ایس راماسامی نے مجھے اپنے پرانے دوست سے ملوایا۔ وہ بتاتے ہیں کہ اخبارات سے لے کر ٹی وی چینلوں تک اور آئی اے ایس سے لے کر آئی پی ایس افسران تک، نہ جانے کتنے لوگ ان کے اس پیارے دوست سے ملنے کے لیے بے قرار رہتے ہیں۔ وہ معمولی سے معمولی تفصیل بتانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ظاہر ہے، وہ ایک سیلیبرٹی، ایک وی آئی پی کے بارے میں جو بات کر رہے ہیں۔

ان کا یہ دوست ایک ۲۰۰ سال پرانا درخت ہے: مالیگم پٹّو کا آئیرم کاچی۔

آئیرم کاچی ایک پلامرم ، یعنی کٹہل کا درخت ہے، جو کہ لمبا چوڑا اور کافی پھل دیتا ہے۔ یہ اتنا چوڑا کہ اس کے چاروں طرف ایک چکر لگانے میں ۲۵ سیکنڈ لگتے ہیں۔ اس کی پرانی شاخوں کے قریب سبز رنگ کے سو سے زیادہ کانٹے دار پھل لٹک رہے ہیں۔ اس کے سامنے کھڑے ہونا اعزاز کی بات ہے، اور درخت کے چکر لگانا کسی خوش قسمتی سے کم نہیں ہے۔ میرا ردعمل دیکھ کر راما سامی مسکرانے لگتے ہیں؛ اس خوشی کی وجہ سے آنکھوں تک لمبی ان کی مونچھیں تن جاتی ہیں۔ اپنی ۷۱ سالہ زندگی میں انہوں نے بے شمار لوگوں کو اس درخت سے متاثر ہوتے دیکھا ہے۔ وہ مجھے بتانے لگتے ہیں…

کھاوی (گیروے رونگ کی) دھوتی پہنے اور پتلے کندھے پر تولیہ ڈالے، وہ درخت کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں، ’’ہم لوگ کڈلور ضلع کے پنروتی بلاک کی مالیگم پٹو بستی میں ہیں۔ اس درخت کو پانچ نسل قبل، ہمارے اسلاف نے لگایا تھا۔ ہم اسے ’آئیرم کاچی‘ کہتے ہیں، یعنی ۱۰۰۰ پھل دینے والا۔ لیکن، اب اس کے اوپر سال میں صرف ۲۰۰ سے ۳۰۰ پھل ہی آتے ہیں، جو ۸ سے ۱۰ دنوں کے اندر پک جاتے ہیں۔ اس کا کوآ مزیدار اور رنگ خوبصورت ہوتا ہے۔ کچے کٹہل کی بریانی بھی پکائی جا سکتی ہے۔‘‘ اور آدھا منٹ کے اندر انہوں نے اس کی ساری خوبیاں بیان کر دیں۔ اس درخت کی طرح ہی اس سے جڑے قصے بھی وقت کے ساتھ گزری کئی دہائیوں کی دین ہیں، جسے وہ لوگوں کو لگاتار سناتے رہتے ہیں۔

PHOTO • M. Palani Kumar

باغ میں اپنے سب سے پیارے دوست، ۲۰۰ سال پرانے کٹہل کے درخت، آئیرم کاچی کے ساتھ ایس راما سامی

پاری نے کٹہل کے کاشتکاروں اور تاجروں سے ملنے کے لیے، پہلی بار اپریل ۲۰۲۲ کے وسط میں تمل ناڈو کے کڈلور ضلع کے پنروتی بلاک کا دورہ کیا۔ ریاست کے اس قصبہ میں کٹہل کی پیداوار سب سے زیادہ ہوتی ہے – خاص کر فروری سے جولائی کے دوران کٹہل کے موسم میں، دکانوں میں کئی ٹن کٹہل فروخت کیے جاتے ہیں۔ پھل بیچنے والے فٹ پاتھوں اور ٹریفک سگنلوں پر کٹے ہوئے پھل اور پھلیاں بیچتے ہیں۔ پنروتی شہر میں ’منڈی‘ کے طور پر کام کرنے والی تقریباً دو درجن دکانوں سے یہاں ’تھوک‘ بزنس ہوتا ہے۔ ہر روز آس پاس کے گاؤوں سے کٹہل سے لدے کئی ٹرک آتے ہیں، جنہیں چنئی، مدورئی، سلیم سے لے کر آندھرا پردیش تک اور مہاراشٹر کے ممبئی شہر کے کے تھوک کاروباریوں کو بیچا جاتا ہے۔

اسی طرح کی ایک منڈی میں، جس کے مالک آر وجے کمار ہیں، میں راما سامی اور ان کے پشتینی درخت کے بارے میں سنا۔ وجے کمار نے میرے لیے سڑک کے کنارے کی ایک دکان سے چائے خریدی اور مجھے یقین دلایا، ’’جا کر ان سے ملئے، وہ آپ کو سب بتائیں گے،‘‘ اور انہوں نے پاس کی بنچ پر بیٹھے ایک بزرگ کسان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’’اور انہیں اپنے ساتھ لے جائیے۔‘‘

