
SANGUR, PUNJAB
|SAT, FEB 27, 2021
کووڈ-۱۹ کے اثرات پر پاری کی کوریج
کووڈ- ۱۹ کے سبب ۲۵ مارچ سے شروع ہوئے ملک گیر لاک ڈاؤن نے لاکھوں عام ہندوستانیوں – مہاجر مزدوروں، کسانوں، گنّے کی کٹائی کرنے والوں، آدیواسیوں، دلتوں، صفائی ملازمین، تعمیراتی مقام پر کام کرنے والے مزدوروں، شہر کے فٹ پاتھوں پر رہنے والے کینسر کے مریضوں، اینٹ بھٹے پر کام کرنے والے مزدوروں، خانہ بدوش چرواہوں اور دیگر افراد کو بحران میں ڈال دیا ہے۔ ایک طرف جہاں بہت سے لوگوں کے پاس کوئی کام، آمدنی یا کھانا نہیں بچا ہے، وہیں کئی لوگ بیحد خطرناک حالات میں بھی کام کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے بارے میں ملک بھر سے پاری کی ان رپورٹوں کو پڑھیں
Author
Translator
205. یوپی میں زچہ کی صحت کے نظام کی خستہ حالی
اتر پردیش کے سیتاپور اور وارانسی ضلعے میں حاملہ ماؤں کو خون کی کمی، کم غذائیت اور ناکافی حفظان صحت کا خطرہ لاحق ہے۔ وبائی مرض کے نتیجے میں ان خطرات میں مزید اضافہ ہوا ہے
204. کھیری: بہتر علاج کیلئے نیپال جانا پڑتا ہے
ہندوستان اور نیپال کے درمیان سرحد کھلی ہونے سے دونوں ممالک کے شہری ایک دوسرے کے علاقوں میں آزادی سے آمد و رفت کرتے ہیں۔ اس پالیسی کی وجہ سے یوپی کے کھیری ضلع کے لوگوں کو سستے اور بہتر علاج کے لیے اُس پار جانے میں کافی مدد ملی ہے
203. وارانسی: کووڈ متاثرین کو سرکار سے معاوضہ تک نہیں ملا
شانتی دیوی کے گھر والوں کو یوپی حکومت کی طرف سے موت کے بعد ملنے والا اضافہ اس لیے نہیں مل رہا ہے، کیوں کہ ان کے پاس نہ تو ڈیتھ سرٹیفکیٹ ہے، نہ کووڈ کی جانچ کا نتیجہ اور نہ ہی اسپتال میں داخل ہونے کا کوئی ثبوت ہے۔ لیکن وارانسی ضلع میں رہنے والی ان کی فیملی کو اس وقت پیسوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہے
202. یوپی: کووڈ کے دوران ہمیں اسپتال میں ایک ’بیڈ‘ تک نہیں ملا
کووڈ۔۱۹ وبائی مرض کے سبب شوہر کی موت کے ایک سال بعد بھی، انیتا سنگھ کو وبائی مرض کی بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔ اتر پردیش میں، صحت عامہ کے شعبہ میں پیدا ہوئے بحران نے ان جیسے تمام لوگوں کو قرض میں دھکیل دیا ہے، اور یہ لوگ غریبی کے دلدل میں مزید دھنسنے کو مجبور ہیں
201. ’ہمارے ساتھ کبھی اچھا برتاؤ نہیں کیا جاتا‘
اتر پردیش کے وارانسی اور چندولی ضلعوں میں حاشیہ پر پڑی برادریوں کے ساتھ ہونے والی تفریق، طبی خدمات تک ان کی رسائی کے درمیان خلیج کا کام کرتی ہے۔ مقامی باشندہ لکشیما اور سلیمن کے لیے وبائی مرض نے مزید مشکلات بھی کھڑی کر دی ہیں
200. امراض کی ’دیوی‘ پر مبنی کوئمبٹور کی ثقافتی تاریخ
طاعون کی یادیں کوئمبٹور شہر کی تاریخ کے صفحات میں کہیں گم ہو چکی ہیں۔ لیکن اس مہلک بیماری سے نجات پانے کی خاطر تعمیر کردہ مندروں میں، حالیہ دنوں بنائے گئے ’کورونا دیوی‘ کے مندر سے بھی کہیں زیادہ بھیڑ نظر آتی ہے
199. ممبئی کا گارڈ، جو خود اپنوں کو سیکورٹی نہیں دے سکا
ایک بڑے شہر میں آسمان چھوتی بلڈنگ کا زمین پر موجود سیکورٹی گارڈ، اپنی بیوی اور نومولود بچے سے ملنے گاؤں واپس نہیں جا سکا۔ اس نے انتظار کیا، التجا کی، منصوبہ بنایا، کوشش کی – لیکن تب تک کافی دیر ہو چکی تھی
198. آزاد ہندوستان میں بھی پاردھیوں کیلئے کوئی جگہ نہیں
بیڈ ضلع میں، پاردھی فیملی کو حملہ، عصمت دری، قتل کا سامنا کرنے کے بعد اپنے گھر سے بھاگنا پڑا۔ بے گھر کر دیے جانے کے مسلسل خوف میں مبتلا اس برادری کو وبائی مرض کے بعد کے حالات میں زندہ رہنے کے لیے اب جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے
197. مدھیہ پردیش: پٹرول کی بڑھتی قیمتوں سے تباہ ہوتے کاروبار
مدھیہ پردیش کے سیدھی ضلع میں موٹر سائیکل سے گاؤں گاؤں گھوم کر ساڑی، چادر اور دیگر سامان فروخت کرنے والے پھیری والوں کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن سے تو وہ کسی طرح بچ گئے، لیکن پٹرول کی لگاتار بڑھتی قیمتیں ان کے کاروبار کو تباہ کر رہی ہیں
196. لاک ڈاؤن کے سبب تعلیم سے محروم ہوتے آدیواسی بچے
رہائشی اسکول ابھی بھی بند ہونے اور آن لائن کلاس تک رسائی سے محروم ہونے کے سبب، مہاراشٹر کے نندربار ضلع کے دور افتادہ گاؤوں کے آدیواسی بچوں نے کلاس میں جو تھوڑا بہت سیکھا تھا، اسے اب بھولتے جار ہے ہیں
195. بیڈ: عصمت دری کی متاثرہ کا جینا دوبھر
مہاراشٹر کے بیڈ ضلع میں عصمت دری کی ایک متاثرہ کو اپنے گاؤں لوٹنے پر مجبور کر دیا گیا جہاں انہیں ہراسانی اور سماجی بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا – اور یہ سب وبائی مرض کے دوران ہوا، جب ان کی نوکری چلی گئی اور انصاف کے لیے ایک لمبی لڑائی لڑنی پڑی
194. مشکل حالات کا سامنا کرتے وارانسی کے بُنکر
شہر کے بجرڈیہہ علاقے میں پاور لوم بُنکروں کے لیے حالیہ وقت، لاک ڈاؤن اور سیلاب کی وجہ سے کافی مشکل گزرا ہے۔ لیکن بجلی بلوں پر انہیں ملنے والی سبسڈی کے یوپی حکومت کے ذریعے لیے جا رہے جائزے کے سبب وہ سب سے زیادہ پریشان ہیں
193. ’تیسری لہر کا امکان خوفناک ہے‘
مہاراشٹر کے عثمان آباد شہر میں واقع ایک شمشان میں رہتے ہوئے، راما گانڈیواڑ اور ان کی فیملی کووڈ۔۱۹ کی دونوں لہروں کو تو برداشت کر گئی، لیکن وہ موت کے اس منظر سے دوبارہ نہیں گزرنا چاہتے
192. ہاویری: امیدوں کے بیج پر منحصر رتنوّا کی زندگی
کرناٹک کے ہاویری ضلع میں ہاتھ سے زیرگی کرانے کی ماہر، رتنوّا ہریجن، قرض اور غریبی کے جال میں پھنسی ہیں۔ اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے لیے وہ سب کچھ کر رہی ہیں، پھر چاہے سماج کے ذات پر مبنی رسم و رواج سے مقابلہ ہی کیوں نہ کرنا پڑے
191. سندر بن میں سانپوں کی دیوی پر مبنی منظوم ڈرامہ کی پیشکش
مغربی بنگال کے رجت جوبلی گاؤں کے کسان اور مزدور سانپوں کی دیوی کو وقف منظوم روایتی ڈرامہ، ’منسا پالا گان‘ پیش کرنے – اور دیہی تھیٹر کو زندہ رکھنے کے لیے ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں
190. ڈھاک اور ڈھاکیوں سے ہی ہے درگا پوجا کی رونق
درگا پوجا کی شروعات ۱۱ اکتوبر سے ہونے والی ہے اور اگرتلہ کے ڈھاکیوں کے ڈرم ابھی سے بجنے لگے ہیں۔ سال کے بقیہ دنوں میں یہ ڈھاکی رکشہ چلاتے ہیں، ٹھیلہ لگاتے ہیں یا پھیری والے، کسان، پلمبر، اور الیکٹریشین کے طور پر کام کرتے ہیں
189. مراٹھواڑہ: زرعی بحران اور قرض کے سبب کسانوں کی خود کشی
پہلے سے سست چل رہی معیشت میں کورونا وبائی مرض، بے موسمی برسات، اور فصل کے نقصان نے مراٹھواڑہ کے کسانوں پر قرض کے بوجھ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ بے چینی اور تناؤ کے سبب ان میں سے کئی کسان، خود کشی کرنے کو مجبور ہو گئے ہیں
188. غریبی اور تناؤ کے سبب موت کو گلے لگاتے بچے
کووڈ وبائی مرض کے سبب پیدا ہوئے روزی روٹی کے بحران نے بیڈ ضلع کے کرشن گاوڑے جیسے کئی بچوں اور نوجوانوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ بے چینی اور تناؤ میں مبتلا وہ اپنی ذہنی صحت کے لیے اکیلے ہی جدوجہد کرنے پر مجبور ہیں
187. دو وقت کی روٹی کے لیے لداخ میں بھٹکتے جھارکھنڈ کے مزدور
بنیادی طور پر جھارکھنڈ اور دیگر ریاستوں کے رہنے والے مہاجر مزدور، کووڈ۔۱۹ کی دوسری لہر کے کمزور پڑنے کے بعد آخرکار لداخ پہنچ گئے، جہاں وہ انتہائی مشکل حالات میں سمندر کی سطح سے ۱۰ ہزار فٹ سے بھی زیادہ کی اونچائی پر سڑک بنانے کا کام کرتے رہتے ہیں
186. عثمان آباد: سرکار کے دعووں کی طرح ہی کھوکھلی ہے فصل بیمہ اسکیم
بے موسم بارش، موسم کا بدلتا ہوا مزاج، اور کووڈ۔۱۹ وبائی مرض نے مراٹھواڑہ کے سامنے خطرات اور زندگی کی مشکلوں کو اور بڑھا دیا ہے؛ لیکن حکومت کے ذریعے امداد یافتہ فصل بیمہ اسکیم سے انہیں ان ہولناک دنوں میں نہ کے برابر راحت ملی ہے
185. ممبئی: ڈرائیوروں کو بتائے بغیر نیلام کر دی گئیں ٹیکسیاں
جون مہینہ میں ممبئی ایئرپورٹ اتھارٹی نے تقریباً ۴۰ ٹیکسیوں کو نیلام کر دیا، جو لاک ڈاؤن کے دوران بغیر کسی سواری کے بیکار کھڑی رہیں۔ لیکن، اس وقت بہت سے ڈرائیور اپنے گاؤوں میں تھے اور وہ اس قدم سے تباہ ہو گئے
