ہوں اور دیگر چھوٹے موٹے کام کرتی ہوں۔ ہم نے وبائی مرض کے دوران اور خاص کر امفن [سمندری طوفان جو مغربی بنگال سے ۲۰ مئی، ۲۰۲۰ کو ٹکرایا تھا] کے بعد بہت برا وقت دیکھا ہے...‘‘

اس گروپ کی بزرگ خواتین اپنے ماسک کو لیکر بہت محتاط تھیں، وبائی مرض کے دوران خود کو ہونے والے خطرے سے واقف تھیں – پھر بھی انہوں نے احتجاجی مظاہرہ میں شریک ہونے کا فیصلہ کیا۔ ’’ہم صبح میں بہت جلدی اٹھ گئے تھے۔ سندربن کے اپنے گاؤوں سے  کولکاتا پہنچنا آسان نہیں تھا، گلارچھاٹ گاؤں کی ۷۵ سالہ بزرگ خاتون، پِنگل پُتکائی نے کہا۔ ’’ہماری کمیٹی [شرم جیوی مہیلا سمیتی] نے ہمارے لیے بس کا انتظام کیا تھا۔ یہاں پر ہمیں ڈبہ بند دوپہر کا کھانا ملا [چاول، آلو، لڈو، اور آم کا جوس]۔ ہمارے لیے یہ ایک خاص دن ہے۔‘‘

اسی جماعت میں ۶۵ سالہ مالتی داس بھی تھیں، جنہوں نے بتایا کہ وہ ۱۰۰۰ روپے ماہانہ ملنے والی اپنی بیوہ پنشن کا انتظار کر رہی ہیں – یہ پنشن انہیں ایک بار بھی نہیں ملی ہے۔ ’’جج کا کہنا ہے کہ بزرگوں اور عورتوں کو احتجاج میں شرکت نہیں کرنی چاہیے،‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’ جینو بوڑو آر میئیناموشدیر پیٹ بھورے روج پلاؤ ار مانگشو دیچھے کھیتے [جیسے کہ وہ بزرگوں اور عورتوں کو روز پلاؤ اور گوشت کھلا رہے ہیں]!‘‘

اس گروپ کی کئی بزرگ خواتین، جنہوں نے عمر کی وجہ سے اب زرعی کام بند کر دیا ہے، نے بزرگ کسانوں اور زرعی مزدوروں کو باعزت پنشن دینے کے لیے طویل عرصے سے کیے جا رہے مطالبہ کو دوہرایا۔

میں نے اس میٹنگ میں شامل سندر بن کی جتنی بھی خواتین سے بات کی، ان میں سے زیادہ تر درج فہرست ذات کی تھیں، لیکن کئی عورتیں آدیواسی برادریوں سے بھی تھیں۔ انہی میں سے ایک، بھومِج برادری کی بے زمین زرعی مزدور، ۴۶ سالہ منجو سنگھ بھی تھیں، جو جمال پور بلاک کے موہن پور گاؤں سے آئی تھیں۔

’’ بچارپتی [جج] سے کہئے کہ وہ سب کچھ ہمارے گھر بھیج دیں – کھانا، دوائیں اور ہمارے بچوں کے لیے اسمارٹ فون،‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’تب ہم گھر پر رہیں گے۔ ہم جس طرح ہربھنگا کھتونی [کمر توڑ سخت محنت] کرتے ہیں، وہ کوئی بھی نہیں کرنا چاہتا۔ ایسے میں ہم احتجاج نہ کریں، تو کیا کریں؟‘‘

'The companies only understand profit', said Manju Singh (left), with Sufia Khatun (middle) and children from Bhangar block
PHOTO • Smita Khator
'The companies only understand profit', said Manju Singh (left), with Sufia Khatun (middle) and children from Bhangar block
PHOTO • Smita Khator
'The companies only understand profit', said Manju Singh (left), with Sufia Khatun (middle) and children from Bhangar block
PHOTO • Smita Khator

’کمپنیاں صرف منافع کو سمجھتی ہیں‘، منجو سنگھ (بائیں) نے کہا، ساتھ میں صوفیا خاتون (بیچ میں) اور بھانگر بلاک کے بچے