مالیگم پٹّو وہاں سے تقریباً پانچ کلومیٹر دور تھا۔ اُس کسان نے ہمیں راستہ دکھایا اور ہم اپنی کار سے ۱۰ منٹ میں وہاں پہنچ گئے۔ ایک بہت بڑے گھر کے سامنے اشارہ کرتے ہوئے، جہاں سیاہ و سفید رنگ کا ایک خوبصورت کتا بندھا ہوا تھا، انہوں نے بتایا، ’’دائیں مڑیں، اُس سڑک سے نیچے جائیں اور وہاں رکیں، وہی راما سامی کا گھر ہے۔‘‘ برآمدے میں ایک جھولا، کچھ کرسیاں، خوبصورت نقاشی دار دروازہ، اور زرعی پیداواروں سے بھری جوٹ کی کئی بوریاں تھیں۔ دیواریں تصویروں، کیلنڈروں اور کئی فن پاروں سے سجی ہوئی تھیں۔

راما سامی کو معلوم نہیں تھا کہ ہم ان کے یہاں آنے والے ہیں، لیکن انہوں نے ہمیں اندر بلا کر بیٹھایا اور کتابیں اور تصویریں لانے کے لیے وہ اندر چلے گئے۔ ایک نامور ماہر ہونے کے ناطے، انہیں ہمارے جیسے متجسس مہمانوں کی عادت تھی۔ اور اپریل مہینے کی ایک گرم صبح میں جب ہم ان سے ملے، تو وہ ایک پلاسٹک کی کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے بغل میں دو عورتیں کرُواڈو (سوکھی مچھلی) بیچ رہی تھیں۔ اس دن انہوں نے مجھے کٹہل کے بارے میں کچھ معلومات فراہم کیں۔

*****

PHOTO • Aparna Karthikeyan
PHOTO • M. Palani Kumar

راما سامی، کڈلور ضلع کے پنروتی بلاک کے مالیگم پٹّو گاؤں میں دنیا کے سب سے بڑے پھلوں میں سے ایک، کٹہل کی کھیتی کرتے ہیں۔ یہاں کے سب سے پرانے درخت، آئیرم کاچی کو ان کے اسلاف نے باغ میں پانچ نسل قبل لگایا تھا

دنیا کے سب سے بڑے پھلوں میں سے ایک، ’جیک‘ (جیک فروٹ، یعنی کٹہل کو عام بول چال میں جیک کہا جاتا ہے) جنوبی ہند کے مغربی گھاٹ کی مقامی فصل ہے۔ یہ نام پرتگالی لفظ ’جیکا‘ سے آیا ہے، جو بدلے میں ملیالم لفظ چکّا سے لیا گیا تھا۔ اس کا سائنسی نام تھوڑا مشکل ہے: آرٹو کارپس ہیٹروفیلس ۔

لیکن اس نوک دار، ہرے، عجیب سے دکھائی دینے والے پھل کو جب دنیا نہیں پہچانتی تھی، تب تمل شاعروں نے اس پر نظمیں لکھیں۔ پلا پڑم کہے جانے والے اس بڑے پھل کا ذکر ۲۰۰۰ سال پہلے لکھی گئی عشقیہ نظموں میں خوب ملتا ہے۔

تمہاری ان خوبصورت آنکھوں کو آنسوؤں سے بھر کر
وہ اپنے مشہور وطن کو لوٹ گیا
جہاں پہاڑیاں کٹہل کے درختوں سے گھری ہیں
اور اس کے خوشبودار پکے ہوئے پھل
شہد کے چھتوں کو پھاڑ کر
پہاڑی دراڑوں سے نیچے گرتے ہیں

ائین کُرونور۔۲۱۴ ، سنگم شاعری

ایک دوسری نظم میں، جسے ترجمہ نگار سینتل ناتھن نے ’’کپیلار کی شاندار نظم‘‘ کہا ہے، ایک بڑے اور پکے کٹہل کا موازنہ عشق سے کیا گیا ہے۔

ایک پتلی سی ٹہنی پر لٹکے بڑے سے پھل کی طرح
اس کی زندگی چاہے جتنی مشکل ہو، لیکن اس کے اندر بھرپور عشق ہے!

کُرون توکئی ، سنگم شاعری

کے ٹی اچایا اپنی کتاب ’انڈین فوڈ: اے ہسٹوریکل کمپینئن‘ میں بتاتے ہیں کہ تقریباً ۴۰۰ قبل مسیح کے بودھ اور جین ادب میں کیلا، انگور اور لیموں جیسے پھلوں کے علاوہ کٹہل کا بھی ذکر ہے۔

PHOTO • M. Palani Kumar

باغ کے اندر، ناچتے سایوں کے درمیان، راماسامی رک جاتے ہیں اور ان پرانے درختوں سے آگے کی دنیا کی طرف دیکھتے ہیں

چلئے ۱۶ویں صدی کی بات کرتے ہیں۔ اچایا لکھتے ہیں کہ اُس دوران بادشاہ بابر (ڈائری لکھنے کے لیے مشہور) نے ’’ہندوستان کے پھلوں‘‘ کا ہوبہو بیان کیا تھا۔ ان کی تحریر سے یہ پتہ چلتا ہے کہ انہیں کٹہل کچھ خاص پسند نہیں تھا، کیوں کہ انہوں نے اس کا موازنہ بھیڑ کے پیٹ کو بھر کر بنائے گئے ایک پکوان گیپا [ہیگس، جو گلگلے یا پُڈنگ جیسا ہوتا ہے] سے کیا ہے اور اسے ’’بیمار کر دینے کی حد تک میٹھا‘‘ کہا ہے۔