184. لداخ میں گیارہ ہزار فٹ کی اونچائی پر ٹیکہ کاری
لیہہ کے طبی ملازمین دور دراز کے پہاڑوں پر آتے جاتے ہوئے، مشکل موسمی حالات کے درمیان، خراب مواصلات اور طبی سہولیات کا معقول انتظام نہ ہونے کے باوجود، اپنے حوصلہ اور قوت ارادی کی بدولت کووڈ۔۱۹ وبائی مرض سے نمٹنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں
183. ’ہمیں معلوم نہیں تھا کہ ہماری حالت اتنی خراب ہو جائے گی‘
مہاراشٹر کے بیڈ ضلع میں میسل، واگھمارے اور بھوتڑمل کے کنبے – جو پریشان حال دیہی اقتصادیات میں زندگی بسر کر رہے تھے – اب وبائی مرض کے سبب ہونے والی کساد بازاری سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں
182. عثمان آباد: وبائی مرض نے کھلاڑیوں کو میدان سے دور کر دیا
دیہی مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والے رشی کیش گھڑگے جیسے کھلاڑیوں کو اب اپنا مستقبل سیاہ نظر آ رہا ہے – کورونا وبائی مرض نے عثمان آباد کے کھلاڑیوں کو کشتی اور کھوکھو کے میدان سے دور کر دیا ہے
181. کولہاپور: پہلوانوں کو نہیں مل رہا پیٹ بھر کھانا
مہاراشٹر، خاص کر کشتی کا مرکز سمجھے جانے والے کولہا پور کے مشہور پہلوان کووڈ۔۱۹، دو سیلاب، منسوخ کر دیے گئے ٹورنامنٹ، کم ہوتی آمدنی اور خراب غذا کی وجہ سے تباہ ہو چکے ہیں
180. کتنے طوفانوں کا سامنا کریں ممبئی کے ماہی گیر
حالیہ برسوں میں جنوبی ممبئی کی سسون بندرگاہ کے ماہی گیروں نے سمندری طوفان، مچھلیوں کی تعداد میں کمی، کم ہوتی فروخت جیسے مسائل کا سامنا کیا ہے، لیکن مارچ ۲۰۲۰ میں لگائے گئے لاک ڈاؤن کا اثر ان کے لیے سب سے زیادہ مشکلیں لانے والا ثابت ہوا
179. ماہی گیر کولی خواتین: بے مثال دوستی، روز مرہ کی جدوجہد
لاک ڈاؤن میں ہوئے نقصان، بڑے آپریشن، بے روزگار شوہر اور دیگر کئی قسم کی جدوجہد کا وندنا کولی اور گایتری پاٹل پر تباہ کن اثر پڑا ہے۔ وہ ممبئی کے کولابا مارکیٹ میں مچھلی فروخت کرتی ہیں۔ لیکن تمام عروج و زوال کے درمیان ان کی سالوں پرانی دوستی سے ہی انہیں سکون کے کچھ لمحے نصیب ہوتے ہیں
178. غریبی، بدحالی اور کورونا: بیڈ میں لڑکیاں کم عمر میں ہی شادی کو مجبور
وبائی مرض کی وجہ سے مہاراشٹر کے بیڈ ضلع میں ریکھا جیسی نوعمر لڑکیوں کی پہلے سے ہی خستہ حال زندگی مزید مشکلوں میں پھنستی جا رہی ہے۔ غریبی بڑھ رہی ہے، اسکول بند ہیں اور اسی طرح کے کئی اور اسباب ہیں جن کی بناپر لڑکیوں کو کم عمری میں ہی شادی کے لیے مجبور ہونا پڑ رہا ہے
177. بیڈ کے طبی ملازمین: حق مانگنے پر کھانی پڑی لاٹھی
کووڈ۔۱۹ کے انتظام میں اپنا کردار ادا کرنے پر مہاراشٹر میں صحت کے شعبہ سے جڑے صف اول کے جن ملازمین کی تعریف ’فائٹرز اور ہیرو‘ کے طور پر کی گئی تھی، آج وہی طبی ملازمین محرومی اور عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں۔ وہ مستقل نوکری اور مالی استحکام کے لیے لڑ رہے ہیں
176. ’ہم واپس شہر نہیں جانا چاہتے‘
پچھلے سال اچانک لگائے گئے لاک ڈاؤن کے بعد، مجبوری میں گھر لوٹے بیڈ ضلع کے مہاجر مزدور اب بھی نقصان اور ذہنی کرب سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگوں کو کم کام اور کم آمدنی کے ساتھ سمجھوتہ کرنا پڑا ہے
175. مدورئی کے ٹرانس آرٹسٹ: ظلم و ستم، تنہائی، اور مالی تنگی
معاشرہ کے ظلم کے شکار، فیملی کے ذریعے چھوڑ دیے گئے، اور معاش سے محروم، تمل ناڈو کے ٹرانس فوک آرٹسٹ اپنی زندگی کے سب سے خراب دور سے گزر رہے ہیں
174. ’سوتاڑہ میں ایک پُل کیلئے ہم کافی دنوں سے فریاد کر رہے ہیں‘
کووڈ۔۱۹ نے بیڈ ضلع کے سوتاڑہ گاؤں کے جسمانی فاصلہ کو اور بڑھا دیا ہے، جہاں لوگوں کو بازاروں اور اسپتالوں سے لیکر ہر ایک چیز تک رسائی حاصل کرنے کیلئے ندی پار کرتے وقت اپنی جان کو خطرے میں ڈالنا پڑتا ہے
173. مدورئی کے ٹرانس فوک آرٹسٹوں کی درد بھری زندگی
وبائی مرض نے تمل ناڈو میں نہ جانے کتنے مقامی فنکاروں کی زندگی تباہ کر دی، ٹرانس خواتین فنکاروں پر اس کا اثر سب سے زیادہ ہوا، جن کے پاس نہ تو کوئی کام ہے نہ ہی آمدنی کا کوئی ذریعہ، اور حکومت کی جانب سے بھی انہیں کوئی مدد نہیں ملی ہے
172. کورونا ٹیسٹنگ کی خامیوں نے کتنوں کو موت کے منھ میں دھکیل دیا
غلط تشخیص، ٹیسٹنگ میں تاخیر، عدم اعتماد، انڈر رپورٹنگ – ان تمام اسباب کی بناپر دوسری لہر کے دوران اتر پردیش میں کووڈ سے ہوئی اموات کے صحیح اعداد و شمار سامنے نہیں آ سکے، کم از کم اِن پانچ کنبوں کے تجربات سے تو یہی ثابت ہوتا ہے
171. آمدنی گھٹنے سے بھوکے پیٹ سونے پر مجبور خانہ بدوش
مہاراشٹر کی مسن جوگی اور پاردھی خانہ بدوش برادریوں کے لیے لاک ڈاؤن کے دوران آمدنی میں تیزی سے کمی کا اثر یہ ہوا کہ انہیں کھانے میں کٹوتی کرنی پڑی، اور راشن کارڈ کے بغیر ان کی رسائی سبسڈی والے اناج تک بھی نہیں ہے
170. لاشوں کے ساتھ خود بھی جل رہے ہیں شمشان گھاٹ کے مزدور
ہریندر اور پپو نے کسی سیکورٹی یا بیمہ کے بغیر، اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہوئے کووڈ وبائی مرض کی دوسری لہر کے دوران دہلی کے نگم بودھ شمشان گھاٹ پر مسلسل کام کیا۔ اجرت بڑھائے جانے کا انتظار انہیں آج بھی ہے
169. ریمڈیسیور کی تلاش میں کئی گھر تباہ ہو گئے
مہاراشٹر کے بیڈ ضلع میں ریمڈیسیور کی کمی کی وجہ سے، کاشتکار روی بوبڈے کو اپنے کووڈ پازیٹو والدین کو لے کر بھٹکنا پڑا۔ اور بھی بہت سے لوگ اس اینٹی وائرس دوا کی کالا بازاری کے سبب قرض میں ڈوب گئے ہیں
168. اِچلکرنجی کے سجاوٹی تورن نایاب ہونے کے دہانے پر
مہاراشٹر کے اچلکرنجی شہر کے مرلی دھر جواہرے، ۷۰ سال کی عمر میں بڑی محنت سے کاغذ اور بانس سے بننے والے تورن (دروازے پر لٹکائی جانے والی سجاوٹیں) تیار کرتے ہیں۔ انہیں ابھی بھی اپنی اس دستکاری پر فخر ہے جسے آج کل کوئی سیکھنا نہیں چاہتا ہے
167. تُلجاپور: کورونا کے سبب مذہب و منطق کے درمیان جنگ
کورونا وبائی مرض کے سبب تُلجا بھوانی مندر کے بند ہونے سے، عثمان آباد کے تلجاپور شہر میں کئی لوگوں کو نقصان پہنچا ہے۔ لیکن، وہاں کے پجاری اور رہائشی تب تک انتظار کرنے کو تیار ہیں، جب تک کہ بھکتوں کا مندروں میں واپس لوٹنا محفوظ نہیں ہو جاتا
166. گیٹ وے آف انڈیا کے فوٹوگرافر: توجہ سے غائب
کئی دہائیوں سے ممبئی کی اس مشہور تاریخی عمارت پر آنے والے سیاحوں کی یادگاری تصویریں کھینچنے والے بہت سے فوٹوگرافروں کو پہلے سیلفی کے رواج سے اور اب لاک ڈاؤن کی وجہ سے کوئی کام نہیں مل رہا ہے
165. مدورئی میں کومبو کی دھیمی ہوتی آواز
کووڈ۔۱۹ لاک ڈاؤن کے دوران مندر کے تہواروں اور عوامی پروگراموں سے کوئی آمدنی نہ ہونے کی وجہ سے تمل ناڈو کے کومبو فنکار پریشان ہیں۔ لیکن ان کی تشویش کی بنیادی وجہ اس فن کا آہستہ آہستہ ختم ہونا ہے
164. بیڈ کے اسپتالوں میں اسٹاف اور دیکھ بھال کی کمی
کورونا وائرس کی دوسری لہر کے عروج پر پہنچنے کے بعد سے ہی، مہاراشٹر کے بیڈ ضلع کے سرکاری اسپتالوں میں مریض بنیادی طبی سہولیات کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں
163. کووڈ مریضوں پر پرائیویٹ اسپتالوں کی دوہری مار
خراب عوامی ڈھانچہ، مہنگے پرائیویٹ اسپتال اور ریاستی صحت بیمہ اسکیم تک محدود رسائی کی وجہ سے مراٹھواڑہ میں کووڈ کے مریض اور ان کے اہل خانہ طویل مدتی قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں
162. ’ہمیں سرکاری اسپتالوں پر اعتماد نہیں ہے‘
جھارکھنڈ کے اسڑھیا گاؤں کے کپڑا فروش، اجے کمار سا نے پرائیویٹ کلینک میں کووڈ۔۱۹ سے متعلق علاج کرانے پر ڈیڑھ لاکھ روپے خرچ کیے اور اب وہ قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ پیش ہے انہی کے گاؤں کے ایک ویڈیو ایڈیٹر کے ساتھ مشترکہ طور پر لکھی گئی یہ اسٹوری
161. کرگٹّم کے فنکار: مدورئی میں بدحالی کے شکار
تمل ناڈو کے کرگٹّم کے فنکار، جو گزر بسر کے لیے اسی فن پر منحصر ہیں، اب کام نہ ملنے اور آمدنی کی کمی کے سبب کافی پریشان ہیں – اور اس بات کو لیکر فکرمند ہیں کہ وبائی مرض کا یہ دور اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے اُن کے خواب کو چکناچور کر دے گا
160. مجھ طوائف سے کون شادی کرے گا!
