’’میں نے آج جمع کیے گئے تمام سامان کو چھانٹ لیا ہے۔ وہ [کباڑی] ان چیزوں کو لے جائیں گے، ان کا وزن کریں گے، اور مجھے پیسے دیں گے،‘‘ کالو داس نے اپنے تھیلے کے اندر بچے ہوئے کاغذوں کو نکالتے ہوئے کہا۔ ’’اس کے بعد، اگر مجھے وقت پر کوئی گاڑی مل گئی، تو میں دو گھنٹے کے اندر گھر پہنچ جاؤں گا۔‘‘
مہینوں کے بعد ستمبر کے شروع میں، دوسرے ہفتہ کے آخر میں، ۶۰ سالہ داس نے کندھے پر ایک خالی سفید بوری لٹکائے، مشترکہ ٹوٹو (آٹو رکشہ) اور بس کے ذریعے جنوبی ۲۴ پرگنہ ضلع میں اپنے گاؤں حسن پور سے تقریباً ۲۸ کلومیٹر دور، کولکاتا کا سفر کیا تھا۔
داس کو جنوبی اور مشرقی کولکاتا کے مختلف علاقوں سے کباڑ کا سامان جمع کرتے ہوئے ۲۵ سال ہو چکے ہیں۔ کباڑی والا بننے سے پہلے وہ شہر میں ایک فلم تقسیم کرنے والی کمپنی کے لیے کام کرتے تھے۔ ’’میں نیپچیون پکچرز پرائیویٹ لمیٹڈ کے لیے فلم کی ریل پہنچایا کرتا تھا،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’آرڈر [۳۵ ملی میٹر ریلوں کے لیے] بامبے، دہلی، مدراس سے آتے تھے۔ بڑے بڑے بکسوں میں آئے ریلوں کو میں ہوڑہ لے جاتا، ان کا وزن کرواتا، اور پھر تقسیم کے لیے انہیں آگے بھیج دیتا تھا۔‘‘
کمپنی بند ہونے کے بعد، داس بے روزگار ہو گئے۔ اس وقت، وہ جنوبی کولکاتا کے بوس پُکور علاقے میں ایک کرایے کے مکان میں رہتے تھے۔ ان کے پڑوسی نے انہیں ری سائیکلنگ کے کاروبار سے متعارف کرایا۔ ’’جب میں نے اپنی نوکری کھو دی، تو اس نے مجھے اپنے کام میں شامل ہونے کے لیے کہا۔ اس نے کہا، ’میں تمہیں روزانہ ۲۵ روپے دوں گا۔ تم صبح ۸ بجے نکلوگے اور دوپہر تک گھر واپس آ جاؤگے۔ تمہیں میرے ساتھ سامان لیکر گھومنا پڑے گا۔ ہم لوگ ساتھ میں چائے پئیں گے۔ میں تیار ہو گیا۔ میں نے اس سے سیکھا۔ جیسے ایک ماسٹر اپنے طالب علموں کو پڑھاتا ہے۔ وہ میرا استاد تھا۔‘‘








