جب ایسا لگنے لگا تھا کہ اپریل کے وسط تک مہاراشٹر میں دوبارہ لاک ڈاؤن جیسی پابندیاں عائد کی جائیں گی، تو گوپال گپتا نے ایک سال میں دوسری بار ممبئی چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔
لیکن اس کی بجائے، مارچ کے آخر میں ان کی فیملی کو مٹی کے ایک چھوٹے سے لال برتن میں ان کی استھیاں ان کے گاؤں، اتر پردیش کے کسورہ تعلقہ کے سہتور لے جانے کے لیے ٹرین میں سوار ہونا پڑا تھا۔
گوپال کی ۲۱ سالہ بیٹی جیوتی کہتی ہیں، ’’مجھے نہیں لگتا کہ میں اپنے والد کی موت کے لیے صرف کورونا کو موردِ الزام ٹھہرا سکتی ہوں… اگر وہ زندہ بھی ہوتے تو اپنی ایک ٹانگ کھو چکے ہوتے۔‘‘
کلیان کے ۵۶ سالہ سبزی فروش گوپال کو مارچ کے پہلے ہفتے میں کھانسی اور زکام کی شکایت ہوئی تھی۔ انہوں نے پلوانی علاقے میں بستی کی کلینک سے کچھ دوائیں لیں، جس کے بعد وہ بہتر محسوس کر نے لگے تھے۔ یہ فیملی پلوانی میں دو کمروں کے ایک چھوٹے سے گھر میں میں کرایہ پر رہتی ہے۔
انہیں یوپی کے بلیا ضلع کے بانس ڈیہ تعلقہ میں واقع اپنے گاؤں سے جنوری میں واپس آئے بمشکل دو مہینے ہی گزرے تھے۔ جیسے ہی کام میں تیزی آنی شروع ہوئی، کووڈ کی دوسری لہر میں اضافہ ہونے لگا۔ جیوتی کہتی ہیں، ’’میرے والد پچھلے سال کی طرح دوبارہ انتظار کرنے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتے تھے۔‘‘ چنانچہ فیملی نے دوبارہ اپنے گاؤں واپس لوٹنے کی تیاری شروع کر دی۔
لیکن ۱۰ مارچ کی صبح تقریباً ۵ بجے گوپال کو سانس لینے میں دشواری محسوس ہونے لگی۔ انہیں ایک مقامی کلینک میں لے جایا گیا، جہاں ان کا کووڈ ٹیسٹ پازیٹو آیا۔ گھر والے انہیں کے ڈی ایم سی (کلیان ڈومبی ولی میونسپل کارپوریشن) گراؤنڈ میں لے گئے۔ اس میدان کو ایک ’مخصوص کووڈ ہیلتھ سینٹر‘ میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ (کلیان اور ڈومبی ولی ممبئی میٹروپولیٹن خطے کے شہر ہیں۔) لیکن ان کی حالت بگڑ گئی اور سینٹر کے عملے نے اہل خانہ سے کہا کہ وہ انہیں بہتر سہولیات سے آراستہ کسی دوسرے سینٹر میں منتقل کر دیں۔ اسی دوپہر گوپال کو کلیان کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں لے جایا گیا۔
جیوتی کہتی ہیں، ’’ہمیں واقعی یہ نہیں معلوم تھا کہ ہمیں کہاں جانا چاہیے۔ سوچنے کے لیے ہمارے پاس وقت بہت کم تھا۔ ہم والد کی بگڑتی صحت اور بھائی کی حالت سے خوفزدہ تھے۔‘‘ ان کے بھائی، ۲۶ سالہ وویک کا ٹیسٹ بھی پازیٹو آیا تھا اور انہیں بھیونڈی کے ایک قریبی سینٹر میں ۱۲ دن کے لیے کوارنٹائن میں رہنے کے لیے کہا گیا تھا۔