بہار کے مظفر پور ضلع کے چتربھُج استھان کی سیکس ورکرز، اکثر اپنے ’پرماننٹ‘ گاہکوں کو خوش کرنے کے سبب کم عمر میں ہی حاملہ ہو جاتی ہیں؛ کووڈ۔۱۹ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان کے حالات بے حد خراب ہیں
159. ڈل جھیل کے محلّوں میں خستہ طبی سہولیات
سرینگر کی ڈل جھیل کے جزیروں پر رہنے والے زیادہ تر لوگ کاشتکار، مزدور اور سیاحت کے کاروبار میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کے محلّے میں ایک ہی پی ایچ سی ہے جو عموماً بند رہتا ہے، جس کی وجہ سے انہیں مقامی دوا فروشوں پر منحصر رہنا پڑتا ہے جو ’ڈاکٹر‘ کا کام بھی انجام دیتے ہیں
158. گئے تھے ٹیکہ لگوانے، ہو گئی جیل
ویکسین کی کمی اور اس کی تقسیم میں غیر برابری کی وجہ سے مہاراشٹر کے بیڈ ضلع کے لوگوں کو ٹیکہ لگوانے میں دقتیں پیش آ رہی ہیں، جب کہ کووڈ۔۱۹ کی تیسری لہر کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے
157. کووڈ کے دور میں قبرستان کے کاتب
کتابت سے ہونے والی کمائی میں اضافہ تو ہو رہا ہے، لیکن نئی دہلی کے سب سے بڑے مدفن، جدید قبرستان اہل اسلام میں قبروں کے کتبے تحریر کرنے والوں کو اتنا ہی افسوس بھی ہو رہا ہے
156. ’دنیا سے جانے والے اپنی آخری رسومات سے انجان ہوتے ہیں‘
وبائی مرض کے سبب دنیا سے جانے والوں کی آخری رسومات جسمانی اور سماجی طور پر ادا تو کی جا رہی ہیں، لیکن اس طرح سے جیسے پہلے کبھی نہیں کی گئیں۔ آج کل اپنے عزیزوں کو کھونے کے علاوہ بھی کئی اور غم ہیں۔ مہاراشٹر کے عثمان آباد ضلع سے پیش ہے پاری کی یہ رپورٹ
155. اتر پردیش: ’کچھ نہیں ہو سکتا، ڈیوٹی کرنی پڑے گی‘
اتر پردیش میں پنچایت انتخابات میں لازمی طور پر ڈیوٹی کرنے کے سبب کووڈ۔۱۹ سے مرنے والے ٹیچروں کی تعداد میں تو اضافہ ہو ہی رہا ہے، اس نے استحصال زدہ ’شکشا متر‘ نظام کی جانب بھی توجہ مبذول کی ہے۔ پاری نے اپنی جان گنوانے والے ایسے تین ’متروں‘ کا پتا لگایا ہے
154. پاردھیوں کے لیے مصیبت بنا کووڈ
پونہ ضلع کے آدیواسیوں کی اس بستی میں کووڈ پازیٹو افراد کو پھوس کی جھونپڑیوں میں الگ کرکے رکھا جا رہا ہے۔ یہاں نہ تو بجلی ہے، نہ پانی ہے اور راشن بھی برائے نام ہے۔ ماسک، وینٹیلیشن، آکسی میٹر جیسی چیزوں کا یہاں کوئی مطلب نہیں ہے
153. اکیلی رات تھی، چاروں طرف اندھیرا تھا
وہ اُن کیڑوں سے نفرت کرتا تھا جو اَب متحد ہونا سیکھنے لگے تھے۔ آج کے دور کی گواہی دیتی نظم
152. ہو کے مجبور یہ بچوں کو سبق دینا ہے
کلاس روم کیوں سنسان ہوئے، ویران کیوں ہوئے کھیل کے میدان؟ اُن ٹیچروں کے لیے ایک نظم جنہیں ہم نے وبائی مرض کے دوران سرکاری لاپروائیوں کے سبب کھو دیا
151. دیہی صحافی: مرنے پر کوئی پوچھنے والا نہیں
صف اول کے کارکن کا درجہ مانگ رہے مہاراشٹر کے صحافی کووڈ۔۱۹ سے مر رہے ہیں۔ ٹیکے آسانی سے دستیاب نہیں ہیں، کوئی اچھی طبی سہولیات نہیں ہیں، اس لیے دیہی علاقوں میں صحافیوں کو بہت زیادہ خطرہ ہے
150. یوپی پنچایت: ٹیچر کی اموات بڑھ کر ۱۶۲۱ ہوئیں
یوپی حکومت اپریل میں پنچایت انتخابات کرانے پر آخر متفق کیوں تھی، جس نے اتنے لوگوں کی جان لے لی اور یہ تعداد لگاتار بڑھتی جا رہی ہے؟ پاری پر پیش ہے یہ تازہ اپ ڈیٹ
149. مراٹھواڑہ میں: ’میں نے سوچا نہیں تھا کہ وہ چلے جائیں گے‘
پربھاکر سُروسے اور شیواجی کاٹے کے اہل خانہ کا ماننا ہے کہ محدود طبی وسائل والے ضلع – بیڈ اور عثمان آباد کے کووڈ اسپتالوں میں آکسیجن کی سپلائی میں کمی کے سبب ان دونوں کا اچانک انتقال ہو گیا
148. کووڈ کا علاج، یعنی موت کے ساتھ قرض کا بوجھ بھی
ممبئی کے قریب کلیان میں سبزی بیچنے والے گوپال گپتا کا مارچ میں کرایا گیا کووِڈ ٹیسٹ پازیٹو آیا تھا۔ ان کی فیملی نے ایک پرائیوٹ ہسپتال میں ان کے علاج پر تقریباً ۵ لاکھ روپے خرچ کیے تھے۔ بعد میں شہر کے ایک سرکاری ہسپتال میں ان کی موت ہوگئی تھی
147. پالگھر میں، وبائی مرض کی بڑی قیمت
دیہی مہاراشٹر میں ایک سرکاری اسپتال کے باہر ہنگامہ مچا ہوا ہے، جہاں کووڈ سے نمٹنے کے لیے ضلع کی خستہ حال انتظامیہ کے سبب کئی خاندان – جن میں سے کئی آدیواسی برادریوں سے ہیں – اپنے عزیز و اقارب کے لیے بستر تلاش کر رہے ہیں یا ان کی موت پر صدمہ میں ڈوبے ہوئے ہیں
146. عوام کی لاش پر تعمیر ہوا ایک راج محل
وبائی مرض کے اس مشکل دور میں عوام کی ناراضگی کو نظرانداز کرکے، مودی حکومت کا عالیشان سنٹرل وستا پروجیکٹ بنا کسی رکاوٹ کے جاری ہے۔ اس منظر کو دیکھتے ہوئے، ایک شاعر ایک پرانی کہانی سنا رہا ہے
145. تمل ناڈو: کووڈ کے دور میں ٹی بی مخالف مہم
کئی دہائیوں سے ہندوستان کی سب سے مہلک متعدی بیماری – تپ دق سے لڑنا کبھی آسان نہیں رہا، اور اب کووڈ وبائی مرض کے دوران یہ اور بھی مشکل ہو گیا ہے، جیسا کہ تمل ناڈو کی تین خواتین ’ٹی بی جانبازوں‘ کی کہانی ہمیں بتاتی ہے
144. یوپی پنچایت انتخابات میں ہلاک ہونے والے اساتذہ
اترپردیش کے پنچایت انتخابات میں تعینات ۷۰۰ سے زیادہ اسکول ٹیچروں کی کووڈ- ۱۹ کی وجہ سے موت ہو چکی ہے اور کئی خطرے کی حالت میں ہیں، پولنگ کے آس پاس صرف ۳۰ دنوں میں کووڈ کے ۸ لاکھ نئے معاملے درج کیے گئے تھے
143. بہار: کورونا دور میں بھی نہیں رکی کم عمری کی شادی
بہار کے گاؤوں میں پچھلے سال لاک ڈاؤن کے دوران، اپنے گاؤں لوٹے مہاجر لڑکوں سے کئی نو عمر لڑکیوں کی شادی کر دی گئی تھی۔ ان میں سے کئی اب حاملہ ہیں اور اس بات کو لیکر فکرمند ہیں کہ آگے کیا ہوگا
142. بھارت جل رہا ہے، دھرم راج!
تاریخی کردار سانس نہ لے پانے کی وجہ سے لڑکھڑا رہے ہیں، لیکن دیو دوتوں کے ذریعے انہیں نرک (جہنم) میں دھکیل دیا جاتا ہے
141. جلا وہ اُن میں جو اجنبی تھے
انسانی جانیں ہزاروں چتاؤں پر جل رہی ہیں اور ان کی لپٹوں میں پورا ملک گھر گیا ہے۔ وبائی مرض کے اس المیہ کو بیان کرتی ایک نظم
140. پھول اس قبر پہ جاکر میں چڑھاؤں کیسے
یہ وہ نظم ہے جو ترشول سی چبھتی ہے، پینٹنگ ہے ایسی جو اندر دھنس جاتی ہے – اور وبائی مرض کا سامنا کرتی زندگی کی ایک کہانی ہے جس پر موت کے سائے منڈلا رہے ہیں
139. ’میں گاؤں میں ویڈیو ایڈیٹنگ نہیں کر سکتا‘
حی الرحمن انصاری دیہی جھارکھنڈ سے ۱۰ سال قبل ویڈیو ایڈیٹر کے طور پر کام کرنے کے لیے ممبئی آئے تھے۔ لیکن پچھلے سال انہیں کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن میں نوکری چلی جانے کے بعد دو بار بوریا بستر باندھ کر گھر لوٹنا پڑا
138. مالدہ: ’کوئی بھی خوشی سے پردیس نہیں جاتا‘
مالدہ ضلع کے بھگبان پور میں کسی قسم کی صنعتی سرگرمی نہیں ہے اور زرعی کام میں مزدوری کم ملتی ہے، اس لیے یہاں کے مرد زندہ رہنے اور کماکر پیسے گھر بھیجنے کے لیے اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش جیسے دور دراز مقامات پر کام کرنے نکل جاتے ہیں
137. آخری لمبی قطار میں ایک بار پھر انتظار
زندگی بھر قطاروں میں کھڑا رہا – پھر سب سے آخر میں ایک اور قطار۔ کووڈ- ۱۹ بحران پر ایک نظم
136. اُس ٹرین پر کسی طرح سوار ہونے کی کوشش
محمد شمیم، دوسرے لوگوں کی طرح مہاجروں کی اس دوسری لہر میں – وبائی مرض کے سال میں دوسری بار مزدوری کے نقصان کے سبب، یوپی میں واقع اپنے گاؤں لوٹ رہے ہیں۔ ان کے ساتھ شمالی ممبئی کی جھگی جھونپڑی میں رہنے والے بہت سے لوگ پہلے ہی جا چکے ہیں
135. فوربس، ہندوستان اور پینڈورا کا وبائی صندوق
ایک سال میں جب جی ڈی پی سکڑ کر ۷ اعشاریہ ۷ فیصد پر پہنچ گئی، اور جب ہم ’الٹی‘ مہاجرت کا دوسرا دور دیکھ رہے ہیں، اور جب دہلی کے دروازوں پر منتظر کسانوں کی کوئی سننے والا نہیں ہے، ہندوستانی ارب پتیوں کے پاس بے پناہ دولت جمع ہو چکی ہے
134. ’کیسے کمانا اور کیا کھانا؟‘
مراٹھواڑہ میں، عجوبی لداف اور زاہدہ بی سید جیسی اپنے دَم پر زندگی بسر کرنے والی خواتین آمدنی حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ معاشرتی اخراج کے ساتھ ساتھ وبائی امراض اور امتیازی سلوک ان کے لیے مزید مشکلیں پیداکر رہے ہیں
133. بہار کی ’خواتین‘ ڈاکٹروں پر کام کا دباؤ، لوگوں کا غصہ
بہار کے کشن گنج ضلع میں کام کر رہی خواتین گائناکولوجسٹ کے لیے، دن لمبا ہوتا ہے، میڈیکل سپلائیز کم ہیں، اور اپنی متعدد حاملہ مریضوں اور مانع حمل کو لیکر ان کی ہچکچاہٹ کو سنبھالنا انتہائی مشکل کام
132. نندُربار کی پہاڑی بستیوں میں: ٹیکہ پہنچ سے دور
