01-Chilli pix 6-PST-Children of the Chilli Fields.jpg

مرچ کے بڑے بڑے ڈھیر آندھرا پردیش اور تلنگانہ کی سڑک پر جمع کرکے رکھے ہوئے ہیں


آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے کھیتوں پر مرچوں کی کاشت کاری چھتیس گڑھ اور اڈیشہ جیسی پڑوسی ریاستوں کے بہت سے نوجوان مزدوروں کو یہاں کھینچ کر لاتی ہے۔ وہ یہاں پر مزدوری کے لیے نہیں آتے ہیں، بلکہ گھر کے لیے سال بھر کی مرچ لینے کے لیے آتے ہیں۔ اس گرم مسالہ کو جمع کرنے کی خواہش اتنی شدید ہوتی ہے کہ بعض لڑکے اور لڑکیاں تو مرچ کی اس بڑے پیمانے پر ہونے والی کھیتی کا مزدور بننے کے لیے شاید اپنا اسکول بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کے لیے سال کا یہی وہ موقع ہوتا ہے، جب وہ روزانہ کے کھانے میں استعمال ہونے والی اس شے کو جمع کرکے گھر لا سکیں۔

یہ بچے اپنی اپنی فیملی کے اُن بالغوں کی بہ نسبت نہایت کم مقدار میں مرچ کھاتے ہیں، جن کے لیے یہ روزانہ کے کھانے کی شے ہے۔ لیکن وہ یہاں پر سال بھر کی سپلائی کو جمع کرنے میں سب سے آگے ہوتے ہیں، کیوں کہ یہاں کے کم از کم آدھے مزدور بچے ہی ہوتے ہیں۔ وہ اگلی فصل تک کے لیے قیمتی مرچوں کو ’’کمانے‘‘ کا انتظام کر لیتے ہیں۔ روزانہ کی ۱۲۰ روپے کی مزدوری کے بجائے، وہ اتنی ہی قیمت کی مرچ لینا پسند کرتے ہیں، جس سے کچھ کنبوں کے پاس، ان کے کام کرنے کے مطابق، آدھا یا ایک کوئنٹل تک مرچ جمع ہو جاتی ہے۔ مرچ کی قیمت تقریباً ۱۰۰ روپے فی کلو ہے، اس کے حساب سے ایک کوئنٹل کے ۱۰ ہزار روپے ہو گئے۔

یہ ایک اچھی آمدنی ہے، اور ان کنبوں کے لیے زیادہ اقتصادی بھی ہے۔ ایک فیملی سال بھر میں ۱۲ سے ۲۰ کلو تک مرچ کھا سکتی ہے۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جاتا ہے، وہ اسے بازار میں بیچ کر اضافی آمدنی حاصل کر لیتے ہیں۔ اور یہ اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ ان کے گھر پر کھیت کی بہترین اور سب سے تازہ چنی ہوئی مرچ سال بھر موجود ہے۔

’’ہمارے گاؤں کے کل ۲۰ لوگ ہیں اور ہم یہاں پر تین ہفتوں تک رکیں گے،‘‘ اوما شنکر پوڈیامی بتاتے ہیں، جو اڈیشہ کے ملکان گیری ضلع کے گٹوموڈا گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ ’’اس گروپ کا ہر آدمی پیسے کے بجائے مرچوں کے لیے کام کرنا چاہتا ہے۔‘‘


02-DSC_0024-PST-Children of the Chilli Fields.jpg

اوما شنکر اپنی فیملی کے لیے مرچ کمانے ملکان گیری ضلع سے آئے ہیں


تیز چمکتے ہوئے اس سرخ مسالہ کا اونچا اونچا ڈھیر تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے ہری مرچ کے کھیتوں کے ساتھ بنی ہوئی سڑکوں پر جمع رہتا ہے۔ فروری سے اپریل تک مرچوں کی بہتات ہوتی ہے۔ پڑوس کے اڈیشہ اور چھتیس گڑھ کے زیادہ تر آدیواسی مزدور یہاں آکر ان مرچوں کو توڑتے ہیں، صاف کرتے اور سکھاتے ہیں اور پھر ان مرچوں کو بوروں میں بھرتے ہیں، تاکہ رٹیل یا ایکسپورٹ کے لیے انھیں بازار تک پہنچایا جا سکے۔