انہوں نے بتایا کہ  پورب بردھمان ضلع کے ان کے گاؤں میں، ’’۱۰۰ دنوں کے کام کی اسکیم کے تحت، ہمیں [ایک سال میں] مشکل سے ۲۵ دنوں کا کام مل پاتا ہے۔ ایک دن کی مزدوری ۲۰۴ روپے ہے۔ ہمارا جاب کارڈ کس کام کا اگر یہ کام نہ دلا پائے؟ ’’ ایک شو دنیر کاج شودھو نام کا واسطے [اسے فالتو میں ۱۰۰ دنوں کا کام کہا جاتا ہے]! میں زیادہ تر نجی کھیتوں پر کام کرتی ہوں۔ ہم طویل جدوجہد کے بعد اپنے علاقے میں [زمین کے مالکوں سے] ۱۸۰ روپے کی یومیہ مزدوری اور دو کلو چاول یقینی بنانے میں کامیاب ہوئے۔‘‘

تقریباً ۳۰ سالہ سنتال آدیواسی بے زمین زرعی مزدور، آرتی سورین بھی اسی موہن پور گاؤں سے آئی تھیں۔ ’’ہماری لڑائی صرف مزدوری کو لیکر نہیں ہے، بلکہ کئی چیزوں کے بارے میں ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’دوسروں کے برعکس، ہمیں ہر ایک چیز کے لیے لڑنا پڑتا ہے۔ ہماری برادری کی عورتیں جب متحد ہوکر بی ڈی او کے دفتر اور پنچایتوں کے سامنے نعرے لگاتی ہیں، صرف تبھی ان کی بات سنی جاتی ہے۔ یہ قوانین ہمیں بھوکا رہنے پر مجبور کر دیں گے۔ ہمیں واپس گھر جانے کے لیے کہنے کی بجائے بچارپتی ان قوانین کو واپس کیوں نہیں لے لیتے؟‘‘

کولکاتا کے ارد گرد کے چھوٹے پرائیویٹ کارخانوں میں نوکری کھونے کے بعد، آرتی اور منجو کے شوہر پچھلے ۱۰ مہینوں سے گھر پر ہیں۔ ان کے بچے آن لائن اسکولنگ کے لیے اسمارٹ فون نہیں خرید سکتے۔ منریگا کے تحت کام کی زبردست کمی نے ان کے مسائل کو بڑھا دیا ہے۔ وبائی مرض کے ساتھ آئے لاک ڈاؤن نے کئی خواتین زرعی مزدوروں کو مہاجنوں (ساہوکاروں) سے لیے گئے قرض پر زندگی بسر کرنے کو مجبور کیا۔ ’’ہم نے سرکار کے ذریعہ تقسیم کیے گئے چاول پر گزارہ کیا،‘‘ منجو نے بتایا۔ ’’لیکن کیا غریبوں کے لیے صرف چاول ہی کافی ہے؟‘‘

’’گاؤوں کی خواتین اینیمیا (جسم میں خون کی کمی) میں مبتلا ہیں،‘‘ جنوبی ۲۴ پرگنہ کی رائیڈیگھی گرام پنچایت کے رائیڈیگھی گاؤں کی رہنے والی اور پشچم بنگا کھیت مجور سمیتی کی رکن، ۴۰ سالہ نمیتا ہلدر نے کہا۔ ’’ہمیں اچھے سرکاری اسپتالوں میں مفت علاج کی ضرورت ہے؛ ہم بڑے پرائیویٹ نرسنگ ہوم کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے۔ اگر ان قوانین کو واپس نہیں لیا گیا، تو کھیتی کے ساتھ بھی یہی ہوگا! اگر سرکار سب کچھ بڑی پرائیویٹ کمپنیوں کے لیے کھول دیتی ہے، تو غریبوں کو وہ کھانا بھی نہیں مل پائے گا، جو ابھی انہیں کسی طرح تھوڑا بہت مل رہا ہے۔ کمپنیاں صرف منافع کو سمجھتی ہیں۔ انہیں ہماری موت کی پرواہ نہیں ہے۔ ہم جو اناج اُگاتے ہیں، اسے بھی خرید نہیں پائیں گے۔‘‘

