میں نے اتنا بڑا بیل پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، اس کے باوجود چار سال کی چھوٹی بچی کُنڈاوی اُس کے ساتھ ایسے کھیل رہی تھی، جیسے وہ کتے کا کوئی پِلّا ہو۔ (آپ تصور کر سکتے ہیں، ۱۲۰۰ پاؤنڈ کے پُٹھّوں اور ہڈی والا پلّا)۔

وہ جسے ’بُلی بوائے‘ کہہ کر پکاررہی تھی، اس کی مڑی ہوئی، تیز سینگیں اور ایک بہت ہی بڑا کوبڑ (کوہان) تھا۔ تمل ناڈو کے تریپور کے قریب کوٹاپلایم گاؤں میں، پونگل (فصلی تہوار) سے پہلے والی رات کو کُنڈاوی مجھے اپنے ساتھ اس خوبصورت کنگایم بیل کے پاس گڈ نائٹ (شب بخیر) کہتے وقت لے گئی۔


01-IMG_0251-AP-Risking bulls, running from puppies.jpg

بُلّی بوائے، ۱۶ سال کا کنگایم سانڑھ


وہ اس بڑے جانور کے بالکل قریب چلی گئی اور پیار سے اسے گڈ نائٹ کہا۔ اس کے والد سیناپتی کنگایم کیٹل ریسرچ فاؤنڈیشن کے سربراہ ہیں، لہٰذا افزائش مواش کے ایک نگراں کی بیٹی کے طور پر وہ اِس بات کو اچھی طرح جانتی تھی کہ بُلی بوائے کی نسل کتنی اعلیٰ ہے۔

سولہ سال کی عمر میں اس بیل کی خوبصورتی دوبالا ہو گئی تھی، لیکن ساتھ ہی عمر نے اس کے رویے میں نرمی بھی پیدا کردی تھی۔ اب وہ کسی اجنبی کو دیکھ کر اسے ڈرانے کے لیے نہ تو زمین پر اپنے پیر پٹکتا اور نہ ہی سینگوں کو زور سے ہلاتا۔

دیسی نسل کا ہونے کی وجہ سے کنگایم کسی زمانے میں تمل ناڈو کے کونگو خطہ (ایروڈ اور کوئمبٹور کے آس پاس) میں ہر جگہ نظر آ جاتا تھا۔ لیکن، اب یہ نایاب ہو چکا ہے۔ یہاں کے زیادہ تر مویشی بدیسی ہیں۔ لیکن جرسی، ہولسٹین اور براؤن سوئس اِس گھاس پھوس، جھاڑیوں اور خشکی والے علاقے میں بری طرح سے بدیسی لگتے ہیں۔


02-IMG_0234-AP-Risking bulls, running from puppies.jpg

بڑی عمر کی وجہ سے بُلی بوائے کا کوبڑ ایک طرف جھک گیا ہے


بُلی بوائے کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا، گویا وہ اس جگہ کا مالک ہو۔ بڑی عمر کی وجہ سے اس کا کوبڑ ایک طرف جھک گیا ہے۔ وہ ایک شاندار سانڑھ ہے اور آج بھی بہت سے بچھڑے پیدا کرتا ہے، جیسا کہ کُنڈاوی کے والد کارتِکیہ شو سیناپتی نے بتایا۔ لیکن اُس رات ہم وہاں دیر تک نہیں رُکے، کیوں کہ کُنڈاوی کُتّوں کو گڈ نائٹ کہنا چاہتی تھی۔ وہی لڑکی، جو اتنے خطرناک بیل سے بالکل نہیں ڈرتی تھی، مویشی خانہ کے کُتے کے ایک چھوٹے سے پلّہ کو دیکھ کر تیزی سے بھاگی، حالانکہ وہ اس کے ساتھ کھیلنا چاہتا تھا، اسی لیے اس کا پیچھا کر رہا تھا۔ اُسے ’ڈراؤنے‘ جانور سے بچاتے وقت ہم سارے لوگ زور زور سے ہنسنے لگے۔

جنوری کی اگلی صبح کافی سرد تھی۔ میں سورج اُگنے سے بہت پہلے اس مویشی خانہ میں پہنچ گیا، جہاں پر بیل بندھے ہوئے تھے۔ وہاں صرف بلی بوائے کے سانس لینے کی آواز سنائی دے رہی تھی، جو اچھی بھی تھی، لیکن ساتھ ہی ڈراؤنی بھی۔ گائیں، جو زیادہ تر اس کے حرم کا حصہ تھیں، متحمل مزاج تھیں۔ اُن میں سے چھ کے بچھڑے تھے۔ یہ دودھ دینے والی گائیں تھیں، لیکن دنیا کی زیادہ دودھ دینے والی گایوں کے مقابلے ان کا دودھ آٹے میں نمک کی طرح تھا۔ (کنگایم گائیں اوسطاً ایک دن میں دو ہی لیٹر دودھ دیتی ہیں، جب کہ دوسری نسل کی کچھ گائیں عام طور پر ایک دن میں ۲۰ لیٹر سے بھی زیادہ دودھ دیتی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر دودھ تو بچڑھے پی جاتے ہیں اور گھریلو استعمال کے لیے تھوڑا سا ہی دودھ بچ پاتا ہے)۔