جوشیلے بچے، یہاں کے تقریباً آدھے مزدور وہی ہیں، مرچوں کے ان ڈھیروں کے چاروں طرف دوڑتے رہتے ہیں، اور انھیں صاف ستھرا کرکے جوٹ کے بوروں میں بھرتے ہیں۔ جوش کے باوجود، یہ غریبی ہی ہے جو اِن بچوں کو ان کھیتوں تک لاتی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر کی فیملیز خطِ افلاس سے زندگی گزار رہی ہیں۔ خود ان کے علاقے میں روزگار کی کمی ان بچوں کو سرحد پار کرکے ہندوستان کی سب سے زیادہ مرچ پیدا کرنے والی ان ریاستوں تک جانے کے لیے مجبور کرتی ہے۔


03-DSC_0064-PST-Children of the Chilli Fields.jpg

چھتیس گڑھ اور اڈیشہ کے آدیواسی مرچ جمع کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں


اس کے علاوہ، مرچ ان کے تمام کھانوں میں ہر وقت شامل ہونے والی شے ہے، یہاں تک کہ ناشتہ میں بھی۔ اس میں وہ تغذیاتی عناصر ہیں، جو انھیں دیگر غذائی اشیاء کی کمی کو پورا کر دیتے ہیں۔ یہ کھانے کی دیگر قسموں میں بھی مسالہ کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں۔ مرچ کا استعمال ان کی رسموں میں بھی ہوتا ہے، اسی لیے اس کی ڈیمانڈ کچھ زیادہ ہی ہے۔

چودہ سالہ ویٹی مویے، ان بچوں میں سے ایک ہے، جو آندھرا پردیش کے مرچ کے کھیتوں پر کام کرنے کے لیے چھتیس گڑھ کی سرحد کو پار کرکے آیا ہے۔ سُکما ضلع کے بڈیسٹی گاؤں کے رہنے والے مویے کے والد کی موت ملیریا کی وجہ سے دو سال قبل ہو گئی تھی، جس کے بعد اسے اپنا اسکول چھوڑنا پڑا، تاکہ وہ اپنی فیملی کے کھیت کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر کام کرکے گزر بسر کر سکے۔ بعض دفعہ، وہ مکانوں کی تعمیر کی جگہ پر بھی مزدوری کرتا ہے۔ اپنے کھیت پر بُوائی کرنے کے بعد، وہ مرچ جمع کرنے یہاں آیا تھا۔

مویے اپنے گاؤں کے ۳۵ دیگر مزدوروں کے ساتھ یہاں آیا تھا۔ ان سب نے کہا کہ وہ اپنے گھر پیسہ لے جانے کے بجائے مرچ لے جانا پسند کرتے ہیں۔ ’’مرچ توڑنے کے لیے ایک دن کی مزدوری ۱۲۰ روپے ملتی ہے،‘‘ مویے نے بتایا۔ ’’اگر مرچ کی شکل میں مزدوری ملے، تو ہمیں ۱۲ مرچ توڑنے کے بدلے ایک مرچ ملتی ہے۔ ہم مزدوری کے طور پر اسی کو ترجیح دیتے ہیں۔‘‘

موسم کے خاتمہ پر، سرحد پار سے آنے والے یہ چھوٹے مزدور اپنا گھر چلانے کے لیے مرچ لے کر جاتے ہیں اور اپنی زندگیوں میں مرچ سے تھوڑا مسالہ بھرتے ہیں۔ جب مرچ کو گھر لانے کا وقت آتا ہے، تو اسکول جانا اور دیگر سرگرمیاں پیچھے چھوٹ جاتی ہیں۔


04-DSC_0108-PST-Children of the Chilli Fields.jpg

مرچوں سے بھری بوریاں گھر لے جائی جا رہی ہیں، تاکہ سال بھر کام آ سکیں


ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: You can contact the translator here:

Purusottam Thakur
[email protected]

پرشوتم ٹھاکر ایک فری لانس جرنلسٹ، فوٹوگرافر اور ڈاکیومینٹری فلم میکر ہیں، جو چھتیس گڑھ اور اڈیشہ سے رپورٹنگ کرتے ہیں۔ وہ عظیم پریم جی فاؤنڈیشن کے لیے بھی کام کرتے ہیں اور ۲۰۱۵ میں پاری فیلو رہے ہیں۔ آپ مضمون نگار سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @puruthakur

Other Stories by Purusottam Thakur