تمل ناڈو میں یہ آج بھی ایک مقبول پھل ہے۔ تمل زبان میں پہیلیوں اور کہاوتوں میں مُکّنی ، یعنی تمل ریاست کے تین پھلوں: ما، پلا، واڑئی (آم، کٹہل، کیلا) کی مٹھاس ہے۔ ایرا پنچ ورنم نے ’پلا مرم: دی کنگ آف فروٹس‘ ، جو کٹہل کے بارے میں لکھی گئی ایک قابل ذکر کتاب ہے، میں کئی دیگر کہاوتوں کا ذکر کیا ہے۔ ایک خوبصورت لائن میں کہا گیا ہے:

مُلّوکُلّے مُتّوکُلئی یم، ادھی اینّ؟ پلا پڑم۔
(ایک ایسی فصل جو کانٹوں میں کھلے موتیوں کی طرح ہے۔ وہ کیا ہے؟ کٹہل۔)

حال ہی میں اس پھل پر پریس میں بھی خوب بحث ہوئی ہے۔ ’انٹرنیشنل جرنل آف فوڈ سائنس‘ میں ۲۰۱۹ میں شائع ایک تحقیقی مقالہ میں آر اے ایس این رانا سنگھے کہتے ہیں، ’’روایتی دواؤں میں کٹہل کے درخت کے کئی حصوں، جس میں اس کا پھل، پتّیاں اور چھال شامل ہیں، کا کافی زیادہ استعمال کیا جاتا ہے، کیوں کہ اس میں کینسر مزاحم، بیکٹریا اور فنگل انفیکشن کو روکنے والے، درد مزاحم اور ہائپوگلائسیمک اثرات (بلڈ شوگر کی روک تھام کے قابل) ہوتے ہیں۔‘‘ اس کے باوجود، اس کی ’’کاروباری پیمانے پر پروسیسنگ اُن علاقوں میں کافی محدود ہے جہاں اسے اُگایا جاتا ہے۔‘‘

*****

PHOTO • M. Palani Kumar
PHOTO • M. Palani Kumar

بائیں: راماسامی کے باغ میں لگا کٹہل کا ایک چھوٹا درخت۔ دائیں: کانٹے دار سبز رنگ کے پھل درختوں سے لٹکنے لگتے ہیں اور کٹہل کے سیزن میں جلد ہی پوری ٹہنی کو ڈھانپ دیتے ہیں

تمل ناڈو کے کڈلور ضلع کا پنروتی بلاک کٹہل کی راجدھانی ہے۔ اور کٹہل اور اس کے جغرافیہ کے بارے میں راماسامی کی جانکاری کافی گہری ہے۔ یعنی جہاں پانی کی سطح زمین سے ۵۰ فٹ نیچے رہتی ہے۔ اگر یہ بارش کے ساتھ اُگتا ہے، تو اس کی موسلا جڑیں سڑ جاتی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں، ’’کاجو اور آم کے درخت پانی کو جذب کر سکتے ہیں، لیکن کٹہل کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔ اگر سیلاب آ جائے تو سمجھو کہ پیڑ مر جائے گا۔‘‘

ان کے اندازے کے مطابق، ان کے گاؤں مالیگم پٹّو سے تقریباً ۲۰ کلومیٹر کے دائرے میں آنے والے زرعی علاقے کے ایک چوتھائی حصے پر کٹہل کی کھیتی کی جاتی ہے۔ تمل ناڈو حکومت کے ۲۳-۲۰۲۲ کے ایگریکلچرل پالیسی نوٹ کے مطابق، ریاست میں ۳۱۸۰ ہیکٹیئر رقبہ میں کٹہل اُگایا جاتا ہے، جن میں سے ۷۱۸ ہیکٹیئر رقبہ کڈلور ضلع میں آتا ہے۔

سال ۲۱-۲۰۲۰، ہندوستان کی ۱۹۱۰۰۰ ہیکٹیئر زمین پر کٹہل کی کھیتی کی گئی تھی۔ کڈلور بھلے ہی ایک چھوٹا سا ضلع ہو، لیکن اس علاقے کے اندر کٹہل ایک اہم فصل ہے۔ اور تمل ناڈو میں پیدا ہونے والے ہر چار میں سے ایک کٹہل کی پیداوار یہیں ہوتی ہے۔

ایک پلامرم کی اقتصادی قیمت کیا ہے؟ راماسامی اس کے بارے میں کچھ جانکاریاں دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ۱۵ یا ۲۰ سال پرانے ایک درخت کے لیے پٹّہ کی رقم تقریباً ۱۲۵۰۰ روپے سالانہ ہے۔ ’’پانچ سال پرانے درختوں کو یہ قیمت نہیں مل سکتی۔ اس سے صرف تین سے چار پھل ہی ہوں گے۔ جب کہ ۴۰ سال پرانے درخت میں ۵۰ سے زیادہ پھل لگتے ہیں۔