03-IMG_0266-AP-Risking bulls, running from puppies.jpg

بچھڑے کے ساتھ گائے: بچھڑے سرخ رنگ کے پیدا ہوتے ہیں، لیکن بعد میں سفید رنگ کے ہو جاتے ہیں


تمل ناڈو کے گاؤں میں فصل کے موقع پر منایا جانے والا تہوار، پونگل بہت خاص ہوتا ہے۔ یہ وہ موقع ہوتا ہے، جب کسان اپنی پیداوار کے لیے سورج دیوتا کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ وہ مٹی کے ایک برتن کے چاروں طرف گنّے اور ہلدی کے گچھے رکھتے ہیں، اور (لکڑی کی آگ پر) دودھ، الائچی اور بھونے ہوئے کاجو کے ساتھ چاول اور گڑ کو ملا کر پکاتے ہیں۔ پھر اس کو (جسے سکّرائی پونگل کہتے ہیں) پوجا میں چڑھایا جاتا ہے۔ جلتے ہوئے کافور کے ڈھیلے سے بنائے گئے دائرے میں اسے کیلے کے پتوں پر کھانے کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔


04A & 04B-AP-Risking bulls, running from puppies.jpg

کارتِکیہ کے گھر پر پونگل کی تقریب: ان کی ماں (بیچ میں) پوجا کر رہی ہیں، جب کہ کُنڈاوی دعا کر رہی ہے


دوپہر کا لذیذ کھانا کھانے کے بعد، ہم لوگ دوبارہ کھلیان کی طرف چلے گئے۔ اِس بار کُنڈاوی اُس بیل کو دیکھنا چاہتی تھی، جسے حال ہی میں خریدا گیا تھا، تاکہ مویشی خانہ میں ایک نیا خون دوڑ سکے۔ وہ ایک نوجوان وحشی جانور تھا اور اس کی آنکھوں میں وہ خاموشی نہیں تھی، جو آپ گائے یا بچھڑوں میں دیکھتے ہیں۔ انھیں اس کے سیاہ رنگ میں وحشت کا احساس ہو رہا تھا، جس کا استعمال وہ کسی بھی وقت کر سکتا تھا۔

باڑے میں دونوں ہی بیل کلاسیکی کنگایمس ہیں ۔ دونوں کے رنگ سفید ہیں اور ان کے کندھوں، پیٹھ اور کوبڑ پر سیاہ نشان ہیں۔ کنگایم بچھڑے پیدا ہونے پر تو سرخ ہوتے ہیں، لیکن بڑا ہونے پر سفید رنگ کے ہو جاتے ہیں۔ سانڑھ بننے والے بیلوں پر کالے دھبے ہو جاتے ہیں، جو کہ ان کے بڑے جسموں میں ٹسٹوسٹیرون (فوطیرون) کے پھیلنے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ (خَصّی کیے ہوئے بیل پوری طرح سفید رنگ کے ہوجاتے ہیں)۔


05-new-bull-IMG_0669-AP-Risking bulls, running from puppies.jpg

نیا بیل


مویشیوں میں کنگایم کی پہچان الگ اس لیے بھی ہوتی ہے کہ ان کی گایوں میں بھی بیلوں کی طرح ہی کوبڑ اور سینگ ہوتے ہیں۔ روایتی طور پر ان کا استعمال بیل گاڑی چلانے، کھیت جوتنے اور کنویں سے پانی کھینچنے میں بھی کیا جاتا ہے۔ حاملہ ہونے کے آخری دنوں تک ان سے یہ سب کام لیا جاتا ہے اور جب وہ بچھڑوں کو جنم دے دیتی ہیں، تو اس کے کچھ ہفتوں بعد ہی ان سے وہی سارے کام دوبارہ لینا شروع کر دیا جاتا ہے۔ کارتکیہ طنزیہ لہجے میں کہتے ہیں کہ کیا بدیسی نسل سے یہ سارے کام لیے جا سکتے ہیں۔