مہاراشٹر کے دھڑگاؤں علاقے کی دور دراز آدیواسی بستیوں کے لیے کووڈ ٹیکہ کاری کے مراکز سڑکوں کی کمی اور مہنگے سفر کی وجہ سے ناقابل رسا ہیں، یہاں تک کہ سنگین امراض میں مبتلا بزرگ افراد اب بھی انتظار کرر ہے ہیں
131. ’ہمارا دفتر اور سونے کی جگہ ایک ہی ہے‘
بہار کے دربھنگہ ضلع کے پرائمری ہیلتھ سینٹر میں جگہ اور سہولیات کی کمی کے سبب وہاں کے طبی ملازمین کو دفتر میں، وارڈ کے بستر پر، اور کبھی کبھی فرش پر بھی سونے کے لیے مجبور ہونا پڑتا ہے
130. ’ہمارے لیے لاک ڈاؤن – اور کام ہمیشہ رہتا ہے‘
وبائی مرض کے دوران نرسوں کو رسوائی، کم تنخواہ، جانبداری، زندگی بچانے کے لیے گھنٹوں تک محنت کش کام کرنے جیسی چنوتیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پاری نے چنئی میں صف اول کی ایسی ہی چند جانباز نرسوں سے بات کی
129. بچوں کی دماغی معذوری – تعلیم کے لیے ایک بڑا چیلنج
مہاراشٹر کے احمد نگر ضلع کے کسان خاندانوں میں آن لائن کلاسز کا متبادل نہ ہونے سے، دماغی طور پر معذور طلباء پر برا اثر پڑ رہا ہے اور ان کے والدین کی تشویشوں میں اضافہ ہو رہا ہے
128. الموڑہ میں، بچوں کی پیدائش کے لیے پہاڑوں کی گردش
پچھلے سال، اتراکھنڈ کے الموڑہ ضلع کی رانو سنگھ نے پہاڑی راستے سے اسپتال جاتے ہوئے، بیچ راستے میں ہی بچہ کو سڑک پر جنم دیا۔ یہ ایک ایسا خطہ ہے جہاں پر مشکل گزار راستے اور اخراجات پہاڑی بستیوں میں رہنے والی بہت سی خواتین کو گھروں پر ہی بچے کو جنم دینے پر مجبور کرتے ہیں
127. پیروویمبا: اپنی لے کو برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد
کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن میں سامان فروخت نہیں ہونے، اور اپنے ڈھول کے لیے کچا چمڑا خریدنے میں مشکلات کے سبب، کیرالہ کے پیروویمبا گاؤں میں آلات موسیقی بنانے والے کڑچی کولّن کاریگروں کو مستقل آمدنی حاصل نہیں ہو پا رہی ہے
126. ’میں صرف زندہ رہ سکتا ہوں، اپنی زندگی نہیں جی سکتا‘
ممبئی میں رہنے والے بہار کے ایک ۲۷ سالہ مہاجر مزدور بتا رہے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے دوران گھر تک کا سفر کرنا کتنا مشکل تھا، اور ان کے حال اور مستقبل پر اس شہر کی پکڑ کتنی مضبوط ہے
125. ’ایسا لگ رہا تھا گویا پورا ملک چل رہا ہو‘
اپریل سے جون تک کے لاک ڈاؤن کے دوران مہاراشٹر کے گونڈیا کے رہنے والے مہاجر مزدوروں کو قابل رحم حالت میں تلنگانہ سے ۸۰۰ کلومیٹر پیدل چل کر گھر پہنچنے کا سفر مہینوں بعد بھی یاد ہے
124. سندر بن میں، باگھ کے سائے میں شادی
پرینکا مونڈل کی شادی ان کے والد ارجن مونڈل کی یادوں کے سائے میں حال ہی میں سندربن کے رجت جوبلی گاؤں میں انجام پذیر ہوئی ہے۔ سال ۲۰۱۹ میں باگھ کے ایک حملے میں ارجن کی موت ہو گئی تھی، جس کے بعد ان کی فیملی صدمے اور مالی پریشانیوں میں ڈوبی ہوئی ہے
123. کماٹھی پورہ میں مایوسی کے ساتھ امید بھی
کماٹھی پورہ میں سیکس ورکر اپنے بچوں کو عزت بخش زندگی فراہم کرنے کے لیے جدوجہد کرتی رہی ہیں۔ پیش ہے تکلیف کے وبائی مرض میں پھنسی ان عورتوں کی حقیقی زندگی کو بیان کرنے والی دو اسٹوریز سے متاثر ہوکر لکھی گئی یہ نظم
122. آن لائن تعلیم: کمزور طبقوں کے بچوں پر ٹوٹا مشکلوں کا پہاڑ
شمالی ممبئی کی امبج جھگی بستی میں رہنے والے طالب علموں کو کئی مہینوں سے آن لائن کلاس کی سہولت حاصل نہیں ہو پا رہی ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اُن طلبہ کو اپنی فیملی کی مالی مدد کرنے کے لیے کام کرنا پڑ رہا ہے، کیوں کہ لاک ڈاؤن یا اس کے بعد پیدا ہوئے حالات کی وجہ سے ان کے والدین کی آمدنی میں کافی کمی آئی ہے
121. ایک سیکس ورکر کا کبھی نہ ختم ہونے والا سفر
۱۵ سالہ وکرم جب اگست میں گھر سے فرار ہوئے تو ان کی ماں، جو کماٹھی پورہ میں ایک سیکس ورکر ہیں، انہیں واپس گھر لے آئیں۔ اس سے پہلے بھی وہ گھر سے بھاگ چکے ہیں۔ اس دوران انہوں نے اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش میں چھوٹے موٹے کام کیے اور لڑائی جھگڑے بھی مول لیے
120. کولکاتا میں للّن پاسوان کا رکشہ پہ گزارہ
ہاتھ سے کھینچے جانے والے رکشوں پر سرکار کی جانب سے پابندی عائد کرنے کی کوشش، لاک ڈاؤن میں ہونے والے نقصانات اور معمولی کمائی کے باوجود للّن پاسوان بہار کے مشرقی چمپارن ضلع میں اپنے خاندان کی کفالت کے لیے یہ مشکل کام جاری رکھے ہوئے ہیں
119. اور آپ نے سوچا کہ یہ صرف کسانوں کے بارے میں ہے؟
نئے زرعی قوانین صرف کسانوں کو ہی نہیں، بلکہ تمام شہریوں کو آئینی تحفظ سے محروم کر رہے ہیں – جو کہ ۱۹۷۵-۷۷ کی ایمرجنسی کے بعد سے اب تک نہیں دیکھا گیا تھا۔ دہلی کے دروازے پر موجود کسان ہم تمام لوگوں کے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں
118. جادو سے بھائی غائب ہوسکتا ہے بھوک نہیں
گلیوں کے جادوگر گلاب اور شہزاد شیخ مغربی بنگال کے ندیا ضلع میں ہاتھ کی صفائی اور غائب کرنے کا کھیل دکھاتے ہیں۔ لیکن ایک چیز جسے وہ غائب نہیں کرسکتے وہ ہے بھوک
117. بہادر ٹیچر کے جذبہ سے سبق حاصل کرنا
پرتبھا ہلیم کو پچھلے سال گینگرین کی وجہ سے اپنے دونوں پیر کھونے پڑے تھے۔ لیکن پالگھر، مہاراشٹر کی اس آدیواسی ٹیچر نے ہمت کے ساتھ اپنے ہی گھر پر اُن بچوں کو پڑھانا جاری رکھا ہے، جن کے پاس ’آن لائن تعلیم‘ تک رسائی کے مواقع کافی کم ہیں
116. پالگھر میں احتجاج: ’ہم آج پیچھے نہیں ہٹیں گے‘
ہریانہ- دہلی میں چل رہے احتجاجی مظاہروں کو اپنی حمایت دینے اور اپنے ۲۱ مطالبات کو لیکر، آدیواسی برادری کے کسان ۲۶ نومبر کو مہاراشٹر کے پالگھر ضلع میں جمع ہوئے
115. بیدر کے کھیتوں میں کام کر رہے ڈگری ہولڈر
محنت کی کمائی اور قرض کے پیسے سے بی ٹیک، بی ایڈ، ایم بی اے، ایل ایل بی وغیرہ کی ڈگریاں حاصل کرنے والے، جنہوں نے لاک ڈاؤن سے پہلے کی اپنی نوکریاں کھو دیں، اب شمال مشرقی کرناٹک کے بیدر ضلع میں منریگا کا کام کر رہے ہیں
114. اسکول ۲۰۲۰: لاک ڈاؤن میں مستقبل کی پیمائش
اوڈیشہ اور جھارکھنڈ کے کچھ حصوں میں، وبائی امراض کے دوران تعلیم ہر ایک کے لیے حیران کن سبق ہے
113. ’ہر کوئی جانتا ہے کہ یہاں لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے‘
سونی کو گھر لوٹنے پر پتا چلا کہ اس کی پانچ سال کی بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی تھی، حالانکہ ممبئی کے کماٹھی پورہ میں انہوں نے اور دیگر سیکس ورکرز نے لاک ڈاؤن سے متاثر ہونے والی آمدنی کا سامنا کرتے ہوئے اپنے بچوں کو بحفاظت رکھنے کی پوری کوشش کی ہے
112. کشمیر میں دھان کاٹنے کے لیے کوئی مہاجر مزدور نہیں
وسطی کشمیر میں دھان کی کٹائی کا یہ مشکل وقت ہے۔ ماہر مہاجر مزدور، جو مقامی مزدوروں کے مقابلے کم اجرت لیتے ہیں، لاک ڈاؤن کے سبب یہاں سے چلے گئے تھے، اور اب یہاں کے کسان فصل کو چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں
111. دُرگا پوجا سے ڈھاکی ابھی غائب نہیں ہوئے
دیہی بنگال کے روایتی ڈھول بجانے والوں کو اس موسم میں کولکاتا میں مشکلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
110. مہاجر مزدور کی شکل میں مارچ کرتی ماں دُرگا
کولکاتا کے بیہلا میں دُرگا پوجا کے ایک پنڈال میں دیوی کا ایک انوکھا اوتار دیکھنے کو ملا
109. گیارہ سو لاشوں کی تدفین اور بے شمار بدگمانیاں
کووڈ- ۱۹ کے سبب مرنے والوں کی تدفین کو لیکر بدگمانی اور دشمنی کے درمیان، تمل ناڈو کے ایک رضاکار گروپ نے مذہب اور ذات کی پرواہ کیے بغیر آخری رسومات ادا کرنے میں سینکڑوں کنبوں کی مدد کی ہے
108. ایک ملک، کوئی راشن کارڈ نہیں
دہلی میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی رخسانہ خاتون نے، بہار میں اپنے شوہر کے گاؤں سے راشن کارڈ بنوانے کی کئی سال تک کوشش کی – اور اب انہیں اس کی ضرورت شدت سے محسوس ہو رہی ہے کیوں کہ لاک ڈاؤن کے سبب ان کی فیملی کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
107. سندر بن سے دھیرے دھیرے غائب ہوتے طلبہ
یہاں کے گاؤوں میں اسکولی تعلیم کے سامنے رکاوٹوں کا انبار لگا ہوا ہے۔ بار بار آتے طوفان، بڑھتا کھاراپن، جو کھیتی اور مچھلی پکڑنے کو نقصان پہنچاتا ہے، اور لاک ڈاؤن – سبھی نے طلبہ کے اسکول چھوڑنے کی شرح، کم عمر میں شادیاں اور طلبہ کے درمیان روزگار کی تلاش کو بڑھا دیا ہے
106. لاک ڈاؤن سے کالو داس کا کباڑ کا کام متاثر