جیسے جیسے درخت کی عمر بڑھتی ہے ویسے ویسے اس کی پیداوار بڑھتی جاتی ہے۔

ہر ایک درخت کے حساب سے ہونے والی کمائی کا تخمینہ لگانا تھوڑا مشکل ہے۔ غیر یقینی بھی۔ اُس دن پنروتی میں کسانوں کی ایک ٹولی نے اندازہ لگاتے ہوئے بتایا کہ ہر سو پیڑ کے ساتھ وہ ۲ سے ڈھائی لاکھ روپے کما لیتے ہیں۔ اس میں سے ۵۰ سے ۷۰ ہزار روپے کھاد، حشرہ کش، مزدوری، نقل و حمل اور کمیشن کی رقم میں لگ جاتے ہیں۔

راماسامی کے ایک البم میں رکھی مالیگم پٹّو کے ۲۰۰ سالہ آئیرم کاچی کی تصویریں

پھر بھی، کچھ بھی متعین نہیں ہے۔ ایک درخت میں کتنے پھل لگیں گے، ایک پھل کی قیمت کیا ہوگی اور ایک ٹن پیداوار کتنے میں فروخت ہوگی، ان سب کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ لیکن، ایک پھل ۱۵۰ سے ۵۰۰ روپے کے درمیان فروخت ہوتا ہے، جو پیداوار کے موسم پر منحصر ہے۔ اس کے علاوہ، اس کے سائز پر بھی بہت کچھ منحصر ہے۔ عام طور پر (پنروتی میں) ایک پھل کا وزن ۸ سے ۱۵ کلو ہوتا ہے، جب کہ کچھ ۵۰ کلو کے ہوتے ہیں۔ کسی کسی کا وزن ۸۰ کلو تک ہوتا ہے۔ اپریل ۲۰۲۲ میں ایک ٹن کٹہل کی قیمت ۳۰ ہزار روپے تھی۔ اور عام طور پر (ہمیشہ نہیں) ایک ٹن میں سو پھل شامل ہوتے ہیں۔

اس کی لکڑیاں بھی کافی قیمتی ہیں۔ راماسامی بتاتے ہیں کہ ۴۰ سال پرانے ایک درخت کی ’’لکڑیاں بیچنے پر ۴۰ ہزار روپے کی کمائی ہوتی ہے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ کٹہل کی لکڑیاں سب سے اچھی ہوتی ہیں۔ یہ مضبوط ہوتی ہیں اور اس میں پانی کی ضرورت بھی کم ہے۔ یہاں تک کہ یہ ’’ساگون سے بھی بہتر ہے۔‘‘ اچھی لکڑیوں کے لیے ایک درخت کا چھ فٹ اونچا، موٹا (وہ اپنے ہاتھوں کو دو فٹ کی دوری پر پھیلا کر دکھاتے ہیں) ہونا چاہیے اور یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ اس میں کوئی کمی نہ ہو۔ اگر اس کی شاخیں اچھی ہوں، تو اس سے کھڑکیاں بنائی جا سکتی ہیں۔ راماسامی اپنے پیچھے ایک کھڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’جیسے کہ یہ۔‘‘ اس سے اس کی قیمت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

ان کے آباء و اجداد نے جو گھر بنوایا تھا، اس میں مرکزی دروازے کی چوکھٹ کٹہل کے درخت کی لکڑی سے بنی تھی۔ ہمارے ٹھیک پیچھے کا نقاشی دار دروازہ ان کے کھیت سے نکلی ساگون کی لکڑیوں سے بنا ہے۔ یہ ان کا نیا گھر ہے، جہاں وہ اب رہتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں، ’’پرانا دروازہ اندر کی طرف ہے۔‘‘ تھوڑی دیر بعد انہوں نے دو موٹے دروازے دکھائے، جو وقت کے ساتھ کمزور پڑ گئے تھے، ان میں کھرونچ لگی ہوئی تھی، اس کے کچھ حصے نکیلے ہو گئے تھے۔ اور انہیں گھر کے پچھلے حصے میں رکھا گیا تھا۔ وہ تھوڑے فخریہ انداز میں بتاتے ہیں، ’’یہ ۱۷۵ سال پرانے ہیں۔‘‘

اس کے بعد، انہوں نے مجھے ایک پرانا کنجیرا (کٹہل کی لکڑیوں سے بنا ایک ساز) دکھایا۔ اس کے کناروں پر جھانجھ لگی ہوئی تھی، جس میں سیلنڈر کے سائز والے منہ کے ایک طرف اوڈُمبو تول (گوہ چھپکلی کی جلد) لگی ہوتی ہے۔ کٹہل کی لکڑیوں سے مردنگ اور وینا جیسے دیگر آلاتِ موسیقی بھی بنائے جاتے ہیں۔ راماسامی اپنے ہاتھوں میں کنجیرا لیتے ہوئے کہتے ہیں، ’’یہ پرانا والا آلہ موسیقی میرے والد کا ہے۔‘‘ جھانجھ سے دھیمی اور خوبصورت آواز نکلتی ہے۔

درختوں اور فصلوں کے بارے میں گہرا علم رکھنے کے علاوہ راماسامی ایک سکہ شناس بھی ہیں۔ وہ سکّے جمع کرتے ہیں۔ وہ اپنے ساتھ لائی ان کتابوں کو دکھاتے ہیں جن میں انہیں سال اور نایابی کے مطابق مرتب کیا گیا ہے۔ انہوں نے اُن سکوں کو دکھایا جسے خریدنے کے لیے لوگ انہیں ۶۵ ہزار روپے سے ۸۵ ہزار روپے تک دینے کو تیار تھے۔ وہ مسکرا کر کہتے ہیں، ’’لیکن میں نے انہیں بیچا نہیں۔‘‘ جب میں ان کے سکوں کی تعریف کر رہی تھی، تبھی ان کی بیوی نے مجھے ناشتہ کے لیے پوچھا۔ پلیٹ میں نمکین کاجو اور ایلنڈ پڑم (ہندوستانی بیر) پیش کیا۔ وہ کافی لذیذ، نمکین اور کھٹے تھے۔ ملاقات کی بقیہ تمام چیزوں کی طرح ناشتہ بھی اطمینان بخش تھا۔