تمل ناڈو کے بہت سے حصوں میں آج گایوں اور بیلوں سے کھیتی کے یہ سارے کام نہیں لیے جاتے، کیوں کہ ان کی جگہ اب ٹریکٹروں نے لے لی ہے۔ لیکن پھر بھی، فصل کے اس تہوار کے اگلے دن مویشیوں کی پوجا اب بھی کی جاتی ہے۔ اس تقریب کو ’ماتو پونگل‘ کہتے ہیں (جس کا لغوی معنی ہے، گایوں کے لیے پونگل)، جو ۱۵ یا ۱۶ جنوری کو منائی جاتی ہے۔ اس موقع پر مویشیوں کو نہلایا جاتا ہے، ان کے سینگوں کو چمکدار رنگوں سے رنگا جاتا ہے اور ان کی پیشانیوں پر صندل اور کُمکُم کے پیسٹ لگائے جاتے ہیں۔ شکریہ ادا کرنے کی تقریب کی طرح، انھیں کھانے میں سکّرائی پونگل اور گنّے دیے جاتے ہیں۔


06-IMG_0627-AP-Risking bulls, running from puppies.jpg

بُلّی بوائے کو گھمانے لے جایا جا رہا ہے


گایوں کو اب دودھ کے لیے پالا جا رہا ہے۔ لیکن کنگایمس، جو کم بچے پیدا کرتی ہیں، ان کی جگہ پر لوگ اب ایسی نسل کی گایوں کو پالنے لگتے ہیں، جو علاقائی موسم، نباتات کے موافق خود کو ڈھال سکیں اور اُن بیماریوں سے لڑ سکے، جو ان کی جان لے سکتی ہیں۔ بدیسی نسل کی گائیں مہنگے چارے کھاتی ہیں، انھیں اینٹی بایوٹکس اور ڈاکٹروں کے ذریعہ بار بار دیکھنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ کئی جگہ مویشی خانوں میں انھیں تپتے ہوئے سورج کا مقابلہ کرنے کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ اس کے باوجود کچھ کاشت کار انھیں پالنے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے لیے انھیں مویشی خانے بھی نئے سرے سے تیار کرنے پڑتے ہیں۔ وہ یہ سارا خرچ برداشت کرنے کو اس لیے تیار ہیں، کیوں کہ چھوٹی مدت کے لیے دودھ سے ہونے والا منافع انھیں طویل مدتی خسارے سے بچاتا ہے، جو کہ اِس نسل کے خاتمہ سے انھیں ہونے والا ہے۔

اُس دن دیر شام کو ہم نے اُس بیل کو دیکھا، جسے ٹہلانے کے لیے باہر لے جایا جا رہا تھا۔ دو مضبوط اور کاشت کاری کے ماہر ہاتھ اس کی رسیوں کو پکڑے ہوئے تھے، اس کے باوجود ایسا لگ رہا تھا، گویا وہ بیل انھیں ٹہلانے لے جا رہا ہے۔ کارتکیہ، جو نئے بیل کو خود سے مانوس کرنے کے لیے وقت دے رہے تھے، بُلّی بوائے کی پیٹھ کو سہلا رہے تھے۔ انھوں نے تمل زبان میں ایک موقلہ کہا، جس کا معنی ہے، بیل کو پالنے کا مطلب ہے اسے آدھا کھانا دیا جائے اور آدھا سہلایا جائے۔ یہ بات انھوں نے بُلّی بوائے کو سہلاتے وقت کہی۔ میں بھی اس لحیم شحیم جانور کے پاس گیا اور اس کی گرم پیٹھ کو تھپتھپایا۔ لیکن، ایک منٹ کے بعد اس نے اپنی جلد کو ہلانا شروع کردیا، گویا کہ اس نے میرے خوف کو بھانپ لیا ہو، اور میری طرف مڑ کر دیکھنے لگا۔ اُن نرم آنکھوں میں کہیں نہ کہیں، پرانی شرارت کا ایک اشارہ چھپا ہوا تھا۔ بُلیّ بوائے کو کُنڈاوی کے پاس ہی چھوڑ دینا چاہیے، یہ سوچتے ہوئے میں آگے بڑھ گیا، اس امید کے ساتھ کہ کبھی اس مویشی خانہ کے پلّوں کے ساتھ وقت گزاروں گا۔


07-IMG_0573-AP-Risking bulls, running from puppies.jpg

بُلّی بوائے کو سہلاتے ہوئے کارتکیہ


(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)


تصویر بشکریہ: کُنڈاوی اور بیل (سب سے اوپر کی تصویر): کارتکیہ شو سیناپتی

دیگر تصویریں: اَپرنا کارتِکیئن

Aparna Karthikeyan

اپرنا کارتی کیئن ایک آزاد ملٹی میڈیا صحافی ہیں۔ وہ تمل ناڈو کے دیہی علاقوں سے ختم ہوتے ذریعہ معاش کو دستاویزی شکل دے رہی ہیں اور پیپلز آرکائیوز آف رورل انڈیا کے ساتھ بطور رضاکار کام کر رہی ہیں۔

Other stories by Aparna Karthikeyan