کالو داس – جو ری سائیکلنگ کے لیے سامان اکٹھا کرنے اپنے گاؤں سے کولکاتا جاتے ہیں – نے کچھ ہفتہ قبل پھر سے چکّر لگانا شروع کیا۔ لیکن کاروبار مایوس کن ہے، منافع کم ہے، ان کی بیوی نے اپنی نوکری کھو دی ہے، اور فیملی جدوجہد کر رہی ہے
105. سرینگر کی ڈل جھیل میں کشتی کی رفتار
ڈل جھیل کی اقتصادیات کے لیے، سیاحوں کی آمد کے سیزن کے دوران کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن پچھلے سال کی دفعہ ۳۷۰ کی تالا بندی کے فوراً بعد آیا، اور اس کی وجہ سے شکارے والوں، ہاؤس بوٹ مالکان اور دکانداروں کا کافی نقصان ہوا ہے اور ان کے پاس کوئی کام نہیں ہے
104. بنگلورو کے درزیوں کے لیے وقت پر کوئی سلائی نہیں
لاک ڈاؤن میں کوئی آمدنی نہیں ہونے کے سبب، عبدالستار اور بنگلور میں کڑھائی کا کام کرنے والے دیگر لوگ مغربی بنگال کے اپنے گاؤں لوٹنے کے لیے بیتاب تھے۔ اب، چونکہ گاؤں میں بھی کوئی کام نہیں ہے، اس لیے ستار شہر واپس آنے کے لیے بیتاب ہیں
103. اشوک تارے: چھٹی نہیں ملی، دنیا کو کہا الوداع
کووڈ- ۱۹ کی علامات کے باوجود، ممبئی کے ایک صفائی ملازم اشوک تارے کو بغیر کسی تحفظاتی آلات کے کام کرنے پر مجبور کیا گیا اور چھٹی دینے سے منع کر دیا گیا۔ ان کی فیملی مدد کے لیے ادھر ادھر بھاگتی رہی، اور ۳۰ مئی کو ان کی موت کے مہینوں بعد معاوضہ کا انتظار کر رہی ہے
102. ’گھڑی کی مرمت وقت کو ٹھیک کرنے جیسا ہے‘
وشاکھاپٹنم کے جگدمبا جنکشن کے گھڑی سازوں نے، ڈیجیٹل ٹائم پیس اور استعمال کے بعد پرزوں کو پھینک دینے کے سبب کام میں کمی ہوتے دیکھی ہے۔ اور اب، لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں رعایت کے بعد، وہ اپنے نقصان کی تلافی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں
101. یوپی: کووڈ- ۱۹ کو شکست دینے والے معاشرہ میں بدنام
اتر پردیش میں واپس لوٹنے والے مہاجرین سمیت، کووڈ- ۱۹ کو شکست دینے والے لوگ مہنگے علاج، گندے کوارنٹائن مراکز، معاشرتی بدنامی، اور یہاں تک کہ مذہبی تفریق کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ بہت سے لوگ ابھی تک اپنے گاؤں/شہر نہیں لوٹ پائے ہیں
100. ’ہمارے پاس گھر پر رہنے کے لیے گھر نہیں ہے‘
مہاراشٹر کے خانہ بدوش چرواہا دھنگر کنبوں کے اس گروپ کے لیے، لاک ڈاؤن کئی مسائل لیکر آیا – بھیڑوں کی فروخت کم ہو گئی، گاؤں کے کھیتوں پر جانا محدود کر دیا گیا، اور ان کے راشن کم ہونے لگے – لیکن وہ اپنا گزارہ چلانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں
99. وزاگ کے کمہار: مٹی کی مورتیاں، قرض میں غرقاب
آندھرا پردیش کے اس شہر کے کاریگر تہوار کے موسم – اس ہفتہ گنیش چترتھی سے شروع ہو رہے - میں سب سے زیادہ کماتے ہیں۔ لیکن انہیں اس سال اب تک گنیش کی مورتیوں اور دیگر مصنوعات کے لیے ایک بھی تھوک آرڈر نہیں ملا ہے
98. ’ہمارے ماسک بہہ گئے‘: ممبئی کے بے گھر
فٹ پاتھ پر رہنے والی مینا اور ان کی فیملی، شہر کے کئی بے گھر لوگوں میں سے ہیں، جن کی کوئی آمدنی نہیں ہے اور طبی خدمات یا ریاست کی اسکیموں تک ان کی رسائی بہت کم ہے – اور اب وہ مانسون اور وبائی مرض کا سامنا کر رہے ہیں
97. کولکاتا کے بچوں کے اسپتال پر لاک ڈاؤن کی مار
لاک ڈاؤن میں بے بسی، سماجی بدنامی سے طبی اہلکاروں کے متاثر ہونے کے سبب صرف ۴۰ فیصد اسٹاف کی حاضری، اور مالی مسائل کے باوجود، انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کے سپاہی اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں
96. لاک ڈاؤن میں کمہاروں کا خسارہ
اس ہفتہ شروع ہونے والا گن پتی تہوار، پھر دُرگا پوجا اور دیوالی، دہلی کے اتّم نگر کے کمہاروں کے لیے سب سے زیادہ کمائی والے موسم تھے۔ لیکن اب، وہ کچھّ اور مغربی بنگال کے کمہاروں کی طرح ہی فروخت کا سب سے خراب وقت دیکھ رہے ہیں
95. آشا کارکنوں کی لاک ڈاؤن میں کڑی محنت
مہاراشٹر کے عثمان آباد ضلع میں آشا کارکن، پہلی قطار کی صحت کارکنوں کے طور پر اپنے پہلے کے کام کے بوجھ کے ساتھ ساتھ، خراب حفاظتی آلات اور محنتانہ ملنے میں دیری کے باوجود، کووڈ- ۱۹ وبا کے پھیلنے کی نگرانی کے لیے اوورٹائم کر رہی ہیں
94. یوپی میں: ’آدھا کرناٹک اور آدھا آندھرا‘
آندھرا پردیش میں پانی پوری کی دکان چلانے والے بیریندر سنگھ اور رامدے کلی لاک ڈاؤن کے دوران اتر پردیش لوٹ آئے۔ وہ اب قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں، اپنے بچوں کی تعلیم کو لیکر فکرمند ہیں اور انہیں سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ آگے کیسے گزارہ ہوگا
93. ’ہم نے اس کا خون زیادہ نہیں بہایا‘
کووڈ کے اس بحران میں بڑا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ہم کتنی جلدی نارمل ہو سکتے ہیں۔ کروڑوں غریب ہندوستانیوں کے لیے، ’نارمل‘ ہی مسئلہ تھا۔ اور نیا نارمل اکثر اسٹیرائڈ پر پرانا نارمل ہے
92. مہلک – اور سماجی – وائرس سے نمٹنا
مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے کووڈ- ۱۹ کے مریضوں کے لیے گھر-اسپتال-کوارنٹائن-گھر کا سفر ہمیشہ ایک جیسا نہیں ہوتا ہے۔ پاری نے مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ علاقے میں ایسے دو کنبوں کا پتہ لگایا
91. ’ہم کام نہیں کریں گے، تو فصل کون اُگائے گا؟‘
خریف کا موسم ہے اور دھان کی روپائی شروع ہو چکی ہے، اس لیے چھتیس گڑھ میں دھمتری کے کھیتوں پر مزدور لوٹ آئے ہیں۔ وہ کووڈ- ۱۹ کے احتیاطوں کے بارے میں جانتے ہیں، لیکن کہتے ہیں کہ کام کیے بغیر ان کا گزارہ نہیں چل سکتا
90. راشن کارڈ کے لیے مدھیہ پردیش میں کسان کی دوڑ
اُمریا ضلع کے ایک کسان اور مزدور، دشرتھ سنگھ کئی کوششوں اور خرچوں کے باوجود راشن کارڈ حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ وہ مدھیہ پردیش کے ایسے متعدد بی پی ایل کنبوں میں سے ایک ہیں، جو فارم اور دفتروں کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں
89. سندربن میں طوفان سے تباہی
سندربن میں حالیہ برسوں میں سیلاب اور سمندری طوفان نے لوگوں کی زمین، گھر اور معاش کو چھین لیا، جس کے بعد ان میں سے کئی لوگوں نے اپنے گاؤں چھوڑ دیے ہیں – لاک ڈاؤن کے دوران امفن، دو دہائیوں میں چوتھا سمندری طوفان تھا
88. مہاجرت اور تکلیفوں سے بھری مزدوروں کی زندگی
تو وہ مہاجر کون ہے، جسے میڈیا نے ۲۵ مارچ کو ڈھونڈا تھا؟ ممبئی میں گزرا بچپن اور زندگی کے تجربات کے ذریعے اس سوال پر ایک تصوراتی نظر
87. ’میری فیملی کیا کرے؟‘
بورانڈا گاؤں کے آدیواسی محلہ میں، ونیتا بھوئیر اور ان کی فیملی، جو مہاراشٹر کے اینٹ بھٹوں پر کام کرنے کے لیے مہاجرت کرتے ہیں، لاک ڈاؤن کے سبب ان کا کام، کھانا اور پیسہ سب کچھ ختم ہو چکا ہے – اور اب وہ امید بھی کھوتے جا رہے ہیں
86. پالگھر میں: ’بھرنے کے لیے دو پیٹ کم‘
لاک ڈاؤن کے دوران مہاراشٹر کے پالگھر ضلع میں خاص طور سے کمزور قبائلی برادری، کاتکریوں کو کام ملنا بند ہو گیا۔ شاید اسی وجہ سے منگل واگھ نے خود کا اور اپنی بیٹی کا قتل کر دیا ہو
85. وبائی مرض کے دوران ’چھونے کے ذریعے دنیا‘ کو دیکھنا
ومل اور نریش ٹھاکرے، دونوں نا بینا، ممبئی کی لوکل ٹرین میں رومال فروخت کرتے تھے۔ لاک ڈاؤن نے ان کی، اور کئی دیگر لوگوں کی آمدنی چھین لی۔ انہیں حکومت سے معمولی مدد مل رہی ہے اور مستقبل غیر یقینی ہے
84. لاک ڈاؤن میں خریداروں کی راہ دیکھتی کمارتُلی کی مورتیاں
کولکاتا کے کمہاروں کی تاریخی بستی کمارتُلی میں کاروبار ٹھپ پڑا ہوا ہے۔ دیوی درگا کی مورتیوں اور دیگر مجسموں کا کو ئی خریدار نہیں ہے۔ مورتی سازوں، کاروباریوں اور مزدورں کو اس سال بھاری نقصان کا اندیشہ ہے
83. مہاجرین کے لیے رَیپ گیت – معنی اور دلیل کے ساتھ
کالا ہانڈی ضلع میں، دولیشور ٹانڈی – ’رَیپَر دُلے راکر‘ – جو ٹیوشن پڑھاتے ہیں، تعمیراتی جگہوں پر کام کرتے ہیں اور کبھی کبھی مہاجرت کرتے ہیں، لاک ڈاؤن میں مہاجرین کی زبوں حالی پر اس گانے کے ذریعے اپنے غصے کا اظہار کر رہے ہیں
82. لاک ڈاؤن سے پریشان آندھرا پردیش کے کسان
اس سال ربیع کے موسم میں کیلے کی فصل اچھی ہونے کے بعد اننت پور ضلع کے کسانوں کو بہتر قیمت ملنے کی امید تھی۔ لیکن، کچھ خراب موسم اور پھر لاک ڈاؤن کی وجہ سے انہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور وہ قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں
81. اسکولی بچے: ڈیجیٹل غیر برابری سے ڈیجیٹل تقسیم تک