*****

PHOTO • M. Palani Kumar

کٹہل توڑنا ایک مشکل اور پیچیدہ کام ہے۔ ایک بڑے پھل تک پہنچنے کے لیے زرعی مزدور پیڑ پر چڑھ رہا ہے

PHOTO • M. Palani Kumar

جب پھل تیار ہو جاتے ہیں اور اونچائی پر ہوتے ہیں، تو انہیں کاٹ کر رسی کے سہارے دھیرے دھیرے نیچے اتارا جاتا ہے

انہوں نے ایک شناسا کو آئیرم کاچی کو پٹّہ پر دیا ہے۔ وہ ہنستے ہوئے کہتے ہیں، ’’لیکن ہم فصل کا کچھ حصہ اپنے پاس رکھ لیں تو انہیں کوئی شکایت نہیں ہوگی۔ یا چاہیں تو پورا ہی رکھ سکتے ہیں۔ حالانکہ، اسے آئیرم کاچی (ایک ہزار پھلوں والا) کہا جاتا ہے، لیکن اس کی سالانہ فصل اس سے ایک تہائی اور پانچویں حصہ کے درمیان ہوتی ہے۔ لیکن یہ مشہور درخت ہے اور اس کے پھلوں کی مانگ بہت زیادہ ہے۔ اس کے کسی بھی ایک درمیانی سائز کے پھل میں تقریباً دو سو پھلیاں (کوآ) ہوتی ہیں۔ راماسامی بڑے مزے سے بتاتے ہیں، ’’اس کے پھل کھانے میں بہت لذیذ اور پکانے کے لیے سب سے بہتر ہیں۔‘‘

عام طور پر، ایک درخت جتنا پرانا ہوتا ہے، اس کی شاخیں اتنی ہی موٹی اور اس میں اتنے ہی زیادہ پھل لگتے ہیں۔ راماسامی کہتے ہیں، ’’درختوں کی دیکھ بھال کرنے والے یہ جانتے ہیں کہ بڑے پھل کے لیے اس کی شاخوں پر زیادہ سے زیادہ کتنے پھل ہونے چاہئیں۔ اگر کسی نئے درخت پر بہت زیادہ پھل لگے ہیں، تو وہ سارے چھوٹے ہی رہیں گے۔‘‘ اور وہ ان کا سائز بتانے کے لیے اپنے ہاتھوں کو ایسے پاس لاتے ہیں، گویا انہوں نے کوئی ناریل پکڑا ہو۔ عام طور پر کٹہل اُگانے کے لیے کسان دواؤں کا چھڑکاؤ کرتے ہیں۔ راماسامی بتاتے ہیں کہ ایسا ناممکن تو نہیں ہے، لیکن سو فیصد آرگینک طریقے سے فصل تیار کرنا بہت مشکل ہے۔

وہ ہنستے ہوئے کہتے ہیں، ’’اگر ہم ایک بڑے سے پیڑ پر بہت تھوڑے سے پھل اُگنے کے لیے چھوڑیں، تو ہر کٹہل بہت بڑا اور بھاری ہوگا۔ لیکن اس میں خطرہ بھی بہت زیادہ ہے۔ اس پر کیڑوں کا حملہ ہو سکتا ہے، بارش سے وہ خراب ہو سکتا ہے یا طوفان میں گر سکتا ہے۔ ہم بہت لالچی نہیں ہو سکتے۔‘‘

وہ کٹہل پر مبنی ایک کتاب کو کھول کر اس میں چھپی تصویریں دکھاتے ہیں، ’’دیکھئے، کیسے بڑے پھلوں کی حفاظت کی جاتی ہے… پھلوں کو ٹکائے رکھنے کے لیے ٹوکریاں بنائی جاتی ہیں اور انہیں رسی کی مدد سے شاخوں سے باندھ دیا جاتا ہے۔ اس طرح، پھل کو ٹکے رہنے میں مدد ملتی ہے اور وہ گرتے نہیں ہیں۔ جب انہیں کاٹا جاتا ہے، تو اسے رسی کی مدد سے دھیرے سے نیچے لایا جاتا ہے۔ اور اس طرح سے اسے اٹھایا جاتا ہے۔‘‘ ایک تصویر میں دو آدمی ایک بہت بڑے سے کٹہل کو اٹھائے ہوئے تھے، جو کسی آدمی جتنا لمبا اور چوڑا تھا۔ راماسامی یہ دیکھنے کے لیے روز اپنے درختوں کا جائزہ لیتے ہیں کہ کہیں کسی پھل کی ٹہنی کمزور تو نہیں ہو گئی ہے۔ ’’ہم فوراً ہی رسی کی ٹوکری تیار کرکے اسے پھل کے نیچے باندھ دیتے ہیں۔‘‘