ان کے لیے بھی، اس بات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ عورتیں احتجاج کے مقام پر موجود نہ ہوں۔ ’’تہذیب کی ابتدا سے ہی عورتیں کھیتی کرتی رہی ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔

Namita Halder (left) believes that the three laws will very severely impact women farmers, tenant farmers and farm labourers,
PHOTO • Smita Khator
Namita Halder (left) believes that the three laws will very severely impact women farmers, tenant farmers and farm labourers,
PHOTO • Smita Khator

نمیتا ہلدر (بائیں) کا ماننا ہے کہ تینوں قوانین خواتین کسانوں، بٹائی دار کسانوں اور زرعی مزدوروں کو بری طرح متاثر کریں گے

نمیتا کا ماننا ہے کہ تینوں قوانین ان کے جیسی خواتین – بٹائی دار خواتین کسان، جو کھیت پٹّہ پر لیکر اس میں دھان، سبزیاں اور دیگر فصلیں اُگاتی ہیں – اور زرعی مزدوروں کو بری طرح متاثر کریں گے۔ ’’اگر ہمیں اپنی پیداوار کی صحیح قیمت نہیں ملے گی، تو ہم چھوٹے بچوں اور بوڑھے ساس سسُر اور والدین کو کھانا کیسے کھلائیں گے؟‘‘ انہوں نے سوال کیا۔ ’’بڑی کمپنیوں کے مالک بہت کم قیمت پر ہم سے فصلیں خریدکر ذخیرہ اندوزی اور قیمت کو کنٹرول کریں گے۔‘‘

کسان جن قوانین کی مخالفت کر رہے ہیں، وہ زرعی پیداوار کی تجارت و کاروبار (فروغ اور سہل آمیزی) کا قانون، ۲۰۲۰ ؛ کاشت کاروں (کو با اختیار بنانے اور تحفظ فراہم کرنے) کے لیے قیمت کی یقین دہانی اور زرعی خدمات پر قرار کا قانون، ۲۰۲۰ ؛ اور ضروری اشیاء (ترمیمی) قانون، ۲۰۲۰ ہیں۔ ان قوانین کی اس لیے بھی تنقید کی جا رہی ہے کیوں کہ یہ ہر ہندوستانی کو متاثر کرنے والے ہیں۔ یہ ہندوستان کے آئین کی دفعہ ۳۲ کو کمزور کرتے ہوئے تمام شہریوں کے قانونی چارہ جوئی کے حق کو ناکارہ کرتے ہیں۔

خواتین کسانوں اور زرعی مزدوروں کے متعدد مطالبات کو اس ودھان سبھا کے ذریعہ پاس کی گئی تجویزوں میں شامل کیا گیا تھا۔ ان میں تین زرعی قوانین کی منسوخی؛ خواتین کو کسان کا درجہ دیکر زراعت میں ان کی محنت کو تسلیم کرنا؛ قومی کسان کمیشن (سوامی ناتھن آیوگ) کی سفارش کے مطابق کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کی گارنٹی دینے والا قانون بنانا؛ اور راشن کے لیے پی ڈی ایس (عوامی تقسیم کے نظام) کو مضبوط کرنا شامل ہے۔

دن کے اختتام پر، تقریباً ۵۰۰ خواتین نے اندھیرے آسمان کے نیچے ایک لمبی مشعل مچھیل (ریلی) نکالی، جس میں جنوبی ۲۴ پرگنہ کے بھانگر بلاک کے مسلم گھروں کی کسان خواتین بھی شامل تھیں۔

خاکہ نگاری: لبنی جنگی بنیادی طور پر مغربی بنگال کے نادیا ضلع کے ایک چھوٹے سے قصبہ کی رہنے والی ہیں، اور فی الحال کولکاتا کے سینٹر فار اسٹڈیز اِن سوشل سائنسز سے بنگالی مزدوروں کی مہاجرت پر پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ وہ خود سے سیکھی ہوئی ایک مصور ہیں اور سفر کرنا پسند کرتی ہیں۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Mohd. Qamar Tabrez is PARI’s Urdu/Hindi translator since 2015. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi. You can contact the translator here:

Smita Khator

Smita Khator, originally from Murshidabad district of West Bengal, is now based in Kolkata, and is PARI’s translations editor as well as a Bengali translator.

Other stories by Smita Khator