’آن لائن تعلیم‘ کی دوڑ زمینی سطح پر مہاراشٹر کے پالگھر ضلع کے تلاسری جیسے غریب آدیواسی علاقے میں کیسی نظر آتی ہے؟ پاری نے پڑتال کی کہ یہ پہلے سے ہی سنگین غیربرابری کو کیسے آگے بڑھا رہی ہے
79. تمل ناڈو میں چیچک، طاعون اور وبائی امراض کی یادیں
تمل مصنف چو دھرمن، گاؤوں کے ذریعے صدیوں سے مختلف قسم کے وائرس، طاعون اور وبائی امراض کا سامنا کرنے کی بیش قیمتی زبانی تاریخ، اور دورِ حاضر میں کووڈ-۱۹ وبا اور لاک ڈاؤن کے تحت آج کی زندگی سے اس کا کیا تعلق ہے، اس بارے میں بتا رہے ہیں
78. لاک ڈاؤن میں شدید ظلم کی شکار یوپی کی عورتیں
ملک میں گھریلو تشدد ویسے تو ایک عام بات ہے، لیکن لاک ڈاؤن کے دوران اس میں کچھ زیادہ ہی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اترپردیش کے مہوبا، لکھنؤ اور چترکوٹ ضلعے کی عورتوں نے پاری کو اپنی دکھ بھری کہانی سنائی
77. لاک ڈاؤن میں تاڑ پر دوبارہ چھڑنے کو مجبور ایشور
لاک ڈاؤن کے سبب گرمیوں کے پسندیدہ پھل، تارکون کے گاہکوں میں کمی اور صرف ۱۰-۱۵ دنوں تک تاڑ کا پھل فروخت ہونے کی وجہ سے وشاکھا پٹّنم میں اس کے کاروباریوں کو کافی نقصان ہو رہا ہے
76. کرناٹک کی شاہراہِ ریشم: بحران میں کوکون کے کسان
کرناٹک کا رام نگر ایشیا میں کوکون کا سب سے بڑا بازار ہے، لیکن لاک ڈاؤن کے دوران قیمتوں میں بھاری گراوٹ اور ڈیمانڈ-سپلائی سلسلہ ٹوٹنے کے سبب بُنائی، کتائی کرنے والے اور خاص طور سے ریشم کے کیڑے پالنے والے کسان بری طرح متاثر ہوئے ہیں
75. سمندری طوفان اور کورونا کے وقت ہاتھ خالی
لاک ڈاؤن کے سبب آمدنی ختم ہونے اور کووڈ کے خوف سے سبیتا سردار نے، امفن طوفان کے باوجود، پولس اور راحت کیمپ کی خراب حالت سے بچنا پسند کیا، اور کولکاتا کے گریا ہاٹ فلائی اوور کے نیچے اپنے مقام پر لوٹ آئیں
74. ساز کو ٹھیک کرنے والے زندگی سے پریشان
ہارمونیم کی مرمت کرنے والے جبل پور، مدھیہ پردیش کے کئی کاریگر لاک ڈاؤن کے سبب دو مہینے سے مہاراشٹر کے ریناپور میں پھنسے ہوئے تھے۔ انہوں نے پاری کو اپنی پریشانیوں کے بارے میں بتایا
73. لاک ڈاؤن سے بد حال – چھتیس گڑھ کے کمہار
دھمتری شہر میں، کمہاروں نے گرمیوں میں سب سے زیادہ فروخت کے اپنے سیزن کو کھو دیا، کیوں کہ لاک ڈاؤن کے سبب برتن بنانا اور بیچنا مشکل ہو گیا تھا۔ چھتیس گڑھ میں بازار اب کھلنے لگے ہیں، لیکن اگلے سال کو لیکر ان کی تشویش برقرار ہے
72. مزدور ہوں میں، مجبور نہیں
۲۵ مارچ کے لاک ڈاؤن کے بعد لاکھوں مہاجر مزدوروں کی اجتماعی مہاجرت شاعروں اور فنکاروں کے تصورات کو جلا بخشتی ہے۔ یہ نظم مزدوروں سے نمٹنے میں ہماری منافقت کو اجاگر کرتی ہے۔
71. لاک ڈاؤن کے سبب آندھرا پردیش میں پھنسے نیپالی مہاجر
لاک ڈاؤن کے دوران کوئی آمدنی نہ ہونے کے سبب آندھرا پردیش کے بھیماورم میں پھنسے سکیورٹی گارڈ، سریش بہادر راشن کی کمی، بیماری اور سرحد پار نیپال میں واقع اپنے گھر لوٹنے کی بے یقینی سے جدوجہد کرتے رہے
70. تلنگانہ کے ایک اور اینٹ بھٹے میں بند مزدور
تلنگانہ کے سنگا ریڈی ضلع میں کُنی تاملیا اور اینٹ بھٹّوں پر کام کرنے والے دیگر مزدوروں نے لاک ڈاؤن کے دوران اپنے کام کو جاری رکھا۔ لیکن بچوں کی دیکھ بھال اور کووڈ کے خوف سے، وہ شرمک اسپیشل ٹرین پکڑ کر اوڈیشہ جانے کے لیے بے قرار تھے
69. مہاجر، اور شرفاء کی اخلاقی اقتصادیات
لاک ڈاؤن نے طویل عرصے سے ہوتی آ رہی مہاجر مزدوروں کے حقوق کی اندیکھی کو اجاگر کیا ہے – ان لاکھوں لوگوں کو ہماری مصنوعی فکرمندی کی نہیں، بلکہ مکمل انصاف کی ضرورت ہے، یہی بتا رہا ہے انڈیا ٹوڈے میں شائع ہو چکا یہ مضمون
68. ’یہیں رکیں اور کچھ نہ کریں یا وہاں جاکر خالی بیٹھیں؟‘
تعمیراتی مقامات پر کام کرنے والے مہاجر مزدور، امودا اور راجیش جیسے ہی بنگلورو میں اپنے نئے کام کی جگہ پر پہنچے لاک ڈاؤن شروع ہو گیا، جس کی وجہ سے نہ تو انہیں کوئی کام مل سکا اور نہ ہی رہنے کے لیے کوئی جگہ۔ ہائی اسکول کے طالب علموں کے ذریعے پاری کی ایک رپورٹ
67. نقدی فصلیں، کووڈ اور نہ فروخت ہونے والی کپاس کی قیمت
ملک بھر میں نقدی فصلیں فروخت نہیں ہو رہی ہیں، جس سے وہ بھاری مقدار میں بیکار پڑی ہوئی ہیں – جیسے کہ مہاراشٹر میں کپاس۔ بھکمری کا خطرہ بڑھنے لگا ہے، پھر بھی ودربھ کے کسان خریف کے اس موسم میں غذائی فصلوں کی بجائے ایک بار پھر کپاس کی بوائی کرنے جا رہے ہیں
66. پٹاخے سے نہیں، شراب سے بڑھتا وائرس
تمل ناڈو کے وِرودھو نگر میں کئی ارونتھتھیار عورتوں کی طرح، دیوی کنک راج بھی شیو کاشی کی پٹاخہ فیکٹری میں کام کرتی ہیں۔ لاک ڈاؤن کے سبب ان کی آمدنی چھن گئی، راشن کم ہونے لگا، قرض بڑھتا جا رہا ہے اور گھر میں صرف شرابی شوہر ہے
65. جب پانی نے پاگل سانڈھ کی طرح لوگوں کا پیچھا کیا
امفن طوفان، مغربی بنگال کے سندر بن میں کووڈ-۱۹ لاک ڈاؤن کے دوران آیا۔ پاری نے اس علاقے کا دورہ کیا اور پایا کہ درختوں، گھروں اور دیگر اشیاء کا کافی نقصان ہوا ہے – جس میں لوگوں کا پہلے سے ہی کمزور ہو چکا معاش بھی شامل ہے
64. مہاجرین کا فولادی جگر
مہاراشٹر کے اورنگ آباد ضلع کے قریب، ۸ مئی کو ایک ٹرین کے ذریعے کُچل کر مار دیے گئے ۱۶ مہاجر مزدوروں کا المیہ ہمیں آج بھی پریشان کرتا ہے۔ یہ دردناک نظم اور دلکش پینٹنگ ہمیں اس خطرناک حادثہ کی یاد دلاتی ہے
63. اڑتا غبار، جلد میں کھجلی، پیسنے سے بھیگا ماسک
سماجی دوری کے ضابطہ پر آپ عمل کیسے کر سکتے ہیں اگر آپ کسی اناج خرید مرکز میں مزدوری کرتے ہیں – جیسے کہ تلنگانہ کے نلگونڈہ ضلع کے یہ مرد – جنہیں ایک منٹ میں ۲۱۴ کلوگرام دھان سنبھالنے کے لیے ٹیم کے ساتھ مل کر کرنے کی ضرورت پڑتی ہے؟
62. ’یہ عورتیں کسی کو بھی بھوکا نہیں جانے دیں گی‘
کیرالہ کے ۴۰۰ سے بھی زیادہ ’کُڈمب شری ہوٹل‘ لاک ڈاؤن کے دوران کم آمدنی والے لوگوں – طلبہ، طبی معاون، سیکورٹی گارڈ، ایمبولینس ڈرائیور وغیرہ – کو سستا لیکن مقوی کھانا فراہم کر رہے ہیں
61. وسط ہندوستان سے گزرتے ہوئے گھر کی جانب روانہ
لاک ڈاؤن کے دوران شاہراہ پر نکلے لاکھوں لوگ شمالی اور مشرقی ریاستوں میں واقع ہزاروں گاؤوں میں واپس جا رہے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ ہندوستان کے وسط میں واقع ناگپور شہر سے گزر رہے ہیں
60. اب امیروں کی پالکی کون اٹھائے گا؟
کئی ریاستی حکومتوں نے مزدوروں کے قوانین کو منسوخ کر دیا ہے اور کام کے گھنٹے بڑھا دیے ہیں، اور مہاجر مزدوروں کی حالت اور بھی خراب ہو گئی ہے۔ پاری کے بانی ایڈیٹر پی سائی ناتھ کے ساتھ ایک انٹرویو، فرسٹ پوسٹ کے حوالے سے
59. ’ہم پہلے ہی تنگی میں تھے، اب کچھ بھی نہیں بچا‘
چھتیس گڑھ سے آئی چندرا فیملی کی طرح ہی جموں میں رہنے والے دیگر مہاجر مزدوروں کے پاس بھی لاک ڈاؤن میں کوئی کام نہیں بچا تھا۔ یہ لوگ آس پاس کی عمارتوں سے آ رہے راشن کی مدد سے اپنا گھر چلا رہے تھے، اور اب انہیں دھیرے دھیرے پھر سے کام ملنے لگا ہے
58. پریشان حال کولکاتا میں لاک ڈاؤن کے وقت امفن
۲۰ مئی کو مغربی بنگال میں آئے تباہ کن سمندری طوفان کے سبب کولکاتا دوبارہ معمول پر آنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے – کیوں کہ جن مزدوروں کویہ کام کرنا تھا وہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بہت پہلے ہی شہر چھوڑ کر اپنے گاؤں جا چکے تھے
57. کینسر، کووڈ-۱۹ سے متاثر اور پناہ کے بغیر
گیتا اور ستیندر سنگھ مہاراشٹر کے کولہاپور ضلع سے گیتا کے کینسر کا علاج کرانے ممبئی آئے تھے۔ ٹاٹا میموریل اسپتال کے پاس فٹ پاتھ پر رہتے ہوئے پتہ چلا کہ دونوں کووڈ-۱۹ پازیٹو ہیں
56. فوٹوگرافر لکھتا ہے – بہتری کے لیے یا شاعری کے لیے
اس فوٹوگرافر کا کہنا ہے کہ جب لاک ڈاؤن انسانوں کی تکلیفیں بڑھا رہا ہے، جسے دہائیوں سے جانتے ہوئے اور اس کی پرواہ کرتے ہوئے آپ بڑے ہوئے ہیں، تو یہ آپ کو لینس سے دور جاکر، اپنا اظہار شاعری کی شکل میں کرنے پر مجبور کرتا ہے
55. پنویل سے ایم پی: اسکوٹر پر چار دن اور چار راتیں
چند سال قبل ایک حادثہ میں اپنا ایک پیر گنوا چکے بملیش جیسوال نے لاک ڈاؤن کے دوران اپنی بیوی اور تین سال کی بیٹی کے ساتھ، مہاراشٹر کے پنویل سے مدھیہ پردیش کے ریوا تک، ۱۲۰۰ کلومیٹر کا سفر بنا گیئر والے اسکوٹر سے پورا کیا
54. لاک ڈاؤن کے سبب تیہٹہ میں عارضی بازار
’ہاٹ اسپاٹ‘ میں رہنے والے لوگ جن بازاروں پر منحصر رہا کرتے تھے، اب لاک ڈاؤن کے سبب ان بازاروں کو بند کیے جانے کی انہیں عادت پڑ گئی ہے۔ مغربی بنگال کے ندیا ضلع میں، سبزی فروشوں نے سبزیاں اور دیگر سامان بیچنے کے لیے ایک عارضی بازار بنا لیا ہے