کئی بار بہت دیکھ بھال کے باوجود پھل ٹوٹ کر گر جاتے ہیں۔ انہیں اکٹھا کرکے ان سے مویشیوں کا چارہ تیار کیا جاتا ہے۔ ’’دیکھا اُن کٹہلوں کو؟ وہ نیچے گر گئے اور اب انہیں بیچا نہیں جا سکتا۔ میری گائیں اور بکریاں اسے مزے سے کھائیں گی۔‘‘ کرُواڈو بیچنے والی عورتوں نے اپنی کچھ مچھلیاں فروخت کر لی ہیں۔ لوہے کے ترازو پر وزن کی گئی مچھلیوں کو باورچی خانہ میں لے جایا گیا۔ انہیں کھانے کے لیے ڈوسا دیا گیا۔ وہ کھاتے ہوئے ہماری باتیں سن رہی تھیں اور بیچ بیچ میں بات چیت میں حصہ لے رہی تھیں۔ انہوں نے راماسامی سے کہا، ’’ہمیں ایک کٹہل دے دیجئے۔ ہمارے بچے کھانا چاہتے ہیں۔‘‘ راماسامی نے جواب دیا، ’’اگلے مہینے آ کر لے جانا۔‘‘

PHOTO • Aparna Karthikeyan

راماسامی کے باغ میں داخل ہونے والے مقام پر، ایک پڑوسی کسان اپنی پیداوار کو ایک قطار میں رکھتے ہیں

راماسامی بتاتے ہیں کہ ایک بار جب پھلوں کو توڑ لیا جاتا ہے، تو انہیں منڈی میں کمیشن ایجنٹ کے پاس بھیجا جاتا ہے۔ ’’کسی گاہک کے آنے پر وہ ہمیں فون کرتے ہیں اور ہم سے قیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ ہماری رضامندی حاصل کرنے کے بعد وہ اسے بیچ کر ہمیں پیسے دیتے ہیں۔ ہر ایک ہزار روپے کی فروخت پر وہ دونوں سے (ان سے اور گاہکوں سے) ۵۰ یا ۱۰۰ روپے لیتے ہیں۔‘‘ راماسامی خوشی خوشی اپنی آمدنی کا ۵ سے ۱۰ فیصد حصہ انہیں دینے کو تیار رہتے ہیں، کیوں کہ اس سے ’’کسان بہت سارا سر درد جھیلنے سے بچ جاتے ہیں۔ ہمیں کسی گاہک کے آنے تک وہاں کھڑے ہو کر انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ کبھی، اس میں ایک دن سے زیادہ کا وقت لگ جاتا ہے۔ ہمارے پاس دوسرے کام بھی تو ہیں نا؟ ہم سارا وقت پنروتی میں ہی نہیں گزار سکتے!‘‘

راماسامی بتاتے ہیں کہ دو دہائی پہلے تک ضلع میں دوسری فصلیں بھی لگائی جاتی تھیں۔ ’’ہم نے بہت ساری ٹیپی اوکا (کساوا) اور مونگ پھلی کی فصلیں اگائیں۔ جیسے جیسے بہت ساری کاجو کی فیکٹریاں کھڑی ہوئیں، مزدوروں کی دستیابی کم ہونے لگی۔ اس کی وجہ سے بہت سے کسان کٹہل کی کھیتی کرنے لگے۔ ’’کٹہل کی کھیتی میں مزدوروں کو بہت کم دنوں کے لیے کام کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔‘‘ انہوں نے سوکھی مچھلیاں بیچنے والی دو عورتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’’اور اس وجہ سے یہاں کام کرنے کے لیے یہ دونوں بہت دور سے آتی ہیں۔ یہ دونوں دوسرے گاؤں سے ہیں۔‘‘

حالانکہ، وہ بتاتے ہیں کہ اب کسان کٹہل کی کھیتی کو بھی چھوڑنے لگے ہیں۔ راماسامی کی پانچ ایکڑ زمین پر تقریباً ۱۵۰ درخت لگے ہوئے ہیں۔ یہی زمین کاجو، آم اور املی کے درختوں سے بھی گھری ہوئی ہے۔ وہ بتاتے ہیں، ’’ہم نے کٹہل اور کاجو کے درختوں کو پٹّہ پر دے رکھا ہے۔ ہم آم اور املی کی کٹائی کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے پلا مرم یعنی کٹہل کے درختوں کی تعداد کو کم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ’’اس کی وجہ طوفان ہے۔ تھانے سائیکلون کے دوران، میرے تقریباً دو سو درخت گر گئے۔ ہمیں انہیں ہٹانا پڑا…زیادہ تر اس علاقے میں گرے تھے۔ اب ہم کٹہل کی جگہ کاجو کے درخت لگا رہے ہیں۔‘‘

اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ کاجو اور دوسری فصلیں طوفان میں خراب نہیں ہوں گی۔ وہ کہتے ہیں، ’’لیکن ان سے پہلے ہی سال سے فصلیں تیار ہونے لگتی ہیں۔ کاجو کی بہت کم دیکھ بھال کرنی پڑتی ہے۔ کڈلور ضلع میں بہت طوفان آتے ہیں، اور ہر دس سال میں ہم نے ایک بڑا طوفان دیکھا ہے۔‘‘ وہ اپنا سر ہلاتے ہوئے اور ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اپنے نقصان کے بارے میں بتاتے ہیں، ’’کٹہل کے جو درخت ۱۵ سال سے زیادہ پرانے ہیں، ان میں سب سے زیادہ پھل لگتے ہیں، اور وہی طوفان میں سب سے پہلے گرتے ہیں۔ ہمیں بہت خراب لگتا ہے۔‘‘

