جملو ۱۲ سال کی تھی۔ فروری میں کسی دن، وہ تلنگانہ کے مرچ کے کھیتوں میں کام کرنے کے لیے روانہ ہو گئی۔ ۱۸ اپریل کو، لاک ڈاؤن کے دوران گھر لوٹنے کی کوشش کر رہے دیگر مزدوروں کے ساتھ تین دنوں تک چلنے کے بعد، جملو کا انتقال ہو گیا۔
’’وہ ہمیں بتائے بغیر، اپنے دوستوں اور دیگر لوگوں کے ساتھ گاؤں چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ ہمیں اگلے دن اس کے بارے میں پتہ چلا،‘‘ اس کی ماں، سکمتی مڑکم بتاتی ہیں۔ اس فیملی کا تعلق آدیواسیوں کی مُریا برادری سے ہے۔
۱۲ سال کی یہ لڑکی چھتیس گڑھ کے بستر علاقے میں بیجاپور ضلع کے آدیڑ گاؤں واپس آ رہی تھی۔ وہ اور ۱۱ دیگر مزدوروں کا ایک گروپ، جن میں سے کچھ بچے تلنگانہ کے مولوگو ضلع کے کنئی گوڈیم گاؤں کے پاس کھیتوں میں کام کرنے گئے تھے۔ (اوپر کا کور فوٹو ۷ مئی کو سڑک پر چلتے ہوئے ایسے ہی ایک گروپ کا ہے۔) وہاں، وہ مرچ توڑنے کا کام کرتے تھے، جس کے بدلے انہیں ۲۰۰ روپے روزانہ یا پہلے سے طے شدہ قرار کے تحت مرچ کی بوریاں بطور ادائیگی دی جاتی تھیں۔ (دیکھیں مرچ کے کھیتوں میں بچے)
’’جملو اپنے دوستوں اور گاؤں کے دیگر لوگوں کے ساتھ کام کرنے گئی تھی۔ لیکن جب کام رک گیا، تو وہ واپس لوٹ رہے تھے۔ وہ جب [مولوگو ضلع کے] پیرورو گاؤں سے چلنے لگے، تو اس نے وہاں سے مجھے فون کیا تھا۔ اس کے بعد آخری کال جو مجھے ملی، وہ دیگر گاؤں والوں کی تھی، جنہوں نے مجھے میری بچی کی موت کے بارے میں بتایا،‘‘ جملو کے والد، ایندو رام بتاتے ہیں۔ وہ اور سکمتی، آدیڑ گاؤں کے تقریباً دیگر تمام آدیواسی باشندوں کی طرح، جنگل کی پیداوار کو جمع کرکے، زمین کے چھوٹے ٹکڑوں پر دھان، کالا چنا اور دیگر فصلیں اُگا کر اور زرعی مزدوروں کے طور پر یا منریگا کے مقام پر کام کرکے گزر بسر کرتے ہیں۔
’’جملو، تقریباً دو مہینے پہلے مزدور کے طور پر کام کرنے تلنگانہ گئی تھی۔ لیکن لاک ڈاؤن شروع ہوتے ہی کام بند ہو گیا۔ مزدور اپنے گاؤں لوٹنے کے لیے بیتاب تھے۔ ان کی ساری بچت ختم ہو چکی تھی، اور ان کے ٹھیکہ دار نے انہیں واپس لوٹ جانے کا مشورہ دیا تھا،‘‘ بیجاپور کی ایک صحافی پشپا اُسینڈی روکاڈے بتاتی ہیں، جن کا تعلق گونڈ آدیواسی برادری سے ہے اور وہ جگدل پور کے ایک اخبار کے لیے رپورٹنگ کرتی ہیں۔