53. ’اب ہم کورونا وائرس یا گرمی سے نہیں ڈرتے‘
ان کی مزدوری جب بند ہو گئی اور پھر کھانا ختم ہو گیا، تو وارانسی کے ریستراں میں کام کرنے والے گیا، بہار کے مزدوروں نے دھیرے دھیرے اپنے گھروں کی طرف چلنا شروع کر دیا – جب کہ ضلع کے دیگر لوگ دور، تمل ناڈو میں پھنسے ہوئے ہیں
52. ’اس راشن کارڈ کا کیا فائدہ ہے؟‘
پونہ کی گیا بائی چوہان اور دیگر کے لیے اپریل کا مہینہ سب سے مشکل گزرا، جب کووڈ-۱۹ لاک ڈاؤن کے سبب ان کی معمولی آمدنی بند ہو گئی، اور پی ڈی ایس کی دکانوں پر ان کے بی پی ایل راشن کارڈ کو بھی خارج کر دیا گیا
51. آپ اس ہنس مکھ ماں کو تالا بند نہیں کر سکتے
مہاراشٹر میں ممبئی – ناسک شاہراہ پر پورے اعتماد کے ساتھ چل رہے مہاجر مزدوروں کی اس لمبی قطار میں، اِس غیر معمولی ماں کی تصویر نے فنکار کے تصور کو بیدار کر دیا
50. لاک ڈاؤن میں مہاجرین کا لمبا مارچ
حیدرآباد کے موسیقار، نغمہ نگار اور گلوکار آدیش روی کا یہ گیت، یقینی طور پر لاک ڈاؤن کے سبب پورے ہندوستان میں ہونے والی مہاجرت پر لکھے جانے والے سب سے طاقتور گیتوں میں سے ایک ہے
49. واڈا میں لاک ڈاؤن نے چھینی آئرن کرنے والوں کی آمدنی
پالگھر ضلع کے واڈا شہر میں جو لوگ کپڑے آئرن کرکے گزر بسر کرتے ہیں، کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن نے ان کی یومیہ آمدنی کم کر دی ہے۔ کئی لوگ راشن خریدنے اور دیگر کام کی تلاش میں جدوجہد کر رہے ہیں
48. لاک ڈاؤن سڑک پر جملو کا آخری سفر
تلنگانہ کے مرچ کے کھیتوں میں کام کرنے والی چھتیس گڑھ کی ایک ۱۲ سالہ آدیواسی لڑکی کی ۱۸ اپریل کو، دیگر مزدوروں کے ساتھ گھر لوٹنے کی کوشش کے دوران تین دنوں تک پیدل چلنے کے بعد موت ہو گئی۔ پاری نے اس کے گاؤں کا دورہ کیا
47. تلنگانہ کے ٹوکری بنانے والے – لاک ڈاؤن میں قید
کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن نے تلنگانہ کے کانگل گاؤں میں ٹوکریوں کی تجارت کو بند کر دیا ہے۔ ٹوکری بنانے والے ییروکُلا ایس ٹی برادری کے لوگ، فی الحال زرعی کاموں اور پی ڈی ایس سے ملنے والے چاول اور راحت پیکیجوں پر منحصر ہیں
46. گھروں میں بند طالبات: کوئی بنیادی ضرورت، پیریڈ نہیں
اترپردیش کے چترکوٹ ضلع میں اسکول بند ہو جانے کے سبب غریب کنبوں کی لڑکیوں کو مفت سینیٹری نیپکن نہیں مل پا رہا ہے، اس لیے اب وہ جوکھم بھرا متبادل اپنانے لگی ہیں۔ اکیلے یوپی میں ایسی لڑکیوں کی تعداد لاکھوں میں ہے
45. لاک ڈاؤن شاہراہ پر بزرگ خاتون اور اس کا بھتیجہ
کام کے مقام سے سینکڑوں کلومیٹر دور واقع اپنے گھروں تک پہنچنے کے لیے پیدل چل رہے مہاجر مزدوروں کے نظارے ہمیں آج بھی پریشان کر رہے ہیں۔ ایک تصویر میں، حالانکہ، ایک فنکار کو امید اور انسانیت کا جذبہ ضرور دکھائی دیا
44. لاک ڈاؤن میں خون سے سرابور ریل پٹریاں
مہاراشٹر میں اورنگ آباد ضلع کے پاس ۸ مئی کو جن ۱۶ مزدوروں – ان میں سے ۸ گونڈ آدیواسی تھے – کو مال گاڑی کے ذریعے کچل دیا گیا تھا ان سبھی کی عمر ۲۰ یا ۳۰ سال کے آس پاس تھی، اور وہ مدھیہ پردیش کے اُمریا اور شہڈول ضلع کے رہنے والے تھے
43. رچینا ہلّی میں لاک ڈاؤن کے دوران راحت کی تلاش
شمالی بنگلورو کی ایک جھگی بستی میں رہنے والے مہاجر یومیہ مزدوروں کا کام بند ہے، بچت کے پیسے ختم ہو گئے ہیں، کھانے کی کمی ہے – لیکن انہیں مکان کا کرایہ چکانے، بچوں کا پیٹ پالنے اور بھوک سے لڑنے کا کام ابھی بھی کرنا پڑ رہا ہے
42. چندیری دھاگے سے لٹکے مدھیہ پردیش کے بُنکر
کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن نے مدھیہ پردیش کے چندیری شہر کی صدیوں پرانی چندیری کپڑے کی تجارت پر بریک لگا دی ہے۔ سریش کولی جیسے کئی بنکر مانگ نہ ہونے، پچھلی بقایہ رقم کی ادائیگی نہ کیے جانے اور گھٹتے وسائل کے سبب پریشان ہیں
41. لاک ڈاؤن میں مہاجر چیونٹیوں کی ہجرت
جس شخص کے گھر پر چینی-تھائی ڈنر تیار ہو رہا ہو، وہ کب تک اپنے گاؤوں لوٹ رہے بھوکے مہاجر مزدوروں کو آدھے راستے میں پھنسا ہوا دیکھ سکتا ہے؟ امتیاز اور نابرابری کے ایشو پر دل کو چھو لینے والی ایک نظم
40. ایم ایف آئی قرض: لاک ڈاؤن کے وقت خوف اور بے عزتی
کووڈ- ۱۹ اور لاک ڈاؤن کے سبب غریبوں نے کمائی میں تیزی سے گراوٹ دیکھی ہے۔ لیکن بحران چاہے جتنا بھی بڑا ہو، مراٹھواڑہ میں چھوٹے مالیاتی ادارے قرض کی قسطوں کے لیے اپنے بے سہارا صارفین کو پریشان کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں
39. لاک ڈاؤن میں، بزرگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں
کرناٹک کے بیلگاوی اور مہاراشٹر کے کولہاپور میں مشینوں کی مرمت کرنے والے ایک مسلم، ایک آدیواسی بُنکر اور رسّی بنانے والے ایک دلت – سبھی بزرگ اور انتہائی ہنرمند دستکار ہیں، لیکن لاک ڈاؤن میں ان کے پاس کوئی کام نہیں ہے
38. یومِ مزدور پر گھروں میں بند: کام نہیں، تو تنخواہ نہیں
ایک نئی دستاویزی فلم، جس میں بنگلورو کے میٹرو ریل پروجیکٹ پر کام کرنے والے زیادہ تر مہاجر مزدور کووِڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن کے دور میں اپنی حالت کے بارے میں بتا رہے ہیں
37. ڈولا رام کے لیے گھر تک کی لمبی اور تالا بند سڑک
تعمیراتی مقام پر کام کرنے والے ڈولا رام جیسے ہی راجستھان میں اپنے گاؤں پہنچے، اس کے کچھ دنوں بعد ہی ان کے بیٹے کی موت ہو گئی – کیوں کہ لاک ڈاؤن کی اس مدت میں اس کا ٹھیک سے علاج نہیں ہو پایا تھا۔ اب، دیگر مہاجر مزدوروں کی طرح وہ بھی قرض اور غیر یقینی صورتحال میں پھنسے ہوئے ہیں
36. کچھّ کے اونٹ چرواہوں کا آخری سہارا؟
اگر آپ خانہ بدوش مویشی پرور ہیں اور جانوروں کے ایک بڑے ریوڑ کے ساتھ اپنے گھر سے کافی دور ہیں، تبھی کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن کا اعلان ہو جاتا ہے، تب کیا ہوگا؟ گجرات کے کچھّ ضلع میں رہنے والے فقیرانی جاٹ اپنی کہانی بیان کر رہے ہیں
35. بھٹوں میں بند، اینٹ در اینٹ
اوڈیشہ کے ہزاروں مہاجر مزدور تلنگانہ کے اینٹ بھٹوں میں پھنسے ہوئے ہیں – لاک ڈاؤن نے کام کرنے کی ظالم جگہوں کو مزید مشکل بنا دیا – اور ان کے راشن ختم ہو رہے ہیں اور وہ اپنے گھر لوٹنے کے لیے بے تاب ہیں
34. لاک ڈاؤن اور گہرے سمندر کے درمیان پھنسے آندھرا کے ماہی گیر
لاک ڈاؤن اور گہرے سمندر کے درمیان پھنسے آندھرا کے ماہی گیر
33. وَانَوِل: لاک ڈاؤن کی بحران زدہ زندگی میں قوس قزح
ناگ پٹّینم کا ایک چھوٹا سا اسکول تمل ناڈو کے اس ضلع کی آدیواسی بستیوں کے ایک ہزار سے زیادہ غریب گھروں کے بچوں کے لیے غذائیت کا مرکز بن چکا ہے۔ اور اس کی کوششیں صرف طلبہ تک ہی محدود نہیں ہیں
32. وبائی مرض کی قیمت چکا رہے وِدربھ کے مویشی پرور
مشرقی مہاراشٹر میں نند گولی اور دودھ کا کاروبار کرنے والے دیگر کسانوں کو صحت سے متعلق مسائل اور چارے کی کمی کا سامنا کرنے کے علاوہ دودھ کی مانگ میں گراوٹ اور سپلائی کی کڑی کے ٹوٹ جانے کے سبب کافی نقصان ہو رہا ہے
31. ’کشتیوں کو بھی اپنے ملاحوں کی یاد آ رہی ہوگی‘
کووِڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن کے سبب مدھیہ پردیش کے چترکوٹ میں رہنے والے نشاد کشتی بانوں کا معاش بھی متاثر ہوا ہے۔ اس برادری کے بہت سے لوگوں کے پاس راشن کارڈ تک نہیں ہے۔ سشما دیوی، ایک حاملہ ماں اور بیوہ، بھی انہیں میں سے ایک ہیں
30. مہاماری سے بلا تحفظ لڑنے کو مجبور – آشا کارکن
ہریانہ کے سونی پت ضلع میں آشا کارکنوں کو، مہاماری پر قابو پانے کی آخری کوشش کے طور پر، کووڈ- ۱۹ کے خلاف لڑائی میں سب سے آگے دھکیل دیا گیا ہے – وہ بھی بغیر کسی تحفظاتی آلہ اور معمولی تربیت کے ساتھ
29. بغیر رکے ۱۰۴ کلومیٹر کا پیدل سفر
پالگھر اور تھانے میں اینٹ کی بھٹیوں پر کام کرنے والے مزدور، جن میں سے زیادہ تر آدیواسی زرعی مزدور ہیں، کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بنا کسی کمائی کے مانسون تک اپنے اپنے گھر لوٹنے کو مجبور ہیں
28. سٹیزن نگر کے لوگ امید سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں
کووِڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن، احمد آباد کے سٹیزن نگر کی پہلے سے ہی متاثرہ برادری کے لیے آخری چوٹ جیسا ثابت ہو رہا ہے، بھوک میں اضافہ کرتا ہوا اور پہلے سے ہی موجود طبی نظام کو مزید خستہ حال بناتا ہوا
27. سر پر تھیلے، دلوں میں خوف
کووِڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن بحران کے سبب ہونے والی مہاجرت نے شاعروں اور فنکاروں کو یکساں طور پر متاثر کیا ہے۔ ایک ایسا ہی ردِ عمل یہاں پیش کیا جا رہا ہے
26. مرجھاتے ہوئے مہوا، برباد ہوتی ٹوکریاں اور خاموش ہاٹ
کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن نے چھتیس گڑھ میں رہنے والی کمار برادری، خاص طور سے کمزور آدیواسی جماعت، جو ٹوکریاں بن کر اور مہوا کے پھل بیچ کر چند روپے کماتی ہے، کی نازک اقتصادیات کو تار تار کر دیا ہے
25. لاتور میں معصوم کاندھوں پر لاک ڈاؤن کا بوجھ
والدین کو چونکہ کوئی کام نہیں مل رہا ہے یا ان کی مزدوری کافی کم ہو گئی ہے، اس لیے مراٹھواڑہ کے لاتور میں ایسے کنبوں کے اسکولی طالب علم کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن کے خطرناک پس منظر کے باوجود گلیوں میں سبزیاں فروخت کر رہے ہیں
24. ’اب تربوز بھی سڑنے والے ہیں‘
کووِڈ- ۱۹ کے سبب لاک ڈاؤن نے تمل ناڈو کے چینگل پٹّو ضلع میں تربوز کے کسانوں کو پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ خریداروں اور ٹرانسپورٹروں کی تعداد میں زبردست کے سبب، کئی کسان یا تو اپنے پھلوں کو بہت ہی کم قیمتوں پر بیچنے کے لیے مجبور ہیں یا پھر انہیں یونہی سڑنے کے لیے چھوڑنے پر
23. ’کچھ لوگ تو اب دن میں صرف ایک بار ہی کھا رہے ہیں‘
کووِڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن نے بنگلورو کے کئی یومیہ مزدوروں کی آمدنی چھین لی ہے یا انہیں بیکار کر دیا ہے
22. کسانوں کے لیے بے رس ہوتے تربوز
کووڈ۔۱۹ کے بحران سے قبل بھی تلنگانہ میں تربوز کی کاشت میں نقصان کا خطرہ لاحق تھا، اخراجات میں اضافہ ہو رہا تھا اور قیمتیں گر رہی تھیں۔ اب لاک ڈاؤن کے بعد اس سے وابستہ کسانوں، مزدوروں اور تاجروں کو ایک سخت موسم کا سامنا ہے
21. لاک ڈاؤن میں حجاموں کا حال
مراٹھواڑہ کے لاتور ضلع میں، حجاموں کو لاک ڈاؤن نے بری طرح متاثر کیا ہے – وہ پوری طرح سے یومیہ آمدنی پر منحصر ہوتے ہیں، اور ان کے لیے اپنے گاہکوں سے جسمانی دوری بنانے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا
20. پیٹ کی بھوک اور شہر میں لاک ڈاؤن
مفت راشن کے وعدے کے باوجود کووڈ۔۱۹ کے دوران گھریلو کارکنوں اور میونسپلٹی کے ملازمین کو کھانے کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جن میں سے کئی مہاجرت کرکے آئے تھے اور پونہ کے کوتھروڈ علاقہ میں رہتے ہیں
19. دستکاروں پر لاک ڈاؤن کی مار
کووڈ۔۱۹ لاک ڈاؤن نے ملک بھر کے دستکاروں کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔ پاری نے اس نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے شمالی، جنوبی، مشرقی، مغربی اور وسطی ہندوستان کے بُنکروں، رنگریزں، کھلونا سازوں اور دیہی فنکاروں سے بات کی
18. اندھیری روشنی کا چراغ جلتا ہے
پچھلے سال ۵ اپریل کو وزیر اعظم کے کہنے پر لوگوں نے رات کے ۹ بجے، ۹ منٹ کے لیے تمام لائٹیں بند کرکے چراغ روشن کیے۔ اس واقعہ نے الگ الگ لوگوں پر الگ الگ طریقے سے اثر ڈالا۔ گجرات کے شہر احمد آباد کی رہنے والی ایک شاعرہ نے اپنا ردعمل کچھ یوں دیا…
17. کووڈ سے متعلق بیداری کیلئے آندھرا پولیس کو ملا آرٹ کا سہارا
آندھرا پردیش کے اننت پور کی پولیس نے کورونا وائرس کے خلاف لڑائی میں ایک اساطیری جادوگر کو شامل کیا ہے
16. سندر بن: موسونی میں لاک ڈاؤن سے کھانے کی کوئی کمی نہیں
مغربی بنگال کے سندربن کا ایک چھوٹا، دور دراز کا جزیرہ، جس نے کئی آفات کا مقابلہ کیا ہے، اب کووِڈ- ۱۹ کے بحران اور لاک ڈاؤن کا سامنا خود کے اپنے وسائل سے کر رہا ہے
15. لاک ڈاؤن کے دوران تمل ناڈو میں پرئی گانا، لائیو!
پرئی فنکار منی مارن اور ماگیژینی اس لاک ڈاؤن کے دوران سوشل میڈیا کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے فنی پیشکش جاری رکھے ہوئے ہیں اور بات چیت اور ریکارڈ شدہ ویڈیو کے ذریعے کووِڈ- ۱۹ کے بارے میں بیداری مہم چلا رہے ہیں
14. اننت پور لاک ڈاؤن ڈائری: ۱۹ مارچ سے ۳ اپریل تک
رائل سیما خطہ کے اننت پور شہر اور ضلع میں کورونا کا شعور بہت آہستہ روی سے بیدار ہو رہا ہے
13. کووِڈ- ۱۹ کے سبب ایران میں پھنسے لداخی اندیکھی کے شکار
ایران کے قم شہر میں لداخ کے رہنے والے ۲۵۴ ہندوستانی زائرین، جن میں سے اکثر بزرگ ہیں، کے ایک ماہ سے زیادہ وقت سے پھنسے ہونے کے سبب اب یہاں ان کے گھروں میں تناؤ پیدا ہونے لگا ہے
12. ابھی میلوں چلنا ہے، اس سے پہلے کہ سونے یا کھانے کو ملے
کووِڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن کے سبب مہاراشٹر کے پالگھر ضلع میں اینٹ بھٹوں پر کام کرنے والے مہاجر آدیواسیوں کے پاس بہت کم پیسہ اور کھانا بچا ہے – اور لوٹنے کو لیکر گاؤں سے الٹی میٹم بھی مل رہا ہے، ایسے میں ان کے سامنے صرف غیر یقینیت بچی ہے
11. لاک ڈاؤن میں بھیک سے محروم پاردھی
دیہی مہاراشٹر کے کچھ پھانسے پاردھی آدیواسیوں – خاص طور سے جن کی عمر تقریباً ۸۰ سال ہے – کو اپنا پیٹ بھرنے کے لیے بھیک مانگنی پڑتی ہے۔ اب کیا ہوگا، جب وہ ان گاؤوں میں داخل نہیں ہو پا رہے ہیں جہاں سے انہیں بھیک ملتی تھی؟
10. راستہ، جو آپ کو گھر نہیں پہنچاتا
کووِڈ- ۱۹ سے لاک ڈاؤن کے سبب، مہینوں سے سڑکوں پر چل رہے چینا کونڈا بالا سامی اور تلنگانہ کے دیگر مویشی پروروں کے لیے کھانا اور نئے چراگاہوں تک پہنچنا – یا اپنے گاؤوں واپس لوٹنا مشکل ہو رہا ہے
9. کرفیو اور کورونا کے درمیان گنّے کی کٹائی
مغربی مہاراشٹر کی چینی فیکٹریوں میں کام پر رکھے گئے لاکھوں مزدوروں کے لیے سماجی دوری بناکر رکھنا ایک دور کا خواب ہے۔ کووڈ- ۱۹ کے خوف کے باوجود سانگلی ضلع کے کئی لوگ گندگی کی حالت میں ابھی بھی گنے کی کٹائی کر رہے ہیں
8. لاک ڈاؤن میں ممبئی کے فٹ پاتھ پر پھنسے کینسر مریض
ختم ہوتے پیسے اور تھوڑے بچے کھانے اور پانی کے ساتھ، ٹاٹا میموریل اسپتال کے پاس فٹ پاتھ پر رہ رہے کینسر مریض لاک ڈاؤن میں پھنسے ہوئے ہیں، گھر جانے کا کوئی راستہ نہیں ہے
7. کورونا مہاجرین- ۵۳۸ کلومیٹر کے سفر پر
دیہی چھتیس گڑھ میں کچھ صحافی، بحران کے سبب مہاجرت کر رہے لوگوں کو کور کرنے کے لیے کڑی محنت کر رہے ہیں
6. چھتیس گڑھ میں: سماجی دوری بنانے کے لیے ناکہ بندی
بستر علاقے کے کئی حصوں میں، ’باہر والوں‘ کو اندر داخل ہونے سے روکنے کے لیے لوگ ناکہ بندی کر رہے ہیں – اور ان مہاجرین کو بھی اندر آنے سے روک رہے ہیں جو اپنے ہی گاؤں واپس لوٹ کر آئے ہیں
5. صفائی ملازمین – ناشکری کی اجرت
لاک ڈاؤن کے دوران کام پر جانے کے لیے چنئی کے صفائی ملازمین پیدل ہی لمبی دوری طے کر رہے ہیں یا کچرے کی لاریوں میں سفر کر رہے ہیں۔ اس دوران ایک دن کی بھی چھٹی لینے پر جرمانہ دینا پڑ سکتا ہے، برخاست بھی کیا جا سکتا ہے
4. ’بھوک سے مرنے پر، صابن ہمیں نہیں بچا پائیں گے‘
پالگھر ضلع کے کَوَٹے پاڑہ میں رہنے والے زیادہ تر آدیواسی کنبے تعمیراتی مقامات پر یومیہ مزدوری کرکے گزربسر کرتے ہیں۔ کووِڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن کے سبب یہ کام بند ہو گیا ہے، اور اب ان کے پیسے اور راشن تیزی سے ختم ہونے لگے ہیں
3. کووِڈ۔ ۱۹ کے بارے میں ہمیں کیا کرنا چاہیے
بحران کی اس گھڑی میں حکومت کے ذریعے ’پیکیج‘ کا اعلان بے دردی اور لا علمی کا آمیزہ ہے
2. وائرل موڈ میں جاتی تُلجاپور کے مندر سے وابستہ اقتصادیات
مراٹھواڑہ کے تُلجاپور میں دکاندار، فروش اور دیگر افراد جن کا معاش شہر کے مشہور مندر پر منحصر ہے، کووِڈ- ۱۹ کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ۱۷ مارچ سے نافذ لاک ڈاؤن کے سبب کوئی فروخت نہیں ہونے سے پریشان ہیں
1. ضروری خدمات، غیر ضروری انسان
یہ ممبئی کے صفائی ملازمین کی کہانی ہے، جو کووِڈ- ۱۹ کے خلاف لڑائی میں سب سے آگے کھڑے ہیں۔ دیر سے مزدوری ملنے، اور حفاظتی لباس کی کمی کے باوجود وہ ماہُل علاقے کی زہریلی ہوا میں ابھی بھی کچرا صاف کر رہے ہیں
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
Donate to PARI
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/کووڈ--۱۹-کے-اثرات-پر-پاری-کی-کوریج














































































































































































