PHOTO • Aparna Karthikeyan
PHOTO • Aparna Karthikeyan

بائیں: گزشتہ برسوں میں راماسامی نے کٹہل پر مبنی ادب کافی جمع کیا ہے، جس میں کچھ نایاب کتابیں بھی شامل ہیں۔ دائیں: سکہ شناس ہونے کے ناطے راماسامی کے پاس سکوں کا بھی ایک شاندار کلکشن موجود ہے

کڈلور کی ڈسٹرکٹ ڈائیگنوسٹک رپورٹ سے ہمیں طوفان آنے کی وجہ معلوم ہوتی ہے، جس کے مطابق: ’’لمبا ساحلی علاقہ ہونے کے سبب یہ ضلع سمندری طوفانوں اور موسلا دھار بارش کے لحاظ سے انتہائی حساس ہے، جس کی وجہ سے سیلاب کی حالت پیدا ہو سکتی ہے۔‘‘

سال ۲۰۱۲ کی اخباری رپورٹوں سے ہمیں تھانے سائیکلون سے ہوئی تباہی کے بارے میں پتہ چلتا ہے۔ اس طوفان نے ۱۱ دسمبر، ۲۰۱۱ کو کڈلور ضلع میں کافی تباہی مچائی۔ بزنس لائن کے مطابق، ’’طوفان کے سبب پورے ضلع میں کٹہل، آم، کیلے، ناریل، کاجو اور دیگر فصلوں کے دو کروڑ سے بھی زیادہ پیڑ گر گئے۔‘‘ راماسامی بتاتے ہیں کہ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ جنہیں لکڑیاں چاہیے وہ آ کر لے جائیں۔ ’’ہم پیسہ نہیں چاہتے تھے؛ ہم گرے ہوئے درختوں کو دیکھنا برداشت نہیں کر پا رہے تھے…بہت سارے لوگ آئے اور اپنے گھر کی مرمت کے لیے لکڑیاں اٹھا کر لے گئے۔‘‘

*****

راماسامی کے گھر سے کٹہل کا باغ کچھ ہی دور ہے۔ پڑوس میں ایک کسان پھلوں کو توڑ کر ایک طرف جمع کر رہا تھا۔ انہیں دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے بچوں کی کھلونے والی ٹرین کے چھوٹے چھوٹے ڈبے رکھے ہوں۔ انہیں بازار کے لیے اٹھانے والے ٹرکوں کے انتظار میں ایک کونے میں قطار میں سجا کر رکھا گیا تھا۔ جیسے ہی ہم باغ میں داخل ہوئے، تو ایسا لگا کہ درجہ حرارت کچھ کم ہو گیا ہے۔ ہوا تھوڑی ٹھنڈی محسوس ہونے لگی تھی۔

راماسامی پیڑوں، پودوں اور پھلوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے لگاتار چلتے جا رہے تھے۔ ان کے باغ تک کی سیر تھوڑی سبق آموز، لیکن کافی حد تک ایک پکنک جیسی تھی۔ انہوں نے ہمیں بہت ساری چیزیں کھانے کو دیں: کاجو کے پھل، جو موٹے اور رسیلے ہوتے ہیں؛ شہد بھرے سیب، جو چینی سے بھرے ہوتے ہیں؛ اور کھٹی میٹھی املی کا گودا، ایک ساتھ تینوں کا ذائقہ۔

اس کے بعد انہوں نے ہمیں سونگھنے کے لیے تیج پات توڑ کر دیا اور پوچھا کہ کیا ہم پانی سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں؟ جب تک ہم جواب دیتے، وہ جلدی سے کھیت کے ایک کونے میں گئے اور موٹر چلا دیا۔ ایک موٹے پائپ سے پانی نکلنے لگا، جسے دیکھ کر لگا جیسے بھری دوپہری میں ہیرے چمک رہے ہوں۔ ہم اپنی ہتھیلیوں سے بورویل کا پانی پینے لگے۔ پانی میٹھا تو نہیں، لیکن کافی ذائقہ دار تھا، شہر کے نالوں سے آنے والے کلورین ملے سادے پانی سے بالکل الگ۔ ایک بڑی سی مسکان کے ساتھ انہوں نے موٹر بند کر دی۔ ہماری سیر جاری تھی۔

PHOTO • M. Palani Kumar

مالیگم پٹّو گاؤں میں واقع اپنے گھر پر راماسامی

ہم پھر سے آئیرم کاچی کی طرف گئے، جو ضلع کا سب سے پرانا درخت ہے۔ اس کا سایہ حیران کن طور پر کافی بڑا اور گھنا تھا۔ حالانکہ، لکڑیوں سے اس کی عمر کا پتہ چل رہا تھا۔ یہ یہاں سے اینٹھا ہوا، وہاں سے کھوکھلا ہے، لیکن اس کی نچلی سطح کئی مہینوں تک چاروں طرف کٹہل سے گھری ہوتی ہے، جو اس کی شاخوں پر لگتے ہیں۔ راماسامی نے بتایا کہ ’’اگلے مہینے یہ بہت شاندار دکھائی دے گا۔‘‘

باغ میں کئی بڑے درخت تھے۔ وہ ہمیں دوسرے کونے کی طرف لے گئے اور اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’’وہاں ۴۳ فیصد گلوکوز والے کٹہل لگے ہیں۔‘‘ زمین پر سایے ناچ رہے تھے، شاخیں ایک دوسرے سے رگڑ کھا رہی تھیں اور پرندے چہچہا رہے تھے۔ وہاں جا کر کسی درخت کے نیچے لیٹ کر آس پاس کے نظارہ کو دیکھنے کا خیال گہراتا جا رہا تھا، لیکن راماسامی اب تک مختلف قسموں کے بارے میں بتانے لگے تھے اور یہ سب کافی دلچسپ تھا۔ آم کے بالکل برعکس، جس میں نیلم اور بنگلورہ جیسی قسموں کے ذائقے ایک دم الگ ہوتے ہیں اور ان کی نقل کافی آسانی سے تیار کی جا سکتی ہے، کٹہل کی قسموں کی نقل تیار کرنا کافی مشکل ہے۔

انہوں نے ایک بے حد میٹھے پھل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’’مان لو، میں اس درخت کی نقل تیار کرنا چاہتا ہوں۔ اس کے لیے میں اس کے بیجوں پر منحصر نہیں رہ سکتا۔ کیوں کہ ایک پھل کے اندر بھلے ہی سو بیج ہوں، لیکن ایسا ہو سکتا ہے کہ ان میں سے ایک بھی اصل قسم جیسا نہ ہو!‘‘ وجہ؟ کراس پولینیشن۔ ایک الگ درخت کے زرگل دوسرے درخت کو زرخیز کر سکتے ہیں، اور اس کی وجہ سے قسموں میں تبدیلی آ سکتی ہے۔

وہ بتاتے ہیں، ’’ہم موسم کے سب سے پہلے یا آخری پھل کو لیتے ہیں۔ جب ہمیں پتہ ہوتا ہے کہ اس کے ۲۰۰ فٹ کے دائرے میں کسی دوسرے درخت پر کٹہل نہیں ہیں۔ اور اس کا استعمال خاص طور پر بیج اکٹھا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔‘‘ ورنہ کسان نقل تیار کرنے یا موافق خوبیوں والے پھلوں، جیسے سولئی (پھلی) کی مٹھاس اورمضبوطی کے لیے قلم کا سہارا لیتے ہیں۔

اس کے علاوہ، دوسری پیچیدگیاں بھی ہیں۔ الگ الگ وقت (۴۵ سے ۵۵ یا ۷۰ دن) پر توڑے گئے پھلوں کا ذائقہ بھی الگ الگ ہوتا ہے۔ کٹہل کی کھیتی بھلے ہی بہت زیادہ محنت طلب نہ ہو، لیکن مشکل ضرور ہے، کیوں کہ اس کے پھل بہت جلدی خراب ہو جاتے ہیں۔ راماسامی کہتے ہیں، ’’ہمیں ایک کولڈ اسٹوریج کی ضرورت ہے۔‘‘ تقریباً سبھی کسانوں اور تاجروں کی یہی مانگ ہے۔ ’’تین سے پانچ دن، اس سے زیادہ نہیں۔ اس کے بعد پھل خراب ہو جاتے ہیں۔ میں کاجو کے پھلوں کو سال بھر بعد بھی بیچ سکتا ہوں۔ لیکن یہ ہفتہ بھی نہیں ٹک سکتا!‘‘

آئیرم کاچی تو ضرور خوش ہوگا۔ آخرکار، وہ ۲۰۰ سال سے اپنی جگہ پر کھڑا ہے…

PHOTO • M. Palani Kumar

بائیں: راماسامی کے البم سے آئیرم کاچی کی ایک پرانی تصویر۔ دائیں: سال ۲۰۲۲ میں، راماسامی کے باغ میں پھلوں سے لدا وہی درخت

اس تحقیقی مطالعہ کو بنگلورو کی عظیم پریم جی یونیورسٹی کے ریسرچ فنڈنگ پروگرام ۲۰۲۰ کے تحت رقم حاصل ہوئی ہے۔

کور فوٹو: ایم پلانی کمار

مترجم: محمد قمر تبریز

Aparna Karthikeyan

Aparna Karthikeyan is an independent journalist, author and Senior Fellow, PARI. Her non-fiction book 'Nine Rupees an Hour' documents the disappearing livelihoods of Tamil Nadu. She has written five books for children. Aparna lives in Chennai with her family and dogs.

Other stories by Aparna Karthikeyan
Photographs : M. Palani Kumar

M. Palani Kumar is PARI's Staff Photographer and documents the lives of the marginalised. He was earlier a 2019 PARI Fellow. Palani was the cinematographer for ‘Kakoos’, a documentary on manual scavengers in Tamil Nadu, by filmmaker Divya Bharathi.

Other stories by M. Palani Kumar

P. Sainath is Founder Editor, People's Archive of Rural India. He has been a rural reporter for decades and is the author of 'Everybody Loves a Good Drought'.

Other stories by P. Sainath
Translator : Mohd. Qamar Tabrez

Mohd. Qamar Tabrez is the Translations Editor, Hindi/Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi.

Other stories by Mohd. Qamar Tabrez